گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو گویا اچانک، ملک بھر میں شرافت، خلوص، دیانتداری، حسنِ اخلاق، ہمدردی اور خدمتِ عوام کا ایک سیلاب امڈ آیا جو روکے نہ رکتا اور تھامے نہ تھمتا تھا۔۔۔گلیوں، بازاروں، چوراہوں میں لہریں لیتا ہوا جب یہ سیلاب مکانوں، کوٹھیوں اور رہائش گاہوں کے دروازوں پر بھی رات گئے تک دستک دیتا سنائی دیتا تو ان رہائش گاہوں کے مکین جہاں نیندیں حرام ہونے پر شکوہ کناں ہوتے، وہاں یہ سوچے بغیر بھی نہ رہ سکتے کہ شاید اب سرزمین پاکستان سے شر و فساد، منافقت و ریا کاری، بددیانتی و بداخلاقی، خود غرضی و بے رحمی اور ظلم و بربریت نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے۔۔۔لیکن 30 نومبر کی صبح کو شرافت کے یہی پتلے، خلوص و وفا کے یہ مجسمے، دیانتداری و ہمدردی کے یہ پیکر اور خدمتِ عوام کے یہی ٹھیکیدار مع اپنے اپنے حمایتیوں کے، ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے لے کر گالیوں، گولیوں، بندوقوں، رائفلوں اور کلاشنکوفوں کی زبان میں، اپنے ہی ہم وطنوں کے خون کی سرخی سے ملکی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کر رہے تھے۔۔۔ چنانچہ اخبارات نے لکھا کہ:
"انتخابات کے دوران مختلف مقامات پر لڑائی جھگڑوں میں 19 افراد ہلاک، سینکڑون زخمی ہوئے۔ جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔"
روزنامہ جنگ لاہور نے اپنی یکم دسمبر کی اشاعت میں اس خبر کی تفصیلات بیان کی ہیں جو 117 سطور پر مشتمل ہیں اور جن میں سے ہر سطر انسانیت کا منہ نوچنے اور شرافت کے چہرے پر تھپڑ مارنے کی عکاس ہے۔
روزنامہ جنگ ہی نے ایک دوسری خبر، صفحہ اول ہی پر شائع کی ہے، جس کا جلی عنوان یوں ہے:
"لاہور کے اکثر علاقوں میں جھگڑے، دھاندلیوں کے الزامات اور انتخابی بائیکاٹ۔۔۔ آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج، پولیس پر پتھراؤ، گڑبڑ کی زیادہ شکایات زنانہ پولنگ سٹیشنوں سے ملیں۔"
چنانچہ صرف لاہور شہر سے متعلق اس خبر کی تفصیلات اخبار کے مکمل دو کالموں پر محیط ہیں۔۔۔ ظاہر ہے ملک بھر کے باقی شہروں میں جو حالات پیش آئے وہ اس داستان سے الگ ہیں۔۔۔پھر پاکستان کے زیادہ تر دیہات اور مقامات ایسے ہیں جہاں نہ تو اخبارات پڑھے جاتے ہیں اور نہ ہی وہاں کسی اخبار کا کوئی رپورٹر آج تک رسائی حاصل کر سکا ہے، لیکن انتخابات اگر ملک گیر تھے، تو ان مقامات پر جو لڑائی جھگڑے اور قتل ہوئے ہوں گے، وہ یقینا ان تفصیلات اور مذکورہ تعداد، مقتولین کے علاوہ ہیں۔
تاہم ہمارے صدرِ گرامی مرتبت فرماتے ہیں کہ:
"موجودہ پولنگ ریفرنڈم اور پچھلے انتخابات سے بہتر رہی ہے"
عزت مآب جناب وزیراعظم پاکستان ارشاد فرماتے ہیں:
"انتخابی عمل کی کامیابی سے تکمیل پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔ عوام نے موجودہ حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے"
واجب التکریم جناب وزیر اعلیٰ پنجاب، عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"عوام کے سیاسی شعور اور حب الوطنی کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں"
۔۔۔اظہارِ افسوس فرماتے ہیں:
"گلی محلے کا الیکشن تھا، لڑائی مار کٹائی میں کچھ لوگ زخمی ہوئے اور ایک آدھ جاں بحق بھی ہوا۔"
۔۔اور حقائق بیان فرماتے ہیں:
"انتخابات 83ء سے بھی زیادہ پرُامن ہوئے، دھاندلی ہوئی نہ بے ایمانی، کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔۔۔میں نے کہیں کشیدگی نہیں دیکھی" (روزنامہ جنگ، نوائے وقت یکم دسمبر سئہ 87ء)
اصل حالات و واقعات سے اس قدر باخبر حکمرانوں کے ان مربیانہ اور مشفقانہ، ہمدردانہ بیانات پر حقیقی تبصرہ تو ان کے سیاسی مخالفین کریں گے، بلکہ بعض نے تو کر بھی دیا ہے۔۔۔لیکن ہم اس سارے تماشہ پر قرآن مجید سے صرف ایک عنوان قائم کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالـٔاخِرَ‌ةِ زَيَّنّا لَهُم أَعمـٰلَهُم فَهُم يَعمَهونَ ﴿٤﴾ أُولـٰئِكَ الَّذينَ لَهُم سوءُ العَذابِ وَهُم فِى الـٔاخِرَ‌ةِ هُمُ الأَخسَر‌ونَ ﴿٥﴾... سورةالنمل
