نام کتاب : مولانا عبدالغفار حسن ( حیات و خدمات)
تالیف و ترتیب: ڈاکٹر صہیب حسن (لندن) ڈاکٹرسہیل حسن(سلام آباد)
صفحات : 200
ناشر: مکتبہ اسلامیہ غزنی سٹریٹ اُردو بازار لاہور
حضرت یوسف ﷩ نے جیل کے ساتھیوں سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا تھا :
'' میں اپنے آبا كى مذہب ِتوحید کا پیر کار ہوں ۔''
﴿وَاتَّبَعتُ مِلَّةَ ءاباءى...﴿٣٨﴾... سورة يوسف
یعنی خاندانی عظمت وہاں قابل تعریف ہے جہاں عقیدہ سلامت اور خاندانی تاریخ قابل قدر ہو۔ مولانا صہیب حسن خوش نصیب ہیں کہ وہ ایک ایسے علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی آب و تاب پر پوری ایک صدی گزر چکی ہے اور سوسال سے یہ خاندان توحید سنت کی آبیار ی کرنے میں شغول ہے ۔ موالانا صہیب حسن کے پردادا مولانا عبدالجبار عمر پوری ( ولادت 1277ھ،وفات 1334ھ)، دادا مولانا عبدالستار حسن او روالد مولانا عبدالغفار حسن تینوں اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں ۔ خود مولانا صہیب حسن علوم قدیم و جدید کا حسین سنگم ہونے کے ناطے برصغیر اور یورپ میں ایک مقام رکھتے ہیں ۔ امیدِ واثق ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ اگلی نسلیں بھی اپنے اس خاندانی اعزاز کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گی۔
مولانا عبدالغفار حسن مرحوم ایک وسیع علمی پس منظر رکھتے تھے ۔ ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محور زیادہ تر درس و تدریس رہا ۔برصغیر پاک و ہند کے مختلف دینی مدارس میں تدریس کے بعد مدینہ یونیورسٹی جیسے عالمی ادارے میں سولہ سالہ تدیس ِعلوم ِ حدیث واقعی آپ کا طرۂ امتیاز رہا ۔
فیصل آباد میں جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے جو خالص کتاب و سنت کی ترجمانی کا مظہر تھا ۔ اپنوں بیگانوں کی بے اعتنائی اور مخالفت کے باوجود نو سال تک اس کے رکن رہے اور ہر موقع پر آپ نے قرآن و سنت کی تر جمانی کی ۔
کسی خاص فقہ کی بجائے خالص قرآن و سنت کی بات صرف وہی کر سکتا ہے جو تقلیدی بندشوں سے آزاد اور قرآن و سنت کا بے پایاں علم رکھتا ہو۔ مولانا حسن کا وسیع علمی و نظریاتی پس منظر ان کے بہت کا م آیا ۔
1941ء سے 1957ء تک مسلسل سولہ سال آپ جماعت ِ اسلامی سے بھی وابستہ رہے بلکہ دو دفعہ اس کے قائم مقام امیر ہونے کا اعزاز بھی ملا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ پھر 1957ء میں مولانا امین احسن اصلاحی ، مولانا عبدالجبار غازی ، حکیم عبدالر حیم اشرف ، ڈاکٹر اسرار احمد اور سلطان احمد جیسے اکابر سمیت جماعت ِ اسلامی سے علیحد ہ گئے تو ان کے ساتھ ہی مولانا عبدالغفار حسن نے بھی جماعت کا ساتھ چھوڑ دیا ۔
زیرتبصرہ کتاب میں مولانا عبدالغفار حسن کی متنوع خدمات تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔
واقعتاً ان منتشر پھولوں کو ایک خوبصورت گلدستہ کی شکل دینے کے لیے ڈاکٹر صہیب حسن اور ان کے بھا ئی ڈاکٹر سہیل حسن نے بڑی محنت کی ہے ۔
قابل ذکر عمل یہ ہے کہ خاندان عمر پور جس طرح علوم عربیہ ، دینیہ میں ممتاز رہا ، اسی طرح عقیدہ میں سلفی منہج کا داعی و امین بھی رہا جو درحقیقت شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے شاگردِ رشید مولانا عبدالجبار عمر پوری کی باقیات صالحات ہیں ۔
اس کتا ب کے پہلے حصے میں سولہ ابواب جن میں مورّث اعلیٰ ، علمائے عمر پور ،تذکرہ مولانا عبدالغفار حسن ، دارالحدیث بنارس کا قیام ، بنارس کا قیام ، جماعت اسلامی سے وابستگی کی روداد ، پاکستان کے مختلف علاقوں میں مولانا عبد الغفار حسن کے قیام اور حجازِ مقدس میں بحیثیت مدرس جانے کا تذکرہ ، غیر ملکی اسفار ، مشہور طلبہ کے نام ، تحقیقی و تصنیفی خدمات اور گھریلو حالات لکھے گئے ہیں ۔دوسرے حصے میں مولانا کے افرادِ خاندان کے مضامین ہیں اور تیسرے حصے میں مولانا عبدالغفار حسن کے مکالمات (انٹرویوز)اور آخر میں کچھ تو ضیحات دی گئی ہیں ۔
