میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی حیثیت سے ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و عل اور تقریر (حدیث نبوی) کی اس عقیدے کے ساتھ پابندی کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب قرآن کریم کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ خبر پاکر لوگوں کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔ اور نبوت اللہ تعالیٰ سے خبر پانے ہی کو کہتے ہیں۔ اس پر قرآن کریم سے بعض دلائل ہم محدث اپریل 87ء کے شمارہ میں مہیا کر آئے ہیں، جنہیں ایک نظر دیکھ لینا قارئین کرام کے لیے مفید رہے گا۔

اس کے برعکس اگر یہ باور کر لیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن کریم ہی بذریعہ وحی دیا گیا تھا، اور اس کی تعبیر و تشریح سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء تھیں جن کا وحی الہی سے کوئی تعلق نہ تھا، تو اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ قبل از نبوت کے اقوال و افعال نیز نبوی دور کے فرامین میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ بلکہ بایں طور پر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کے قول و فعل سے بھی کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا، جبکہ اس قسم کا تصور رکھنا مقامِ نبوت سے انکار کے مترادف ہے۔

علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء سمجھ لیا جائے، اور پھر ان کی پابندی بھی لازمی ہو، تو اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام میں اشتراک لازم آئے گا۔ حالانکہ قرآن کریم میں ہے:

(وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا(الكهف:26)

کہ "اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا"

چنانچہ یہ مقام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل نہیں۔ لہذا ضرور ہے کہ دین کے بارہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال وحی الہی ہوں۔" ( وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى () إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى(سورة النجم 3تا4))" ۔۔۔کہ اسی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو گی: "(عربی مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ(سورة النساء:80)" ۔۔۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت کا تقاضا ہے، اور اسی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کسی امتی کے اقوال و اعال سے ممتاز قرار پائیں گے۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ایک ایسی سیدھی اور آسان سی بات ہے، جس میں کوئی الجھن نہیں، اور نہ ہی اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ لیکن مستشرق پرویز اپنی ساری زندگی اسے سمجھنے سے قاصر رہے، اور مہد سے لے کر لحد تک حدیث نبوی کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر، مسلمان اہل علم نے جب بھی انہیں، ان کے دعوائے انکار حدیث پر نظر ثانی کی طرف توجہ دلائی، تو جھوٹ سے اپنے اصرار کو سندِ جواز فراہم کرنے کے لیے انہوں نے کہا کہ:

"میرے نزدیک دین میں سند اور حجت خدا کی کتاب (قرآن کریم) ہے، اور احادیث کو پرکھنے کا معیار یہ کہ جو حدیث قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف نہیں جاتی، اسے حضور کا ارشاد تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اور جو حدیث اس کے خلاف جاتی ہو، اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ رسول اللہ کا قول نہیں ہو سکتی" (ختم نبوت از پرویز ص 26)

یہ تھا حدیث کے متعلق ان کا دعویٰ، جسے آج تک ان کے مقلدین بڑی شد و مد سے دہراتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔ یہ دعویٰ چونکہ بہت سے لوگوں کی غلط فہمی کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے اب ہم مسٹر پرویز کے اس دعوے کا علمی جائزہ لیں گے اور سرِ دست تین لحاظ سے اس کی تردید کرنے پر اکتفاء کریں گے:

1۔ پرویز صاحب کے پرستاروں سے ہم یہ دریافت کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت معلوم کرنے کے لیے، اس کی قرآنی تعلیمات کے ساتھ مطابقت یا عدم مطابقت کا فیصلہ کرے گا کون؟ کیا اس کا حق کسی بھی صورت میں ایسے لوگوں کو دیا جا سکتا ہے، جو احادیث نبویہ ہی نہیں، قرآن کریم کے بھی کسی حکم سے متعلق فرنگیوں کی گود میں بیٹھ کر فیصلہ دینے کے عادی ہوں۔ اور ایسی احادیث کو بھی خلاف قرآن کہنے کی جسارت کر جاتے ہوں، جو قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہوتی ہیں؟۔۔۔ابھی پچھلے ہی دنوں "طلوعِ اسلام" نے خطبہ حجۃ الوداع کی روایات کو قرآنی تعلیمات کے خلاف سمجھ کر ان کا مذاق اُڑایا تھا۔ حالانکہ اس خطبہ کا ایک ایک جملہ قرآنی تعلیمات کا منہ بولتا ثبوت ہے، اور جس کا ثبوت ہم محدث کے گزشتہ شماروں میں مہیا کر آئے ہیں۔ لیکن "طلوعِ اسلام" کی طرف سے آج تک اس کا جواب "موت نما خاموشی" کے سوا کچھ نہیں ہے۔

