ماضی قریب میں ہم نے "محدث" کے اگست اور ستمبر و اکتوبر 86ء کے شماروں میں، عربی دانی کی خوش فہمی میں مبتلا، اہلِ طلوع اسلام کو اس وقت جھنجھوڑا تھا، جب انہوں نے نادانی سے حرفِ جر دہرائے بغیر ضمیر مجرور پر اسمِ ظاہر کے عطف کو ممنوع سمجھ لیا تھا۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس کے بعد اپنی غلط روی پر آگاہ ہو کر شرمندہ ہوتے، یا اگر حق بجانب تھے تو محدث کے اٹھائے ہوئے درجن بھر اعتراضات میں سے کسی ایک ہی کا جواب دیتے، اصل مبحث سے ہٹ کر اور بالا ہی بالا اپنی خوشی کا یوں اظہار کرنے لگے کہ:

"طلوعِ اسلام کی اس گرفت نے اہل حدیث علماء کا سکون تباہ کر دیا ہے۔ اگر وہ اپنی غلطی مان لیں تو انہیں طلوعِ اسلام کی علمی برتری تسلیم کرنی پڑتی ہے"

سبحان اللہ۔۔۔لیکن اس "علمی برتری" کے ساتھ ہی ساتھ جب اپنی علمی کم مائیگی کے خیال نے انہیں بھی ستایا، کیونکہ محدث کے مذکورہ شماروں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ لازمی امر تھا، تو اس کے فورا بعد خود ہی اپنی مسکینی اور عجز کا اظہار بھی کر دیا۔۔اور لکھا کہ:

"۔۔کیونکہ ایک طرف اہل حدیث فرقے کے ہزاروں علماء تھے اور دوسری طرف اکیلا طلوعِ اسلام" (طلوعِ اسلام جنوری 87ء)

دراصل شخصی تعصب اور جمود سے آزاد ہو کر جب کبھی ان لوگوں کو علمی ذوق نصیب ہو گا تو یہ حقیقت تسلیم کرنے پر اپنے تئیں مجبور پائیں گے کہ عربی زبان میں کسی پر گرفت جبھی ممکن ہے، جب اس کی گرامر سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔۔یہاں یہ صلاحیت تو مفقود ہے، ہاں اہل حدیث سے اپنی علمی برتری منوانے کا شوق ضرور چرایا ہے۔۔۔ہم معروض ہیں جنابِ والا، کہ محدث میں شائع ہونے والے مضمون کی ابتداء سے لے کر انتہاء تک ہم نے آپ کے علمی شاہکار ہی تو قلمبند کیے تھے، اور جن پر گرفت کی مضبوطی کا ثبوت خود آپ کے طویل سکوت نے فراہم کر دیا ہے۔۔۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ لوگ وہی قاعدہ ایک بار پھر دہرا لیتے، تاکہ اس کی غلط تعبیر پر آپ کو دوبارہ کبھی خفت نہ اٹھانی پڑ جائے۔۔۔ہم بڑے ادب و احترام سے آپ کی خدمت میں یہ گزارش کریں گے کہ جب بھی کبھی اپنے آپ کو علمی برتری کے گھمنڈ میں مبتلا پائیں، تو اس کے ازالہ کے لیے اس نحوی قاعدے سے متعلق محدث کے مذکورہ شمارے ضرور ملاحظہ فرما لیا کریں۔۔۔یوں آپ کو اپنا مبلغ علم بھی معلوم ہو جایا کرے گا اور کسی مجموعہ حدیث سے درود کے زیرِ بحث الفاظ کی مثال بھی طلب کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی، جیسے کہ آپ نے لکھا ہے:

"ہمارا سوال یہ تھا کہ اگر "آلہ" کے اضافے والی درود کی عبارت صحیھ ہے۔۔۔تو پھر حدیث کے 47 مجموعوں میں درج شدہ احادیث کی صحت مشکوک ہو جاتی ہے" (طلوعِ اسلام جنوری 87ء)

جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ "آلہ" کے اضافے کے ساتھ درود کی عبارت اگر حدیث کے کسی مجموعے میں نہ بھی ہو، تب بھی حدیث کی کسی کتاب کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔۔۔بالکل ویسے ہی جیسے کہ "آلہ" کے اضافے کے بغیر "صلی اللہ علیہ وسلم" کے قرآن کریم میں کہیں بھی موجود نہ ہونے سے قرآن پاک پر کوئی حرف نہیں آتا۔۔۔ ہم طلوع اسلام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ جب ہم نے "ضمیر مجرور پر حرفِ جر دہرائے بغیر اسم ظاہر کے عطف کا جواز ثابت کر دیا ہے، تو اس کے بعد بھی بھکاری کا کشکول اٹھا کر درود کے الفاظ کی مثال کے لیے دستِ سوال دراز کرنا کیا عبث اور لایعنی حرکت نہیں؟ ۔۔۔پھر یہ سوال کرنے میں آپ حق بجانب بھی کہاں ہیں؟ ۔۔۔ کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ عجمی سازش قرار دیتے ہیں اور بار بار سمجھانے کے باوجود آپ اس پر افتراء سے باز نہیں آتے، تو اس انکارِ حدیث پر مصر رہنے کے بعد آپ کو یہ پریشانی کیوں لاحق ہے کہ حدیث کے کسی مجموعے میں "آلہ" کے اضافے والی درود کی عبارت موجود نہیں۔۔۔علاوہ ازیں جب آپ انکارِ حدیث کر کے دوسروں سے کٹ چکے اور فرقہ بننے کی اس تعریف پر صادق آنے کے بعد طلوعِ اسلام بھی اکیلا رہ گیا ہے تو آپ کو اس پر افسوس کیوں ہے؟ ۔۔ہاں اگر، خود فرقہ ہونے کے باوجود، آپ طلوعِ اسلام کے ذریعے دوسروں کو فرقہ کے طعن سے مطعون کرتے رہتے ہیں، تو یہ آپ کی ان جہالتوں میں سے ایک جہالت ہے کہ جنہیں طلوعِ اسلام میں "حقائق و عبر" سے تعبیر کرنے کے آپ عادی ہو چکے ہیں۔۔۔یقین جانئے، اپنی ان بچگانہ حرکتوں سے آپ اہل حدیث علماء کا سکون ہرگز تباہ نہ کر سکیں گے۔

۔۔۔اور اپنی یہ تنہائی و بےچارگی، اور اہل حدیث کے ہزاروں علماء بھی محدث کے مذکورہ مضامین پڑھنے کے بعد ہی آپ کو نظر آئے ہیں، ورنہ اس سے قبل تو آپ انہیں ملک کا ایک چھوٹا سا فرقہ باور کراتے آئے ہیں۔۔۔اگرچہ اب بھی اپنی "﴿ءامَنوا وَجهَ النَّهارِ‌ وَاكفُر‌وا ءاخِرَ‌هُ...﴿٧٢﴾... سورة آل عمران" کی پرانی پالیسی پر چلتے ہوئے آپ کے اس اقرار سے منحرف ہو جانے کا خطرہ موجود ہے، تاہم ذہن نشین کر لیں کہ ہمارے ہاں تو کثرت و قلعت حق و باطل کا معیار ہی نہیں۔ مگر خود آپ کے اقرار کی رُو سے، جس مسلک کے صرف علماء ہی ہزاروں ہوں اس کے ماننے والے تو کروڑوں ہوں گے۔۔۔پھر بھی انہیں چھوٹا سا فرقہ کہنا کیا دیوانے کی بڑ نہیں؟

طلوعِ اسلام نے لکھا ہے کہ:

"تحریف کا تعلق ان احادیث سے تھا جو اس اخبار میں درود کی عبارت میں "آلہ" کے اضافے کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں"

لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے ساتھ درود میں "آلہ" کے لفظ سے اگر تحریفِ حدیث لازم آجاتی ہے، تو "صلی اللہ علیہ وسلم" کے الفاظ پر مشتمل درود کو چھوڑ کر صرف "صلعم" لکھنا کیونکر تحریف کی ذیل میں نہیں آتا؟ جبکہ اس جرم کا ارتکاب آپ کے اپنے ہی گھر میں ہو رہا ہے۔۔۔ خود آپ کے "باباجی" نے اپنی کتاب معراجِ انسانیت کے ص 228 پر نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے نامِ نامی کے ساتھ "صلعم" لکھ کر اس تحریف کا ارتکاب کیا ہے۔۔۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہودِ مدینہ کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کو انہوں نے یوں نقل کیا ہے:

«هذا كتاب من محمد النبى صلعم بين المؤمنين والمسلمين من قريش ويثرب ومن تبعم»

کیا آپ ہی کی طرف سے تحریف حدیث کی یہ دلیل، آپ لوگوں کو دوسروں پر بےجا اعتراض کرنے سے باز رکھنے کے لیے کافی نہیں؟ یہی رویہ آپ کا تاریخ کے ساتھ ہے۔۔۔رہا قرآن مجید، تو جو سلوک آپ اس کتابِ مقدس سے کر رہے ہیں وہ بھی اب منظر عام پر آنے لگا ہے۔۔یہ تو ابھی تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے کہ خطبہ حجہ الوداع پر مشتمل حدیث کو آپ نے "عجمی سازش" کہہ کر اس کا مذاق اڑایا، تو ہم نے آپ ہی کے من بھاتے قاعدے کے تحت اس خطبے کی مطابقت قرآن کریم سے ظاہر کر دی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ آپ اسی جگہ واپس آجاتے جہاں سے آپ کا قدم غلط سمت میں اٹھا تھا اور ازسرِ نو اپنا سفر شروع کرتے، لیکن اس کے برعکس آپ نے اپنی ٹیڑھی روش پر ضدکا اظہار یوں کیا کہ:

"اس ایک لاکھ سے زائد راویوں والی حدیث کا صحیح متن کیا ہے؟" (طلوعِ اسلام جنوری 88ء)

مقامِ غور ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے ہر ہر جملے کی قرآنی تعلیمات سے مطابقت ثابت ہو جانے کے بعد، بالخصوص آپ کو، یہ زیب دیتا ہے کہ اس پر اعتراض کریں؟ کیونکہ آپ کے ہاں تو حدیث کی صحت کو جانچنے کا اصول ہی یہ ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کے مطابق ہو۔۔۔لہذا دوبارہ ہم یہ واضح کیے دیتے ہیں کہ خطبہ حجۃ الوداع کی حدیث کا وہی متن صحیح ہے، جس کی قرآنی تعلیمات سے مطابقت آپ پر واضح کی جا چکی ہے۔

۔۔مزید برایں، "قرآن، قرآن' کی رٹ لگانے کے باوجود، قرآن کریم ہی سے آپ کی بیزاری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کو چھوڑ کر آپ نے سعودی عرب سے چھپنے والے اخبارات کا سہارا لیا ہے، اور لکھا ہے کہ:

"وہاں سے سینکڑوں اخبارات و رسائل شائع ہوتے رہے، لیکن کسی میں بھی وہ "آلہ" کے اضافے والا درود نظر نہیں آتا" (طلوعِ اسلام جنوری 87ء)

سوال یہ ہے کہ درود کو پرکھنے والے آپ کے وہ نحوی قاعدے اب کہاں گئے جن کا آسمان آپ نے سر پر اٹھا رکھا تھا؟ اور اگر یہ سب بخارات بن کر اڑ چکے، چنانچہ اب سعودی عرب اور وہاں کے علماء سے آپ نے سند لینے کی ٹھانی ہے، تو کیا خیال ہے اگر قرآن کریم کے مفاہیم و مطالب متعین کرنے کے لیے بھی انہی اہل زبان سعودی علماء سے رجوع کر لیا جائے۔۔۔ پھر اگر آپ کا پورا پرویزی لٹریچر اس معیار پر پورا نہ اترے تو اسے دریا برد کر دیا جائے؟ ۔۔علاوہ ازیں وہیں سے طبع ہونے والا بخاری مسلم کا ایک سیٹ کیوں نہ منگوا لیا جائے، جن کی حدیثوں کو آپ عجمی سازش قرار دیتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں؟ ۔۔۔کیا آپ اپنے ہی پیش کردہ اس طریقِ استناد پر قائم رہتے ہوئے ہم سے یہ وعدہ کرنے کو تیار ہیں کہ سعودی عرب سے چھپنے والی صحیحین پر آپ فورا ایمان لے آئیں گے؟

