میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مشترکہ نکتہ 10: مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ طیبہ ہے

اثری صاحب کے وہ نکات جو پرویز صاحب نے "مسجدِ اقصیٰ" کے مضمون میں اکٹھے کئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ:

1۔ مدینہ کا ایک نام مسجدِ اقصیٰ بھی ہے۔

2۔ جس جگہ مسجدِ نبوی تعمیر ہوئی، اس جگہ پر پہلے ہی نماز پڑھی جاتی تھی۔

3۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں مسجد تعمیر فرمائی۔ تو یہ مسجدِ نبوی کے نام سے مشہور ہوئی۔

ان تینوں نکات کو جمع کرنے سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

1۔ مسجدِ نبوی، مسجدِ اقصیٰ (یا مدینہ) کے اندر واقع ہے۔

2۔ یا یہ کہ مسجدِ نبوی کے اردگرد جو آبادی پھیلی ہوئی ہے، اس آبادی کا نام مسجدِ اقصیٰ ہے۔

3۔ یا یہ کہ سہل اور سہیل کے جس مژبد (خالی میدان) میں اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھایا کرتے تھے، جب تک اس پر مسجدِ نبوی تعمیر نہ ہوئی تھی تو یہ خالی میدان مسجدِ اقصیٰ تھا۔ پھر جب اس پر مسجدِ نبوی تعمیر ہو گئی۔ تو یہی مسجدِ اقصیٰ مسجد نبوی میں تبدیل ہو گئی۔

یہ تو اثری نکات کے نتائج تھے۔ اب ہم پرویز صاحب کی ان دو وجوہ یا دلائل کا جائزہ لیں گے، جن کی بناء پر وہ مدینہ طیبہ کو مسجدِ اقصیٰ قرار دیتے ہیں۔

پرویز صاحب کی پہلی دلیل

مسجد اقصیٰ کا معنی ہ ے "دور کی مسجد" اور چونکہ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی مکہ سے بہت دور ہے۔ لہذا یہی مسجد، مسجدِ اقصیٰ ہے۔ اس دلیل کا جواب پہلے تفصیل سے دیا جا چکا ہے۔ مختصرا اس کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ آیہ اسراء کے نزول کے وقت ابھی مسجد نبوی تعمیر ہی نہ ہوئی تھی۔ تو آیت میں مذکور مسجدِ اقصیٰ سے مسجد نبوی کیسے مراد لی جا سکتی ہے؟

2۔ لغوی معنی کا لحاظ رکھا جائے تو مکہ سے بیت المقدس، مدینہ کی نسبت بہت زیادہ دور ہے۔ لہذا اس لحاظ سے بھی یہ توجیہ غلط ہے۔

دوسری دلیل: پرویز صاحب تاریخی لحاظ سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دورِ نبوی میں ہیکل سلیمانی (مسجدِ اقصیٰ) موجود ہی نہ تھی، تو جو چیز سرے سے موجود ہی نہ ہو، آیہ اسراء میں اس سے مسجدِ اقصیٰ مراد کیسے لی جا سکتی ہے؟ اس سلسلہ میں پرویز صاحب کی تاریخی تحقیقات درج ذیل ہیں:

(ا)"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہیکل سلیمانی (مسجدِ اقصیٰ) موجود ہی نہ تھی۔ وہ سئہ 70ء میں جلا دی گئی اور بعد میں منہدم کر دی گئی۔ لہذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"(سلیم کے نام خطوط ج2 بحوالہ تحریر مستفسر نذیر احمد صاحب)

(ب) "دورِ نبوی میں ہیکل سلیمانی منہدم تھا، مگر اس کی جگہ موجود تھی۔ قیصر جسٹنین نے وہاں ایک گرجا بنا رکھا تھا۔" (طلوعِ اسلام جون سئہ 83ء ص46)

