Mohaddis-349-July-2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی کو ا س جہان ِ فانی سے رحلت کئے ہوئے نصف ہونے کو ہے مگر معلوم ایساہوتا ہے کہ
ابھی ا س راہ سے گیا ہے کوئی کہے دیتی ہے شوخی نقش پاکی!
مرکزی جامع مسجد اہلحدیث امین پور بازار ، جامع مبارک اہلحدیث منٹگمری بازار میں ان کے خطبات جمعہ اور چوک گھنٹہ گھر و دھوبی گھاٹ کے میدان میں ان کی تقریریں اور برسوں پر پھیلی ہوئی کتنی ہی بھولی بسری غیر مربوط یادین میری آنکھوں گرد ش کر رہی ہیں ۔ کشادہ پیشانی ، درمیانہ قد و قامت ، وجیہ و بارعب اور خوش طبع و متواضع جاذبِ نظر شخصیت کے وہ مالک تھے ان کی سحر انگیزی خطابت کے بارے میں مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ان جیسا شیرین بیان خطیب اور حکمت و دانش بھرا مقرر اُن کے بعد دیکھنے میں نہیں آیا جو اوّل تا آخر ایک ہی موضوع پر اظہار ِخیال اور مقتضائے حال کا مطابق سخن آرائی میں کمال رکھتا ہو ۔ بقول مولانا حالی!
اہل معنیٰ کو لازم ہے سخن آرائی بھی بزم میں اہل نظر بھی ہیں تماشائی بھی
حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی صاحب کا دور بلند مرتبت اور علم وعمل کے اونچے درجے کے خطیبوں اور مقررین کا دور تھا ، لیکن گفتار و کردار کے اس گروہ باصفا میں حضرت حافظ صاحب کی مسحور کن خطابت ایک امتیازی شان رکھتی تھی۔ صاف ستھرے دھوتی کُرتے اور کلاہ پر مسدی پگڑی کے ساتھ ان کے سلفی اندازاور دلنواز خطابت کی سماعت کے لیے ہر خاص و عام اِک نظر دیکھتا رہ جاتا ، بلاشبہ دعوت وتبلیغ دین کا ان کا مؤثر طرزِتکلم اپنی مثال آپ تھا ۔ تقریر کے دوران اپنی مخصوص مترنم آواز میں جب وہ قرآن عزیز کی آیات تلاوت کرتے تو ایک سماں بندھ جاتا ۔ شیخ سعدی کے فارسی، اقبال و حالی کے اُردواور حافظ محمد لکھوی کے پنجابی اشعار سے مزین ان کی تقریر کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ۔ ان سطور کے راقم کو کراچی و حیدر آباد میں اور پشاور و کوئٹہ میں بھی اُنہیں سننے کے مواقع ملے ۔پنجاب کی شہر وقصبات اور دیہاتی ماحول میں بھی اُن کی تقریریں سنیں ۔ ان علاقوں کی زبانوں ، لہجوں اور کلام و بیان پر حافظ صاحب کو عبور حاصل تھا ۔
سلیس اُردو اور ٹھیٹھ پنجابی محاورات میں ان کے مواعظ خوب بہار دکھاتے اور لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوتی دکھائی دیتی۔
یہ کوئی 1952ء کی بات ہوگی کہ حضرت حافظ صاحب نے مسجد مبارک منٹگمری بازار میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔ میرے والد صاحب کی ترغیب سے صوفی احمد دین ، وحاجی بشیر احمد اور کچھ نوجوان جو اس زمانے میں گول بازار میں کریانہ کی دکانیں کرتے تھے او رہماری دکان بھی وہیں تھی ، یہ نوجوان شرک و بدعت کو چھوڑ کر قرآن وسنت کی شافی تعلیمات کی طرف مائل تھے ، لیکن ان کے عقائد میں پختگی حضرت حافظ صاحب کی تقاریر او رمشفقانہ مجلسوں میں بیٹھنے سے آئی ۔ صوفی صاحب اپنے ایک جگری دوست حاجی نذیر احمد جن کی چوک گھنٹہ گھر منٹگمری بازار کے کونے پر دودھ دہی کی دکان تھی اور بریلوی عقیدہ رکھتے تھے ، انہیں حافظ صاحب کا خطبہ سنانے کے لیے مسجد مبار ک میں لے آئے ۔ جمعہ کا خطاب سننے کے بعد حاجی نذیر احمد کا ذہن اور مسلک تبدیل ہو چکا تھا ۔ اُنہوں نے چوک گھنٹہ گھر میں اپنی دکان کے آگے جلسہ کا پروگرام بنایا جہاں اس سے قبل ہر ماہ مولوی سردار احمد کی تقریر ہوتی او رمحافل میلاد منعقد ہوتی تھیں ۔ چنانچہ چوک گھنٹہ گھر میں حضرت جافظ صاحت کی تقریرہوئی ،مسلک اہلحدیث کی صداقت ، اسلام کی اساس و بنیاد اور قرآن و سنت کی اہمیت پر حافظ صاحب کے روح خطاب نے لائل پوری کی کایا پلٹ دی۔
