دورِ حاضر كا میڈیا بڑا طاقتور ہے۔ یوں تو اسے ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے لیکن اگرحکومت ِوقت کے مقابل آجائے تو اپنی قوت کے بل بوتے پر اُسے بھی جھکنے مجبور کردیتا ہے۔وہ عوام جنہیں جمہوری نظام میں ریاست کاحاکم باور کیا جاتاہے، دراصل ان عوام کے رجحانات کی تشکیل اور ان کی آرا کی زبان یہی میڈیا بنتا ہے اور اس ناطے عوام پر بھی حکومت کرتا ہے اور ان کا نفسِ ناطقہ بھی ہے۔ رائے عامہ کو مطلوبہ رخ دینے سے لے کر سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی زندگی اسی میڈیا کی مرہونِ منت ہے۔ اگرمیڈیا کسی سیاسی جماعت کا بائیکاٹ کردے تو عوام میں وہ اپنا تعارف اور شناخت کھوبیٹھتی ہے اور کسی طبقہ حیات کے مخالف ہوجائے تو آخرکار اس کا قومی کردار مسخ ہو کےرہ جاتاہے!

اخبارات ورسائل کے دور میں یہ میڈیا صرف پڑھنے پڑھانے والے افراد تک محدود تھا اور اس کی اثرپذیری کے دائرے کافی محدودتھے، لیکن الیکٹرونک میڈیا کے اس جدید دور میں اس کے سحر نے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر عمر کے انسان کواور سائنسدان سے لے کر خاکروب تک ہر طبقہ حیات کو متاثر کیا ہے۔ یہ میڈیا جو پہلے خبر وتفریح تک محدودتھا، اب اس نے آگے بڑھ کر قانونی قضیے اور قومی فیصلےبھی اپنے دائرۂ عمل میں گھسیٹ لئے ہیں۔ جدید دو رکا میڈیا ایک منفعت بخش کاروبارہی نہیں رہا ، بلکہ اس سے بڑھ کر پریشراور لابنگ کے ایک طاقتور آلے کے طورپر استعمال ہورہا ہے۔

میڈیا کی اس حیرت انگیز قوت نے اسے مختلف قوتوں کے ہاتھ میں کھلونا بنا دیا ہے اور لوگوں کو اپنی خواہشات کے مطابق چلانے کا ناروا ایجنڈا رکھنے والے عناصر ہرمیدان میں میڈیا کا بری طرح استحصال کررہے ہیں اور اس کا نتیجہ تعلیمی اداروں سے شروع ہو کر سامعین وناظرین کے فکر ونظر اور سماجی رویوں پر پوری شدت سے نظر آرہا ہے۔

اس دور میں میڈیا بنی نوع انسان کی قیادت کررہا ہے اور جس پہلو کو غالب کرنا چاہتاہے، مختلف ابلاغی ہتھکنڈوں سے اپنی مراد کو پورا کرلیتا ہے۔ میڈیا کی اس حیرت انگیزتاثیر کی بنا پر زندگی کے ہرمیدان میں حقائق ونظریات کے پہلو بہ پہلو، ابلاغی عنصر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ بازاروں میں ہونے والی خرید وفرخت کی دوڑ ہو یا اقوام وملل کے مابین عسکری ونظریاتی میدانوں کی جنگ ، ہر جگہ اس کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ المختصر، آج جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں، اگر اس میں خیر کا پہلو نظر آتا ہے تو اس میں یقیناً میڈیا کاکچھ کردار ہے اور اگر اس میں شر وفساد غالب ہے تو اس سے بھی میڈیا کو بری الذمہ قرار نہیں دیاجاسکتا!

میڈیا بالخصوص مسلم اُمّہ کا میڈیا اس قدر ذمہ دار حیثیت میں ہونے کے باوجود بعض ایسے بنیادی مسائل کا شکار ہے جس کے نتائج بری طرح ملتِ اسلامیہ کو متاثر کررہے ہیں، اس پر اَربابِِ میڈیا کو توجہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہرباشعور شخص یہ جانتا ہے کہ محض خبریت سے بڑھ کر، میڈیا مختلف مسائل میں مخصوص نقطہ نظر کو پروان چڑھاتا ہے۔ انسان باخبر رہنے کے فطری جذبے کی تسکین کی خاطر اس کی طرف لپکتے ہیں جبکہ میڈیا کے کارپردازان اُن کے فکر وذہن کی تشکیل کے درپے ہوجاتے ہیں۔

