"حقیقت محمدیہ" اور "نور نبوی" کی تحقیق سے قبل ضروری ہے کہ پہلے اس کر کے پس منظر یعنی تخلیق کائنات کی ابتداء کے متعلق قدیم فلاسفہ کا نظریہ بیان کر دیا جائے، جو مختصرا اس طرح ہے:

بدأ في الخلق هو الهباء (أي الذرات) وإن أول موجود وجد هو العقل الأول وسموه (العقل الفعال) ، وأنه عن هذا العقل الأول نشأ العالم العلوي السماوات والكواكب ثم العالم السفلي. . إلخ.

"پہلی چیز جس سے تخلیقِ کائنات کی ابتداء ہوئی وہ ذرات تھے۔ اور جو پہلی چیز اپنے وجود کے ساتھ موجود تھی وہ عقل تھی (فلاسفہ نے اس کا نام عقل فعال رکھا تھا) پھر اس عقل اول سے پہلے عالم، علوی یعنی آسمان اور کواکب، عالمِ وجود میں آئے اور پھر عالمِ سفلی۔"

قدیم فلاسفہ کے اس نظریہ تخلیق کائنات کو قدرے اختلاف کے ساتھ (یعنی "عقل فعال" کو "نور محمدی" سے بدل کر) یوں تو پہلی صدی ہجری میں ہی اپنایا جا چکا تھا اور اس کی تائید کے لئے عوام میں بے شمار روایات بھی مشہور ہو چکی تھیں، لیکن پہلی بار شیخ اکبر محی الدین ابن عربی (م سئہ 638ھ) نے اپنے مخصوص صوفیانہ فکر کے زیر اثر اس نور محمدی کو "حقیقت محمدیہ" کی اصطلاح سے موسوم کیا۔ ابن عربی کی "حقیقت محمدیہ" اور "نور نبوی" یا "نور محمدی" الگ الگ چیزیں نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے بہت قریب اور ہم معنیٰ ہیں۔ ابتدائے تخلیقِ کائنات کےمتعلق ابن عربی فرماتے ہیں:

(بدء الخلق الهباء وأول موجود فيه الحقيقة المحمدية الرحمانية الموصوفة بالاستواء على العرش الرحماني وهو العرش الإلهي ")

"تخلیق کی ابتداء ذرات سے ہوئی۔ جو پہلی چیز بذات قائم موجود تھی۔ وہ حقیقت محمدیہ رحمانیہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی) اور یہ حقیقت محمدیہ رحمانیہ عرش رحمانی یعنی عرش الہی پر مستوی تھی۔"

اس "حقیقت محمدیہ رحمانیہ" کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ شیخ عبدالرحمن بن عبدالخالق حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"صوفیاء نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمام کائنات میں اول مخلوق قرار دے کر انہیں عرش پر مستوی کر دیا۔ (ان کے نزدیک) "نور نبوی" (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اللہ (تعالیٰ) نے تمام کائنات یعنی آسمان و زمین، ملائکہ، انسان و جن اور دوسری تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔ یہی "حقیقت محمدیہ" ہے۔ صوفیاء کے نزدیک یہ ذات الہی (جس کی اپنی ذات نظر نہیں آتی) کی کامل متجسد صورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وجود ذات الہی سے منفصل نہیں ہے۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ابن عربی اور مشائخ تصوف کے نزدیک، اللہ کے عرش پر متجلی ہونے کے بعد آئے۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مصغر صورت ہیں۔الخ"

اسی فکر کے زیر اثر کسی شاعر نے کہا ہے

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر

اتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر

اور شاید اسی باعث شاہ عبدالحق محدث دہلوی (م سئہ 1052ھ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم میں برابر کا شریک ٹھہرایا ہے، فرماتے ہیں:

"( وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)" (وہی ہر شئے کا جاننے والا ہے) کا ارشاد بلاشبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے کیونکہ (وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ) (ہر صاحب علم کے اوپر اور زیادہ جاننے والا) کی صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں موجود ہیں۔۔۔(عليه من الصلوت افضلها ومن التحيات اتمها واكملها)

احمد رضا خاں بریلوی کے صاجزادہ حامد رضا خاں نے صفت علم سے بڑھ کر اول و آخر اور ظاہر و باطن کی صفات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دی ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

ہوالاول ہوالآخر ہوالظاہر ہوالباطن

بکل شئی علیم، لوح محفوظِ خدا تم ہو

نہ ہو سکتے ہیں دو اول نہ ہو سکتے ہیں دو آخر

تم اول اور آخر ابتداء تم انتہاء تم ہو

خدا کہتے نہیں بنتی، جدا کہتے نہیں بنتی

خدا پر ہی یہ چھوڑ ہے وہی جانے کہ کیا تم ہو

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (م سئہ 1176) کے والد بزرگوار شاہ عبدالرحیم رحمہ اللہ (م سئہ 1131ھ) نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں صفات الہیہ کو بچشم خود ملاحظہ فرمایا اور شہادت دی ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کے متعلق شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"میفر مودند یکباری حضرت پیغامبر را صلی اللہ علیہ وسلم در واقعہ دیدم چوں کمال ظہور صفات الہیہ درآں مظہراتم مشاہدہ کردم بسجدہ افتادم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انگشت بدندان گرفتند و بایں صورت منع مودند ۔ الخ"