ریل بازار سے لے کر بھوانہ بازار تک سامعین کی بھاری تعداد تھی جو ہمہ تن گوش تھی ، حافظ صاحب کی تقریر کے دوران دوسرے عقائد کے بہت سے طلبہ اور مجمع میں موجود علما نے رقعوں کی صورت میں مسائل پوچھے اور بڑے تیکھے سوالات کئے جن کے جوابات حضرت حافظ صاحب نے نہایت پیار اور دعوتی حکمت و موعظمت کے ساتھ دئیے جن سے عوام الناس عش عش کر اُٹھے اور کئی بار تقریر کے دوران نعرہ تکبیر سے پنڈال گونجتا رہا ۔
حضرت حافظ صاحب کے بعد مقرر نوخیز حضرت مولانا سید عبدالغنی شاہ آف کامونکی جو پہلی مرتبہ فیصل آباد آئے تھے ان کی ڈھائی تین گھنٹہ تک توحید باری تعالیٰ کے زیر عنوان تقریر ہوئی جو حضرت حافظ کے مؤثر خطاب کے بعد سونے پر سہاگہ ثابت ہو رہی تھی ۔ اس جلسہ کے انتطامات اور اس کے فاضل مقررین کے خطابات کے اثرات تھے کہ قرآن وحدیث کی شافی تبلیغ کے لیے فضا ہموار ہوگئی ۔ وہ امن کا دور تھا ، جلسوں کی منظوری یا لاؤڈ سپیکر کی اجازت وغیرہ کے مسائل ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے ۔ چنانچہ ماہ دو ماہ بعد اسی جگہ جو شہر کا مرکز تھی ، بہت سی تبلیغی پروگرام منعقد ہوتے رہے جن میں حافظ محمد ا سماعیل صاحب کی شرکت لازمی ہوتی ۔ کبھی ان کے ساتھ مولانا سید عبدالغنی شاہ ، کبھی حافظ محمد اسماعیل ذبیح یہاں تک کہ مولانا محمد اسماعیل سلفی او رمولانا عبدالمجید سوہدری بھی خطاب فرماتے رہے ۔ یہ ان دونوں کی باتیں ہیں جبکہ ابھی شبان اہلحدیث بھی وجود میں نہیں آئی تھی ۔
1954ء کے اواخر میں جب مولانا محمد صدیق تاندلیانوالہ سے لائل پور منتقل ہوئے تو 1955ء میں جمعیۃشبان اہلحدیث کی تشکیل حافظ محمد اسماعیل روپڑی ہی کے ایما پر عمل میں آئی ۔ 'شبان اہلحدیث 'نام بھی انہوں نے ہی تجوید فرمایا تھا ۔ چند سالوں بعد ہمارے دوست مولانا محمد طیب معاذ جامع اہلحدیث محمد پورہ میں آگئے ۔ انہی دنوں چیچہ وطنی کے ایک غالی قسم کے بریلوی نوجوان شیخ بشیر احمد لائل پور جب آئے تو میرے والد مرحوم کی تبلیغ و ترغیب سے وہ اہلحدیث ہوئے، ان کا نکاح بھی والد صاحب نے اچھے خاندان میں کرایا اور کاروباری حلقہ میں ان کا تعارف کرایا ۔
ان دونوں حضرات کی شبان اہلحدیث میں شمولیت سے تنظیم میں ایک ولولہ تازہ پیدا ہوگیا ۔ اسلام نگر کے ماسٹر فتح محمد ہمارے سالار تھے ۔ اس طرح نوجوانوں کے جوش و جذبہ اور مسلک سے وار فتگی جس میں حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی کی سر پرستی اور تبلیغی طور پرفیصل آباد کو ان کی ترجیح سے کتاب و سنت کی دعوت وار شاد کا سلسلہ بفضل تعالیٰ دن بدن بڑھتا چلا گیا اور شہر و مضافات میں مسلک اہلحدیث اور مولانا صدیق ہوا کرتے تھے ۔
1955ء میں مرکز ی جمیعت اہلحدیث کی سالانہ کانفرنس دھوبی گھاٹ کے میدان میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوئی تھی جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل غزنوی نے فرمائی تھی اور صدرِ استقبالیہ مولانا محمد صدیق تھے ۔
اسی موقع پر ایک صبح جامعہ سلفیہ کی بنیاد بھی اکابرین جماعت نے رکھی تھی۔ کانفرنس کےآخری اجلاس میں امیر جمعیت حضرت مولانا حافظ مولانا سید محمد داؤد غزنوی کی خصوصی دعوت پر حضرت العلام مولانا حافظ محمد عبداللہ روپڑی ، حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی ﷭ نے شمولیت فرمائی تھی ۔
اس عظیم اجتماع میں حافظ محمد اسماعیل نے باوجود اپنی ٹانگ کے درد کے اور شدید علالت کا خطاب فرمایا ، یاد پڑتا ہے انہوں نے
﴿يـٰأَيُّهَا الإِنسـٰنُ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الكَريمِ ﴿٦﴾ الَّذى خَلَقَكَ فَسَوّىٰكَ فَعَدَلَكَ ﴿٧﴾ فى أَىِّ صورَةٍ ما شاءَ رَكَّبَكَ ﴿٨﴾... سورة التکویر