a پاکستانی میڈیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میڈیا میں پکی پکائی اور بنی بنائی خبریت پر بہت زیادہ انحصا رکیا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کے بیانات ہوں، یا تنظیموں تحریکوں کے کارہاے نمایاں، ان کی تمامتر جنگ میڈیا کے صفحات یا ٹاک شوز کے ذریعے لڑی جارہی ہے جس سے ملک وملت کا بہت سا وقت ضائع ہورہا ہے۔ ایسی خبروں سے سیاستدانوں اور جماعتوں کا وجود تو کسی کارکردگی کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے لیکن قوم وملک کا کوئی بھلا نہیں ہوسکتا۔ گذشتہ چند برسوں کے اخبارات میں سیاستدانوں کے بیانات اور ٹاک شوز کو نکال کردیکھ لیں، ان میں ایک دوسرے پر کیچڑاُچھالنے اور بے مقصد جملے بازی کو ہمارے میڈیا نے ہی اس قابل سمجھا ہے کہ اس کو شائع کرکے عوام الناس کے ذہنوں میں اُنڈیلا جائے۔ اگر ہمارا میڈیا بے مقصد جملے بازی اور دعوؤں؍ دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے بامقصد کردار کو ہی متعارف کرائے تو اس سے سیاستدانوں، قومی جماعتوں او رعوام پاکستان کا بہت بھلا ہوسکتا ہے۔

b اخبارات اور ٹی وی چینلز کی اس بھرمار میں یہ حقیقت بڑی تلخ ہے کہ سچ پہلےسے کہیں زیادہ مسخ ہو چکا اور اس کو تلاش کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوچلا ہے۔ ہمارا میڈیا غیر اہم چیزوں کی انتہائی چھوٹی جزئیات سے تو ہماری سماعت وبصارت کو محظوظ کرتا ہے، جبکہ بہت سے ایسے حقائق جن سے من حیث القوم ہمیں آگاہ ہونے کی ضرورت بہت زیادہ ہے، اس سے میڈیا کے صفحات اور پردۂ سکرین یکسر خالی نظر آتے ہیں۔ مثال کے طورپر پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جاری جنگ کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ یہ جنگ درحقیقت کن عناصر کے مابین کن اصل مسائل کی بنا پر لڑی جارہی ہے؟ اس جنگ میں متاثر ہونے والوں کے حقیقی نوعیت اور ان کے مسائل کیا ہیں؟ہمارے پڑوس افغانستان میں جاری جنگ میں دو متحارب قوتوں کا حقیقی نقشہ کیا ہے؟ وہاں کے عوام اس بارے میں کیا رائے اور رجحانات رکھتے ہیں۔ شہری زندگی اور سہولیات کس اضطراب کا شکار ہیں؟ یہ تفصیلات ہمارے میڈیا میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس ضمن میں ہماری کارکردگی یہ ہے کہ کوئی صحافی اگر اس سمت پیش قدمی کرکے براہِ راست حقیقی صورتحال سے ہمیں آگاہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کرتا ہے، تو اس کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے۔ یہ خطہ ہولناک جنگ اور سنگین انسانی المیوں سے دوچارہے جس کا ہم براہِ راست حصہ ہیں، لیکن اس کے مستند حقائق سے ہماری واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ پردۂ سکرین اور اخبارات کے صفحات پر من چاہی خبریں دکھانے کے لئے غیرملکی سفارتخانے ہمارے صحافیوں کو نہ صرف قربت کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ اپنے خزانوں کے منہ بھی کھول دیتے ہیں جس کے بعد میڈیا کا کردار خبرواطلاع کی بجائے پروپیگنڈا کےایک استحصالی مہرہ کے مترادف ہوجاتا ہے۔

c ممکن ہے کہ بعض لوگ خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے پیش کی جانے والی بہت سی خبروں کا حوالہ دیں لیکن حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ہمارے میڈیا کی خبریں عالمی استعمار کی ابلاغی مہمّات کا چربہ ہوتی ہیں۔ ہماری بہت سی خبروں کا سرچشمہ عالمی خبررساں ادارے ہیں جو حقائق کی بجائے اس جنگ کی صورت گری اپنے نقطہ نظر سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف امریکہ افغانستان سے بھاگ نکلنے کی تیاریاں کرتا نظر آتا ہے تو دوسری طرف ہمیں پہنچنے والی ہر خبر میں اس کی کامیابیوں اور مجاہدین کی ناکامیوں کی داستانیں پھیلی نظرآتی ہیں۔ ایک ذمہ دار قوم اور باخبر میڈیا رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ اگر قومی سطح پر نہ سہی تو کم ازکم ابلاغی اداروں کی سطح پر ہر حساس مقام پر براہِ راست خبررسانی کا نظام قائم کرکے، خبریت کے حقیقی معیار کو قائم کیا جائے۔ اس کے بغیرمیڈیا کے قومی کردار کے تقاضے قطعاً پورے نہیں ہوسکتے۔

