اے خدائے بحر و بر بندہ نواز
خالقِ ارض و سماء و کارساز
آدمی ہے مبتلائے حرص و آز
تیری حکمت کا کوئی سمجھا نہ راز
ہے ترا محتاج انساں ہر گھڑی
ہے تو ہی مشکل کشا و کارساز
تو ہی سب کا ہے ترا کوئی نہیں
اور تو مختارِ کل ہے بے نیاز
ہو کر تیرا تو بیڑا پار ہے
ورنہ کیا اپنی عبادت کیا نماز
ہے دعاء میری یہی صبح و مساء
سینہ روشن ہو میرا اور دل گداز
رفعتِ پرواز ہو تخیل میں
بخش دے مجھ کو نگاہِ عرش تاز
ہو عنایت دولتِ دنیا و دیں
یہ کرم مجھ پہ ہو میرے کارساز
تیری تسلیم و رضا ایماں مرا
یاد سے تیری ہوائیں سرفراز
قطعہ
مرے مولا تو رب العالمیں ہے
کوئی شک و شبہ اس میں نہیں ہے
ترا در چھوڑ کر جاؤں میں کہاں
ٹھکانہ اور کوئی بھی نہیں ہے