میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دینی مدارس میں فوجی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے

پوری دنیا میں خصوصا افغانستان، فلسطین، ہندوستان اور فلپائن وغیرہ میں مسلمانوں کی بےکسی اور بے بسی، پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا تشدد پسندانہ رویہ، 23 مارچ کو جمیعۃ اہل حدیث کا عظیم سانحہ، سالِ رواں میں حج کے موقعہ پر بعض لوگوں کا اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے حرمتِ حرم کو پامال کرنا اور کثیر تعداد میں مسلمانوں کا اسلام سے بیزار ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ اہل حق بھی اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ و جاوید رکھنے کے لیے باطل طاقتوں اور قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے میدان میں اتریں۔ اور یہ صرف وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے جس کی ادائیگی کے لیے ہر مسلمان کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے اور جس کے لیے اس کا جدید قسم کے آلاتِ حرب اور جنگی سازوسامان سے واقفیت حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس فریضہ کو سرانجام دینے کے پہلے ذمہ دار موحدین اور حاملین توحید و سنت ہیں۔ کیونکہ عقیدہ توحید انسان کو عزتِ نفس عطا کرتا ہے اور اس کے دل سے دوسروں کا خوف نکال دیتا ہے۔۔۔اسے استقامت عطا کرتا اور بہادری کی تصویر بنا دیتا ہے۔ اسی عقیدے کی بناء پر وہ اپنے مال و متاع، اپنے نفس اور اپنی اولاد کو ہر وقت اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں اہل حدیث سے بڑھ کر کسی کا عقیدہ صحیح نہیں ہو سکتا، لہذا اس معاملہ میں اہل حدیث کا صفِ اول میں ہونا ضروری ہے۔ بالخصوص دینی مدارس کے وہ لوگ کہ جن کا کام لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے روشناس کرانا اور لوگوں کو عقائدِ درست سے آشنا کرنا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ عام لوگوں کی نسبت دینی مدارس میں یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت جمع رہتی ہے اور جن کے شب و روز ایک ساتھ گزرتے ہیں۔

اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عصر کے بعد جو وقت کھیلوں پر صرف کیا جاتا ہے، وہ کھیلوں کی بجائے فوجی ٹریننگ میں صرف کیا جائے۔ یوں اس کا اثر تعلیم پر بھی نہ پڑے گا۔ کیونکہ ہر ادارے میں سیروتفریح کا کچھ نہ کچھ وقت ضرور مقرر ہوتا ہے۔ اگر اس وقت میں ادھر ادھر پھرنے یا بیکار کھیلنے کی بجائے جوڈو کراٹے، باکسنگ اور پریڈ وغیرہ کے علاوہ جانباز ورس یا دیگر ذرائع سے فوجی ٹریننگ بھی حاصل کی جائے تو اس سے جہاد کی تیار کے ساتھ ساتھ تفریح کے مقاصد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ تعلیم بھی ایک جہاد ہے اور اس کو پوری یکسوئی سے حاصل کرنا از بس ضروری، لیکن فارغ اوقات میں کھیلوں سے یا چلنے پھرنے سے اگر تعلیم متاثر نہیں ہوتی تو یقینا فوجی ٹریننگ سے بھی تعلیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ اس سے ذہنی تازگی، اخلاقی جراءت اور خود اعتمادی پیدا ہو گی، جو علماء کرام کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ و نصیحت اور درس و تدریس کے ساتھ ساتھ کفار کے مقابلہ میں جہاد بھی کیا ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، جہاں دعوت و ارشاد کا کام کرتے تھے، وہاں بدر و حنین میں کفار کے مقابلے میں اپنے ایمان کا اظہار تلواروں کی جھنکار میں بھی کرتے تھے۔ ان میں بڑے بڑے محدث اور مفسر بھی تھے، فقیہ اور مجتہد بھی تھے، مبلغ اور مدرس بھی تھے، راعی اور رعایا بھی تھے۔ لیکن اتنی بڑی سعادت سے ہمکنار ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی دشمن کے مقابلے میں آنے سے گریز نہیں کیا۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور سویٹزرلینڈ کی منجمد فضاؤں کو حق کا علم لہرانے کے لیے اپنے خونِ جگر سے رنگین کیا تھا۔ اس مقدس گروہ کا ہر ہر فرد جہاں ایک مبلغ یا مدرس، مفسر یا محدث، فقیہ یا مجتہد ہوتا وہاں وہ مجاہد بھی ہوتا تھا۔ امن کی حالت میں یہ لوگ اگرچہ درس و تدریس میں مشغول رہتے لیکن ہنگامی حالات میں ان میں سے کبھی اور کسی نے جہاد سے روگردانی اختیار نہ کی۔ چنانچہ آج بھی ملتِ اسلامیہ کا ہر ہر فرد اس بات کا پابند ہے کہ وہ جنگی آلات سے حسبِ استطاعت آگاہ ہو اور سلسلہ جہاد میں اپنا کردار ادا کرے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ... ﴿٦٠﴾... سورةالانفال

