شریعت کے دامن میں پناہ

ہمارے صدر صاحب ماشاءاللہ بڑے مرنجاں مرنج قسم کے آدمی ہیں اور شروع ہی سے لوگوں کو حیران کر دینے کے عادی رہے ہیں۔۔وہ خاصے بڑے بڑے اقدام اور فیصلے یوں اچانک کر ڈالتے ہیں کہ ان کے متعلق پڑھ سن کر لوگوں کو پہلے تو یہ واہمہ ہوتا ہے، شاید ان کی بصارت و سماعت انہیں دھوکا دے رہی ہے۔ لیکن پھر جلد ہی وہ یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ حقائق کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔چنانچہ

٭ پانچ جولائی سہ 1977ء کو صبح چھ بجے ریڈیو پاکستان سے لوگوں کو اچانک یہ خبر سنی کہ:

"افواجِ پاکستان نے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے اور پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے رہنماؤں کو عارضی طور پر اپنی حفاظت میں لے لیا ہے"

تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ جناب جنرل صاحب برسرِ اقتدار آ چکے ہیں۔

٭ برسرِ اقتدار آنے کے کچھ عرصہ بعد، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی جاں بخشی کی اپیل ان کے زیر غور تھی، اچانک صبح ہی صبح یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ:

"بھٹو کو پھانسی دے دی گئی"

٭ اسی طرح 16 اکتوبر 1979ء کی شام کو بیک جنبشِ لب انہوں نے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

٭ 12 اگست 1983ء کو انہوں نے ملک میں بحالی جمہوریت کا پروگرام دیا، نیز 73ء کے دستور میں ترمیم کے بعد اسے نافذ کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔۔۔جسے بعد میں عملی جامہ بھی پہنا دیا گیا۔

٭ دسمبر 1984ء میں انہوں نے اسی بحالی جمہوریت کے پروگرام کی تکمیل، نیز نفاذِ اسلام کے نام پر ریفرنڈم کرایا اور مزید پانچ سال تک صدر رہنے کی راہ ہموار کی۔

٭ ازاں بعد انہوں نے عام انتخابات کا انعقاد کیا۔۔۔ان انتخابات کے نتیجہ میں محمد خاں جونیجو نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور یوں صدر صاحب نے انہیں اپنا شریکِ اقتدار کر لیا۔

٭ 30 دسمبر 1986ء کو انہوں نے بحالی جمہوریت کا "مژدہ" سنایا اور فرمایا کہ:

"میں ملک کی باگ دوڑ عوام کے سپرد کرتا ہوں اور ملک سے مارشل لاء اٹھانے کا اعلان کرتا ہوں"

وارننگ دی کہ:

"اگر کسی نے ذاتی مفاد کی خاطر جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو اسے عبرتناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا"

چنانچہ مذکورہ جمہوریت یوں آنا فانا بحال ہوئی کہ وزیراعظم صاحب کے بقول:

"جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا۔ اور جب وہ ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہو چکا تھا"

٭۔۔۔لیکن ایک سال پانچ ماہ بعد 29 مئی 1988ء کی شام کو، جبکہ لوگوں کے سان و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی، اچانک اعلان ہوا کہ:

"چونکہ جن اغراض و مقاصد کے لیے قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھی، وہ پورے نہیں ہوئے، چونکہ ملک میں امن و امان کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہو گئی ہے جس میں بے شمار قیمتی جانوں اور مال کا نقصان ہوا ہے۔ اور چونکہ پاکستان کے شہریوں کی جان و مال اور عزت مکمل طور پر غیر محفوظ ہو گئی تھی اور پاکستان کی یک جہتی اور نظریہ کو شدید خدشہ لاحق ہو گیا تھا۔ اور چونکہ اخلاقِ عامہ اس حد تک گر چکا تھا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ اور چونکہ میرے رائے میں ایسی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جس میں حکومتِ پاکستان آئین کے مطابق نہیں چل سکتی اور انتخابات ضروری ہو گئے تھے، اس لیے میں، جنرل محمد ضیاء الحق صدر پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 58 کی کلاز 2-بی کے تحت حاصل کردہ اختیارات کے تحت فوری طور پر قومی اسمبلی کو توڑتا ہوں، جس کے نتیجے میں کابینہ بھی ٹوٹ گئی ہے"

۔۔اس اعلان کے دوسرے ہی روز شام سوا آٹھ بجے صدر صاحب نے اپنی نشری تقریر میں صوبائی اسمبلیوں کے توڑنے کی اسلاع بھی دی۔۔چنانچہ ان کے اس تازہ اقدام کے بعد صورت حال یوں ہے کہ جمہوریت کا سورج اگرچہ بدستور چمک رہا ہے، تاہم خود وزیراعظم صاحب، مع دیگر متعدد وزراء کے غروب ہو چکے ہیں۔۔۔اس کے باوجود صدر صاحب کو یہ اصرار ہے کہ "یہ قدم ہمیں جمہوریت کی طرف لے جائے گا" ۔۔یعنی جمہوریت کی گاڑی ابھی پٹڑی سے نہیں اتری اور معمول کے مطابق رواں دواں ہے، کیونکہ یہ کام صدر صاحب نے آئینی بنیادوں پر کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صدر صاحب کے چند مذکورہ بالا اقدامات ہم نے اس لیے گنوائے ہیں، کہ جب بھی انہوں نے کوئی قدم اٹھایا، ساتھ ہی یہ وضاحت ضروری سمجھی کہ اس سے دو بڑے مقاصد کی تکمیل ان کے پیشِ نظر ہے:

1۔ بحالی جمہوریت

2۔ نفاذِ اسلام

جہاں تک بحالی جمہوریت کا تعلق ہے، انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے ساتھ ہی ساتھ 90 دن میں الیکشن کروانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اور چونکہ ان کے نوے دن زبان زدِ عام و خاص، یعنی عرصہ سات آٹھ سال پربھاری ہوتے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ کرنا جمہوریوں کا کام ہے کہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اتر چکی یا ابھی تک پٹڑی پر ہی ہے، اور یا یہ مرے سے پٹڑی پر چڑھی ہی نہ ہی تھی۔۔۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں، سوائے اس کے کہ ابل دانش و بیشن کے فکر و نظر کو دعوت دیں اور صدر صاحب کو بھی یہ توجہ دلائیں کہ خود انہوں نے اپنی نشری تقریر میں گزشتہ تین سوا تین سالہ دورِ جمہوریت کی بڑی بھیانک تصویر کھینچی ہے۔ جبکہ حالات نے یہ بتلا دیا ہے کہ یہ اسمبلیاں ربڑ سٹیمپ سے زیادہ وقعت نہ رکھتی تھیں، اور صدر صاحب ہی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں۔ اس لیے انصاف، نیز ان کی اس نشری تقریر سے قبل تلاوت کی جانے والی آیات: "﴿وَإِذا حَكَمتُم بَينَ النّاسِ أَن تَحكُموا بِالعَدلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمّا يَعِظُكُم بِهِ...﴿٥٨﴾... سورة النساء" کا تقاضا یہ ہے کہ اس صورتِ حال، جس کی بناء پر حالیہ اقدام ناگزیر ہوا، کی تمام تر ذمہ داری صرف جمہوری حکومت پر نہ ڈالی جائے بلکہ اولا خود صدر صاحب اس کی ذمہ داری قبول کریں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے تقریبا گیارہ سالہ دورِ اقتدار میں سے اگر یہ تین سوا تین سال کا عرصہ نکال دیا جائے، تو بھی ساڑھے سات، پونے آٹھ سال تک وہ اس ملک کے بلاشرکتِ غیرے حکمران رہے ہیں۔۔۔کیا وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان کے اس عرصہ اقتدار میں امن و امان کی حالت تسلی بخش رہی؟ ۔۔۔قیمتی جانوں اور اموال کا اتلاف نہ ہوا؟ ۔۔۔شہریوں کے جان و مال اور ان کی عزتیں محفوظ رہیں اور چادر و چار دیواری کا تحفظ ہو سکا؟ ۔۔یا عوام الناس کے اخلاق و کردار مثالی اور قابلِ رشک حیثیت اختیار کر گئے؟ ۔۔افسوس کہ ہم نشاندہی نہ بھی کریں۔ اس دور کے لمحہ لمحہ کی داستان اوراقِ تاریخ پر ثبت ہونے کے علاوہ ان کے نامہ اعمال میں بھی جگہ پا چکی، جس کو مٹا ڈالنا خود صدر صاحب کے بھی حیطہ اختیار میں نہیں ہے اور جس کے تمام تر مندرجات کا، انہیں اللہ رب العزت کے حضور حساب بھی دینا ہو گا

بایں ہمی اگر صدر صاحب کو یہ اصرار ہے کہ اس صورت حال کی واحد ذمہ دار جمہوری حکومت تھی، تو اس ملک کے باسی ان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ یہ جمہوری تحفہ آخر صدر صاحب نے انہیں کس خوشی میں عنایت فرمایا تھا؟ ۔۔۔کیا ریفرنڈم میں لوگوں نے ان کی "ہاں" میں "ہاں' اس لیے ملائی تھی کہ وہ انہیں چوروں، ڈاکوؤں، سیاسی رشوتیں بانٹنے والوں، ملت کے غداروں، ملک دشمنوں اور علیحدگی پسندوں کے حوالے کر دیں؟ جیسا کہ خود انہوں نے اپنی تقریر میں ان مفاسد کی نشاندہی بھی کی ہے۔۔چنانچہ اگر حالات پر ان کی گہری نظر تھی اور حالیہ اقدام ناگزیر ہی تھا، تو تین سوا تین سال تک لوگوں کے جان و مال اور عزتوں سے کھیلنے کی طویل چھٹی کیوں دی گئی؟ ۔۔کیا اس لیے کہ ان کے اطاعت گزار عوام، ان کے عزیز ہموطن اور ان کی "ہاں" میں "ہاں" ملانے والے کم از کم یہ تو کہہ سکیں کہ:

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

اور جہاں تک نفاذِ اسلام کا تعلق ہے، تو صدرِ مملکت کے وہ اقدام، جو ہم نے اپنی گزارشات کی ابتداء میں گنوائے ہیں، اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ ایک بااختیار حکمران تھے۔۔۔مذکورہ بالا امور، یوں غیر متوقع طور پر انہوں نے انجام دیے کہ عوام ورطہ حیرت میں تو ڈوبے لیکن ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوئے، بلکہ ان کے ہر سیاہ و سفید کو انہوں نے بہ دل و جان قبول کیا۔۔۔پھر ان کا دورِ اقتدار بھی سابقہ تمام حکمرانوں کی نسبت زیادہ طویل ہے۔۔۔ ان تمام تر سہولتوں کی موجودگی میں یہ سوال ہمیں سر فہرست نظر آتا ہے کہ جلد اور فوری نفاذ، شریعت میں آخر کون سا امر انہیں مانع تھا؟ ۔۔۔صرف اسی سلسلہ میں وہ عوام کو ورطہ حیرت میں کیوں نہ ڈال سکے اور اس کے برعکس وہ مایوسی کا شکار کیوں ہوئے؟ ۔۔کیا صدر صاحب نفاذِ شریعت کے لیے مخلص نہ تھے یا ان کے "مشیرانِ گرامی قدر" ان کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوئے؟ ۔۔افسوس، دونوں صورتوں میں انہیں کوئی کریڈٹ نہیں ملتا، کہ اگر وہ خود مخلص تھے تو گیارہ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود قابل مشیر تلاش کرنے میں ناکامی بھی کچھ خوش آئند بات نہیں ہے۔

نفاذِ شریعت کے سلسلہ میں صدر صاحب، نظامِ صلوٰۃ اور نظامِ زکوٰہ کا ذکر بڑے فخر سے کیا کرتے ہیں، لیکن اولا تو یہ مسئلہ حل طلب ہے کہ ان کے تقاضے پورے بھی ہوئے یا نہیں؟ ۔۔۔ثانیا قابلِ غور امر یہ ہے کہ نفاذِ شریعت کیا صرف نظامِ صلوٰۃ و زکوٰۃ میں منحصر ہے؟ ۔۔ہم صدر صاحب کو یاد دلائیں گے کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد انہوں نے یہ اعلان فرمایا تھا:

اسلام کا نعرہ تو ہر دورِ حکومت میں لگایا جاتا رہا ہے، لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک میں کتاب و سنت کی حکمرانی ہو گی"

کیا وہ نشاندہی کر سکتے ہیں کہ کتاب و سنت کی یہ حکمرانی کہاں کہاں موجود ہے، یا کم از کم ان کے دورِ اقتدار کے اولین سات آٹھ سالوں میں کہاں کہاں موجود رہی ہے؟ ۔۔۔یہ ناممکن ہے کہ شریعت نافذ بھی ہو اور لوگوں کے مسائل بھی جوں کے توں برقرار رہیں۔ جبکہ حالات و واقعات یہ گواہی دیتے ہیں کہ ان کے دور میں مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اور جن میں سے متعدد کا، اکثر و بیشتر انہوں نے خود اعتراف بھی کیا ہے۔۔بایں ہمہ اگر وہ نفاذِ شریعت کے سلسلہ میں پیش رفت پر مفتحز ہیں تو یہ شریعت کی بدنامی، اور لوگوں کو اس نظامِ خداوندی سے بدظن اور متنفر کرنے کی ایک غیر شعوری کوشش نہیں تو اور کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الغرض، جناب صدر صاحب

آپ نے اسلام، شریعت اور کتاب و سنت کا نام استعمال تو بہت کیا ہے، پر ان کی لاج نہیں رکھی، چنانچہ ہمارے موجودہ تمام تر مصائب کی واحد وجہ بھی کتاب و سنت سے یہی دوری، یہی اعراض ہے۔۔۔اور ان گزارشات کی ضرورت ہمیں یوں پیش آئی ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ پھر اسلام کا نام لیا اور اہل وطن سے اس کے نفاذ کا عہد ازسرِنو باندھا ہے۔۔۔آپ اس لحاظ سے یقینا خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ تلافی مافات کا ایک اور موقع رب نے آپ کو فراہم کر دیا ہے، یا یوں کہئے کہ یہ موقع بدستور آپ کو حاصل ہے۔۔۔چنانچہ اس عہد کا آپ کو اگر کچھ پاس ہے، اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو کچھ تعلقِ خاطر۔ نیز اپنی، اس ملک کی اور اس میں بسنے والوں کی تھوڑی بہت بھلائی بھی آپ کو عزیز ہے تو انتہائی خلوص و صداقت سے کتاب و سنت کے مقدس دامنوں کی پناہ میں خود بھی آ جائیے اور دوسروں کے لیے بھی اس کا اہتمام جلد کیجئے، کہ ہمارے تمام مسائل کا واحد حل تو یہی ہے، ورنہ اسلام کا نام بھی نہ لیجئے۔۔۔خدارا، اسے مزید بدنام نہ کیجئے، آپ کی مہربانی ہو گی۔