کے تحت تقریر فرمائی تھی ۔ بیداری کے کمزور اثرات ان کے جسم و جان پر تھے ، پھر بھی یہ تقریر ان کی روایتی شیریں کلامی اور بلند پایہ خطابت کی آئنہ دار تھی حافظ محمد اسماعیل بڑے دلیر او رجرت مند عالم دین تھے ، ایک دفعہ گوجرہ میں تھانہ کی نزدیکی مسجد اہلحدیث میں جلسہ تھا جمعہ کا خطبہ حضرت مولانا محمد یعقوب نے پڑھایا ، بعد میں مولانا علی محمد صمصام نے اپنے عوامی انداز میں شرک و بدعات کی تردید کی ۔ اس زمانے میں گوجرہ میں متشدد بریلوی مولوی صوفی غلام حسین ہوا کرتے تھے جنہوں نے تھانہ جا کر مولانا کے خلاف انسپکٹر کو اُکسایا جس نے مولانا کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا ۔
حضرت حافظ محمد اسماعیل نے یہاں فیصل آباد امین پور بازار میں جمعہ پڑھایا تھا جس کے بعد وہ ٹرین پر گوجرہ روانہ ہوئے میرے والد ،خود میں بھی دیگر چند ایک احباب کے ہمراہ حافظ صاحب کی معیّت میں شام کے وقت جب گوجرہ اسٹیشن پر پہنچے تو اُنہیں مولانا صمصا م کے بارے میں بتایا گیا ،حافظ صاحب کہنے لگے کہ پہلے ہم تھا نہ جائیں گے جہاں آکر حافظ صاحب نے انسپکٹر سے پوچھا کہ آپ نے مولانا کو گرفتار کیوں کیا ہے ؟
وہ کہنے لگے کہ انہوں نے دل آزار تقریر کی تھی ۔ حافظ صاحب نے کہا کہ آپ کا رپورٹر کہا ں ہے ؟کون سے الفاظ دل آزار تھے ؟
انسپکٹر کہنے لگا کہ فلاں مولوی نے آکر بتایا تھا کہ ان کی تقریر سے فرقہ واریت اور انتشار کے خدشات ہیں ۔حافظ صاحب جوش میں آ گئے اور فرمایا کہ میں ابھی ایس پی سے لائل پور رابطہ کرتا ہوں کہ آپ نے ایسے غیر ذمہ دار لوگ تھانوں میں بٹھا رکھے ہیں جو اپنی ذمہ دار ی ادا کرنے کی بجائے لوگوں کے کہنے پر علما کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں ۔ انسپکٹر اس قدر مرغوب ہوا کہ اس نے فی الفور مولانا کو حوالات سے نکالا اور معذرت کی ۔
رات کو حافظ صاحب نے پہلے مولانا صمصام کی تقریر کرائی ، مولانا نے اپنے خاص اندازِ بیان سے سرورِ کائنات ﷺ کی سنتِ مطہرہ کی اہمیت اور شان ِ رسالت پر کھل کر ڈیڑھ گھنٹہ تک محظوظ کیا جس کے بعد حضرت حافظ صاحب نے دو گھنٹے تک مسلکِ اہلحدیث کی حقانیت پر خطاب فرمایا اور پولیس کی غلط کاروائی کی مذمت بھی کی جس سے مقامی جماعت کو تقویت ملی اور مستقبل میں افرادی قوت میں اضافہ ہوا ۔
اسی دور کی بات کہ حافظ صاحب بلاک نمبر 19 سرگودھا کی مرکزی جامع اہلحدیث میں خطبہ جمعہ کے لیے جایا کرتے تھے 1953ء کی تحریک ِ ختم نبوت کے دنوں میں سرگودھا کی دیوبندی حضرات کی جامع مسجد میں روزانہ عشاء کے بعد جلسہ ہوتا تھا جس میں دیگر علما کے علاوہ حافظ صاحب بھی خطاب فرماتے تھے ۔
حافظ صاحب کی مدلل اور موثر تقاریر سے تحریک اور کارکنوں کے جذبات دیدنی ہوتے جس پر حافظ صاحب کی گرفتاری کے آرڈر ہوگئے مگر حافظ صاحب کو کارکنان عین تقریر کے موقع پر اسٹیج پر جلوہ افروز کرتے اور تقریر کے بعد فی الفور انہیں ایسے غائب کرتے کہ پولیس دیکھتی رہ جاتی ۔ روز بروز یہ سلسلہ چلتا رہا،ان کے ضلع سرگودھا میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی ، اس دوران وہ جامع اہلحدیث امین پورمیں خطبہ دیتے رہے تا ہم چند ہفتے اُنہوں نے قید و بند میں بھی گزارے ۔
حضرت حافظ صاحب منکسرالمزاج اور تقویٰ شعار خطیب تھے ، بلکہ ہم نے دیکھا کہ وہ مستجاب الدعوات اور باکرامت ہستی تھے ۔ ایک دفعہ کراچی سے امام جماعت غربا اہل حدیث حافظ عبدالستار دہلوی کا فیصل آباد آنا ہوا ۔ اتفاق سے حافظ صاحب بھی یہاں تھے ۔ مولانا صمصام کو ہم نے ستیانہ بنگلہ سے منگوا لیا اور رات کو دھوبی گھاٹ کے باغ میں جلسہ کا اعلان کر دیا ۔ بذریعہ تانگہ لاؤڈ سپیکر پر شہر بھر میں منادی کر دی ، یہ تخریب کاریاں او رامن و امان کی گتھیاں او رمنظوری وغیرہ کی مشکلات بہت بعد کی باتیں ہیں ۔
