نکتہ نمبر 6 مدینہ ہی مسجد اقصیٰ ہے:
بسلسلہ جنگ بدر سورۃ الانفال میں مذکورہ ’’العدوۃ الدنیا ‘‘ اور ’’العدوۃ القصویٰ‘‘ کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے اثری صاحب نے فرمایا ہے کہ:
’’بدر مکہ سے قصوٰی  ہوا او رجب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولی قصوٰی ٹھہرا اور  اس کی مسجد (نبوی) اقصیٰ ہوئی۔ بلکہ وفاء الوفاء ج1 ص16 میں مطالع وغیرہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ کے ناموں میں سے ایک نام اس کا مسجد اقصیٰ بھی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 43)
صفحہ مذکورہ پر لفظ قصوٰی کی وضاحت میں اثری صاحب نےدرج ذیل حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے:
’’عجیب بات ہے کہ جس اونٹنی پررسول اللہ ﷺ نے سفر ہجرت طےفرمایا، وہ مدینہ پہنچ  کر مسجد نبوی کی جگہ بحکم خداوندی بیٹھ گئی اور اس کا نام قصوٰی (قصواء) قرار  پایا۔ اسی قصواء پر حضورﷺ نے بڑے بڑے سفر طے فرمائے۔‘‘
اس اصول کی رُو سے ہمارےنزدیک ’’قصوٰی‘‘ اور ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ کی مزید تشریح یوں چلتی ہے: بدر مکہ سے قصوٰی ہو   اور جب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولیٰ قصوٰی  ٹھہرا۔ اور بیت المقدس اس سےبھی زیادہ ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ قرار پایا۔ کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے  بھی زیادہ دور ہے۔ گویا اس دلیل کی رُو سے کہ اگر مدینہ کی مسجد نبوی، مدینہ کے قصوٰی ہونےکی وجہ سے اقصٰی ہے، تو بیت المقدس کی مسجد بالاولیٰ اقصٰی قرار پاتی ہے۔چنانچہ اثری صاحب کا یہ نکتہ بھی آپ کے خلاف ہی پڑتا ہے۔
اثری صاحب نے اسی مناسبت سے کہ مدینہ قصوٰی ہے، رسول اللہﷺ کی اونٹنی کو بھی قصوٰی (قصواء) قرار دے دیا۔ اب مدینہ تو ’’قصوٰی‘ اس لیے ہوا کہ وہ مکہ سے بہت دور ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی شاید اس لیے قصوٰی (قصواء)تھی کہ وہ بھی بہت دور کی اونٹنی تھی یا وہ بہت دور دراز کے سفر کرتی تھی ۔مگر یہ بات بھی ٹھیک نہیں۔کیونکہ وہ تو نزدیک کےسفر بھی کرتی تھی ۔ پھر یہ بات کیا ہوئی؟
اب جب ہم لغت دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ’’قصٰی‘‘ کا ایک معنی’’دُور ہونا‘‘ ہے تو دوسرامعنیٰ ’’اونٹنی کے تھوڑے سے کان کترنا‘‘ بھی ہے۔ اور  قصواء ایسی اونٹنی کو کہتے ہیںجس کے تھوڑے سے کان کاٹےگئے ہوں (منجد) رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی اسی وجہ سے ’’قصوٰی‘‘ کہلاتی تھی۔ نہ اس لیے کہ مدینہ بھی ’’قصوٰی‘‘ اورآپؐ کی اونٹنی بھی ’’قصوٰی‘‘ (قصواء)
رہی یہ بات کہ وفاء الوفاء میں مدینہ طیبہ کاایک نام مسجد اقصٰی بھی ہے، تو اس بات کو جب اثری صاحب خود بھی تسلیم نہ کریں تو دوسرے کیونکر کرسکتے ہیں؟ اثری صاحب کےنزدیک  مدینہ قصوٰی ہے اور اس کی مسجد اقصٰی ۔جبکہ صاحب وفاء الوفاء مدینہ کو  ہی مسجد اقصٰی قرار دے رہے ہیں۔
صاحب وفاء الوفاء سمہودی (م911ھ) دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں۔ جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ  مارے ہیں۔ اس سے ’’سمہودی‘‘ کی بےکار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔مزید یہ کہ ان میں کچھ نام  انتہائی مضحکہ خیز ، زیادہ تر صرف بھرتی کا کام دیتے  اور بے دلیل ہیں۔مثلاً مدینہ کا ایک نام ’’تندد‘‘ ہے ،دوسرا  ’’تندر‘‘، تیسرا ’’یندد‘‘، چوتھا ’’یندر‘‘ یامثلاً مدینہ کا ایک نام ’’البارہ‘‘ ہے ، دوسرا ’’البرہ‘‘ ، تیسرا ’’البحرہ‘‘، چوتھا البحیرہ‘‘، پانچواں’’ البحیرۃ‘‘ وقس علیٰ ہذا۔

سمہودی صاحب کی بہرحال دادا ہی دینا چاہیے کہ اس طرح انہوں نے 94 تک کی گنتی پوری کردی ہے۔ انہوں نے مدینہ کا 77 واں نام ’’مسجد اقصٰی‘‘ لکھا ہے او ریہی وہ نام ہے جس کےمتعلق اثری صاحب نے صرف درج ذیل پونی سطر درج فرمائی ہے:

’’السابع و سبعون ’’مسجد اقصٰی‘‘ نقلہ التادلی فی منسکہ عن صاحب المطالع‘‘

یہ صاحب مطالع کون تھا، تادلی کون ہے، کون سی کتاب میں یہ درج ہے،  کتاب کا صفحہ نمبر کیا ہے ؟؟ اس کی کچھ تحقیق نہیں کی جاسکتی۔ دسویں صدی ہجری کے اس مصنف نے مدینہ کا یہ نام ایسا لکھا ہے جس کاسراغ قرون اولیٰ کے تمام تر اسلامی لٹریچر میں کہیں ڈھونڈے سےبھی نہیں مل سکے گا تو پھر اس کی اس بلا تحقیق عبارت کی قیمت کیاہے؟ ایسےس تو چودہویں صدی میں اثری صاحب اور پرویز صاحب بھی یہ فرما ہی رہے ہیں کہ مسجد اقصٰی سے مراد مسجد نبوی ہےپھر انہوں نے یہ کون سا تیرمار لیا ہے؟ ہاں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سمہودی صاحب ہمارے ان  کرم فرماؤں سے اس لحاظ سے بازی لے گئے ہیں کہ مدینہ شہر کانام مسجد اقصٰی بتلا کر یہ واضح کرنا چاہا ہے کہ کسی شہر یا بستی کا نام مسجد بھی  ہوسکتا ہے۔

نکتہ نمبر7 مسجدنبوی کی جگہ:

اثری صاحب نے مزید فرمایا ہے کہ:

’’صحیح بخاری پ15 صفحہ 476 میں ہے کہ مسجدنبوی جس جگہ تعمیر ہوئی اس جگہ پر آپؐ کی تشریف آوری سے پہلے مسجد نبوی کی جگہ میں اسعد بن زرارہ پنج وقتہ نماز پڑھتے او رپڑھایا کرتے بلکہ جمعہ بھی پڑھایاکرتے تھے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپؐ بھی وہاں نماز پڑھتے پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد اسعد کی کوششوں سے آپؐ نے وہاں مسجد تعمیر فرمائی جو کہ مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ43)

