نام کتاب ۔۔۔ عالمِ برزخ

مولف۔۔۔ مولانا عبدالرحمن عاجز

ناشر۔۔۔رحمانیہ دارالکتب امین پور بازار فیصل آباد

ضخامت ۔۔۔ 396 صفحات

قیمت ۔۔۔ 27 روپے (غیر مجلد) مجلد 36 روپے ۔۔۔ کتابت: طباعت آفسٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج جبکہ ہر شخص دنیا کمانے کی فکر میں ایک پھرکی کی طرح گھوم رہا ہے، یہاں تک کہ اسے اطمینان سے کھانا کھا لینا اور پانی پی لینا بھی نصیب نہیں، رات کو اگر آرام کرنے کا کچھ موقع ملا بھی تو ہر آن یہ دھڑکا کہ کوئی چور، ڈاکو تجوری میں بند دولت کو اڑا کر نہ لے جائے ، یہی وجہ ہے کہ تقریبا ہر شخص اعصابی مریض بن کر رہ گیا ہے کہ اسے نہ دن کا چین نصیب ہے نہ راتوں کا سکون ۔۔۔ پھر بتائیے کہ اس دولت کا کیا فائدہ جو اپنے ہی کام نہ آ سکے؟ ۔۔۔ انسان اچھا کھانے اور اچھا پہننے ہی کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہے، لیکن جب کھانے، پینے اور پہننے ہی کا ہوش باقی نہ رہے تو ایسی دولت کس کام کی؟ ۔۔۔ کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

"انت للمال اذا امسكته فاذا انفقته فالمال لك"

کہ جب تو مال کو (گن گن کر) روک رکھے گا تو گویا تو اس (کی خدمت) کے لیے (وقف) ہے، لیکن جب تو اسے (راہِ خدا میں) خرچ کرے گا تو اس صورت میں یہ مال تیرا (خادم) ہے (کہ آخرت میں تیرے کام آئے گا)"

یہ حقیقت ہے کہ آج ہم دولتِ دنیا برائے دنیا کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں اور ہماری تمام تر توانائیاں اسی کے لیے صرف ہو رہی ہیں (الا ماشاءاللہ) حالانکہ یہ دولت فانی اور آنی جانی چیز ہے، لیکن وہ چیز کہ جسے بقائے دوام حاصل ہے، جس پر ہماری اندی کامرانی یا اندی نامرادی کا انحصار ہے، اسے نہ تو ہم کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس راہ کی کٹھن منزلوں کا ہمیں کچھ احساس ہے ۔۔۔ یہ زندگی ایک نہ ایک دن ختم ہو رہے گی، موت ایک اٹل حقیقت ہے، قبر ایک یقینی منزل ہے، حشر ضرور بپا ہو گا، آخرت ایک دائمی زندگی ہے اور جزا و سزا ناقابلِ تردید حقائق ہیں! ۔۔۔ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو ان پُر خطر راہوں سے بہ سلامت گزر جانے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں؟ ۔۔۔ پھر کیا وہ لوگ انتہائی خوش قسمت نہیں جو نہ صرف خود اس کے لیے مستعد ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ان آلام و مصائب سے آگاہ کر کے ان سے بچ جانے کی تلقین کو اپنا مقصدِ حیات قرار دے چکے ہیں؟ ایک طرف وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اپنا بھی خیال نہیں اور دوسری طرف وہ کہ جو دوسروں کے غم میں بھی گھلے جا رہے ہیں، کیا یہ جذبہ انتہائی قابلِ قدر نہیں؟ ۔۔۔ "عالمِ برزخ" اسی مستحسن جذبہ کا ایک کامیاب اظہار ہے!