الغرض رات کا یہ اجتماع حاضرین کی کثرت خصوصاً حافظ صاحب کی مقبولیت کے سبب عظیم الشان جلسہ تھا ۔ ابتدا میں مولانا صمصا م کی تقریر ہوتی مگر وہ کچھ زیادہ ہی تردیدِ بدعات میں آگے نکل گئے جس سے تھوڑی سی بدمزگی پیدا ہوئی مگر حافظ صاحب نے مائک پر آکر فوری طور پر حالات کو حکمتِ عملی سے اور مولانا کے جملوں کی احسن و ضاحت سے کنٹرول کر لیا ۔ پولیس نے ہم سے اپیل کی کہ بارہ بجے تک پروگرام رکھیں ۔ حکام بالا کی طر ف سے بھی ہمیں یہی پیغام دیا گیا ۔ چنانچہ حضرت الامام کی تقریر ادھر ختم ہوئی ، ادھر بارہ بج گئے ۔ سامعین کا اصرار تھا کہ لاؤڈ سپیکر بند کر دیا جائے اور حافظ صاحب ضرور تقریر فرمائیں لہذا اس طرح کیا گیا ۔ حضرت حافظ صاحب نے بڑے حکیمانہ اور مدبرانہ طرزِخطابت سے اس رات سامعین کو محظوظ فرمایا جبکہ پنڈال میں دیگر مسالک کے لوگ بھی کا فی تعداد میں دیکھے گئے ۔ معلوم ہو رہا تھا کہ وہ بے حد متاثر ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی بے پایہ رحمت کا نظارہ یہ سامنے آیا کہ حضرت حافظ صاحب اپنی شیریں بیانی کے دریا بہا رہے تھے اور ان کی آواز دھوبی گھاٹ کے اردگرد بلڈنگوں سے ٹکرا کر دور بیٹھے سامعین تک پہنج رہی تھی ، کسی جانب سے یہ نہیں کہا گیا کہ ہمیں آواز نہیں آرہی ۔ ایسے ہی سمجھا جا رہا تھا کہ حافظ صاحب لاؤڈسپیکر پر ہی خطاب کر رہے ہیں یہ ان کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے ؟
آج کے قحط الرجال کے دور میں ایسے صالح ، درد مند اور خلوص بھرے خطبا ناپید ہیں ۔ میر تقی میر نے کہا تھا :
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ افسوس تم کو میرسے صحبت نہیں رہی
کیا کیا روح پرور اور ایمان افروز واقعات دل و دماغ میں موجزن ہیں ۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ پتوکی کے قریب ایک چھوٹے اسٹیشن سے اُتر کر چند فرلانگ کی مسافت پر ایک گاؤں میں شیعہ مولوی اسماعیل مناظرے کے لیے للکار رہے تھے ۔ وہاں سے کچھ احباب فیصل آبا د آئے ، کیونکہ یہاں بھی ایک تبلیغی پروگرام میں شرکت کے لیے حافظ محمد اسماعیل ، حافظ عبدالقادر ، حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری اور شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق سرگودھوی تشریف فرما تھے ۔
مگر یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا اور یہ حضرات اس گاؤں روانہ ہو گئے ، میں بھی اپنے والد کے ہمراہ تھا ۔ جب یہ اکابر گاؤں کے نواح میں پہنچے تو مولوی اسماعیل شیعہ مناظر نو دوگیا رہ ہو گئے ، پتا ہی نہ چلا وہ کس طرح چھپتے چھپاتے گئے ہیں ۔ رات چوک میں خو ب جلسہ ہوا ۔ ان حضرات کی تقریروں او رمواعظِ حسنہ سے گردوپیش سے کئی دیہات سے آئے ہوئے بھاری تعداد میں لوگ خوب اثر لے گئے ۔ صبح ناشتہ کے بعد ہم واپسی کے لیے اسی ریلوے اسٹیشن پر آئے تو 9 بجے کی گاڑی نکل گئی تھی اور اب دو ڈھائی بجے دوسری گاڑی نے آنا تھا ۔ بارہ بجے کے قریب سب کو بھوک نے ستایا مگر چھوٹے اسٹیشن پر ہونے کی وجہ سے پلیٹ فارم پر پکوڑے تک نہ تھے ۔
ہم اپنے بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے ، سامنے دو تین کواٹر نظر آ رہے تھے جو ریلوے ملازمین کے تھے اور ان کے آگے تین چار بچے کھیل رہے تھے ۔ حضرت صاحب نے پیارے بھر ے اشارے سے اُنہیں بلایا اور فرمایا کہ بھئی آپ کا والد کدھر ہے ؟اُنہوں نے کہا وہ اسٹیشن ماسٹر ہیں اور کسی کام سے لاہور گئے ہوئے ہیں ۔ حافظ صاحب نے کہا کہ اپنی اماں سے جاکر کہ ہم فلاں گاؤں سے رات کو جلسہ کر کے آئے ہیں ، گاڑی چلی گئی ، اب کھانے کو کچھ نہیں ۔ دوسری گاڑی آنے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے ، اگر صبح کی پڑی ہوئی کھانے پینے کی اشیا روٹی سالن وغیر ہ ہے تو بھیج دیویں ۔