(ج) "سوال یہ ہے کہ جب واقعہ معراج کے وقت (سئہ 12 یا سئہ13 نبوی میں) بیت المقدس میں یہودیوں کی کوئی عبادت گاہ موجود ہی نہیں تھی تو وہ مسجدِ اقصیٰ کہاں تھی، جس کی طرف حضور رُخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور معراج کے ضمن میں جس کا ذکر کیا جاتا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ بیت المقدس میں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے سئہ 72ھ میں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جسے مسجدِ اقصیٰ کہتے ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل میں جس مسجدِ اقصیٰ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے، جس کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تھی۔" (ایضا ص 47)

(د) "عہدِ نبوی میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ کی مسجد لی جاتی تھی۔" (ایضا ص 55)

اثری اور پرویزی ذہنی انتشار

اب دیکھئے اثری صاحب ہوں یا پرویز صاحب، دونوں کس قدر ذہنی انتشار میں مبتلا اور متضاد باتیں کرتے ہیں۔ کبھی تو مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ منورہ لیتے ہین اور کبھی اس سے مسجد نبوی مراد لیتے ہیں۔ انہیں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جب واقعہ اسراء کا مفہوم بیان کرتے ہیں تو مسجدِ اقصیٰ سے مدینہ مراد لیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوتا، کیونکہ اس وقت مسجدِ نبوی تعمیر ہی نہ ہوئی تھی۔ پھر جب یہ خیال فرماتے ہیں کہ شہر کا نام مسجد نہیں ہوتا تو پھر مدینہ کی مسجد، مسجد، نبوی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

اب اگر پرویز صاحب کے تاریخ سے متعلقہ اقتباسات کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ:

٭ ہیکل سلیمانی (یا مسجدِ اقصیٰ) سئہ 70ء میں جلایا گیا پھر منہدم کیا گیا۔

٭ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس جگہ ایک گرجا تھا جسے قیصر جسٹنین نے بنوایا تھا۔

٭ ہیکل سلیمانی کی جگہ پر عبدالمالک بن مروان نے سئہ 72ھ میں ایک مسجد تعمیر کرائی جس کا نام مسجدِ اقصیٰ رکھا گیا۔

ا۔ قرآن سے دلائل

1: تحویلِ قبلہ:

ظاہر ہے کہ مسلمان کعبہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے کسی اور قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ رُخ مدینہ کی طرف نہیں تھا۔ جس سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں۔

(i)مدینہ کو مسجدِ اقصیٰ قرار دیتا قطعا غلط ہے۔ کیونکہ یہ قبلہ اول نہیں تھا۔ اور نہ ہی بعد میں کبھی قبلہ مقرر ہوا۔

(ii) اسی طرح مسجدِ نبوی کو مسجدِ اقصیٰ قرار دینا بھی باطل ہے۔ یہ مسجد بھی قبلہ اول نہ تھی اور نہ ہی کسی دور میں قبلہ مقرر ہوئی۔

(iii) لہذا یہ قبلہ لازما بیت المقدس میں ہی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر جسٹنین کے تعمیر شدہ گرجا کو قبلہ قرار نہیں دے سکتے تھے۔

ان تصریحات سے ازخود یہ چابت ہو جاتا ہے کہ یہ قبلہ مسجدِ اقصیٰ ہی تھا، جو بیت المقدس میں ہے اور دورِ نبوی میں یہ مسجدِ اقصیٰ موجود تھی۔

2۔ آیہ اسراء: آیہ اسراء میں مسجدِ اقصیٰ کا صراحت سے ذکر بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سے مراد مسجدِ نبوی نہیں ہو سکتی جو ہجرت کے بعد تعمیر ہوئی اور مسجدِ اقصیٰ سے مدینہ اس لیے مراد نہیں لیا جا سکتا کہ اس دور کے تمام لٹریچر میں "مدینہ کا نام مسجدِ اقصیٰ" کا سراغ تک نہیں ملتا۔ یہ محض دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف کی ذہنی اختراع ہے جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔

(ب) حدیث سے ثبوت

3۔ اب ہم بخاری اور مسلم دونوں میں مذکور (متفق علیہ) ایک صحیح اور مرفوع حدیث درج کرتے ہیں۔ جس سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ الگ ہے اور مسجدِ نبوی الگ۔ ارشاد نبوی ہے:

«وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا»

"تین مساجد کے علاوہ زیارت کے لیے اور کہیں نہ جاؤ۔ مسجد الحرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد"

اس حدیث سے تین باتوں کا پتہ چلتا ہے:

1۔ مسجد نبوی اور مسجدِ اقصیٰ الگ الگ مساجد ہیں۔

2۔ دور نبوی کے مدنی دور میں یہ تینوں مساجد موجود تھیں۔ یعنی ہیکلِ سلیمانی کی جگہ گرجا نہ تھا۔ بلکہ یہ معبد ہی تھا، جسے ہیکل بھی کہہ لیتے تھے اور مسلمان مسجدِ اقصیٰ کہتے تھے۔

3۔ مسجدِ اقصیٰ مدینہ کا کوئی نام نہیں۔ بلکہ یہ مدینہ کے علاوہ کوئی مسجد ہے (جو بیت المقدس میں ہے)

(ج) تاریخ سے ثبوت

4۔ بیت المقدس دورِ فاروقی میں سئہ 16ھ (637ء) میں مسلمانوں نے فتح کیا، تو وہاں کے عیسائیوں نے معاہدہ صلح کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہاں آنے کی درخواست کی۔ آپ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو فرمایا:

"خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لیے یہی بس ہے۔ غرض اس حال سے بیت المقدس میں داخل ہوئے کہ سب سے پہلے مسجد میں گئے۔ محراب داؤد کے پاس پہنچ کر سجدہ داؤد کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا۔ پھر عیسائیوں کے گرجا میں آئے اور اِدھر اُدھر پھرتے رہے۔" (الفاروق، شبلی نعمانی ص 43 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اُردو بازار، لاہور)

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

1۔ سئہ 16ھ میں وہاں مسجد موجود تھی۔ جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہلے داخل ہوئے۔ یہی مسجد، مسجدِ اقصیٰ تھی۔

2۔ پرویز صاحب کا یہ کہنا کہ قیصر جسٹنین نے ہیکلِ سلیمانی کی خالی پڑی جگہ پر گرجا تعمیر کیا تھا، غلط ہے۔ یہ گرجا مسجد سے علیحدہ جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا، جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بعد میں داخل ہوئے تھے۔

اس کے بعد شبلی نعمانی لکھتے ہیں:

"(بیت المقدس میں قیام کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ) ایک دن مسجدِ اقصیٰ میں گئے اور کعب بن احبار کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ نماز کہاں پڑھی جائے؟ مسجدِ اقصیٰ میں ایک پتھر ہے جو انبیائے سابقین کی یادگار ہے، اس کو صخرہ کہتے ہیں، اور یہودی اس کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں، جس طرح مسلمان حجرِ اسود کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب قبلہ کی نسبت پوچھا تو کعب نے کہا کہ "صخرہ کی طرف۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ" تم میں اب تک یہودیت کا اثر باقی ہے اور اسی کا اثر تھا کہ تم نے صخرہ کے پاس آکر جوتی اتار دی۔" (ایضا ص 144)

کیا اب بھی اس بات کے غلط ہونے میں کچھ شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس دور میں وہاں مسجدِ اقصیٰ موجود ہی نہ تھی۔ اور بقول پرویز صاحب، ہیکلِ سلیمانی کی جگہ قیصر جسٹنین نے گرجا تعمیر کر دیا تھا؟ کیا ایسی گفتگو کسی گرجا کے متعلق اس میں کھڑے ہو کر کی جا سکتی ہے؟

