محاصرہ:
شوال 35ہجری میں ان فتنہ پرداز قافلوں کی روانگی کا آغاز ہوا۔بصرہ سے حرقوص بن زبیر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ روانہ ہوا۔ کوفہ سے مالک بن اشتر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ نکلا جبکہ غافقی بن حرب کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ مصر سے روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر یہ تینوں قافلے اکٹھے ہوگئے۔ او رمدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوکر حالات کا جائزہ لینےکے لیےاپنے قاصد روانہ کئے۔چنانچہ چند آدمی بصورت وفد حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، اور امہات المؤمناتؓ سے ملے اور اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ ان حضرات نے انہیں ملامت کرکے واپس جانےکو کہا۔مگر شرپسندوں نے کہاکہ ہم آپ کے مرسلہ مکتوب کے تحت آپ کی بیعت کرنے آئے ہیں۔ ہم سے بیعت لیں۔ان حضرات نے حلفاً مکتوب وغیرہ روانہ کرنے سے متعلق اپنی لا علمی کااظہار کیا۔تاہم طویل گفتگو کے بعد حاکم مصر کی معزولی اور محمد بن ابی بکر کی تقرری پر رضا مندی کااظہار کیا۔ حضرت علیؓ کے مشورہ سے حضرت عثمانؓ نے محمد بن ابی بکر کو ان کی مرضی کےمطابق عامل مقرر کرکے بلوائیوں کو واپس بھیج دیا۔ چند دن کے بعد تمام باغی گروہ نعرہ تکبیر بلند کرتےہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ حضرت علیؓ نے ہر چند سمجھایا مگر بلوائی نہ مانے۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت علیؓ بادل نخواستہ مدینۃ النبیؐ سےباہر چلے گئے، تاہم حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو مسلح ہوکر حضرت عثمانؓ کے دروازے پر موجود رہنے کی تاکید کی۔ اسی طرح حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی اپنے صاحبزادوں کو حفاظت عثمانؓ کے لیے بھیج دیا۔
حضرت عثمانؓ کی تقریر:
جب بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کا پانی بھی بند کردیا تو آپؓ ایک دن مکان کی چھت پر کھڑے ہوکر یوں گویا ہوئے:
''انشدکم اللہ والاسلام ھل تعلمون أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم قدم المدینة ولیس بھامآء یستعذب غیر بئر رومة فقال من یشتری بئر رومة یجعل دلوہ مع دلآء المسلمین بخیر له منھا فی الجنة فاشتریتھا من صلب مالی و انتم الیوم تمنعو ننی أن أشرب منھا حتیٰ اشرب من مآء البحر فقالوا اللٰھم نعم فقال انشدکم اللہ والاسلام ھل تعلمون إن المسجد ضاق باھله فقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم من یشتری بقعة اٰل فلان فیز یدھا فی المسجد فاشتریتھا من صلب مالی فانتم الیوم تمنعو ننی أن أصلی فیھا رکعتین فقالوا أللھم نعم قال أنشدکم اللہ والاسلام ھل تعلمون إنی جھزت جیش العسرة من مالی قالوا اللھم نعم قال أنشدکم اللہ والإسلام ھل تعلمون أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم کان علیٰ ثبیر مکة و معه ابوبکر و عمر وانا فتحرک الجبل حتیٰ تساقطت حجارته بالحضیض فرکضه برجله قال أسکن ثبیر فانما علیک نبی و صدیق و شھید أن قالوا اللھم نعم قال اللہ أکبر شھدوا و رب الکعبة إنی شھید ثلاثا'' (مشکوٰة باب مناقب عثمانؓ)
''میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں سوائے بئررومہ کے پینے کےلیےمیٹھا پانی نہ تھا نبی نے فرمایا:''جو شخص بئر رومہ کو خرید کر وقف کردے او راپنے ڈول کو مسلمانوں کا ساڈول سمجھے اس کابدلہ جنت میں نیکی ہو۔'' چنانچہ میں نے یہ کنواں اپنےمال سے خریدا۔ لیکن آج تم لوگ اس کنویں کا پانی پینے سے مجھ کو روکتے ہو اور میں سمندر کا کھارا پانی پی رہا ہوں۔'' انہوں نے کہا:''بخدا یہی بات ہے '' (پھر فرمایا)میں تمہیں خدا اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، تمہیں معلوم ہے کہ نمازیوں کے لئے جگہ تنگ تھی۔نبی نے فرمایا کہ ''جوشخص فلاں کی زمین کو خرید کر مسجد کو بڑھا دے اس کو جنت میں چن کر بدلہ دیاجائے گا۔'' تو میں نے اپنے مال سے اس زمین کو خرید کیا، آج تم مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔'' انہوں نےکہا : ''بخدا درست ہے۔'' پھر فرمایا: '' میں تمہیں خدا اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، تمہیں معلوم ہےکہ میں نےتبوک کےلشکر کاسامان اپنےمال سے درست کیا؟'' انہوں نے کہا، ''بخدا، درست ہے'' پھر فرمایا: '' میں تمہیں خدا او راسلام کے حوالےسےپوچھتا ہوں کیاتمہیں معلوم ہے کہ نبی مکہ میں کوہ ثبیرپرتشریف فرما تھے، اور آپؐ کےساتھ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اورمیں بھی تھا۔پہاڑ حرکت کرنےلگا او رپتھر نیچے گرنےلگے تو نبی نے پاؤں سے ٹھوکر مار کر فرمایا: ''تبیر ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیقؓ اور دو شہیدؓ ہیں۔'' انہوں نے کہا، ''بخدا، ٹھیک ہے!'' اس پر حضرت عثمانؓ نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے فرمایا: کہ ''تم نے شہادت ادا کردی، بخدا میں شہیدہوں۔'' یہ جملہ تین بار فرمایا''
اس تقریر کا بلوائیوں پر ایسا اثر ہوا کہ اکثر خود بھی قتل خلیفہ سےرک گئے اور دوسروں کو بھی روکنے لگے۔اتنےمیں مالک بن اشتر کوفی آیا اور اس نےشرپسند اور تخریب کار عناصر کو اس طرح ابھارا کہ وہ پھر قتل خلیفہ پر آمادہ ہوگئے۔ حضرت عثمانؓ نے مالک بن اشتر سے کہا ''تم کیا چاہتے ہو؟'' اس نےجواب دیا ''خلافت سے دست بردار ہوجاؤ'' آپؓ نے فرمایا: ''یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جوقمیص مجھے اللہ تعالیٰ نےپہنائی ہے وہ خود ہی اتار دوں اور اُمت محمدیہؐ کے لئےظلم و ستم کے دروازےکھول دوں'' (طبقات ابن سعد صفحہ 3؍73)
پھر فرمایا: ''خدا کی قسم اگر تم مجھے قتل کرو گے تو کبھی بھی آرام و سکون اور محبت و یگانگت کی زندگی بسر نہ کرسکو گے۔نہ ہی ایک امام کی اقتداء میں رہ سکو گے اورنہ ہی اسلام کے دشمنوں سے لڑائی کرسکو گے، بلکہ تمہاری آپس میں ہی خانہ جنگی ہوگی۔'' (طبقات ابن سعد صفحہ 3؍68)
حضرت عبداللہ بن سلامؓ کی تقریر:
حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے بھی محاصرین سے فرمایا: ''لوگو تم عثمانؓ کو قتل نہ کرو ۔تم میں سے جو شخص عثمان ؓ کو قتل کرے گاوہ اللہ تعالیٰ سے کوڑھی ہوکرملے گا۔ شمشیر خدا اب میان میں ہے، اگر تم نے عثمانؓ کو قتل کردیا تو خدا کی قسم وہ تلوار کو میان سے کھینچے گاپھر وہ قیامت تک میان میں نہ جائے گی۔ لوگو! جب کوئی نبی قتل کیاجاتا ہے تو ستر ہزارانسانوں کوقتل کیا جاتاہے او رجب کوئی خلیفہ قتل کیا جاتا ہے تو پنتیس ہزار جانوں کو قتل کیا جاتا ہے، تب وہ قوم پھر جمع ہوتی ہے۔(تاریخ الخلفاء للسیوطی)
