پچھلے دنوں دولتِ انقلابی اسلامی افغانستان نے، جو کتاب و سنت کی بنیادوں پر قائم ہونے والی ایک عملی حکومت ہے اور جس کا مطمح نظر ملک میں کتاب و سنت کا بول بالا کرنا، نیز اعلائے کلمۃ اللہ ہے، اسی غرض کے تحت محرم الحرام میں تین سو تیرہ (313) افراد پر مشتمل ایک فوجی دستہ نورستان سے ملحق اور بدخشاں کے سرراہ علاقے منجان کی طرف روانہ کیا۔ یہ علاقہ گزشتہ پانچ سال سے روس کے زیر تسلط ہے۔ اس کے شروع میں ایک بستی "تیلی" کہلاتی ہے، جو روس کی سب سے مضبوط کمین گاہ ہے۔ اس میں مقامی روس نواز لوگوں کے علاوہ روسی فوج کی بھی ایک بھاری جمعیت رہتی ہے۔ جس کے لیے اشیاء خوردنی اور جنگی وسائل براہِ راست روس سے طیارے کے ذریعے پیک ہو کے آتے ہیں۔ اس علاقے میں دیگر سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ساتھ سب سے مشکل مسئلہ مجاہدین کے لیے ان بموں کا ہے جو سطح زمین کے نیچے دبا دئیے جاتے ہیں اور اچانک پھٹ کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ اس علاقے کے خلاف کئی دیگر احزاب نے کاروائی کی لیکن ناکام واپس آئے۔۔۔چونکہ نورستان کی اسلامی حکومت روزِ اول سے یہ تہیہ کر چکی ہے کہ ہمیں اپنی خاک پاک سے دشمنانِ اسلام کو مٹانا اور انہیں چشم کائنات کے سامنے ذلیل و خوار کر کے واپس جانے پر مجبور کرنا ہے لہذا اس کا عملی مظاہرہ دولت انقلابی کئی بار کر چکی ہے۔ اس سال بھی کتاب و سنت کے پرچم تلے ندائے تکبیر بلند کرتے ہوئے ایک فوجی دستہ روانہ ہوا جس نے روسی آماجگاہ پر شدید حملہ کیا۔ لڑائی شدت کے اعتبار سے بے مثال تھی۔ جس میں متعدد مجاہدین شہید ہوئے اور کئی جوان زخمی ہوئے۔ ان شہداء میں ایک سترہ سالہ نوجوان قابل ذکر ہے جس نے اپنی کم عمری کے باوجود تھوڑی ہی مدت میں وہ کارنامے انجام دئیے ہیں، جو کسی بڑے عالم سے مدتِ دراز بھی ناممکن تھے۔ موصوف دس (10) سال کی عمر میں تحصیل علم کی خاطر پاکستان آیا اور مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ جدید عصری علوم سے بھی بہت کم مدت میں واقفیت حاصل کی۔ پندرہ (15) سال کی عمر میں وطن واپس جا کر اس نے نوجوانوں کی ایک تنظیم "خدام الدین" کے نام سے تشکیل دی، جس کا مشن فوجی تربیت کے علاوہ راہ گیر مسافروں کی جان و مال کی حفاظت اور ڈاکہ زنی، بدامنی کا خاتمہ تھا۔ یہ تحریک بڑی کامیاب رہی اور موصوف اس کا سیکٹری جنرل تقرر پایا۔ اسی دوران وہ اپنے گاؤں کے تجارتی کاروبار کا بھی سر پرست و نگران رہا۔ بے شمار صلاحیتوں کے حامل اس نوجوان کی ایک بڑی نمایاں خوبی، جو وقت کی پکار بھی ہے، جذبہ جہاد تھا۔ وہ مختلف زبانوں میں جہاد کے بارے میں اشعار بناتا تھا۔ اس کے عربی اشعار میں سے درج ذیل ایک مصرعہ راقم کو یاد ہے:

(نحن بنو المجاهدين نجاهد للدين والاسلام)