"فرمایا ایک مرتبہ حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بچشم حقیقت دیکھا، جب اس مظہر اتم میں صفات الہیہ کا کمال ظہور مشاہدہ کیا تو سجدے میں گر گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار تعجب کے طور پر انگلی منہ میں دبا لی اور اس شکل سے منع فرمایا۔"

ڈاکٹر عبیداللہ راہی (شعبہ عربی لکھنؤ یونیورسٹی) بیان کرتے ہیں کہ:

"ابن عربی جسے حقیقت محمدی یا روح محمدی کہتے ہیں، وہی ان کے نزدیک روحانی زندگی کی اصل ہے۔ اور وہی سرچشمہ علم و معرفت ہے جہاں سے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اپنے علوم اخذ کرتے ہیں۔ اور یہی وہ روح ہے جو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کی صورت میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ظاہر ہوتی رہی ہے۔" الخ

ابن عربی کی اس فکر کو ایک عربی شاعر "بوصیری" نے اس طرح نظم کیا ہے

(وإن من جودك الدنيا وضرتها ** ومن علومك علم اللوح والقلم)

وكل آي أتى الرسل الكرام بها ** فإنما اتصلت من نوره بهم

يااكرم الخلق مالى من الوذبه سواك عند حدوث العمم

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی مشہور تصنیف "الفصوص الحکم" کے شارح علامہ قاشانی اس "حقیقت محمدیہ" کے متعلق فرماتے ہیں:

"بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اول التعینات تھے جن کو ذاتِ احد (اللہ تعالیٰ) نے تمام تعینات سے قبل وجود بخشا۔ پھر ان صلی اللہ علیہ وسلم سے لامحدو تعینات کا ظہور ہوا۔ پس وہ صلی اللہ علیہ وسلم جملہ تعینات میں شامل ہیں۔ وہ وجود میں فرد واحد تھے، ان کی کوئی مثال نہیں، کوئی ایسا نہیں ہے جو مرتبہ میں ان کی ذات کی برابری کر سکے اور نہ ہی کوئی ان صلی اللہ علیہ وسلم سے برتر ہے سوائے اس مطلق ذاتِ احد (یعنی اللہ تعالیٰ) کے۔ الخ"

ایک مشہور صوفی احمد بن مبارک السلجماسی نے اپنے پیرو مرشد شیخ عبدالعزیز الدباغ سے کائنات کی تخلیق کے تمام ابتدائی مراحل نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیے ہیں، فرماتے ہیں:

"سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جو شئے پیدا کی وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور تھا، پھر اس قلم، حجب سبعین اور اس پر مامور ملائکہ پیدا کئے، پھر لوحِ محفوظ کو پیدا کیا، پھر عرش و ارواح اور جنت و برزخ پیدا کیے۔ عرش کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا اور اس نور کو نورِ مکرم نبینا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا کیا تھا۔ الخ"

علامہ شیخ عبدالرحمن عبدالخالق حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

"یہ مکمل ہذیان، کامل خرافات اور صوفیہ کے باطل عقائد کی شرح ہے جسے وہ لوگ حقیقت محمدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ الخ"

"حقیقت محمدیہ" یا "نور محمدی" کے اس مختصر تعارف کے بعد اب وہ روایات پیش کی جاتی ہیں جو اس کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے وضع کی گئی تھیں۔ اور ان میں سے آج بیشتر مشہور روایات اکثر کتب سیرت میں نظر آتی ہیں، یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کی خوشی میں منعقد کی جانے والی محافل میلاد میں بیان کی جاتی ہیں۔ مقامِ حیرت تو یہ ہے کہ "نور محمدی" کی اولیت اور تمام مخلوقات کی تخلیق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سبقت ثابت کرنے کے لئے ہمارے سیرت نگار، علماء، خطیب اور واعظین حضرات جو روایات پیش کرتے ہیں انہیں اس قدر وثوق و اعتماد کے ساتھ بیان کرتے ہیں گویا کہ وہ امور ثابتہ ہوں۔ ان میں سے ایک مشہور روایت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوح و قلم، جنت و جہنم، آسمان و زمین، سورج و چاند، عرش و کرسی، جن و ملائکہ غرض تمام اشیائے کائنات کی تخلیق سے قبل اپنے نور سے "نور محمدی" کو پیدا کیا جو ایک عرصہ تک ادھر ادھر گھومتا رہا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس "نور محمدی" کو چار حصوں میں تقسیم کیا۔ نور کے اس پہلے حصہ سے قلم، دوسرے حصہ سے لوح، تیسرے حصہ سے عرش کو پیدا فرمایا اور چوتھے حصہ کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا جس کے پہلے حصہ سے حملۃ العرش، دوسرے حصہ سے کرسی، تیسرے حسہ سے ملائکہ پیدا کئے اور آخری حصہ کو پھر چار حصوں میں تقسیم کیا۔ اس کے پہلے حصہ سے تمام آسمان، دوسرے حصہ سے زمینیں، تیسرے حسہ سے جنت و جہنم پیدا فرمائے، چوتھا حصہ پھر چار حصوں میں تقسیم ہوا۔ اس کے پہلے حسہ سے نور البصار المومنین، دوسرے حسہ سے نور قلوب المومنین یعنی معرفت باللہ، تیسرے حصہ سے نور السنہتم یعنی توحید۔۔۔(عربی لا إله إلا الله، محمد رسول الله)۔۔۔کو پیدا فرمایا، (نہ معلوم چوتھے حصے کا کیا بنا؟)

