جملہ معترضہ:
جنگ خندق کے موقعہ پر جب ماحول "(اذالقلوب لدى الحناجر)" کا منظر پیش کر رہا تھا اور اسی طرح دیگر سخت ترین اور مہلک مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، حنین کے تیر انداز ان کے پائے ثبات کو متزلزل نہ کر سکے، طائف کے سخت جان جنگ جوؤں سے وہ نہ گھبرائے، فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ ان کو خوف زدہ نہ کر سکے، خیبر کے یہودیوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے اور ان کے قلعہ بند ہو کر لڑنے سے وہ ہمت نہ ہارے، تو ظاہر ہے کہ جنگِ احمد میں جو کچھ ہوا صرف لاعلمی کی وجہ سے ہوا۔ اور پھر اس خطا کو بھی اللہ کریم نے میدانِ اُحد ہی میں معاف فرما کر قیامت تک صحابہ رضی اللہ عنہم پر معترض ہونے والوں کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہم پر معترض ہونے سے پہلے سورۃ آل عمران اور صحیح بخاری ا ص 523کا مطالعہ مفید رہے گا۔
صلح حدیبیہ:
سئہ 6ھ میں نبی علیہ السلام نے بمعہ چودہ (14) سو صحابہ رضی اللہ عنہم بقصدِ زیارت کعبۃ اللہ قربانی کے اونٹ ہمراہ لے کر مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ جب مقام حدیبیہ پر تشریف فرما ہوئے تو بشر بن سفیان نے اطلاع دی کہ قریش مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ نبی علیہ السلام نے چودہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو منتخب فرما کر بطورِ سفیر مکہ مکرمہ اس غرض سے روانہ کیا کہ قریش مکہ کو اصلی صورت حال سے آگاہ کریں۔ قریش مکہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو طواف کعبہ اور سعیِ صفا و مروہ کی اجازت دے کر کہا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اجازت نہ دیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جوابا فرمایا: میں (عثمان) اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ اس باہمی گفتگو میں دیر ہو گئی۔ ادھر شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی خبر گشت کرنے لگی۔ یہ سن کر نبی علیہ السلام ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے اور قصاص عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔ (مختصر سیرت رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم ص301، مشکوٰۃ 2 ص561 جلد دوم)
۔۔۔شیعہ مجتہد محمد بن یعقوب کلینی رقم طراز ہیں کہ:
عن ابي عبدالله قال حبس عثمان في عسكر المشركين وبايع رسول الله (صلى الله عليه وآله) المسلمين وضرب بإحدى يديه على الاخرى لعثمان (1) وقال المسلمون: طوبى لعثمان قد طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة وأحل فقال رسول الله (صلى الله عليه وآله): ما كان ليفعل فلما جاء عثمان قال له رسول الله (صلى الله عليه وآله) أطفت بالبيت؟ فقال: ما كنت لاطوف بالبيت ورسول الله (صلى الله عليه وآله) لم يطف به
"ابوعبداللہ (امام جعفر صادق رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مشرکین کے لشکر میں محبوس ہو گئے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مسلمانوں سے بیعت لی اور اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت فرمائی۔ مسلمانوں نے کہا، کیا خوبی اور خوش نصیبی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے احرام سے فارغ ہو گئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ (حضرت) عثمان رضی اللہ عنہ (میرے بغیر) طواف کرے۔ چنانچہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، "عثمان رضی اللہ عنہ، تو نے بیت اللہ کا طواف کیا؟" عرض کی: "ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر طواف کروں"
فریقین کی معتبرہ کتب سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ نبوت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اتنے قابلِ اعتماد اور معتبر تھے کہ ان کو سفیر بنا کر بھیجا اور باوجود مشرکین کی طرف سے اجازت کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی علیہ السلام کے بغیر طواف وغیرہ بھی نہ کیا۔
