وہ ہینڈ بل کراچی میں تیار ہوا، لیکن لاہور میں تقسیم ہوا او رہاتھوں ہاتھ ادارہ محدث تک بھی  پہنچا۔ یوں اغلب گمان یہی ہے کہ ملک عزیز کے تقریباً تمام بڑے بڑے شہروں میں ضرور بانٹاگیا ہوگا۔ جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہےکہ اس کے آخر میں’’شرعی ذمہ داری‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے:
ملّت جعفریہ کے تمام شیعان علیؑ کےمومنین و مومنات (جذبہ امامیہ سےسرشار) پرفرض ہے کہ وہ اس دعوت مبین کی تشہیر و تبلیغ بذریعہ فوٹو کاپی ؍طباعت (چھپوا کر) یا خود پڑھ کر کریں اور ثواب حصل کریں!‘‘
چنانچہ ادارہ محدث کو ایک نہیں، بلکہ ایک ہی مضمون کی دو مختلف قسم کی فوٹو کاپیاں ملیں جن میں سے ایک کا عکس شمارہ زیر نظر کے صفحہ 10۔11 پر دیکھا جاسکتاہے۔
 ہم حیران ہیں کہ وہ کون سی شریعت ہے، جس کے حوالے سے  اور وہ کون سا ایمان ہے، جس کی رُو سے ’’مومنین و مومنات‘‘ کی یہ ’’ذمہ داری‘‘ قرار دی گئی ہے کہ وہ اس’’دعوت مبین‘‘ کو دوسروں تک پہنچائیں؟ کیونکہ شریعت تو کتاب و سنت ہیں او رایمان نام ہے، اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں (بالخصوص قرآن مجید) اس کے فرشتوں ، اس کی تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنےکا! جبکہ اس ہینڈ بل میں ان سب کے بارے میں فکر آخرت سے یکسر بےنیاز ان عقائد کا اظہار کیا گیا ہے کہ بلا شبہ جن کا حامل مسلمان بھی نہیں کہلا سکتا، کجا یہ کہ وہ ’’مومن‘‘ ہو اور ’’ثواب‘‘ کی امید بھی رکھے۔طرفہ یہ کہ اس ہینڈ بل کے ترتیب دینے والوں نے اپنی  ہی ایک شاخ اور اپنے ہی ایسے اوٹ پٹانگ عقائد رکھنے والے شیعہ امامی اسماعیلیوں کو بھی معاف نہیں کیا۔ چنانچہ نہ صرف انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے فقہ جعفریہ کے سیاہ جھنڈے تلے جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے ، بلکہ اس ہینڈ بل کی تیاری کا محرک بھی یہی جذبہ ہے۔ تفصیل اس اجمال کی ہدیہ قارئین ہے۔
...........................
اس ہینڈ بل کے صفحہ اوّل کے بالائی حصے میں پرنس آغا خان کی تصویر کے ساتھ آغا خانی مذہبی عبادات کا پیغام‘‘ درج ہے۔ تحریر انتہائی باریک ہے، اور فوٹو کاپی بھی صاف نہ ہونےکی وجہ سے حروف ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔ بہرحال جوچند نکات سمجھ میں آسکے، درج ذیل ہیں:
$1·        ہمارا (آغا خانیوں کا) سلام: ’’یاعلی مدد‘‘ اور جواب سلام: ’’مولا علی مدد‘‘ ہے۔
$1·        کلمہ : أشھد أن لا الٰه الا اللہ وأن محمد رسول اللہ وأشھد أن علی اللہ‘‘ ہے۔

$1·        یعنی ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی الٰہ نہیں مگر اللہ، میں گواہی دیتاہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں او رمیں گواہی دیتا ہوں کہ علی اللہ ہیں۔‘‘
$1·        وضو کی ہمیں ضرورت نہیں، ہمارے دل کا وضو ہوتا ہے۔
$1·        پانچ وقت نماز کے بدلے تین وقت کی نماز جماعت خانے میں۔
$1·        قبلہ رخ ہونے کی ضرورت نہیں، ہر سمت رخ کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ دعا میں حاضر امام کا تصور لانا بہت صروری ہے۔
$1·        زمین پر خدا کا روپ صرف حاضر امام ہے۔
$1·        مسلمانوں کے پاس خالی کتاب ہے، ہمارے پاس بولتا قرآن یعنی حاضر امام موجود ہے۔[1]
$1·        روزہ فرض نہیں، البتہ سال بھر میں مہینے کا چاند جب بھی جمعہ کے روز کا ہوگا، اس دن ہم روزہ رکھ لیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ!
$1·        تمام آغاخانیوں کے لیےخاص حکم:آغاخان حاضر امام کی تصویر فریم کرا کر اپنے اپنے گھر میں، دکان میں، دفتر میں یعنی ہر ہرجگہ پر لٹکائیں اور رات کے وقت اپنے گھروں میں سرخ بلب کی روشنی جلایاکریں۔بہت بہت برکت ہوگی، نیکی ملتی رہے گی، نظر بد سے بچےرہو گے اور آپ لوگوں کے آغاخانی ہونےکی پہچان بھی ہوگی، جس سے مسلمانوں کے دلوں پر آپکی دھاک و دبدبہ قائم ہوگا۔[2]
$1·        ہم شیعہ امامی اسماعیلی اپنے انچاسویں امام کی انچاسویں ولادت مبارک کے موقع پر تمام شیعہ اثناعشری (فقہ جعفریہ) کے مومنین و مومنات کی پُرخلوص دعوت دیتے ہیں کہ آپ  تمام حضرات ہمارےمذکورہ بالا پاک ،  سچے اور برحق مذہب شیعہ امامی اسماعیلی میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں او رہمارے حاضر امام کے ہرے او رلال لکیر والے جھنڈے تلے متحد ہوجائیں۔ کیونکہ اہل بیت ہونےکے ناطے ہمارا اور آپ کا نظریہ ’’امام معصوم‘‘ ایک ہی ہے۔
..............................
ہینڈ بل میں اس کے بعد، آغاخانیوں کے مذکورہ عقائد کے حوالے سے یہ فتویٰ طلب کیا گیا ہے کہ کیاآغا خانیوں کی یہ ’’نورانی دعوت‘‘ قبول کرلی جائے؟ پھر اسی صفحہ کے نچلے حصے سے اس استفتاء کا جواب شروع ہوتا ہے جو دوسرےصفحہ کے آخر تک چلا گیا ہے۔فتویٰ پوچھنےوالا کون ہے؟ جواب دینے والے کون ہیں؟ اور جواب کیا ہے؟ یہ تمام مندرجات ہینڈ بل  میں واضح ہیں۔ البتہ جواب فتویٰ کے ضمن میں’’فقہ جعفریہ کے (جو) ارکان دین، اصول دین اور فروع دین‘‘ درج ہیں، ان کے پڑھنے میں دقت پیش آسکتی ہے۔ کیونکہ محدث کے سائز پر اس ہینڈ بل کا عکس لانے میں یہ الفاظ مزید باریک ہوگئے ہیں لہٰذا اس کے چیدہ چیدہ نکات ہم یہاں درج کرتے ہیں:
ابتدائیہ:
امام معصوم ؑ کے نام سے ابتداء کی جاتی ہے۔
کلمہ :
لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ ووصی رسول اللہ و خلیفۃ بلا فصل۔
اصول دین:
توحید۔ عدل۔ نبوت۔ امامت
امامت:
$1·        امام معصوم ہے، نبی کی طرح امام پرفرشتے آتے ہیں اور فرشتے احکام لاتے ہیں۔
$1·        صفت کے حساب سے تمام امام نبی محمدﷺ کے برابر ہیں اور تمام امام سابقہ تمام انبیاء و رُسل سے افضل ہیں۔
$1·        قیامت سےقبل (امام کی ) رجعت ہوگی۔جس میں امام مہدیؑ تمام صحابی و ناصبی (سنیوں) سےبدلہ لیں گے وہ اپنے تمام فیصلے شریعت داؤدی کے مطابق کریں گے۔
فروع دین:
$1·        نماز کوئی فرض نہیں  (واجب ہے)
$1·        انفرادی نماز کا ثواب نماز باجماعت سے زیادہ ہوتا ہے۔
$1·        روزہ (واجب ہے)
$1·        حج(واجب ہے)
$1·        وقوف مزدلفہ (واجب ہے)
$1·        زکوٰۃ (واجب ہے) غیر شیعوں کو دینے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی۔ صرف شیعہ کو دینے سے ادا ہوگی۔کیونکہ :
$1·        صرف شیعہ (مؤمنین و مومنات) ہی پاک ہیں۔باقی سب ناپاک نجس۔
$1·        جہادامام غائب ہونےکی بناء پر معطل ہے۔
$1·        تولاّ:اہل بیت سے دوستی اور ان کے شیعوں سے دوستی رکھنا۔
$1·        تبّرا: اہل بیت کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا اور ان کے دشمنوں کے جو دوست ہیں ان سے بھی دشمن رکھنا۔
اصول عقائد ملت جعفریہ :
$1·        بداء : صرف امامت کی تقسیم کے معاملے میں اللہ سے بھول چوک ہوجانا۔
$1·        قرآن: پورا قرآن اماموں کے بغیر کسی نے جمع نہیں کیا جو کہے کہ پورا قرآن اس کے پاس ہے، وہ جھوٹا ہے۔
$1·        موجودہ قرآن کانسخہ مشکوک ہے۔سارا قرآن امام علیؑ کے پاس تھا۔ جواب غائب امام مہدیؑ کے پاس ہے۔
$1·        غم حسین ؑ میں رونا گناہوں کےبخشوانےکاباعث ہے۔
$1·        کتمان دین کو چھپانا۔ دین کو چھپاؤ او رجو ہمارے دین کو چھپائے گا ، خدا اسےسرفراز کرے گا او رجو دین کو ظاہر کرے گا، خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
$1·        لیکن ہم نے اب کیوں ظاہر کیا؟ وہ اس لیےکہ ہم سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور اب جواب دینا ہی ہماری فرض بنتا ہے۔
$1·        تقیہ: اصل بات دل میں چھپا کر زبان سےکچھ اور ظاہرکرنا۔
$1·        تبّرا : شیعہ مذہب اور فقہ جعفریہ کا یہ اہم ترین جزو ہے یعنی غیر شیعوں سے اظہار نفرت کرنا  خواہ وہ کوئی بھی ہوں چاہے صحابی تک بھی
$1·        فلاں، فلاں اورفلاں؍ اوّل، ثانی ، ثالث۔یہ خاص الفاظ ہیں اور ہر شیعہ کو ان کے معنی ومطالب کا اچھی طرح علم ہے، اس لیے وضاحت کی ضرورت نہیں۔
$1·        نجس اور پلید: ہم تو تمام قادیانیوں کے برابر سمجھتے ہیں، بریلوی، دیوبندی  اور اہحدیث کو۔ کیونکہ یہ سب نجس او رپلیدہیں، جبکہ شیعہ ہمیشہ پاک ہوتاہے۔
$1·        تمتع: (متعہ) کسی شیعہ مومن اور مومنہ کا کچھ رقم یا کسی اور شے کےمعاوضہ پر کچھ وقت یا زیادہ وقت پر خفیہ خاص جنسی تعلق قائم کرنا عین ثواب ہے۔
متعہ کی دو قسمیں ہیں:
$1(1)   انفرادی متعہ: کنوارا یاغیرکنوارا مومن، کسی کنواری یاغیر شوہر والی(مطلقہ یامتنازعہ) مومنہ سے جب چاہے معاملہ کرے، انفرادی طور پر متعہ کرکے ثواب کما سکتا ہے۔
$1(2)   اجتماعی متعہ: کنوارے مومنین یا غیرکنوارے مومنین، صرف بانجھ مومنہ سے جب چاہیں معاملہ کرکے کچھ وقت یا زیادہ وقت کے لیے اجتماعی متعہ کرسکتے ہیں۔ یہ اجتماعی ثوا ب کا باعث ہوگا۔
اس لکھے ہوئے کی صحت میں کوئی شک نہیں۔ وما علینا الاّالبلاغ
(دستخط وفاق علماء شیعہ پاکستان)
پھر ہینڈ بل میں ملّت جعفریہ کا یہ مطالبہ درج ہے کہ :
’’فقہ جعفریہ نافذ کرو‘‘
جبکہ اس کےبعد دوبارہ تاکیداً لکھا گیا ہے:
’’اس تمام تحریر پر شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی گئی۔کیونکہ تمام حوالے فقہ جعفریہ کی مستند کتابوں کے درج کئے جارہے ہیں۔ تاکہ ملت جعفریہ میں کوئی فقہی اختلاف رونما نہ ہونے پائے!‘‘
..............................
