زیر نظر مضمون فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین کا ایک فتویٰ ہے، جو آپ نے تارک الصلوۃ کے بارے میں جاری فرمایا ہے۔

موصوف کا پورا نام محمد بن صالح بن محمد بن عثیمین الوہیبی التمیمی ہے۔ اور آپ بمقام عنیزہ، سئہ 1347ھ میں رمضان شریف کے آخری عشرہ میں پیدا ہوئے۔۔۔مزید مختصر تعارف درج ذیل ہے:

اپنی والدہ کے دادا کے پاس قرآن مجید حفظ کیا۔ پھر تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، خوشخطی سیکھی، حساب اور دوسرے فنون و آداب کی تعلیم حاصل کی۔ باقاعدگی سے تعلیم کا سلسلہ شیخ محمد بن عبدالعزیز المطوع رحمہ اللہ کے پاس شروع کیا۔ ان کے ہاں توحید کی مبادیات، فقہ، فرائض، نحو وغیرہ علوم پڑھے۔ پھر شیخ عبدالرحمن بن علی بن عودان کے پاس فرائض اور فقہ کا علم حاصل کیا۔ پھر شیخ عبدالرحمن بن ناصر سعدی کے پاس توحید، تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، فرائض، نحو و صرف کے علوم حاصل کئے اور سند فراغت لی۔

سئہ 1371ھ میں جامع مسجد میں تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ سئہ 1372ھ میں ریاض میں علمی ادارے قائم ہوئے تو ان سے وابستہ ہو گئے۔ سئہ 1374ھ میں عنیزہ کے "المعہد العلمی" میں استاذ مقرر ہوئے، ساتھ ساتھ کلیۃ الشریعۃ میں تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

آپ کے دوسرے استاذ سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ہیں۔ ان کے پاس صحیح بخاری پڑھی، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کچھ رسائل اور فقہ کی بعض کتابیں بھی پڑھیں۔ شیخ ابن باز کی صحبت سے ان میں علوم حدیث کی طرف خاص میلان پیدا ہوا۔ حدیث میں دسترس حاصل ہوئی اور مذاہب فقہاء میں نظر کے ساتھ ساتھ مذہب حنبلی سے خاص ربط و ضبط قائم ہو گیا۔ جب شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ وفات پا گئے تو عنیزہ کی جامع مسجد میں امامت کے فرائض سنبھال لیے۔۔مکتبۃ العنیزہ الوطنیۃ اور المعہد العلمی دونوں میں تدریس کے مشاغل بھی ساتھ ساتھ جاری رہے۔ اس کے بعد "قصیم" میں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کی شاخ میں تدریس کا بار بھی آپ کو سونپ دیا گیا۔

اُس وقت سے آج تک جامع مسجد عنیزہ کی امامت کے ساتھ ساتھ جامع الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کی شاخ "کلیۃ الشریعۃ" اور "کلیۃ اصول دین" میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

۔۔۔تارک الصلوٰۃ کے بارے میں موصوف کے اس فتویٰ کو قارئین محدث کے لیے پروفیسر چوہدری عبدالحفیظ اور پروفیسر ملک ظفر اقبال (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور) کی مشترکہ کوشش نے اُردو قالب میں ڈھالا ہے۔ (فجزاهم الله عناوعن سائر المسلمين) (ادارہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بیت سے مسلمان نماز سے کاہل اور غافل ہو گئے ہیں، نماز کو ضائع کر بیٹھے ہیں حتیٰ کہ بعض نے تو خالصتا سستی کی وجہ سے نماز کو ترک کر رکھا ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ آج کے ان عظیم مسائل میں سے ہے جس میں لوگ مبتلا ہو چکے ہیں۔ اور قدیم و جدید علماء و ائمہ کرام کا اس بارے میں بڑا اختلاف ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ جو کچھ مجھے معلوم ہے اسے لکھ دوں اور اس تحریر کو تین عنوانات کے تحت ملخص کر دیا ہے:

1۔ تارک الصلاۃ کا حکم

2۔ مسلمان عورت سے اس کے نکاح کا حکم

3۔ اُس عورت سے مرد کی اولاد کا حکم

1۔ جہاں تک پہلے مسئلے کا تعلق ہے، یہ بہت بڑے علمی مسائل میں سے ایک ہے (اور اس سلسلے میں سلف و خلف اہل علم نے بہت اختلاف کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فرمان ہے:

"تارک الصلاۃ (خالصتا) کافر ہے اور اس کا کفر اسے ملت اسلامیہ سے خارج کرنے کا باعث ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے اور نماز نہ ادا کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔"

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اسے فاسق قرار دیتے ہیں، کافر نہیں گردانتے۔ تارک الصلوٰۃ کی سزا کے بارے میں ان کا پھر اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "تارک الصلوٰۃ پر قتل کی حد جاری کی جائے۔" اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ تعزیر نافذ کی جائے۔"

جب یہ مسئلہ بہت بڑے علمی نزاع کا باعث ہے، تو یہ بات لازم ہے کہ اسے کتاب اللہ (قرآن) اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔

فرمان الہی ہے:

﴿وَمَا اختَلَفتُم فيهِ مِن شَىءٍ فَحُكمُهُ إِلَى اللَّـهِ...﴿١٠﴾... سورةالشورىٰ

"اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو، اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہو گا)"

اور فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سولِ...﴿٥٩﴾... سورةالنساء

"اگر کسی معاملہ میں تمہارا اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دو (یعنی کتاب و سنت کی طرف رجوع کرو)"

چونکہ اختلاف کرنے والوں میں ہر ایک کا قول دوسرے کے لیے حجت نہیں ہو سکتا اور ہر آدمی یہی خیال کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔۔۔دونوں فریقوں میں سے کوئی فریق بھی اس بات کا زیادہ مستحق نہیں کہ اسی کی بات کو تسلیم کیا جائے،ایسی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فیصلے کے لیے رجوع کرنا ہی لازمی اور ضروری ہے۔

چنانچہ جب ہم اس اختلافی مسئلے کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کتاب و سنت دونوں "تارک الصلوٰۃ" کے کفر اکبر پر دلالت کرتے ہیں، جو اسے ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتے ہیں۔ جہاں تک کتاب اللہ کا تعلق ہے، سورہ توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ ...﴿١١﴾... سورةالتوبة

"اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔"

سورہ مریم میں ہے:

﴿فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ أَضاعُوا الصَّلوٰةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوفَ يَلقَونَ غَيًّا ﴿٥٩﴾ إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صـٰلِحًا فَأُولـٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ شَيـًٔا ﴿٦٠﴾... سورة مريم

"پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشین ہوئے، جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی، ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا۔"

سورہ مریم کی یہ آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نماز ضائع کرنے والوں اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے اور سورہ توبہ کی آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان اخوت کے لیے تین شرائط متعین کی ہیں:

1۔ شرک سے توبہ

2۔ نماز کا قیام

3۔ زکوٰۃ کی ادائیگی

ان شرائط سے واضح ہے کہ اگر وہ شرک سے تو توبہ کر لیں مگر نماز قائم نہ کریں، اگرچہ زکوٰۃ ادا کریں، تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں اور اگر وہ نماز تو قائم کر لیں مگر زکویۃ ادا کریں، پھر بھی ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں۔۔۔اب ظاہر ہے کہ دین میں اخوت کی اس وقت تک نفی نہیں ہوتی جب تک انسان کلیتا دین سے خارج نہ ہو جائے۔ جبکہ فسق و فجور اور چھوٹے موٹے کفر سے اخوت کی نفی نہیں ہوتی۔۔قتل کے بارے میںآیہ قصاص پر غور فرمائیے:

﴿فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَىءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعر‌وفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسـٰنٍ...﴿١٧٨﴾... سورةالبقرة

"پس اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کر دیا جائے تو (وارث مقتول کو) پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش اسلوبی کے ساتھ (خون بہا) ادا کرنا چاہئے؟

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قاتل کو اس کے جرم قتل کے باوجود مقتول کا بھائی قرار دیا ہے، حالانکہ قتل عمد کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ فرمان خداوندی ہے:

﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورةالنساء

"اور جو شخص مسلمان کو قصدا مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے، جس میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا اور اللہ اس پر غضبناک ہو گا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے اس نے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔"

اسی طرح مسلمانوں کے دو گروہوں کی لڑائی کے بارے میں اس فرمان الہی پر غور فرمائیے:

﴿وَإِن طائِفَتانِ مِنَ المُؤمِنينَ اقتَتَلوا فَأَصلِحوا بَينَهُما...﴿٩﴾... سورةالحجرات

"اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو اُن میں صلح کرا دو'

اس سے اگلی آیت میں فرمایا:

﴿إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ فَأَصلِحوا بَينَ أَخَوَيكُم ...﴿١٠﴾... سورةالحجرات

"مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو"

پس اللہ نے صلح کرانے والے فریقین اور لڑائی کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان رشتہ اخوتکو برقرار رکھا ہے۔ اگرچہ مومن کا قتل کرنا کفر ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سباب المسلم فسوق وقتاله كفر

"مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔"

لیکن یہ کفر اسے ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔۔۔سورۃ البقرۃ کی مذکورہ بالا آیت کریمہ اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ باوجود اس جرمِ قتل کے اس کی اخوت باقی ہے۔

پس اس سے پتہ چلا کہ نماز کا ترک کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے اور اگر یہ (نماز کا ترک کرنا) فسق اور چھوٹا مٹا (معمولی کفر ہوتا تو اس کے مرتکب کی اخوت اسلامی کی یوں نفی نہ کی جاتی جیسے سورہ توبہ کی آیت سے ظاہر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کیا سورۃ التوبۃ کی مذکورہ آیت کی روشنی میں تارک الزکوۃ بھی کافر نہے؟۔۔۔تو ہمارا جواب یہ ہے کہ تارک الزکوٰۃ کے بارے میں بعض اہل علم کا خیال ہے، وہ کافر نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بھی امام احمد رحمہ اللہ کی بات راجح ہے کہ اسے کافر نہ گردانا جائے، لیکن اسے بہت سخت سزا دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت میں ذکر کیا ہے۔

حدیث ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ میں ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ نہ دینے والے کی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یا اُس کا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم۔۔۔امام مسلم رحمہ اللہ نے پوری حدیث "(باب اثم مانع الزكوة)" میں نقل کی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تارک الزکوٰۃ کافر نہیں ہوتا۔ اگر وہ کافر ہوتا تو جنت کے لیے اُس کا کوئی راستہ نہ تھا۔

