کسی نبی یا رسول کے اپنے اختیار میں نہیں

اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ اور اپنے حکم سے اپنے کسی نبی یا رسول کے ہاتھوں کسی ایسی چیز، واقعہ وغیرہ کا وقوع و ظہور کروائیں جو انسانی وہم و گمان ، عقل و فکر اور قدرت و استطاعت سے باہر ہو، تو یہ معجزہ کہلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے جن انبیاء و رسل (علیہم الصلوۃ والسلام) کو جو جو معجزات عطا فرمائے، وہ ان انبیاء و رسل علیہم السلام کے مخاطبین کے موافقِ حال دیے۔ مثلا حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں فال گیری اور جادوگری اپنے عروج پر تھی، تو اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو عصاء کے سانپ بن جانے اور یدِ بیضاء کے معجزات عطاء فرمائے۔ جن کا توڑ مملکتِ فرعون کے تمام ماہر جادوگر مل کر بھی نہ کر سکے اور نتیجتا حق کے مقابلہ میں انہوں نے نہ صرف اپنی شکست تسلیم کر لی، بلکہ وہ حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان بھی لے آءے۔

اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں فنِ طبابت کا بڑا شہرہ تھا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کو معجزات بھی اسی مناسبت سے عطا ہوئے۔ مثلا مادرزاد اندھوں کا بینا ہو جانا، کوڑھی، اور برص کے مریضوں کا شفائے عاجلہ و کاملہ پا جانا۔ حتیٰ کہ مُردوں کا جی اٹھنا، وغیرہ۔۔۔کہ ظاہر ہے، جن کی نظیر کوئی ماہر سے ماہرِ فن طبیب اور حکیم بھی پیش نہیں کر سکتا۔

حضور سید المرسلین، خاتم المرسلین، احمد مجتبیٰ، جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت چونکہ عربی زبان و ادب کی فصاحت و بلاغت کا طوطی بولتا تھا، اس لیے منجملہ دیگر معجزات کے جو سب سے بڑا اور مناسبِ حال معجزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء ہوا، وہ قرآن مجید تھا۔ جس نے اپنے مقابلہ میں فصحاء و شعراء و ادبائے عرب کی گردنیں خم کر دیں۔ حتیٰ کہ قرآن مجید نے یہ چیلنج دیا کہ اگر تمام جن و انس مل کر بھی یہ چاہئیں کہ قرآن مجید کی مثل کوئی ایک سورہ ہی بنا کر لے آئیں، تو وہ ایسا ہرگز ہرگز نہیں کر سکیں گے۔۔۔قرآن مجید میں یہ چیلنج باندازِ مختلف اور اختلاف الفاظ کے ساتھ سورۃ البقرۃ کی آیت 23، سورۃ ہود کی آیت 13،14 اور سورہ بنی اسرائیل کی آیت 88 میں مذکور ہے، لیکن ابتدائے نزولِ قرآن مجید سے لے کر آج تک یہ چیلنج بحال ہے اور تاقیامت یہ چیلنج، چیلنج ہی رہے گا، کہ کوئی بھی آج تک اس کی ایک آیت کی بھی نظیر و مثل نہ لا سکا اور نہ آئندہ کبھی لا سکے گا۔

مذکورہ بالا حقائق سے، کسی بھی نبی یا رسول کے ہاتھوں ان معجزات و خوارق امور کے صدور و وقوع کی حکمت اور غرض و غایت عیاں ہے۔ یعنی لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ صاحبِ معجزہ کو بلاشبہ نصرتِ حقانی اور تائیدِ ربانی حاصل ہے۔ لہذا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر سچا نبی اور رسول ہے، کہ جس کی اطاعت و اتباع اگر دنیا اور آخرت میں کامیابی و کامرانی کی دلیل ہے، تو اس کی نافرمانی و تکذیب دین و دنیا کے خسارہ کی بھی باعث ہے۔

یہیں سے ایک دوسری بات جو واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ منصبِ نبوت و رسالت وہبی چیز ہے، کسبی نہیں۔۔اور کسی بھی نبی یا رسول کو ملنے والے معجزات کے فاعلِ حقیقی خود اللہ رب العزت ہوتے ہیں نہ کہ خود یہ نبی اور رسول (یہی بات معجزہ کی تعریف سے بھی ظاہر و باہر ہے) ۔۔پھر تعجب ہے ان لوگوں پر، جو انہی معجزات کے حوالے سے حضرات انبیاء علیہم السلام کو مشکل کشا، حاجت روا، فریاد رس اور متصرف الامور باور کراتے ہیں اور بطورِ دلیل ان معجزات کو پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ رب العزت کے علاوہ کسی بھی دوسری ہستی میں یہ اوصاف مان لینا شرک ہے، جو قرآن مجید ہی کی رو سے ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ...﴿٤٨﴾... سورةالنساء