2۔ اندھی عقیدت سے بالاتر ہو کر پرویزی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ مسٹر پرویز، صحت حدیث کے لیے قرآنی مطابقت کے اپنے ہی وجع کردہ اصول کو صحیح استعمال کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔اس لیے کہ جن احادیث یا روایات کو انہوں نے قرآنی تعلیمات کے خلاف بتایا، اولا توْ وہ ایسی ضعیف احادیث تھیں کہ محدثیث مدتوں قبل انہیں ضعیف قرار دے چکے ہیں، لیکن اپنی جہالت سے مسٹر پرویز انہیں صحیح سمجھ کر ان پر تنقید کرنے بیٹھ گئے۔۔۔مثلا مسٹر پرویز نے ترمذی کی ایک روایات نقل کی ہے، جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک 71 یا 72 یا 73 سال کی راہ ہے۔ اورسات آسمان ہیں، جن میں سے ہر ایک سے دوسرے کا فاصلہ اسی قدر ہے، ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے، جس کی گہرائی بھی اتنی ہی ہے، اس کے اوپر سات پہاڑی بکرے ہیں، جن کے کھروں سے گھٹنوں تک اسی قدر فاصلہ ہے۔ ان بکروں کی پشت پر عرش ہے، جس کی موٹائی اسی قدر ہے۔" (قرآنی فیصلے از پرویز: 4/ 317)

محدثین کرام اس روایت کو بہت پہلے ضعیف کہہ چکے ہیں، اور آج تک علماء کرام اس پر ضعف کا حکم لگا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسٹر پرویز اسے اہل سنت کے ہاں صحیح سمجھتے ہوئے، اس پر قرآنی مخالفت کا حکم لگانے لگے، اور اس روایت کے متعلق اپنی پریشانی کا یوں اظہار کیا کہ:

"آپ سوچئے کہ جب اس روایت کو کالج کے کسی طالب علم کے سامنے پیش کیا جائے، اور پیش کیا جائے یہ کہہ کر کہ حضور نبی اکرم نے ایسا فرمایا ہے، تو اس کا رد عمل کیا ہو گا؟" (قرآنی فیصلہ : 4/ 317)

کالج کے طلباء اور طالبات کے رد عمل کی فکر تو تب کی جائے جب یہ روایت اہل اسلام کے ہاں صحیح شمار ہوتی ہو، مگر جبکہ محدثین کرام اسے ضعیف کہہ رہے ہیں، تو مسٹر پرویز کا ایک ضعیف روایت کی آڑ لے کر مسلمانوں کی نوجوان نسل کو، حدیث نبوی سے برگشتہ کرنے کی یہ مذموم کوشش آخر قرآن کی کس آیت کے حکم کی تعمیل ہے؟ کوئی بھی انصا پسند شخص ایسے گمراہ کن مشغلے کو درست قرار نہیں دے سکتا۔ ہاں اگر یہ روایت درست ہوتی، تب تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن جب محدثین کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت ہی کو غلط قرار دے چکے ہیں، تو مسٹر پرویز نے اس کی آڑ میں نوجوان طبقے کو حدیث نبوی کے خلاف ابھارنے کی یہ ناپاک جسارت کیوں کی؟

۔۔۔ثانیا اگر وہ حدیث، جسے مسٹر پرویز خلاف قرآن جان کر نقل کرتے، محدثین کرام کے ہاں صحیح ہوتی تو پرویز صاحب کے سر پر مصیبت یہ سوار تھی کہ وہ اس کی صحیح مراد سمجھنے سے عاجز تھے، اور عقل پرستی میں انہماک کی وجہ سے وہ اس صحیھ حدیث کو ایسے معانی کا لبادہ پہنا جاتے جو کسی مسلمان کے وہم و خیال میں بھی کبھی نہ آئے ہوں۔ مثال کے طور پر بخاری شریف کی یہ حدیث:

(عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أيها الناس، إنكم محشورون إلى الله حفاة عراة غرلا»، ثم قال: {كما بدأنا أول خلق نعيده، وعدا علينا إنا كنا فاعلين} [الأنبياء: 104] إلى آخر الآية، ثم قال: " ألا وإن أول الخلائق يكسى يوم القيامة إبراهيم، ألا وإنه يجاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: يا رب أصيحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، فأقول كما قال العبد الصالح: {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم، فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم (صحيح البخاري:4625)

اہل اسلام کے ہاں اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ:

قیامت کے دن لوگوں کا حشر، برہنہ جسم اور بے ختنہ حالت ہو گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ہم تمہیں ویسی ہی حالت میں حاضر کر لیں گے جس حالت میں تمہاری پیدائش ہوئی تھی۔ یہ ہمارا تم سے وعدہ ہے جسے ہم کر کے رہیں گے"۔۔۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ جہنم کی طرف روانہ کئے جائیں گے، میں درخواست کروں گا کہ "اے اللہ! یہ تو میرے ساتھی (اُمتی) ہیں۔" جواب ملے گا۔ "آپ کو معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کیسی کیسی بدعات ایجاد کر لی تھیں' تو میں صالح بندے عیسی علیہ السلام کا سا جواب دوں گا کہ:

(مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ( سورة المائد:117))

"یعنی جب تک میں ان میں موجود رہا، ان کے حال پر گواہ رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے فوت کر لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔"

ظاہر ہے کہ اس حدیث سے اُمت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام)کے وہ اہل بدعت مراد ہیں، جو دین اسلام کو اپنی ہوسناکیوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اس میں نت نئی بدعات ایجاد کر لیا کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی اس وعید میں داخل ہیں کہ پرویز صاحب کے مربی اسلم جیراجپوری نے جن کی یوں نشاندہی کی ہے کہ:

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عہد صحابہ میں منافقین کے ساتھ مرتدین کی بھی جماعت تھی۔" (مقام حدہث ص161)

لہذا اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہرگز ہرگز مراد نہیں ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اس حدیث کو چسپاں کر دینے کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔لیکن مسکین فی العلم مسٹر پرویز کی حالت ملاحظہ ہو کہ وہ بخاری کی اس حدیث کو سمجھنے سے تو خود قاصر ہیں، لیکن اپنی کج فہمی سے الزام مسلمانوں کو دے رہے ہیں کہ ان کے ہاں اس حدیث سے مراد (معاذاللہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور حیرت کی انتہا اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ اپنی کتاب ("سلیم کے نام" ج3 ص256) پر بخاری کی اس حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے قیامت خیز عنوان یعنی "صحابہ کا ارتداد" بڑی بے باکی سے قائم کر دیتے ہیں۔

سوچنے کا مقام ہے کہ جو اہل سنت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فلک اسلام کے درخشندہ ستارے مانتے ہیں اور احادیث نبویہ میں منقول صحابہ رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل برسرِ عام بیان کرتے ہیں، کیا وہ ان ملکوتی ہستیوں کے متعلق ایسے گھٹیا قسم کے الفاظ زبان پر لانے کی جراءت کر سکتے ہیں، جو مسٹر پرویز نے استعمال کر دئیے ہیں؟

الغرض فہم قرآن کی طرح مسٹر پرویز کا فہم حدیث بھی کجروی پر ہی مبنی رہا ہے۔ لہذا جو شخص خود اپنے کسی اصول کو صحیح استعمال نہ کر سکتا ہو۔ اسی اصول کو اگر دوسرے لوگ زیر عمل لا کر صحیح اور ضعیف احادیث کی چھان پھٹک شروع کریں گے تو نتائج کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔

پھر اکثر و بیشتر تو ایسا بھی ہوا ہے کہ مستشرق پرویز واقعہ تو نقل کرتے تاریخ کی کسی کتاب سے، اور اس کے خلاف قرآن ہونے کی وجہ سے برسنا شروع کر دیتے حدیثِ نبوی پر۔۔۔حالانکہ حدیث اور تاریخ کے درمیان جو بُعد المشرقین ہے، اس سے حدیث شریف کا ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہے۔