بچوں نے جا کر والد ہ سے بتابا ۔ وہ نیک بی بی تھی ، اس نے کہا کہ ان علما سے کہیں کہ میں تھوڑی دیر میں تازہ روٹیاں پکا دیتی ہوں ، انتظار کریں ۔ چنانچہ کچھ دیر بعد روٹیاں سالن اچار اور ایک بالٹی لسّی کی آگئی ۔
اب حافظ صاحب نے بچوں کو بلا کر فرمایا کہ ہم دعا کرنے لگے ہیں ، اپنی ماں سے پوچھ کر آؤ کہ کیا د عا کریں ؟اُنہوں نے آکر بتایا کہ ماں کہتی ہے کہ دعا کر یں کہ ہمارے باپ کی یہاں سے تبدیلی ہو جائے ، کیونکہ ہم اس جنگل میں اداس اور پریشان رہتے ہیں حافظ صاحب نے دوبارہ فرمایا پوچھ کر آئیں :
کس ریلوے اسٹیشن پر تبدیل ہو جائیں ۔ حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری بڑے زندہ دل اور مرنجان مرنج طبیعت رکھتے تھے ، کہنے لگے حضرت آپ دعا کرنے لگے یا ٹرانسفر آرڈر دینے لگے ہیں۔
بہر حال حضرت حافظ صاحب نے ہاتھ اُٹھادئیے اور ہم سب نے بھی حافظ صاحب بارگاہ ربّ العزت میں عرض کر رہے تھے کہ یا اللہ ہم دین کے مسافر اور طالبِ علم ہیں ، ہماری شفارش قبول فرما کر ان بچوں کی والدہ کی خواہش کے مطابق قریبی اسٹیشن رینالہ خورد میں ان کے والد کی ٹرانسفر فرما دے ۔ حافظ صاحب نے نہابت رقت اور عاجزی سے یہ الفاظ ادا کئے ، اتفاق ایسا ہوا کہ چند روز گزر ے ، اسی گاؤں کے قریبی گاؤں میں تبلیغی پروگرام تھا جس میں شرکت کے لیے اسی اسٹیشن پر اُترے اور اسٹیشن ماسٹر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ کچھ دن قبل وہ رینالہ خورد میں جا چکے ہیں ۔ یہ حضرت حافظ روپڑی کی پُرخلوص دعا اور بچوں کے ساتھ شفقت آمیز رویے کا نتیجہ تھا ۔ یہ واقعات ہمارے علمائے کرام کے لیے قابل توجہ ہیں ۔
فیصل آباد میں آج کی پیپلز کالونی جوبیسیوں مربع اراضی پر مشتمل ہے ، جو واقعہ میں ذکر کرنے لگا ہوں یہ اس دور کی بات ہے ، جب یہاں بہت بڑا گراسی میدان اور پارک قسم کے باغات تھے ، ابھی کوئی آبادی نہ تھی ۔ 1953ء کی تحریک ِ ختم نبوت ختم ہو چکی تھی مگر کامیابی کے لحاظ سے وہ اپنے متطقی نتائج کو نہ پنچ سکی تھی ۔ جگہ جگہ کارکنان جیلوں میں بند تھے اور وہ باہر آنے اور رہا نہ ہونے پر مصر تھے ، اس لیے کہ حسٹس منیر انکوائری کر رہے تھے ۔ مارشل لاء حکام سے تحریک کے قائد ین مولانا سید محمد داؤد غزنوی ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور دیگر احرار راہنما رابطے میں تھے ۔ یہ حضرات چاہتے تھے کہ جن کار کنان کو شہید کیا گیا یا جن پر پولیس نے ناروامظالم ڈھائے ہیں ، اُنہیں قرارِواقعی سزائیں دی جائیں ۔
قید بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے علما اور رضا کار ان کا جرم بتایا جائے وغیر وغیرہ ۔
انہی حالات کے تناظر میں فیصل آباد کی متذکرہ پیپلز کالونی کے بڑے میدان میں ایک روزہ ختم نبوت کا نفرنس منعقد ہو رہی تھی ۔ جمعہ کا دن ، رات کے اجلاس میں طے پایا کہ صرف شاہ جی ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور مولانا محمد علی جالندھری کی تقریریں ہوں گی ۔ مولانا محمد علی جالندھری اسٹیج سیکرٹری بن گئے اور صرف دو تقریروں کا پروگرام رکھا گیا ۔ مجھے مولانا عبیداللہ احرار نے مائک پر آواز دی کہ موجود ہوں تو نظم سنائیں ۔ چنانچہ میں نے مولانا صمصام کی مشہور نظم
دیکھو مرزاے قادیاں والے کہیاں پاباں بھنڈیاں
کئی قوماں دیاں قوماں کر گیا اے گندیاں
