اب مولانا عبدالحئی مرحوم کی دوسری بیان کردہ حدیث پیش ہے جو کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یعنی:

«أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ)

اسے حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مستدرک میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ: "یہ صحیح الاسناد ہے۔" علامہ ابوہاجرمحمد سعید بسیونی الزغلول (صاحب اطراف الاحادیث النبویۃ الشریفہ) فرماتے ہیں: "لیکن شیخین نے اس کی تخریج نہیں کی، علامہ ذہبی فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ یہ موضوع ہے۔" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث: " «أَوْحَى اللَّهُ تعالى إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ ولقد خلقت العرش فاضطرب فكتب عليه لا اله الا الله محمد رسول الله فسكن)" کی تخریج حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے بطریق "(عمرو بن اوس الانصارى حدثنا سعيد بن ابى عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن ابن قال به)" کی ہے۔ اس کو امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "الوفاء باحوال المصطفیٰ" میں بلاسند و بلا تنقید وارد کیا ہے۔ اگرچہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بھی روایت کرنے کے بعد "صحیح الاسناد" قرار دیا ہے لیکن یہ حدیث بھی "ضعیف" ہے۔ خود مولانا عبدالحئی لکھنوی مرحوم فرماتے ہیں: "اس کی سند میں عمرو بن اوس موجود ہے جس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ کون ہے۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میرا گمان ہے کہ اسے سعید سے بیان کرنا موضوع ہے۔" اس کی سند میں سعید بن ابی عروبہ سے روایت کرنے والا راوی عمرو بن اوس الانصاری ہے جس کے متعلق علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "مجہول الحال ہے اور منکر خبر لاتا ہے۔" پھر علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ "میرا گمان ہے کہ یہ موضوع ہے۔" حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے سے اتفاق کیا ہے جیسا کہ لسان المیزان میں مذکور ہے۔ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی فرماتے ہیں: "اس کو مرفوعا بیان کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث موقوفا مروی ہے۔"

مولانا عبدالحئی نے دیلمی رحمۃ اللہ علیہ کی جس مرفوع روایت کا اوپر ذکر کیا ہے یعنی: "اتانى جبريل فقال ان الله يقول لولاك ماخلقت الجنة ولولاك ماخلقت النار" تو یہ کنزالعمال میں موجود ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے اپنی " الموضوعات الکبریٰ" میں توقیر کرتے ہوئے نقل کیا ہے، لیکن علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ اسے "ضعیف" قرار دیتے ہیں جیسا کہ اوپر معنوی صحت پر تنقید کے ضمن میں گزر چکا ہے۔

"اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو یہ کائنات پیدا نہ ہوتی" یا اس مضمون کی جتنی بھی روایات بیان کی جاتی ہیں اُن پر تبصرہ فرماتے ہوئے علامہ شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 728ھ) فرماتے ہیں:

"بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی آدم کے سردار ہیں، تمام سے افضل و اکرم مخلوق ۔ پس کہنے والا کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے ہی یہ عالم پیدا کیا ہے یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو نہ عرش پیدا ہوتا نہ کرسی، نہ آسمان نہ زمین، نہ سورج نہ چاند وغیرہ۔ لیکن یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں ہے، نہ صحیح نہ ضعیف اور نہ ہی حدیث کا علم رکھنے والوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےنقل کیا ہے۔ یہ نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کا منقول ہونا معروف ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا کلام ہے جس کے کہنے والے کا کسی کو کوئی علم نہیں۔ ممکن ہے کہ کسی نے اِن آیات کی تفسیر کی بناء پر ایسا کہو ہو:"﴿أَنَّ اللَّـهَ سَخَّرَ‌ لَكُم ما فِى السَّمـٰوٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ...﴿٢٠﴾... سورة لقمان" (ترجمہ: اور تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے) اور "﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الفُلكَ لِتَجرِ‌ىَ فِى البَحرِ‌ بِأَمرِ‌هِ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الأَنهـٰرَ‌ ﴿٣٢﴾ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ دائِبَينِ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ ﴿٣٣﴾وَءاتىٰكُم مِن كُلِّ ما سَأَلتُموهُ وَإِن تَعُدّوا نِعمَتَ اللَّـهِ لا تُحصوها ...﴿٣٤﴾... سورة ابراهيم

