اب ذیل میں چند ان علماء کی تحقیقات پیش کی جاتی ہیں، جنہوں نے مصنف عبدالرزاق کی اس حدیث کو نہ صرف صحیح تسلیم کیا بلکہ رفع اعتراض کی خاطر حدیث کے صاف صریح اور واضح معانی کو چھوڑ کر طرح طرح کی انوکھی اور نرالی تاویلات بھی پیش کی ہیں۔
چنانچہ علامہ زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حدیث میں "(من نوره)" اضافت تشریفی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کوئی عام انسان نہیں بلکہ) عجیب مخلوق اور بڑی شان والے ہیں۔ احضارِ ربوبیت سے ان کی مناسبت اس ارشاد باری تعالیٰ : "( وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ)" (اور پھونکی اس (پتلے) کے اندر اپنی روح میں سے) کی طرح بیانی ہے۔ نور سے مراد وہ ذات تعالیٰ ہے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہی ذات پاک وہ مادہ تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا ہوا۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شئے کے واسطہ و وجود کے بغیر اس نور کو اپنے ارادہ سے پیدا کیا۔ الخ"
علامہ اسماعیل محمد عجلونی الجراحی رحمہ اللہ بھی علامہ زرقانی رحمہ اللہ کی طرح اس حدیث کی تاویل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"(من نوره)" سے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نور اس کی ذات پاک کے ساتھ قائم ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نور سے پیدا کیا جسے اس نے اپنے لیے نور محمدی سے قبل پیدا کیا تھا۔ پھر اس بات کا بھی احتمال ہے کہ "اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نور اپنے نور یعنی اپنی ذات خاص سے پیدا فرمایا۔" یہ محض ایک بیانی اضافت ہو، کیونکہ اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہو سکتے کہ جس مادہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا ہوا وہ ذات باری تعالیٰ کا جزء تھا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ سے بغیر کسی چیز کے وجود و توسط اس نور کو پیدا فرمایا۔ الخ"
علامہ زرقانی رحمہ اللہ و علامہ عجلونی رحمہ اللہ کی اتباع میں علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب "الآثار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة" کے باب "(باب بعض القصص المشهورة)" میں اس حدیث کی تاویل و شرح بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:
"رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے نور میں سے کچھ نور نکال کر اسے اپنے نبی کا نور بنایا، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے کوئی جزء کاٹ کر علیحدہ کیا اور اس سے اپنے نبی کا نور بنایا، ورنہ اس سے تو اللہ تعالیٰ "مستلزم للتجزی" ہو گا۔۔۔جن قصاص و مذکرین نے عبدالرزاق کی اس روایت کے ظاہر کو اپنایا ہے وہ ورطہ ظلمات کا شکار ہوئے ہیں (پھر حدیث نقل کرتے ہیں) ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سمجھنے میں خطا کی ہے۔ وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس حدیث میں "(من نوره)" سے اضافت مراد ہے۔ بالکل اس اضافت کی طرح جیسی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور اس میں اپنی روح پھونکنے کے قصہ میں بیان کی ہے، یا جیسے اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی علیہ السلام کے قصہ میں "(روح منه)" کہا۔ یا کعبہ و مساجد کو بیت اللہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو "(روح الله)" وغیرہ کہا۔"
علامہ زرقانی، علامہ عجلونی اور مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمہم اللہ کو اس حدیث کی تاویل محض اس لیے کرنی پڑی کہ یہ تمام حضرات جملہ مخلوقات سے قبل "نور محمدی" کی تخلیق اور اس کے وجود کے قائل ہیں۔ نیز مصنف عبدالرزاق کی، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے آنے والی، روایت کو صحیح مانتے ہیں۔ لیکن اس میں جو دقتیں موجود تھیں اُن کا حل اس طرح کی تاویل کے علاوہ اور کس طرح ممکن نہ تھا۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی مرحوم ایک مقام پر کھل کر اس حدیث کے ثبوت کا دعویٰ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
"عبدالرزاق کی روایت سے نورِ محمدی کی اولیت اور تمام مخلوقات میں اس کی سبقت ثابت ہے۔"
اب بعض ان علماء کے اقوال پیش ہیں جنہوں نے عبدالرزاق کی اس حدیث کو قبول کرنے میں پس و پیش کا اظہار کیا ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ، جنہیں اس حدیث کی سند نہ مل سکی تھی، علامہ زرقانی، عجلونی اور عبدالحئی لکھنوی رحمہم اللہ کی تاویلات کو کوئی وقعت نہ دیتے ہوئے اس روایت کو تسلیم نہ کرنے کی وجوہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
"چونکہ کتاب مذکورہ مصنف (عبدالرزاق) میں صحیح حدیثوں کے ساتھ ساتھ موضوع حدیثیں تک موجود ہیں اور فضائل و مناقب میں اس کی روایتوں کا اعتبار کم کیا جاتا ہے، اس لیے اصولی حیثیت سے اس روایت کے تسلیم کرنے میں مجھے پس و پیش ہے۔ اس تردد کو قوت اس سے اور بھی زیادہ ہوتی ہے کہ صحیح احادیث میں مخلوقاتِ الہی میں سب سے پہلے قلمِ تقدیر کی پیدائش کا تصریحی بیان ہےالخ"