اب دیکھئے کہ آیہ اسراء میں مسجدِ اقصیٰ کا ذکر آیا اور صحیحین کی ایک متفق علیہ حدیث نے یہ وضاحت کر دی کہ یہ مسجد وہ ہے جو بیت المقدس میں ہے۔ اس سے مراد نہ مسجدِ نبوی ہے نہ مدینہ طیبہ، تو ایک مسلمان کے لیے یہ تعین بہت کچھ ہے۔ کیونکہ تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے بھی صحیحین کا درجہ عام تاریخی کتابوں سے ہزار درجہ زیادہ بلند ہے۔ علاوہ ازیں شبلی نعمانی کی راہم کردہ تاریخی روایات بھی اسی بات کی تصدیق کریں، پھر اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ پرویز صاحب کی تاریخی معلومات ایسے حقائق کے مقابلہ کی تاب نہیں لا سکتیں۔ بلکہ انہی مذکورہ معیاروں سے ہی تو ہم یہ تحقیق کرتے ہیں کہ کونسا تاریخی واقعہ درست ہے اور کون سا غلط؟ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سئہ 70ھ میں رومی بادشاہ ٹیٹس (Titus) نے ہیکل سلیمانی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور اسی بات کو پرویز صاحب نے بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کر ڈالا کہ اس کے بعد یہ معبد سئہ 72ھ تک دوبارہ تعمیر نہ ہو سکا۔ یہ بات تاریخی لحاظ سے بھی غلط ہے۔ دورِ نبوی تک بہرحال مسجدِ اقصیٰ تعمیر بھی ہو چکی تھی اور آباد بھی تھی، عبدالملک بن مروان نے اپنے دورِ حکومت میں جو کام کیا وہ صرف یہ تھا کہ اس نے قبۃ الصخرہ کی تعمیر مکمل کی، مسجدِ اقصیٰ کی تعمیر کی تکمیل اور تزئین کی۔ پھر اس کے جانشین نے اس کی خدمت کے لیے بہت سے خدام مقرر کئے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تمام والیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ دیانت و امانت کا حلف نامہ قبۃ الصخرہ کے پاس اُٹھایا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ہم ان اعتراضات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، جو پرویز صاحب نے اپنے مضمون معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اٹھائے ہیں۔ اور خالص انہی کی طرف سے ہیں۔ ان کا یہ مضمون طلوعِ اسلام کے 12 صفحات میں پھیلا ہوا ہے۔

پرویز صاحب کے معراج نبوی پر اعتراضات کا جائزہ

پہلا اعتراض۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں علم و ایمان بھرنا:

واقعہ معراج کی ابتداء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شقِ صدر پر اعتراض کرتے ہوئے پرویز صاحب فرماتے ہیں:

"سینے کو چاک کر کے اسے پانی سے دھونے پھر اس میں علم و ایقان کے بھر دینے کا شعور ذہن میں لائیے اور ساتھ ہی یہ سوچئے کہ زمانہ نبوت کے بارہ تیرہ برس تک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ علم اور ایمان و یقین کے جوہروں سے (معاذاللہ) خالی رہا۔ اور اس کے بعد اسے ان جوہروں سے بھرا گیا۔" (ایضا ص46)

اس کا جواب صرف یہ ہے کہ محض خالی چیز کو ہی نہیں بھرا جاتا۔ بلکہ اگر کوئی چیز پہلے سے 10/9 حصہ بھری ہوئی ہو تو اسے بھی بھرا جاتا ہے۔ یہی صورتِ حال یہاں بھی ہے۔ اس کی مثال قرآنِ مجید سے سنیے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جہنم سے کہیں گے:

﴿يَومَ نَقولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امتَلَأتِ وَتَقولُ هَل مِن مَزيدٍ ﴿٣٠﴾... سورة ق

"جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ "کیا تو بھر گئی؟" تو وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟"

گویا اگر کسی چیز کے بھرنے میں تھوڑی سی بھی کسر باقی رہ گئی ہو۔ تو بھی بھرنے کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پہلے وہ چیز بالکل خالی تھی۔ جس کے ذریعے کسی کو "معاذاللہ" یا ایسا ہی کوئی جملہ کہنے کی ضرورت پیش آئے۔