d یہی صورتحال اُمتِ مسلمہ کے مابین ابلاغی تعلقات کی ہے۔ ہمارا میڈیا ہمیں فرانس وجرمنی اور امریکہ وبرطانیہ کی جتنی خبریں فراہم کرتا ہے، اس کا عشر عشیر بھی مصر، ملائیشیا اور ترکی وایران کے بارے پیش نہیں کرتا۔بہت سے مسلم ممالک مثلاً موریتانیہ، عمان اور سوڈان کی خبریں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ میڈیا کے اس رجحان سے یوں لگتا ہے کہ ہم مسلم اُمّہ سے کہیں زیادہ مغربی ممالک سے مربوط ومنسلک ہیں۔ ہماری فکر وتہذیب سعودی عرب و ترکی سے زیادہ برطانیہ وفرانس سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کے میڈیا کو اپنے نمائندے ان ممالک میں بھی مقرر کرنا چاہئیں جن سے ہمارا نہ صرف دین وایمان کا رشتہ ہے بلکہ یہی ہماری حقیقی برادری ہیں اور ان کے ہمارے مسائل ووسائل مشترکہ ہیں۔ آج ہم امریکہ وبرطانیہ کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں سے اس کی بہ نسبت کہیں زیادہ آگاہ ہیں جتنی آگاہی ہمیں جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کے بارے میں ہے۔یمن وصومالیہ میں جاری استعماری جنگ جو پاکستان کے حالات سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے، یا عرب ممالک میں انقلابات کی لہر کی حقیقی وجوہ اور اثرات سے ہمارے میڈیا نے ہمیں براے نام ہی باخبرکیا ہے۔

e پاکستانی میڈیا جیسا کہ پہلےگزر چکا ہے، آسانی سے ملنے والی خبری خوراک پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسیاں جس سٹوری کو چاہیں، اِس میڈیا کی بآسانی زینت بنا سکتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں پاکستانی میڈیا کو عالمی ایجنسیوں نے برطانوی شہزادہ ولیم چارلس کی شادی کی تیار تفصیلات فراہم کیں اور ہمارے مین سٹریم میڈیا نے اِلا ماشاء اللہ پورا دن اور اس کے بعد کے ایام، اخبارات کے پورے کے پورے صفحات اس شادی کی نذر کر دیے۔ لمحے لمحے کی خبراور ہر سین کو بہ تکرار نشر کرنے سے یوں محسوس ہوا کہ پاکستانیوں کے کسی انتہائی محبوب اورمحسن و خیرخواہ شہنشاہِ سلامت کی شادی کے ان بابرکت لمحات میں تمام پاکستانیوں کی پوری توجہ وانہماک ازبس ضروری ہے۔ جبکہ شہزادے کی اس شادی کو یوں دنیا بھر میں پھیلانا برطانوی ثقافتی ایجنڈے کا حصہ تھا، یہی وجہ ہے کہ آسڑیلین ٹی وی، جس نے اس شادی کےساتھ بعض لطیف مزاح بھی نشر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو برطانوی حکومت نے اس کو یہ شادی ریلیز کرنے کا لائسنس کینسل کردیا۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اُسامہ بن لادن کی شہادت کا مسئلہ سامنے آیا تو پاکستانی میڈیا صہیونی میڈیا کا ہم آواز بن گیا۔ کہیں سے یہ خبر سامنے نہ آئی کہ اُسامہ بن لادن تو نائن الیون کے واقعہ کا ایسا ملزم ہے جس پر الزام کی کوئی مستند شہادت موجود نہیں۔اگر نائن الیون پر چند سو امریکی شہری جان سے گزر گئے تو امریکہ نے اس کے بدلے لاکھوں انسان اور بستیوں کی بستیاں ڈیزی کٹر بموں سے تباہ وبرباد کردیں۔ اسامہ بن لادن کی شہادت کے پروپیگنڈے کو میڈیائی ذرائع کے ذریعے اس تکرار سے دہرایا گیا کہ ہرشخص کو اسے تسلیم کرتے ہی بنی۔ کیا یہ امرواقعہ بھی تھا؟ اس پرڈھکی چھپی سرگوشیاں سنائی تو دیں لیکن ہمارے میڈیا کا مین سٹریم موقف مغربی میڈیا سے بھی ایک قدم آگے رہا۔ ہمارا میڈیا جو ہرکس وناکس کو بلاتکان شہید قرار دیتا ہے، اُسامہ بن لادن کے لئے 'شہید' کا لفظ استعمال کرنے سے ڈر گیا۔اربابِِ میڈیا کا قلم اور ان کی زبان ملکی وملّی مقاصد کی محافظ ہے اور اسی ناطے اس کے تقدس کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اگر میڈیا کی زبان وقلم قوم کو منتشر وگمراہ اور موج مستی میں غرق کرنے کا منصب سنبھال لے تو اسےسنگین قومی جرم اور بدترین گناہ سمجھا جانا چاہئے۔

