نام و نسب و منصب:

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، کنیت ابو عبداللہ، والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ، نانی ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب، اس لحاظ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے تھے (تاریخ اسلام از مولانا نجیب آبادی ص393، عنوان النجابہ ص27)

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، نبی علیہ السلام سے قرابت قریبہ رکھتے تھے۔ اور معزز خاندان قریش کے فرد تھے۔ تجارتی کاروبار بہت دور تک پھیلا ہوا تھا، عرب کے مشہور تجار اور امیر کبیر لوگوں میں آپ رضی اللہ عنہ کا شمار ہوتا تھا۔ نہایت ہی سلیم الفطرت، شرم و حیا کے پیکر، جود و سخا کے ہیرو، عجز و انکساری کا دامن تھامے ہوئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

ولادت

نبی علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے چھٹے سال میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ جیسا کہ عنوان النجابہ میں مرقوم ہے:

ولد عثمان فى السنه السادسه بعدالفيل

"حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عام الفیل کے بعد چھٹے سال پیدا ہوئے۔"

اس لحاظ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، نبی علیہ السلام سے عمر میں چھ سال چھوٹے تھے۔ رضی اللہ عنہ

اسلام

ایمانِ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مختلف روایات ہیں۔

1۔ عنوان النجابہ میں ہے:

اسلم عثمان قد يمادعا ابوبكر الى الاسلام فاسلم

(ص 27، مختصر سیرت رسول عربی ص84)

یعنی "حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سابقین اولین مسلمانوں میں سے تھے۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دعوت تبلیغ سے متاثر ہو کر مشرف با سلام ہوئے تھے؟" ۔۔۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پہلے صرف تین شخص مسلمان ہوئے تھے۔ (تاریخ اسلام ص394)

2۔ طرابلسی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ اس طرح نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دن نبی علیہ السلام سے عرض کی: "اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم تیری قوم تجھ پر طرح طرح کے اتہام عائد کرتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے ابوبکر، میں اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں، میرے پاس اللہ کا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے۔ خداوند قدوس نے مجھے اعزازِ رسالت سے نوازا ہے۔ میں تجھے بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔" چانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس گفتگو کے بعد ایمان لے آئے۔ اسلام کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت زبیر بن العوام، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے ملے اور پیغامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچایا۔ اور یہ سب مسلمان ہو گئے۔

3۔ ابن اثیر نے بحوالہ ابن عساکر ذکر کیا ہے، ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بحالت غم و اندوہ گھر آئے تو وہاں ان کی خالہ سعدی بنت کریز (مشہور کاہنہ) بیٹھی تھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی یوں گویا ہوئیں:

"اے عثمان تجھے خوش ہو جانا چاہئے کیونکہ تجھے دس خوشیاں عنقریب میسر آئیں گی۔ تیرے نکاح میں ایک حسین پاکیزہ عورت آئے گی، جس کا باپ دنیا کا عظیم ترین انسان ہو گا، اور ایسے شخص سے تیرا رشتہ استوار ہو گا جس کے ساتھ تیرا تذکرہ بھی باعث فخر ہو گا، تجھے بھلائی سے نوازا جائے گا، اور تجھے برائی سے بچایا جائے گا۔"

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا "خالہ جان آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ جس کی آپ نے مجھے بشارت دے رہی ہیں، اس کا تو نکاح بھی ہو چکا ہے" خالہ نے جوابا کہا۔ "اے عثمان، تو ایک خوبرو نوجوان ہے۔ بہترین گفتگو والا ہے، اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر دلائل و براہین موجود ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کو سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے اور اس پر اللہ کا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں حق و باطل میں امتیاز کا ملکہ عطا فرمایا ہے، لہذا بت پرستی چھوڑ کر اس کی پیروی کر" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر کہا "خالہ جان! آپ ایسے شخص کی پیروی کے لیے مجھے دعوت دیتی ہیں، جو ہمارے شہر میں موجود نہیں۔" خالہ نے جواب دیا۔ "محمد بن عبداللہ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے ہیں، جو لوگوں کو اس کی ہدایت کے مطابق اس کے دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس کا ستارہ مقدر درخشاں ہے، اس کے دین میں نجات ہے، اس کے سامنے بڑی بڑی حکومتیں سرنگوں ہوں گی۔ اس کے دشمن زیر ہوں گے، اگرچہ کتنی ہی قربانیاں دیں اور کتنے ہی مسلح ہو کر آئیں"