دوسرا اور تیسرا اعتراض۔ آسمانوں کے دروازے، سابقہ انبیاء علیہم السلام سے ملاقات:

"آسمانوں کے دروازوں کا بند ہونا اور حضرت جبریل علیہ السلام کے کہنے پر ان کا کھلنا اور ان میں انبیاء سابقہ سے ملاقات کرنا، جنہوں نے ابھی ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں (بیت المقدس) میں نماز ادا کی تھی، یہ سب امور غور طلب ہیں۔"

آسمان کے متعلق موجودہ نظریہ یہ ہے کہ یہ کوئی ٹھوس چیز نہیں۔ اور جو نیلا آسمان ہمیں نظر آتا ہے، یہ ہماری حدِ نگاہ ہے اور فضا کا رنگ چونکہ نیلا ہے لہذا ہمیں یہ نیلا نظر آتا ہے۔ پرویز صاحب نے معارف القرآن ج3 ص 534 پر اسی نظریہ کی تائید کی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ نظریہ سائنسی نظریہ تو شاید کہلا سکتا ہے، قرآنی نظریہ ہرگز نہیں۔ قرآن آسمانوں کی تعداد بتلاتا ہے کہ وہ سات ہیں۔ پھر یہ محض حدِ نگاہ نہیں بلکہ ٹھوس اجسام ہیں جن میں دروازے بھی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايـٰتِنا وَاستَكبَر‌وا عَنها لا تُفَتَّحُ لَهُم أَبو‌ٰبُ السَّماءِ وَلا يَدخُلونَ الجَنَّةَ حَتّىٰ يَلِجَ الجَمَلُ فى سَمِّ الخِياطِ...﴿٤٠﴾... سورةالاعراف

"جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی، ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ نکل جائے۔"

اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں: (1) آسمان ایک ٹھوس چیز ہے (2) اس میں دروازے بھی ہوتے ہیں۔۔۔ (3) یہ دروازے بند بھی ہوتے ہیں اور کھلتے بھی ہیں (4) جنت میں داخلہ کے لیے آسمان کے دروازوں کا کھلنا ضروری ہے۔

ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ پرویز صاحب اسی ایک معنیٰ "حدِ نگاہ" پر اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ "سماء" کے اور بھی بہت سے معنی بتلاتے ہیں۔ مثلا:

سماء کا معنیٰ نمبر 2: "سماوی کرے۔ اجرامِ فلکی یا سماوی۔ یعنی سورج چاند وغیرہ۔ یہ کرے پہلے سات سمجھے جاتے تھے۔ آج کل نو ہیں۔" (معارف القرآن 3ص 534، نیز مضمون ہذا معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص55، طلوعِ اسلام جون 1983ء)

معنی نمبر 3: آسمان (م2: 179) معنیٰ نمبر 4: بلندی (نظامِ ربوبیت ص11)

معنیٰ نمبر 5: کائنات کی بلندیاں (نظام ص 4،12،13، 48)

معنیٰ نمبر 6: خدا کا کائناتی قانونی (نظام ص 86)

معنیٰ نمبر 7: عمرانی زندگی (ص118) معنیٰ نمبر 8: آفاقی دنیا (ص249)

معنیٰ نمبر 9: خارجی کائنات (ص 281) معنیٰ نمبر 10: کائناتی نظام (ص 285)

معنیٰ نمبر11: نظامِ ربوبیت (ص 287)

اب دیکھئے پرویز صاحب نے "سماء" اور "سموت" کے 11 مختلف اور متضاد معنیٰ بتلا دئیے۔ جن میں 9 معنیٰ قرآن کے بتلائے ہوئے تصورِ سماوات کے خلاف ہیں۔ اور یہی تضادات پرویزی مفاہیم و معانی کے باطل ہونے کا ثبوت ہیں۔ مثلا پرویز صاحب درج ذیل آیت کا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں:

