اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے لیے اوّلین باعثِ عزوشرف حرمین شریفین ہی ہیں ، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں سعودی عرب کی دیگر اسلامی ممالک کے مقابلے میں امتیازی مقام عطا کرتی ہیں ۔
(1)اسلامی تعلیمات کی ابتدا عقیدۂ توحید سے ہوتی ہے آج پوری دنیا اسلام میں سعودی عرب جس طرح قولی اور فعلی ہر دو اعتبار سے عقیدۂ توحید کی شہادت دے رہا ہے ، کوئی دوسرا سلامی ملک اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا ۔ غور فرمائیے وسیع و عریض سعودی مملکت میں کوئی مزار، دربار ، خانقاہ یاد گار تو کجا پکی قبر تک موجود نہیں جس پر کوئی نذرو نیاز، چڑھاوا یا میلا ٹھیلا لگتا ہو ۔ جہاں مملکت کے مفتئ اغظم شیخ عبدالعزیز بن باز اور صفِ اوّل کے عالم شیخ محمد عثیمین کی قبریں عام مسلمانوں کی طرح کچی ہیں ، وہاں مملکت کے بادشاہوں کی قبرین بھی ویسی ہی کچی ہیں ۔
ریاض کے قبر ستان 'مقبرۃ العود'میں شاہی خاندان کے تمام افراد کی تدفین ہوتی ہے ۔ ملک خالد بن عبدالعزیز کی 1981ء میں وفات ہوئی ۔ ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے شرکت کا موقع دیا نمازِ جنازہ کے بعد تدفین کے لیے میت 'مقبرۃالعود ' میں اور عام قبروں کی طرح کچی مٹی کی ڈیڑھ یا دو بالشت اونچی قبر بنائی گئی ۔ نہ پکی اینٹ نہ تحتی ، نہ پھول نہ چادر ۔ تدفین کے ہمارے ایک پاکستانی بھائی نے ایک عمر رسیدہ سعودی سے دریافت کیا ۔
''ملک فیصل کی قبر کون سی ہے ؟سعودی نے پوچھا :''فیصل کی قبر کو کیا کرو گے ؟پاکستانی نے کہا :'' میں اس کی قبر پر دعا مانگنا چاہتا ہوں ۔'' سعودی نے فوراً جواب دیا : ''تمام مسلمانوں کے لیے دعا مانگو ، فیصل کو بھی پہنچ جائے گی۔''
2005ء میں ملک فہد بن عبدالعزیز کی وفات ہوئی ، ان کی تدفین پر صرف شاہی خاندان کے افراد کو قبرستان میں جانے کی اِجازت تھی ۔ وفات کے تیسرے روز میں قبر ستان گیا ، وہی کچی مٹی کی قبر دو یا اڑھائی بالشت اونچی ۔ دو پاکستانی حضرات قبر پر کھڑے دعا مانگ رہے تھے میں نے بھی ملک فہد کے لیے دعا ئے مغفرت کی ۔ ایک پولیس کا آدمی جیپ میں بیٹھا تھا ۔ تعزیت کے تین بعد اس کی ڈیوٹی بھی ختم ہونے والی تھی ۔ آج قبرستان میں جائیں تو ملک فیصل ، ملک خالد ، ملک فہد میں سے کسی کی قبر کا کچھ اَتا پتا نہیں چلتا کون سی ہے ؟حتیٰ کہ سعودی عرب کو قائم کرنے والے ملک عبدالعزیز خود بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں ، لیکن ان کی قبر کا بھی کسی کو علم نہیں ۔ عقیدۂ توحید کے تحفظ اور شرک کی بیخ کنی کا یہ عظیم کار نامہ دنیا کے کسی دوسرے اسلامی ملک میں نظر نہیں آتا ۔
پورے ملک میں عقید توحید کی تنفیذ کے لیے نہ صرف ملک عبدالعزیز اور امام محمد بن عبدالوہاب  نے زبردست جدوجہد کی بلکہ آج بھی علمائے کرام کے لیے دن رات مسلسل کوشش اور محنت کر رہے ہیں ۔
(2)سعودی حکومت نے عوام الناس خصوصاًغیر ملکی حضرات کے عقائد کی اصلاح کے لیے ملک بھرمیں کاتبِ جالیات
(Call and Guidance Offices )کا جال پھیلا دیا ہے جن میں غیر مسلموں کو بھی اسلام کی دعوت دی جاتی ہے اور مسلمانوں کی اصلاح پر بھی توجہ دی جاتی ہے ان مکاتب کی نگرانی تو حکومت خودکرتی ہے لیکن مالی سر پرستی مخیّر حضرات کرتے ہیں ان مکاتبِ جالیات کی کار کردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاض کا صرف ایک مکتب ( جالیات الربوۃ) دنیا کی 81 زبانوں میں لٹریچر شائع کر رہا ہے ۔
ایک سرسری انداز ے کے مطابق سال بھر میں پوری دنیا کو لوگ اتنی تعداد میں دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوتے جتنے سعودی عرب کے ان مکاتب کی کوششوں کے نتیجہ میں دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ۔صر ف ریاض شہر کے مکاتب ِ جالیات کی کوششوں سے ہر سو سے زائد غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ۔ یہ کامیابی یہاں کی حکومت اور علماے کرام کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے جس کا نہ تو حکومت ڈھنڈوراپیٹتی ہے ، نہ کہیں اشتہار دیتی ہے ، نہ اعلان کرتی ہے۔
2007 ء میں مجھے بعض سعودی انجئینرز کے ساتھ وزارتِ صحت کے ایک پروجیکٹ کے لیے صفر الباطن جانا تھا ، اپنے کام سے فراغت کے بعد ہم لوگ ہوٹل میں چلے گئے ۔ رات کھانے کے بعد وہاں کا مکتب جالیات دیکھنے کا شوق پیدا ہوا اور میں تھوڑی سی تلاش کے بعد مکتب پہنچ گیا ۔ اتفاق سے اس روز مکتب مین غیر معمولی رونق تھی ۔ لائبریری میں گیا تو وہاں اُردوزبان کے سندھی داعی سے ملاقات ہوئی ۔ تعارف کرانے پر بہت مسرور ہوئے اور سلسلۂ 'تفہیم السنۃ' کی تالیف پر میری حوصلہ افزائی فرمائی ۔ انہوں کے بتایا کہ آج مکتب میں خصوصی اجتماع ہے ۔ ایک سعودی مخیّر نے مکتب کو 50 سیٹ والی بس مہیا کی ہے تا کہ داعی حضرات لٹریچر لے کر شہر کے دور دراز علاقوں میں موجود مختلف کمپنیوں میں جاکر لوگوں کو دین کی دعوت دے سکیں ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے ۔ پروگرام کے آخر میں چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں یہ کہا :
'' سعودی عرب الحمدللہ تو حید کی سرزمین ہے جو ہمارا بنیادی عقیدہ ہے ۔ دنیا اور آخرت میں ہماری کامیابی کا دارومدار اسی عقیدہ پر ہے ..تمام انبیاے کرام اور رُسل اسی عقیدۂ توحید کی دعوت لیکر آئے اور یہی دعوت ہمارے قائد، رہبر ، حبیب اور رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ لے کر آئے تھے ۔ اسی عقیدہ توحید کی ہم تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے ہم سب کو مل جل کر کوشش کرنی چاہیے ۔''
چیف جسٹس کے خطاب سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سعودی عرب میں علماے کرام اور کلیدی عہدوں پر فائز حکام کی جدوجہد کی سمت ایک ہی ہے یعنی عقیدہ ٔتوحید جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سعودی عرب آنے والے لوگوں میں سے 90 تا 95 فیصد مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح ہو جاتی ہے ، صرف ایک قلیل تعداد ایسی ہوتی ہے جو سب کچھ دیکھنے اور سننے کے باوجود اپنے آبائی عقیدہ پر قائم رہنا پسند کرتی ہے ۔
(3)عقیدۂ توحید کے بعد دین اسلام کا اہم ترین رُکن نماز ہے ۔ تمام مملکت میں ہر شہر کے اوقات کے مطابق اذان کا ایک ہی وقت مقرر کرنا ۔ نماز کے اوقات میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کو بند کروانا ۔ اذان سے اقامت تک کے وقت میں امر بالمعروف نہی عن المنکرکے اہلکاروں کا گشت کرنا اور سپیکر پر لوگوں کو نماز کے لیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا ، اگر کہیں بے نمازیوں کا گروہ مل جائے تو اسے پکڑ کر تھانے لانا ۔ چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ و نصیحت کرنا اور نماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ، حکومت کا ایسا منفرد اور نادر الوجود کارنامہ ہے جس کی پور ی دنیا میں کسی اسلامی ملک میں مثال نہیں ملتی ۔
میرا ایک بیٹا عبداللہ اقبال مکہ مکرمہ کے تعلیمی ادارے دارلحدیث کا طالب علم ہے، اس نے بتایا کہ گذشتہ فٹ بال کے ورلڈکپ میچ کے موقع پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے محسوس کیا کہ اس میچ کی وجہ سے سعودی نوجوانوں کی نمازیں ضائع ہو رہی ہیں ، چنانچہ اُنہوں نے گشتی کمروں (Portable House)میں مصلےٰ بچھا کر گلی گلی ، محلے محلے ایسی جگہوں پر پہنچا دیئے جہاں سعودی نوجوان ٹی وی پر میچ دیکھنے میں مگن تھے ۔ نماز کے اوقات پر وہیں اذان دی جاتی اور بہت ہلکی سی نماز پڑھ کر نوجوانوں کو فارغ کر دیا جاتا ۔
دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں سے کون سا ایسا ملک ہے جس کی حکمرانوں کو اپنی رعایا کی نمازوں کی اس قدر فکر لاحق ہو؟
تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں مساجد کی تعمیر ضروری ہے ، نماز کا باقاعدہ اہتمام کرنا دفتر ے مسئولین کی قانونی ذمہ داری ہے ۔
مغربی ممالک میں نماز یں پڑھنے پر مسلمانوں کی تنخواہ کا ٹی جاتی ہے ، لیکن سعودی عرب میں دفتری اوقات میں نماز ادا نہ کرنا باعثِ عیب سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارے کتنے ہی پاکستانی ، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی بھائی ایسے ہیں جو اپنے اپنے ممالک میں کبھی نماز کے قریب بھی نہیں گئے تھے ، لیکن سعودی عرب آنے کے بعد ماحول کے ہاتھوں مجبور ہو کر نماز پڑھنی شروع کی اور پھر ایسے پکے نمازی بنے کہ تہجد اور اشراق تک پڑھنے لگے ۔ نمازِاستسقا، نمازِکسوف اور نمازِ خسوف کے لیے شاہی فرمان جاری ہوتا ہے جس پر علماے کرام اور عوام پوری مستعدی سے عمل کرتے ہیں ۔
(4)زکوٰۃ کے لیے حکومت نے ایسا قانون بنا رکھا ہے کہ کوئی شخص زکوٰۃ ادا کیے بغیر سعودی عر ب میں کاروبار نہیں کر سکتا ۔ چند سال قبل ریاض میں شدید ژالہ باری ہوئی جس سے بعت نقصان ہوا ۔ علماے کرام نے اپنے خطبوں میں لوگوں کو تلقین کی کہ اللہ سے ڈرو، اپنے مال کی زکاتیں ادا کرو، اللہ کا یہ عذاب زکاتیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے آیا ہے ۔
(5)رمضان المبارک کے مہینے میں پوری مملکت میں الحمدللہ ایسا روح پرور ماحول پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی نام نہاد مسلمان تو کیا ، کٹے سے کٹا کافر بھی رمضان المبارک کے تقدس کو مجروح کرنے کی کوشش کرے تو حکومت اس کا ویزا منسوخ کر کے فوراً ملک بدر کر دیتی ہے ۔
یاد رہے کہ احترامِ رمضان کے بارے میں ہر سال رمضان المبارک سے پہلے فرمان شاہی جاری ہوتا ہے جس پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے ۔
(6) یہود و نصارٰی کئی مرتبہ قرآن مجید میں تحریف کی ناپاک سازشیں کر چکے ہیں۔ یہود و نصارٰی کے مکروہ عزائم کو بھانپتے ہوئے سعودی حکومت نے مدینہ منورہ میں عظیم الشان 'شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس' مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف قائم کیا جس میں چوبیس گھنٹے قرآنِ مجید کی طباعت ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ پرنٹنگ کمپلیکس عربی زبان کے علاوہ دنیا کی پچاس سے زائد زبانوں میں قرآن ِکریم کی طباعت کا مقدس فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ ہر سال حج کے موقع پر مجمع ملک فہد کروڑوں کی تعداد میں قرآنِ کریم کے یہ نسخے بلا قیمت حجاج کرام میں تقسیم کرتا ہے ۔
قرآنِ کریم کی یہ ایسی عظیم الشان خدمت ہے جس کے لیے پوری امتِ مسلمہ سعودی حکومت کی ممنون احسان ہے ۔ شنید ہے کہ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز﷾ اب حدیث شریف کی اشاعت کے لیے ایک ایسا ہی منصوبہ تیار کر رہے ہیں جو کتاب و سنت کی اشاعت میں یقیناً نور علیٰ نور کے مصداق ہو گا۔ انشاءاللہ
(7) مذکورہ بالا دینی خدمات کے علاوہ سعودی عرب آج بھی ایسی بہت سی اسلامی اقدار کی حفاظت کر رہا ہے جو ہمیں کسی دوسرے اسلامی ملک میں نظر نہیں آتیں۔ بظاہر یہ اقدار معمولی نظر آتی ہیں لیکن معاشرے میں ان کے نتائج بڑے دور رس ہیں ۔ سرکار اداروں میں ہجری کیلنڈر پرعمل ہوتا ہے سرکاری ملازمین کو تنخواہ ہجری کیلنڈر کے مطابق دی جاتی ہے اور باہمی مراسلت میں ہجری تاریخ ہی استعمال کی جاتی ہے ۔ سرکار ی مراسلت میں خواہ وہ افسرانِ بالا کی طرف سے ماتحت افسران کے نام ہو یا ماتحت افسران کی طرف سے افسران بالا کا نام ہو، ابتداالسلام عليكم ورحمة الله وبركته... أمابعد سے ہوتی ہے ۔ افسرانِ بالا اپنے ماتحتوں کے لے سلمه الله اور ما تحت افسران بالاکے لیے حفظہ لله جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں یاد رہے کہ سرکاری اداروں میں باہمی مراسلت کے لیے طبع شدہ لیٹر پر بسم الله الرحمٰن الرحيم پہلے سے طبع ہوتا ہے ۔
(8)سعودی عر ب کو اللہ تعالیٰ نے تیل کی دولت کے علاوہ معدنیات کی دولت سے بھی مالا مال کیا ہے جسے سعودی حکومت مملکت کے علاوہ پوری دنیا میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے بے دریغ خرچ کرتی ہے ۔
اہل خبر جانتے ہیں کہ دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جہاں سعودی حکومت کے تعاون سے مساجد ،مدارس ، اسلامی مراکز اور دیگر عوامی بہبوداور فلاح کے کاموں پر خرچ نہ کیا گیا ہو اور اسی معاملہ میں پاکستان اور اہل پاکستان کے ساتھ تو سعودی عر ب کا معاملہ رسمی طور پر نہیں ، حقیقی طور پر بھائیوں جیسا ہے ۔
اہل پاکستان پر جب بھی کوئی ابتلایا آزمائش آتی ہے تو مملکت ک حکمران ہی نہیں ، عوام اور علماے کرام بھی مضطرت اور بے چین ہو جاتے ہیں ۔2005 ء کا بتاہ کن زلزلہ ہو یا 2010 ء کا ہلاکت خیز سیلاب ، ہر موقع پر مملکت تمام اسلامی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر مالی معاونت بھی کرتی ہے اور خطیب حضرات جمعہ کے روز اپنے خطاب میں نام لے کر اہل پاکستان کے لیے دعائیں مانگتے ہیں ۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ائمہ کفر نے پاکستان پر معاشی ، اقتصادی اور فوجی پابندیاں لگا کر پاکستان کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کی تب سعودی عرب نے ہی پاکستان کو مفت تیل فراہم کر کے دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔ جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ کے زمانے میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو 'ر' اور 'موساد' نے خفیہ آپریشن کے ذریعہ تباہ کرنے کا پروگرام بنایا تو ملک عبد العزیز﷾ ( تب ولی عہد ) نے ہنگامی پرواز کے ذریعے خود آکر اہل پاکستان کو مطلع کیا کہ اسرائیل طیارے ہتھیاروں اور کمانڈوز سمیت سری نگر ایئر پورٹ پر پہنچ چکے ہیں ۔
دو ماہ قبل دارالسلام الریاض کی ایک تقریب میں سفیر پاکستان جناب شیر علی زئی صاحب نے بتایا کہ سعودی عرب نے گذشتہ سال پاکستان سے چھ ہزار ڈاکٹرز منگوائے گئے ہیں ، اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت سعودی عرب نے کبھی کسی دوسرے ملک سے ڈاکٹر ز نہیں منگوائے ۔ یا د رہے کہ آج کل مصر سے ڈاکٹر یا انجئینر ز منگوانے پر سعودی عرب نے پابندی لگا رکھی ہے ۔
پرویز مشرف نے ایک بار ترنگ میں آکر ہندوستان کو ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کی پیش کش کی ۔ اس سے اگلے روز یو نیورسٹی سے واپس آتے ہوئے مجھے ایک سعودی پروفیسر ملے ، وہ پروفیسر مشرف کے اس بیان سے بڑے دل گرفتہ تھے ۔ سلام وہ دعا کے بعد کہنے لگے : '' کیا یہ آدمی پاگل ہے ، پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے؟'' سعودی حکمران ہوں یا عوام پاکستان کے لیے سب کا جذبہ خیر خواہی ایک جیسا ہے !
مذکورہ بالا سطور تحریر کرنے کا باعث موقر ماہنامہ 'محدث' لاہور شمارہ 346 (اپریل2011ء) میں طبع شدہ مضمون بعنوان '' اُمتِ مسلمہ کے خزانے اور ظالم حکمرانوں کی عیاشیاں کی بعض سطور ہیں جس میں حافظ صلاح الدین نامی قلمکار نے عرب ریاستوں کے بارے میں اعداد وشمار کے ساتھ ان ریاستوں میں ایک طرف و سائل ثروت کی فروانی اور دوسری طرف حکمرانوں کی عیاشیوں پراظہار ِتاسف فرمایا ہے ۔ قدرتی طور پر ایسے مضامین پڑھ کر حکمرانوں کے خلاف عوام میں پہلے سے موجو د نفرت میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ سیاقِ مضمون سے یہ تا ثرملتا ہے کہ دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح سعودی عرب میں بھی ایسے ہی نا لائق اور عیاش حکمران ہیں ۔ راقم کو سعودی عر ب میں رہتے ہوئے کم وپیش تیس سال کا عرصہ ہو رہا ہے ۔ میں پوریذمہ دار ی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب کے دینی اور دنیاوی اُمور کی ہر گز صورتحال یہ نہیں ہے جس کا واضح ثبوت مضمون ہذا میں تحریر کی گئی گذشتہ سطور ہیں ۔
برادرم عبدالمالک مجاہد (ڈائریکٹر دارالسلام الریاض) راوی ہیں کہ میں نے پرنس خالد بن طلال کے ساتھ نماز ادا کی ۔ نماز کے بعد پرنس نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ شاہی خاندان میں ایسے افراد بھی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ سے اتنا گہرا تعلق ہے ۔
چند سال قبل مجھے اپنے اہل و عیال کے ساتھ رات کے وقت جدہ کے ساحل سمندر پر جانے کا اتفاق ہوا ، بجلی کی قمقموں سے ساحل کی لمبی پٹی بقعہ نوربنی ہوئی تھی ۔ بچوں کے لیے جھولے ، ٹرینیں ، سواری کے لیے مزین اونٹ اور خچر وغیرہ۔ کھانے پینے کے لیے انواع و اقسام کی اشیا، ہزاروں مرد ، عورتیں اور بچے اِدھر اُدھر لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ ہر طرف چہل پہل اور گہما گہمی کا سماں تھا ۔ سیرو تفریح اور لہو و لعب کے عین وسط میں ایک جگہ بڑی سکرین پرکچھ مناظر دکھائے جارہے تھے اور ساتھ یہ آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں ۔
ہمیں تجسس ہو ا اور وہاں پہنچے تو وہاں ایک بڑی سکرین کے سامنے 60،70 کرسیاں رکھی تھیں جن پر پندرہ بیس مرد و عورتیں بیٹھے تھے ۔ ہم بھی ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے ۔ سکرین پر جنت اور جہنم کے بعض مناظر دکھائے جا رہے تھے اور اسی نسبت سے ساتھ قرآنی آیات کی بڑی پر کشش تلاوت کی آوازیں بھی ریکارڈ کی گئی تھیں ۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ اس کا اہتمام شاہی خاندان کے ایک ہی خاندان کے ایک پرنس نے کر رکھا ہے ۔ وہ ملک فہد بن عبد العزیز کا دور تھا ۔ میزبان نے یہ بھی بتایا کہ ملک فہد کا بیٹا روزانہ رات کے پچھلے پہر پولیس کے ساتھ ساحل پر گشت کرتا ہے ۔ اس لیے ساحل پر کبھی کسی قسم کی بہودگی یا بے حیائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
سعودی حکومت اپنے عوام پر کس قدر مہربان ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ فیصل بن عبدالعزیز کے دور میں ریاض شہر میں گیس کی ترسیل کی وجہ سے رُک گئی اور شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ دوتین دن کے بعد جب گیس کی ترسیل بحال ہوئی تو ملک فیصل نے حکم دیا کہ سرکاری اہلکار خود ایک ایک گھر جاکر معلوم کریں کس کے پاس گیس نہیں جس کے ہاں گیس نہ ہو ، سرکاری اہلکار خود اس کے گھر گیس سلنڈر پہنچا کر آئیں ۔