" (ترجمہ: اور تمہارے نفع کے واسطے کشتی کو مسخر بنایا کہ وہ خدا کے حکم سے دریا میں چلے اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو مسخر بنایا اور تمہارے نفع کے واسطے سورج اور چاند کو مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے ہی میں رہتے ہیں اور تمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو مسخر بنایا اور جو جو چیز تم نے مانگی تم کو ہر چیز دی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اگر شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لا سکتے) یا اسی طرح کی اور دوسری آیات جن میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مخلوقات کو بنی آدم کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور معلوم و مشہود ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کی اس میں ایک عظیم حکمت ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے بنی آدم پر ان چیزوں کی منفعت کو واضح کر دیا اور انہیں تمام بنی آدم کے لئے نعمت بنا دیا ہے۔ پس اگر کوئی کہے کہ "اس وجہ سے ایسا کیا" تو اس کا یہ قول اس امر کا متقاضی نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی دوسری حکمت نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح کسی کہنے والے کا یہ قول کہ: "اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ پیدا نہ ہوتا" اس امر کا متقاضی نہیں ہے کہ ایسا کرنے میں کوئی دوسری عظیم حکمت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ قول اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی آدم میں سب سے افضل و صالح ہیں، ان کی تخلیق غایت درجہ مطلوب اور حکمتِ بالغہ مقصودہ تھی، چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اس انتہائی درجہ کمال کو حاصل کیا گیا۔"

"ولولا محمد ماخلقتك" کی تائید کے لیے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی نبوت کے وجود کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں ان کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں کچھ حسن، کچھ ضعیف اور کچھ موضوع ہیں۔ عموما بیان کی جانے والی روایات اس طرح ہیں:

كنت نبيا وادم بين المآء والطين

"میں نبی تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پانی اور گارے کے بیچ تھے۔"

كنت نبيا ولا ادم ولا ماء والا طين

"میں نبی تھا اس وقت جبکہ نہ آدم علیہ السلام تھے نہ پانی اور نہ گارا۔"

كنت اول النبين فى الخلق واخرهم فى البعث

"میں خلقت میں اول النبیین تھا اور بعثت کے لحاظ سے آخری نبی ہوں۔"

كنت اول الناس فى الخلق واخراهم فى البعث

"میں خلقت میں پہلا انسان تھا اور بعثت میں آخری نبی ہوں۔"

انى عندالله لمكتوب خاتم النبين وان ادم منجدل فى طينته

"میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا جا چکا تھا جب کہ آدم علیہ السلام اپنے گارے میں پڑے ہوئے تھے۔"

كنت نبياوادم بين الروح والجسد

"میں نبی لکھا جا چکا تھا جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے بیچ تھے۔"

كنت نبيا وادم بين الروح والجسد

"میں نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے بیچ تھے۔"

ان میں سے پہلی دو روایتیں جو اس طرح ہیں: "( كنت نبيا وادم بين المآء والطين)" اور "( كنت نبيا ولا ادم ولا ماء والا طين)" ان کے متعلق مولانا عبدالحئی لکھنوی مرحوم فرماتے ہیں:

"علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "المقاصد الحسنہ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتہرۃ علی الالسنۃ" میں اور علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "الدررا المشتہرۃ فی الاخبار المشتہرۃ" میں اور بعض دوسروں نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ احادیث ان الفاظ کے ساتھ موضوع ہیں۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کی مستدرک میں یہ ثابت ہیں اور انہوں نے ان کی تصحیح بھی کی ہے۔"

علامہ ابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان دونوں احادیث کو موضوع قرار دیا ہے۔" علامہ اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ اول الذکر حدیث کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: "یہ ان الفاظ کے ساتھ کہیں نہ مل سکی لیکن علقمی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح الجامع الصغیر میں اس کی صحت بیان کی ہے۔" علامہ شیبانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہمارے شیخ فرماتے ہیں کہ میں اس (اول الذکر) حدیث سے ان الفاظ کے ساتھ واقف نہیں ہوں۔ ثانی الذکر حدیث اول الذکر پر زیادتی کی گئی ہے جس کے متعلق ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک استفتاء کے جواب میں فرمایا ہے کہ یہ زیادتی ضعیف ہے لیکن جو اس سے قبل روایت ہے وہ قوی ہے۔" علامہ نورالدین ابوالحسن السیہودی (م سئہ 911ھ) نے بھی "الغماز علی اللماز" میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ علامہ شمس الدین ابوالخیر محمد بن عبدالرحمن السخاوی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 902ھ) فرماتے ہیں: "میں اس (اول الذکر) حدیث سے ان الفاظ کے ساتھ واقف نہیں ہوں کجا کہ اس میں یہ زیادتی (پھر آخر الذکر حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا اوپر درج کیا ہوا قول نقل کرتے ہیں۔" علامہ بدرالدین ابی عبداللہ محمد بن عبداللہ الزرکشی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 794ھ) فرماتے ہیں کہ "ان الفاظ کے ساتھ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔" ملا علی القاری، علامہ عجلونی اور علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہم اللہ نے بھی علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اور زرکشی رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال ہی نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان دونوں احادیث کو "الاحادیث الموضوعۃ" کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔ علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "الدررالمشتہرۃ میں فرمایا کہ عوام نے (آخر الذکر) حدیث کے الفاظ کا از خود اضافہ کر لیا ہے، اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے، لیکن ملا علی القاری کا دعویٰ ہے کہ باعتبار الفاظ اس روایت کی کوئی اصل نہیں لیکن باعتبارِ معنیٰ یہ صحیح ہے۔" علامہ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کے الفاظ اور ان کی معنوی حیثیت دونوں پر بحث کرتے ہوئے ان کا بطلان کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

"اس کی کوئی اصل نہیں ہے نہ نقلا اور نہ ہی عقلا۔ لہذا محدثین میں سے کسی ایک نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ اس کا معنیٰ باطل ہے، کیونکہ آدم علیہ السلام پانی اور گارے کے بیچ نہیں تھے۔ کیونکہ طین یعنی گارا پانی اور مٹی کو ہی کہتے ہیں۔ پانی اور گارے کے بیچ کے بجائے آپ علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے۔"

علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان دونوں احادیث کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: "امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "الدرر" میں صراحت کی ہے کہ ان دونوں احادیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور آخر الذکر حدیث عوام کی طرف سے کی گئی زیادتی ہے۔" محدثِ عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے بھی ان دونوں احادیث کو "موضوع" قرار دیا ہے۔ علامہ شیخ عبداللہ محمد الصدیق (استاذِ حدیث بجامعۃ الازہر) نے بھی اپنی کتاب "الاحادیث المنتقاۃ فی فضائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" میں ان احادیث پر علمی بحث درج کی ہے۔ نیز علامہ طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ کی "تذکرۃ الموضوعات" اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی "احادیث القصاص" بھی اس ضمن میں قابلِ مراجعت ہیں۔

اب اس سلسلہ کی تیسری حدیث یعنی "كنت اول النبين فى الخلق واخرهم فى البعث" پیش خدمت ہے۔ اس روایت کو ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے "الدلائل" میں تمام نے "الفوائد" میں اور ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "تفسیر" میں بطریق سعید بن بشیر ثنا قتادہ عن الحسن عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کیا ہے، لیکن یہ حسن کے "عنعنہ" اور سعید بن بشیر کی موجودگی کے باعث ضعیف ہے۔ سعید بن بشیر کو علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "ضعیف" قرار دیا ہے، علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ثقہ تھا لیکن اختلاط کرتا تھا۔" ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: "شعبہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے لیکن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کی ایک جماعت نے اس کی تضعیف کی ہے۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ عباس نے ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے۔" فلاس رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "ابن مہدی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے اس سے روایت لی لیکن بعد میں ترک کر دیا تھا۔" نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "ضعیف" بتایا ہے۔ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اور دحیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی توثیق کی ہے۔" ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "وہ حافظ تھا۔" یعقوب فسوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: "ضعیف اور منکر الحدیث تھا۔" ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ذکر "ضعفاء" میں کیا ہے اور کہا ہے کہ "اس کے ساتھ احتجاج نہیں ہے۔" اسی طرح ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک قول منقول ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سعید بن بشیر کی "تضعیف" کی ہے۔ تفصیلی ترجمہ کے لیے تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی اور فہارس مجمع الزوائد للزغلول وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔

ابو ہلال رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو قتادہ سے مرسلا بیان کیا ہے لیکن اس میں حسن عن ابی ہریرۃ کا تذکرہ نہیں ہے، اس کی تخریج ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کی ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ شیبانی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: "اسے ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے الدلائل میں، ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اور ابن لال رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے۔ اس کے لیے میسرۃ الفجر کی حدیث شاہد ہے۔" حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا طریق سے آنے والی جو روایت نقل کی ہے اس میں "(فبدأ بى قبلهم)" کے اضافی الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "اس میں سعید بن بشیر ہے جس میں کہ ضعف ہے۔ اس روایت کو سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے مرسلا اور بعض نے قتادہ سے موقوفا بھی روایت کیا ہے۔" پھر حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "(وهر اشبه)" علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ، ابن لال رحمۃ اللہ علیہ اور دیلمی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے سعید بن بشیر کے طریق سے آنے والی روایت کو اگرچہ درست بتایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ وضاحٹ بھی کر دی ہے کہ "سعید بن بشیر کو ابن معین رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔" علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کے لیے شہادت ہے جس کی تصحیح حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے (پھر حدیث ذکر کرتے ہیں) لیکن صنعانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ موضوع ہے اور اسی طرح ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی موضوع فرمایا ہے۔" علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفطہ اللہ بھی اس حدیث کو "ضعیف" قرار دیتے ہیں۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے سعید بن بشیر کے ترجمہ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اسے اس سے مروی غرائب میں سے قرار دیا ہے۔ شیخ عبداللہ محمد الصدیق نے اس حدیث پر بھی اپنی کتاب "الاحادیث المنتقاۃ فی فضائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" میں لائقِ مراجعت بحث درج کی ہے۔

اب چوتھی روایت ملاحظہ فرمائیں جو اس طرح ہے:

كنت اول الناس فى الخلق واخرهم فى البعث

اسے امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "الصغیر" میں قتادہ سے مرسلا وارد کیا ہے اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی طبقات میں اس کو روایت کیا اور اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ علامہ اسمعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس روایت کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔" لیکن علامہ مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "اس میں بقیہ ابن ولید اور سعید بن بشیر ہیں جنہیں ابن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔" سعید بن بشیر کا ترجمہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، بقیہ ابن ولید کا مختصر ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "متروکین کی ایک قوم سے روایت کرتا ہے۔" عجلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو معروفین سے روایت کرے وہ ثقہ ہے اور جو مجہولین سے روایت کرے وہ کچھ بھی نہیں ہے۔" ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اور عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "صدوق ہے اور ضعفاء کے ساتھ کثرت سے تدلیس کرتا ہے۔" علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ "مدلس ثقہ ہے" بعض مقامات پر علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "لین الحدیث" اور "ضعیف" بھی لکھا ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ایک سے زیادہ ائمہ کا قول ہے کہ اگر ثقات سے روایت کرے تو ثقہ ہے۔ اسی طرح ایک سے زیادہ ائمہ نے اسے مدلس بتایا ہے پس اگر وہ "عن" کے ساتھ روایت کرے تو حجت نہیں ہے۔" امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگر ""(حدثنا)" یا "(اخبرنا)" کہے تو ثقہ ہے۔" ابن مبارک نے "صدوق" بتایا ہے۔ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اگر اہل شام سے روایت کرے تو وہ ثابت ہے۔" ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ "اس کے ساتھ احتجاج نہیں ہے۔" ابومسہر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بقیہ کی احادیث نقی نہیں ہوتیں۔" جوزجانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اگر وہ ثقات سے روایت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: "اگر معروفین سے روایت کرے تو ثقہ ہے۔" اور ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے بقیہ کے ساتھ احتجاج نہیں کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے الضعفاء والمتروکین للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، تاریخ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، علل لابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ والتاریخ للبسوی رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ، مجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، کامل فی الضعفاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان، تقریب التہذیب لابن حجر، تاریخ بغداد للخطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ، سیر اعلام النبلاء للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال للحافظ جمال الدین ابی الحجاج یوسف المزی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 742ھ)، معرفۃ الثقات للعجلی رحمۃ اللہ علیہ، تحۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد و منبع الوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، فیض القدیر للمناوی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔

اب اس سلسلہ کی پانچویں حدیث: "انى عندالله لمكتوب خاتم النبين وان ادم منجد ل فى طينته" ۔۔۔پیش خدمت ہے۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی مرحوم فرماتے ہیں: "بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ عرباض ابن ساریہ سے مرفوعا مروی ہے۔" شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "مدارج النبوۃ" کے خود نوشت مقدمہ میں فرماتے ہیں: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرتبہ نبوت میں بھی اول ہیں، چنانچہ حدیث پاک میں ہے: "(كنت نبيا وان ادم لمنجدل فى طينته)" میں اس وقت بھی نبی تھا جب کہ آدم اپنے خمیر میں ہی تھے۔" علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو بلاسند و بلا تنقید "الوفاء باحوال المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم " میں وارد کیا ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے عرباض بن ساریہ سے اس کی روایت کی ہے۔" علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: "ایک روایت میں ہے: "(وادم منجدل فى طينته)" جو صحیح ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ میں عرباض بن ساریہ سے مرفوعا مروی ہے (حدیث) اسی طرح امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسانید میں اور ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔" علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کئی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے، اسی طرح بزار رحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی روایت کیا ہے لیکن امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی اسانید میں سے صرف ایک اسناد کے رجال (سعید بن سوید کے علاوہ) رجال الصحیح ہیں، اور سعید بن سوید کو بھی ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔"

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: "اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ میری نبوت اس وقت ہی لکھ دی گئی تھی جب کہ آدم علیہ السلام میں روح بھی نہیں پھونکی گئی تھی، جس طرح کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندہ کا رزق، موت، عمل، شقی یا سعید ہونا وغیرہ جنین کی تخلیق اور اس میں روح ڈالنے سے قبل ہی لکھ دیتا ہے۔"

چھٹی حدیث میں مروی ہے: "(كنت نبيا وادم بين الروح الجسد )" اس حدیث کی تخریج امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "مسند " اور "السنۃ" میں، ابن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ نے "السنۃ" میں، ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے "الحلیۃ" اور "اخبار اصبہان " میں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "تاریخ" میں، ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے "طبقات" میں کی ہے۔ بغوی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے وارد کیا ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ اس کی "صحت" بیان کرتے ہیں۔

اب اس سلسلہ کی آخری حدیث پیش ہے، یعنی "(كنت نبيا وادم بين الروح والجسد)" علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصحیح فرمائی ہے، لیکن صنعانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ موضوع ہے اور ایسا ہی ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی منقول ہے۔" ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ شیبانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث الفخر سے مروی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں اس کی تخریج کی ہے اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی صحت بیان کی ہے۔" علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے حلیہ میں میسرۃ الفخر سے، ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے ابن ابی الجدعاء سے اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے الکبیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے، اور ایسی ہی ایک روایت الجامع الصغیر میں بھی ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کی تخریج امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (نے تاریخ میں)، بغوی رحمۃ اللہ علیہ ، ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ اور ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے (حلیہ میں) کی ہے اور امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصحیح فرمائی ہے۔" علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی میسرۃ الفخر کی یہ روایت "الوفاء باحوال المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم" میں بلاسندو بلا تنقید وارد کی ہے۔ علامہ محمد ناصرالدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد"(كنت اول النبين فى الخلق واخرهم فى البعث)" ۔۔۔غنی کر دیتا ہے۔ اس ارشاد مبارک کی سند صحیح ہے۔"

جامع الترمذی رحمۃ اللہ علیہ میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے وہ اس طرح ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ»

(یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ پر نبوت کب واجب ہوئی؟" تو آپ نے جواب دیا: "اس وقت جب کہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔") امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "«هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ)"

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

( عن عبدالله بن شقيق عن رجل قال قلت يارسول الله متى جعلت نبيا؟قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ»)

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کے رجال رجال الصحیح ہیں۔" طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کی اوسط اور بزار رحمۃ اللہ علیہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے طریق سے آنے والی روایت اس طرح ہے:

قال قيل يارسول الله متى كتبت نبيا؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ»

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کی اسناد میں جابر بن یزید الجعفی ہے جو کہ ضعیف ہے۔"