باقی تمام روایات اور ان کا علمی جائزہ، ان شاءاللہ آگے پیش کیا جائے گا، فی الحال ذیل میں اس حدیث کا اصل متن پیش خدمت ہے، جس کا خلاصہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکا ہے، چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

(قال: يا جابر، إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى، ولم يكن فى ذلك الوقت لوح ولا قلم، ولا جنة ولا نار، ولا ملك ولا سماء، ولا أرض ولا شمس ولا قمر، ولا جنى ولا أنسى، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم، ومن الثانى اللوح، ومن الثالث العرش. ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول حملة العرش، ومن الثانى الكرسى، ومن الثالث باقى الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول السماوات، ومن الثانى الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين، ومن الثانى نور قلوبهم- وهى المعرفة بالله- ومن الثالث نور أنسهم، وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الل)

اس حدیث کو عبدالرزاق بن الہمام رحمہ اللہ (م سئہ 211ھ) نے اپنی "مصنف" میں روایت کیا ہے اور ان سے علامہ احمد قسطلانی رحمہ اللہ مصری صاحب ارشاد الساری شرح صحیح البخاری رحمہ اللہ (م سئہ 923ھ) نے "المواہب اللدنیہ" میں اور علامہ محمد بن عبدالباقی الزرقانی المالکی رحمہ اللہ (م سئہ 1122 ھ) نے "شرح المواہب اللدنیہ" میں نقل کیا ہے۔ مولانا عبدالحی بن محمد عبدالحلیم لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (م سئہ 1304ھ) نے "الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ" میں مختصرا اور علامہ اسمعیل بن محمد العجلونی الجراحی (م سئہ 1162ھ) نے "کشف الحاء و مزیل الالباس عما اشتہر من الاحادیث علی السنۃ الناس" میں تفصیل کے ساتھ اس روایت کو "المواہب اللدنیہ" کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی اس کی سند درج نہیں کی ہے۔ مکمل مصنف عبدالرزاق گو طبع ہو چکی ہے لیکن کم یاب ہے۔ راقم نے المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کی وزارۃ المعارف کے زیر نظم چلنے والے دو مشہور ، قدیم اور وسیع الذخائر کتب خانوں (مکتبہ العامۃ بالخبر والدمام) میں مصنف عبدالرزاق تلاش کرنا چاہی مگر افسوس کہ دستیاب نہ ہو سکی۔ لہذا فنِ رجال کی کسوٹی پر اس روایت کو پرکھا نہ جا سکا۔۔ (ع فَقَالَ عَطَاءٌ: لَقِيتُ الوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ القَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الأَيوم القيمة" وَفِي الحَدِيثِ قِصَّةٌ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

) الخ۔ پھر بھی اس روایت کو درست تسلیم کر لینے میں کئی امور مانع ہیں جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

1۔ احادیث صحیحہ میں، مخلوقات الہی میں سب سے پہلے "قلم تقدیر" کی پیدائش کا بیان صریح طور پر مذکور ہے، چنانچہ حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے:

(عربی)

"جو چیز اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمائی وہ قلم تھا، پھر (اسے) حکم دیا: لکھ، پس وہ جاری ہوا قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں (کی مقادیر لکھنے کے لیے)۔"

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "حسن صحیح غریب" بیان کیا ہے۔

اعمش عن ابی ظبیان عن ابن عباس رضی اللہ عنہ کے طریق سے مروی ہے:

(إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ القَلَمَ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ من ذلك اليوم الى قيام الساعة)

"جو چیز اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمائی وہ قلم تھا۔ پھر اس کو حکم دیا کہ لکھ، اس نے سوال کیا: اے رب کیا لکھوں؟ (اللہ تعالیٰ) نے فرمایا: مقادیر لکھ، پس وہ جاری ہوا اس وقت سے تاقیامِ قیامت ہونے والی تمام چیزوں (کی مقادیر کے متعلق)۔"

اور بطریق احمد ثنا عبداللہ بن مبارک قال ثنا رباح بن زید عن عمر بن حبیب عن القاسم بن ابی بزہ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعا مروی ہے:

(ان اول شئى خلقه الله تعالى القلم وامر ان يكتب كل شئى يكون)

علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ "یہ (قلم) اول مخلوق ہے" کے زیر عنوان ابویعلیٰ کی مذکورہ بالا روایت کے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں:

"اس حدیث میں اُس غلط فہمی کی طرف اشارہ موجود ہے جو اکثر لوگوں کے قلوب میں راسخ عقیدہ اختیار کر چکی ہے کہ نور محمدی ہی وہ پہلی مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا تھا۔ اس حدیث (غلط فہمی والی) کی صحت کے لیے کوئی ٹھوس اساس موجود نہیں ہے اور عبدالرزاق کی حدیث غیر معروف اسناد سے مروی ہے۔ الخ"

2۔ اس حدیث میں دوسرا جو امر مانع ہے وہ اس کی معنوی حیثیت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے "نور محمدی" کو اپنے نور سے پیدا فرمایا، پھر اس سے تمام مخلوقات کی تخلیق ہوئی۔ جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ (نعوذباللہ) لا محدود اجزاء و اجسام میں تقسیم ہو گیا اور تقسیمِ اجزاء و تجسیم مخلوقات کا یہ سلسلہ تا قیام قیامت جاری رہے گا۔

اگر منطقی نقطہ نگاہ سے غور کیا جائے تو بفرضِ محال اگر نور محمدی کی تخلیق کے لیے ذات الہی میں سے نور کا ایک جزء علیحدہ ہوا تو اس سے ایک طرف تو ذات باری تعالیٰ میں نقص لازم آتا ہے، دوسری طرف یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی کوئی ایسی شئے ہے جو اجزاء میں تقسیم ہو سکتی اور جسم اختیار کر سکتی ہے، پس اس سے اللہ تعالیٰ کی تجسیم لازم آئی اور جب جسم ہوا تو اس پر فنا کا اطلاق بھی ہو گا (العیاذباللہ)

3۔ اگر بالفرض محال مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نور سے "نور محمدی" کی تخلیق اور "نور محمدی" سے تمام آسمانوں و زمینوں یا دیگر اشیائے کائنات کی تخلیق ہوئی تو اس طرح آسمان و زمین کی ہر شئے اللہ تعالیٰ کا جزء قرار پائے گی۔ کیونکہ "نور محمدی" کے توسط سے ہر شئے میں الوہیت کا نوری مادہ منتقل ہو جاتا ہے۔پھر دنیا کی کوئی بھی شئے ایسی باقی نہیں رہے گی جس میں الوہیت بذات خود موجود نہ ہو، خواہ اجزاء کی ہی شکل میں کیوں نہ ہو۔ اسی نظریہ سے "ہمہ اوست" کا تخیل پیدا ہوتا ہے، جسے تصوف کی اصطلاح میں "وحدۃ الوجود" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس تخیل کے ماننے والے کسی ایک چیز میں دوسرے سے عدم غیریت اور خالق و مخلوق میں وحدت کے قائل ہیں۔ تمام اشیاء کو اللہ کا عین وجود سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک ان اشیاء اور ذات الہی میں کوئی فرق و غیریت نہیں ہے۔ کائنات میں جو مختلف چیزیں نظر آتی ہیں، انہیں وہ حس و ادراک کا ظاہری پہلو بتاتے ہیں۔ اس فکر کے ائمہ کبار کے چند مشہور اشعار مثال کے طور پر ذیل میں پیش خدمت ہیں

(الرب حو والعبد حق

ياليت شعرى من المكلف

"پروردگار بھی حق ہے اور بندہ بھی حق ہے، کاش میں معلوم کر سکتا کہ ان میں مکلف کون ہے؟"

(ان قلت عبد فذاك ميت

اورقلت رب انى يكلف)

"اگر تم کہو کہ مکلف بندہ ہے تو بندہ تو میت و مردہ ہے، اگر تمہارا کہنا یہ ہے کہ رب مکلف ہے تو وہ کیسے مکلف ہو سکتا ہے؟"

(فياليت شعرى من يكون مكلفا

وماثم الاالله ليس سواه)

"کاش مجھے معلوم ہوتا کہ مکلف کون ہے، درآں حالیکہ یہاں اللہ کے علاوہ کسی کا وجود ہی نہیں ہے"

حافظ شیرازی فرماتے ہیں:

ندیم و مطرب و ساقی ہمہ اوست

خیال آب و گل دررہ بہانہ

درقبلہ و بتخانہ تو مسجودی و معبود

رو سوئے تومی باشد صاحب نظراں را

مولانا جلال الدین رومی (سئہ 672ھ) فرماتے ہیں

اتصالے بے تکیف بے قیاس

ہست رب الناس رابا جان ناس

کسی اردو شاعر کا یہ شعر بھی اسی کر و نظر کی ترجمانی کرتا ہے

خود راز انا االحق کو وہی کھول رہا ہے

منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے

"ہمہ اوست'' کے اس نظریہ کی اور بہت سی مثالیں ان شاءاللہ آگے پیش کی جائیں گی۔

انہی لوگوں میں سے بعض نے اپنے آپ کو "انا الحق" ، "انا ربکم الاعلیٰ' اور "سبحانی ما اعظم شانی" (یعنی میری ذات پاک ہے، میری شان کتنی عظیم ہے) وغیرہ کا دعویدار بتایا ہے۔ یہاں اگر کوئی ان سے سوال کرے کہ جب تمام دنیاوی اشیاء فانی ہیں تو کیا ان کے فنا ہونے کے بعد ان کے اندر موجود الوہیت بھی نا ہو جاتی ہے؟ تو جواب دیا جاتا ہے کہ دنیاوی اشیاء ضرور فنا ہو جاتی ہیں لیکن ان کے اندر موجود الوہیت کا جوہرفنا نہیں ہوتا بلکہ وہ عروج کر کے دوبارہ ذات باری تعالیٰ سے مل جاتا ہے اور اسے بقا حاصل ہو جاتی ہے۔ جوہر الوہیت کے ذات باری تعالیٰ سے مل جانے اور اس میں شامل ہو کر بقا پا جانے کو عموما وصال پانا یا انتقال مکانی کرنا کہا جاتا ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں اسے "وحدۃ الشہود" اور "فنا فی اللہ" بھی کہتے ہیں۔ غالب کے الفاظ ہیں:

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

ظاہر ہے یہ سب خرافات ہیں۔

4۔ چوتھا مانع امر یہ ہے کہ احادیث صحیحہ میں بصراحت مذکور ہے کہ مخلوقات میں سے صرف ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، ابلیس کو نارالسموم سے اور آدم علیہ السلام (وابن آدم) کو (جیسا کہ قرآن کریم میں بیان کیا جا چکا ہے) گارے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے:

(خلقت الملائكة من نور وخلق ابليس من نار السموم وخلق ادم عليه السلام مماقد وصف لكم)

اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملائکہ میں سے نہ تھے۔

محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس مرفوع حدیث میں عوام میں مشہور اس حدیث کا صریح بطلان موجود ہے کہ "(اول ماخلق الله نور نبيك ياجابر)" (یعنی "اے جابر! اللہ تعالیٰ نے جو چیز سب سے پہلے پیدا فرمائی وہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور تھا۔") یا اس مہوم کی دوسری تمام احادیث کا جن میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور سے پیدا کئے گئے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اس امر کی واضح دلیل ہے کہ صرف ملائکہ (فرشتے) نور سے پیدا کئے گئے ہیں نہ کہ حضرت آدم علیہ السلام یا ان کی کوئی اولاد۔"

5۔ پورے ذخیرہ احادیث میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ میں بشر (بنی آدم) نہیں ہوں یا میری پیدائش عام انسانی طریقہ لادت سے ہٹ کر معجزانہ طریق پر ہوئی ہے، بلکہ برخلاف اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات اس امر پر شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاکی، ابن آدم اور بشر ہی ہیں، چنانچہ مروی ہے: "(انا سيد والد ادم)" (میں بنی آدم کا سردار ہوں) "(انا اكرم ولد)" (میں بنی آدم میں سب سے مکرم ہوں) "(انا سيد ولد ادم يوم الحشر)" (میں یوم حشر میں بنی آدم کا سردار ہوں) "(انابشر اذا امرتكم بشئى من دينكم فخذوه واذا امرتكم بشئى من رائي فانما انابشر)" (میں ایک بشر ہوں، اگر میں تمہیں تمہارے دین کی کسی چیز کے بارے میں حکم دوں تو اس کو لے لو اور اگر کسی چیز کے بارے میں اپنی رائے سے حکم دوں تو میں تو بس ایک بشر ہوں) "(انما انا ولد ادم)" (میں تو بس ایک بنی آدم ہوں) اور "(انما انابشر)" (میں تو بس ایک بشر ہوں) وغیرہ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات حدیث کی تقریبا ہر مشہور کتاب مثلا صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند طیالسی، سنن دارمی، مؤطا امام مالک، مسند احمد، مسند بزار، ابویعلیٰ اور طحاویہ وغیرہ کے بے شمار صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ قرآن کریم میں بھی کئی مقامات پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہی بات کہلوائی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ)

"اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیجئے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر (انسان) ہوں (بس فرق یہ ہے کہ) میرے پاس وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔"

اور:

(قل سبحان ربى هل كنت الابشر رسولا)

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے کہ سبحان اللہ میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں (مگر) رسول ہوں، اور کیا ہوں؟"

دور جاہلیت کے کفار و مشرکین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کی طرف سے عائد کیے جانے والے اعتراضات سے مستفاد ہوتا ہے:

(فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا)

"سو ان کی قوم میں جو کافر سردار تھے، کہنے لگے کہ ہم تو تم کو اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں۔"

(قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا )

"انہوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے"

(مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ )

"یہ شخص بجز اس کے کہ تمہاری طرح کا ایک آدمی ہے اور کچھ نہیں ہے۔"

(مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ)

"یہ تو تمہاری طرح ایک آدمی ہے چنانچہ یہ وہی کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتے ہیں جو تم پیتے ہو۔"

(مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا)

"بس تم تو ہماری طرح کے ایک بشر ہو۔"

(قَالُوا مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَمَا أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ مِنْ شَيْءٍ)

"ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح (محض) ایک آدمی ہو اور خدائے رحمٰن نے (تو) کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔"

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کی تردید نہیں فرمائی، جیسا کہ اوپر گزرا۔ ہاں کفار کو مغالطہ یہ لگا تھا کہ ان کے نزدیک بشر رسول نہیں ہو سکتا تھا۔ جبکہ آج یہ کہا جاتا ہے کہ رسول بشر نہیں ہوتا۔۔۔نتیجہ دونوں باتوں کا ایک ہے۔

بشر کے لغوی معنی جسم کثیف جس کی ظاہری سطح کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ انسان کی تخلیق کے بعد یہ لفظ اصطلاحا صرف بنی آدم کے لیے استعمال ہونے لگا۔ تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ کا لفظ بشر ذکر کرنے اور اس کو مٹی سے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ میں (باری تعالیٰ) مٹی کا ایک پتلا بنانے والا ہوں جو بال و پر سے ڈھکی ہوئی نہ ہو گی، اور ظاہر ہے کہ بشر ہونے کی یہ تمام صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر موجود تھیں۔

بعض اور احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابن آدم ہونے کا ثبوت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے فرمائے گئے ارشادات کی صورت میں محفوظ و موجود ہے۔ مثلا:

(قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَخَيْرِهِمْ نَفْسًا». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

)

"میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے خلق کو پیدا کیا تو مجھے ان میں سے بہتر مخلوق میں بنایا، پھر ان کو دو فرقوں میں بنایا تو مجھے ان میں سے بہتر فرقہ میں بنایا، پھر ان قبیلوں میں بنایا تو مجھے ان میں سے بہتر قبیلہ میں بنایا، پھر ان کو گھروں میں بنایا تو مجھے ان میں سے بہتر گھر میں اور (گھر کے نفوس) میں سے بہتر نفس بنایا۔"

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "یہ حدیث حسن ہے۔"

(قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَخَيْرِهِمْ نَفْسًا». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

)

اور:

(قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ، إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ بَنِي كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

)

اور:

(عربی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ»

)

ان تمام شواہد و دلائل کے اختتام پر شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک دقیع فتویٰ بھی پیشِ خدمت ہے:

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی مادہ سے پیدا ہوئے تھے جس سے تمام بشر پیدا ہوئے ہیں، اور کوئی بھی بشر نور سے پیدا نہیں کیا گیا۔ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا، ابلیس کو جلتی ہوئی آگ سے اور آدم علیہ السلام کو جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔" کسی مخلوق کو دوسری مخلوق پر صرف اس اعتبار سے کوئی فضیلت نہیں ہے کہ وہ کس چیز سے پیدا کی گئی ہے۔ مومن سے کافر اور کافر سے مومن پیدا ہوتے ہیں۔ مثلا حضرت نوح علیہ السلام سے ان کا بیٹا اور آزر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ اور بلاشبہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے گارے سے پیدا فرمایا ہے۔"

بعض لوگ یہاں پر یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بظاہر عام انسانوں کی طرح ہی ہوئی تھی لیکن فی الحقیقت اُن کا جسدِ عنصری حق تعالیٰ کے نور سے بنا تھا بلکہ عین حقیقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری جسم مبارک کو محض اس حقیقت الہیہ اور نور حقیقی کا حجاب بتایا جاتا ہے، چنانچہ علامہ شیخ عبدالرحمن عبدالخالق حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

"صوفیاء میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حقیقت محمدی کو عین حقیقت الہیہ سمجھتا ہے۔ ان کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بشری صورت میں حقیقت الہیہ کی مکمل صورت بلکہ اکمل صورت ہیں۔ ان کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشری صورت، رسول ہونے کے لیے تمام ممکن (حجابی) صورتوں میں سے ایک ممکن صورت ہے۔"

مولانا محمد قاسم صاحب (بانی دارالعلوم دیوبند) کے قصائد قاسمی (قصیدہ بہاریہ) سے چند اشعار پیش خدمت ہیں

رہا جمال پہ تیرے حجاب بشریت

نجانا کون ہے کچھ بھی کسی نے جزستار

کہاں وہ رتبہ کہاں عقل نارسا اپنی

کہاں وہ نور خدا اور کہاں یہ دیدہ زار

یہی بات مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے آیت: "( قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ)" کا ترجمہ کرتے ہوئے اس طرح فرمائی ہے:

"تم فرماؤ، ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں۔الخ"

اور امام ربانی شیخ احمد سرہندی المعرو بمجدد الف ثانی رحمہ اللہ (م سئہ 1034ھ) فرماتے ہیں:

"باید دانست کہ خلق محمدی دررنگ خلق سائر افراد انسانی نیست بلکہ بخلق ہیچ فردے از افراد عالم مناسبت کدارد کہ او صلی اللہ علیہ وسلم باوجود نشا عنصری از نور حق جل و علا مخلوق گشتہ است کما قال علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام: خلقت من نور اللہ و دیگراں را ایں دولت میسر نشدہ است۔"

"جاننا چاہئے کہ پیدائش محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تمام افراد و انسان کی پیدائش کی طرح نہیں بلکہ افراد عالم میں سے کسی فرد کی پیدائش کے ساتھ نسبت نہیں رکھتی۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود عنصری پیدائش کے حق تعالیٰ کے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: خلقت من نور اللہ (میں اللہ تعالیٰ کے نور سے پیدا ہوا ہوں) اور دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی۔"

واضح رہے کہ امام ربانی نے اوپر جس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے (یعنی: خلقت من نور اللہ) تو یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ ذخیرہ احادیث میں کہیں موجود نہیں ہے۔ نیز مذکورہ بالا واضح اور روشن دلائل کی موجودگی میں "صورت بشری" یا "جسد عنصری" یا "حجاب بشریت" وغیرہ جیسی رکیک اور لغو تاویلات پیش کرنا دراصل صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی آدم یا بشر اور خاکی ہونے سے انکار ہی نہیں بلکہ در پردہ آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ و صریحہ کا بطلان اور ان کی تحقیر و تنقیص بھی ہے۔ انا للہ۔ الخ، چونکہ یہ مزید تفصیل کا محل نہیں ہے اس لیے اس بحث کو یہیں ختم کیا جاتا ہے۔
حوالہ جات

الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ للشیخ عبدالرحمن عبدالخالق ص110، طبعی مکتبہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کویت

الفتوحات المکیہ لابن عربی ج نمبر1 ص152

الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ ص106-107

خود نوشت مقدمہ "مدارج النبوۃ" مصنفہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی طبع مدینہ پبلشنگ کراچی

حدائق بخشش ج نمبر 2 ص104

"انفاس العارفین" مرتبہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ص42 طبع مجتبائی

"تصوف ۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ "ص182، مصنفہ ڈاکٹر عبیداللہ فراہی طبع ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ سئہ 1987ء

شرح القاشانی علی الفصوص الحکم لابن عربی ص 266-267

کتاب "الابریز" للسلجماسی ص224-225

الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنہ ص110

رواہ عبدالرزاق بن الہمام فی مصنفہ وکذا فی المواہب اللدنیہ للقسطلانی ج نمبر 1 ص46

الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ مصنفہ عبدالحئی لکھنوی ص42 طبع دارالکتب العلمیہ بیروت سئہ 1984ء

کشف الخفاء و مزیل الالباس عما اشتہر من الاحادیث علی السنۃ الناس للعجلونی ج نمبر 1 ص311-312 طبع مؤسسۃ الرسالہ بیروت سئہ 1985ء

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 2 ص205 طبع نشر السنہ ملتان سئہ 1402ھ و سنن ابی داؤد، مع عون المعبود ج نمبر 4 ص362 طبع نشر السنہ ملتان و مسند زید بن علی حدیث نمبر 977 ومسند احمد بن حنبل ج نمبر 5 ص317 طبع المکتب الاسلامی بیروت و مسند طیالسی حدیث نمبر 577

رواہ احمد والترمذی (مع تحفہ الاحوذی ج نمبر 3 ص204 و ج نمبر 4 ص205) وکذا فی فتح الباری لابن حجر ج نمبر 6 ص289،291 طبع دارالمعرفۃ بیروت

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص205

الاسماء والصفات للبیہقی ص271 وکذا فی فتح الباری لابن حجر ج نمبر 6 ص289-290

رواہ ابویعلیٰ ج نمبر 1 ص126

سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ وشئی من فقہہما وفوائد للالبانی ج نمبر 1 ص207-208 طبع المکتب الاسلامی بیروت سئہ 1985ء

فتوحاتِ مکیہ لابن عربی ج نمبر 1 ص272

ایضا ج نمبر 1 ص1

رسائل ابن عربی کتاب الجلالہ ص12

خلق آدم کے مادہ کے متعلق صریح طور پر قرآن مجید میں کہیں "طین" آیا ہے، کہیں "تراب" کہیں "( مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (26))" اور کہیں "( مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ)" آیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ( الحجر:28))

"اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے ملائکہ سے (ارشاد) فرمایا کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے سے بنی ہو گی، پیدا کرنے والا ہوں۔"

(إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ ( سورة ص:71))

"جب کہ آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں گارے سے ایک انسان (یعنی اس پتلے) کو بنانے والا ہوں۔"

(خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ(سورةالرحمن:14)

"انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھاتی مٹی سے بنایا ہے۔"

ان سب میں کچھ تعارض نہیں ہے بلکہ کسی مقام پر مادہ قریبہ بتلایا گیا ہے اور کہیں پر مادہ بعیدہ۔