3۔۔۔مسٹر پرویز کا یہ دعویٰ کہ: "احادیث کو پرکھنے کا معیار قرآن کریم ہے۔ لہذا جو حدیث اس کے مطابق ہو گی، وہ صحیح ہو گی، اور جو اس کی تعلیمات کے خلاف جائے گی اسے رسول اللہ کا قول نہیں سمجھا جائے گا"۔۔یہ بھی ان کا غلط پروپیگنڈہ تھا، جس کی علمی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ: ایسی احادیث جو قرآنی تعلیمات کے مطابق ہیں، اور جنہیں پرویز صاحب صحیح سمجھتے ہیں کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء ہیں؟ جن کا وحی سے کوئی تعلق نہیں؟ اگر یہی بات ہے تو ایسی احادیث کو صحیح تسلیم کر کے ان پر عمل درست نہیں ہو سکتا۔کیونکہ مسٹر پرویز کے نزدیک یہ شرک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین و احکام میں مخلوق کے کسی فرد کو شریک بنا لیا جائے۔ (دیکھئے شعلہ مستور)

اور اگر ایسی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء نہیں ہیں، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی عطا ہوئی ہیں، تو بتایا جائے کہ یہ احادیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنی وحی کے ذریعے عطا کی گئی ہیں یا اس کے علاوہ وحی کی کسی دوسری قسم سے؟ اگر کہا جائے کہ یہ احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآنی وحی۔۔۔جسے وحی متلو بھی کہا جاتا ہے۔ کے ذریعہ سے ملی ہیں، تو وحی کی یہ قسم قرآن کریم کے اندر حرف بحرف موجود ہے۔ لہذا قرآن کے مطابق احادیث کے الفاظ آپ کو قرآن کریم میں دکھانا پڑیں گے، جبکہ یہ ناممکن ہے۔

اور اگر کہا جائے کہ قرآن کے ساتھ مطابقت رکھنے والی احادیث، قرآنی وحی کے علاوہ، وحی کی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہیں،۔۔۔جسے وحی غیر متلو سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔تو مشکل یہ ہے کہ مسٹر پرویز وحی کی اس قسم کے ہی منکر ہیں۔ چنانچہ اس وحی غیر متلو کا انکار ان امور میں سے ہے، جنہیں پرویز صاحب بغلیں بجا بجا کر ذکر کیا کرتے تھے، جیسا کہ معراج انسانیت میں اپنے اس انکار کو نقل کرتے ہوئے وہ یوں گویا ہیں:

"ایک اور عقیدہ بھی اسلام کی سرزمین میں اجنبی پودا ہے، اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ وحی نبوت کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک وحی متلو، اور دوسری وحی غیر متلو۔" (ص454)

مسٹر پرویز یہاں مطلق وحی پر ڈاکٹر اقبال صاحب سے مستعار "اجنبی پودے" کا لفظ بول کر صرف وحی غیر متلو کا ہی نہیں، بلکہ قرآنی وحی کا بھی انکار کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر چونکہ وہ بظاہر قرآن کریم کے سند اور حجت ہونے کے مدعی ہیں، اس لیے ہم ان کے بارہ میں حسنِ ظنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہی سمجھیں گے کہ وہ قرانی وحی کے مخالف نہیں ہیں، صرف وحی غیر متلو کے منکر ہیں۔ تاہم وحی کی صرف اس قسم کا انکار بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ مطابقت رکھنے والی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخر کس ذریعہ سے حاصل ہو گئیں؟ جبکہ ان کے الفاظ وحی قرآنی میں نہیں رکھائے۔

لہذا وحی غیر متلو کو "سرزمینِ اسلام" میں "اجنبی پودا' کہہ کر اس کا انکار کر دینا مسٹر پرویز کے کلیۃ منکر حدیث ہونے کی ٹھوس دلیل ہے۔ بنا بریں صحت حدیث کے لیے قرآنی مطابقت کی شرط لگانا، ان کی طرف سے ایک ایسا حسین فریب ہے، جس کے ذریعے موجودہ تعلیم یافتہ نوجوان طبقے کو حقیقی اسلام سے برگشتہ کرنا مقصود ہے۔ حالانکہ مسلمان نوجوانوں کو یہ بات ابھی طرح معلوم ہے کہ آغاز اسلام سے لے کر آج تک حقیقی اسلام کو مسخ کرنے کے لیے جتنی بھی الحادی تحریکیں اٹھی ہیں، سب نے اسلام اور قرآن کا نام لے کر ہی اُمت مسلمہ کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے۔۔اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔اس لیے نوجوان طبقے سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ وہ اس فریب کا آسانی سے شکار ہو جائے گا۔ اور وحی غیر متلو کے منکر کو، اس کے دعوائے "صحت حدیث کے لیے قرآنی مطابقت" پر اعتماد کرتے ہوئے، عاشق سنت باور کر لے گا۔