موصوف اپنی مادری زبان کے علاوہ فارسی، پشتو، عربی فرفر اور اُردو بھی بول لیتا تھا۔ شہید ہوتے وقت اس کے منہ پر ابھی ڈاڑھی اور مونچھ کا کوئی ایک بال بھی نہیں تھا۔ درحقیقت یہ اس ہستی کا لگایا ہوا ایک پودا تھا، جو آج سے پانچ سال قبل اسی علاقے میں (30 کلومیٹر کے فاصلے پر) میدان کارزار میں شہید ہو کر دفن ہوئی۔ یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے نوجوانوں میں بیداری اور نونہالوں کے لیے تعلیمی ماحول پیدا کیا۔ تاریخ کے حوالے سے افغانستان میں جہاد کا آغاز اسی نے کیا تھا۔ اس ہستی کا نام شاہ عبدالحئی شہید ہے جو پاکستان آ کر تعلیمی زیور سے آراستہ ہوئے اور اس کے بعد وطن واپس جا کر وقت کی داؤدی حکومت سے آنکھیں چار کیں۔ جس کے نتیجے میں انہیں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور اسی وقت سے انہوں نے بچوں کو فوجی ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا۔ راقم کو یاد ہے کہ ہم ہر ماہ تین تین دن اسکاؤٹس میں گزار کر آتے تھے اور بھاگ دوڑ تو ہمارا صبح و شام کا مشغلہ ہوتا تھا، جب میں ان کے کارنامے یاد کرتا ہوں تو مجھے شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی شخصیت یاد آجاتی ہے۔ جو جہاد کی خاطر سخت سردیوں میں ٹھنڈے دریاؤں میں تیرا کرتے اور ننگے پاؤں تپتی ہوئی گرم ریت پر چلا کرتے تھے۔ اس بارے میں آپ سے جب کبھی سوال ہوتا تو آپ فرماتے کہ "شاید زندگی میں کبھی جہاد کا موقع آ جائے تو یہ پاؤں بے وفائی نہ کریں۔"

بہرکیف سید ابراہیم شہید بھی شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے ایک مسلکی فرزند ہونے کے ناطے سے کتاب و سنت کی بالا دستی اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اپنے اسلاف کی بے مثال روایات اور ان کی عظیم قربانیوں کو اجاگر رکھتے ہوئے راکٹ لانچر کندھے پر رکھ کر دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے کہ گولیوں کی بارش نے آگے جانے کا موقعہ نہ دیا اور وہیں ان کی تمنا پوری ہو گئی، اقبال کے اس شعر کے مصداق کہ

عقابی روح جب پیدا ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

شہادت کی اطلاع ملتے ہی دفتر "ہمدردِ انسانیت" نے ایک تعزیتی اجلاس بلایا، جس میں دولت کے مرکزی راہنما شیخ محمد افضل، نائب صدر مولانا محمد اسحاق اور دیگر اراکینِ شوریٰ کے علاوہ اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مرحومین کی مغفرت کے لیے اور لواحقین کی تسکین قلبی کے لیے دعاء مانگی گئی۔ مولانا محمد افضل نے دولتِ انقلابی کے اس اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہداء منجان کی خدمات کو سراہا اور ان کی اس شہادت کو ملک وملت کے لیے قابل فخر قرار دیا۔ آپ نے خاص طور پر ابراہیم مرحوم کا ذکر کیا اور کہا کہ موصوف کی شہادت سے اگرچہ ہماری آزاد ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، تاہم ہمیں سو فیصد امید ہے کہ ان شاءاللہ اس کی یہ فقیدالمثال قربانی افغانستان کی آزادی کا باعث بنے گی، مولانا محمد اسحاق نائب صدر نے کہا کہ ابراہیم صرف نوجوانوں کا ہی ایک قائد نہیں تھا، بلکہ ہر زندہ دل مجاہد کا ایک ممتاز راہنما اور نورستان کا ایک حریت پسند فرزند تصور کیا جاتا تھا۔ دولت کے مرکزی قائد نے مرحوم کے والدین سے ایک پیغام میں کہا ہے کہ "فرزند ابراہیم کی شہادت سے ہمیں اتنا ہی دکھ ہے جتنا کہ دکھ ایک مشفق ماں باپ کو اپنے ایک باوفا بیٹے کی وفات پر ہونا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ، تاہم شریعت ہمیں بجز صبر و تحمل کے کسی اور عمل کی اجازت نہیں دیتی، لہذا ہمیں اس کی شہادت کو ایک لازوال سرمایہ جان کر صبر و تسلی سے رہنا ہو گا۔ آپ کے اس بیٹے نے صرف دولتِ انقلابی کے لیے ہی نہیں، بلکہ مسلک اہل حدیث کی تاریخ میں ایک وسیع باب کا اضافہ کیا ہے" پھر امیر دولت نے خدام الدین کے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا، مجھے توقع ہے کہ آپ بھی ابراہیم شہید کی طرح ملک و ملت کی فلاح کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے اور موجودہ خلاء کا احساس نہ ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ابراہیم کے نعرے اور اس کے اشعار فضاؤں میں گونج رہے ہیں۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ ان شاءاللہ سالِ آمد کو دولتِ انقلابی اپنی پوری قوت کے ساتھ روس کے اس جارحانہ رویے کے خلاف سنگین اور دندان شکن کاروائی کر کے اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔ سید ابراہیم شاہ ان نوخیز نوجوانوں میں سے ایک تھے جنہوں نے دین ربانی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسے نوجواب قائد صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جیسے باصلاحیت دین کے خدمت گار کثیر تعداد میں پیدا فرمائے۔ (وماذكل على الله بعزيز)۔۔۔ اور لواحقین کو صبر، جمیل کی توفیق عطا فرمائے آمین