f پاکستانی میڈیا کے بعض اداروں نےابلاغ کی اس حساس ذمہ داری کو جسے کبھی نبوی ذمہ داری اور کبھی قلم کی حرمت کا نام دیا جاتا ہے، مادی مفادات کے لئے استعمال کرنے کا بدترین سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے۔ انسانی جسم کی طرح کسی قوم کے ذہن ونظریہ سے کھیلنا اور اس کو قابل فروخت شے سمجھنا انتہائی قابل نفرت اور مذموم ومکروہ رجحان ہے۔ کبھی ہمارے میڈیا پر پاک بھارت دوستی کے یک طرفہ پروپیگنڈے کو جگہ دی جاتی ہے تو کبھی پاکستان کے ایک قومی ریاست ہونے کے انتہاپسندانہ نظریے کو۔کبھی اسلامی قوانین کے خلاف مجنونانہ مہم جوئی شروع کردی جاتی ہے تو کبھی مجاہدین واسلام پسندوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا۔باخبر لوگ جانتے ہیں اور میڈیا کے ارباب کو بھی یہ مغالطہ لاحق نہیں کہ یہ مہمات نظریات کی بجائے، مادی ترغیبات کی بنا پر عوام کے سامنےپیش کی جاتی ہیں۔بعض ٹی وی چینلز کو دیکھ کریہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ ان کو پیش کرنے والوں کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

اسلامی شعائر کے مذاق کی صورتحال یہاں تک ہے کہ دعا ایسے مقدس دینی تصور اور داڑھی جیسے نبوی شعار کا مسلسل مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں تو امام مسجد کی روایتی وضع قطع والے شخص کو فیشن وفلم انڈسٹری کا بے باک میزبان بنا کر پیش کردیا گیا۔ گویا جس طرح یورپی ممالک میں نبی کریم ﷺ کے خاکے بنائے جاتے ہیں، اس طرح منصب ِنبوت کا پاکستان کے مقبول چینلوں پر سرعام مذاق اُڑایا جاتا ہے۔

g میڈیا بڑی ذمہ دار جگہ پر ہے اور اس کوپیش کرنے والے حضرات ایسے ہونے چاہئیں جن کی رائے قومی رجحانات کی آئینہ دار ہو۔ ایسے افراد جو خود معاشرے میں قبولیت نہ رکھتے ہوں اور اُنہیں قومی رجحانات سے ہم آہنگ نہ سمجھتے ہوئے انتہاپسندقرار دیا جاتا ہو، ان کو بعض پروگراموں کی میزبانی سونپ دینا، دراصل ان کے منفی ذہن کو عوام پر مسلط کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ جب دن بھر کی خبریں کسی انتہاپسند کے تجزیے کی چھلنی سے گزارتے ہوئے عوام کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو گویا اس طرح عوام پاکستان کو ان خبروں کاوہ پہلو دکھایا جاتا ہے جو ایک انتہاپسنداپنے سامنے رکھتا ہے۔ عوامی ذہن سازی کی یہ صہیونی تدبیر ہے۔ ایسے انتہاپسند دن بھر میں گزرنے والے حساس واقعات کی جو تعبیر کرتے ہیں، اسے اہل پاکستان کے ایک انتہائی قلیل اقلیت کا موقف قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر روزمرہ مسائل پر جاری ایسے تبصرہ وجائزہ پروگراموں کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستانی عوام کو بھی ایسے ہی مخصوص زاویۂ نظر کا عادی بنایا جائے۔ اسی طرح اشتہارات کی دوڑ میں کامیابی کےلئے مخالف ممالک کی فلمیں اور ڈرامے بھی نشر کرنا پڑیں تو میڈیا کے جذبہ حب الوطنی یا ملی غیرت پر کوئی ضرب نہیں لگتی۔ پاکستان کی ٹی وی سکرین وہ سب کچھ پیش کررہی ہے جو اسلام کے سراسر خلاف تو ہے ہی، ہماری مشرقی اقدار میں بھی اُنہیں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔اس میڈیا نے اسلام اور اہل اسلام کو معاشرے میں اجنبی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور قوم کو مغرب کی مادر پدر آزاد اورفحش ومادہ پرست تہذیب سے جوڑنے میں پوری صلاحیتیں صرف کر دی ہیں۔ یقین نہ آئے تو چند گھنٹے ٹی وی سکرین کے سامنے گزار لیں، پردۂ سکرین سے محظوظ ہونے والے شخص کے رجحان اور طرزِ فکر پر اس میڈیا کی گہری چھاپ آپ کو ضرور دکھائی دے گی۔