صحیح مسلم ج نمبر 8 ص266 و کتاب التوحید لابن مندہ ج نمبر 1 ص32 و تاریخ جرجان للسہمی ص62 والاسماء والصفات للبیہقی ص277 و تاریک لابن عساکر ج نمبر 2 ق نمبر 1 ص310 وکذا فی فتح الباری ج نمبر 6 ص306۔

سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج نمبر 1 ص741

طبقات ابن سعد ج نمبر 1 ق نمبر 1 ص30 واخرجہ الحاکم ج نمبر 2 ص604-605 والبخاری فی تاریخہ ج نمبر 4 ق نمبر1 ص400 و احمد ج نمبر 3 ص2 والترمذی ج نمبر 4 ص 140 وابن ماجہ ج نمبر 2 ص581-582 وابن حبان فی صحیحہ حدیث نمبر 3127

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص293 وسنن دارمی (المقدمہ) باب نمبر 7 وقال الترمذی: (عربی)

سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ باب نمبر 13 و جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص294 و مسند احمد ج ؟، ص280 و ج نمبر 2 ص435 و ج نمبر 5 ص388 ومسند طیالسی حدیث نمبر 2711 وقال الترمذی "(عربی)"

صحیح مسلم، کتاب الفضائل، احادیث نمبر 139-141 ومسند احمد ج نمبر 1 ص162 و ج نمبر 3 ص152

سنن ابی داؤد، مع عون المعبود ج نمبر 4 ص347

صحیح بخاری مع فتح الباری ج نمبر 1 ص503، ج نمبر 5 ص107، ج نمبر 12 ص336، ج نمبر 13 ص157-172 و صحیح مسلم، کتاب المساجد احادیث نمبر 92-94، کتاب الاقضیہ احادیث نمبر 4-6 و سنن ابی داؤد، مع عون المعبود ج نمبر 3 ص328 و ج نمبر 4 ص347 و جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 2 ص279 وسنن النسائی مع تعلیقات السلفیہ ج نمبر 2 ص304 طبع المکتبۃ السلفیہ لاہور، سنن ابن ماجہ ج نمبر 2 ص51 (کتاب الاحکام باب نمبر 5) کتاب الرہون باب نمبر 15 وسنن دارمی کتاب الرقاق باب نمبر 52 و مؤطا امام مالک کتاب الاقضیہ باب نمبر 1 و مسند احمد ج نمبر 1 ص444-448-455، ج نمبر 2 ص243-316—372-390-449-488-493-496، ج نمبر 3 ص33-333-384-400، ج نمبر 4 ص366، ج نمبر 5 ص41-437-439-454، ج نمبر 6 ص52-107-133-160-180-225-259-290-307-308-320 ومسند طیالسی احادیث نمبر 230-371 و ابویعلیٰ ج نمبر 4 احادیث نمبر 1635-1636 و مسند بزار ص27 و شرح المعانی للطحاوی ج نمبر 2، ص382

الکہف:110م فصلت: 6

الاسراء: 93

ہود: 27

الاسراء: 94

المؤمنون: 24

المؤمنون: 33

الشعراء: 154-186

یس: 15

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص292-293 واخرجہ، احمد

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص293

ایضا ج نمبر 4 ص292

علمائے انساب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو شجرہ مبارک بیان کیا ہے وہ اس طرح ہے: "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ابن قصیٰ بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن اوبن الہمیسع، بن حم بن قیدار بن اسماعیل بن ابراہیم" ۔۔لیکن عدنان کے بعد علمائے انساب کا اختلاف ہے جسے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف "کتاب النسب" میں بالتفصیل بیان کیا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ماخوذ من کتاب المعارف مصنفہ ابن قتیبہ الدینوری ص69 مترجم طلحہ بن ابوسلمہ ندوی، تھفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج نمبر 4 ص292، الوفاء باحوال المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم لابن الجوزی ج نمبر 1 ص 76 طبع المکتبۃ النوریہ الرضویہ لائلپور سئہ 1977ء و مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم للشیخ محمد ابن عبدالوہاب ص9-11 طبع مکتبۃ الریاض الحدیثہ بالریاض وغیرہ)

جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر ص292 واخرجہ الخطیب فی الموضح ج نمبر 1 ص68-69

اخرجہ مسلم ج نمبر 7 ص58 والترمذی (مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 4 ص293) و ابویعلیٰ مسندہ ج نمبر 2 والخطیب ج نمبر 13 ص64 وابن عساکر ج نمبر 1 ق نمبر 17 ص353 واحمد ج نمبر 4 ص107

مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ج نمبر 11 ص94-95 طبع دارالعربیہ بیروت سئہ 1398 ھ

الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنہ ص114

قصائد قاسمی بحوالہ تبلیغی نصاب (فضائل درود شریف ص124) مرتبہ مولانا زکریا کاندھلوی صاحب مرحوم (شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور) طبع ادارہ اشاعت دینیات حضرت نظام الدین نیی دہلی نمبر 13

کنز الایمان، سورۃ الکہف

مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی دفتر نمبر 3 حسہ نمبر 9 ص74-75 مکتوب نمبر 100