واضح رہے کہ علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم نے اپنی کتاب "سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم" میں یہ روایت زرقانی کے حوالہ سے ہی درج کی ہے۔ علامہ موصوف کے علاوہ حافظ قاری مولانا حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی صاحب (صدر انجمن اسوہ حسنہ پاکستان) جنہیں حدیث اور فنِ جرح والتعدیل اور اسماء الرجال سے تھوڑا بہت شغف ہے، اس حدیث کے متعلق علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم کی تحقیق نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
"ہمارے نظریہ میں یہ روایت شیعوں کی وضع کردہ ہے۔ اور یہ اس لیے وضع کی گئی ہے تاکہ پنج تن پاک کی کہانیوں کی راہ ہموار ہو سکے۔ کیونکہ ان کہانیوں کی رو سے یہ نار پانچ حصوں میں تقسیم ہوا ہے۔ اور یہ روایت عبدالرزاق کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں اور وہ رافضی ہے۔ لہذا اس نے اپنے عقیدہ کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ روایت وضع کی ہے۔ الخ"
یہ بات درست ہے کہ یہ روایت حدیث کی اور کسی کتاب میں موجود نہیں ہے اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ یہ روایت موضوع ہو، بلکہ شیعوں کی ہی وضع کردہ ہو۔ کیونکہ مصنف عبدالرزاق میں مرفوع، موقوف، منقطع، مرسل، صحیح، حسن، شاذ، ضعیف، منکر، موضوع، غرض ہر قسم کی روایات موجود ہیں۔ یہ بھی ناممکن نہیں کہ یہ روایت اہل کتاب کے قصص سے ہماری کتب میں دوسری تمام اسرائیلیات کی طرح منتقل ہو گئی ہو۔ تاہم کاندھلوی صاحب کا یہ شبہ محلِ نظر ہے کہ:
"یہ روایت اس لیے وضع کی گئی ہے تاکہ پنج تن پاک کی کہانیوں کی راہ ہموار ہو سکے کیونکہ ان کہانیوں کی رو سے یہ نور پانچ حصوں میں تقسیم ہوا ہے"
اس روایت سے شیعوں کے مزعومہ پنج تن کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ اگر کاندھلوی صاحب صرف سید سلیمان ندوی مرحوم کی "سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کو ہی اپنے علم و تحقیق کا ماخذ نہ بناتے تو انہیں یقینا علم ہوتا کہ عبدالرزاق بن الہمام نے اس نور کا پانچ بہیں۔ بلکہ بارہ یا تیرہ حصوں میں تقسیم ہونا روایت کیا ہے۔ جس کی تفصیل المواہب اللدنیہ، شرح المواہب اللدنیہ، کشف الخفاء اور الآثار المرفوعۃ ی الاخبار الموضوعۃ وغیرہ میں بھی درج ہے۔
یہ درست ہے کہ عبدالرزاق ابن الہمام کو اکثر ائمہ جرح والتعدیل نے "رافضی" قرار دیا ہے۔ مگر اس پر فی نفسہ "وضاع" ہونے کا حکم پہلی بار کاندھلوی صاحب نے ہی لگایا ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ (شارح ترمذی رحمۃ اللہ علیہ) المتوفی سئہ 1352 اور حافظ احمد بن علی بن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 852ھ) فرماتے ہیں: "وہ ثقہ حافظ تھا، آخر عمر میں اس میں تغیر آ گیا تھا او اس میں تشیع بھی موجود تھا۔" علامہ ابوالحسن احمد بن عبداللہ بن صالح العجلی رحمۃ اللہ علیہ الکوفی نزیل طرابلس (م سئہ 261ھ) فرماتے ہیں: "ثقہ تھا اور اس میں تشیع موجود تھا۔" علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 748ھ) فرماتے ہیں: "اعلان الثقات میں سے ایک تھا۔" امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ " جس نے اس سے آخر عمر میں کچھ لکھا وہ محلِ نظر ہے۔ اس سے مناکیر مروی ہیں۔" ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وہ فضائل میں ایسی احادیث بیان کرتا ہے جن کی کوئی موافقت نہیں ہوتی۔ اس کو تشیع کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ثقہ ہے لیکن خطا کرتا ہے۔" امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے۔ عبدالرزاق میں شیعت تھی اور وہ تشیع میں افراط و تفریط سے کام لیتا تھا۔"
بعض لوگوں نے اس کی بعض احادیث کو ترک بھی کیا ہے۔ علامہ ڈاکٹر عبدالمعطی امین قلجعی فرماتے ہیں کہ: "اس سے اصحاب ستہ نے اپنی کتب میں تخریج کی ہے۔" لہذا عبدالرزاق کی پوری ذات کو مطعون کرنا یا ان کی مصنف کو سرے سے جھوٹ کی پوٹ، ناقابل اعتماد یا دریا برد کیے جانا کا مستحق ٹھہرانا سراسر ناانصافی اور ظلم و زیادتی کی بات ہے۔ مزیف تفصیل کے لیے میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ الثقات من رجال اہل العلم والحدیث ومن الضعاء وذکر مذاہبہم واخبارہم للعجلی رحمۃ اللہ علیہ، تحفۃ الاحوذی للشیخ عبدالرحمن المبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، طبقات ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ، المعارف لابن قتیبہ الدنیوری رحمۃ اللہ علیہ، فہرست لابی الفرج محمد بن اسحق الندیم رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 385ھ)، تذکرۃ الحفاظ للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، البدایۃ والنہایۃ لابی الفداء عماد الدین اسماعیل بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 774ھ)، شذرات الذہب فی اخبار من الذہب لابی الفلاح عبدالحئی بن عماد حنبلی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1089ھ) الضعفاء والمتروکین للنسائی رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الضعاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ، کامل فی الضعاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، مجموع فی الضعاء والمتروکین للسیروان، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی اور حاشیہ بر الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ (صاحب الہوامش دکتور قلعجی) وغیرہ کی طرف رجوع کرنا مفید ہو گا۔
