معاشرے کی خدا جانے کیسے ہو تشکیل
بپا ہے چارون طرف خوب صورِ اسرافیل
ہر ایک دست و گریباں ہے آج آپس میں
نہیں ہے پاس کسی کے بھی حیف کوئی دلیل
امید و بیم سے دو چار اہل دانش ہیں
کہ اتفاق و محبت کی ہو کوئی تو سبیل
خدا نے کیسی فضیلت بشر کو بخشی ہے
بنایا ایک کو محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) دوسرے کو خلیل (علیہ السلام)
کچھ صاحب علم الکلام گزرے ہیں
جو کرتے تھے قرآن کی غلط تاویل
تمام فاسد و مبتدع دلائل کو
بزعمِ خویش سمجھتے تھے دین کی تکمیل
خدا کی حکمتوں کو گروہ رکھتے پیشِ نظر
علومِ نافع کی ہوتی کچھ انہیں تحصیل
علوم حق میں وہ ہو جاتے خوب ہی ماہر
نہ کرتے دین کے احکام وہ اگر تبدیل
بگاڑ ڈالا ہے ضلیہ ہی دین فطرت کا
عوام کون سے احکام کی کریں تعمیل
ہوں اکتلاف سبھی ختم قومِ مسلم کے
مری دعا تو یہی ہے ہمیشہ رب جلیل