میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تھوڑا عرصہ پیشتر مجھے ادارہ "الاعتصام" کی وساطت سے ایک خط، جناب نذیر احمد صاحب بٹ (صدر مرکزِ تحقیق مسیحیت، 15-اے رحیم سٹریٹ نمبر 58 محلہ سردار پورہ، اچھرہ، لاہور) کا لکھا ہوا موصول ہوا۔ موصوف نے لکھا ہے کہ:

"مجھے "طلوعِ اسلام" لاہور کے ماہ جون سئہ1983ء کے شمارہ میں شائع شدہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کا اسلامی نقطہ نظر سے جواب درکار ہے۔ نیز پرویز نے "طلوعِ اسلام" جنوری سئہ 1975ء میں لکھا ہے کہ قرآن میں معراج کے سلسلہ میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے) آسمان پر جانے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ صرف مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جانے کا ذکر ہے اور مدینہ کا نام پہلے مسجدِ اقصیٰ تھا۔ نیز یہ بات کسی اہل حدیث عالم نے بھی لکھی ہے کہ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لے جائے گئے تھے۔ پرویز مزید لکھتا ہے کہ آنحضور کے وقت ہیکل موجود ہی نہ تھی۔ وہ سئہ 70ء میں جلا دی گئی تھی اور بعد میں منہدم کر دی گئی تھی۔ اس لیے بیت المقدس لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معراج کے واقعہ میں فتح الباری و عینی شرح بخاری سے اختلافِ ماہ و سنین کے حوالے دے کر پرویز اسلامی نظریہ "سفرِ معراج" کی تردید کرتا ہے۔ ان ہر دو مضامین کا مکمل رد اور معراجِ آسمانی کا ثبوت درکار ہے۔"

اس خط کا مفصل جواب لکھنے کی غرض سے میں نے "ادارہ محدث" سے رابطہ قائم کیا تو مذکورہ مضامین کی فوٹو کاپیاں مجھے مہیا کر دی گئیں۔۔۔جنوری سئہ 1975ء کے "طلوعِ اسلام" میں جو مضمون شائع ہوا ہے، اس کا نام ہے "مسجدِ اقصیٰ"۔۔یہ مضمون تین صفحات پر مشتمل ہے۔ اور اس میں "جس اہل حدیث عالم" کا ذکر آیا ہے، وہ جناب حافظ عنایت اللہ صاحب اثری وزیر آبادی ، ثم گجراتی ہیں۔ اس مضمون کا جواب لکھنے سے پیشتر اثری صاحب کا مختصر تعارف کرا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

حافظ عنایت اللہ اثری (م 1980ء) کا مختصر تعارف:

اثری صاحب بھی ماشاءاللہ پرویز صاحب کی طرح سرسید احمد خاں کے خاص الخاص خوشہ چینیوں میں سے ہیں۔ آپ کے نام کے ساتھ "اثری" کے لاحقہ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ پکے اہل حدیث تھے۔ موصوف خود بھی اپنے اہل حدیث ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی بعض ملحدانہ تصانیف کی بناء پر مولانا محمد اسمعیل صاحب سلفی (گوجرانوالہ) کے دورِ نظامت میں، آپ کو جماعت اہل حدیث سے خارج کرنے کی قرارداد بھی پیش کی گئی تھی، جس پر بوجوہ عملدرآمد نہ ہو سکا تھا۔

اثری کہلانے کے باوجود آپ منکرینِ حدیث کی طرح معجزات انبیاء علیہم السلام کے منکر ہیں۔ آپ نے اُمتِ مسلمہ کے مسلمہ عقائد کے علی الرغم ایک عدد کتاب مسمیٰ بہ"عیون زمزم فی ولادت عیسی ابن مریم" لکھ کر حضرت عیسی علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کی بھرپور تردید فرمائی۔ علاوہ ازیں آپ نے دو اور کتابیں "بیان المختار" اور "قول المختار" لکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے انکار فرمایا ہے۔ حافظ صاحب موصوف اور عام منکرینِ حدیث میں ما بہ الامتیاز فرق یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے احادیث میں تشکیک کے پہلو پیدا کر کے ان کا انکار کرتے ہیں، پھر قرآن کی من مانی تاویل کر کے قرآن پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ جبکہ حافظ صاحب موصوف کا طریق کار یہ ہے کہ وہ پہلے قرآن کی تاویلات پیش کر کے اس پر ہاتھ صا کرتے ہیں۔ پھر احادیث سے بھی بعینہ یہی سلوک فرماتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا کام عام منکرینِ حدیث سے دوگنا بڑھ جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تاویلات کے اس دھندے میں حافظ صاحب موصوف نے منکرین حدیث کے بھی کان کتر ڈالے ہیں۔ راقم الحروف نے حافظ صاحب موصوف کی تینوں مذکورہ بالا کتب کے جواب میں ایک کتاب "عقل پرستی اور انکارِ معجزات" لکھی ہے جو شائع ہو چکی ہے۔ اس کتاب میں حافظ صاحب موصوف کی تاویلات و افکار کا مدلل طور پر محاسبہ کیا گیا ہے۔

پرویز صاحب کا اثری صاحب کو ہدیہ تبریک:

اب دیکھئے اثری صاحب بھی واقعہ اسراء کی کوئی اچھی سی تاویل ڈھونڈ رہے تھے اور پرویز صاحب بھی اسی فکر میں لگے ہوئے تھے۔۔۔اتفاق یوں ہوا کہ دونوں حضرات کے ذہن نے یہ کام کیا کہ اس واقعہ اسراء کو واقعہ ہجرت نبوی قرار دے دیا جائے۔ اثری صاحب نے یہی بات تفسیر قرآن کے سلسلہ میں اپنی ایک کتاب میں لکھ دی اور پرویز صاحب نے یہی بات اپنی تصنیف "مفہوم القرآن" میں درج فرمائی۔ پھر جب پرویز صاحب کو اثری صاحب کے اس کارنامہ کا علم ہوا تو پھولے نہ سمائے۔ لہذا اپنے رسالہ "طلوعِ اسلام" جنوری سئہ 1975ء کے مضمون "مسجدِ اقصیٰ" میں حافظ صاحب کو بایں الفاظ ہدیہ تبریک پیش فرمایا:

"میں نے مفہوم القرآن میں لکھا ہے کہ یہ (واقعہ اسراء) در حقیقت واقعہ ہجرت کا بیان ہے اور اس میں مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ طیبہ ہے۔ قدامت پرست طبقہ کی طرف سے اس پر (حسبِ عادت) شور مچا دیا گیا۔۔۔اگلے دنوں ایک صاحب کی وساطت سے مجھے عنایت اللہ اثری (وزیرآبادی، ثم گجراتی) کی کتاب "حصولِ تیسیرالبیان علی اصولِ تفسیر القرآن" دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت اور خوشی ہوئی کہ اس میں انہوں نے بھی مسجدِ اقصیٰ کا وہی مفہوم لکھا ہے، جسے میں نے "مفہوم القرآن" میں لکھا تھا۔ مجھے مولانا موصوف سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن اس کا مجھے علم ہے کہ وہ فرقی اہل حدیث کے ایک ممتاز عالم ہیں۔ ایک اہل حدیث عالم کی طرف سے اس آیت کا وہ مفہوم جو روایاتی مفہوم سے ہٹا ہوا ہو، واقعی باعثِ تعجب (اور چونکہ وہ مفہوم میرے نزدیک قرآن کے منشاء کے مطابق ہے، اس لیے وجہ حیرت) ہے۔ مولانا اگر بقیدِ حیات ہوں (خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا ان کی عمر دراز کرے) تو وہ میری طرف سے اس تحقیق اور حق گوئی کی جراءت پر ہدیہ تبریک قبول فرمائیں۔" (طلوعِ اسلام جنوری 1975 ص41)

اس ہدیہ تبریک کے بعد پرویز صاحب نے "طلوعِ اسلام" کے دو صفحات (42،43) میں اثری صاحب کی تحقیق کے ضروری اور اہم نکات کے اقتباسات درج فرمائے ہیں، ہم یہاں انہی نکات کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔

اثری صاحب کے بیان کردہ اہم نکات کا جائزہ

1۔ آیۃ اسراء کا اثری مفہوم

آیت:

﴿سُبحـٰنَ الَّذى أَسر‌ىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَر‌امِ إِلَى المَسجِدِ الأَقصَا الَّذى بـٰرَ‌كنا حَولَهُ لِنُرِ‌يَهُ مِن ءايـٰتِنا إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١﴾... سورةالإسراء

ترجمہ از مولانا فتح محمد جالندھری

"پاک ہے وہ جو اپنے ایک بندے کو ایک رات مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا۔ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ تاکہ ہم اسے (اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔"

اثری مفہوم

"چرچا کرو (اور) وعدہ خلافیوں اور غلط پیش گوئیوں سے اسے خوب پاک اور صاف بیان کرو تاکہ وہ اپنے بندے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مسجدِ حرام کی طرف کسی نہ کسی رات روانہ کر دے گا جو کہ یہاں سے بہت دُور ہے اور کہ تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے اس کے اردگرد بہت سے سعید الفطرت لوگ مسلمان ہو کر اسلامی انوار و برکات سے متمتع ہو رہے ہیں اور حلقہ اسلام دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس لیے اسے یہاں سے روانہ کیا جا رہا ہے کہ اس کے توسط سے اب تک ہماری وہ آیتیں، جو کہ پیش گوئیوں سے متعلق شائع ہوتی رہی ہیں کہ وہ اور اس کے اعوان و انصار کامیاب اور اس کے مخالف سب ناکام ہوں گے، ہم انہیں صاف طور پر پورا کر کے دکھا دیں۔ اور مخالفوں کی طرف سے جو یہ اعتراض ہوتا رہا ہے، کہ فلاں فلاں پیش گوئی پوری نہیں ہوئی، اسے اللہ پاک سنتا رہا ہے اور جو کسی پیش گوئی کے خلاف انہوں نے قدم اٹھایا تاکہ وہ پوری نہ ہو سکے، اسے اللہ دیکھتا رہا ہے۔ اب ان کے پورا ہونے کا وقت آیا ہے تو اسے یہاں سے کسی دوسری جگہ روانہ کیا جا رہا ہے۔"

آپ اس ایک آیت کا اتنا لمبا چوڑا ترجمہ یا مفہوم دیکھ کر حیران نہ ہوں۔ جن حضرات کو تاویلات کے دھندے کی مجبوری درپیش ہو انہیں ایسا کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں اثری صاحب اور پرویز صاحب دونوں میں کافی حد تک ذہنی یگانگت اور مماثلت پائی جاتی ہے۔

اثری صاحب اور پرویز صاحب کی ذہنی یگانگت

1۔ دونوں حضرات قرآنی آیات کا ترجمہ لکھنے سے پرہیز فرماتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ مفہوم بتلانا ہی پسند کرتے ہیں۔ جس شخص کی ترجمہ پر نظر ہو گی وہ مطلب بیان کرنے میں بے لگام ہونے کی بجائے کافی حد تک محتاط رہتا ہے۔ لیکن یہ دونوں حضرات چونکہ قرآنی الفاظ اور ان کے ترجمہ کو اپنے لیے ایک رکاوٹ تصور فرماتے ہیں، لہذا ترجمہ لکھنا پسند نہیں فرماتے۔ اثری صاحب نے بھی اپنی تصانیف میں بسا اوقات ترجمہ کو نظرانداز کر دیا اور تفسیر بیان فرمائی اور پرویز صاحب نے بھی "مفہوم القرآن" میں مفہوم ہی درج فرمایا۔ مزید برآں اپنے اس عیب پر پردہ ڈالنے کی غرض سے "مفہوم القرآن" کے مقدمہ میں تین چار الفاظ کی مثالیں دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی جو لوگ ترجمہ لکھتے ہیں، پرویز صاحب کے نزدیک وہ غلطی پر ہیں۔

2۔ دونوں حضرات اپنی تفسیر یا مفہوم کو حشو و زوائد سے اس قدر بھر دیتے ہیں کہ بسا اوقات یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ فلاں فقرے یا پیرے میں جو مفہوم بیان ہو رہا ہے، یہ قرآن کے کون سے لفظ یا الفاظ سے متعلق ہو سکتا ہے۔

3۔ دونوں حضرات قرآن کا مطلب لغت سے حل کرنے کی کوشش فرماتے اور دور کی کوڑی لاتے ہیں، مثلا دونوں حضرات نے مسجدِ اقصیٰ سے مراد "دور کی مسجد" لیا ہے۔ جو اس کا لغوی معنیٰ تو ہو سکتا ہے مگر عرف کے لحاظ سے غلط ہے۔ لغوی اور عرفی معنیٰ کے فرق کو اس مثال سے سمجھئے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) کے ایک بیٹے کا نام عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے اور دوسرے کا فضل رضی اللہ عنہ۔ اب لغوی لحاظ سے ہم دونوں کو ابن عباس رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں۔ مگر عرف کے لحاظ سے یہ بات غلط ہے۔ اگر ہم صر ابن عباس رضی اللہ عنہ کہیں گے تو اس سے لازما عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ عرفی لحاظ سے ابن عباس، عبداللہ بن عباس ہیں نہ کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ۔ اگر ضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا تذکرہ مقصود ہو تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہی کہنا پڑے گا نہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ۔۔۔یہی صورت مسجدِ اقصیٰ کی ہے۔ عرفا یہ وہ مسجد ہے، جسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے ابتداء تعمیر کیا تھا۔ پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے دوبارہ نہایت خوبصورتی سے اس کی تعمیر کی۔ یہود اسے "ہیکل سلیمانی" کہتے تھے اور اہل عرب اسے "مسجد اقصیٰ" کہتے تھے۔ قرآن کریم کی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر7 میں "المسجد" سے بھی بیت المقدس کی یہی مسجدِ اقصیٰ مراد ہے اور آج تک اسی نام سے معروف و مشہور ہے۔ عرفی معنیٰ کی موجودگی میں لغوی معنیٰ تلاش کرنا منکرینِ معجزات کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نے ایک اور لفظ "بیت العتیق" کو کعبہ یا مسجدِ الحرام کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس کے لغوی معنیٰ "پرانا گھر" کی مناسبت سے یہ دعویٰ کرے کہ اس سے مراد یہی مسجد اقصیٰ یا ہیکل سلیمانی ہے، کیونکہ یہ بھی تو بہت پرانا ہے، یا اس کے ڈانڈے آریہ سماج کے کسی پرانے مندر سے ملا دے تو کیا آپ اسے حق بجانب سمجھیں گے؟ اور یقین جانئے کہ اگر "بیت العتیق" یا کعبہ سے بھی کوئی خرقِ عادت امر منسوب ہوتا، تو یہ حضرات اس لفظ کا بھی کچھ ایسا ہی مفہوم تلاش کرنے بیٹھ جاتے، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔

4۔ دونوں حضرات مفہوم بتلاتے وقت قرآنی آیات میں مزکور واحد، جمع، فعل، معروف و مجہول اور صیغہ وغیرہ کی حدودوقیود سے آزاد ہو کر مفہوم بیان فرمایا کرتے ہیں۔ پرویز صاحب مفہوم بیان کرتے وقت قرآنی آیات سے جو سلوک کرتے ہیں اس کا جائزہ تو ہم اپنی کتاب "آئینہ پرویزیت " کے باب "مفہوم القرآن پر ایک نظر" میں پیش کر چکے ہیں، یہاں صرف اثری مفہوم پر تبصرہ کریں گے۔

(ا)" سُبْحَانَ الَّذِي " کے مفہوم میں آپ امر کا صیغہ بیان فرما رہے ہیں کہ "چرچا کرو (اور) وعدہ خلافیوں اور غلط پیش گوئیوں سے اسے (اللہ کو) خوب پاک صاف بیان کرو۔"

۔۔۔یہ ترجمہ گرامر کے لحاظ سے غلط ہے۔

(ب) آپ فرماتے ہیں۔۔۔"اسے (اللہ کو) خوب پاک و صاف بیان کرو تاکہ وہ اپنے بندے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مسجدِ حرام سے اس مسجد کی طرف کسی نہ کسی رات روانہ کر دے گا۔" یعنی اگر تم نے اللہ کو خوب پاک و صاف بیان نہ کیا تو پھر اللہ بھی اپنے بندے کو روانہ نہیں کرے گا۔ روانگی کی شرط پوری کرو گے تو روانگی ہو گی، ورنہ نہیں۔

(ج) "( بَارَكْنَا حَوْلَهُ )" کا سیدھا سادہ ترجمہ ہے "ہم نے اس (مسجدِ اقصیٰ) کے ماحول کو بابرکت بنایا ہے، لیکن جب یہی الفاظ اثری تاویلات کی سان پر چڑھتے ہیں تو ان الفاظ کا مفہوم یہ ہو جاتا ہے: "اور اس کے ارد گرد بہت سے سعید الفطرت لوگ مسلمان ہو کر اسلامی انوار و برکات سے متمتع ہو رہے ہیں۔" اللہ تعالیٰ نے تو صیغہ جمع متکلم فعل ماضی معروف استعمال فرمایا، لیکن اثری صاحب "( بَارَكْنَا)" کے مفہوم میں صیغہ جمع مذکر غائب استعمال فرما رہے ہیں، اور فعل مضارع مجہول۔ چنانچہ اس "( بَارَكْنَا)" (ہم نے برکت دی) کا اثری مفہوم "بہت سے سعید الفطرت لوگ" کا مفہوم کون سے قرآنی لفظ سے کشید کیا جا سکتا ہے۔۔ "مسلمان ہو کر" کون سے لفظ سے، اور "متمتع ہو رہے ہیں" کون سے لفظ سے؟

(د) اسی طرح قرآنی الفاظ "( لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا)" کا سیدھا سادہ ترجمہ ہے" تاکہ ہم اسے (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اپنی نشانیاں دکھلائیں۔" اب یہی الفاظ جب اثری صاحب کے ہتھے چڑھے تو انہوں نے اس کا مفہوم یہ بتلایا کہ "اور اس لیے اسے یہاں سے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے) روانہ کیا جا رہا ہے کہ اس کے توسط سے اب تک ہماری وہ آیتیں جو کہ پیشن گوئیوں کے متعلق شائع ہوتی رہی ہیں کہ وہ اور اس کے اعوان و انصار کامیاب اور اس کے مخالف سب ناکام ہوں گے، ہم انہیں صاف طور پر پورا کر کے دکھا دیں۔"

یعنی اللہ تعالیٰ نے تو "( لِنُرِيَهُ )" کے آخر میں ضمیر واحد مذکر متصل استعمال فرمایا تھا۔ لیکن اثری صاحب یہ نشانیاں سب اعوان و انصار کو دکھلانا چاہ رہے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تو یہ وضاحت نہ فرمائی تھی کہ وہ نشانیاں کیسی تھیں؟ ہاں اثری صاحب نے بتلایا کہ وہ نشانیاں بس پیشن گوئیاں تھیں۔ رہا ان پیشن گوئیوں کو صاف طور پر پورا کرنے کا معاملہ، اعوان و انصار کی کامیابی اور مخالفین کی ناکامی، تو یہ سب اثری صاحب کے خود ساختہ اضافے ہیں۔ ان الفاظ سے ان تصورات کو کشید کرنا بس اثری صاحب کا ہی حصہ ہو سکتا ہے یا پھر پرویز صاحب کا۔

(ر) "( إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ)" سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ علی الاطلاق (یعنی ہر بات کو ہر وقت) سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ لیکن اثری صاحب، اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو مقید فرما رہے ہیں، کہ پیشن گوئیوں پر جو اعتراض ہوتے تھے تو اللہ اسے سنتا رہا اور اگر کسی نے کسی پیشن گوئی کے پورا ہونے کے خلا قدم اٹھایا تو اللہ اسے دیکھتا رہا ہے۔

ذہن کی ایسی یگانگت اور طرزِ تحریر میں اس قدر مماثلت اور ہم آہنگی ہی وہ چیز تھی جس کی بناء پر پرویز صاحب غائبانہ طور پر اثری صاحب سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کی زبان سے ان کے حق میں بے اختیار ہدیہ تبریک جاری ہو گیا۔

اثری نکتہ نمبر 2 آیۃ اسراء اور متونِ حدیث:

آپ فرماتے ہیں:

"ابتدائی آیتِ کریمہ پر کتبِ تفاسیر میں اس اسراء نبوی کو بیان کیا گیا ہے، جس کا موضوع اور صحیح حدیثوں میں ذکر ہے اور بعض ائمہ صحاح نے بھی اس آیۃ کریمہ کو عنوان بنا کر ان حدیثوں کو بیان فرمایا ہے۔ مگر متونِ حدیث میں آیۃ کریمہ کا کوئی ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اسراء بیان فرماتے ہوئے اس آیۃ کریمہ کا ذکر فرمایا ہے۔" (ایضا ص 42)

دیکھئے اثری صاحب "اسراء" سے فرار کی راہ یوں تلاش فرماتے ہیں کہ جن احادیث میں (خواہ وہ موضوع ہیں یا صحیح) واقعہ اسراء کا ذکر ہے، تو ان میں سے کسی صحیح مرفوع حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آیتِ اسراء کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگرچہ بعض ائمہ صحاح نے اسی آیۃ اسراء کو باب کا عنوان بنا کر اس کے تحت ایسی احادیث درج کی ہیں۔

گویا اب ہمارا کام یہ ہے کہ اثری صاحب کے جواب میں کوئی ایسی صحیح مرفوع حدیث ذکر کر دیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان سے اسراء یا بیت المقدس کا ذکر فرمایا ہو۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ، قُمْتُ فِي الْحِجْرِ، فَجَلَا اللهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ»(صحيح مسلم حديث 276)

"جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:"جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حجر میں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے (اپنی قدرت سے) بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ میں ان کافروں کو وہاں کی نشانیاں بتلانے لگا اور میں بیت المقدس کو دیکھ رہا تھا۔"

زاد يعقوب بن إبراهيم، حدثنا ابن أخي ابن شهاب، عن عمه، «لما كذبتني قريش حين أسري بي إلى بيت المقدس)(بخارى كتاب التفسير سورة بنى اسرائيل)

"یعقوب بن ابراہیم نے کہا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا (ابن شہاب) سے جو روایت کی، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ "جب مجھے رات کے وقت بیت المقدس تک لے جایا گیا تو قریش کے کافروں نے مجھے جھٹلایا۔۔۔"

اب دیکھئے یہ حدیث صحیح بھی ہے اور مرفوع بھی۔ یعنی اس حدیث کا متن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بیان فرما رہے ہیں۔ اس حدیث میں اور آیۃ اسراء میں پانچ باتیں مشترکہ طور پر مذکور ہیں اور وہ یہ ہیں:

1۔ حدیث میں لفظ "حجر" آیا جسے "حطیم" بھی کہتے ہیں۔ اور قرآن کریم میں مسجد الحرام حجر یا حطیم مسجد حرام کا وہ حسہ ہے جس پر کفار مکہ نے بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیشتر تعمیر کے دوران حلال کے پیسہ کی کمی کی وجہ سے چھت نہیں ڈالا تھا اور اسے کُھلا چھوڑ دیا تھا، یہی حجر یا حطیم ہی وہ مقام ہے۔ جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ اسراء شروع ہوا تھا۔

2۔ قرآن مجید کے الفاظ ہیں "( أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا)" اسریٰ کا معنی "رات کو سیر کرانا" اور "(لَيْلًا)" کا لفظ تاکیدِ مزید کے لیے آیا ہے اور "( بِعَبْدِهِ)" سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور متنِ حدیث کے مطابق جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی بیان فرماتے ہیں تو الفاظ یوں ہیں کہ "( حين اسرى بى)" یعنی "جب مجھے رات کے وقت لے جایا گیا۔"

3۔ قرآن مجید کے الفاظ ہیں: "( إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى)" اور یہ مسجدِ اقصیٰ وہی معبد سلیمانی ہے جو بیت المقدس میں ہے اور تمام انبیائے بنی اسرائیل کا قبلہ رہا ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول بھی یہی ہے۔ حدیث میں اگرچہ مسجدِ اقصیٰ کے بجائے بیت المقدس کے لفظ ہیں۔ مگر اس سے مراد یہی معبد سلیمانی یا مسجدِ اقصیٰ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب کفارِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کئے تو یہ سوالات اسی مسجدِ اقصیٰ سے متعلق تھے اور یہی مقام اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کے سامنے کر دیا تھا۔ جسے دیکھ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے سوالات کے جوابات دیتے رہے۔

اور مسلم میں جو روایت ثابت البناتی سے مرفوعا مذکور ہے، اس میں "(حتى اتيت بيت المقدس)" کے بعد یہ الفاظ ہیں: "(ثم دخلت المسجد)" یعنی "میں بیت المقدس لایا گیا پھر میں مسجد میں داخل ہوا۔" جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ مسجد وہی مسجدِ اقصیٰ ہے جو بیت المقدس میں واقع ہے۔

اب بتلائیے اگر آیۃ اسراء میں مذکور اس قدر باتیں صحیح، مرفوع حدیث کے متن میں موجود ہوں، تو پھر بھی اثری صاحب کا یہ اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ کسی صحیح حدیث کے متن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیۃ اسراء کا ذکر نہیں فرمایا؟ ۔۔۔ کیا آپ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ اسراء بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پوری آیت بھی تلاوت نہ فرمائیں ہم یہ واقعہ ہرگز نہ مانیں گے؟

نکتہ نمبر 3 آیۃ اسراء کا شانِ نزول

تیسرا نکتہ اثری صاحب نے یہ بیان فرمایا کہ:

"کسی روایت میں اس آیتِ کریمہ کا وہ شانِ نزول بھی مروی نہیں جس کا اسراء کی حدیثوں میں ذکر ہے۔" (ایضا ص 42)

ہم تو حافظ صاحب کا یہ قیمتی نکتہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں، جواب کیا دیں؟ یہ بات حافظ صاحب کی عادت میں شامل ہے کہ وہ بعض دفعہ ایسے اوٹ پٹانگ فقرے بولنے لگتے ہیں جن سے وہ قاری کے ذہن کو پریشان کر کے آگے نکل جانے میں ہی مصلحت سمجھتے ہیں۔ آپ کے ایسے بہت سے قیمتی "ارشادات" کا میں نے اپنی تصنیف "عقل پرستی اور انکارِ معجزات" میں ٹھیک طور سے محاسبہ کیا ہے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک

اب دیکھئے شانِ نزول اس پس منظر کو کہتے ہیں جس میں کوئی آیت یا کوئی سورہ یا سورہ کا کچھ حصہ نازل ہوا ہو۔ اور یہ پس منظر عموما کوئی تاریخی واقعہ ہی ہوتا ہے۔ مثلا سورہ نور کی ابتدائی 18 آیات کا شانِ نزول واقعہ افک ہے۔ یا سورہ فتح کا شانِ نزول صلح حدیبیہ کے واقعات ہیں۔ واقعہ اسراء بذاتِ خود ایک اہم تاریخی واقعہ ہے جو قرآن میں مذکور ہے۔ اب اس کا پس منظر یا شانِ نزول کون سا واقعہ ہو سکتا ہے جس کی توضیح و تشریح یا تشریع کے لیے یہ آیۃ اسراء نازل ہوئی ہو؟

علاوہ ازیں "روایات" کا اطلاق عموما ان مذہبی اقوال و امور پر ہوتا ہے جو یا تو بےسند مذکور ہوں یا پھر ان کی اسنادی حیثیت کمزور ہو۔ گویا بے سند یا کمزور سند والے۔

اقوال و آثار کو روایات کہہ دیتے ہیں۔ جبکہ حدیث کے لفظ کا اطلاق عموما باسند اور معتبر امور پر ہوتا ہے۔ ہماری اس وضاحت کو سامنے رکھ کر اثری صاحب کے اس نکتہ پر دوبارہ غور فرمائیے کہ:

"اور کسی روایت میں اس آیتِ کریمہ کا وہ شانِ نزول بھی مروی نہیں جس کا اسراء کی حدیثوں میں ذکر ہے۔"

ہمارے خیال میں آیۃ اسراء کا نہ کوئی شانِ نزول ہے، نہ ہی اس کی ضرورت ہے، اور نہ ہی ایسا شانِ نزول یا پس منظر کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے۔ لیکن اگر اثری صاحب کے نزدیک آیۃ اسراء کا شانِ نزول ضروری ہے اور وہ صحیح حدیثوں میں مذکور بھی ہے تو پھر آپ کو یہ فکر کیوں لاحق ہے کہ یہ شان نزول روایتوں میں مذکور نہیں۔ یوں تو کچھ بات بنتی ہے اور درست طور پر اعتراض بھی وارد ہو سکتا ہے کہ فلاں بات صرف غیر معتبر روایات میں مذکور نہیں تو آپ کی بلا سے، آپ اس کی فکر کیوں کرنے لگے؟

پھر ہم یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ آخر پرویز صاحب کو اس اثری نکتہ کی کونسی ادا پسند آئی، جو انہوں نے اپنے چیدہ چیدہ اقتباسات میں اسے بھی شامل فرمایا؟

نکتہ نمبر 4 یعنی اثری صاحب کا محدثانہ طریق:

اس کے بعد اثری صاحب فرماتے ہیں:

"اور جو کتب زوائد میں قتادہ اور زربن حبیش سے مقطوعا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا اس آیت کریمہ کا ذکر مروی ہے تو وہ محدثانہ طریق پر سخت مخدوش ہونے پر بھی مسترد نہیں کہ وہ قرآنی لفظوں کے اطلاق اور تناسب پر محمول ہے۔" (ایضا ص 42)

اس اقتباس میں مذکور تابعین رحمۃ اللہ علیہم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ناموں، پھر مقطوعا، موقوفا اور مرفوعا جیسی اصطلاحات کی بھرمار سے ایک عام قاری یہی تاثر لے گا کہ خدا معلوم اس اقتباس میں کتنے شاندار علمی نکات بیان کئے جا رہے ہیں۔ نیز وہ اثری صاحب کی علمیت سے یقینا مرعوب بھی ہو گا۔ مگر جب ہم اس اقتباس کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ:

1۔ حضرات ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو احادیث مروی ہیں، وہ کتبِ زوائد میں نہیں بلکہ کتبِ صحاح میں، اور ان میں سے اکثر صحیحین میں بھی موجود ہیں۔

2۔ نکتہ نمبر 2 کی رُو سے اثری صاحب فرما رہے تھے کہ کسی صحیح مرفوع حدیث کے متن میں آیۃ اسراء کا کوئی ذکر نہیں۔ لیکن اس نکتہ میں اپنے پہلے بیان کی تردید کر کے اعتراف فرما رہے ہیں کہ "ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا اس آیت کریمہ کا ذکر مروی ہے۔" اور یہ "دروغ گو را حافظہ بناشد" کی واضح مثال ہے۔

3۔ فرمایا کہ "یہ روایات محدثانہ طریق پر سخت مخدوش ہونے پر بھی مسترد نہیں کہ وہ قرآنی لفظوں کے اطلاق اور تناسب پر محمول ہیں۔۔۔اثری صاحب کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔مگر سوال یہ ہے کہ "جو روایات و احادیث محض اس لیے مسترد نہیں کی جا سکتیں کہ وہ قرآنی لفظوں کے اطلاق اور تناسب پر محمول ہیں۔" تو ایسی روایات و احادیث کے متعلق انہیں "محدثانہ طریق پر سخت مخدوش ہونے" کی پچر لگانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟

پھر روایات و احادیث کی تحقیق و تنقید کے لیے اثری صاحب جو "محدثانہ طریق" استعمال فرمایا کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل کی اس مختصر سے مقالہ میں گنجائش نظر نہیں آتی۔ البتہ اس "محدثانہ طریق" پر میں نے اپنی تصنیف "عقل پرستی اور انکارِ معجزات" میں کسی حد تک روشنی ڈالی ہے۔

نکتہ نمبر 5 مسجدِ اقصیٰ سے واپسی

بعد ازاں اثری صاحب نے فرمایا:

"علاوہ ازیں اسراء کی جن حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے "زہاب" (جانے) کا ذکر ہے ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے "یاب" (واپسی) کی بھی تصریح ہے۔ مگر آیتِ کریمہ میں جس اسراء کا ذکر ہے اس میں واپسی کا کوئی ذکر کیا اشارہ تک بھی نہیں۔" (ایضا ص 42)

یہ نکتہ بھی کیا خوب پیدا فرمایا ہے۔ حالانکہ اثری صاحب اس عام اصول کو خوب جانتے تھے کہ "عدمِ ذکر سے عدمِ شے لازم نہیں آتا۔" قرآن میں اگر نمازوں کی تعداد مذکور نہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ نمازوں کی کوئی تعداد نہیں؟ اگر قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجدِ اقصیٰ سے مکہ واپس آنے کا ذکر نہیں، تو اس سے قطعا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ اقصیٰ یا بیت المقدس سے واپس مکہ آئے ہی نہیں تھے۔ آپ نے خود یہ اعتراف فرما لیا ہے کہ احادیث میں البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کا ذکر موجود ہے۔ اس سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن میں مذکور مجمل واقعات و احکام کی شرح و تفصیل احادیثِ نبویہ میں ملتی ہے۔ نہ یہ کہ حدیث میں مذکور وضاحت کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا جائے۔ حافظ صاحب چونکہ "اثری" تھے لہذا کھل کر حدیثوں کی تردید یا انکار نہ کر سکے۔ تاہم اگر وہ ان احادیث کو درست تسلیم کرتے تو اسراء کے معجزہ کو تسلیم کر لیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ لہذا آپ نے درمیانی راہ اختیار فرمائی اور "زہاب" وایاب"کا نکتہ پیدا کر کے اپنی ہی ذہنی پریشانی کو تسکین دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ (جاری ہے)
حوالہ و حواشی

1. یہ کتاب ادارہ محدث کو تبصرہ کے لیے موصول ہوئی تھی، لیکن صفحات کی تنگی کی بناء پر یہ تبصرہ اب تک شائع نہ ہو سکا، اب جبکہ قارئین کو اس سے تعارف حاصل ہو گیا ہے، خواہشمند حضرات درج ذیل پتہ سے طلب کر سکتے ہیں:

2. مولانا عبدالرحمان کیلانی، دارالسلام، گلی نمبر 20، وسن پورہ، لاہور (ادارہ)

3. واضح رہے کہ سرسید احمد کو واقعہ اسراء کی تاویل کرتے وقت یہ بات نہ سوجھ سکی۔ وہ اپنے دلائل کا سارا زور اس بات پر ہی صرف کرتے رہے کہ واقعہ اسراء محض ایک خواب کا واقعہ تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ثنائی از مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ۔

4. پرویز صاحب کا یہ ہدیہ تبریک اثری صاحب تک یقینا پہنچ گیا ہو گا۔ پرویز صاحب یہ ہدیہ 1975ء میں پیش رما رہے ہیں، جبکہ اثری صاحب نے 1980ء میں بمقام گجرات وفات پائی۔

5. مولانا کیلانی کی یہ کتاب بھی چھپ چکی ہے اور متذکرہ بالا پتہ سے مل سکتی ہے۔ (ادارہ)

6. صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ موضوع کا ذکر کرنے سے اثری صاحب کا مقصد یہ ہے کہ موضوع کے ساتھ صحیح احادیث کو بھی مشکوک سمجھا جائے تاکہ اسراء کے واقعہ سے فرار کی راہ کسی حد تک ہموار ہو جائے۔

7. یہ حدیث مسلم میں بھی موجود ہے، یعنی "متفق علیہ" ہے۔