استخلافِ عثمان رضی اللہ عنہ:

گزشتہ سطور میں قارئین کرام یہ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ جس مملکتِ اسلامیہ کی بنیاد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں رکھی گئی تھی، اس کے استحکام میں سیدنا عثمان، غنی رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ مال سے متعدد امور پایہ تکمیل تک پہنچے۔ چنانچہ جہاں آپ رضی اللہ عنہ کی یہ مالی قربانیاں آج تک نقوشِ مقدسہ کی طرح زبانِ حال سے انفاق فی سبیل اللہ کا درس دے رہی ہیں اور تا قیامت یہ درس دیتی رہیں گی، وہاں آپ رضی اللہ عنہ کی جانی قربانیاں بھی صفحہ قرطاسِ عالم پر آج تک ثبت ہیں اور آئندہ بھی ثبت رہیں گی۔ ان شاءاللہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالمِ فانی سے تشریف لے جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ اول تسلیم کئے گئے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، خلیفہ اول کی مجلسِ شوریٰ کے ممبر قرار پائے۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ اول کے کاتب ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے متعمدِ خاص بھی تھے۔ اور حسبِ سابق اس اسلامی سلطنت کی مضبوطی و استحکام کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خزانوں کے در کھلے رہے۔۔۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی مدینہ منورہ سے باہر نہیں بھیجا بلکہ بطورِ مشیرانِ خاص اپنے پاس ہی رکھا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بالاتفاق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفۃ الخلیفہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مرکزی وزیر رہے اور خلیفہ ثانی کے اطاعت گزار، وفادار، خدمتِ اسلام میں پیش پیش رہے۔ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ میں ابولؤلؤ فیروز نامی مجوسی المذہب غلام کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا، "اے امیر المومنین کسی کو خلیفہ مقرر فرما دیجئے۔" آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "کس کو اپنا جانشین مقرر کروں؟ اگر ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو ان کو جانشین مقرر کر جاتا اور اگر اس معاملہ میں ربِ کریم مجھ سے سوال کرتے تو کہہ دیتا "الہی میں نے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اس اُمت کے امین ہیں۔" پھر اگر حضرت سالم رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو انہیں خلیفہ نامزد کرتا۔ اگر قیامت کے دن مجھ سے سوال ہوتا تو میں کہہ سکتا کہ "اے خالقِ کائنات میں نے تیرے برگزیدہ اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ "سالم رضی اللہ عنہ، اللہ سے بہت محبت کرنے والا ہے۔" ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے صاجزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ (طبری 4 ص 227)

علامہ شبلی نعمانی "الفاروق" میں رقم طراز ہیں:

"اس وقت اسلام کے حق میں جو سب سے اہم کام تھا وہ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا تھا۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بار بار درخواست کرتے تھے کہ اس مرحلے کو آپ بے کر جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے معاملہ میں مدتوں غور کیا تھا اور اکثر اس کو سوچا کرتے تھے۔ بارہا لوگوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ سب سے الگ متفکر بیٹھے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خلافت کے باب میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ مدت کے غوروفکر کے باوجود ان کے انتخاب کی نظر کسی پر نہ جمتی تھی۔ بار بار ان کے منہ سے بے ساختہ آن نکل جاتی کہ افسوس مجھے اس بارِ گراں کا کوئی اٹھانے والا نظر نہیں آتا۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس وقت چھ آدمی تھے جن پر انتخاب کی نظر پڑ سکتی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان میں کچھ نہ کچھ کمی پاتے تھے۔ اور اس کا انہوں نے مختلف موقعوں پر اظہار بھی کر دیا تھا۔ چنانچہ طبری وغیرہ میں ان کے ریمارک تفصیلا موجود ہیں۔ مذکورہ بالا بزرگوں میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سب سے بہتر جاتے تھے، لیکن بعض اسباب کی وجہ سے ان کی نسبت بھی قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ الغرض جب وفات کے وقت لوگوں نےاصرار کیا تو فرمایا ان چھ شخصوں میں جس کی نسبت کثرتِ رائے ہو وہ خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔" (الفاروق مطبوعہ زنگین پریس دہلی ص 102 و ص 103 جلد اول)

چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ دعویٰ خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ باقی ارکانِ مجلس نے انتخاب کا کام حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ذمہ ڈال دیا۔ حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ نے مسلسل تین دن، تین رات ارکانِ مجلس سے خفیہ ملاقاتیں کیں اور ہر ایک کے متعلق پوری جانفشانی کے ساتھ عوام سے بھی مشورہ طلب کیا۔ بالآخر پورے غوروخوض کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف رجحان دیکھ کر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان کر دیا۔

سب اہل مجلس نے اسی وقت بیعت کر لی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اولین بیعت کنندگان میں تھے۔ (تاریخِ اسلام نجیب آبادی، مختصر سیرت الرسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ص488 مطبوعہ لاہور)

شیعہ کتب میں بھی اس بیعت کا تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ شرح نہج البلاغۃ حدیدی طبع بیروت 2 ص 97 پر ہے کہ:

«ثم مديده فبايع»

نیز اسی کتاب کے 2 ص 617 پر ہے کہ:

فمشى الى عثمان ثم بايعه

نیز یہی الفاظ ناسخ التواریخ مصنف مرزا محمد تقی، مطبوعہ ایران، تحت بحث بیعتِ عثمان رضی اللہ عنہ 2 ص 449 پر موجود ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔

مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سابقہ کارگزاری پر نظر فرمائی تو معلوم ہوا کہ نئے مفتوحہ علاقوں کے لوگ بغاوت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ قیصرِ روم کی موت کے بعد اس کے لڑکے قسطنطین نے تخت شاہی پر بیٹھ کر اسکندریہ پر سے مسلمانوں کی حکومت پائمال کرنے کے لیے ایک زبردست فوج روانہ کی۔ یہ وج جہازوں کے ذریعے قسطنطنیہ سے روانہ ہوئی اور اسکندریہ پر اتری۔ مسلمان اس نئے حملہ کی اطلاع پا کر قاہرہ سے نکلے، دونوں فوجوں میں زبردست مقابلہ ہوا۔رومی فوج کو شکست فاش ہوئی ان کا سپہ سالار مارا گیا اور مسلمانوں کا، اسکندریہ پر دشمن کے قبضہ کا خطرہ دور ہوا۔

اسی طرح ایرانی علاقوں میں بھی آثارِ بغاوت نمودار ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اطلاع پاتے ہی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، حضرت براء بن عازت رضی اللہ عنہ اور قرط بن کعب رضی اللہ عنہ کو بھاری فوجیں دے کر ان بغاوتوں کو فرو کرنے کے لیے روانہ کیا۔ انہوں نے چند دنوں میں اہل بغاوت کی سازشوں کو ناکام بن دیا۔

اسی طرح افریقہ کو قبضہ میں لانے کے لیے حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے دس ہزار کا لشکر لے کر چند ہی دنوں میں علاقہ بھر میں اپنا سکی جما دیا۔ صرف طرابلس کی طرف سے کچھ دقت پیدا ہوئی مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے موقع کی نزاکت دیکھ کر مدینہ منورہ سے ایک فوج ان کی مدد کے لیے روانہ کی۔ اس فوج میں حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہم) بھی شامل تھے، طرابلس کی فوجیں ان جانباز بہادروں کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ اس طرح طرابلس پر قبضۃ ہو گیا۔۔۔اس کے بعد مسلمانوں ریاست افریقہ کے صدر مقام کی طرف رخ کیا۔ بادشاہ افریقہ ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکرِ جرار لے کر مسلمانوں کی فوج کے مقابلہ میں آیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی مزید فوج بھیج دی۔ خوں زیر جنگ ہوئی مگر فتح و شکست کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ چند دن تک جب افریقہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی اطلاع نہ پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک فوجی دستہ روانہ کیا۔ جب یہ وجی دستہ اسلامی فوج سے ملا تو نعرہ تکبیر کی صدا سے فضا گونج اٹھی۔ یہ سنتے ہی افریقہ کا بادشاہ جرجیر خود مقابلہ کے لیے میدان میں آیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ کفار کا لشکر بھاگ گیا اور مسلمانوں کو بے شمار مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔

بحری حملہ: بعد ازاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اجازت سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحری حملہ کی تیاریاں کیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریک سے ایک گروہ قبرص پر حملہ اور ہونے کے لئے تیار ہوا۔ اس لشکر میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ، حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی امِ حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا جیسے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ اس لشکر کی قیاست حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی اور مجاہدین کا لشکر کشتیوں پر سوار ہو کر قبرص روانہ ہوا۔ جب یہ لشکر ساحل پر اترا تو جس گھوڑے پر امِ حرام رضی اللہ عنہ تھیں، وہ بدکار اور حضرت امِ حرام رضی اللہ عنہ گر کر وفات پا گئیں۔ نبی علیہ السلام کی ان کے متعلق یہی پیش گوئی تھی، جو حرف بحرف پوری ہوئی (بخاری) یہاں کا لشکر بھی تابِ مقاومت نہ لا سکا۔ اور مسلمانوں کا قبرص پر قبضہ ہو گیا۔ ازاں بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر نے روڈس کا رخ کیا، دشمن نے پہلے جم کر مقابلہ کیا، بالآخر انہیں بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی۔ اس جزیرے میں تانبے کا ایک بہت بڑا بت تھا جس کے پرزے خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اڑائے۔ اسکندریہ میں اس بت کے ٹکڑے ایک یہودی نے خرید لئے۔ یہ تمام واقعات سئہ 28ھ تک کے ہیں۔

نئے انتظامات کے تحت ایران میں بھی کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ اہل ایران شاہِ یزدجرد کے اکسانے پر بار بار بغاوت پر آمادہ ہوتے مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فوج ان بغاوتوں کو دبا دیتی۔ بعد ازاں طبرستان کو مفتوح بنانے کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ ایک لشکر ترتیب دیا گیا جس میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بطیبِ خاطر شامل ہوئے۔ اس بابرکت لشکر نے طبرستان کے تمام علاقے اور شہر فتح کر لیے۔ سئہ 31 ھ میں شاہ یزدجرد ایک پن چکی والے ہاتھوں مارا گیا۔اس کے قتل کے بعد حکومت کسریٰ کا خاتمہ ہوا اور کئی مرکزی شہر فتح ہوئے۔

المختصر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بلحاظِ فاتح، شیخین رضی اللہ عنہم کی طرح کامیاب اور خوش نصیب تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی روانہ کردہ فوج کو کبھی شکست نہیں ہوئی۔ بغاوتوں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دور دراز تک اسلامی فتوحات کا سلسلہ قائم ہوا اور وہ وہ علاقے مفتوح ہوئے جہاں لشکروں کا پہنچنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

ایک فتنہ پرداز آدمی:

فتوحاتِ اسلامی کے عروج اور روز بروز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ کر ایک یہودی، جس کا نام عبداللہ بن سبا تھا، آتشِ حسد میں جل گیا۔ یہ انتہائی درجہ کا شرپسند، مفتن، بدباطن اور سازشی ذہن کا مالک تھا۔ غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمانوں کو بزورِ شمشیر ختم کرنا محال ہے، جبکہ دوستی کے روپ میں اسلام کی شیرازہ بندی کو توڑنا بالکل آسان۔۔۔چنانچہ وہ منافقانہ چادر اوڑھ کر مدینہ منورہ میں آ کر مسلمان ہوا اور مدینہ میں ہی سکونت اختیار کی۔ اس نے خود کو خیر خواہِ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر کر کے مسلمانوں میں ان فتنہ انگیز خیالات کی تخم ریزی شروع کی کہ بعد وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا دوسروں کو خلافت دے کر آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حق تلفی کی ہے۔ لہذا جملہ احباب کو چاہئے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ممد و معاون بن کر انہیں مسندِ خلافت پر بٹھائیں اور موجودہ خلیفہ کو معزول یا قتل کر دیں۔ لیکن مدینہ منورہ میں اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی تو اس نے بصرہ کا رخ کیا۔ اور حکیم بن جبلہ و اعوانہ سے مراسم پیدا کئے۔ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ جیسے فہمیدہ گورنر کو جب یہ اطلاع ملی تو انہوں عبداللہ بن سبا کو بلا کر فرمایا کہ تم مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو منتشر کرنا چاہتے ہو۔ اور اتفاق و اتحاد کی بجائے ان میں منافرت اور انتشار کے خواہاں ہو۔ میں تمہیں دردناک سزا دوں گا۔ یہ تنبیہ سن کر وہ فرار ہو گیا، مگر ایک تنظیم قائم کر گیا۔