2۔ نبی علیہ السلام کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس قدر شفقت و محبت تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتقام کے لیے اپنے تمام موجود صحابہ رضی اللہ عنہم (چودہ سو 1400) سے جانیں قربان کر دینے کی بیعت کی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جس اخلاص، عقیدت اور محبت سے یہ بیعت کی تھی، اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا:
﴿لَقَد رَ‌ضِىَ اللَّـهُ عَنِ المُؤمِنينَ إِذ يُبايِعونَكَ تَحتَ الشَّجَرَ‌ةِ فَعَلِمَ ما فى قُلوبِهِم فَأَنزَلَ السَّكينَةَ عَلَيهِم ...﴿١٨﴾... سورةالفتح
"بلاشبہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے راضی ہو گئے جبکہ وہ ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے۔ اور جو خلوص ان (بیعت کرنے والوں) کے دلوں میں تھا وہ بھی خدا کو معلوم تھا۔ بس اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں میں اطمینان قلب پیدا کر دیا۔" (سورۃ الفتح ترجمہ از کشف الرحمن مطبوعہ کراچی 2 ص819)
یعنی جن لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قید و قتل کا بدلہ لینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جانی قربانی کی بیعت کی تھی، ان کو اللہ تعالیٰ نے دائمی رضامندی اور نزولِ سکینت کی بشارت دے دی۔۔۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی اور سعادت کہ نبی علیہ السلام نے اپنا مبارک (دایاں) ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے، اپنے دوسرے (بائیں) ہاتھ پر رکھ کر بیعت کی۔۔۔نبی علیہ السلام کو کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایمان و اخلاص پر اتنا کامل اعتماد وثوق کہ ان کی طرف سے غائبانہ بیعت بھی فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔ اور فی الواقع ایسا ہی ہوا کہ مدتوں کے شوق و خواہش کے باوجود انہوں (عثمان رضی اللہ عنہ) نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر طواف کرنا گوارا نہ کیا بلکہ فرمایا: "ما كنت اطوف ورسول الله لم يطف به)" (فروع کافی کتاب الروضہ 3 ص151)
نیز تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ "درخت کے نیچے بیعت کرنے والے لوگ بہترین ہیں اور ان میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہ ہو گا۔" (خلاصۃ المنہج، تفسیر قمی، تفسیر صافی بحوالہ مجمع البیان)
صحیح بخاری میں ہے کہ نبی علیہ السلام نے درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
(انتم خير اهل الارض)
"تم تمام اہل زمین میں سے بہتر ہو"
ابوداؤد میں ہے:
(لايدخل النار ممن بايع تحت الشجرة)
"درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہ ہو گا۔"
اعلیٰ خصوصیت:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی امتیازی حیثیت اور اعلیٰ خصوصیت یہ بھی ہے کہ نبی علیہ السلام کی دو حقیقی صاجزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حبالہ عقد میں آئیں۔ اسی لیے آپ ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حاشیہ نہج البلاغۃ میں ہے:
(فلانه تزوج بنتى رسول الله رقية وام كلثوم توفيت الاالى فزوجه النبى ﷺ بالثانيه ولذا سمى ذا النورين(حاشية نهج البلاغه ص 85ج2))
"لقب ذوالنورین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی علیہ السلام کی دو صاجزادیاں (حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا، امِ کلثوم رضی اللہ عنہا) سے نکاح کا شرف حاصل ہوا۔ جب پہلی صاجزادی فوت ہو گئیں تو نبی علیہ السلام نے اپنی دوسری صاجزادی سے آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دیا اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کہتے ہیں"۔۔۔ رضی اللہ عنہ
حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر میری تیسری لڑکی بھی ہوتی تو اس کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا۔ بلکہ ایک روایت میں ہے کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عقد میں دے دیتا (البدایہ والنہایہ) 5 ص309، الاستیعاب لابن عبدالبر، اصابہ)