نقل کفر،کفر نہ باشد! شیعہ عقائد ہم نے دل پر جبر کرکےنقل کردیئے ہیں۔ یہ  لوگ اس ملک میں قرآن و سنت کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں، تو یہ بھی’’تقیہ‘‘ کا کمال ہے کہ جس کی تعریف اوپر ذکر ہوچکی ہے ۔یعنی ’’اصل بات دل میں چھپا کر زبان سےکچھ اور ظاہر کرنا!‘‘ اسلام کی نظر میں اگرچہ یہ منافقت و دھوکا بازی کا دوسرا نام ہے ، تاہم شیعہ کے یہ بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔چنانچہ ان کانفرنسوں کے انعقاد کے باوجود حقیقت حال یہ ہے کہ سنت تو ان  کے ہاں بار ہی نہ پاسکی۔ کیونکہ سنت جن مقصد ہستیوں (صحابہ کرامؓ) کےذریعے ہم تک پہنچی ، ان کے نزدیک نہ صرف معاذ اللہ،وہ مومن نہیں، بلکہ ان کو گالیاں دینا ان کےمذہب کااہم ترین جزو ہے۔ رہاقرآن ، تو وہ ان کےہاں ویسے ہی مشکوک ہے۔ اور جو یہ دعویٰ کرے کہ اس کے پاس پوراقرآن موجود ہے وہ جھوٹا ہے۔
اندریں صورت حال مذکورہ شیعہ عقائد کی تردید کتاب و سنت کی روشنی میں کرنا عبث ہی ہوگا، کہ جب وہ کتاب و سنت کو مانتے ہی نہیں تو انہیں ان سے مطلب؟ اسی لیے انہوں نے فقہ جعفریہ کے نفاذ کامطالبہ کیا ہے۔ او رقطع نظر اس سے کہ فقہ، فہم شریعت کا دوسرانام ہے اور ارکان دین و اصول دین متعین کرنا کسی فقہ کا دائرہ کار ہی نہیں، بلکہ یہ تصور بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ تاہم ’’فقہ جعفریہ کے‘‘ ارکان دین، اصول دین اور فروع دین ‘‘ جو انہوں نےگنوائے ہیں، دین اسلام کے ساتھ انہیں کوئی واسطہ ہی نہیں اور ان میں اور مسلمانوں کے مسلّمہ عقائد میں کوئی بھی قدر مشترک نظر نہیں آتی۔ مزید برایں ، سنی مسلمانوں کو انہوں نے قادیانیوں کے برابر، نیز نجس و پلید قرار دیا ہے ، حتیٰ کہ آغاخانیوں کی ’’نورانی دعوت‘‘ کو اس جرم کی پاداش میں رد کردینا تمام شیعان علی پر لازم قرار دیا ہے کہ ان کے’’حاضر امام المعروف آغا خاں‘‘ نے سنی امام کے پیچھے نماز پڑھی ہے، لہٰذا معصومیت امام کادرجہ کھو بیٹھا ہے۔ تو کیا یہی ہے ’’شیعہ سنی بھائی بھائی‘‘ کےنعرہ کی حقیقت؟
شیعہ کے یہ وہی عقائد ہیں کہ ہر سال محرم الحرام میں جن کے عملی مظاہر سامنے آتے ہیں تو پورا ملک فتنہ و فساد کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ چنانچہ جب اللہ رب العزّت کی شان میں یہ گستاخی ہو کہ اس سے بھول چوک بھی ہوسکتی ہے ، سید الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کےرتبہ کو نہ صرف اماموں کے ہم پلہ قرار دیاجائے، بلکہ  آپؐ کارسول ہونا بھی معاذ اللہ ، رب العالمین کی اسی بھول چوک کانتیجہ ہو۔ اور یوں جبریل امینؑ بھی اس غلطی کے بار بار مرتکب ہوتےرہے ہوں۔ پھر تمام انبیاء و رُسل (علیہم الصلوٰۃ والسلام) سے ان ائمہ کو افضل قرار دیا جائے۔ قرآن مجید کومشکوک بتلایا جائے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، حتیٰ کہ امہات المؤمنینؓ تک بھی زبان طعن دراز کی جائے، بنات رسول الہ ﷺ میں سے صرف ایک کو چھوڑ کر باقی تین کے اولاد رسولؐ ہونے سے ہی انکار کردیاجائے اور خلفائے ثلاثہؓ، جن میں سے ایک کورسول اللہ ﷺ کی دوہری دامادی کا شرف حاصل ہے اور باقی دو وصی رسول ؐ ہونےکا، ان پر سب و شتم کے لیے ’’اوّل، ثانی، ثالث‘‘ اور ’’فلاں، فلاں، فلاں، کی خفیہ اصطلاحات وضع کرلی جائیں۔ارکان اسلام کی نہ صرف نفی کی جائے بلکہ کلمہ تک تبدیل کرلیا جائے۔ پھر زنا ایسی صریح بے حیائی کو عین ثواب قرار دیا جائے، تو کون مسلمان ہوگا جو سراپا احتجاج نہ بن جائے گا؟ چاہیئے تو یہ تھا کہ اس فتنہ کی جڑ کا قلع قمع کیا جاتا، لیکن ہوتا یہ ہے کہ سنی علماء جب ان ہرزہ سرائیوں کاتحریری نوٹس لیتے ہیں تو یہ تحریریں ضبط کرلی جاتی ہیں اور اگر وہ میدان تقریر کا سہارا لیں تو ان کے خلاف مقدمات قائم کئے جاتے، ان کی زبانوں پر تالے ڈال دیئے جاتے  اور انہیں جیلوں میں ٹھونس دیاجاتا ہے۔ جبکہ اس کے بالکل برعکس، شیعہ کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کیا جاتا۔ ریڈیو، ٹیلیویژن، اخبار ایسے ذرائع ابلاغ مہینہ بھر کے لیے ان کی خاطر وقف کردیئے جاتے ہیں اور یوں ان عقائد کی ترویج و اشاعت کی نہ صرف انہیں کھلی چھٹی دی جاتی ہے، بلکہ ان سے ہرممکن تعاون  روا رکھا جاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ یہ ملک پاکستان کیاشیعہ سٹیٹ ہے؟ اگر یہی بات ہے  تو حکومت کو اس کا اعلان کرناچاہیئے تاکہ سنّی مسلمان اس سلسلہ میں کوئی واضح لائحہ عمل متعین کرسکیں اور اگر نہیں تو ہمارادوسرا سوال یہ ہےکہ کیا مسلمان اپنے  خدا، رسولؐ، قرآن ،  صحابہؓ، اہل بیتؑ، سب کے لیے بے حمیت ہوجائیں کہ جس کے جو منہ میں آئے بک دے، کوئی پوچھنے بلانے والا نہ ہو؟ اور اگر اس سوال کاجواب بھی نفی  میں ہے اور یہ ہے بھی ناممکن تو پھر بتلایا جائے کہ اس توہین خداوندی، توہین رسالت، توہین انبیاؑء، توہین قرآن، توہین اسلام اور توہین صحابہؓ کا نوٹس کون لے گا کہ جس کے شیعہ برسر عام مرتکب ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ بات ان کے بنیادی عقائد میں شامل ہے او رجس کے حوالے سنی علماء نے نہیں، خود انہی نے اپنی کتابوں سے فراہم کئے ہیں۔ پھر انہیں طبع کروایا اور تقسیم کیا ہے۔حتیٰ کہ اپنےمسلّمہ عقیدہ ’’کتمان‘‘ سے انحراف کرتے ہوئے جملہ ’’مومنین و مومنات‘‘ کی یہ شرعی ذمہ داری قرار دی گئی ہے؟
کیا وقت کے حکمران، وقت کی اس آواز کو پہچانیں گے او رکیا خدا اور رسولؐ کی طرف سے ان پربھی  اس سلسلہ میں کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یانہیں۔؟ وما علینا الاالبلاغ۔

[1] ۔ الفاظ واضح طور پر یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ لوگ  اپنے تئیں مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں۔
[2] ۔ یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں۔