اصل الفاظ یوں ہیں:
''لاتقتلوہ فواللہ لا یقتله رجل منکم الا لقیاللہ اجذم لابدله وان سیف اللہ لم یزل مخمودا وإنکم واللہ إن قتلتموہ لیسلنه اللہ ثم لایخصده عنکم أبدا و ما قتل نبی إلا قتل سبعون ألفا ولا خلیفۃ إلا قتل به خمسة و ثٰلثون ألفا قبل أن یجتمعوا''
شہادت:
بلوائی متعدد بار حملہ آور ہوئے، مگر دروازہ پر سے پہرے دارانہیں بھگا دیتے۔ حضرت مغیرہؓ بن اخنس اس منظر کو برداشت نہ کرسکے۔ چند آدمیوں کی معیت میں مقابلہ پراتر آئے۔ بالآخر اسی مقابلہ میں حضرت عثمانؓ سے پہلے شہید ہوئے۔ حضرت ابوہریرۃؓ بھی بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے، مگر حضرت عثمانؓ کےمنع کرنے سے رُک گئے۔پہرے دار دروازہ پر متعین تھے۔مگر بلوائی کسی ہمسایہ کے مکان سے حضرت عثمانؓ کے گھر میں گھس آئے۔ سب سےپہلے محمد بن ابی بکرؓ نے حضرت عثمانؓ کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا: ''اے لمبی ڈاڑھی والے تجھے اس بڑھاپے میں بھی خلافت کی ہوس ہے؟'' تو حضرت عثمانؓ نے فرمایا: ''اے محمد بن ابی بکر، اگر آج تمہارے باپ حضرت ابوبکر صدیقؓ زندہ ہوتے تو میری اس پیرانہ سالی کی قدر کرتے۔ انہوں نے زندگی بھر میری اس سفید ڈاڑھی کی قدر کی۔ '' یہ سن کر محمد بن ابی بکر شرما گیا اور واپس چلا گیا۔بعد ازاں بلوائیوں کاایک گروہ اندر آیا اور حضرت عثمانؓ پرتلوار سے حملہ کردیا۔ آپؓ کی بیوی حضرت نائلہؓ نے فوراً تلوار کےوار کو روکا جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور ان کی چیخ نکل گئی۔ مگر یہ آواز محافظ صحابہ کرامؓ تک پہنچ نہ سکی۔ دوسرے وار سے خون عثمانؓ کےقطرے آیت قرآنی ''فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم'' پر گرے اور آپؓ روزہ کی حالت میں شہید ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صحابہ کرامؓ کو حضرت نائلہؓ کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب بلوائی اپنا کام کرچکے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت حسنؓ بن علیؓ اس کوشش میں زخمی ہوئے۔ (البدایہ والنہایہ صفحہ 7؍188)
قاتل فرار ہوئے، بعض حضرت عثمانؓ کے غلاموں کے ہاتھوں مارے گئے اور دو غلاموں نےبھی اس کوشش میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اب پہرہ دینے اور حفاظتی دستہ متعین کرنےکی ضرورت باقی نہ رہی۔ عمرو بن حمق نے حضرت عثمانؓ کے جسم اطہر پر نیزے کے 9 زخم لگائے جبکہ ایک ظالم عمیرنے پاؤں س ٹھوکریں ماریں جس سے آپؓ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔داماد رسولؐ سیدناعثمانؓ ذوالنورینؓ کی نعش تین دن تک بےگوروکفن پڑی رہی۔ تیسرے دن حضرت جبیرؓ بن مطعم، حضرت حکیم بن حزامؓ، حضرت ابوجہمؓ بن حذیفہ اور حضرت خیار بن مکرمؓ اسلمی نے بعد نماز عشاء جنازہ اٹھایا۔ حضرت جبیر بن مطعمؓ نےنماز جنازہ پڑھائی، جبکہ باقی تین ساتھی اور حضرت عثمانؓ کی دونوں بیویاں مقتدی تھے۔
حضرت حکیم بن حزامؓ اور آپؓ کی دونوں بیویاں نگرانی کرتے رہے۔باقی تین آدمیوں نےجنت البقیع کےجنوب مشرقی کونے میں آپؓ کو لحد میں اُتارا اور قبربرابر کردی تاکہ پہچان نہ ہوسکے۔ رضی اللہ عنہ۔
شہادت عثمانؓ پر حضرت علیؓ کابیان:
حضرت علیؓ کو جب شہادت عثمانؓ کی اطلاع لوگوں نے دی تو آپؓ نےفرمایا: ''تبالکم اٰخرالدھر'' (الاستیعاب ، رحمۃ للعالمینؐ صفحہ 2؍99)''اب تم پر ہمیشہ بربادی اورتباہی مسلط رہے گی۔''
اور البدایہ میں ہے ، ابوجعفر انصاری بیان کرتے ہیں کہ ''جب عثمانؓ شہید کئے گئے تو میں حضرت علیؓ کے پاس آیا۔ اس وقت آپؓ کے سر پر سیاہ پگڑی تھی۔میں نےکہاکہ ''بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہیدکردیا ہے'' آپؓ نے فرمایا: ''قیامت تک ان قاتلوں پر بربادی ، ہلاکت اور لعنت برستی رہے گی۔'' (البدایہ والنہایہ لابن کثیر صفحہ 7؍193)
حضرت قیس بن عبادہ فرمات ہیں کہ ''میں نے جنگ جمل کےدن حضرت علیؓ کو یہ فرماتے سنا: ''الٰہی میں خون عثمانؓ سے اپنی بریت کا اظہار کرتاہوں، بلا شبہ شہادت عثمانؓ کےدن میرے ہوش اڑ گئے اور میں نے اسے بُرا جانا۔لوگ بیعت کےلیے میرےپاس آئے تو میں نےکہا:''خداکی قسم مجھے شرم آتی ہے کہ میں ایسی قوم سے بیعت لوں جس نے حضرت عثمانؓ کو قتل کردیاہے اور پھر ایسی حالت میں کہ حضرت عثمانؓ بےگوروکفن ہوں۔'' اس کےبعد لوگ واپس چلے گئے۔پھر دوبارہ لوٹ آئے اور بیعت کاسوال کیا میں نے کہا:''الٰہی ابھی اس کام پر جرأت کرنےسے ڈرتا ہوں'' پھر لوگ بضد ہوکر آئے تو میں نےبیعت لےلی۔لوگوں نے امیرالمؤمنین کہہ کر میرے سینہ کو چاک کردیا ۔میں نے کہا :''خدایا کچھ بھی ہو، تو حضرت عثمانؓ کومجھ سے راضی کردے۔'' (تاریخ الخلفاء للسیوطی)
اصل الفاظ یوں ہیں:
''اللھم انی ابرء الیک من دم عثمان، ولقد طاش عقلی یوم قتل عثمان، وانکرت نفسی جآء ونی للبیعۃ فقلت واللہ انی لا ستحی ان ابایع قوما قتلوا عثمان وانی لا ستحی من اللہ ان ابایع و عثمان لم یدفن فانصرفوا فلما رجع الناس فسألونی البیعۃ فقلت اللھم انی مشفق مما اقدم علیہ ثم جآءت عزیمۃ فبایعت فقالوا یا امیرالمومنین کانما صدغ قلبی وقلت اللھم خذمنی لعثمان حتی ترضٰی''
حضرت حسنؓ کی روایت کےمطابق حضرت عثمانؓ نےمحاصرہ کےدن حضرت علیؓ کوبلانے کےلیےایک آدمی بھیجا۔حضرت علیؓ تیارہوئے تو بلوائیوں نے روک لیا اورکہا ''اےعلیؓ، تم ان لشکروں کونہیں جانتے، ہم تمہیں آگےنہیں جانے دیں گے۔'' حضرت علیؓ نے اپنی سیاہ پگڑی اتار کر قاصد عثمانؓ کی طرف پھینک دی اور کہاکہ ''امیرالمؤمنین کو سارا ماجرا کہہ دو، میں مجبور کردیاگیاہوں۔'' پھر اسی حالت میں مدینہ چھوڑ کر احجاز الزیت چلے گئے۔جب آپؓ کو شہادت عثمانؓ کی خبر ملی تو آپؓ (حضرت علیؓ) نے فرمایا:''اے اللہ میں تیرے سامنے خون عثمانؓ سے اپنی بریت پیش کرتاہوں ، میں نےقتل کیا ہو یا اشارہ بھی کیاہو۔'' (طبقات ابن سعد:صفحہ 3؍68)
اصل الفاظ یوں ہیں:
''ان عثمان بعث الیٰ علی وھو محصور فی الدار ان ائتنی فقام علی لیاتیہ فقال بعض اھل علی حتٰی حبسہ وقال الابٰری مابین یدیک من الکتائب؟ لا تخلص الیہ وعلیٰ علی عمامۃ سودآء فنقضھا علیٰ رأسہ ثم فی بھاالیٰ رسول عثمان وقال اخبرہ بالذی قدرایت ثم خرج علی من المسجد حتی انتھیٰ الیٰ احجاززیت فی سوق المدینۃ فاتاہ قتلہ فقال اللھم انی آبرء الیک من دمہ ان اکون اومأمت علیٰ قتلہ'' (طبقات ابن سعد: صفحہ 3؍68)
اور حضرت ابوالعالیہؓ کی روایت کے مطابق: ''پھر حضرت علیؓ حضرت عثمانؓ کی لاش کے پاس آئے اور اس قدر روئے کہ ہمیں حضرت علیؓ کی موت کاخدشہ پیدا ہوگیا۔'' (البدایہ والنہایہ صفحہ7؍193)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے فرمایا:
''ان شآء الناس حلقت لھم عند مقام ابراھیم باللہ ما قتلت عثمان ولا امرت بقتلہ ولقد نھیتھم فعصونی'' (ایضاً)
''اگر لوگ چاہیں تو میں مقام ابراہیمؑ کے پاس کھڑا ہوکر اللہ کی قسم کھانےکو تیارہوں کہ نہ میں نے حضرت عثمانؓ کو قتل کیاہے اور نہ اس کا حکم دیا ہے۔بلکہ میں بلوائیوں کو روکتا رہا، مگر ان ظالموں نےمیری ایک نہ مانی'' (البدایہ والنہایہ صفحہ 7؍193)
آہ! مظلوم شہید، داماد رسولؐ،خلیفہ ثالث سیدناعثمانؓ ذوالنورینؓ کاخون آلودہ کرتہ اور ان کی بیوی نائلہؓ کی کٹی ہوئی انگلیاں دمشق کی جامع مسجد میں برسر عام پڑیرہیں، جن کو دیکھ دیکھ کر لوگ سال بھر روتے رہےاور اکثر لوگوں نےتو اپنی بیویوں کے پاس جانا چھوڑ دیا۔''(البدایہ صفحہ7؍227)
حضرت قاسمؓ بن امیہ نے شہادت عثمانؓ کی خبر سن کر فرمایا: ؎
''لعمری لبئس الذبح ضحاھم بہ
خلاف رسول اللہ یوم اضاحیا
''لوگو! خداکی قسم، تم نے نبی کے بعد قربانی کےدن بہت بُری قربانی دی ہے۔''
کعب بن مالک نے کہا: ؎
قاتل اللہ قوما کان امرھم
قتل الامام الزکی الطیب الرون
ما قتلوہ علی ذنب الم بہ
الا الذی لطقوا زورا ولم یکن
(حاشیہ رحمۃ اللعالمین صفحہ 101 ج2، بحوالہ نہج البلاغۃ مطبوعہ تبریز)
''خداوند قدوس اس قوم کو تباہ و برباد کرے، جس نے پاک طینت، برگزیدہ امام کو قتل کیا۔ وہ کسی گناہ کی وجہ سےقتل نہیں کیاگیا، بلکہ لوگوں کی خود ساختہ اور بے اصل باتوں کی وجہ سےقتل کیا گیا ہے۔''
حضرت حسان بن ثابتؓ نےکہا: ؎
من سترہ الموت صرفا لا مزاج لہ
فلیأت ما سدۃ فی دار عثمانا
صخوا باشمط عنوان السجود بہ
یقطع اللیل تسبیحا و قراٰنا
صبرا فدی لکم امی و ما ولدت
قدینفح الصبر فی المکروہ احیانا
لتسمعن و شیکافی دیارھم
اللہ اکبر یاثارات عثمانا
(اسد الغابہ ذکر عثمانؓ ۔مختصر سیرت الرسول عربیؐ مطبوعہ سلفیہ لاہور صفحہ 491)
''جو کسی آمیزش سے پاک موت دیکھنے کا خواہشمند ہے ۔اسے چاہیے کہ عثمانؓ کے گھر جائے۔ لوگوں نے اس کو قتل کر ڈالا جس کی پیشانی پر سجدہ کے نشان تھے، اور وہ تمام رات قرآن کی تلاوت او رنماز پڑھنے میں گزار دیتاتھا۔ مسلمانو! صبر کرو میری ماں اور بھائی قربان ہوں۔بلاشبہ مصیبت کے وقت صبر ہی نفع بخشتا ہے۔ تم ضرور ان کے شہروں میں تاخت و تاراج کی خبر سنو گے او راللہ اکبر کی آوازوں کے ساتھ انتقام کے نعرے سنو گے۔''
مزید فرمایا: ؎
فکف یدیہ ثم اغلق بابہ
وایقن ان اللہ لیس بغافل
وقال لا ھل الدار لاتقتلو ھم
عفااللہ عن ذنب امریلم یقاتل
فکیف رایت اللہ القیٰ علیہم
العداوۃ والبغضآء بعد التواصل
وکیف رایت الخیر ادبر بعدہ
عن الناس ادبار السحاب الحوامل
(مختصر سیرت الرسولؐ صفحہ 492)
''اس نے اپنا ہاتھ روک کر دروازہ بند کردیا او ریقین کرلیا کہ خدا غافل نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سےکہہ دیا کہ دشمنوں کو قتل نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرے گا جومسلمان کو قتل نہیں کرتا۔پھر تم نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی مصیبت نازل کی، یعنی باہمی الفت کے بعد باہمی بغض و عداوت میں مبتلا ہوگئے۔ تو نے دیکھ لیا ، عثمانؓ کے بعد بھلائی لوگوں سےکیونکر پیٹھ پھیرکر چل دی؟ گویا آندھی تھی۔ آئی اور نکل گئی!''