اب اس سلسلہ کی ایک دوسری روایت پیش ہے، جو پہلی روایت سے کہیں زیادہ مشہور اور زبان زدِ خاص و عام ہے۔۔بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اول ماخلق الله نورى)
"سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا کیا۔"
اس روایت نے قصاص و واعظین کی تقاریر، اور سیرت نگاروں کی کتب میں بہت کثرت سے بار پایا ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف "المدارج النبوۃ" کے خود نوشت مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:
"اب رہا یہ امر کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم صفت "اول" کیسے ہے؟ تو یہ اولیت اسی بناء پر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق موجودات میں سب سے اول ہے۔ چنانچہ حدیث شری میں ہے: "(اول ماخلق نورى)
"اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو وجود بخشا۔"
اور ڈاکٹر احسان اللہ استخری فرماتے ہیں:
"چنانچہ رسول فرمود: "(اول ماخلق الله نورى)"
"چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا فرمایا۔"
علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
"(اول ماخلق الله نورى)" کی روایت عام طور سے زبانوں پر جاری ہے مگر اس روایت کا احادیث کے دفتر میں مجھے کہیں کوئی پتہ نہیں ملا۔"
علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 911ھ) حدیث "(اول ماخلق الله العظيم)" کی شرح بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"زین العرب نے شرح المصابیح میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ان روایات سے متعارض ہے جن میں بیان کیا گیا ہے: "(ان اول ماخلق الله االعقل )" یا "(ان اول ماخلق الله نورى)" یا "( ان اول ماخلق الله االروح)" یا ( ان اول ماخلق الله االعرش)" روایات کے اس تعارض کو اس طرح رفیع کیا گیا ہے کہ ان میں مذخورہ اولیت سے مراد اضافی امور میں اولیت ہے۔ پس ان سب میں اول شئے جس کی تخلیق کا ذکر جنس کی قبیل سے کیا گیا ہے، وہ قلم ہے جو تمام اجسام سے قبل پیدا کیا گیا اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا نور تمام انوار سے قبل پیدا کیا گیا۔ عقل والی حدیث اس پر محمول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اجسامِ لطیفہ میں سب سے پہلے جو چیز پیدا فرمائی وہ عقل تھی اور اجسامِ کثیفہ میں جو چیز سب سے پہلے پیدا کی گئی وہ عرش تھا، پس اس طرح ان میں کوئی تناقض باقی نہ رہتا۔۔۔لیکن میں کہتا ہوں کہ عقل والی حدیث موضوع ہے اور باقی تینوں روایات ان الفاظ کے ساتھ وارد ہی نہیں ہیں۔ لہذا تاویل سے مستغنی ہیں۔"
اور مولانا عبدالحئی لکھنوی مرحوم بیان کرتے ہیں:

"قصہ گو حضرات میں یہ حدیث (اول ماخلق الله نورى) بہت شہرت پا گئی ہے۔ حالانکہ یہ وہ حدیث ہے جو ان الفاظ کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسری روایات اس سلسلہ میں وارد ہیں، ان میں اس روایت سے معنوی موافقت و مطابقت پائی جاتی ہے۔"
تھوڑا آگے چل کر مولانا عبدالحئی مرحوم نے اس روایت کا ذکر بھی کر دیا ہے جس میں بقول اُن کے روایت زیرنظر کی معنوی موافقت و مطابقت پائی جاتی ہے، چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:
"(اول ماخلق الله نورى)" کا لفظا عدمِ ثبوت لیکن معنا اس کا ورود جو قصاص و مذکرین اور عوام کی زبان پر مشہور ہے وہ دراصل اس حدیث کے سبب ہے: "(لولا لماخلقت الافلاك)" (یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے میں ان آسمانوں کو پیدا نہ کرتا)۔"
"(لولاك لما خلقت الافلاك)" والی اس روایت نے بھی بہت شہرت و مقبولیت پائی ہے۔ چنانچہ امام ربانی شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:
"وزمین و زمان را بطفیل او خلق فرمودہ است کما درد۔"
"زمین اور آسمان کو انہی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل پیدا فرمایا ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔"

اسی بات کو مولانا قاسم صاحب مرحوم (بانی دارالعلوم دیوبند) نے اپنے "قصائدِ قاسمی" کے قصیدہ بہاریہ میں اس طرح بیان کیا ہے

جو تو اسے نہ بناتا تو یہ سارے عالم کو
نصیب ہوتی نہ دولت وجود کی زنہار
طفیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے کائنات کی ہستی
بجا ہے کہئے اگر تم مبداء الآثار
جلو میں تیرے سب آئے عدم سے تابوجود
قیامت آپ کی تھی دیکھئے تو اک رفتار
لگاتا ہاتھ نہ پتلے کو ابوالبشر کے خدا
اگر ظہور نہ ہوتا تمہارا آخر کار
شیخ شہاب الدین شاہ ولد شاہ علی شاہ (امام باطنیہ نزاریہ) فرماتے ہیں:
"فصل پنجم در معرفت: در حدیث قدسی می فرماید اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر تو نبود دے آسمانہارا خلقت نمی کردم ودرجانے دیگر است اگر علی نبودے ترا خلقت کمی کردم۔"
"حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم نہ ہوتے تو میں ان آسمانوں کو پیدا نہ کرتا اور ایک دوسری جگہ ہے کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔"
شیخ شہاب الدین شاہ نے "(لولاك لما خلقت الافلاك)" کے ساتھ ایک اور روایت "(لولا على لماخلقت )" بھی بیان کی ہے، جسے بعض صوفیاء اور علمائے شیعہ نے مزید شرح و بسط کے ساتھ اپنی مختلف تصانیف میں نقل کیا ہے۔ چنانچہ شلطان العارفین و (؟) الحاج ملا سلطان محمد گنا بادی سلطان علی شاہ مولا شہید فرماتے ہیں:
"قبولِ رسالت بیعت کردن است بر قبولِ احکامِ ظاہری و قبول ولایت بیعت کردن است برقبولِ احکامِ باطنی۔ اول را اسلام و ثانی را ایمان می گویند۔۔۔ و بملاحظہ حیثیت رسالت و ولایت نسبت بحدیث دادہ شد کہ (لالا على لما خلقتك)۔ "
"قبولِ رسالت کا معنی ہے احکامِ ظاہری کے قبول پر بیعت کرنا۔ اور قبولِ ولایت کا معنی ہے احکامِ باطنی کے قبول کرنے پر بیعت کرنا۔ پہلے کو اسلام اور دوسرے کو ایمان کہتے ہیں۔۔۔رسالت اور ولایت کی حیثیت کو مدِ نظر رکھ کر اس حدیث سے نسبت دی گئی ہے کہ اگر علی رضی اللہ عنہ پیدا نہ ہوتے تو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو بھی پیدا نہ کرتا۔"
اور قاضی نور اللہ شوستری (مقتول بحکم جہانگیر سئہ 1019ھ) جہنم کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
(قال جبريل لو ان اهل الارض يحبون عليا كما تحبه اهل السماء ماخلق الله النار)
"جبریل علیہ السلام نے کہا، اگر اہل زمین بھی علی رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی محبت کرتے جیسی کہ اہل آسمان ان سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دوزخ کو پیدا ہی نہ کرتا۔"
بہرحال حدیث "(لولاك لما خلقت الافلاك)" کے متعلق علامہ صنعانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "موضوع" ہے۔ علامہ محمد بن علی الشوکانی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1250ھ) نے بھی علامہ صنعانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے اسے "موضوع" قرار دیا ہے۔ علامہ طاہر پٹنی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ بھی اسے "موضوع" قرار دیتے ہیں ، لیکن علامہ نور الدین علی بن محمد بن سلطان المشہور بملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1014ھ) فرماتے ہیں:
"صنعانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ موضوع ہے، ایسا ہی ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ سے "الخلاصہ" میں مذکور ہے۔ لیکن اس کے معنی صحیح ہیں۔ چنانچہ دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کی ہے: "(اتانى جبريل فقال قال الله يامحمد لالاك ماخلقت الجنة ولولاك ماخلقت النار)" (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بیان کیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو نہ میں جنت پیدا کرتا نہ دوزخ، اور ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے: "(لولالك لما خلقت الدنيا)" (یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں دنیا پیدا نہ کرتا)۔"
محدثِ عصر علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ، اس حدیث کے معنی کی صحت بیان کیے جانے پر تنقید فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس کے معنیٰ کی صحت پر جزم اس وقت تک درست نہیں ہے جب تک کہ دیلمی رحمۃ اللہ علیہ سے جو روایت نقل کی گئی ہے وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچ جائے۔ مجھے اس کی سند کا کوئی علم نہیں ہو سکا لیکن مجھے اس کی تضعیف میں کوئی تردد نہیں ہے، کیونکہ اس کی صحت کا دعویٰ محتاجِ دلیل ہے۔ مزید اس میں دیلمی رحمۃ اللہ علیہ کا تفرد بھی پایا جاتا ہے۔ اور جہاں تک ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کا تعلق ہے، تو اس کی تخریج امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے سلمان کی ایک طویل مرفوع حدیث سے کی ہے اور اس پر یہ حکم لگایا ہے کہ یہ موضوع ہے۔ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کو موضوع بیان کیا ہے۔"
علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے امام ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی القرشی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 597ھ) کی تخریج کردہ، سلمان کی جس طویل مرفوع حدیث کی طرف اوپر اشارہ فرمایا ہے، اسے علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے "اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ" میں اور علامہ ابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ نے "تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ" میں بھی نقل کیا ہے، اس روایت میں جو الفاظ مروی ہیں وہ اس طرح ہیں:
(ولولاك يامحمد ماخلقت الدنيا)
اور اس کا طریق اسناد حسب ذیل ہے:
أَنبأَنَا عبد الْوَهَّاب بن الْمُبَارك وَمُحَمَّدُ بْنُ نَاصِرٍ الْحَافِظَانِ وَمَوْهُوبُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّغَوِيُّ وَعُمَرُ بْنُ ظَفَرٍ الْمُقْرِيُّ وَعَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ أَحْمَدَ الْيُوسِفِيُّ قَالُوا أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ بْنِ سَوْسَنٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عبد الرحمن بن عبيد الله الْحُرَقِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الدَّهْقَانِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ
الْمَدَاينِيُّ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي السُّكَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْيَسَعِ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الضَّرِيرِ عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى الْبَصْرِيِّ عَنْ زَاذَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ
اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد علامہ ابن الجوزی، علامہ سیوطی اور علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی (م سئہ 963ھ) رحمہم اللہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث بلاشک و شبہ موضوع ہے، اس کی اسناد میں مجہول اور ضعفاء موجود ہیں۔"
آگے چل کر علامہ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے ان ضعفاء کی خود نشاندہی بھی فرما دی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"ضعفاء میں ابوالسکین اور ابراہیم بن الیسع ہیں۔"
امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابوسکین "ضعیف" ہے۔ حاکم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "وہ متروک ہے۔" یہ بھی منقول ہے کہ "وہ مغفل تھا۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ضعیف اور متروک قرار دیا ہے، لیکن برقانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی توثیق کی ہے۔" ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ، سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ محمد ناصر الدین الالبانی نے بھی ابوالسکین کی تضعیف کی ہے۔ تفصیلی ترجمہ کے لیے الضعفاء والمتروکین للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، المغنی فی الضعفاء للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، لسان المیزان لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، اللآلی المصنوعۃ للسیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
اس حدیث کے دوسرے راوی ابراہیم بن الیسع کو دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے متروک قرار دیا ہے۔ اس کا تیسرا راوی یحییٰ البصری ہے جسے دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے "متروک" قرار دیا ہے، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہم نے یحییٰ البصری کی احادیث جلا ڈالی تھیں۔" فلاس رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "وہ کذاب تھا اور موضوع احادیث بیان کرتا تھا۔" علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے "متروک" قرار دیا ہے۔ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔" ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "اس کی حدیث ضعف کے ساتھ لکھی جاتی ہے۔" علامہ شیخ ناصر الدین الالبانی نے بھی علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کر کے اس سے اتفاق ظاہر کیا ہے۔
ان تینوں زواۃ کے علاوہ اس سند میں زاذان بھی موجود ہے جسے عجلی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے "ثقہ' کہا ہے، علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔" ابو احمد الحاکم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "متین نہیں ہے۔" ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کثرت کے ساتھ خطا کرتا ہے۔" ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صدوق ہے، ارسال کرتا ہے اور اس میں شیعیت موجود ہے۔" علامہ محمد ناصر الدین الالبانی کہتے ہیں: "کو کثرت کے ساتھ خطا کرتا ہو وہ ثقہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟" ۔۔ مزید تفصیل کے لیے معرفۃ الثقات للعجلی رحمۃ اللہ علیہ تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تہذٰب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تاریخ بغداد لابی بکر احمد بن علی بن ثابت المعروف بالخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 463ھ)، تہذین تاریخ دمشق لابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ، تحۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور سلسلۃ الاحادیث الضعفۃ والموضوعۃ للالبانی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
مولانا عبدالحئی لکھنوی فرماتے ہیں کہ:
"علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے المواہب اللدنیہ میں اور علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی شرح میں ذکر کیا ہے کہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مستدرک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا تخریج کی ہے۔ آدم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عرش پر لکھا ہوا دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان علیہ السلام سے فرمایا تھا: "(لولا محمد ماخلقتك)" اور ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہ نے "طبقات الاصفہانیین" میں اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: "«أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولٌ اللَّهِ فَسَكَنَ»(صحيح حاكم حديث:4227))"
(یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور اپنی اُمت کو حکم دیں کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں کیونکہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں نہ آدم کو پیدا کرتا، نہ جنت اور نہ ہی جہنم کو۔ اور جب میں نے پانی پر عرش پیدا فرمایا تو وہ مضطرب تھا۔ پس میں نے اس پر "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ" لکھا تو وہ ساکن ہو گیا) لیکن اس کی سند میں عمرو بن اوس ہے جس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ کون ہے؟ علامہ ذہبی فرماتے ہیں کہ دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کی ہے: "اتانى جبريل فقال ان الله يقول :لولاك ماخلقت الجنة ولولاك ماخلقت النار"
مولانا عبدالحئی مرحوم نے اوپر جتنی بھی روایات بیان کی ہیں، وہ تمام کی تمام سندا باطل ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام والی حدیث جس کا ذکر مختصرا کیا گیا ہے، مستدرک حاکم (م سئہ 405ھ) میں اس طرح مذکور ہے:
قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لَمَّا اقْتَرَفَ آدَمُ الْخَطِيئَةَ قَالَ: يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لَمَا غَفَرْتَ لِي، فَقَالَ اللَّهُ: يَا آدَمُ، وَكَيْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا وَلَمْ أَخْلُقْهُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، لِأَنَّكَ لَمَّا خَلَقْتَنِي بِيَدِكَ وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوحِكَ رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ عَلَىَ قَوَائِمِ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَمْ تُضِفْ إِلَى اسْمِكَ إِلَّا أَحَبَّ الْخَلْقِ إِلَيْكَ، فَقَالَ اللَّهُ: صَدَقْتَ يَا آدَمُ، إِنَّهُ لَأُحِبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ ادْعُنِي بِحَقِّهِ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارتکاب کیا تو کہا "اے رب میں بحقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے آدم، تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پہچانا اور میں نے ابھی اس کو پیدا بھی نہیں کیا؟" کہا "اے پروردگار جب آپ نے مجھے پیدا کیا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی، میں نے سر اوپر اٹھایا تو عرش کے قوائم پر لکھا دیکھا " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ" میں نے جان لیا کہ آپ نے اسے اپنے نام کے ساتھ جو ملایا ہے تو سب مخلوق میں آپ کو محبوب ہے۔" اللہ نے فرمایا "آدم تو سچ کہتا ہے واقعی یہ مخلوق میں سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ اس کے حق سے دعا کر میں نے تجھے بخش دیا۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تجھے نہ پیدا کرتا۔"
اس روایت کا طریقِ اسناد یہ ہے:
(حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو الْحَارِثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ الْفِهْرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
اس حدیث کی تخریج ابوبکر الآجری نے بھی اپنی "کتاب الشریعہ" میں کی ہے جس کا طریقِ اسناد حسب ذیل ہے:
(قال حَدَّثَنَا أَبُو بكربن ابى داؤدقال حد ثنا أَبُو الْحَارِثِ الْفِهْرِيُّ،قال حد سعيد بن عمروقال حدثنا ابو عبدالرحمن ابن عبدالله بن إِسْمَاعِيلُ بْنُت ابى مريم قال حدثنا، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
ان دونوں سندوں میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے۔ اس کی "تضعیف" امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ، بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ، نسائی رحمۃ اللہ علیہ، ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ، ابو زرعہ رحمۃ اللہ علیہ، ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ، جورجانی رحمۃ اللہ علیہ، ابن معین رحمۃ اللہ علیہ، عقیلی رحمۃ اللہ علیہ،ذہبی رحمۃ اللہ علیہ، ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ، ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ، طحاوی رحمۃ اللہ علیہ، ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کی ہے۔ ساجی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے "منکر الحدیث" بتایا ہے۔ ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ اور حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب "الموضوعات" میں کیا ہے۔ تفصیلی ترجمہ کے لیے الضعفاء والمتروکین للنسائی رحمۃ اللہ علیہ، علل لابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ والتاریخ للبسوی رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ، مجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، کامل فی الضعفاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، مغنی فی الضعفاء للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان، مجمع الزوائد منبع الفوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغول، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، کتاب الموضوعات لابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ، مختصر ضعفاء لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، کش الاحوال للمدراسی رحمۃ اللہ علیہ، الوسیلہ لابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے علاوہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ اور ابوبکر الآجری رحمۃ اللہ علیہ دونوں کی سندوں میں ایک۔۔۔راوی ابوالحارث عبداللہ بن مسلم الفہری بھی ہے جو عندالمحدثین "مجہول" ہے۔ اور الآجری کی سند میں اابوعبدالرحمن بن عبداللہ بن اسماعیل بھی ایسا راوی ہے جس کا حال معلوم نہیں ہے۔
حاکم رحمۃ اللہ علیہ اور ابوبکر الآجری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اسے طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے "اوسط" و "صغیر" میں روایت کیا ہے لیکن طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے متعلق علامہ نور الدین بن ابی بکر الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ ( م سئہ 807ھ) فرماتے ہیں: "اس کی سند میں ایسے رواۃ موجود ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔" امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو "الوفاء باحوال المصطفیٰ" میں بلاسند و بلا تنقید وارد کیا ہے۔
مذکورہ بالا چند علتوں کے علاوہ اس حدیث کی سند و متن میں بعض اور قابلِ اعتراض علتیں بھی موجود ہیں جو اس روایت کو قطعی طور پر ناقابلِ اعتماد ٹھہراتی ہیں۔ اگرچہ اس روایت کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے "صحیح الاسناد" قرار دیا ہے لیکن علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اسے "موضوع" قرار دیتے ہیں۔ چونکہ یہ مزید تفصیل کا موقع نہیں ہے، اس لیے اس موضوع کو عنقریب ان شاءاللہ الگ ایک مستقل مضمون کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ (وما توفيقى الابالله)
حوالہ جات
1. شرح المواہب اللدنیہ الزرقانی
2. کشف الخفاء للعجلونی ج نمبر 1 ص311۔312
3. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعہ ص42
4. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعہ ص43
5. سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مصنفہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ ج نمبر 3 ص 737
6. "مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت" مصنفہ کاندھلوی صاحب حصہ اول ص68۔72 طبع انجمن اسوہ حسنہ پاکستان سئہ 1986ء
7. میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص609 طبع دارالمعرفۃ بیروت، تہذیب التہذیب لابن حجر ج نمبر 6 ص310۔315 طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد سئہ 1325ھ و تقریب التہذیب لابن حجر نمبر 1 ص505 طبع دارالمعرفۃ بیروت سئہ 1975ء، معرفۃ الثقات للعجلی ج نمبر 2 ص93 طبع مکتبۃ الدار مدینۃ المنورۃ سئہ 1985ء، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 3 ص306، طبقات ابن سعد ج نمبر 5 ص548، المعارف لابن قتیبہ 259، فہرست لابن ندیم نمبر 238 طبع دارالمعرفۃ بیروت، تذکرۃ الحفاظ للذہبی نمبر 364 طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد سئہ 1958ء، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر ج نمبر 10 ص265 طبع مکتبۃ المعارف بیروت سئہ 1966ء، شذرات الذہب لابن العمادج نمبر 3 ص2777 طبع دارالآفاق الجدیدۃ بیروت، الضعفاء والمتروکین للنسائی ترجمہ نمبر379 طبع دارالوعی حلب سئہ 1396ھ، التاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 3 ق نمبر 2 ص130 طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ سئہ 1360ھ، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج نمبر 3 ص107 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1984ء، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 3 ق نمبر 1 ص38۔39 طبع دائرۃ المعارف العثمانیہ سئہ 1371ھ، کامل لابن عدی ج نمبر 5 ترجمہ سئہ 1948ء، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان ص154 طبع دارالقلم بیروت سئہ 1985ء، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر1 ص319، 654 و حاشیہ بر ضعفاء الکبیر للعقیلی ج نمبر 3 ص108 وغیرہ۔
8. مقدمہ "مدارج النبوۃ" ص1 مصنفہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی
9. اصولِ تصوف از ڈاکٹر احسان اللہ استخری ص 69
10. سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم از سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ ج نمبر 3 ص737
11. قوت المغتذی علی جامع الترمذی للسیوطی
12. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعہ ص42
13. ایضا ص43۔44
14. مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی دفتر نمبر 3 حصہ نمبر 9 مکتوب نمبر 100 ص 74۔75
15. قصائد قاسمی بحوالہ تبلیغی نصاب (فضائلِ درود ص 124) مصنفہ مولانا زکریا صاحب کاندھلوی مرحوم