جابر بن یزید الجعفی کے متعلق علامہ عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ضعیف تھا، تشیع میں غلو کرتا تھا اور مدلس بھی تھا۔" ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ "ضعیف رافضی تھا۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شعبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ صدوق تھا۔ وکیع رحمۃ اللہ علیہ نے بھی جابر کو ثقہ بتایا ہے۔ عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے اسے ترک کیا ہے۔" ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: "میں نے اس سے زیادہ جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔" نسائی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے اسے "متروک" بتایا ہے۔ یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔" ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "میرے نزدیک قوی نہیں ہے۔" یحییٰ کا ایک اور قول ہے کہ "کذاب تھا۔" اور "وہ کچھ بھی نہیں ہے۔" جوزجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "کذاب" بتایا ہے۔ اور زائدہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "جابر الجعفی رافضی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتا تھا۔" مزید تفصیل کے لیے الضعفاء والمتروکین للنسائی رحمۃ اللہ علیہ، تاریخ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، علل لابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ،مقدمہ صحیح مسلم رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ والتاریخ للبسوی رحمۃ اللہ علیہ،الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، الجرح والتعدیل لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، کامل فی الضعفاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، کشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث للحلبی رحمۃ اللہ علیہ، موضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہیثؐی رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذٰب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ الثقات للعجلی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔

علامہ اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ایک روایت ہے:

قال قيل يارسول الله متى اسنتبئت؟قال وادم قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ حين اخذ منى الميثاق»

مولانا عبدالحئی لکھنوی نے "الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ" میں، علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے "المقاصد الحسنہ" میں، اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ نے "کشف الخفاء" میں، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے، "مرقاۃ" اور "الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ المعروف بہ الموضوعات الکبریٰ" میں اور علامہ شیخ محمد ناصرالدین الالبانی حفظہ اللہ نے "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ" میں اس سلسلہ کی مختلف احادیث نقل کرتے ہوئے ان سے استشہاد کیا ہے، لیکن ان احادیث سے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک تمام ذوات سے قبل پیدا کی گئی تھی، یا تخلیقِ آدم سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ نبی موجود تھے یا دنیا میں تشری لانے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے پاس بحیثیتِ نبی موجود تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بحیثیتِ نبی ہی ہوئی تھی وغیرہ۔ حدیث، تاریخ و سیر کے ذخائر میں مذکور بے شمار صریح و صحیح آثار اس امر پر شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمایا گیا تھا۔ جن روایات میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی ہونا مروی ہے، ان روایات کا حقیقی یا لفظی معنی لینا درست نہیں ہے، بلکہ ان سے مراد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے تاقیام قیامت کائنات کی ہر شئے کی تقدیر لکھنے کا حکم دیا تو اسی وقت قلمِ تقدیر نے بحکمِ الہی، لوح محفوظ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور ان کی بعثت وغیرہ کے متعلق بھی لکھا تھا اور ان کی بعثت وغیرہ کے متعلق بھی لکھا تھا اور بلاشبہ اس وقت تک خالقِ کائنات کے، حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کرنے کے ارادہ سے، ملائکہ بھی واقف نہ تھے، جو کہ متفقہ طور پر آدم علیہ السلام سے قبل کی مخلوق ہیں۔ مختل علمائے اسلام نے روایات کی اس گتھی کو سلجھانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔ مثلا علامہ تاج الدین ابی نصر عبدالوہاب بن علی بن عبدالکافی السبکی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 771ھ) فرماتے ہیں:

"جب میں نبوت کہتا ہوں تو اس سے مراد اس کا وصف ہوتا ہے۔ اس سے مراد ہرگز یہ نہیں ہوتی کہ موصوف موجود بھی ہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے چالیس سال بعد نبوت ملی تھی تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود یا ارسال سے قبل ہی اس سے متصف کر دیا جاتا؟"

علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

 كنت اول النبين فى الخلق واخرهم فى البعث ياقَالَ: « كنت نبياوَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ»

قطعا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا کیا تھا، جیساکہ بعض لوگوں کا گمان ہے، اور یہ بات بادنیٰ تامل ظاہر واضح ہے۔"

علامہ اسماعیل عجلونی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

"وارد ہوا ہے کہ "(ان الله تعالى خلق الارواح قبل الاجساد)" (یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے جسموں سے قبل ارواح کو پیدا کیا) تو اس حدیث سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی روحِ شریفہ کی تخلیق کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ ہو سکتا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حقیقتا فرمایا ہو اور حقائق کی معرفت سے ہماری عقلیں قاصر ہوں۔"