گذشتہ تیس سال میں یاداشت کے مطابق چھ یا سات مرتبہ سے زیادہ بجلی کی ترسیل میں انقطاع نہیں ہوا اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے کسی علاقہ میں بجلی کی ترسیل میں انقطاع کی ضرورت ہو تو کمپنی کو ایک ہفتہ قبل اس علاقہ کے مکینوں کی بذریعہ نوٹس آگاہ کرنا پڑتا ہے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک بجلی نہیں ہوگی ۔
سعودی عرب میں پانی کی قلت کی وجہ سے حکومت کو پین کا پانی مہیا کرنے پر سب سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہ ۔ ہفتہ میں دو مرتبہ با قاعدگی سے بلدیہ پانی مہیا کرتی ہے۔ پانی کی ترسیل میں بعض اوقات ایک دو یوم کی تاخیر ہو جاتی ہے ، لیکن اس صورت میں بھی شہریوں کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔
بڑے بڑے ٹینکر ہر وقت گلیوں میں پانی مہیا کرتے ہیں ۔2 ریال میں 20 لیٹر کا کین ، مدت دروازے سے پٹرول کی قیمت 47 ہللہ فی لیٹر ہے ( یعنی 11 روپے فی لیٹر) چلی آ رہی ہے ۔
300 ،400 ملی لیٹر کے تمام مشروبات عرصۂ دراز سے ایک ریال میں ملتے چلے آرہے تھے ۔ گذشتہ سال پہلی مرتبہ ان کی قیمت میں 50 ہللہ کا اضافہ ہوا ہے ۔ اب وہی مشروبات ڈیڑھ ریال میں ملتے ہیں ۔ بیکری کی ورٹی آج سے تیس سال قبل بھی ایک ریال میں چار ملتی تھیں ، آج بھی ایک ریال میں چار مل رہی ہیں ۔ اس عظیم وسیع و عریض مملکت میں کوئی ایسا شہر یادیہات نہیں جو بین الاقوامی معیار کی سڑکوں سے محروم ہو ۔ چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی مساجد ، مدارس ، ہسپتال اور اَکل وشرب کی تمام اشیا و افرمقدار میں میسر رہتی ہیں ۔
گذشتہ سال ملک عبداللہ صحت یاب ہوئے تو حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو دوماہ کی اضافی تنخواہ اور تمام طلبا کو دو ماہ کا اضافی وظیفہ دینے کا اعلان کیا ۔ یاد رہے کہ سعودی جامعات میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو ہر ماہ 800 ریال وظیفہ ملتا ہے ۔ یکم محرم 1432ہجری سے حکومت نے بے روز گار سعودی افراد کو تین ہزار ریال وظیفہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ امن و امان کے اعتبار سے آپ دن یا رات کے کسی بھی حصہ میں پوری مملکت میں جہاں چاہیں ، بلا خوف و خطر سفر کر سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سعودی حکومت اپنی رعایا کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے ۔
مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ کفار اور منافقین کی مکروہ سازشوں کی وجہ سے تمام مسلم ممالک میں جو دینی ، اخلاقی اور سیاسی انحطاط آیا ہے سعودی عرب بھی اس سے محفوظ نہیں ۔ جہاں فرشتے نہیں ، انسان ہی بستے ہیں ۔ جن میں بشری کمزوریاں اسی طرح موجود ہیں جس طرح دوسرے انسانوں میں ہوتی ہیں تا ہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ینی اور دنیاوی طور پر سعودی عرب دیگر تمام اسلامی ممالک کے مقابلہ میں بہترین ملک ہے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ اپنی ذمہ داریاں بھر پور طریقے سے ادا کر رہا ہے ۔ وعوت و ارشاد کے ادارے اپنا کا م کرنے میں مستعد ہیں ۔ دارالافتا قدیم اور جدید مسائل میں عوام کی رہنمائی کر رہا ہے ۔ مجموعی طور پر پورے معاشر ے میں خیرو بھلائی غالب ہے۔ عر ب ممالک میں حالیہ مظاہروں کے دوران سعودی عرب کے علماے کرام نے بڑا قابل تحسین کردار ادا کیا ۔مفتیٔ اعظم سمیت تمام علماے کرام نے سیاسی مظاہروں کو شرعا حرام قرار دیا ہے جس کے نتیجہ میں گردوپیش ممالک میں مظاہروں کے باوجود سعودی عرب میں کسی قسم کا مظاہرہ نہیں ہوا ۔ پورے ملک میں امن دوبارہ برقرار رہا ۔ اس موقع پر سعودی قیادت نے بھی بڑی دانشمندی اور دور اندیشی کا ثبوت دیا ۔