اس اقتباس میں جو بات اثری صاحب نےبخاری اور فتح الباری کےحوالہ سےکہی ہے وہ ایک حد تک ہی درست ہے کہ یہ جگہ دراصل دو یتیم لڑکوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی۔ نیز یہ جگہ اصل میں’’مربدللتمر‘‘ یعنی ’’کھجوریں خشک کرنے کا میدان تھا۔جیسے ہمارے  ہاں چاول کی منڈی کے نزدیک دھان سکھانے کے لیے میدان بنائے جاتے ہیں اور ’’مربد‘‘ بعض کے نزدیک اونٹوں اوربکریوں کےباڑہ کو بھی کہتے ہیں۔(فتح الباری ج7 ص246 مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت) اسی میدان کے کچھ حصہ میں مسلمان نماز بھی ادا کرلیاکرتے تھے۔ جب حضور اکرمﷺ تشریف لائے تو یہ سارے کا سارا میدان مسجد نبوی کے لئے خرید کیا گیا تھا۔

البتہ وفاء الوفاء کےحوالہ سے اثری صاحب نے جو یہ بات لکھی ہے کہ : ’’بلکہ سعد بن زرارہ نماز جمعہ بھی پڑھایا کرتےتھے‘‘ تو یہ بات قطعاً غلط بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔ کیونکہ  پہلا جمعہ خود رسول اکرمﷺ نے مدینہ جاکر پڑھایاتھا۔اس سے پہلے نماز جمعہ نہ فرض تھی، نہ کہیں پڑھی گئی، نہ  ہی کسی نےپڑھائی۔چنانچہ  اس کتاب وفاء الوفاء کی درج ذیل عبارت ہمارے بیان کی تصدیق کرتی ہے:

’’قیل کانت ھٰذہ اوّل جمعۃ صلاھا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالمدینۃ‘‘ (وفاء الوفاء ج1 ص256۔ مطبوعہ بیروت)

’’کہاجاتا ہےکہ یہ پہلا جمعہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں پڑھایا۔‘‘

اس سلسلہ میں سیرت  ابن ہشام کی روایت بھی ملاحظہ فرمائیے :

’’رسول اللہ ﷺ کا جمعہ بنی سالم بن عوف میں ہوا اور جمعہ کی نماز آپؐ نے اس مسجد میں ادا فرمائی جو وادئ رانوناء کے درمیان ہے۔جمعہ کی یہ پہلی نماز تھی جو مدینہ میں آپؐ نے ادا فرمائی۔‘‘ (ابن ہشام اُردو صفحہ 542 ج1 ۔مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور)

نکتہ نمبر 8 ’’المسجد‘‘ سےکون سی مسجدمراد ہے؟

پرویز صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’اس کے بعد محترم مصنف (یعنی اثری صاحب) نے بڑی تفصیل سےبیان کیاہے کہ ’’سورہ بنی اسرائیل میں جو آیا ہے کہ ’’ولید خلوا المسجد کمادخلوہ اول مرۃ‘‘ (7؍17) تو  اس مسجد سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے بدلائل و براہین واضح کیا ہےکہ اس سے مراد وہ مسجد اقصٰی نہیں جس کا ذکر آیہ اسرا میں آیا ہے۔  ا س  سے مراد مدینہ طیبہ ہی ہے۔بیت المقدس والی مسجد کانام مسجد اقصٰی بعد میں رکھا گیا ہے۔‘‘ (ایضاً ص 43)

اس اقتباس میں تضاد ملاحظہ فرمایا آپ نے!............ اثری صاحب یہ اعتراف فرما رہے ہیں کہ جب  آیہ اسراء نازل ہوئی تو اس وقت بیت المقدس میں جو مسجد تھی اس کا نام اقصٰی تھا۔ تاہم یہ وہ مسجد نہیں جس کا ذکر ’’ولیدخلوا المسجد‘‘ میں آیا ہے۔’’ولیدخلوا المسجد‘‘ میں ’’المسجد‘‘ سےمراد ’’مدینہ طیبہ‘‘ ہی ہے۔چنانچہ یہ اعتراف کرنےکے بعد کہ آیہ اسراء کےنزول کے وقت مسجد اقصٰی موجود تھی، یہ بیان بھی دے رہے ہیں کہ بیت المقدس والی مسجد کا نام مسجد اقصٰی بعد میں رکھا گیا ہے۔ چہ خوب:                ؎

بک رہا ہوں جنوں میں کیا  کیا کچھ ........... کچھ نہ سمجھے خداکرے کوئی!

