فروری سئہ 88ء کا محدث پیش نظر ہے۔ مذکورہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکرینِ معجزات کے اعتراضات کا جائزہ" میں مولانا کیلانی نے:

1۔ تاریخِ مدینہ کی معتبر کتاب "وفاء الوفاء" کے مصنف سمہودی (م 911ھ) کے متعلق لکھا ہے:

"صاحبِ وفاء الوفاء سمہودی دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ مارے ہیں۔ اس سے "سمہودی" کی بے کار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔"

اہلِ علم جانتے ہیں کہ کتابِ مذکور، تاریخِ مدینہ پر لکھی جانے والی جملہ کتب میں بڑی اہم اور مفید ہے اور مرجع تسلیم کی جاتی ہے۔ مصنف کی کسی بات سے اختلاف تو ممکن ہے، مگر اس کی محنت کو "بے کار دماغ سوزی" قرار دینا مناسب نہیں۔

2۔ مولانا کیلانی صاحب نے لکھا ہے:

"البتہ وفاء الوفاء کے حوالہ سے اثری صاحب نے جو یہ بات لکھی ہے کہ اسعد بن زرارہ نمازِ جمعہ بھی پڑھایا کرتے تھے، تو یہ بات قطعا غلط بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ کیونکہ پہلا خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ جا کر پڑھایا تھا۔ اس سے پہلے نمازِ جمعہ فرض نہ تھی نہ کہیں پڑھی گئی۔ چنانچہ کتاب وفاء الوفاء کی درج ذیل عبارت ہمارے بیان کی تصدیق کرتی ہے۔"

اس سلسلہ میں اثری صاحب کی بات درست ہے۔ اور مولانا کیلانی کی بات خلافِ تحقیق، کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب آخر عمر میں نابینا ہو گئے تو عبدالرحمان انہیں جہاں لے جانا ہوتا لے جاتے تھے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حق میں رحمت کی دعاء فرمایا کرتے۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں، میں نے ان سے کہا، آپ جب اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعاء رحمت کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے حرہ بنی بیاضہ میں مقامِ ہزم النبیت پر سب سے پہلے جمعہ پڑھایا تھا۔ الخ (سنن ابی داؤد، باب الجمعۃ فی القریٰ و مختصر زاد المعاد ص 45)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے قبل حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نمازِ جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل مدینہ منورہ میں جمعہ کا اہتمام ہوتا تھا۔

باقی رہا کیلانی صاحب کا وفاء الوفاء کے حوالہ سے اپنی تائید میں یہ جملہ ذکر کرنا کہ "کہا جاتا ہے کہ یہ پہلا جمعہ تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پڑھایا" ۔۔تو اس جملہ سے ان کے موقف کی تائید اس لیے نہیں ہوتی کہ واقعی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پہلا جمعہ مدینہ میں وادی رانونا میں ادا فرمایا تھا۔ ان دونوں باتوں میں نہ کوئی تعارض ہے اور نہ اختلاف۔

3۔ مولانا نے لکھا ہے:

"لیکن ہجرت کے سفر کا آغاز رات کو نہیں بلکہ عین کڑکتی دوپہر کو ہوا، جبکہ گرمی کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے اور باہر سناٹا سا چھا جاتا ہے۔"

محترم مضمون نگار کی یہ بات محلِ نظر بھی ہے اور خلافِ عقل و نقل بھی۔ کیونکہ اس وقت کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مشرکین مکہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔ ایسے حالات میں دن کے وقت مکہ سے نکلنا ناممکن تھا۔ اگر حالات دن کو روانگی کی اجازت دیتے تھے تو غارِ ثور میں جا کر تین روز تک چھپے رہنے کا کوئی مفہوم نہیں بنتا۔ اس سلسلہ میں موصوف نے صحیح بخاری کی جو روایت ذکر کی ہے، اس سے صرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے، آپ تیار ہو جائیں ۔۔۔اس روایت میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت روانہ بھی ہو گئے تھے۔ بلکہ روانگی رات کو ہوئی، تبھی تو صبح کو مشرکین ہاتھ ملتے رہ گئے۔

ہماری اس بات کی تائید حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات سے ہوتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

«ومضى الى بيت ابى بكر فخرجا من خوخة فيه ليلا»

کہ "آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ اور وہاں سے رات کو گھر میں موجود ایک سوراخ کے راستہ سے نکلے۔"

مشکوٰۃ المصابیح ص 542 "باب المعجزات" میں مسند احمد کے حوالہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ قریشیوں نے ایک رات مشورہ کیا۔ بعض نے کہا جب صبح ہو تو اسے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) قابو کر لو۔ بعض نے کہا، نہیں بلکہ قتل کر دو۔ بعض نے کہا: نہیں، اسے یہاں سے باہر نکال کرو۔ ان کے اسی مشورہ کی اطلاع اللہ کریم نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔

(پروگرام کی رات کو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل آئے تاآنکہ غار میں جا پہنچے۔ اور مشرکین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پہرہ دیتے رات گزار دی۔ وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ بستر پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

جب صبح ہوئی، وہ ان پر پل پڑے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر ناکام کر دی تھی۔

مشرکین کہنے لگے، "آپ کا ساتھی کہاں ہے؟" انہوں نے فرمایا، "مجھے معلوم نہیں؟" اب مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشانات ڈھونڈتے ہوئے چل پڑے، پہاڑ پر پہنچے تو نشانات گڈمڈ ہو گئے۔ یہ لوگ پہاڑ پر چڑھے۔ غار کے پاس سے گزرے تو غار کے دروازے پر مکڑی کا جالا پایا۔ کہنے لگے اگر وہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس غار میں داخل ہوتے تو اس دروازے پر یہ جالا نہ ہوتا۔ لہذا واپس چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تین رات قیام پذیر رہے۔