"بلاشبہ جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے، ہم نے ان کے اعمال (ان کی نظروں میں) خوشنما کر دکھلائے ہیں، چنانچہ وہ (اندھیروں میں ٹکریں مارتے پھرتے اور) سرگرداں ہیں۔۔۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُرا عذاب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ آخرت میں بھی وہ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممکن ہے، ان بلدیاتی انتخابات کے طفیل حکمرانوں کے چیلوں نے آئندہ چند سال کے لیے مسندِ اقتدار پر مزید دادِ عیش دینے کی راہ ہموار اور سند حاصل کر لی ہو، جیسا کہ مذکورہ بیانات سے ظاہر ہے۔۔۔لیکن عوام کو ان انتخابات نے کیا دیا؟۔۔۔یہی ناکہ کسی ماں کی گود خالی ہوئی تو کسی کا سہاگ لٹا، کسی کو یتیم ہو جانے کی "نوید" ملی تو کسی کو بڑھاپے کا واحد سہارا چھن جانے کی۔۔۔لیکن "کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری" کے مصداق حکمرانوں کی نظروں میں اس بات کی گویا کوئی اہمیت ہی نہیں اور وہ اسے معمول کی بات سمجھے ہوئے ہیں۔۔ ادھر قرآن مجید بیان فرماتا ہے کہ:
﴿مِن أَجلِ ذ‌ٰلِكَ كَتَبنا عَلىٰ بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ‌ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَر‌ضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النّاسَ جَميعًا وَمَن أَحياها فَكَأَنَّما أَحيَا النّاسَ جَميعًا...﴿٣٢﴾... سورةالمائدة
"اسی (جرمِ قتل) کی بناء پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں فساد پھیلانے کی سزا اسے دی جائے، وہ گویا (ایک نفس کا نہیں) بلکہ جملہ انسانیت کا قاتل ٹھہرا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا وہ پوری دنیائے انسانیت کی زندگانی کا موجب ٹھہرا۔۔"
کیا حکمرانوں کو یہ احساس ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے اور ان کے دورِ حکومت میں جس قدر قتل ہوئے اور خون ناحق بہا ہے، اس کے ایک ایک قطرہ کا وبال ان کی گردن پر ہے۔۔۔جبکہ قرآن مجید نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ:
﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورةالنساء
"جو شخص کسی ایک مومن کو قصدا مار ڈالے گا تو اس کی سزا ابدی جہنم ہے، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو گی اور ایسے شخص کے لیے اس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے"
لیکن یہاں ایک نہیں، انتہائی محتاط، محدود، بلکہ سنسر شدہ اندازے کے مطابق پورے انیس (19) افراد کی اس جمہوریت کی نیلم پری کی صرف ایک ادا کی بھینٹ چڑھ گئے، لیکن کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔چنانچہ تمام تر دلائل سے قطع نظر صرف چند دن قبل پیش آنے والے آنکھوں دیکھے حالات و واقعات کے حوالہ سے ہم ان عاقبت نااندیش سیاستدانوں اور حکمرانوں کو خلافت اور جمہوریت کا یہ فرق سمجھانا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید جہاں صرف ایک جان کے قتل کو پوری دنیائے انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے، وہاں جمہوریت میں یہ ایک معمول کی بات ہے۔۔۔خلافت جہاں یہ اعلان کرتی ہے کہ "اگر دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوک اور پیاس سے مر گیا تو خلیفہ سے اس بارے میں سوال ہو گا"۔۔۔وہاں جمہوریت میں پورے انیس کلمہ گو انسان بلا وجہ قتل ہو جاتے اور سینکڑوں زخمی ہو جاتے ہیں، لیکن راوی نہ صرف چین ہی چین لکھتا ہے بلکہ حکمران مبارکبادیں بانٹتے ہیں۔۔۔اس کے باوجود وہ "چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر" کی مصداق اس جمہوریت پر صدقے واری ہو رہے ہیں اور اس کی حمایت میں اخبارات میں مضامین لکھتے ہوئے:
"جمہوریت۔۔۔علمائے کرام بلا جواز مخالفت کر رہے ہیں" کے عنوان جماتے ہیں۔۔۔انہیں کون یہ سمجھائے کہ علمائے کرام جمہوریت کی مخالفت بلاجواز نہیں بلکہ حالات و شواہد کی روشنی میں اور کتاب و سنت کے ٹھوس دلائل سے کرتے ہیں۔۔۔تاہم یہ جمہوریوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر اب اکثر "علمائے کرام" بھی اس لعنت کو رحمت قرار دینے لگے اور اس کے ساتھ "اسلامی" کا دم چھلا لگا کر اسے مشرف بہ اسلام کرنے کی سعی لا حاصل میں مصرو نظر آنے لگے ہیں۔۔۔ورنہ ان سے کوئی پوچھے تو سہی کہ اس پورے تماشہ میں سے انہیں "اسلامی" کون سی چیز نظر آئی؟ ۔۔۔کیا یہ جھوٹے وعدے؟ جو اب عہد شکنی کے لیے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔۔۔کیا یہ شرافت؟ جس نے چند ہی دنوں بعد چولا بدل لیا اور شیطان چوراہوں میں ننگا ناچنے لگا؟۔۔۔کیا یہ منافقت، دھوکا، جھوٹ اور ریاکاری؟کہ جس نے سچ بولنے والوں کو بھی ہر ایک سے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ووٹ آپ ہی کو دیں گے، جبکہ امیدوار درجنوں تھے اور ووٹ صرف ایک۔۔۔آخر وہ کس کس سے جان چھڑائے، کس کس کی دشمنی مول لے اور کس کس کے انتقام کا نشانہ بنے؟ ۔۔۔کیا یہ قتل، بدمعاشی، خوں ریزی یا گندی گالیاں؟ جو اسلام کی نظر میں ایک سے ایک بڑھ کر جرم ہیں۔۔۔کیا یہ پرچی؟ کہ جو یا تو ضائع ہو گئی اور یا غریبوں پر مزید ستم توڑنے، ان کے حقوق غصب کرنے، اور انہیں بلاجواز انتقام کا نشانہ بنانے کا باعث بنی اورجس کی خبریں اخبارات میں انتخابات کے بعد کے بعد سے لے کر اب تک مسلسل آ رہی ہیں۔۔۔اور کیا ہار جیت کی یہ دوڑ؟ کہ جس نے پورے ملک کے باسیوں کو سانسیں روک لینے پر مجبور، یا اضطراب و اضطرار سے دو چار کر دیا تھا اور جس نے اسلام کے اس تصور کامرانی اور ناکامی سے انہیں کہیں دور، بہت ہی دور لا پھینکا کہ:
﴿فَمَن زُحزِحَ عَنِ النّارِ‌ وَأُدخِلَ الجَنَّةَ فَقَد فازَ وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا مَتـٰعُ الغُر‌ورِ‌ ﴿١٨٥﴾... سورة آل عمران
یعنی جو جہنم سے بچ کر (رب کی) جنتوں میں داخل ہو گیا، وہی کامیاب و کامران ٹھہرا، اور باقی سب خسران و ہلاکت سے دوچار ہوئے۔
چنانچہ پوری قوم نے ہار جیت کا دن 30 نومبر سئہ 1087ء کو سمجھ لیا، حالانکہ قرآن مجید بیان فرماتا ہے کہ:
﴿يَومَ يَجمَعُكُم لِيَومِ الجَمعِ ذٰلِكَ يَومُ التَّغابُنِ... ﴿٩﴾...  سورةالتغابن
ہار جیت کا اصل دن تو وہ ہے جس دن اللہ رب العزت تمہیں اپنے سامنے لا کھڑا کریں گے اور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہونے کے بعد تم پر یا تو جہنم میں داخلہ کی فرد ضرم عائد ہو گی اور یا جنت میں داخلہ کا ٹکٹ تمہیں ملے گا۔۔۔لیکن اس تباہی و بربادی یا کامیابی اور کامرانی کا تمہیں ہوش ہی نہیں ہے۔۔۔پھر کیا یہی اسلام ہے؟۔۔۔یہی "اسلامی جمہوریت" ہے کہ جس میں سے "اسلامی" نام کی کوئی ایک چیز بھی کشید نہ کی جا سکی؟ ۔۔۔ان علمائے کرام، سیاستدانوں اور حکمرانوں سے ہماری یہ گزارش ہے کہ اس نظام حکومت پر لعنت بھیجیں جو ان کے ہم جنسوں، ہم وطنوں اور ہم مذہبوں پر صرف نالیاں، گلیاں تعمیر کرنے کے جھوٹے وعدوں پر تباہی و بربادی کے مہیب سائے پھیلا دیتا اور موت کے پردے تان دیتا ہے، لیکن سمندر پار کے ایک کافر ملک سے آشیر باد کا آوازہ یوں گونجتا ہے کہ:
"حکومت پاکستان نے انتخابات کے ذریعے راست سمت میں قدم اٹھا دئیے ہیں" (پاکستان میں متعین امریکی سفیر کا بیان۔ ملخصا)
اور اس اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں کہ جس کا نام اسلام اور جس کا ترجمہ بھی سلامتی ہے۔۔۔نہ صرف اس دنیا کے جملہ شعبہ ہائے حیات میں، بلکہ یوم آخرت کی سلامتی کا راز بھی صرف اور صرف اس میں مضمر ہے۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّـهِ الإِسلـٰمُ...١٩﴾... سورةآل عمران
اور:
﴿وَمَن يَبتَغِ غَيرَ‌ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الـٔاخِرَ‌ةِ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٨٥﴾... سورةآل عمران
واخر دعونا ان الحمدلله رب العالمين!