16. "رسالہ درحقیقتِ دین" مصنفہ شاہ شہاب الدین ص13 طبع بمئی سئہ 1033ء
17. "ولایت نامہ" تالیف گنا بادی ص 35 طبع دوم چانچانہ موانش گاہ تہران سئہ 1385ھ
18. "احقاق الحق" للشوستری ج نمبر 7 ص152
19. الاحادیث الموضوعۃ للصنعانی ص7
20. فوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للشوکانی ص 326 طبع السنۃ المحمدیہ سئہ 1978ء
21. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ واثرہا السئی فی الامۃ للالبانی ج نمبر1 ص299۔300 طبع المکتب الاسلامی بیروت سئہ 1398ھ وتذکرۃ الموضوعات للفتنی ص86
22. الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ للقاری ص194
23. سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص299۔300
24. کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص289 طبع مکتبۃ السلفیہ مدینۃ المنورۃ سئہ 1966ء وتنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ج نمبر 1 ص325 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1981ء واللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص273 طبع دارالمعرفۃ بیروت سئہ 1975ء
25. کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص288 واللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص272
26. کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص289۔ 290 و تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ج نمبر 1 ص325 واللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص272
27. کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص289۔ 290
28. الضعفاء والمتروکین للدارقطنی ترجمہ نمبر 485، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 3 ص678، المغنی فی الضعفاء للذہبی ج نمبر2 ص623 طبع البلاغۃ سئہ 1971ء، لسان المیزان لابن حجر ج نمبر 5 ص33 طبع دائرۃ المعارف، اللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص272 وسلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص233 و ج نمبر 2 ص247
29. کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص289۔ 290 واللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص272
30. میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 4 ص380۔381 کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص290، اللآلی المصنوعۃ للسیوطی ج نمبر 1 ص 272 و سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 177، 472
31. معرفۃ الثقات للعجلی ج نمبر 1 ص366، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 1 ص256، تہذیب التہذیب لابن حجر نمبر 3 ص 303، تاریخِ بغداد للخطیب بغدادی ج نمبر 8 ص487 مطبع السعادۃ بمصر سئہ 1349ھ، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر ج نمبر5 ص347، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 3 ص140، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 2 ص 333 و میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر2 ص63
32. الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعہ ص44۔45
33. مستدرک حاکم ج نمبر 2 ص615 طبع بکتب المطبوعات حلب
34. ایضا
35. کتاب الشریعۃ مصنفہ ابوبکر الآجری ص427
36. الضعفاء والمتروکین للنسائی ترجمہ نمبر 360، علل لابن حنبل ج نمبر 1 ص14، ص166، 265، 401، التاریخ الکبیر للبخاری ج نمبر 3 ص284، التاریخ الصغیر للبخاری ج نمبر 2 ص227، الضعفاء الصغیر ترجمہ نمبر 308، معرفۃ والتاریخ للبسوی ج نمبر 3 ص43، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج نمبر2 ص331، الجرح واتعدیل لابن ابی حاتم ج نمبر 2 ص232، مجروحین لابن حبان ج نمبر 2 ص57، مختصر ضعفاء لابن حبان ص66، کامل فی الضعفاء لابن عدی ج نمبر 4 ترجمہ نمبر 1581، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی ترجمہ نمبر 331، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص564، مغنی فی الضعفاء للذہبی ج نمبر 1 ص 380، تقریب التہذیب لابن حجر ج نمبر 6 ص178۔179، کشف الاحوال للمدراسی ص66، کتاب الموضوعات لابن الجوزی ج نمبر 1 ص318، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعہ لابن عراق ج نمبر 1 ص78، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 1 ص343، مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 1 ص 21، ج نمبر 3 ص77، ج نمبر 5 ص147، مجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 149، 336، ص 456، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج نمبر 3 ص321، الوسیلہ لابن تیمیہ ص89، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 39، 40، 340، ج نمبر 2 ص 98 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر 2 ص 195
37. تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی ج نمبر ص76، میزان الاعتدال للذہبی ج نمبر 2 ص 504، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج نمبر 1 ص 39
38. مجمع الزوائد للہیثمی ج نمبر 8 ص253 طبع دارالکتب العربی بیروت سئہ 1982ء
39. الوفاء باحوال المصطفیٰ لابن الجوزی ج نمبر 1 ص 33۔34