ترنم سے سنائی ، اسی نظم پر میں تحریک کے آغاز پر چند دن ڈسڑکٹ جیل میں بھی گزار چکا ہوں۔ بہر حال میری نظم کے بعد حافظ محمد اسماعیل روپڑی نے معرکہ آرا اور تاریخی خطاب فرمایا ۔
اُنہوں نے سورہ یوسف کی تفسیر بیان کرتے ہوئے :
﴿فَسـَٔلهُ ما بالُ النِّسوَةِ الّـٰتى قَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ ...﴿٥٠﴾... سورة يوسف" کے تحت ذکر فرمایا کہ ہمیں مارشل لا حکام جب تک یہ نہ بتائیں گے کہ ہمارے کارکنان کو کس جرم کی پاداش میں سزائیں دی گئی ہیں ، اس وقت ہم ان کی رہائی قبول نہیں کریں گے ۔
سورہ یوسف حضرت حافظ صاحب کا خاص موضوع ہوا کرتا تھا جس کی تفسیر تشریح کرتے ہوئے وہ بہت سے نکات اور مسائل کا استتباط فرمایا کرتے تھے اور پھر اُنہیں حالات ِ حاضرہ پر ایسے منطبق فرماتے تھے کہ جیسے آج ہی کے حالات میں ان کا نزول ہوا ہے ۔ بلا ریب قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس میں کوئی پراناپن نہیں ، کوئی بھی ہو اور کیسا وقت ہو ، پیش آمد ہ مسائل کا حل اس میں نظر آئے گا ۔ بقول اقبال !
تونمے دانی کہ آئین تو چیست زیر گردوں سر تمکین تو کیست
آ ں کتاب زندہ قرآن حکیم حکمت اُولایزال است وقدیم
اگلے سال 1954ء میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سالانہ کانفرنس ملتان میں مولانا سید محمد داؤد غزنوی کی صدارت میں اسی موضوع پر حافظ صاحب کی تقریر دل پذیر پوری کانفرنس کا حاصل تھی ۔ اپنے اسلاف اور ان کے کارناموں سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ یہ ایک بین حقیقت ہے او رمیرے مشاہدات و تاثرات ہیں جن میں تعریف و تحسین تو ہے لیکن ہر گز کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ حضرت حافظ محمد اسماعیل آسمانِ خطابت کے درخشندہ آفتاب تھے جن کی سادہ متواضع زندگی کے کئی ایک گوشے ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں ، لیکن اس کے حوالے سے اپنی یاد داشتوں پر نظر دوڑاتا ہو ں تو مجھے بہت سے اہم واقعات یاد آتے ہیں ۔
اپنے سے بڑوں کے ساتھ مروّت اور علم و فضل کے حاملین کا احترام حضرت حافظ صاحب کے ہمیشہ پیش نظر رہتا ۔
وہ کچھ عرصہ جامعہ اسلامیہ آبادی حاکم رائے گوجرانوالہ میں خطیب رہے ۔
حضرت الاستاذ حافظ محمد گوندلوی بھی قریبی رہائش ہونے کی وجہ سے وہاں ہی جمعہ پڑھتے تھے ۔ حافظ محمد اسماعیل ہر جمعہ کو امامت کے لیے حضرت حافظ گوندلوی کو آگے کرتے ، ان کے اصرار کے باوجود کبھی بھی مصلّے پرنہ آتے ۔ ایک دفعہ میں نے اور میرے دوست حافظ محمد اسحاق مرحوم ( عرف راکٹ ) نے اسی مسجد میں جمعہ ادا کیا ۔ اس زمانے میں مرکزی جمیعت اہلحدیث اور مرکزی جماعت اہلحدیث کے قابل صداحترام اور عالی قدر راہنماؤں کے درمیان مسئلۂ امارت زیر بحث تھا کہ جماعتی نظام زیر امارت تشکیل پایا جانا چاہیے نجی مجلسوں او رعلما کے درمیان علمی گفتگو کی حد تک مسئلہ تھا ، منبر و محراب یا اسٹیج پر موضوعِ سخن نہیں بنایا جا رہا تھا ۔
حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی کو خطبہ کے آخر میں کسی نے رقعہ دیا کہ مسئلہ امارت کی آپ ذراوضاحت فرمائیں ۔ حافظ صاحب غصّہ میں آگئے اور جو اباً فرمایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آج میں یہ مسئلہ بیان کروں اور اگلے جمعہ کو حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی اپنے خطبہ میں اس کا جواب دیں ، اس زبان سے اس قسم کی توقع ہر گز نہ رکھیں ۔
البتہ جس نے مسئلہ سمجھنا ہو ، نماز کے بعد میرے پاس آئے ، میں سمجھا دوں گا ۔ نہ صرف حافظ کی یہ بلند اخلاقی بلکہ وہ گوجرانوالہ سے روانہ ہوتے ہوئے راستے میں مولانا محمد اسماعیل صاحب سے ملاقات کر کے اور اُن کی خیریت معلوم کر کے لاہور روانہ ہوتے ۔