بصرہ سے روانہ ہو کر وہ کوفہ میں آیا۔ اور اپنے زہد و تقویٰ کا سکی بٹھانے کے لیے لوگوں کی نظروں میں صوفی منش مسلمان بن گیا۔ یہاں بھی وہ حبِ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ میں اسلام پر حملہ آور ہوا اور اصحابِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے خلاف غلط پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ چنانچہ جو لوگ مصلحتا مسلمان ہوتے تھے اور حضرات خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے متعلق دل میں گہرا عناد و بغض پوشیدہ رکھتے تھے، اس کے ہم نوا بن گئے۔ جب کوفہ کے حاکمِ اعلیٰ حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق علم ہوا تو انہوں نے اسے سرزنش کی۔ اس پر عبداللہ بن سبا نے ملک شام کی راہ لی، لیکن یہاں بھی ایک خفیہ تنظیم قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب یہ دمشق پہنچا لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے ہوشمند اور مستعد سیاست دان کی موجودگی میں یہاں کامیاب نہ ہو سکا تو وہاں سے مصر گیا۔ اور سابقہ تجربہ کی بناء پر انتہائی محتاط اور رازدانہ انداز سے کام شروع کر دیا۔ یہیں سے وہ باقاعدگی کے ساتھ بصرہ اور کوفہ کے احباب کو ضروری ہدایات بھی ترسیل کرتا رہا۔ چنانچہ کوفہ کے شرپسندوں نے حاکمِ کوفہ کے خلاف غلط پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ حاکمِ کوفہ نے تمام واقعات لکھ کر دربارِ خلافت میں روانہ کئے اور ساتھ ہی لکھا کہ ان شرپسندوں اور فتنہ پردازوں کو شام بھیجنے کا حکم دیا جائے، تاکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے مدبر سیاست دان ان کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ لوگ شام پہنچ کر بھی اپنی غلط کاریوں سے باز نہ آئے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اجازت سے انہیں حمص بھیج دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہ حکمرانِ حمص نے ان پر بہت سختی کی حتیٰ کہ ان کا اپنی مجلسوں میں بیٹھنا ممنوع قرار دیا۔ اس سخت برتاؤ سے ان کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور انہوں نے اپنی سابقہ خطاؤں پر اظہارِ تاسف بھی کیا۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے دربار خلافت میں عذرخواہی کی درخواست کی۔ اس طرح ان شرپسندوں کو دوبارہ کوفہ جانے کی اجازت مل گئی۔

مصر میں عبداللہ بن سبا نے اپنے حواریوں کا ایک منظم گروہ مرتب کیا جو شرپسندی میں مہارتِ تامہ رکھتا تھا۔ اس نے حُبِ اہلبیت اور حمایت علی رضی اللہ عنہ کے اظہار کو کامیابی کا ذریعہ بنایا۔ اور خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف زہر اگلنا شروع کیا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بصرہ اور کوفہ کے دوستوں کو بھی اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کرتا رہا۔