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، یہ گفتگو سن کر حیرت کے عالم میں گھر سے نکلا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تمام واقعہ ان سے عرض کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اے عثمان رضی اللہ عنہ! افسوس ہے کہ تو ذی شعور ہو کر بھی حق و باطل میں امتیاز نہیں کر سکتا۔ بزرگوں کے مجسمے سوائے بے حس پتھروں کے کیا ہیں؟ جن کی ہماری قوم پوجا کر رہی ہے۔ جو سننے، دیکھنے، نفع و نقصان دینے سے بھی قاصر ہیں" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا "واقعی آپ سچ کہتے ہیں۔" حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رمایا، "آپ کی خالہ سچ کہتی ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ السلام کو دنیا کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر تو ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تو میرے ساتھ آتا"۔ ہم دونوں حاضر خدمت ہوئے تو نبی علیہ السلام نے فرمایا "عثمان رضی اللہ عنہ، فرمان الہی کو قبول کرو اور یقین رکھو کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی رہبری کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں یہ گفتگو سن کر بے اختیار ہو گیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی خبر مشہور ہوئی تو خاندان بنی امیہ کے امیر ترین آدمی عثمان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ہے، اب مالی طور پر ان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ لہذا عثمان رضی اللہ عنہ کو کسی نہ کسی طریقے سے اسلام سے روگردان کرنا چاہئے۔ چنانچہ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے چچا حکم بن ابوالعاص بن امیہ کو اکسایا۔ اس نے قبیلہ کے چند افراد کی مدد سے آپ رضی اللہ عنہ کو رسیوں سے باندھ دیا اور بہت مارا۔ طرح طرح کی جسمانی اذیتیں پہنچائیں۔ لیکن یہ سنگدل، آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام سے برگشتہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ رضی اللہ عنہ۔ (تاریخ اسلام نجیب آبادی ص99)

ایمانِ عثمان رضی اللہ عنہ عقل کی کسوٹی پر:

اگر کوئی شخص دل میں یہ خیال جمائے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، طمع، حصول مال و زر، استحکام مستقبل، یا تمنائے خلافت کی بناء پر ایمان لائے تھے تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔۔۔کیونکہ طمع نفسانی کا سوال وہاں پیدا ہو سکتا ہے جہاں تکمیلِ خواہشات کی ہر چیز میسر ہوتی نظر آتی ہو۔۔مگر یہاں؟۔۔۔حصول مال و زر کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب خزانہ کی چابیاں اس آقا کے ہاتھ میں ہوں جس کے زیر سایہ رہ کر زندگی گزارنے کا خیال ہو۔ مگر یہاں سیر ہو کر کھانا بھی میسر نہیں؟

اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملک عرب کے بادشاہ ہوتے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا، ان کے استحکام مستقبل اور حصول خلافت کی نشاندہی کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ملک عرب کی سربراہی کا موقعہ دیں گے۔ مگر اس وقت ایسا خیال کسی انسان کے حاشیہ دماغ میں بھی نہ آ سکتا تھا۔ جبکہ آپ رضی اللہ عنہ سے پہلے تین یا چار آدمی مسلمان ہوئے تھے۔ اس وقت تو زبان پر یہ الفاظ لانا کہ "میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول اور نبی تسلیم کرتا ہوں" اپنی جان کو معرض ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف تھا۔«فافهم وتدبرولاتكن من الجاهلين»

ہجرتِ عثمان رضی اللہ عنہ:

جب کفار مکہ، اسلام کی ترقی و عروج کو روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مسلمانوں کو بیت اللہ میں آنے سے روک دیا، شرپسندوں کا ایک دستہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کو ستانے، انہیں دیکھ کر گلی کوچوں میں تالیاں بجانے، گالیاں دینے، اور مسافروں کو ان سے ملاقات نہ کرنے پر مامور ہوا۔ تو کچھ لوگ مسلمانوں کو گرم ریت اور سلگتے ہوئے کوئلوں پر لٹانے، کوڑے لگانے، لوہے کی زرہیں پہنا کر انہیں گرم پتھروں پر پھینک دینے پر مامور ہوئے۔ غرضیکہ کوئی بری سے بری سزا ایسی نہ تھی جو مسلمانوں کے لیے تجویز نہ کی جاتی ہو۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عام اجازت دے دی کہ جانی اور ایمانی دولت بچانے کے لیے ہجرت کر کے حبشہ کو چلے جائیں۔ اس اجازت کے بعد ایک مختصر قافلہ (بارہ مردوں اور چار عورتوں پر مشتمل ) رات کی تاریکی میں ملک حبشہ کی طرف روانہ ہونے کے لیے تیار ہوا۔ نبی علیہ السلام خود اس قافلہ کو الوداع کہنے کے لیے مکہ معظمہ سے باہر تشریف لائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا (زوجہ عثمان رضی اللہ عنہ) کو دیکھ کر فرمایا:

«والذي نفسى بيده انهما الاول من هاجر بعد ابراهيم ولوط»