نیز اسد الغابہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا:
(لوكان لى اربعون بنتا زوجت عثمان واحدة بعد واحدة)
"اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا" رضی اللہ عنہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح مکہ مکرمہ میں جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو یہ آواز زبان زد خلائق تھی کہ:
(احسن زوجين راهما انسان ريتة زوجها عثمان)
یعنی بہترین جوڑا رقیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کا جوڑا ہے۔
سئہ 2ھ میں جنگِ بدر کے موقع پر جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اور فرمایا کہ "اے عثمان رضی اللہ عنہ، یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو فرماتے ہیں، خداوندِ قدوس کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری بیٹی تجھ سے بیاہ دوں۔" (ابن ماجہ، حاکم، ازالۃ الخفاء)
اس روایت سے ظاہر ہے کہ یہ رشتے بحکمِ خداوندی ہوئے۔ چنانچہ نبی علیہ السلام نے حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات پر فرمایا تھا:
(زوجوا عثمان لوكان لى ثانية لزوجته مازوجته الابالوحى(نبراس ص 487)
"(حضرت) عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح کر دو، اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں ضرور عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا اور یہ شادی نکاح بحکمِ الہی ہوتا۔"
بعض لوگ یہ بے پر کی اُڑاتے ہیں کہ "نبی علیہ السلام نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی بیٹیاں یا اپنی بیٹیاں صر تالیفِ قلب، اسلام کی ترقی، کلمہ حق کی سربلندی کے لیے دی تھیں، یا ابھی تک "حرمتِ نکاح بکافراں" کا حکم نہیں آیا تھا۔" (حیات القلوب 2 ص560، 2ص561) لیکن اسی کتاب کے اسی صفحہ پر اس قول کی تردید موجود ہے۔ نیز اسی کتاب کے 2 ص562 پر ہے کہ:
"عیاشی روایت کردہ است کہ از حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ پر سیدند کہ آیا حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم دختر خود را بعثمان رضی اللہ عنہ داد؟ حضرت رمود بلے۔"
"عیاشی نے روایت کی ہے کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دی؟ تو انہوں نے جواب دیا، "ہاں"۔
نیز مراۃ العقول ص352، فیض الاسلام شرح نہج البلاغۃ ص519 پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح حضور علیہ السلام کی صاجزادیوں سے ہونا ثابت ہے۔
اور بعض بے نصیب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا و حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نبی علیہ السلام کی حقیقی بیٹیاں ہی تصور نہیں کرتے، جیسا کہ حیات القلوب کی اس عبارت سے ظاہر ہے:
"جمعے از علماء خاصہ و عامہ را اعتقاد آں است کہ رقیہ، امِ کلثوم دختران خدیجہ بودند از شوہر دیگر کہ پیش از حضرت داشتہ و حضرت ایشاں را تربیت کردہ بود و دختر حقیقی آں جناب نہ بودند۔" (حیات القلوب ص560 جلد دوم)
یعنی رقیہ رضی اللہ عنہا و امِ کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی پہلے شوہر سے بیٹیاں تھیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کی پرورش کی تھی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ سطور میں اس ہرزہ سرائی کا نوٹس لیا جائے۔
بناتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعداد:
قرآن مجید میں ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزوٰجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ المُؤمِنينَ...﴿٥٩﴾... سورةالاحزاب
ترجمہ:1۔ از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ:
"اے پیغامبر بگو بزنانِ خود، ودخترانِ خود، وبزنانِ مسلماناں۔۔۔"
2۔ از شاہ رفیع الدین دہلوی رحمہ اللہ:
"اے نبی کہہ واسطے اپنی بیبیوں کے، اور بیٹیوں اپنی کے، اور بیبیوں مسلمانوں کی سے۔۔۔"