کہ "جتنی قوت تم دشمن کے مقابلہ میں جمع کر سکتے ہو، تیار رکھو۔"

اس آیتِ کریمہ میں قوت کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد "رمی" تیر اندازی ہے۔ اس وقت چونکہ تیروں وغیرہ کے ساتھ جنگ لڑی جاتی تھی، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تذکرہ فرمایا۔ آج چونکہ جنگ میں جدید قسم کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں، لہذا اب قوۃ سے مراد جدید آلاتِ حرب سے واقفیت ہے۔

اسلام میں اگرچہ کامیابی اور کامرانی کا انحصار تعداد پر نہیں، تاہم اسلام ہی نے دشمن کے مقابلہ میں مسلمان کو ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ اسی حکمِ خداوندی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے تحریکِ مجاہدین اسلام نے لاہور میں اس پروگرام کا آغاز کر رکھا ہے۔ جس میں اولا سلف کے عقائد کی پختگی اور ایمان کی درستگی پر زور دیا جاتا ہے۔ تاکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر عملی زندگی کی ابتداء کی جا سکے۔ اس سلسلہ میں تحریک نے تمام متروکہ سنتوں پر عمل شروع کر دیا ہے، خواہ وہ نماز کے بارے میں ہوں یا کھانے کے آداب کے بارے میں، رات کو سونے کے سلسلہ میں ہو یا بیداری کے بارے میں۔۔۔اور اسی طرح دیگر تمام امور کے سلسلہ میں بھی۔۔۔نمازِ فجر سے ایک گھنٹہ قبل تمام طلباء بیدار ہو کر تلاوتِ کلامِ پاک اور نفل نوافل پڑھتے ہیں، جبکہ نمازِ فجر کے بعد ایک گھنٹہ مسلسل جوڈو کراٹے کی گیم تی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سھ نشانہ بازیکے یے گنز (Guns) کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ نمازِ عصر کے بعد انگلش، ریاضی، اکنامکس اور صرف و نحو کے اجراء کی باقاعدہ کلاسیں لگتی ہین تاکہ علمی طور پر بھی طلباء مضبوط ہو سکیں۔ علاوہ ازین طلباء کی ذہنی صلاحیتوں اور علمی قابلیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تبلیغی جلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کے اخراجات طلباء خود برداشت کرتے ہیں۔ تھوڑی ہی مدت میں ہم نے دیکھا ہے کہ ان پروگراموں سے طلباء میں خوداری اور خود اعتمادی کے احساسات نے جنم لیا ہے۔

چنانچہ تحریک ان شاءاللہ عنقریب اس سلسلہ میں دینی مدارس کے منتظمین اور طلباء کا ایک نمائندہ اجتماع بلانے والی ہے جس میں یہ تفصیلی پروگرام عملی طور پر پیش کیا جائے گا۔ جو حضرات اس سلسلہ میں تحریک کے ہم خیال ہوں اور اس سلسلہ کا کوئی پروگرام شروع کرنا چاہتے ہوں، وہ درج ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں۔ تحریک بحمداللہ ان سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ والسلام