اور علامہ حافظ ابن تیمیہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے، چھ دنوں میں پیدا کیا اور آخری تخلیق جمعہ کے روز فرمائی، اس روز آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی آخری مخلوق تھے، انہیں جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا کیا گیا اور بنی آدم کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "انى عندالله لمكتوب خاتم النبين وان ادم لمنجدل فى طينته" اس سے مراد یہ ہے کہ میری نبوت اس وقت ہی لکھ دی گئی تھی جب کہ آدم علیہ السلام میں روح بھی نہیں پھونکی گئی تھی جس طرح کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل، اس کا شقی یا سعید ہونا وغیرہ، جنین کی تخلیق اور اس میں روح پھونکنے سے قبل ہی لکھ دیتا ہے۔" (جاری ہے)
حوالہ جات

1. ہامش علی الآثار المرفوعۃ للزغلول ص44

2. مستدرک حاکم ج نمبر 2 ص 614-615

3. الوفاء باحوال المصطفیٰ لابن الجوزی ج نمبر 1 ص 33۔34

4. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ ص44

5. میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 3 ص 246

6. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 298

7. کنز العمال حدیث نمبر 25-32

8. الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ للقاری ص 194 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1985ء

9. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 299-300

10. مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ج نمبر 11 ص 96-97

11. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ ص45

12. تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ج نمبر 1 ص341

13. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 173

14. تمیز الطیب للشیبانی ص 142

15. الغماز علی اللماز فی الموضوعات المشہورات للسمہودی ص171 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1986ھ

16. المقاصد الحسنہ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتہرہ علی الالسنۃ للسخاوی ص 327 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1979ء

17. اللآلی المنثورۃ فی الاحادیث المشہورۃ المعروف بہ تذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ للزرکشی ص 172 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1986ء

18. الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ للقاری ص 178 و کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169۔ 170 و تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص 293 و کما ی المرقاۃ للقاری و تذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ للزرکشی ص 172

19. الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی ص 203

20. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169۔ 170

21. رد علی الکبریٰ لابن تیمیہ ص9

22. شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی ج نمبر 1 ص 33

23. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 316۔317

24. تذکرۃ الموضوعات للفتنی ص86 و احادیث القصاص لابن تیمیہ ص29

25. الدلائل لابی نعیم ص6

26. الفوائد للتمام ج نمبر 8 ق نمبر 1 ص 126

27. تفسیر للثعلبی ج نمبر 3 ق نمبر 1 ص 93

28. تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص 292، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص 130، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص 172، مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 1 ص 247، ج نمبر 3 ص 69، 200، ج نمبر 4 ص 146، ج نمبر 5 ص 96، 160، ج نمبر 10 ص 65 طبع دارالکتب العربی بیروت سئہ 1982ء، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 2 ص 115، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر 1 ص 477، ج نمبر 2 ص 349 و فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج نمبر 3 ص 297 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1986ء

29. طبقات ابن سعد ج نمبر1 ص149

30. المقاصدالحسنہ للسخاوی ص327 و کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169 والاسرار المرفوعۃ للقاری ص179 و تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص 293 بحوالہ المرقاۃ للقاری و تمیز الطیب للشیبانی ص 142

31. فوائد المجموعہ للشوکانی ص 326

32. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 2 ص 115

33. میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص 130

34. طبقات ابن سعد ج نمبر 1 ق نمبر 1 ص 96

35. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169-170

فیض القدیر لمناوی ج نمبر 5 ص 53

36. الضعفاء والمتروکین للدارقطنی ترجمہ نمبر 630، تاریخ یحییٰ بن معین ج نمبر 4 ص 415، علل لابن حنبل ج نمبر ص 380۔ 383، التاریخ الکبیر للبخاری نمبر 1 ق نمبر 2 ص 150، الضعفاء الصغیر للبخاری ج نمبر 2 ص 281، معرفۃ والتاریخ للبسوی ج نمبر 2 ص 424، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج نمبر 1 ص 162، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 1 ق نمبر 1 ص 434، مجروحین لابن حبان ج نمبر1 ص 200، تہذٰب تاریخ دمشق لابن عساکر ج نمبر 3 ص 279، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 397، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص 105، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص 437، تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ج نمبر 7 ص 126، سیر اعلام النبلاء للذہبی ج نمبر 8 ص 522، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص 331، تہذیب الکمال ی اسماء الرجال للمزی ج نمبر 4 ص198 طبع مؤسسۃ الرسالہ بیروت سئہ 1403 ھ، معرفۃ الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص 250، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 1 ص 97، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج نمبر 3 ص 259، فیض القدیر للمناوی ج نمبر 5 ص 53، مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمی ج نمبر 1 ص 51، 190، ج نمبر 3 ص 38، 75، ج نمبر 4 ص72، ج نمبر 10 ص 189، 262، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 168، 229، 232، 341، 482 ج نمبر2 ص 11، 85، 88، 135، 175، 181، 198، 302، 374، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر 1 ص 460، 621، 648، 730، 802، ج نمبر2 ص 347، 470، ج نمبر 4 ص44، 197، 263، 374، 443، 54، 570، 576 وغیرہ۔