دیگر اہم شعبوں کے ساتھ ساتھ تمام دینی اداروں کو بھی دل کھول کر فنڈ مہیا کیے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ادارے کو 200 ملین ریال ، مساجد کی دیکھ بھال کے لیے 500 ملین ریال ، جمیت تحفیظ القرآن الکریم کو 200 ملین ریال، مکاتب جالیاتCall and Guidance Offices) ) کو 300 ملین ریال ، علمی اور تحقیقی کا م کرنے والے ادارے کو 200 ملین ریال جس سے مملکت کے تمام دینی ادارے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں ۔ سعودی قیادت کو اس بات کا پورا شعور ہے کہ کتاب وسنت کے ساتھ مکمل و ابستگی میں ہی سعودی عرب کی بقا ہے ۔ آج کل سعودی عرب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جگہ جگہ موت کی طرف سے بڑے بڑے بینر لگے ہوئے نظر آتے ہیں جن پر أمننا في أيماننا ( یعنی ہمارا امن ہمارے ایمان سے رابستہ ہے ) تحریر ہے ۔
ہماری ناقص رائے میں آج پوری دنیا میں اگر کوئی ' ماڈل اسلامی ریاست ' ہے تو وہ سعودی عرب ہی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی دوسری ریاست ہے تو اس کا نام بتائیے ؟ ہمیں یہ حقیقت فرامو ش نہیں کرنی چاہیے کہ آج کے پر فتن دور میں کفار تو سعودی عرب کے دشمن ہیں ہی ، خود اسلامی ممالک پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجئے کتنے سعودی عرب کے دوست ہیں اور کتنے دشمن اور پھر اپنے ہاں بھی عوام الناس پر ایک نظر ڈال لیجئے اور دیکھئے کہ عقیدہ کی اس محافظ ریاست کے عوام میں کتنے دوست ہیں اور کتنے دشمن ؟پوری دنیا میں پاکستا ن اور سعودی دو ہی ملک ہیں جو ائمہ کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں ۔ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے اور سعودی عرب اسلام کا منبع او ر مرکز ہونے کی وجہ سے ۔ عالمی طاقتیں دونوں ممالک کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں اور یہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بگاڑنا اسی منصوبہ کا حصہ ہے ۔ اللہ نے چاہا تو دشمنانِ اسلام اپنی مکروہ سازشوں اور دسیسہ کاریوں میں ناکام او رنامراد ہوں گے ، انشاءاللہ
لیکن ایسے حالات میں جبکہ عالمی جلاد ننگی تلواریں سونتے کھڑے ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں کہ کب کسی کی گردن پر وار کریں ۔ ہمیں یعنی عقید ہ ٔ توحید کے حاملین کو بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیئے کہ زبان یا قلم سے شعور ی یا لا شعوری طور پر کوئی ایسی بات نہیں کرنی جاہیے جس سے دشمنانِ توحید کا کام آسان ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ عقید تو حید کی محافظ سعودی حکومت کی حفاظت فرمائے ۔
حاسدوں ، شرپسندوں اور دشمن کی سازشوں سے محفوظ اور مامون رکھے اور اسے ساری دنیا میں کتاب و سنت کی خدمت او رتوحید کے فروغ کی مزید تو فیق عطا فرمائے۔ آمین !