اور جہاں تک سنت طیبہ سے تارک الصلوٰۃ کے کفر پر دلالت کا تعلق ہے، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کافی ہے:

(ان بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلوة)

"بے شک بندے اور شرک و کفر کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا ہی فرق ہے ۔" یہ حدیث مسلم شریف کی "کتاب الایمان" میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔

احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

(العهد الذى بيننا وبينهم الصلوة فمن تركها فقد كفر)

"بے شک ہمارے اور کفار کے درمیان نماز ہی کا فرق ہے۔ جس نے نماز کو چھوڑ دیا اس نے کفر کاارتکاب کیا۔"

یہاں کفر سے مراد وہ کفر ہے جس کی بنیاد پر انسان ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمنین اور کفار کے درمیان نماز ہی کو حدِ فاصل قرار دیا اور یہ بات بڑی معروف ہے کہ ملت کفر اور ملت اسلام دونوں الگ الگ ہیں۔ پس نماز کے عہد کو پورا نہیں کرتا وہ کافروں میں شمار ہوتا ہے۔

صحیح مسلم میں ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»(ح:1854)

"قریب ہے کہ تم پر امیر مقرر ہوں، تم ان کے اچھے کام بھی دیکھو گے اور بُرے کام بھی، پھر جو کوئی برے کام کو پہچان لے وہ بری ہے(اگر اس کو روکے ہاتھ یا زبان یا دل سے) اور جس نے برے کام کو برا جانا وہ بھی بچ گیا، لیکن جو راضی ہوا برے کام سے اور اس کی پیروی کی (وہ تباہ ہوا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی" یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان (امراء) سے لڑائی نہ کریں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں"

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ؟ فَقَالَ: «لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ،( صحيح مسلم حديث :1855)

"تمہارے بہتر حاکم وہ ہیں جنہیں تم چاہتے ہو اور وہ تمہیں چاہتے ہیں، وہ تمہارے لیے دعاء کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعاء کرتے ہو۔ اور برے حاکم وہ ہیں جن کے تم دشمن ہو اور وہ تمہارے دشمن ہیں، تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں۔ عرض کی گئی "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ایسے حاکموں کو ہم تلوار سے نہ ہٹا دیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،" نہیں، جب تک وہ نماز کو تمہارے درمیان قائم کرتے رہیں"

یہ دونوں احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اگر امراء اور حکام نماز قائم نہ کریں تو اُن کے خلاف تلوار سے جہاد کرنا جائز، اور انہیں معزول کرنا روا ہے، لیکن جب تک وہ صریح کفر کا اظہار نہ کریں اُس وقت تک انہیں معزول کرنا اور ان کے خلاف جہاد کرنا جائز نہیں۔ ہمارے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا بھیجا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ بیعت کے الفاظ میں یہ بھی تھا کہ "ہم نے سمع و طاعت پر بیعت کی۔۔۔ہر خوشی اور ناخوشی میں، تنگی اور فراخی میں، اور ہم اپنی جانوں پر اس بات کو ترجیح دیں گے۔۔۔ہم حکام سے کوئی جھگڑا نہ کریں گے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اگر تم حکام میں صریح کفر دیکھو تو اُن کو قتل کرنے کے لیے تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہے"

کتاب و سنت سے کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ تارک الصلوۃ کافر نہیں۔ یا یہ معلوم ہو سکے کہ تارک الصلوۃ مومن ہے۔ زیدہ سے زیادہ اس سلسلے میں اگر کچھ ہے تو وہ ایسی نصوص ہیں جو توحید کی فضیلت یعنی "لا الہ الا اللہ" کی شہادت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی اور اس کے ثواب پر دلالت کرتی ہیں۔ اور یہ نصوص یا تو فی نفسہا الی قیود کے ساتھ مقید ہیں جن کے ہوتے ہوئے محال ہے کہ کوئی نماز چھوڑ دے،یا وہ ان خاص حالات میں وارد ہوتی ہیں جن میں ترک صلاۃ کو شرعی عذر سمجھا جاتا ہے اور یا پھر وہ نصوص عام ہیں۔ پس ان کو تارکِ صلوۃ کے سفر کے دلائل پر محمول کیا جائے گا۔ کیونکہ دلائل خاص ہیں، اور خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔

اگر کوئی کہنے والا کہے کہ تارک الصلوٰۃ کے کفر پر دلالت کرنے والی نصوص تو ایک انسان کے وجوبِ نماز سے انکار پر دلالت کرتی ہیں۔

ہم کہتے ہیں، یہ بات اس لیے جائز نہیں ہے، کہ اس میں دو خطرے ہیں:

1۔ جو وصف شارع کی مراد تھا اور جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ حکم بھی لگایا، وہ وصف اس سے زائل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ شارع نے کفر کا حکم نماز ترک کرنے پر لگایا ہے نہ کہ نماز کے انکار پر۔ اور دین اسلام میں اخوت کی بنیاد بھی نماز کی اقامت پر ہی قائم کی گئی ہے نہ کہ وجوب نماز کے اقرار پر۔۔۔ غور فرمائیے، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ:

فان تابواواقروابوجوب الصلاة...

"اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کے وجوب کے اقراری ہو جائیں۔۔۔"

اور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا:

«بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ جحد وجوب الصلاة يا العهد الذى بيننا وبينهم الاقرار بوجوب الصلوة فمن جحد وجوبها فقد كفر

یعنی "اللہ کے (مومن) بندے اور شرک و کفر کے درمینا وجوبِ نماز کے انکار کا فرق ہے"۔۔۔یا۔۔۔"ہمارے اور اُن کے درمیان عہد وجوب نماز کے اقرار کا ہے، جس نے اس کے وجوب کا انکار کیا اُس نے کفر کا ارتکاب کیا"

اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد ہوتی تو کتاب و سنت میں یہ بات موجود ہوتی۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَنَزَّلنا عَلَيكَ الكِتـٰبَ تِبيـٰنًا لِكُلِّ شَىءٍ... ﴿٨٩﴾... سورةالنحل

"اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے۔"

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم...﴿٤٤﴾... سورة النحل

"اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ذکر (قرآن مجید) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔"

2۔ وہ وصف مراد لینا پڑے گا جسے شارع نے حکم کی اصل بنیاد قرار نہیں دیا۔ کیونکہ بغیر شرعی عذر کسی بھی شخص کا پانچوں نمازوں کے وجوب کا انکاری ہونا موجب کفر ہے چاہے وہ نماز پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو، اس کفر میں نماز کا تارک اور نماز ادا کرنے والا دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ اگر ایک شخص پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتا ہے۔ ان نمازوں کو تمام شرائط، ارکان، واجبات اور مستحبات کے ساتھ ادا کرتا ہے، لیکن نمازوں کے وجوب کا بغیر کسی عذر کے انکارہ ہو تو نماز ترک نہ کرنے کے باوجود وہ کافر ہے۔ پس اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ توحید و رسالت کے اقرار کی فضیلت والی نصوص کا اس آدمی پر اطلاق کرنا جسے نے نماز کو چھوڑا، صحیح نہیں ہے۔ اور حق بات یہ ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے اور یہ کفر ایسا ہے جو اسے ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ جیسے کہ واضح طور پر ابن ابی حاتم نے اپنی "سنن" میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(اوصانا رسول الله ﷺ لاتشركوا بالله شيئا ولاتتركو الصلاة عمدا فمن تركها عمدا متعمدا فقد خرج من الملة)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، اور نماز کو عمدا نہ چھوڑنا۔ کیونکہ جس نے عمدا اور ارادتا نماز چھوڑ دی وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو گیا۔"

جس طرح نقلی دلیل کا یہ تقاضا ہے، اسی طرح عقلی اور نظری دلیل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ تارک صلوٰۃ کافر ہے۔۔وہ شخص کیسے ایمان والا ہو سکتا ہے، جو ایک ایسے عمل کو ترک کرتا ہے جو دین کا ستون ہے اور کتاب و سنت میں اس کے لیے بڑی ترغیب آئی ہے؟ پس یہ ترغیب ہر مومن عاقل سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ نماز کو قائم کرے۔ اسی طرح نماز کے ترک کرنے پر جو وعید آئی ہے وہ ہر مومن عاقل سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے ترک نہ کرے اور نماز کو ضائع کرنے سے بچے۔

اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ یہاں تارک الصلوۃ کے کفر سے مراد کفران نعمت ہے، نہ کہ ملت سے خارج ہونا۔ یا اس سے مراد بڑا کفر نہیں بلکہ چھوٹا کفر ہے۔ یعنی "(كفر دون الكقر الاكبر" ۔۔۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

اثنتان بالناس همابهم كفر الطعن فى النسب والنياحة على الميت

یعنی نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا کفر ہیں۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(سباب المسلم فسوق وقتاله كفر)

"مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کا قتل کرنا کفر"

اور اسی طرح دوسری مثالیں۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک احتمال ہے اور اس قسم کی مثالوں سے استدلال درج ذیل وجوہات کی بناء پر صحیح نہیں ہے:

1۔ نماز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر اور ایمان نیز موحدین اور کفار کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا ہے۔ چنانچہ کفر اور ایمان، اسی طرح موحد اور کافر ایک دوسرے کے نقیض ہیں، یہ ایک دائرے میں نہیں آ سکتے۔

2۔ نماز اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور نماز کا تارک اس رکن کو گرا دیتا ہے۔ لہذا یہ وہ کفر ہے جو اسے اسلام سے خارج کر دیتا ہے، بخلاف اس آدمی پر کفر کے اطلاق کے جس نے افعالِ کفریہ میں سے کسی ایک کا ارتکاب کیا ہو۔

3۔ کچھ دیگر نصوص بھی ایسی ہیں جو تارک الصلوۃ کے ایسے کفر پر دلالت کرتی ہیں جو اسے ملت اسلامیہ سے خارج کرتا ہے، ان نصوص کی صحت اور موافقت کا تقاضا ہے کہ تارک الصلوٰۃ کے کفر پر ان کا اطلاق ہو۔

4۔ کفر کی تعبیر کے مختلف انداز ہیں۔۔ترک الصلوۃ کے بارے میں فرمایا گیا:

"(بين الرجل وبين الشرك والكفر)"۔۔۔یہاں لفظ کفر "ال" سے معرف کیا گیا ہے، نکرہ استعمال نہیں ہوا۔ جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کفر سے مراد حقیقتا کفر ہے۔۔یہ کفرِ مطلق نہیں ہے، بلکہ وہ کفر ہے جو اپنے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "اقتضاء الصراط المستقیم" کے صفحہ 70 پر لکھا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان "(اثنتان فى الناس هما بهم كفر)" کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں خصلتیں فی نفسہ کفر ہیں۔۔۔اعمالِ کفر میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اور یہ خصلتیں لوگوں میں عام پائی جاتی ہیں۔ لیکن ہر وہ آدمی جس میں کفر کی خصلتوں میں سے کوئی خصلت پائی جائے وہ کفر مطلق کا مرتکب نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں حقیقی کفر نہ آئے، جس طرح کہ ایمان کے شعبوں میں سے کسی ایک شعبے پر کوئی آدمی عمل کرے تو وہ مومن نہیں بن جاتا، جب تک کہ اصل ایمان اور اس کی حقیقت اس میں موجود نہ ہو۔

پس دلائل کا تقاضا یہی ہے کہ بلاشک نماز کا تارک کار ہے، اور یہ کفر اسے ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔اس بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی رائے صحیح ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول ایسا ہی ہے جسے ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت درج کیا ہے:

﴿فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ أَضاعُوا الصَّلوٰةَ ...﴿٥٩﴾... سورة مريم

اسی طرح امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی "کتاب الصلوٰۃ" میں ذکر کیا ہے کہ مذہبِ شافعی میں ایک نقطہ نظر یہی ہے۔۔۔امام طحاوی رحمہ اللہ نے بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے اسی قول کو نقل کیا ہے۔

جمہور صحابہ کی بھی یہی رائے ہے، بلکہ بعض نے تو اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع نقل کیا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اعمال میں سے نماز کے علاوہ کسی اور عمل کے ترک کو کفر نہ سمجھتے تھے۔" اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا اور اپنی اپنی شروں پر اسے صحیح کہا ہے۔ معروف امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ صحیح روایت کیا گیا ہے کہ "نماز کا رتارک کافر ہے۔" اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک اہل علم کی رائے یہی دہی ہے کہ عمدا نماز کا تارک حتیٰ کہ بغیر عذر نماز کا وقت چلا گیا اور اس نے نماز ادا نہیں کی، تو وہ کافر ہے۔ ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ مروی ہے کہ ہم نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو اس رائے کا مخالف نہیں پایا۔۔۔منذری نے ترغیب و ترہیب میں اس مسئلے کو ابن حزم سے نقل کیا اور اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے کچھ زاید نام بھی لکھے ہیں، جن میں حضرات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔۔۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ انہوں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ، اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ، عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ، امام نخعی رحمہ اللہ، حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ، ایوب السختیانی، ابوداؤد، الطیالسی رحمہ اللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اور زہیر بن حرب رحمہ اللہ جیسی ہستیوں کے نام بھی ذکر کئے ہیں۔

اگر کوئی کہے کہ جو اہل علم تارک الصلوٰۃ کو کافر نہیں مانتے ان کے دلائل کا جواب کیا ہے؟

ہم کہتے ہیں کہ ان دلائل میں یہ کہیں نہیں کہ تارک الصلوٰۃ کافر نہیں ہوتا، یا مومن ہوتا ہے، یا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا اور جنت میں ضرور داخل ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

غوروفکر سے ان دلائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ دلائل درج ذیل چار اقسام سے زیادہ نہیں ہیں، اور یہ سب کے سب تارک الصلوٰۃ کو کافر کہنے والوں کے دلائل سے متعارض ہیں۔

پہلی قسم: اصل مسئلہ (تارک الصلوٰۃ کا کافر نہ ہونا) کی اس میں سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے قرآن مجید میں اس فرمان الہی سے استدلال کیا ہے:

﴿إِنَّ اللَّـهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذٰلِكَ لِمَن يَشاءُ...﴿٤٨﴾... سورةالنساء

یہاں "( مَا دُونَ ذَلِكَ)" کا معنیٰ یہ ہے کہ جو اس سے کمتر ہو۔۔۔اس کا معنیٰ "ماسواء" نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی چیز کا بطلان کیا، وہ ایسا کافر ہے کہ جس کی بخشش نہ ہو گی، اگرچہ اس کا یہ گناہ شرک نہیں ہے۔ لہذا اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ "( مَا دُونَ ذَلِكَ)" کا مطلب "( مَا سوى ذَلِكَ)" ہے تو پھر بھی نماز کا یہ حکم، عام مخصوص کی قبیل سے تو ضرور ہو جائے گا۔ کیونکہ اس حکمِ عام کو وہ نصوص خاص کرتی ہیں جو شرک کے علاوہ کفر اور کفر مخرج عن الملۃ جیسے گناہوں پر، جو کہ کبھی معاف نہیں ہوں گے، دلالت کرتی ہیں۔ گو کہ وہ شرک نہیں ہیں۔