حضرت حافظ صاحب غالباً دسمبر 1963ء میں اس دارِفانی سے رحلت فرما گئے تھے ۔ وفات سے ہفتہ عشرہ پہلے کی بات ہے کہ وہ بیماری کی شدت کے باعث گنگارام ہسپتال کی بالائی منزل میں زیر علاج تھے فیصل آباد سے تین چار دوستوں کے ساتھ میں بھی ان کی تیمار داری کے لیے حاضر تھا کہ اتنےمیں مولانا سید محمد داؤد غزنوی تشریف لائے ۔ ان کے ہمراہ مولانا محمد اسحاق بھٹی ایڈیٹر 'الاعتصام' بھی تھے مولانا ان دنوں عارضہ ٔ قلب میں مبتلا تھے ، اُنہیں دیکھتے ہی حافظ محمد اسماعیل نے کمزور آواز میں عرض کیا کہ آپ اپنی شدید علالت کے باوجود کیوں تشریف لائے ؟ آپ نے یہ زحمت کیوں فرمائی ؟
کسی سے میرے صحت کے متعلق دریافت فرما لیتے ۔ حافظ صاحب نے مولانا غزنوی سے مزید عرض کیا کہ
''حضرت آپ قوم کی متاعِ عزیز ہیں جماعت اور ملک و ملت کو آپ کی بہت ضرورت ہے م، میرا کیا ہے میں تو ایک مولوی ہوں ''
یہ الفاظ سن کر مولانا غزنوی کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں ،پورے ماحول پر ایک غم آلود سناٹا چھا گیا ۔ سنتِ نبوی ؐ کےمطابق آخردم تک بڑوں کا احترام و تکریم اور چھوٹے پر شفقت ورافت خصوصاًنوجوان علما کی افزائی حضرت حافظ صاحب کا پوری زندگی شعار رہا ۔ بہت سے نوجوان علما کو تنہائیوں سے نکال کر میدانِ تبلیغ میں لانا اور اسٹیج کی رونق بنانا ان کا معمول رہا ۔ مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری محقق عالم دین تھے ، لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ یہ میدان چھوڑے ہوئے تھے اور جھنگ میں انصاری برادری کے ترجمان ہفت روزہ 'صنعی پاکستان ' کی ادارت فرماتے تھے ۔ حافظ محمد اسماعیل انہیں اسٹیج پر لائے جو آگے چل کر ایک معروف مقرر اور دانشور ہی نہیں بلکہ کامیاب مناظر بنے ۔ مولانا محمد حسین شیخوپوری اپنے گاؤں میں زمیندارہ کرتے اور شعروسخن سے دلچسپی رکھتے تھے حضرت حافظ صاحب انہیں اسٹیج پر لائے جو خطیب ِ پاکستان کے لقب سے شہر ت پاگئے اور جن کی تبلیغی سر گرمیاں اور دعوت وارشاد سے ملک اور بیرونِ ملک لوگ مستفید ہوئے ۔ مولانا محمد رفیق مدنپوری ہماری جماعت کے نامور مقرر اور نوجوان خطیب تھے جو شروع میں شہر کے ایک دور افتادہ محلّہ مدن پورہ کی مسجد کے غیر معروف عالم دین اور پاورلومزپر کام کرتے تھے ۔ انہیں بھی حضرت حافظ صاحب نے اسٹیج کی زینت بنایا اور میدانِ تبلیغ کے شہسوار کے طور پرمشہور ہوئے ۔
ان نامی گرامی علماء و مبلغین کے علاوہ بیشتر نو خیز علما اور فارغ التحصیل طلبہ کی حافظ صاحب نے دلجوئی فرمائی اور ان کا حوصلہ بڑھایا ۔
حضرت حافظ صاحب اپنے ہم عمر علما مولانا محمد صدیق مولانا محمد اسحاق چیمہ ، مولانا عبدالرحیم اشرف اور مولانا عبید اللہ احرار سے تکلف اور خوش مزاج گفتگو فرماتے جس کی باغ و بہار مجلسوں سے میرے جیسے نوجوان بڑی سوجھ اور فکری راہنمائی حاصل کرتے ۔
فیصل آباد میں کلیہ دارالقرآن و الحدیث جناح کالونی کے سالانہ جلسہ پر حضرت حافظ صاحب کی شمولیت حضرۃ الاستاذ مولانا محمد عبداللہ ویرووالوی ضروری قرار دتے حافظ صاحب سے رابطہ و وعدہ میری ڈیوٹی ہوتی ۔ حضرت حافظ محمد اسماعیل کے انتقال کے بعد حافظ عبدالقادر صاحب بھی تاحین حیات شرکت فرماتے رہے سالانہ کانفرنسیں اور جلسے تو اب بھی ہوتے ہیں مگر وہ اسلاف کی دعوت و تبلیغ کامخلصانہ رنگ نظر نہیں آتا ۔
حضرت حافظ صاحب کے دعوتی و تبلیغی سفروں کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا کسی بھی کانفرنس یا جلسہ میں ان کے خطاب کو اہمیت حاصل رہتی ۔