ویسے بھی ایسی حدیث کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرنا جو قرآنی تعلیمات کے مطابق ہو، مہمل اور لایعنی دعویٰ ہے، جسے ان لوگوں نے اہل اسلام کے اعتراض سے بچنے کے لیے ایک آڑ کے طور پر وضع کر لیا ہے۔ چنانچہ ان کے اس لفظی گورھ دھندے کو منکریں حدیث کے نباص مولانا محمد اسماعیل السلفی رحمۃ اللہ علیہ کافی عرصہ پہلے بے نقاب کر چکے ہیں، آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"سوچئے کہ اگر ایک حکم قرآن اور سنت میں بصراحت موجود ہو، اور آپ اسے مان لیں، تو آپ نے سنت پر کیا احسان کیا؟ وہ تو قرآن ہے، اس کا انکار کیسے ممکن تھا؟" (حجیت حدیث : ص18 شائع کردہ: اسلامک پبلشنگ ہاؤس، لاہور)

چنانچہ جس حکم پر حدیث مشتمل ہے، اگر وہی حکم قرآن مجید میں بھی موجود ہے، اب اس حکم کو صرف قرآن کریم کی وجہ سے مانا جائے، یا اس کے ساتھ اس کی تعمیل میں حدیث کو بھی ملا لیا جائے۔۔۔جیسا کہ مسٹر پرویز کا دعویٰ ہے۔ دونوں صورتوں میں وہی حکم زیرِ عمل آئے گا، جو کہ قرآن کریم میں ہے۔ جبکہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں صداقت کا راز تو اس وقت کھلے گا، جب کسی ایسے حکم کی تعمیل کی جائے گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تعبیر کے طور پر دیا ہے، اگرچہ وہ قرآن مجید میں بصراحت موجود نہ ہو۔

پھر پرویز صاحب کے مذکورہ دعوے کے اس کھوکھلے پن کی نشان دہی کرنے کی ضرورت بھی اس وقت پیش آئے گی، جبکہ انہیں اپنے اس دعویٰ میں مخلص مان لیا جائے۔ مگر ہم ابھی ثابت کر آئے ہیں کہ ان کا یہ نعرہ محض فریب تھا، جس کے ذریعے سے اہل اسلام کو مغالطے میں رکھنا، ان کا مطمح نظر تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے لٹریچر میں جہاں کہیں بھی صحتِ حدیث کے لیے قرآنی مطابقت کا ڈھونگ رچایا ہے، وہ فریب دہی کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ بلکہ ان کی کتابوں کے بہت سے اقتباسات اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح حدیث نبوی سے جان چھڑانے کی فکر میں ہی رہے۔ مثلا وہ لکھتے ہیں:

'ہمارے نزدیک تو یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے کہ خدا کا کلام، کتاب اللہ (قرآن مجید) سے باہر بھی کہیں ہو سکتا ہے۔" (شاہکار رسالت : ص362)

نیز: "یہ تصور کہ ان (قرآن کے) اصولوں کو سمجھانے کے لیے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو خدا کی طرف سے ان اصولوں کو سمجھنے کا علم حاصل کرے اور انہیں پھر دوسرے انسانوں کو سمجھائے، تو یہ تصور یکسر غیر قرآنی ہے۔" (قرآنی فیصلے: 3/ 260)