دوسری قسم: ان عمومی دلائل کی ہے جو ان احادیث کی بنیاد پر خاص ہو جاتے ہیں جو تارک الصلوٰۃ کے کفر پر دلالت کرتی ہیں، مثلا رسول اکرم صلی اللہ علیہ کا یہ فرمان، جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: "مامن عبد يشهد ان لا اله الا الله وان محمد ا عبده ورسوله الا حرمه الله على النار"

"جو آدمی بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ اس کے لیے دوزخ کو حرام ٹھہرا دیتا ہے۔"

بطورِ مثال یہ ایک حدیث ہم نے ذکر کی ہے۔ ایسے ہی الفاظ حضرات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ سے بھی مروی ہیں۔

تیسری قسم: ان عام مقید دلائل کی ہے جن کی وجہ سے نماز کا ترک ممکن ہی نہیں ہے۔ جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان حضرت عثمان بن مالک سے مروی ہے:

فان الله حرم على النار من قال لااله الا الله يبتغى بذلك وجه الله

"جس نے خالصتا "( لااله الا الله)" کہا، اس پر اللہ دوزخ کو حرام کر دیتا ہے۔" اسے بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا اور حدیث معاذ رضی اللہ عنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یوں ہیں:

«ما من أحد يشهد أن لا إله إلا الله وأن [ص:38] محمدا رسول الله، صدقا من قلبه، إلا حرمه الله على النار»،(صحيح البخاري:حديث128)

"جو شخص صدق دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ اس پر دوزخ کو حرام کر دیتا ہے۔"

پس شہادتین کا اخلاص نیت اور صدق دل سے اقرار و اعتراف انسان کو نماز چھوڑنے سے منع کرتا ہے۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو صدق اور اخلاص تو رکھتا ہو اور اس کا مصداق اور اخلاص اس کو نماز پر آمادہ نہ کرے۔ اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ نماز اسلام کا ستون ہے اور یہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان خصوصی تعلق ہے۔ جب بندہ اپنے رب کی رضاجوئی میں صادق اور مخلص ہو گا تو اس کے لیے لازمی ہے کہ ہر وہ عمل کرے جو اس مقصد سے اسے قریب کر دے۔ اور ہر اس عمل سے اجتناب کرے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان حائل ہونے کا باعث بنے۔

چوتھی قسم: کے دلائل وہ ہیں جن میں ترک الصلوٰۃ کو عذر تسلیم کیا گیا ہے۔ مثلا یہ حدیث جو ابن ماجہ میں حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(يدرس الاسلام كمايدرس وشى الثوب.....

"اسلام اسی طرح مٹتا چلا جائے گا جس طرح کپڑے کے نقش و نگار مٹتے ہیں۔"

اور اسی میں ہے کہ لوگوں میں سے بوڑھے مردوں اور عورتوں کا ایک طبقہ بچ جائے گا، جو کہیں گے: "ہم نے اس کلمہ "لا الہ الا اللہ" پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا، پس ہم بھی ایسا ہی کہتے ہیں"۔۔۔صلۃ نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انہیں "لا الہ الا اللہ" کچھ کفایت نہ کرے گا۔۔۔اس حال میں کہ وہ نہیں جانتے، نماز کیا ہے؟ روزہ کیا ہے؟ حج کیا ہے؟ اور صدقہ کیا ہے؟ یہ سن کر حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا تو صلۃ نے تین دفعہ یہ سوال دھرایا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہر دفعہ اس (صلہ) سے منہ پھیرتے رہے۔ اور اس کے بعد تیسری دفعہ اُس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ "اے صلہ، آگ سے انہیں یہ چیزیں نجات دیں گی۔ پس جن لوگوں کو اس کلمے "لا الہ الا اللہ" نے دوزخ سے نجات دلائی وہ اسلامی عبادات کو چھوڑنے پر معذور تھے۔ کیونکہ وہ ان کے بارے میں سرے سے کچھ جانتے ہی نہ تھے۔ ہاں جو کچھ وہ بجا لائے اس سے زیادہ ان کی مقدرت میں نہ تھا اور ان کا معاملہ ان لوگوں کا سا ہے جو اسلامی احکام کی فرضیت سے پہلے فوت ہو گئے یا ان پر عمل سے پہلے پہلے انہیں موت نے آ لیا۔ مثلا وہ شخص جو کلمہ توحید کا اقرار کرنے کے فورا بعد اسلامی احکام پر عمل پیرا ہونے سے پہلے پہلے داعی اجل کو لبیک کہہ دیتا ہے۔ یا وہ شخص جو دارالکفر میں مسلمان ہوا اور اسلامی احکام کے جاننے سے پہلے پہلے اسے موت نے آ لیا۔

اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ ترک الصلوٰۃ سے کفر نہ لازم کرنے والوں کے دلائل، کفر لازم کرنے والوں کے دلائل کا مقابلہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ان لوگوں نے جن نصوص سے استدلال کیا، یا تو سرے سے ان میں اس بارے کوئی دلیل نہ تھی یا یہ نصوص کسی ایسے وصف کے ساتھ مقید ہیں جن میں ترکِ صلوٰۃ ممکن ہی نہ تھا۔ یا جن میں ترکِ صلوٰۃ کو شرعی عذر تسلیم کیا گیا ہے۔ پس جب اس کلا کفر مخالف دلائل کی نسبت واضح ہو گیا تو اس پر کفر کا حکم نافذ ہو گا۔

2۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تارک الصلوٰۃ کے لیے جائز نہیں کہ وہ مسلمان عورت سے نکاح کرے، کیونکہ وہ کافر ہے۔۔۔کتاب و سنت اور اجماع کی بنیاد پر کافر کے لیے مسلمان عورت حلال نہیں۔۔۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا جاءَكُمُ المُؤمِنـٰتُ مُهـٰجِرٰ‌تٍ فَامتَحِنوهُنَّ اللَّـهُ أَعلَمُ بِإيمـٰنِهِنَّ فَإِن عَلِمتُموهُنَّ مُؤمِنـٰتٍ فَلا تَر‌جِعوهُنَّ إِلَى الكُفّارِ‌ لا هُنَّ حِلٌّ لَهُم وَلا هُم يَحِلّونَ لَهُنَّ ...﴿١٠﴾... سورة الممتحنة

"مومنو، جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو اُن کی آزمائش کر لو۔ (اور) خدا تو اُن کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ سو اگر تم جانو کہ وہ مومن ہیں انہیں کفار کے پاس نہ بھیجو کہ نہ یہ (عورتیں) ان کے لیے حلال ہیں۔ اور نہ وہ (کافر مرد) ان (مومن عورتوں) کے لیے حلال ہیں۔"

مغنی ابنِ قدامہ ج6 صفحہ 592 پر ہے:

"اہلِ علم میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اہلِ کتاب کے علاوہ سب کفار کی عورتیں اور ان کے ذبائح حرام ہیں۔"

نیز:

"مرتد ہونے والی عورت سے نکاح (خواہ وہ کسی بھی دین سے متعلق ہو) حرام ہے۔ کیونکہ جس دین (اسلام) کو چھوڑ کر وہ دوسرے دین کی طرف منتقل ہوئی، اس کا دین دار ہونا باقی نہ رہا۔"

اور باب المرتد میں کہا گیا:

"کوئی (مسلمان) اس سے نکاح کرے تو اس کا نکاح صحیح نہیں ہے اور نکاح کے اقرار کی اسی طرح ممانعت ہے جیسے کافر کو کسی مسلم عورت سے نکاح کی ممانعت ہے۔"1

یہاں مرتدہ سے نکاح کی تحریم کی صراحت کی گئی ہے۔ اور یہ کہ مرتد کا نکاح کسی صورت میں بھی صحیح نہیں۔۔۔اگر نکاح کے بعد ارتداد ہوا تو اس کا حکم کیا ہو گا؟۔۔۔مغنی ابن قدامہ ج6 ص 298 میں ہے:

"اگر میاں بیوی میں سے، دخول سے پہلے کوئی ایک بھی مرتد ہو جائے تو اسی وقت اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی بھی ایک دوسرے کا وارث نہیں بن سکتا۔ اور اگر دخول کے بعد ارتداد ہوا تو اس میں دو (2) روایتیں ہیں، ایک یہ کہ فوری طور پر میاں بیوی میں جدائی ہو جائے گی اور دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ عدت گذرنے تک خاوند کے پاس رہے گی۔"

ص 639 پر ہے کہ:

"دخول سے پہلے ارتداد کی بنیاد پر نکاح کا ٹوٹ جانا عام اہل علم کا موقف ہے۔" (اس موقف کی کاتب نے دلیل بھی ذکر کی ہے) اور فوری طور پر نکاح اس وقت ٹوٹے گا جب ارتداد دخول کے بعد ہوا ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ بھی قول ہے کہ عدت گزرنے تک وہ مرد کے پاس رہے گی۔۔۔ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ، میاں بیوی میں سے کسی ایک کے ارتداد کی بناء پر نکاح کے ٹوٹنے پر متفق ہیں۔ لیکن اگر ارتداد دخول سے پہلے ہوا تو نکاح فوری طور پر ٹوٹ جائے گا۔ اگر ارتداد دخول کے بعد ہوا تو امام مالک رحمہ اللہ اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ نکاح پھر بھی فورا ٹوٹ جائے گا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ عدت گزرنے تک انتظار کرنا ہو گا۔ امام احمد رحمہ اللہ سے دونوں مذاہب سے ملتی جلتی دو روایتیں موجود ہیں۔"

مغنی ابن قدامہ ص240 پر ہے:

"اگر میاں بیوی دونوں اکٹھے مرتد ہو جائیں تو ان کا حکم وہی ہے، جو دونوں میں سے ایک کے مرتد ہونے کا ہے۔ اگر ارتداد دخول سے پہلے ہوا تو فوری طور پر جدائی ہو جائے گی اور اگر دخول کے بعد ارتداد ہوا تو کیا جدائی فوری طور پر ہو گی؟۔۔۔امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق عدت گزرنے تک اسے ٹھہرنے کی اجازت ہو گی۔"

پھر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا گیا ہے کہ:

"اگر میاں بیوی اکٹھے مرتد ہو جائیں تو ان کا نکاح نظریہ استحسان کی رو سے نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ ان کا دین مختلف نہیں ہوا۔ پس ان کی مثال ان میاں بیوی کی سی ہے جو اگر کافر ہوتے اور اکٹھے مسلمان ہوتے، تو ان کا نکاح قیاسِ طردو عکس کی بنیاد پر قائم رہتا۔"