زیرِ نظر مقالہ لکھنے سے مقصود یہی ہے کہ ان لوگوں کی یہ غلط فہمی دور کی جائے۔ چنانچہ ذیل میں ہم قرآن مجید میں سے بعض معجزات کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کریں گے کہ کوئی بھی معجزہ، کسی بھی نبی یا رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔۔﴿ إِن أُر‌يدُ إِلَّا الإِصلـٰحَ مَا استَطَعتُ وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّهِ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ ﴿٨٨﴾... سورةهود

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضر موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جب شرفِ نبوت سے نوازا تو ساتھ ہی دو معجزے بھی عطا فرمائے۔ نیز عملا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کا مشاہدہ کروایا۔ درج ذیل آیاتِ قرآنی ملاحظہ ہوں:

﴿وَما تِلكَ بِيَمينِكَ يـٰموسىٰ ﴿١٧﴾ قالَ هِىَ عَصاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيها وَأَهُشُّ بِها عَلىٰ غَنَمى وَلِىَ فيها مَـٔارِ‌بُ أُخر‌ىٰ ﴿١٨﴾ قالَ أَلقِها يـٰموسىٰ ﴿١٩﴾ فَأَلقىٰها فَإِذا هِىَ حَيَّةٌ تَسعىٰ ﴿٢٠﴾ قالَ خُذها وَلا تَخَف سَنُعيدُها سيرَ‌تَهَا الأولىٰ ﴿٢١﴾ وَاضمُم يَدَكَ إِلىٰ جَناحِكَ تَخرُ‌ج بَيضاءَ مِن غَيرِ‌ سوءٍ ءايَةً أُخر‌ىٰ ﴿٢٢﴾ لِنُرِ‌يَكَ مِن ءايـٰتِنَا الكُبرَ‌ى ﴿٢٣﴾... سورة طه

"اور اے موسیٰ، تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟ کہا، یہ میرا عصاء ہے۔ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کہ موسیٰ اسے (زمین پر) ڈال دو۔ انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو ناگہاں وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ (اللہ نے) فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرو مت، ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگا لو، وہ بلا کسی عیب کے روشن ہو کر نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی ہے۔ تاکہ ہم تمہیں اپنے نشاناتِ عظیم دکھائیں"

سورۃ القصص میں یہی واقعات یوں مذکور ہیں:

﴿فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ مِن شـٰطِئِ الوادِ الأَيمَنِ فِى البُقعَةِ المُبـٰرَ‌كَةِ مِنَ الشَّجَرَ‌ةِ أَن يـٰموسىٰ إِنّى أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ العـٰلَمينَ ﴿٣٠﴾ وَأَن أَلقِ عَصاكَ فَلَمّا رَ‌ءاها تَهتَزُّ كَأَنَّها جانٌّ وَلّىٰ مُدبِرً‌ا وَلَم يُعَقِّب يـٰموسىٰ أَقبِل وَلا تَخَف إِنَّكَ مِنَ الـٔامِنينَ ﴿٣١﴾ اسلُك يَدَكَ فى جَيبِكَ تَخرُ‌ج بَيضاءَ مِن غَيرِ‌ سوءٍ وَاضمُم إِلَيكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّ‌هبِ فَذٰنِكَ بُر‌هـٰنانِ مِن رَ‌بِّكَ إِلىٰ فِر‌عَونَ وَمَلَإِي۟هِ إِنَّهُم كانوا قَومًا فـٰسِقينَ ﴿٣٢﴾... سورة القصص

"پس جب (موسی علیہ السلام) اس (آگ) کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ علیہ السلام میں تو خدائے رب العالمین ہوں اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو۔ پس جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا ہے، گویا سانپ ہے، تو پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ یکھا۔ (ہم نے کہا کہ) موسی علیہ السلام آگے آؤ اور ڈرو مت، تم امن پانے والوں میں سے ہو۔ اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔ اور خوف دور ہونے (کی وجہ سے) اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑ لو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں۔ (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (جاؤ) کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔"