۔۔قارئین کرام، طلوعِ اسلام نے اصل بحث سے توجہ ہٹانے کی خاطر ہمیں اپنے اکتوبر 86ء اور مارچ 87ء کے شمارے دیکھنے کی دعوت دی ہے۔۔۔ہم نے جب انہیں دیکھا، تو وہاں کیا دھرا تھا؟۔۔۔عربی قواعد میں وہی گھپلا، جس کی اصلاح کا ہم نے فریضہ سرانجام دیا تھا۔ تاہم اکتوبر 86ء کے شمارہ میں مذکور نحوی قاعدہ اپنے نئے سانچے میں یوں ڈھلا کہ:

"ضمیر پر اسم ظاہر کا عطف نہیں ہو سکتا" (ص 29)

حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تحریفِ معنوی کے بعد اب ان لوگوں نے عربی زبان اور اس کے قواعد کو بگاڑنے کا بھی منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ قاعدے کی مذکورہ تعبیر سے ضمیر پر عطف کی رہی سہی گنجائش کو بھی مات کر ڈالا، چنانچہ ہر ضمیر پر اسم ظاہر کے عطف کو ممنوع بنا کر رکھ دیا۔ جبکہ محلِ نزاع ضمیر مجرور پر اسم ظاہر کا عطف ہے۔

یہ تو ان کے علم کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہے، ذرا اس سے آگے بڑھ کر آپ دیکھیں تو یہ حضرات بحرِ علم میں مزید غوطے کھاتے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ امام قشیری نے جب "الارحام" کی قراءت بالبحر کو صحیح بتانے کے بعد فرمایا کہ:

«واذا ثبت شئ عن النبى صلعم فمن رد ذلك فقد ردعلى النبى صلعم»

یعنی نبی کریم علیہ السلام سے "الارحام" کی قراءت بالبحر کے ثابت ہو جانے کے بعد جس نے اسے رد کیا، اس نے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام پر تنقید کی"

عربی دانی کے ان دعویداروں نے پہلے تو قشیری کی اس عبارت کو امام قرطبی کا فتویٰ بنا دیا ہے، پھر اسے سیاق و سباق سے کاٹ کر "الارحام" کی قراءت بالبحر سے اپنے انکار، کی تائید میں استعمال کر لیا ہے جوکہ امام قشیری کے، اپنی اس عبارت سے، اصل مقصود کے بالکل خلاف ہے۔

ان لوگوں کی یہ روش کوئی نئی نہیں، بلکہ مستشرق پرویز کے فکرِ قرآن کا ایک نمونہ ہے، آنجہانی کا بھی یہی حال تھا کہ اپنے ذہن میں فرنگی طرز کا ایک مفروضہ گھڑتے، پھر اسے مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لیے قرآنی آیات کے مختلف تراشے جمع کرنے بیٹھ جاتے۔ ہوتا یوں کہ آیت کے جس ٹکڑے کو بنیاد بنایا جاتا، وہ مدنی دور کا ہوتا، اور آیت کے جس حصے سے خود ساختہ فکر کی تعمیر کی جاتی، وہ حصہ اس سے بہت پہلے مکی دور کا ہوتا، اور یہ نام نہاد مفکرِ قرآن بڑی ڈھٹائی سے اس معکوس اور الٹے اندازِ کر کو "فنِ تصریفِ آیات" سے تعبیر کر دیتا۔ یعنی "قرآنی آیات میں ہیرا پھیری کا ن" اس مفسرِ قرآن کے بعد اب ادارہ طلوعِ اسلام اس فن کا وارث ہے، جو اسے قرآن کریم کے علاوہ عربی زبان کے دوسرے مراجع میں بھی استعمال کرنے لگا ہے، جیسا کہ اس کی مثال عنقریب ذکر ہو چکی ہے مگر زیرِ بحث عطف کے اس مسئلہ میں فرقہ طلوعِ اسلام یوں بری طرح پھنس گیا ہے، کہ اس سے گلوخلاصی کرانا اب اس کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اور وہ یوں کہ "الارحام" منصوب ہونے کی صورت میں بھی "تساءلون به" کی ضمیر مجرور پر ہی محلا معطوف ہے، اور حرفِ جر دوبارہ نہیں لایا گیا۔ لہذا ضمیر مجرور پر اسم ظاہر کا عطف بلا اعادہ جار صحیح ہوا۔ مزید تفصیلات کے لیے "محدث" اگست، ستمبر، اکتوبر 86ء کے شمارے ملاحظہ ہوں۔
حوالہ جات

1. ہفت روزہ "اہل حدیث"