چنانچہ یہ وہ دلائل و براہین بھی ہیں جو پرویز ایسے مفسر قرآن کی نگاہوں میں بھی جچ گئے ہیں۔اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اثری صاحب کا  یہ دعویٰ کہ ’’ولیدخلوا المسجد‘‘ میں ’’المسجد‘‘ سے مراد آیہ اسراء والی مسجد اقصٰی نہیں، بلکہ اس سے مدینہ طیبہ ہی مراد ہے۔‘‘........ تاریخی لحاظ سے کس حد تک درست ہے؟ اس تحقیق کے لیے پہلے آیات متعلقہ ملاحظہ فرمالیجئے جو یہ ہیں:

’’وقضینآ الیٰ بنی اسرآءیل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا۔ فاذاجآء وعد اولٰہما  بعثنا علیکم عباد النا اولی باس شدید فجا سوا خلٰل الدیار و کان و غدا مفعولا۔ثم رددنالکم الکرۃ علیہم و امددنٰکم باموال و بنین و جعلٰنکم اکر نفیرا۔ ان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا فاذا جآء وعد الاٰخرۃ لیسوء وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اوّل مرۃ و لیتبروا ما علوا تتبیرا‘‘ (بنی اسرائیل : 4 تا 7)

’’اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھاکہ تم زمین میں دو دفعہ فسادمچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔ پس جب پہلے وعدے کا وقت آیاتو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والےبندے تم پر مسلط کردیے جو شہروں کے اندر گھس گئے اور وہ وعدہ پورا ہوکر رہا۔ پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سےتمہاری مدد کی اور تم کو جماعت کثیربنا دیا۔اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لیے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو ان کاوبال بھی تمہاری ہی جانوں پرہوگا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اورجس طرح پہلی  دفعہ المسجد میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں او رجس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں۔‘‘

گویا ان آیات کی رُو سے بنی اسرائیل پر دوبار جنگجو حملہ آوروں نے شدید حملہ کرکے انہیں تباہ و برباد  کیااور ہر بار’’المسجد‘‘ یعنی مسجد اقصٰی یاہیکل سلیمانی میں داخل ہوکر اس کی اینٹ سے اینٹ  بجادی۔

اب اس بات کو تاریخی اعتبار سے بھی دیکھ لیں:

اگرچہ حضرت موسیٰ ﷤ کی وفات کے بعد جلد ہی بنی اسرائیل کو فلسطین پر غلبہ حاصل ہوگیاتھا تاہم اس سلطنت کےعروج کازمانہ حضرت سلیمان﷤ کازمانہ ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پھر سے شرک و کفر اوربداخلاقیوںمیں پڑگئے ،  تو ان کی سلطنت میں زوال آناشروع ہوگیاحتیٰ کہ 582 ق م میں بخت نصر شاہ بابل نےسلطنت یہود پر حملہ کرکے اس کو تہ و بالا کردیا۔لاکھوں آدمی مارےگئے۔بہت سےجلاوطن ہوئے اور بہت سوںکو  وہ قیدکرکے ساتھ لے گیا۔یروسلم (بیت المقدس) اورمسجد اقصٰی (ہیکل سلیمانی) کو بھی اس نے پیوند خاک بنا دیا۔ یہ تھی پہلی  بار کی سلطنت یہود کی تباہی ، جس کاذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔

بعد ازاں چوتھی صدی ق م میں حضرت عزیر﷤ مبعوث ہوئے۔ جنہوں نےبنو اسرائیل کو متحدکیا اوردین موسوی کی تجدید کاکارنامہ سرانجام دیا۔چنانچہ تقریباً دیڑھ صدی بعد معبد سلیمان پھر سے آباد ہوگیا او راس کی از سر  نو تعمیربھی کی گئی۔ یہودیوں کی حکومت بھی از سر نو مستحکم ہوگئی۔ لیکن جلد  ہی یہ قوم پھر سےتفرقہ و انتشار کاشکار ہوگئی اوربد اخلاقیوں میں پڑ گئی۔بالآخر 70ء میں رومی بادشاہ ’’ٹیٹس‘‘(Titus) نے بزور شمشیریروشلم کو فتح کرلیا۔اس جنگ میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی موت کے گھاٹ اتارے گئے اور 67 ہزار غلام بنائےگئے۔ ہیکل سلیمان کو اس دفعہ بھی مسمار کرکے پیوند خاک بنا دیا گیا۔بعد ازاں دو ہزارسال تک یہود اس علاقہ پر قابض نہ ہوسکے۔ حال ہی میں یعنی بیسویں صدی عیسوی کےوسط میں امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے یہودی اپنی آزاد ریاست اسرائیل بنانےمیں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ تھی بنی اسرائیل کی دوسری بار کی تباہی او رحملہ آوروں کامسجد اقصٰی کو دوسری بار تباہ و برباد کرنےکا قصہ او راسےبھی قرآن مجیدنے بیان فرمایا ہے۔

اب اگر ’’ولیدخلوا المسجد‘‘ میں ’’المسجد‘‘ سے مراد بیت المقدس والی مسجد اقصٰی لی جائے، تو تاریخی حالات اس سے پوری طرح مطابقت کرتے ہیں۔ ورنہ اگر اثری صاحب کے بقول ’’المسجد‘‘ سے مراد ’’مدینہ منورہ‘‘ لیاجائے، تو اس کی دو بارتباہی کرنےوالےکون تھے؟ اور  وہ کون لوگ تھے جن کےمتعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ : ’’ان عدتم عدنا‘‘ اور وہ کون سی مسجد تھی جس میں حملہ آور دوبار داخل ہوئے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی؟ ان سب باتوں کاجواب ادارہ طلوع اسلام کے ذمہ ہے۔

اثری صاحب اورپرویز صاحب کےمتفق علیہ نکات

اب ہم دو ایسے نکات بیان کریں گے جو ان دونوں حضرات کے درمیان مشترک ہیں۔ ان میں سے پہلا درج ذیل ہے:

مشترکہ نکتہ نمبر 9 واقعہ اسراء اور اصل واقعہ ہجرت ہے:

ان دونوں حضرات کا یہ نظریہ ہےکہ واقعہ اسراء دراصل واقعہ ہجرت ہے۔ جو درج ذیل وجوہ کی بناء پر غلط ہے:

$1(1)   مکی زندگی میں رسول اکرم ﷺ پر 86 سورتیں نازل ہوئی تھیں اور مدنی زندگی میں 28۔ ہجرت کے فوراچ بعد یعنی مدنی زندگی کی ابتداء میں سب پہلی سورہ جو نازل ہوئی  وہ سورۃ البقرہ ہے، جس کاترتیب نزول کےلحاظ سے نمبر 87 ہے۔جبکہ  آیہ اسراء سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت ہے اور ترتیب نزول کے لحاظ سے اس سورہ کا نمبر 50 ہے۔اب سوال یہ ہے اگر واقعہ اسراء ہی واقعہ ہجرت ہے تو آیہ اسراء والی یہ سورہ بنی اسرائیل  (نمبر 50) آپؐ کی مکی زندگی کی آخری سورہ ہونی چاہیے۔جبکہ مدینہ میں سب سے  پہلے نازل ہونے والی سورۃ البقرہ کانمبر 87 ہے۔ تو پھر 51 سے لے کر 86 تک 36 سورتیں آخر کس زمانہ میں اورکہاں نازل ہوئی تھیں؟ سورتوں کی ترتیب نزولی کےلحاظ سے زمانہ کاتعین اور اس کی صحت چونکہ تواتر سے ثابت ہے ، لہٰذا ہم لامحالہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ واقعہ اسراء کو واقعہ ہجرت قرار دینا انتہائی بیہودہ بات ہے۔