مولانا عبدالرحمن عاجز مولف "عالمِ برزخ" سے اس احقر کو ذاتی واقفیت حاصل ہے "موت" انکا ایک مستقل موضوع ہے، وہ نہ صرف اس موضوع پر نثر و نظم میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں بلکہ وہ لوگوں سے ملنے جلنے کے وقت دورانِ گفتگو میں بھی انہیں فکرِ آخرت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

برزخ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے ۔۔۔ انسان برزخ ہی میں سے گزر کر عدم سے وجود میں آیا ہے اور پھر عالمِ وجود سے عالمِ آخرت کی طرف بھی برزخ ہی میں سے گزر کر جائے گا "برزخ" کے معنی پردہ کے ہیں، یعنی اس کی کیفیات ہماری سمجھ سے ماوراء اور اس کے حالات ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔۔۔ مثلا ہر انسان نے شکمِ مادر میں پرورش ہے لیکن اس کی کیفیت کوئی بھی نہیں جانتا، حتی کہ کسی شخص کو اپنا زمانہ شیر خوارگی بھی یاد نہیں ۔۔۔ علاوہ ازیں کوئی انسان ہوا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن رحمِ مادر میں وہ زندگی ایسی نعمت سے سرفراز ہوتا ہے گویا اس کی زندگی کی اتداء ہی وہاں ہوتی ہے جہاں ہوا کا گزر بھی محال ہے ۔۔۔ تو پھر کیا کوئی شخص ان حالات سے عدمِ واقفیت یا ہوا کے بغیر زندگی کے ناممکن ہونے کے ثبوت کی بناء پر ان کیفیات و حقائق سے انکار کر سکتا ہے؟ ۔۔۔ بالکل اسی طرح ہر انسان جب مر کر قبر میں پہنچتا ہے تو مختلف احوال و کیفیات سے دو چار ہوتا ہے، جو اگرچہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں لیکن ان کا انکار حقیقت کا منہ چڑانے کے مترادف ہے ۔۔۔ زیرِ نظر کتاب میں مولانا موصوف نے انہی کیفیات و احوال نیز قبر میں جزا و سزا کی نہ صرف تفصیلات کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کی ہیں بلکہ ان کے مستند، ٹھوس، نقلی اور عقلی دلائل بھی فراہم کئے ہیں ۔۔۔ اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ عذابِ قبر کا ثبوت قرآن مجید میں کہیں نہیں ملتا، مولانا نے اثباتِ عذاب قبر سے متعلق متعدد دلائل قرآن مجید سے پیش کر کے اس غلط فہمی کا کما حقہ ازالہ کر دیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نے ان افعال کی نشاندہی بھی کی ہے جو عذاب قبر کا سبب بنتے ہیں اور وہ اعمال بھی درج کیے ہیں جن کے باعث عذاب قبر سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

قبر و قیامت کے احوال اور ایمان بالآخرت انسان کو اپنا محاسبہ خود کرنے پر مجبور کرتے ہیں جسے مرنے کے بعد محاسبہ اعمال کا یقین ہے وہ کبھی بھی دنیاوی زیب و زینت کا گرویدہ ہو کر خواہشاتِ نفسانی کا اسیر نہیں رہ سکتا۔ موجودہ اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا ایک بڑا سبب ہم میں فکرِ آخرت کا فقدان ہے اور فلمی رسالوں، ڈائجسٹوں اور ناولوں کے اس دور میں وہ لوگ انتہائی قابلِ قدر ہیں جو بے راہ اور غافل انسانوں کو اپنی آخرت سنوارنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں کے حلقہ میں شامل ہونے، اپنی آخرت کو کامیاب بنانے اور مولانا کو مزید خدمتِ دین کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین

ہمارے خیال میں سفید کاغذ پر طبع ہونے والی پلاسٹک کے خوبصورت گرد پوش سے مزین یہ کتاب ہر مسلمان گھرانے میں ہونی چاہئے کہ اسے پڑھ کر ایمان تازہ ہوتا اور خدا یاد آجاتا ہے ۔ ایسی بہترین کتاب مین پروف ریڈنگ کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دینا انتہائی زیادتی ہے ۔ امید ہے مولف موصوف آئندہ ایڈیشن میں اس کا خصوصی اہتمام فرمائیں گے۔