ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • فروری
1988
عبدالرحمن کیلانی
نکتہ نمبر 6 مدینہ ہی مسجد اقصیٰ ہے:
بسلسلہ جنگ بدر سورۃ الانفال میں مذکورہ ’’العدوۃ الدنیا ‘‘ اور ’’العدوۃ القصویٰ‘‘ کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے اثری صاحب نے فرمایا ہے کہ:
’’بدر مکہ سے قصوٰی  ہوا او رجب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولی قصوٰی ٹھہرا اور  اس کی مسجد (نبوی) اقصیٰ ہوئی۔ بلکہ وفاء الوفاء ج1 ص16 میں مطالع وغیرہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ کے ناموں میں سے ایک نام اس کا مسجد اقصیٰ بھی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 43)
صفحہ مذکورہ پر لفظ قصوٰی کی وضاحت میں اثری صاحب نےدرج ذیل حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے:
’’عجیب بات ہے کہ جس اونٹنی پررسول اللہ ﷺ نے سفر ہجرت طےفرمایا، وہ مدینہ پہنچ  کر مسجد نبوی کی جگہ بحکم خداوندی بیٹھ گئی اور اس کا نام قصوٰی (قصواء) قرار  پایا۔ اسی قصواء پر حضورﷺ نے بڑے بڑے سفر طے فرمائے۔‘‘
اس اصول کی رُو سے ہمارےنزدیک ’’قصوٰی‘‘ اور ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ کی مزید تشریح یوں چلتی ہے: بدر مکہ سے قصوٰی ہو   اور جب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولیٰ قصوٰی  ٹھہرا۔ اور بیت المقدس اس سےبھی زیادہ ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ قرار پایا۔ کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے  بھی زیادہ دور ہے۔ گویا اس دلیل کی رُو سے کہ اگر مدینہ کی مسجد نبوی، مدینہ کے قصوٰی ہونےکی وجہ سے اقصٰی ہے، تو بیت المقدس کی مسجد بالاولیٰ اقصٰی قرار پاتی ہے۔چنانچہ اثری صاحب کا یہ نکتہ بھی آپ کے خلاف ہی پڑتا ہے۔
  • فروری
1988
محمد رفیق اثری
محاصرہ:
شوال 35ہجری میں ان فتنہ پرداز قافلوں کی روانگی کا آغاز ہوا۔بصرہ سے حرقوص بن زبیر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ روانہ ہوا۔ کوفہ سے مالک بن اشتر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ نکلا جبکہ غافقی بن حرب کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ مصر سے روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر یہ تینوں قافلے اکٹھے ہوگئے۔ او رمدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوکر حالات کا جائزہ لینےکے لیےاپنے قاصد روانہ کئے۔چنانچہ چند آدمی بصورت وفد حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، اور امہات المؤمناتؓ سے ملے اور اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ ان حضرات نے انہیں ملامت کرکے واپس جانےکو کہا۔
  • فروری
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
محمد صدیق مغل، 9؍11 دہلی کالونی کراچی سے لکھتے ہیں :
’’کیا عورت اپنے شوہر کی میّت کو ہاتھ لگاسکتی  اور اسے دیکھ سکتی ہے؟‘‘
الجواب بعون اللہ الوھاب، اقول و باللہ التوفیق:
ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اس کے برخلاف خاندانی رسوم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے۔
اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے۔
اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں۔
  • فروری
1988
اکرام اللہ ساجد
وہ ہینڈ بل کراچی میں تیار ہوا، لیکن لاہور میں تقسیم ہوا او رہاتھوں ہاتھ ادارہ محدث تک بھی  پہنچا۔ یوں اغلب گمان یہی ہے کہ ملک عزیز کے تقریباً تمام بڑے بڑے شہروں میں ضرور بانٹاگیا ہوگا۔ جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہےکہ اس کے آخر میں’’شرعی ذمہ داری‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے:
ملّت جعفریہ کے تمام شیعان علیؑ کےمومنین و مومنات (جذبہ امامیہ سےسرشار) پرفرض ہے کہ وہ اس دعوت مبین کی تشہیر و تبلیغ بذریعہ فوٹو کاپی ؍طباعت (چھپوا کر) یا خود پڑھ کر کریں اور ثواب حصل کریں!‘‘
چنانچہ ادارہ محدث کو ایک نہیں، بلکہ ایک ہی مضمون کی دو مختلف قسم کی فوٹو کاپیاں ملیں جن میں سے ایک کا عکس شمارہ زیر نظر کے صفحہ 10۔11 پر دیکھا جاسکتاہے۔
 ہم حیران ہیں کہ وہ کون سی شریعت ہے، جس کے حوالے سے  اور وہ کون سا ایمان ہے، جس کی رُو سے