37. دلائل النبوۃ للبیہقی ص 17، شرح السنۃ للبغوی ج نمبر 13 ص 208، مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر 5759، مسند احمد ج نمبر 4 ص 127، مستدرک حاکم ج نمبر 2 ص 600، اسنی المطالب للحوت بیروتی حدیث نمبر 1113، الجامع الصغیر للسیوطی نمبر 6423، 6424، فیض القدیر للمناوی ج نمبر 5 ص 53، غماز علی اللماز للسہودی ص 203، تذکرۃ للزرکشی ص 172، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج نمبر 1 ص 338۔

38. الآثار المرفوعۃ ص 45

39. خودنوشت مقدمہ "مدارج النبوۃ" مصنفہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ص1

40. الوفاء باحوال المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم لابن الجوزی ج نمبر 1 ص 33

41. الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ للقاری ص 179

42. المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص 327، کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169-170

43. مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 8 ص 223

44. مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ج نمبر 11 ص 97-98

45. مسند احمد ج نمبر 5 ص 59

46. السنۃ لامام احمد ص (؟)

47. السنۃ لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 410

48. حلیۃ لابی نعیم ج نمبر 9 ص 53

49. اخبار اصبہان لابی نعیم ج نمبر 2 ص 226 طبع لیدن سئہ 1934ء

50. تاریخ للبخاری ج نمبر 4 ق نمبر 1 ص 374

51. طبقات ابن سعد، ج نمبر 1 ص 148 و ج نمبر 7 ص 60

52. رواہ احمد فی السنۃ ص111

53. فوائد المجموعۃ للشوکانی ص 326

54. تمیز الطیب للشیبانی ص 142 والاسرار المرفوعۃ للقاری ص 179 و کما فی المرقاۃ للقاری

55. حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ج نمبر 9 ص 53

56. تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص 293

57. المقاصد الحسنہ للسخاوی ص 327 وکشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169-170

58. الوفاء باحوال المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم لابن الجوزی ج نمبر 1 ص 33

59. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 316- 317 و ج نمبر 2 ص 153

60. جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص 293

61. ایضا

62. مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 8 ص 223

63. ایضا

64. الضعفاء والمتروکین للنسائی ترجمہ نمبر 98، تاریخ یحییٰ بن معین ج نمبر 3 ص 286-296، علل لابن حنبل ج نمبر 1 ص 61، التاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 1 ص 210، التاریخ الصغیر للبخاری ج نمبر 2 ص 9-10، الضعفاء الصغیر للبخاری ترجمہ نمبر 49، مقدمہ صحیح مسلم: 20، المعرفۃ والتاریخ للبسوی ج نمبر 3 ص 36، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج نمبر 1 ص 191، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، ج نمبر 1 ص 497، مجروحین لابن حبان ج نمبر 1 ص 208، کامل فی الضعفاء لابن عدی ج نمبر 2 ترجمہ نمبر 537، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی ترجمہ نمبر 142، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 1 ص 379، کشف الحثیث للحلبی ص120، موضوعات لابن الجوزی ج نمبر 3 ص 62، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 73، 295، 417، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 1 ص 290، 182، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ج نمبر 1 ص 44، مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 4 ص 126، ج نمبر 5 ص77، ج نمبر 10، ص 352، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص 123، معرفۃ الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص 264، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج نمبر 3 ص 263، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر 4 ص 609، 619 و سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 2 ص 148، 245، 283، 315۔

65. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169- 170

66. الآثار المرفوعۃ ص 45، المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص 327، کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169-170، الاسرار المرفوعۃ للقاری ص 179، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 316- 317 و ج نمبر 2 ص 115 وغیرہ۔

67. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 2 ص 169-170

68. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 2ص 115

69. کشف الخفاء للعجلونی ، ج نمبر 2 ص 170

70. مجموع فتاویٰ للشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ، نمبر 11 ص 97-98