صوبہ سند کے بڑے بڑے شہروں کراچی ، حیدرآباد ، میر پور خاص ان کے وعظ و تذکیر سے گونجتے رہے ۔ ان شہروں میں ان کے ہمراہ حضرت پیرسید بدیع الدین شاہ راشدی اہم ترین مقرر ہوتے ۔
کراچی میں مولانا قاری عبدالخالق رحمانی کی معیت میں ان کے تبلیغی پروگراموں کا سلسلہ ہفتوں جاری رہتا ۔ کراچی میں قائد اعظم کے مزار کے سامنے اس زمانے میں ایک بڑی کوٹھی قیوم منزل کے نام سے موسوم تھی جس کے مالک حاجی عبدالقیوم پشاوری تھے اور ان کی قیوم ٹیکسٹائل ملز بھی کراچی میں تھی ۔حاجی صاحب حضرت حافظ صاحب کے بہت عقیدت مند تھے ، وہ رمضان المبارک میں اپنی اسی کوٹھی کے وسیع لان میں نمازِ تراویح کا اہتمام کرتے ۔
برس ہا برس حضرت حافظ صاحب یہاں رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کی امامت فرماتے رہے ۔ خطبہ جمعہ اکثر مسجد رحمانیہ رنچھوڑ لائن میں پڑھاتے تھے ۔ نمازِ تراویح میں شہر کے اطراف و اکناف سے گاڑیوں پر اور پیدل سینکڑوں نمازی ہوتے ۔
حضرت حافظ صاحب کی شفقت سے میں نے اور میرے دوست شیخ محمد یونس (راولپنڈی) نے ایک مرتبہ آدھا رمضان المبارک کراچی میں گزارا ۔ حضرت حافظ کو ہم نے دیکھا ہر نماز کے بعد کہیں درسِ قرآن دیتے اور کہیں تفصیلی تقریر فرماتے ، سارا دن اس تبلیغی مصروفیت میں گذرتا ۔ ہم نے دن کے اوقات میں کبھی نہ دیکھا کہ انہوں نے رات کو تراویح میں پڑھنے والی منزل کا کسی سے دور کیا ہو یا کم ازکم پارہ ہی دیکھا ہو ۔
ان کے حافظے کی یہ کیفیت تھی کہ دن بھر کی مصروفیت اور بعض دفعہ دور دراز کسی افطاری میں شرکت کے بعد قیوم منزل پہنچے اور آتے ہی پورا پارہ نماز ِ تراویح میں سناتے ۔ ان کی سوزوگداز میں ڈوبی اور مترنّم تلاوت سے وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا ۔ تراویح کے بعد گھنٹہ پون گھنٹہ پڑھی گئی منزل کے خاص خاص مقام اور اور سورتوں کے شانِ نزول پر خطاب فرماتے بعد ازاں تمام نمایوں کو حاجی عبدالقیوم کی طرف سے آئس کریم اور شربت ِروح افزا پیش کیے جاتے جس زمانے کی یہ باتیں ہیں وہ موسم جون کا مہینہ اور شدت کا گرم رمضان المبارک تھا ، لیکن حافظ صاحب کی پُررونق یہ مجلسیں موسم بہار کا لطف دیتی نظر آتیں ۔
حضرت حافظ صاحب ایک ایسے یگانہ روز گار عالم دین تھے کہ جن کی پُر حکمت اور فصاحت و بلاغت سے بھری خطابت و گفتگو میں ایک چاشنی تھی اور ان کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ وہ ملنے والے کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے تھے اور متاثر بھی ۔ ان کی با اخلاق طبیعت اور خطابت کی جولانیاں اب بھی مدت مدید گزرنے کے باوجود کانوں میں رس گھول رہی ہیں ۔ وہ اپنے دور کے نمونۂ اسلاف اور کامیاب مبلغین و مقررین کی صف میں کریمانہ عادات و اطوار اور شریفانہ علمی اقدار سے بہرہ ور تھے ۔ بقول اقبال کہا جا سکتا ہے :
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کانہ جب تک فکر کامل ہم نشین
دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ ان کی دینی و ملّی عظیم مساعی اور حسنات کو قبول ومنظور فرما کر ان پربخشش وغفران اور اپنی بھر پور رحمتوں کی برسات برسائے اور جنت الفردوس میں انبیاء و اتقیا اور صلحا کے ساتھ حشر فرمائے اور ان کی آل و اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلائے ۔ آمین !
نیز آج کے ہمارے خطیبوں اور واغظین کو انہی اسلاف کی طرح خدمت و تبلیغ دین کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ کیونکہ ہماری پستی اور انحطاط کی بڑی وجہ اسلاف کے طرز زندگی سے انحراف اور نفسانی خواہشات کوہی سلیقہ زندگی بنائے رکھنا ہے ۔ بقول اقبال :
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کودےمارا