پس جب یہ بات واضح ہو گئی کہ مرتد کا نکاح مسلم سے جائز نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔۔۔کتاب و سنت کے دلائل کا یہی تقاضا ہے۔۔۔نیز کتاب و سنت کی رو سے اور عامۃ الصحابۃ کی نظر میں بھی تارک الصلوٰۃ کافر ہے۔۔تو اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جب کوئی شخص نماز ادا نہیں کرتا اور مسلم عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ یہ عورت اسی نکاح سے اس کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ ہاں اگر وہ توبہ کرے اور اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس پر تجدیدِ نکاح واجب ہو گا۔اگر ایک کافر، کافرہ سے نکاح کرتا ہے، پھر عورت مسلمان ہو جاتی ہے تو اگر اس کا قبولِ اسلام دخول سے پہلے ہوا تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر اس کا قبول اسلام دخول کے بعد ہوا تو نکاح نہیں ٹوٹے گا۔۔۔ اس وقت تک انتطار کیا جائے گا کہ اس کا خاوند عدت پوری ہونے سے پہلے پہلے مسلمان ہو جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ اس کی بیوی رہے گی لیکن اگر عدت قبولِ اسلام سے پہلے ختم ہو جائے تو مرد کا عورت پر کوئی حق نہ ہو گا۔ کیونکہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عورت کے مسلمان ہونے سے ہی نکاح فسخ ہو گیا۔ نیز کفار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیویوں کے ساتھ مسلمان ہوتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نکاحوں کو برقرار رکھتے تھے۔ ہاں اگر تحریم کا کوئی اور سبب ظاہر ہو جاتا تو نکاح ٹوٹ جاتا۔۔۔بطورِ مثال اگر میاں بیوی مجوسی ہوں اور ان کے درمیان حرمت کا کوئی سبب موجود ہو (مثلا ماں بیٹا یا بہن بھائی ہوں) تو حرمت کے اس سبب سے ان کی علیحدگی کی کروا دی جائے گی۔

جہاں تک ترکِ صلوٰۃ کی بناء پر کافر ہونے والے کا تعلق ہے، اگر اس نے کسی مسلمان عورت سے نکاح کیا تو یہ مسلمان عورت کتاب و سنت اور اجماع کی بنیاد پر کفر کے لیے حلال نہیں ہو گی۔

اگر ایک آدمی اصلا کافر ہو (یعنی وہ مرتد نہیں ہوا) اور وہ کسی مسلمان عورت سے نکاح کر لے تو نکاح باطل ہو گا۔ اور میاں بیوی کے درمیان تفریق لازمی ہو گی۔ اور اگر وہ کفار مسلمان ہو جائے اور پھر اسی عورت کو اپنی بیوی رکھنا چاہے تو یہ تجدیدِ نکاح کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں۔

3۔ تیسرا نکتہ تارک الصلوٰۃ کی مسلمان عورت سے اولاد کے حکم کا ہے۔۔۔جہاں تک ماں کی نسبت کا تعلق ہے، وہ ہر حال میں مسلمان عورت کی اولاد ہے۔ اور جہاں تک خاوند کی نسبت کا تعلق ہے، اس شخص کی رائے کے مطابق جو تارک الصلوٰۃ کو کافر نہیں سمجھتا۔ وہ اس مرد کی ہی اولاد ہے اور اسی کو ملے گی۔ کیونکہ ایسے شخص کے نزدیک اس کا نکاح صحیھ ہے۔

لیکن جہاں تک اس شخص کا زاویہ نگاہ ہے جو تارک الصلوٰۃ کو کار مانتا ہے۔۔۔اور یہی برحق بھی ہے، جیسے کہ پہلے نکتے میں تحقیق کے ساتھ ہم یہ ثابت کر چکے ہیں۔۔۔تو اس صورت میں ہم یہ دیکھیں گے کہ:

اگر خاوند نہیں جانتا کہ اس کا نکاح باطل ہے یا پھر وہ اس بات کا قائل نہیں ہے، تو اولاد اسی کی ہو گی اور اسی کے ساتھ ملحق کر دی جائے گی۔ یہ وطہ شبہ ہو گا۔ اور وطہ شبہ میں خاوند سے نسب ملحق کیا جاتا ہے۔

اور اگر خاوند یہ سمجھتا ہے کہ اس کا نکاح صحیح نہیں تو اولاد اس سے ملحق نہیں ہو گی کیونکہ اس کی رائے میں یہ عورت اُس کے لیے حلال نہ تھی اور اس سے مباشرت اسے حرام تھی۔

یہ اس عظیم مسئلے کے متعلق ہماری تحریر ہے جس میں آج بے شمار لوگ مبتلا ہیں۔ اور ہم اللہ سے ہی دعاگو ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہدایت کا سامان پیدا رما دے۔۔۔ہمیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان لوگوں کے راستہ پر جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام فرمایا یعنی انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ اور یہ بہتر ساتھی ہیں۔

والحمدلله رب العالمين وصلى الله على نبينا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين
حوالہ

1. (ولايصح تزوج المرتدولا المرتدة احد)۔۔۔ الاجماع الصحابۃ رضوان اللہ علیہم اجمعین (مجمع الانہار للحنفیۃ، آخر "باب النکاح االکافر" ج1 ص302