3۔ از شاہ عبدالقادر دہلوی رحمہ اللہ:
"اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو، اور اپنی بیٹیوں کو، اور مسلمانوں کی عورتوں کو۔۔۔"
مندرجہ بالا تراجم مشہور علماء اہل سنت کے ہیں۔ اب مشہور علماء شیعہ کے تراجم بھی ملاحظہ فرمائیں:
1۔ مقبول احمد شیعہ دہلوی:
"اے نبی تم اپنی ازواج سے، اور اپنی بیٹیوں سے، اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو۔۔" (ترجمہ قرآن مجید ص849)
2۔ سید عماد علی شاہ تفسیر عمدۃ البیان (مطبوعہ لاہور1290ھ) میں اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
"اے پیغمبر بلند کہہ تو واسطے عورتوں اپنی کے، اور بیٹیوں اپنی کے، اور عورتوں مؤمنین کی کے۔۔۔"
غور فرمائیں، شیعہ سنی تراجم میں "بَنَاتِکَ" کا ترجمہ بصیغہ جمع ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی علیہ السلام کی بیٹیاں ایک سے زائد تھیں۔
اب شیعہ کتب کے حولے ملاحظہ فرمائیں:
1۔ شیعہ مذہب کی مشہور کتاب کافی۔۔۔(جس کے ص1 پر لکھا ہے کہ حضرت امام مہید نے بعد از ملاحظہ مہرِ تصدیق ثبت کر کے فرمایا تھا کہ: "(هذا كاف تشيعتنا)" یہ کتاب ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے"۔۔۔شاید اسی وجہ سے اس کا نام کافی رکھا گیا۔ نیز صاحب تفسیر صافی نے لکھا ہے کہ محمد بن یعقوب کلینی اپنی اصولِ کافی میں وہ روایات نقل فرماتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ و معتبر ہوں ص14)۔۔۔ میں لکھا ہے:
(تزوج خديجة وهو ابن بضع وعشرين سنة فولدله منها قبل مبعثه القاسم ورقية وزيتب وام كلثوم وولد له بعد المبعث الطيب والطاهر والفاطمة(اصول كافى ص278)
"تقریبا پچیس (25) سال کی عمر میں نبی علیہ السلام نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ بعثت سے پہلے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے قاسم رضی اللہ عنہ، رقیہ رضی اللہ عنہا، زینب رضی اللہ عنہا اور امِ کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئے۔ اور بعثت کے بعد طیب طاہر رضی اللہ عنہما، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئے۔"
اور ایک روایت میں ہے کہ بعد از بعثت صرف حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہی پیدا ہوئیں۔ اور طیب طاہر رضی اللہ عنہما بعثت سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ (اصول کافی ص278)
2۔ (حدثنى جعفربن محمد عن ابيه قال ولد لرسول اللهﷺ من خديجه القاسم والطاهر وام كلثوم ورقية وفاطمة وزينب(قرب الاسناد)
"امام جعفر رحمہ اللہ اپنے باپ امام محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر رحمہ اللہ نے فرمایا: نبی علیہ السلام کی اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے قاسم رضی اللہ عنہ، طاہر رضی اللہ عنہ، اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا، رقیہ رضی اللہ عنہا، فاطمہ رضی اللہ عنہا، زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئی۔"
3۔ (روى الصدوق فى الحصال باسناد عن ابى بصير عن ابى عبدالله قال ولد لرسول الله من خديجه االقاسم والطاهر وهو عبدالله وام كلثوم ورقية وزينب وفاطمة
(مراة العقول شرح الاصول والفروع ص352)
مطلب وہی جو گزر چکا ہے۔
4۔ (قال ابن شهر آشوب فى المناقب ولد من خديجة القاسم و الطاهر وهو عبدالله وهما الطاهر والطيب اوربع بنات وزينب ورقية وام كلثوم وهى امنة وفاطمة
(مراۃ العقول 1 ص352)
5۔ (فقال القرطبى اجتمع اهل النقل على انها ولدت له اربع كلهن ادركن الاسلام وهاجرن وزينب رقية وام كلثوم وفاطمه
(مراۃ العقول ص352) مطلب وہی جو اوپر گزر چکا ہے۔
6۔ "ابن بابونہ بسند معتبر ازاں حضرت امام جعفر صادق روایت کردہ است کہ از برائے حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم متولد از خدیجہ رضی اللہ عنہا، قاسم رضی اللہ عنہ، و طاہر رضی اللہ عنہ، ونام طاہر عبداللہ رضی اللہ عنہ بود، واُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا و رقیہ رضی اللہ عنہا و زینب رضی اللہ عنہا و اطمہ رضی اللہ عنہا" (حیات القلوب ص559 ج2)