الحمدللہ مولانا ڈاکٹر صہیب حسن کی محنت سے پوری صدی کی ایک تاریخ جمع ہو گئی ہے ، جو نہ صرف ان کے خاندان کی تاریخ ہے بلکہ بر صغیر کی دینی و سیاسی سرگرمیوں اور تحریکوں کی ایک جھلک بھی ہے ۔
ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ اس علمی خانوادے کو اپنی نیک روایات و خدمات نہ صرف باقی رکھنے کی ارزانی فرمائی بلکہ جدیدعصری چیلنج کا جواب دینے کی بھی تو فیق دے۔ عمر کے آخری حصہ میں مولانا عبدالغفار حسن مرحوم اس کے لیے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے تھے اور اپنے شاگردوں کو ہر ملاقات میں اس کے لیے تیار بھی کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ اُنہیں زندگی میں یہ دیکھنے کا موقع نہ دیا لیکن ان کی یہ اُمنگ ان کے صلبی اور روحانی جانشینوں کے لیے ایک اہم وصیت کا درجہ رکھتی ہے ۔
چہر ے کا پردہ : واجب ،مستحب یا بدعت ؟
مصنف :              حافظ محمد زبیر        ناشر :مکتبہ رحمۃاللعالمین،لاہور
صفحات :              224                 قیمت : 175 روپے
بعض اہل علم کو اپنی علمی قدر و منزلت کا اس قدر زعم ہو حاتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے لیے مسلّمات کو اپنی تحقیق کا تختۂ مشق بنا کریک طرفہ نتائج قارئین کے سامنے لاتے ہیں اور قارئین کو ورطہ ٔ وا ستعجاب میں ڈال دیتے ہیں ، حالانکہ دین کے معاملے میں تو یہ چیز ہر وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ کتا ب و سنت کا فہم رکھنے اور اُن سے مسائل اخذ کرنے میں قرونِ اولیٰ کے اہل علم یقیناً صائب الرائے تھے ۔ اگرچہ یہ حقیقت تسلیم نہ کی جائے تو لازم آتا ہے کہ آج سے پہلے قرآن و سنت کو کسی نے سمجھا ہی نہیں ۔
اس معاملے میں دیدہ دلیری کا یہ حال ہے کہ کوئی عالم ِ دین اُٹھتا ہے تو سود اور شراب کی حرمت کو چیلنج کر دیتا ہے کو ئی دوسرا محمد فاضل منظر عام پر آکر موسیقی کو روح کی غذا اور مخلوط معاشرت کو جائز قرار دیتا ہے ۔
عورت کے ستروحجاب کے سلسلہ میں چہرے کا پردہ بھی اسی ستم ظریفی کا نشانہ بنایا گیا اور متجددین نے اسے بھی غیر قرار دیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب میں فاضل مصنّف نے ایسے لوگوں کا محا کمہ نہایت مؤثر انداز میں کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عورت کے چہرے کا پردہ مسلماتِ شرعیہ میں سے ہے ۔ علاوہ ازیں فطرتِ سلیمہ بھی اس بات سے ابا کرتی ہے کہ عورت بڑی سی چادر کے ساتھ سارا جسم توڈھانپ لے مگر اُس کا چہرہ کھلا رہے جو انسانی حسن کا اوّلین مرکز ہے ۔ اپنے دعوے کی تصدیق و تصویب کے لیے مصنف نے کتاب کو ایک تمہید اور چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ ابواب کے عنوانات بالترتیب اس طرح ہیں :
(1)باب اوّل : چہرے کا پردہ : آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ، (2)باب دوم:چہرے کا پردہ : احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں ، (3)باب سوم:چہر کا پردہ : آثار صحابہ و تابعین کی روشنی میں ،(4) باب سوم : چہرے کا پردہ : مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں ،(5)باب پنجم : چہر ے کا پر دہ اور طواتر عملی (6)ششم: چہرے کا پردہ اور چند شبہات کا جواب۔
اگرچہ زیر بحث عنوان پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر اتنی مدلل ، مفصل اور جامع کتاب شاید ہی منظر عام پر آئی ہو ، کیونکہ اس کتاب میں وہ سارے دلائل یکجا کر دئیے گئے ہیں جو دوسری کتابوں میں متفرق طور پر لکھے گئے ہیں ۔ معروف داعی دین ڈاکٹر اسرار احمد نے ا س کا مقدمہ تحریر کیا او رکتاب کی تعریف کی ہے ۔
کتاب معنوی حسن سے تو مالا مال ہے ہی ، اچھے سفید کاغذ اور خوبصورت ٹائٹل نے کتا ب کو ظاہر طور پر بھی دیدہ زیب بنا دیا ہے ۔