$1(2)  قرآن مجید کے الفاظ ہیں: ’’سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلا ... الاٰیۃ‘‘ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو راتوں رات سیر کرائی یعنی واقعہ اسراء میں صرف ایک شخص کو لے جایا گیا جبکہ ہجرت صرف رسول اللہ ﷺ نے ہی نہیں کی بلکہ مکہ کے تقریباً تمام مسلمانوں نے کی۔ انفراداً بھی او راجتماعاً بھی اور رسول اللہ ﷺ خو دبھی ہجرت کرنے والے اکیلے نہیں تھے، بلکہ آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی تھے او ریہ بات قرآن کریم کی درج ذیل آیت سے ثابت ہے:

’’ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔الایۃ‘‘ ( التوبۃ:40)

’’ اور جب دو میں  کادوسرا، جب وہ دونوں غار(ثور)میں تھے، اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا ۔ غم نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارےساتھ ہے۔‘‘

پس اس لحاظ سے بھی واقعہ اسراء کو واقعہ ہجرت قرار دینا باطل ہے۔

$1(3)  واقعہ اسراء میں یہ صراحت ہےکہ ’’اسرٰی بعبدہ لیلا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندےکو راتوں رات(یا ایک رات یا کسی نہ کسی رات) سیرکرائی۔گویا واقعہ اسراء کی مدت صرف ایک رات ہے۔ لیکن ہجرت میں مکہ سے قبا تک 15 دن اور 15 راتیں صرف  ہوئیں اورمدینہ تک 18 راتیں۔چنانچہ واقعہ اسراء صرف ایک رات کا قصہ ہے اور واقعہ ہجرت 18 راتوں کا۔ پھر واقعہ اسراء ’’دراصل واقعہ ہجرت‘‘ کیسے بن گیا؟

$1(4)   اسراء کا واقعہ تو رات کو ’’لیلا‘‘ وقوع پذیر ہوا تھا۔لیکن ہجرت کےسفر کا آغاز رات کو نہیں بلکہ عین کڑکتی دوپہر کو ہوا جبکہ گرمی کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے   او رباہر سناٹاساچھا جاتا ہے۔ واقعہ ہجرت کے آغاز کے وقت رات کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اس سلسلہ میں بخاری، کتاب المناقب ’’باب ہجرۃ النبیؐ و اصحابہ‘‘ میں حضرت عائشہؓ کی درج ذیل روایت ملاحظہ فرمائیے :

’’فبینھانحن یوما جلوس فی بیت ابی بکر فی نحو الظھیرۃ قال قائل لابی بکر: ھٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و متقنعا فی ساعۃ لم یکن یاتینا فیھا فقال ابوبکر فداء لہ ابی واُمی واللہ ماجآء بہ فی ھٰذہ الساعۃ الا لامر۔ قالت:فجآء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاستاذن فاذن لہ۔ فدخل فقال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لابی بکر:اخرج من عندک فقال ابوبکر انما ھم اھلک بابی یارسول اللہ قال: انی قد اذن لی فی الخروج۔فقال ابوبکر الصحابۃ بابی انت یارسول اللہ؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:نعم قال ابوبکر فخذ بابی انت یارسول اللہ  احدٰی راحلتی ھاتین قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالثمن قالت عآئشۃ:ف جھزنا ھما احث الجھاز وصنعنالھم سغرۃ فی  جواب فقطعت اسمآء بنت ابی بکر قطعۃ من نطاقھا فربطت بہ علیٰ فم الجواب  فبذٰلک سمیت ذات النطاق قالت:ثم لحق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ابوبکر بغار فی جبل ثور فکمنا فیہ ثلاث لیال‘‘