(تاریخ دمشق، بحوالہ عنوان النجابہ ص27، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم منصور پوری، ص127)

"مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، عثمان رضی اللہ عنہ و رقیہ رضی اللہ عنہا پہلے لوگ ہیں جنہوں نے حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ہجرت کی۔"

شیعہ کتب میں گیارہ مردوں اور چار عورتوں کا ذکر ہے۔ چنانچہ مجمع البیان میں ہے:

7فخرج اليها سرا احد عشر رجلا واربع نسوة وهم عثمان بن عفان وامراته رقيه بنت رسول ﷺ»

"حبشہ کی طرف خفیہ ہجرت کر کے جانے والے گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں ان میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔" ۔۔۔رضی اللہ عنہما۔

جہاد عثمان رضی اللہ عنہ:

جہاد بالمال میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پیش پیش رہے۔ جب نبی علیہ السلام بمعہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو میٹھے پانی کی سخت تکلیف تھی، صرف ایک میٹھا کنواں تھا جو ایک یہودی کے قبضہ میں تھا اور بھاری قیمت پر پانی دیتا تھا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا، "جو شخص اس کنواں (بئر رومہ) کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے، اس کے لیے جنت ہے" حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کنوئیں کا نصف بارہ ہزار، پھر باقی نصف اٹھارہ ہزار میں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔ غزوہ تبوک میں ایک ہزار اونٹ، ستر گھوڑے ہزار میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ غزوہ تبوک میں ایک ہزار اونٹ، ستر گھوڑے بمعہ ساز و سامان دئیے۔ نقد چندہ اس کے علاوہ تھا۔ (رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم 2 ص125 استیعاب)

'مسجد کے لیے پچیس ہزار کی زمین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خرید کر وقف کی تھی۔ ایک سال مدینہ میں قحط پڑا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا تمام غلہ محتاجوں کو دے دیا۔۔مسلمان ہونے کے بعد ہر ہفتہ ایک غلام آزاد کرتے، اگر کسی ہفتہ ناغہ ہو جاتا تو دوسرے ہفتے دو غلام آزاد کرتے۔ (تاریخ اسلام نجیب آبادی 1 ص 394)

جیش العسرت کا اکثر سامان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مہیا فرما دیا تو نبی علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا، "اے عثمان رضی اللہ عنہ تیرے جنتی ہونے کے لئے یہی عمل کافی ہے"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلبیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر بار بار فاقہ کی نوبت آتی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی ضروری سامان بھجوا دیتے۔ نبی علیہ السلام نے متعدد بار یہ دعاء حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے فرمائی:

«اللهم انى قد رضيت من عثمان فارض عنه»

ایک دفعہ یہ دعاء شام سے صبح تک کرتے رہے کہ: "اے اللہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے بہت خوش ہوں، تو بھی اس سے خوش ہو جا۔" رضی اللہ عنہ

ایک دفعہ خلافت صدیقی رضی اللہ عنہ میں سخت قحط پڑا۔ اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار اونٹ غلہ کے لدے ہوئے آ گئے۔ تاجروں نے ڈیڑھ گنا منافع دے کر مال اٹھانا چاہا۔ لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، "تم گواہ ہو، میں نے تمام غلہ مدینہ منورہ کے فقراء اور مساکین کو دے دیا ہے، ایامِ محاصرہ میں بھی غلاموں کو برابر آزاد کیا اور مہمانوں کو ہمیشہ قیمتی کھانا کھلاتے تھے۔ (تاریخ اسلام 1 ص 447 عنوان النجابہ ص28 اصابہ، ذکر عثمان رضی اللہ عنہ)

جہاد بالنفس:

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جنگ بدر کے ماسوا باقی تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ جنگ بدر میں عدم شمولیت کا سبب مولانا اکبر شاہ تاریخ اسلام میں یوں بیان کرتے ہیں:

"آپ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت علالت کے سبب جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت و حکم کے مطابق مدینہ منورہ میں رہے، لیکن جنگ بدر کے مال غنیمت میں آپ رضی اللہ عنہ کو اسی قدر حصہ ملا، جس قدر شرکاء جنگ کو ملا۔ اور نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ "اصحاب بدر میں عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی شامل سمجھنا چاہئے۔" (تاریخ اسلام 1 ص394)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جنگ بدر میں عدم شمولیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وأما تغيبه عن بدر فإنه كانت تحته رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت مريضة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لك أجر رجل ممن شهد بدرا وسهمه»

(بخاری شریف ج5 ص18، بخاری شریف 1 ص 523، مشکوٰۃ 2 ص562)

"حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا غزوہ بدر میں عدمِ شمولیت کا سبب یہ ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار رتھیں۔ نبی علیہ السلام نے خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو (اجازت دے دی کہ تم اپنی بیوی کی خبر گیری کے لیے یہیں ٹھہرو اور ) فرمایا تمہارا اجر اور حصہ اس شخص کے برابر ہے جو جنگ بدر میں شریک ہوا۔" رضی اللہ عنہ

اور عنوان النجابہ میں ہے:

وكان تاخر عن بدر بتمر يضها باذن رسول اللهﷺ فجاء البشير بنصر المؤمنين ببدر يوم دفنوها بالمدينة)(عنوان النجابه ص27)

(مطلب وہی جو گزر چکا ہے) ۔۔۔ان روایات سے اظہر من الشمس ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جنگ بدر میں غیر حاضری فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھی۔ اگر نبی علیہ السلام اپنی لخت جگر کی تیمارداری کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نہ روکتے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ضرور شریک جنگ ہوتے۔ پھر شان صحابیت ملاحظہ فرمائیے کہ باوجود شریک جنگ نہ ہونے کے شریک جنگ سمجھے گئے، یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی منقبت اور آپ رضی اللہ عنہ کے اخلاصِ قلب کی زبردست دلیل ہے۔

جنگِ اُحد:

اس جنگ میں اولا مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ کفار بھاگ گئے۔ درہ پر متعین صحابہ رضی اللہ عنہم (چند صحابہ رضی اللہ عنہم) کے ماسوا باقی سب) مالِ غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے عقب سے حملہ کر دیا۔ درہ پر چند صحابہ رضی اللہ عنہ تاب مقاومت نہ لا سکے۔ کیونکہ کفار کا یہ حملہ ناگہانی آفت کی طرح تھا۔ پھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ بھی (یہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) سنبھل کر واپس آ گئے۔ گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی خبر نہ رہی۔ جب ابن قمیہ لیثی کے ہاتھوں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو اس نے با آواز بلند کہا: "الا ان محمد قد قتل" (بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دئیے گئے۔ سیرت رسول عربی ص242) تو مشرکوں کی ہمت بڑھی اور مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اب ہر مسلمان اپنی جگہ پریشان تھا۔ حتیٰ کہ بعض صحابہ نے تو یہ خیال کیا کہ جب نبی علیہ السلام ہی نہ رہے، تو اب جانیں لڑانے سے کیا فائدہ؟ اس خبر کی وجہ سے دلوں پر ایسا غم طاری ہوا کہ ہاتھوں میں تلوار سونتنے کی بھی طاقت نہ رہی۔ یہ سب کچھ نبی علیہ السلام کے زندہ اور سلامت موجود ہونے سے بے خبری کے باعث ہوا۔ ان حالات میں اگر بعض لوگ شدت وغم سے نڈھال اور بعض ناامیدی کے باعث جنگ لڑنے سے توقف کر گئے تو یہ ایک مجبوری تھی۔ نہ کہ دانستہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے نرغہ میں چھوڑ کر بھاگے۔ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی دانست میں یہ بات ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور کفار کے نرغہ میں ہیں تو رب ذوالجلال کبھی کبھی ان کے لیے ﴿ولقد عفا الله عنهم﴾" (بے شک اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف رما دیا) کا فیصلہ صادر نہ فرماتے۔ رضی اللہ عنہم (جاری ہے)
حاشیہ

1. شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے مختصر سیرت رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قافلہ میں شامل افراد کے نام بھی گنوائے ہیں: حضرت عثمان بن عفان، ابوحذیفہ بن عتبہ، ابوسلمہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، عثمان بن مظعون، عامر بن ربیعہ، ابو سبرہ بن ابی رہم، حاجب بن معمر، سہیل بن وہب، عبداللہ بن مسعود۔۔۔عورتوں میں سے، رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سہلہ بنت سہیل، ام سلمہ، لیلیٰ بنت ابی حثمہ، رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (مختصر سیرت رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ص92 مطبوعہ لاہور)

2. سئہ 13 نبوی میں جب نبی علیہ السلام نے مسلمانوں کو عام اجازت ہجرت دی اور جو قافلہ سب سے پہلے مدینہ کو روانہ ہوا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس قافلہ بھی شریک تھے۔ اس لحاظ سے آپ رضی اللہ عنہ نے دو ہجرتیں کیں اور "ذوالبحرتین" کہلائے۔ جبکہ دیگر خلفاء نے ایک ہجرت کی۔ نیز دیگر مہاجرین کی نسبت آپ رضی اللہ عنہ زیادہ پریشان ہوئے۔ چنانچہ ملک بدر ہونا، دوبارہ مدینہ پہنچنا، مالی نقصان اٹھانا، آپ رضی اللہ عنہ کے مکانوں پر کفار کا قابض ہونا، کاروبار کا برباد ہونا وغیرہ پریشانیاں سرفہرست ہیں۔