7۔ "از حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ روایت شدہ است کہ از برائے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم از خدیجہ رضی اللہ عنہا متولد شدند، قاسم رضی اللہ عنہ، فاطمہ رضی اللہ عنہا، اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا و رقیہ رضی اللہ عنہا و زینب رضی اللہ عنہا۔" (منتہی الامال شیخ عباس ص79)
8۔ "چہار دختر برائے حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم آوردہ، زینب رضی اللہ عنہا، رقیہ رضی اللہ عنہا، اُمِ کلثوم رضی اللہ عنہا، فاطمہ رضی اللہ عنہا۔" (حیات القلوب2ص566)
9۔ (قال ابن عباس اورل من ولد لرسول الله ﷺ بمكة قبل النبوة القاسم ويكنى به ثم زينب ثم رقية ثم فاطمة ثم ام كلثوم ثم ولد فى الاسلام عبدالله فسمى الطيب والطاهر وامهم جميعا خديجة بنت خويلد
(مراۃ العقول 1 ص352)
"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مکہ معظمہ میں نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے ہاں نبوت سے قبل حضرت قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ پھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، پھر حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ اور نبوت کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے جن کو طیب طاہر کہا گیا۔ اور ان سب کی والدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔"
ایک سوال:
اب سوال یہ ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاجزادیاں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے واقعی چار تھیں تو واقعہ تطہیر اور واقعہ مباہلہ نصاریٰ نجران کے وقت ان کو شامل کیوں نہ کیا گیا، صرف حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ہی کو کیوں شامل کیا گیا؟
جوابا عرض ہے: تفسیر حسینی پارہ نمبر 22 آیت تطہیر کے تحت مرقوم ہے کہ یہ آیت سئہ 9ھ میں نازل ہوئی۔ اور منتہیٰ الامال میں قصہ مباہلہ نصاریٰ نجران کے متعلق مرقوم ہے کہ یہ واقعہ سئہ 10ھ میں ہوا (1 ص69) اب جبکہ آیت تطہیر سئہ 9ھ میں نازل ہوئی۔ اور مباہلہ نصاریٰ نجران سئہ 10ھ میں وقوع پذیر ہوا، اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا باقی تینوں صاجزادیاں زندہ ہی کب تھیں کہ آیت تطہیر یا مباہلہ کے وقت ان کی شمولیت کا سوال پیدا ہوتا؟ چنانچہ ان تینوں صاجزادیوں کا سنِ وفات بھی ہم کتب شیعہ ہی سے نقل کرتے ہیں:
1۔ "ورقیہ رضی اللہ عنہا در سال دوم ہجری در ہنگامے کہ جنگِ بدر بود وفات کرد" (منتہیٰ الامال 1 ص80)
2۔ "وزینب رضی اللہ عنہا در سال ہفتم ہجرت ودر روایتے در سال ہشتم ہجری برحمت ایزی واصل شد۔" (حیات القلوب 2ص560)
3۔ "سوم امِ کلثوم رضی اللہ عنہا و اور انیز عثمان رضی اللہ عنہ بعد از رقیہ رضی اللہ عنہا تزویج نمود کہ در سال ہفتم ہجری برحمتِ ایزدی واصل شد۔" (حیات القلوب 2 ص560)
یعنی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سئہ 2ھ میں، حضرت زینب رضی اللہ عنہا سئہ 7ھ یا سئہ 8ھ میں اور حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا سئہ 7ھ میں واصل بحق ہوئیں۔
مندرجہ بالا تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ فریقین کی کتبِ تواریخ معتبرہ اور کتب صحاح اس بات پر متفق ہیں کہ تحت السماء وفوق الارض حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی سعادت مند اور خوش نصیب آدمی نہیں جس کے حبالہ عقد میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاجزادیاں ہوں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان:
بلکہ ایک موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ:
(انت اقرب الى رسول الله وشيحة رحم منهما وقد قلت من صهره مالم ينالا(نهج البلاغه مصرى ص 85 جلد دوم)
ترجمہ سید علی نقی کی فیض الاسلام سے ملاحظہ فرمائیں:
"دراں حالیکہ تو از جہت خویشی برسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم از انہما نزدیک تری چوں عثمان رضی اللہ عنہ پسر عفان ابن ابی العاص ابن امیہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف مے باشد و عبد مناف جد سوم حضرت رسول محمد رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن عبدالمطلب ابن ہاثم ابن عبد مناف ابن قصی ابن کلاب ابن کعب است۔ واما ابوبکر عبداللہ پسر ابوقحافہ عثمان ابن عامر ابن عمر ابن کعب ابن سعد ابن تیم ابن مرہ ابن کعب مے باشد و مرہ جد ششم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم است، وانا عمر پسر خطاب ابن نفیل ابن عبد العزی ابن رباح ابن عبداللہ ابن قرط ابن زراح ابن عدی بن کعب بود وکعب جد ہفتم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم است، پس خویشاوندی عثمان رضی اللہ عنہ از ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ بہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نزدیک تراست و دامادی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مرتبہ اے یافتہ ای کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ، وعمر رضی اللہ عنہ نیافتند، عثمان رضی اللہ عنہ، رقیہ رضی اللہ عنہا و امِ کلثوم رضی اللہ عنہا را کہ بنا بر مشہور دختران پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بودند بہمسری خود در آورد۔ در اول رقیہ رضی اللہ عنہا را و بعد از چند گاہ کہ آں وفات نمود امِ کلثوم رضی اللہ عنہا را بجائے خواہر باو داند۔" (فیض الاسلام ص519)
(خاکہ شمارے کے پی-ڈی-ایف کے صفحہ نمبر 49 پر ہے۔)
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا، آپ کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے رشتہ میں زیادہ قرابت حاصل ہے۔ کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے دادے میں نبی علیہ السلام کے ساتھ نسب میں ملتے ہیں۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چھٹے میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ساتویں دادے میں نسب میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں۔ تجھے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا ایسا شرف حاصل ہے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں۔ کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاجزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا۔ پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد دوسری صاجزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح ہوا۔ حالانکہ جناب صدیق رضی اللہ عنہ و فاروق رضی اللہ عنہ کو نبی علیہ السلام کی دامادی کا شرف حاصل نہیں۔ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔ (جاری ہے)
حوالہ جات
1. یعنی جب دل اچھل کر حلق میں آ جائیں گے۔
2. قَالَ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: فَبَايَعَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ [ص:627] رَسُولِهِ». فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ»
3. سن الترمذى حديث:3702)
4. (ترمذی ج2 ص211)
5. "جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ رضوان کا حکم دیا، اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بحیثیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے مکہ میں تھے۔ لوگوں نے بیعت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی۔۔چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہاتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اپنے ہاتھوں کی نسبت بہتر تھا۔"
6. اہل سنت کی تاریخی کتب میں یہ تذکرہ تفصیلا موجود ہے۔ نیز کتب حدیث میں بھی کافی ذخیرہ ہے۔ علاوہ ازیں مختصر سیرت الرسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ص17 پر بھی اجمالا تذکرہ ہے۔ خصوصا البدایہ والنہایہ لابن کثیر، الاستیعاب لابن عبدالبر، اصابہ، تجرید اسماء صحابہ رضی اللہ عنہ ملاحظہ فرمائیں۔