’’ایک دن ایسا ہواکہ ہم کڑکتی دوپہر کے وقت ابوبکرؓ کے گھرمیں بیٹھے تھے۔اتنے میں ایک کہنے والے(عامر بن فہیرہ۔ حضرت ابوبکرؓ کےغلام) نے کہا، ’’دیکھو یہ آنحضرتﷺ آن پہنچے، سرچھپائے ہوئے او رایسے وقت تشریف لائے جو آپؐ کے معمول کے خلاف ہے۔‘‘ ابوبکرؓ کہنےلگے۔’’ان پرمیرے ماں باپ قربان، آپؐ کا اس وقت تشریف لانا ضرور کسی اہم معاملہ  میں ہے۔‘‘ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اتنے میں  رسول اللہ ﷺ آن پہنچے اور اندر آنے کی اجازت چاہی جو انہیں دے دی گئی۔ آپؐ داخل ہوئے تو ابوبکرؓ سےکہنےلگے، ’’ذرا موجود لوگوں سے باہرجانے کو کہیئے۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ کہنےلگے: ’’یارسول اللہ ﷺ، میرا باپ آپ پرصدقے، یہاں آپؐ کےگھر والے ہی تو ہیں!‘‘ (کوئی غیر آدمی یہاں موجود نہیں)آپؐ نےفرمایا: ’’مجھے ہجرت کی اجازت ملی گئی۔‘‘ ابوبکرؓ کہنےلگے:’’میراباپ آپؐ پر صدقے، کیامیں بھی  آپؐ کےساتھ ہوں گا؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:’’ہاں! حضرت ابوبکرؓ  کہنے لگے ’’تو ان دونوں اونٹنیوں میں سے جونسی آپ چاہیں لےلیجئے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، مگر قیمتاً لوں گا‘‘ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: اب ہم نےجلدی جلدی دونوں کا  سفر کا سامان تیار کیا اور توشہ چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھا۔ اب اسماءؓ (میری بہن)نے اپنا کمر بند پھاڑا اور اس  (کے ایک حصہ سے ) تھیلے کا منہ باندھ دیا۔اسی وجہ سے اسماء ؓ کا لقب ذات النطاق (یا ذات النطاقین) پڑ گیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ او رابوبکرؓ دونوں روانہ ہوکر اس غار  میں چلےگئے جو جبل ثور میں ہے۔ اس جگہ آپ دونوں تین راتیں چھپے رہے۔‘‘

او ریہ جومشہور ہے کہ آپؐ نے اپنی ہجرت کے سفر کاآغاز رات کو کیا۔ رات کو آپؐ نے اپنے بستر پر حضرت  علیؓ کو لٹا دیا۔باہر آپؐ کو قتل کرنےکے ارادہ سے آئے ہوئے کفار نے آپؐ کےگھر کا محاصرہ کررکھا تھا۔آپؐ سورہ یٰسین پڑھتے ہوئے گھر سے نکلے اور ایک مٹھی ریت ان کفار کی طرف پھینکی جس سےوہ سب اندھے ہوگئے، پھر آپؐ حضرت ابوبکرؓ کےگھر آئے تو یہ روایت سخت غیر معتبر ہے۔اس روایت کادرج ذیل حصہ ملاحظہ فرمائیے:

’’راوی نے کہا، جب رات کا اندھیرا ہوا تو قریش کے منتخب جوان آپؐ کے دروازے پر جمع ہوگئے اور انتظار کرنےلگے کہ آپؐ سوجائیں تو حملہ کریں۔رسول اللہﷺ نے انہیں دیکھا تو حضرت علیؓ سے فرمایا ، تم میرےبستر پر لیٹ جاؤ اورمیری سبز حضرمی چادر اوڑھ لو۔اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ باہرنکلے۔ایک مٹھی بھر خاک ان کی طرف پھینکی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائیاں چھین لیں ۔ آپؐ ان کے سروں پر خاک ڈالتےجاتے اور سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات ’’فھم لا یبصرون‘‘ تک پڑھ رہےتھے۔ تلاوت سے فارغ ہونےتک کوئی شخص بھی باقینہ رہا جس کےسر پر آپؐ نے خاک نہ ڈالی ہو۔ آپؐ نکل گئے تو ایک شخص آکر کہنے لگا۔تم کس چیز کاانتظار کررہے ہو؟ محمدؐ تو تمہارے سامنےسےنکل گئے اورتمہارے سروں پر خاک ڈال کرنکلے ہیں۔ ہرشخص نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ اس پر خاک پڑی ہوئی ہے۔‘‘ (ابن ہشام ج1 ص530 تا532 ملحضاً ۔ترجمہ اُردو)