قرآن مجید کے ان ہر دو مقامات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے درج ذیل نتائج مستنبط ہوتے ہیں:

1۔ موسی علیہ اسللام جسے آگ سمجھے وہ آگ نہ تھی۔۔۔ملاحظہ ہوں آیات 10-11: سورۃ طہ: بلکہ وہ اللہ رب العزت کے نور کی تجلی تھی۔

2۔ موسی علیہ السلام کو نہ تو پہلے سے یہ علم تھا کہ اللہ رب العزت سے عنقریب انہیں شرفِ کلام حاصل ہونے والا ہے۔ اور نہ ہی یہ احساس ہو سکا کہ یہ انہیں مقامِ نبوت پر سرفراز کرنے کی تقریب ہے۔۔۔وہ سردی میں آگ لینے کے لیے نکلے تھے تاکہ اس سے گرمی کا سامان بہم پہنچائیں، لیکن نبوت مل گئی۔

3۔ نبوت سے سرفراز ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں عصا کے سانپ بن جانے اور یدِ بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔۔۔لیکن عصا کو سانپ بنتے دیکھ کر ڈر گئے اور پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ پھر اللہ رب العزت ہی نے فرمایا کہ اس سے آپ کو کوئی گزند نہ پہنچے گی۔ اس کو پکڑ لیجئے تو یہ اپنی پہلی حالت پر آجائے گا۔۔۔گویا موسی علیہ السلام، یہ معجزہ مل جانے کے باوجود اس کی کنہ کو نہ پا سکے، ورنہ اس سے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اللہ رب العزت نے کیوں یہ اطمینان دلایا کہ:

﴿ أَقبِل وَلا تَخَف إِنَّكَ مِنَ الءامِنينَ ﴿٣١﴾... سورةالقصص

4۔ یہ معجزات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ رب العزت کی طرف سے بطورِ دلیل نبوت عطا ہوئے، تو ظاہر ہے کہ ان کے حقیقی فاعل خود اللہ رب العزت ہیں۔

قرآن مجید کا ہر لفظ اپنی جگہ قانونی حیثیت رکھتا ہے۔۔متذکرہ آیاتِ قرآنی سے جو نتائج ہم نے اخذ کیے وہ بھی بحمداللہ درست ہیں۔۔۔چنانچہ "عیاں راچہ بیاں" کے مصداق یہ نتائج خود بول کر یہ بتلا رہے ہیں کہ ان معجزات میں حضرت موسی علیہ السلام کا اپنا اختیار و قدرت تو کجا، آپ علیہ السلام معجزہ ملنے کی کیفیت سے گزر رہے ہیں، لیکن خود ہی اس کے نتیجہ میں خوف سے دوچار بھی ہو رہے ہیں۔ جبکہ اگر یہ آپ علیہ السلام کا اپنا ذاتی کمال ہوتا تو خوف کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

آگے چلیے، آپ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچتے ہیں اور دعوائے نبوت کرتے ہوئے اس کی دلیل کے طور پر اس معجزہ کو پیش کرتے ہیں۔۔۔فرعون بجائے اس کے کہ آپ علیہ السلام کے دعوائے نبوت کو تسلیم کر کے آپ علیہ السلام پر ایمان لے آتا، آپ علیہ السلام کے مقابلہ میں جادوگروں ہی کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتبوں سے آپ علیہ السلام کو نیچا دکھا سکیں۔۔۔درج ذیل آیاتِ قرآنی ملاحظہ ہوں:

﴿قالوا يـٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ أَوَّلَ مَن أَلقىٰ ﴿٦٥﴾ قالَ بَل أَلقوا فَإِذا حِبالُهُم وَعِصِيُّهُم يُخَيَّلُ إِلَيهِ مِن سِحرِ‌هِم أَنَّها تَسعىٰ ﴿٦٦﴾ فَأَوجَسَ فى نَفسِهِ خيفَةً موسىٰ ﴿٦٧﴾ قُلنا لا تَخَف إِنَّكَ أَنتَ الأَعلىٰ ﴿٦٨﴾ وَأَلقِ ما فى يَمينِكَ تَلقَف ما صَنَعوا إِنَّما صَنَعوا كَيدُ سـٰحِرٍ‌ وَلا يُفلِحُ السّاحِرُ‌ حَيثُ أَتىٰ ﴿٦٩﴾ فَأُلقِىَ السَّحَرَ‌ةُ سُجَّدًا قالوا ءامَنّا بِرَ‌بِّ هـٰر‌ونَ وَموسىٰ ﴿٧٠﴾... سورة طه