پرویزی لٹریچر میں اس قسم کی بے شمار ایسی عبارتیں ملتی ہیں۔ جو مسٹر پرویز کے کلیۃ انکارِ حدیث پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ تعبیر قرآن میں، صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے، اور اپنی ذہنی اپج سے تعبیر قرآن کے نام پر، اس کی معنوی تحریف کر رہے ہیں۔ بلکہ ہر نتھو، خیرے کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ از خود قرآن کریم سے اپنی تحقیقی مشق کا آغاز کرے اور حدیث نبوی سے خالی الذہن ہو کر اس میں تدبر کرے۔ تاکہ اس طرح ہر شخص مختلف مقامات سے آیاتِ قرآنی کے تراشے جمع کر کے اپنی ہوس پرستی کے لیے قرآن کریم سے سندِ جواز فراہم کر سکے، اور بایں طور قرآن مجید لوگوں کے ہاتھوں میں بازیچہ اطفال بن کر رہ جائے۔ دراصل یہ سارا فساد اور خرابی ان لوگوں کے کلیۃ منکرِ حدیث ہونے پر مبنی ہے۔ اس کے باوجود آئے دن کی حرف سے یہ غلط پروپیگنڈہ جاری رہتا ہے کہ:

"جناب پرویز کی درجنوں کتابیں ہیں جن کے اندر احادیث کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ۔۔۔ہمارے لیے حوالے دینا ممکن نہیں۔ ذی مرتبت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر دلی لگاؤ تھا، اس کا بھی مختصر ذکر ہم نے یہاں کر دیا ہے، تاکہ پڑھنے والے حقائق سے آگاہ رہیں۔" (طلوعِ اسلام: مئی 87ء)

وہ احادیث جنہیں مسٹر پرویز۔۔۔بقولِ شما۔۔۔صحیح مانتے تھے، اور انہیں اپنی کتابوں میں درج کرتے تھے، ان کے متعلق ہمارا استفسار وہی ہے جو عنقریب ذکر ہو چکا ہے، (اور جس کے افادے کے پیش نظر اعادے میں کوئی مضائقہ نہیں) کہ ایسی احادیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء تھیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ ملی تھیں؟ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی آراء ہیں، جن کا وحی سے کوئی تعلق نہیں، تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کی رائے کو ماننا پرویز صاحب کے ہاں شرک کے مترادف ہے۔ لہذا کیا وہ ان احادیث کو۔۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صوابدید پر مبنی تھیں۔۔تسلیم کر کے شرک کا ارتکاب کرتے رہے ہیں؟ اور اگر وہ احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ملی ہیں تو بتایا جائے کہ وہ قرآنی وحی کے قبیل سے ہیں یا اس کے علاوہ وحی کی کسی دوسری قسم سے؟ اگر وہ پہلی قسم سے ہیں، تو وحی کی یہ قسم من و عن قرآن کریم کے اندر محفوظ ہے، لہذا ایسی احادیث کے الفاظ کو قرآن مجید میں موجود ہونا چاہئے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

تو لامحالہ ایسی احادیث وحی کی دوسری قسم سے متعلق ہوں گی جسے وحی غیر متلو کہا جاتا ہے، لیکن مسٹر پرویز وحی کی اس قسم کو ہی غلط قرار دے چکے ہیں۔۔۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مسٹر پرویز کلیۃ منکر حدیث تھے، اور ان کی طرف سے قرآنی مطابقت کا دعویٰ یا بعض احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کرنا صرف ان سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے چنگل میں پھانسنے کے لیے تھا جو کہ تعبیر قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو دل و جان سے قبول کرنے کے شیدائی ہیں۔

آخر میں ہم ادارہ طلوعِ اسلام سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ آئندہ پرویز صاحب کو عاشقِ حدیث یا محبِ رسول گردانتے وقت ہماری (ان گزارشات کے جواب کو مدلل طریقے سے زیرِ قلم لانے کا حوصلہ فرمائے، ورنہ اسے شاعر کے اس مشورہ پر مزید سختی سے ڈٹ جانا چاہئے کہ

(من كان هذا القدر مبلغ علمه)

فليستتر بالصمت والكتمان
حوالہ جات

اس کی دو صورتیں ہیں:

1۔ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اقوال و افعال ابتداء وحی الہی ہونے کا ذکر ہے:

﴿﴾)

کہ "اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب و سنت (دونوں) اتاری ہیں"

2۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اقوال و افعال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد پر مبنی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقریر و وضاحت کی صورت میں، ان کی تائید ہو کر نتیجتا یہ وحی الہی قرار پائیں۔