سو یہ ہے وہ روایت جس کی بناء پر یہ بات مشہور ہوگئی کہ آپؐ نے ہجرت کے سفر کا آغاز رات کو کیاتھا۔ یہ روایت جیسی میسر ہوسکتی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس روایت میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ قریش نے فی الواقعہ آپؐ کو اور آپؐ کی تحریک کو ختم کرنےکادارالندوہ میں مشہور کیاتھا۔ قید ، جلاوطنی اور قتل سب پہلو سامنے آئے۔بالآخر قتل پر اتفاق ہوگیا اور وہ یوں کہ ہر قبیلہ کاایک ایک آدمی اس واردات میں شریک ہو۔ رات کو آپؐ کےگھر کامحاصرہ کیاجائے۔ صبح جب نکلیں تو آپؐ پر سب یکبارگی حملہ کردیں اور یہ قصہ ختم کردیں اس طرح بنوہاشم قصاص وغیرہ کا مطالبہ بھی نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ جس رات ان کفار نے آپؐ کےگھر کامحاصرہ کرناتھا، اس کی اطلاع بذریعہ وحی آپ ؐ کو ہوگئی۔ آپؐ کو ہجرت کی اجازت بھی مل گئی۔ لیکن آپؐ رات سےپہلے ہی دوپہر کے سناٹے میں چھپتے چھپاتے حضرت ابوبکرؓ کےگھر پہنچے اورنہایت رازداری سے اس سفر کاآغاز کڑکتی دوپہر میں کیا۔ ایک دوسری روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپؐ اور حضرت ابوبکرؓ، ابوبکر کےگھر کی پچھلی کھڑکی کی طرف سےنکلے تھے اور یہ  سب کچھ از راہ راز داریتھا۔ حضرت ابوبکرؓ کےگھر آنے سے پیشتر آپؐ نے حضرت علیؓ کو بھی اپنےروانہ ہونے کی اطلاع کردی تھی اورکہاکہ رات میرے بستر پر سوجائیں۔ تاکہ کفار کم از کم کل صبح تک ہماری روانگی کی طرف سے غافل رہیں۔ آپؐ نے حضرت علیؓ کو یہ بھی تاکید فرمائی تھی کہ مدینہ آنے سے پیشتر لوگوں کو وہ امانتیں پہنچا دیں، جو کفار نے حضور اکرمﷺ کے پاس رکھی تھیں۔ آپؐ کی اس تدبیر کانتیجہ واقعی یہی نکلا کہ دوسرے دن  کی صبح تک کفار کو آپؐ کی روانگی کاعلم نہ ہوسکا۔ پھر جب کفار کو اس بات کاعلم ہوا، تو غیظ و غضب سےدیوانے ہوگئے اور آپؐ کی تلاش کی مہم کا آغاز کیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ آگے چل کر خود ابن ہشام نے بھی ’’سفر ہجرت‘‘ کےعنوان کےتحت بخاری کی مذکورہ بالا حدیث درج کرکے یہ تسلیم کرلیا ہےکہ آپؐ کی ہجرت کےسفر کاآغاز فیالواقعہ دوپہر کو ہواتھا۔ (ایضاً صفحہ 534۔ 535)

اب جب یہ ثابت ہوگیا کہ ہجرت کے سفر کاآغاز تو دوپہر کو ہوا تھا اور اسراء رات کو ہوا تھا تو پھر اسراء کےواقعہ کو ہجرت کاواقعہ کیسے قرار دیاجاسکتا ہے۔؟                                                                                                                                                                 (جاری ہے)