h مقبول عام میڈیا کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عالمی نشریاتی اداروں کا اس کے وقت کو خرید کر اپنے ابلاغی پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر وائس آف امریکہ یا بی بی سی ، ان اقوام کے نشریاتی ادارے ہیں جو پاکستان میں اپنا ایک مخصوص ایجنڈا رکھتی ہیں۔ ان اداروں کی ویب سائٹوں پر نشر ہونےوالی خبروں میں یہ ایجنڈا بآسانی نظر آجاتا ہے۔اوّل تو پاکستانی میڈیا کی حساس خبروں کا سرچشمہ پہلے ہی عالمی مغربی یا صہیونی میڈیا ہے، ا س کے بعد باقی ماندہ خبریں یہ دونوں ادارے ملک کے مقبول ٹی وی چینلز کے مصروف اوقات خرید کر پاکستانی عوام کے ذہن میں اُنڈیلتے رہتے ہیں۔جس طرح ہماری حکومتیں مالی ترغیبات کی بنا پر قومی فیصلے تبدیل کردیتی ہیں، اسی طرح ہمارے ابلاغی ادارے بھی اوقات کی فروخت کےذریعے اپنے حساس منصب کی قیمت وصول کرکے عوام کے معصوم ذہن کو دشمنوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ ارباب میڈیا کو اس پہلو سے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

i پاکستانی میڈیا خبروں کے انتخاب میں بھی بعض مذموم مقاصد کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ خبروں کی منتخب اور من چاہی اخلاقیات، میڈیا کے پیشہ وارانہ فرائض سے انحراف ہے۔ پاکستان میں جب کوئی حادثہ بم دھماکے یا خود کش حملے کی صورت میں ہوتا ہے تو اس کی شدت کو پوری طرح اُجاگرکیا جاتا ہے، اس سے متاثر ہونے والے معصوموں کے الم ناک تاثرات بار بار دکھائے جاتے ہیں، جبکہ پاکستان کے انہی معصوم شہریوں پر اگر ڈرون حملے کے ذریعے ناجائز طورپر بم گرایا جائے تو اس کی ایک سطری خبر ہی کافی سمجھ لی جاتی ہے۔ گویا وہاں مرنے والوں کے بارے میں ازخودیہ طے کرلیا جاتا ہے کہ یا تو وہ مجرم تھے یا ان کا مرجاناکوئی سنگین مسئلہ ہی نہیں ہے۔ حالانکہ کسی پاکستانی کے قانونی حقوق اور انسانی تعلق کے ناطے دونوں نوعیت کے واقعات میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔ آج ہمارا ملک اگر بہت سے لاینحل مسائل کا شکار بنا ہوا ہے تو اس سلسلے میں سے میڈیا کی مادہ پرستانہ پالیسی اور خبری انتخاب کو بری الذمہ قرا رنہیں دیا جاسکتا۔

ممکن ہے کہ مذکورہ بالا اعتراضات کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ مسائل میڈیا کو ایک خاص طرزِ فکر کا پرچارک بنانے کے لئے تجویز کئے گئے ہیں، حالانکہ میڈیا تو کسی کا نمائندہ نہیں بلکہ نیوٹرل ہوتا ہے۔ لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ میڈیا کے نیوٹرل ہونے کا دعویٰ صرف لفظی بازی گری ہے۔دنیا میں کوئی میڈیا مخصوص نظریات سے خالی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ نظریات کی ترویج سے خالی ہونے کی کوشش بھی بذاتِ خود ایک نظریہ ہے۔ جب کوئی میڈیا یہ سوچ لے کہ وہ اپنے پیغام میں مذہب کو داخل نہیں کرے گا، تو پھر وہ لازما ًلامذہبیت کا پرچار کرے گا جس سے مذہب کے بارے نفرت پیداہوگی۔ حالانکہ مذہب کا انکار یا عدم وجود ، اِلحاد ودہریت ہے جو اسلام کی رو سے ناقابل قبول ہے۔

ہر قوم اپنے میڈیا کو ، ان مقاصد کے پیش نظر مرتب ومنظم کرتی ہے جو اس کے مرکزی قومی رجحانات سے ہم آہنگ ہو۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے قومی مقاصد یا مغربی اہداف مثلاً انسانی حقوق کے تحفظ کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن اسلامی یا ملّی اہداف کو کسی قطار شمار میں نہیں لاتے کیونکہ یہ ان کی نظر میں سیکولرزم کے خلاف ہے۔ جبکہ اسلام نے میڈیا کو اللہ کی طرف بلانے ،خیر کو رواج دینے اور فحاشی و جھوٹ کے خاتمے کے لئے استعمال کرنے کی تلقین کی ہے۔ ہمارا موجودہ میڈیا بھی خالی الذہن یا نیوٹرل سطح پر نہیں، بلکہ جہاں پر اسلامی اہداف پیش نظر نہ ہوں تو اس کے ماسوا اہداف غیر اسلامی ہی ہوں گے۔ اربابِ میڈیا کو اس سمت بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا حسن ظن ہے کہ پاکستان کے اکثر میڈیا مالکان ملحد یا دہریے اور مذہب دشمن نہیں بلکہ ان کے بزنس منیجروں نے ان کو ابلاغی گناہوں کی دلدل میں دھنسا رکھا ہے اور اگر وہ معمولی توجہ کریں تو متوازن اور ذمہ دار ابلاغی کردار انجام دے سکتے ہیں ۔

تین درجن سے زائدٹی وی چینلوں کے اس دور میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت کسی طرح کم نہیں ہوئی، اور ٹی وی چینلوں کی وجہ سے مطالعہ کی صلاحیت یا رغبت نہ رکھنے والا طبقہ بھی میڈیا کا مخاطب بن گیا ہے۔ ٹی وی کی خبر ذہن سے محو ہو جاتی ہے جبکہ کاغذ پر ثبت تحریر اپنا گہرا نقش چھوڑتی ہے۔ آج بھی ٹی وی میڈیا کے ذریعے زیادہ ترتفریحی اور فوری مقاصد اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے تحقیقی اورسنجیدہ اہداف پورے کئے جاتے ہیں۔ میڈیا کو جو قوت اس دور میں حاصل ہے، اسی کے ناطے اس کی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ عشرے میں جو تباہی اور بربادی ہرمیدان میں دیکھنے میں آئی ہے، اس کے مداوے اور خاتمے کے لئے میڈیا نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ قوم کو لہو ولعب کا شکار کرنے میں اپنا حصہ ڈال کر ملی تخریب میں حصہ لیا ہے۔ آج اس مادرپدرآزاد میڈیا کی بدولت غلبہ اسلام کی منزل مزید دور دکھائی دیتی ہے۔ اربابِِ میڈیا کا بھی ملتِ اسلامیہ کے باشعور اور ذمہ دارعنصر ہونے کے ناطے یہ فرض بنتا ہے کہ اپنی قوم کی صحیح سمت میں تیاری اور درست تربیت کریں کیونکہ اُنہیں بھی روزِ محشر اپنے ربّ ذوالجلال کے سامنے اس کا جواب دہ ہونا ہے! (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)

یہ عبارت رہنے دیں....

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کی یہ تنبیہ ہر مسلمان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہے:

﴿وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْن وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴾ (التوبہ: 105)
 
''اے نبی آپ فرما دیجئے! آخرت کیلئے عمل کرلو۔عنقریب اللہ ، اس کے رسول اور مؤمن تمہارے اعمال نامے کو دیکھیں گے۔جلد ہی تمہیں غیب اور حاضر کو جاننے والے ربّ کے سامنے لوٹنا ہوگا جو دنیا میں تمہارے پل پل کی تمہیں خبر دے گا۔''

1. دین اسلام کی من مانی تعبیرات کا فروغ میڈیا کے ذریعے

2. کسی خبر کو بے جا نمایاں کرنا اور فلیش کرنا جھگڑے کو پھیللانے کے لئے ہوتا ہے