"(جادوگروں سے مقابلہ کی ابتداء ہوئی تو جادوگر) بولے، موسیٰ تم ڈالنے میں (پہل کرو گے) یا ہم ڈالیں اور پہل کریں؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، نہیں تم ہی ڈالو، (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ علیہ السلام کے خیال میں ایسے آنے لگیں کہ وہ (میدان میں ادھر ادھر) دوڑ رہی ہیں۔ (اس وقت) موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا۔ ہم (اللہ رب العزت) نے کہا، خوف نہ کرو، بلاشبہ تم ہی غالب ہو۔ اور جو چیز (یعنی عصا) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو، کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے، اُس کو نِگل جائے گا۔۔۔جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں۔ اور جادوگر جہاں جائے گا، فلاح نہیں پائے گا (القصہ یوں ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ علیہ السلام اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے۔"

۔۔۔ اگر یہ معجزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اپنے اختیار میں ہوتا اور آپ علیہ السلام کا اپنا، ذاتی کمال تھا تو یہاں بھی آپ علیہ السلام خوفزدہ کیوں ہوئے؟ ۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو سابقہ تجربہ کی بناء پر اس معجزہ کے بارے میں صرف یہی علم تھا کہ وہ اپنا عصا ڈالیں گے تو یہ سانپ بن جائے گا۔۔۔اور بس۔۔۔لیکن اس ایک سانپ کے مقابلے میں جادوگروں کی ڈالی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں کی صورت میں متعدد سانپ آپ علیہ السلام کو میدان میں دوڑتے ہوئے محسوس ہوئے تو آپ علیہ السلام ڈر گئے۔۔۔تفسیر ماجدی میں ہے:

"۔۔۔دوسری وجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خوف زدہ ہونے کی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میرے عصا سے بن جانے والے سانپ کو دیکھنے والے لوگ معاملہ اور مقابلہ برابر کا ہی سمجھیں گے تو حق کا غلبہ کیسے ثابت ہو گا؟" (تفسیر ماجدی ص 644 حاشیہ 71)

چنانچہ یہ خوف اللہ رب العزت نے یہ کہہ کر دور فرمایا کہ گھبرائیے نہیں، آپ ہی غالب رہیں گے۔۔۔اور حق کا یہ غلبہ یوں ہو گا کہ اس عصا سے بننے والا سانپ جادوگروں کے بنائے ہوئے سوانگ کو نگل جائے گا۔۔یہی ہوا بھی۔۔۔ادھر جادوگروں نے جو بہرحال ماہرینِ فن تھے اور جادو کی حقیقت سے آشنا، یہ محیر العقول واقعہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ جادو سے بڑھ کر کوئی شے ہے اور جس کا صدور صرف اللہ رب العزت کے حکم ہی سے ممکن ہے۔۔۔پھر خدا تعالیٰ کے حکم سے یہ اعجاز چونکہ صرف اسی انسان کے ہاتھوں ممکن ہے جو خدا کا سچا نبی اور رسول ہو، لہذا موسیٰ علیہ السلام نے جو دعوائے نبوت کیا ہے، درست ہے۔۔۔یہی سب کچھ دیکھنے اور سوچنے کے بعد ان کے دل کی دنیا روشن ہو گئی۔ وہ فورا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ بجا لائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام، جنہیں یہ معجزات عطا ہوئے، کے ذاتی کمالات باور کراتے ہوئے انہیں مقامِ الوہیت پر فائز کرتے نظر آتے ہیں، عجب نہیں کہ یہ لوگ اگر ان جادوگروں کی جگہ موجود ہوتے تو یہ معجزہ دیکھ کر، رب العالمین کی بجائے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے۔ کہ اس عقیدہ کا تقاضا تو یہی ہے ۔۔۔﴿إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ﴾

ذرا مزید آگے چلیے۔۔۔یہ وہ وقت ہے کہ سامنے دریا ہے، پیچھے فرعونی لشکر، اور درمیان میں موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی۔۔۔صورتِ حال انتہائی نازک ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اصحابِ موسیٰ علیہ السلام حالتِ اضطرار میں پکار اٹھتے ہیں۔۔۔قرآن مجید کی زبان میں:

﴿فَلَمّا تَرٰ‌ءَا الجَمعانِ قالَ أَصحـٰبُ موسىٰ إِنّا لَمُدرَ‌كونَ ﴿٦١﴾ قالَ كَلّا إِنَّ مَعِىَ رَ‌بّى سَيَهدينِ ﴿٦٢﴾... سورة الشعراء

"جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں، تو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، ہرگز نہیں، میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے جلد ہی (نجات کی کوئی) راہ دکھا دے گا"

مقامِ غور ہے، موسیٰ علیہ السلام نے اس موقع پر یہ نہیں فرمایا کہ میرے پاس میرا عصا ہے، عنقریب میں اسے دریا پر ماروں گا تو دریا خشک ہو کر راستہ مہیا کر دے گا اور تم بلاخوف و خطر دریا کے پار پہنچ جاؤ گے۔۔۔نہیں، بلکہ آپ علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ میرا رب میرے ساتھ ہے، جلد ہی وہ نجات کی کوئی سبیل مہیا کر دے گا۔۔۔چنانچہ اس معیتِ خداوندی کی نشارت آپ علیہ السلام کو اس وقت مل چکی تھی جب آپ علیہ السلام کو مع اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے فرعون کی طرف جانے کا حکم ملا تھا۔۔۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اذهَبا إِلىٰ فِر‌عَونَ إِنَّهُ طَغىٰ ﴿٤٣﴾ فَقولا لَهُ قَولًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ‌ أَو يَخشىٰ ﴿٤٤﴾ قالا رَ‌بَّنا إِنَّنا نَخافُ أَن يَفرُ‌طَ عَلَينا أَو أَن يَطغىٰ ﴿٤٥﴾ قالَ لا تَخافا إِنَّنى مَعَكُما أَسمَعُ وَأَر‌ىٰ ﴿٤٦﴾﴾... سورةطه

"دونوں فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو رہا ہے اور اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ غور کرے اور ڈر جائے۔ دونوں (ہارون علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام) کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار، ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہو جائے۔ (خدا تعالیٰ نے) فرمایا، ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا ہوں"

چنانچہ یہ ایک نبی کا ذات باری تعالیٰ پر کامل اعتماد تھا کہ ان نازک ترین حالات میں، جبکہ بہ ظاہر بچ نکلنے کے امکانات صد فی صد معدوم نظر آتے تھے، آپ علیہ السلام نصرتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہوئے۔۔۔نتیجتا نصرتِ خداوندی یوں شامل حال ہوئی کہ:

﴿فَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَنِ اضرِ‌ب بِعَصاكَ البَحرَ‌ فَانفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِر‌قٍ كَالطَّودِ العَظيمِ ﴿٦٣﴾ وَأَزلَفنا ثَمَّ الـٔاخَر‌ينَ ﴿٦٤﴾ وَأَنجَينا موسىٰ وَمَن مَعَهُ أَجمَعينَ ﴿٦٥﴾ ثُمَّ أَغرَ‌قنَا الـٔاخَر‌ينَ ﴿٦٦﴾ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَـٔايَةً وَما كانَ أَكثَرُ‌هُم مُؤمِنينَ ﴿٦٧﴾ وَإِنَّ رَ‌بَّكَ لَهُوَ العَزيزُ الرَّ‌حيمُ ﴿٦٨﴾... سورة الشعراء

"اس وقت ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہو گیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے) اور دوسروں کو ہم نے قریب کر دیا۔ اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو (تو) ہم نے بچا لیا، پھر دوسروں کو ہم نے ڈبو دیا۔ بے شک اس (قصے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے"

یہاں بھی نجات کے لیے بذریعہ وحی اشارہ ملا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف اس عصا کو دریا پر مارنے والے تھے، جب کہ اس وحی سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کے بسلامت پار اُترنے، اور پھر فرعونیوں کی غرقابی تک تمام امور کی نسبت اللہ رب العزت نے اپنی طرف کر کے آخر میں یہ بھی فرما دیا کہ "اللہ رب العزت ہی غالب مہربان ہے"۔۔یوں قرآن مجید نے یہ واضح فرما دیا کہ اس تمام تر اعجاز کی اصل قدرت و اختیار ذاتِ خداوندی کو حاصل ہے، نہ کہ اس نبی اور رسول کو، جس کے ہاتھوں اللہ رب العزت نے اس معجزہ کا صدور کروایا ہے۔۔۔ (جاری ہے)