عبداللہ بن سبا کو اس جگہ اپنے مقصد میں کامیابی ہوتی نظر آئی تو اس نے دوسرے مرکزی شہروں میں قائم شدہ جماعتوں کو بھی اس مصری جماعت سے منسلک کر دیا۔ اب ان تمام جماعتوں کا ایک مرکز، ایک مقصد، اور ایک ہی نصب العین تھا کہ موجودہ خلیفہ کو قتل کر کے مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو پارہ پارہ کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے عبداللہ بن سبا کو نہ تو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کچھ محبت تھی اور نہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہی سے کوئی ذاتی عناد، بلکہ وہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے حق میں تھا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتح بصرہ، اور جنگِ جمل کے بعد اس گروہ نے جب یہ دیکھا کہ اب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں اسلام کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تو وہ بلاتامل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت پر بھی کمربستہ ہو گئے۔

بہرحال عبداللہ بن سبا یہودی کی سازش کا جال تمام ممالکِ محروسہ میں بچھ گیا۔ خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق بدباطن لوگ باتیں بنانے لگے۔ تمام صوبوں کے گورنروں نے اس کو تاڑا۔ حتیٰ کہ بعض گورنروں نے خود مدینہ منورہ پہنچ کر خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام عمال اور شکایت کنندگان کو حج کے موقعہ پر بلایا۔ تمام عمال مکہ مکرمہ پہنچے مگر یہ بدباطن مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فراغتِ حج کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اجتماع طلب کیا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو بیان کرے۔ چنانچہ لوگ شکایات پیش کرنے لگے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام شکوے شکایات رفع کرتے ہوئے ہر اعتراض کا تسلی بخش جواب دیتے رہے۔ تمام لوگ مطمئن ہو کر واپس چلے گئے لیکن شرپسندوں کے دل میں انتقامی آگ پھر بھی سلگ رہی تھی۔ (البدایہ والنہایہ 7 ص171)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ حالات سازگار نہیں، لہذا آپ میرے پاس دمشق چلے آئیں وہاں مضبوط فوج بھی ہے اور حفاظتی انتظام بھی موجود، لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی چھوڑ دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیش کش کی کہ بطورِ حفاظت آپ کے لیے شام سے ایک زبردست لشکر بھیج دوں؟ فرمایا "میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسیوں کو تنگ نہیں کرنا چاہتا۔" عرض کی "آپ رضی اللہ عنہ ضرور دھوکہ کھائیں گے۔"لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ "حسبى الله ونعم الوكيل" کہہ کر خاموش ہو گئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ وقت کی ہر ممکن امداد کے لیے کہا اور شام کو روانہ ہو گئے۔

ادھر عبداللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھے بیٹحے تخریبی کاروایوں کے تمام انتظامات مکمل کر لیے اور خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کو درہم برہم کرنے کے لئے اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے لگا۔ اس کی تحریک کا راز سوائے چند اشخاص (مسلم نما یہودیوں) کے اور کسی کو معلوم نہ تھا۔ اگرچہ اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چاہتے تھے۔ اہل کوفہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے خواہش مند تھے اور اہل بصرہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے خواہاں تھے۔ تاہم یہ تینوں فریق خلیفہ وقت کے قتل پر بہرحال متفق تھے۔ درحقیقت یہ بھی اس مفتن کی سازش تھی کہ بعد میں بھی یہ سادہ لوح مسلمان "﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّـهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا...﴿١٠٣﴾... سورةآل عمران" پر عمل پیرا نہ ہو سکیں اور ہر ممکن طریقہ سے مسلمانوں میں اختلاف کی ایسی آگ کو سلگایا جائے جس سے خلافت خودبخود معطل ہو جائے اور اسلامی فتوحات کا دروازہ مقفل ہو جائے۔ (جاری ہے)
حوالہ جات

1. "اپنا ہاتھ بڑھایا اور بیعت کی۔"

2. "حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف چلے اور بیعت کی۔"

3. کوفہ فتنوں کی آماجگاہ ہے۔ جس کے متعلق نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ہمیشہ اس جگہ سے فتنے ابھریں گے۔ چنانچہ کربلا کا افسوس ناک واقعہ کوفیوں کے ہاتھوں ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت انہی لوگوں کی کارستانی ہے۔ خوارج کے تمام فتنے اسی سرزمین سے ظہور پذیر ہوئے۔ جنگِ جمل بھی یہیں کی پیداوار ہے۔