﴿يُدَبِّرُ‌ الأَمرَ‌ مِنَ السَّماءِ إِلَى الأَر‌ضِ...﴿٥﴾... سورةالسجدة

1۔ وہ ہر امر کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے۔

2۔ وہ ہر امر کی تدبیر حدِ نگاہ سے کرتا ہے۔

3۔ وہ ہر امر کی تدبیر سماوی کرے سے کرتا ہے۔

4۔ وہ ہر امر کی تدبیر عمرانی زندگی سے کرتا ہے۔

5۔ وہ ہر امر کی تدبیر آفاقی نظام سے کرتا ہے۔

6۔ وہ ہر امر کی تدبیر نظامِ ربوبیت سے کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

یعنی اگر آپ کسی بھی لفظ کے پرویزی معانی فٹ کرتے جائیں گے تو بےہودہ سے بےہودہ تر مفاہیم پیدا ہوتے جائیں گے۔

پرویز صاحب کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ جن انبیاء علیہم السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس میں نماز ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے دوران وہ انبیاء علیہم السلام آپ سے پہلے کس طرح مختلف آسمانوں پر پہنچ گئے تھے؟

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ سب پیغمبر فوت ہو چکے تھے۔ ان کے مادی اجسام تو ان کی قبروں میں ہیں۔ ان کی یہ نقل مکانی مادی جسموں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے روحانی یا برزخی اجسام کے ساتھ ہوئی تھی۔ اور جب ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر مرنے والے کی روح، خواہ وہ نیک ہو یا بد، مرنے کے بعد اپنے روحانی جسم کے ساتھ آسمانوں کی طرف صعود کرتی، پھر منکر نکیر کے سوال جواب کے وقت قبر میں واپس آ کر مادی جسم میں داخل ہوتی ہے۔۔۔اور سوال جواب کے بعد پھر باذن اللہ اپنے اصل مستقر علیین یا سجیین میں چلی جاتی ہے تو آخر انبیاء علیہم السلام کی اس نقل مکانی پر حیرت کیوں ہو؟

یہ اعتراض اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ انسان کو روح کے متعلق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ وہ تو یہ بات بھی نہیں سمجھ سکتا کہ جب خواب میں دو آدمی آپس میں ملتے ہیں۔۔یہ دونوں خواہ بقیدِ حیات ہوں خواہ ان میں ایک زندہ اور دوسرا مر چکا ہو۔۔ان کے مادی اجسام تو کہیں دُور، بستر پر یا قبر میں، پڑے ہوتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ دونوں ملنے والے ایک جسم رکھتے ہیں۔ جس کی شکل و صورت وہی ہوتی ہے جو بستر میں یا قبر میں پڑے ہوئے مادی جسم کی ہوتی ہے۔ اسی جسم کی مشابہت کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ کیسے ہو جاتا ہے؟ پھر جب انسان اپنے اوپر وارد شدہ حالات کا عقلی تجزیہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تو پھر فوت شدہ انبیاء علیہم السلام اس نکل مکانی پر اسے تعجب اور اعتراض کیوں ہے؟ (جاری ہے)
حوالہ و حواشی

1. تضاد ملاحظہ فرمائیے۔ اگر وہاں گرجا بن گیا تھا تو اس کی جگہ کیسے موجودہ رہ گئی تھی؟

2. جب اس مسجد کا نام مسجدِ اقصیٰ رکھا گیا تو اس کے بعد شاید عبدالملک بن مروان نے مدینہ کے ناموں میں سے مسجدِ اقصیٰ کا نام حذف کر دیا ہو گا۔ عبدالملک کو اتنا بھی خیال نہ آیا کہ جب مدینہ کا نام مسجدِ اقصیٰ بھی ہے تو میں اس مسجد کا نام کچھ اور رکھ دوں۔

3. ایسے الفاظ کی فہرست، جن کے معانی پرویز صاحب بہت زیادہ بتلاتے ہیں، ہم نے "آئینہ پرویزیت" کے باب "پرویزی لٹریچر" کی خصوصیات" میں دے دی ہے۔

4. مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے میری تصنیف "روح، عذابِ قبر سماعِ موتیٰ"