محمد صدیق مغل، 9؍11 دہلی کالونی کراچی سے لکھتے ہیں :
’’کیا عورت اپنے شوہر کی میّت کو ہاتھ لگاسکتی  اور اسے دیکھ سکتی ہے؟‘‘
الجواب بعون اللہ الوھاب، اقول و باللہ التوفیق:
ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اس کے برخلاف خاندانی رسوم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے۔
اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے۔
اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں۔
حالانکہ متعدد احادیث و آثار سے ثابت ہےکہ زوجین میں سے ایک کی وفات کے بعد، ان میں سے زندہ شخص میّت کو ہاتھ لگانا اور دیکھنا تو درکنار، غسل تک دے سکتا ہے۔درج ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:
$1(1)  ’’عن عائشة قالت رجع رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم من جنازة بالبقیع وأنا أجد صداعا فی راسی و أقول وارأساہ، فقال:بل انا وارأساہ ماضرک لومت  قبلی  فغسلتک و کفنتک، ثم صلیت علیک و دفنتک‘‘ (احمد، ابن ماجہ،نیل الاوطار:2؍58)
امام شوکانی فرماتے ہیں، اس حدیث کو امام دارمی، ابن حبان اور دارقطنی نےبھی روایت کیا ہے۔
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کےرسول ﷺ جنت البقیع میں جنازہ سے فارغ ہوکر واپس لوٹتے تو میرا سردرد کررہا تھا۔ اور اس وجہ سے میں’’ہائے میرا سر‘‘ کہہ رہی تھی۔ تو آپؐ نے فرمایا: ’’یہ الفاظ تو میں کہوں، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو تمہیں کوئی ضرر نہیں، میں خود تمہیں غسل دوںگا ، کفن پہناؤں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھ کر خود تمہیں دفن کروں گا۔‘‘
اس حدیث کے متعلق امیرصنعانی سبل السلام ، شرح بلوغ المرام 2؍550 میں فرماتے ہیں:
’’وصححہ ابن حبان‘‘ کہ ’’اس حدیث کو امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں:
’’فیه دلالة علیٰ أن للرجل ان یغسل زوجته وھو قول الجمہور وقال ابوحنیفة لا یغسلھا‘‘
کہ ’’اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ مرد اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ یہی جمہور کا قول ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو غسل نہیں دےسکتا۔‘‘
$1(2)  ’’عن عائشة رضی اللہ تعالیٰ عنها إنھا کانت تقول: لو إستقبلت من الأمر ما استدبرت ما غسل رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم الانسأء‘‘ (احمد، ابوداؤد ابن ماجہ ، نیل الاوطار 2؍58)
’’حضرت عائشہ صدیقہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ ’’جو خیال ہمیں بعد میں آیا، وہ پہلے آجاتا تو اللہ کے رسولؐ کو آپؐ کی ازواج کے سوا کوئی دوسرا غسل نہ دیتا۔‘‘
امیرصنعانی فرماتے ہیں: ’’صححہ الحاکم‘‘ کہ ’’اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘ (سبل السلام 2؍550)
$1(3)  ’’ویؤیده مارواء البیهقى من أن ابابکر اوصٰی إمرأته اسماء بنت عمیس أن تغسله و استعانت بعبد الرحمٰن بن عوف لضعفها ولم ینکر احد‘‘ (سبل السلام 2؍551)
(امام صنعانی فرماتے ہیں:) ’’اس مسئلہ کی تائید میں وہ روایت بھی ہے جسے امام بیہقی نےروایت کیا کہ : حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی بیوی حضرت اسماء بنت عیس ؓ کو وصیت کی تھی کہ وہ انہیں غسل دیں۔ چنانچہ انہوں نے غسل دیا اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے تعاون کی طالب ہوئیں، کیونکہ وہ اکیلی یہ کام نہ کرسکتی تھیں۔ اس عمل پر کسی بھی شخص نے انکار نہ کیا۔‘‘
یہی واقعہ  مؤطا امام مالک کی ’’کتاب الجنائز‘‘ میں یوں ہےکہ عبداللہ بن ابی بکرؓ فرماتے ہیں: ابوبکر صدیقؓ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے ابوبکر صدیقؓ کو ان کی وفات کے بعد غسل دیا ۔ وہ گئیں او رمہاجرین صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ ’’میں روزہ سےہوں اور آج شدید سردی ہے۔کیا میت  کو غسل دینے کی وجہ سے مجھ پر غسل کرنا واجب ہے؟‘‘ صحابہؓ نے فرمایا: ’’نہیں!‘‘
$1(4)  ’’عن اسمآء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنها، أن فاطمة رضی اللہ عنها أوصت أن یغسلھا علی رضی اللہ تعالیٰ عنه‘‘ (رواہ الدارقطنی، بلوغ المرام:2؍550)
’’حضرت اسماء بنت عمیسؓ فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے شوہر حضرت علیؓ غسل دیں۔‘‘
$1(5)  ’’وغسل ابن مسعودرضی اللہ  تعالیٰ عنه إمرأته حین ماتت‘‘ (کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ 1؍163)
’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ جب فوت ہوئیں تو انہوں نےاپنی بیوی کو خود غسل دیا۔‘‘
$1(6)  ’’وکانت الصحابة رضی اللہ عنهم  یغسلون أزواجھم و کانت نسآء ھم تغسلھم‘‘ (کشف الغمۃ)
’’صحابہ کرامؓ اپنی ازواج کو خود غسل دیاکرتےتھے اور ان کی بیویاں اپنے خاوندوں کوغسل دیا کرتی تھیں۔‘‘
$1(7)   حدیث نمبر 3 کےتحت حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ان کی بیوی کے غسل دینےکا جو واقعہ ذکر ہوا، اسے ذکر کرکے امام ابوحنیفہ کے خاص شاگرد امام محمدفرماتے ہیں:
’’وبھٰذا نا خذو لابأس ان تغسل المرأۃ زوجھا اذا توفی‘‘ (مؤطا امام محمد)
’’ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خاوند کی وفات پر اسے عورت غسل دے تو کوئی حرج نہیں۔‘‘
اسی حدیث پر مشہور حنفی عالم مولانا عبدالحئ لکھنوی فرماتے ہیں:
’’نقل ابن المنذر وغیرہ الاجماع علیٰ جواز غسل المرأۃ زوجھا وانما اختلفوا فی العکس فمنھم من اجازہ والیه مال الشافعی و مالک و احمد و اخرون ومنھم من منعه و ھو قول الثوری والاوزاعی و ابی حنیفة و اصحابه کذاذکرہ العینی‘‘ (التعلیق الممجد علیٰ موطا امام محمد صفحہ 129 دہلی)
’’یعنی ابن المنذر اور دوسرے محدثین نے نقل کیا ہے کہ شوہر کو بیوی کے غسل دینےکے جواز پر اجماع ہے۔ لیکن اس کے برعکس یعنی شوہر کے بیوی کو غسل دینےمیں اختلاف ہے۔امام شافعی، مالک اور احمدتو جواز کےقائل ہیں مگر امام ابوحنیفہ او ران کے ساتھی ، مرد کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ عورت کو غسل دے سکے۔‘‘
مذکورہ دلائل سےمعلوم ہوا کہ زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کو (یعنی خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو)غسل دےسکتے ہیں۔اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہی زیادہ بہتر ہے۔جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہوا!
چنانچہ جب غسل دینا جائز ثابت ہوا تو ہاتھ لگانے، دیکھنے اور قبرمیں اتارنے میں کیا چیز مانع ہے؟
ھٰذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب!