زندگانی شاہراہِ موت پر ہے گامزن
اور ہم محوِ جمالِ غنچہ و سرد دسمن
ہر طرح کی نعمتیں دنیا میں تھیں حاصل جنہیں
کتنے ان میں سے گئے دنیا سے بے گور و کفن
قبر تجھ کو یاد کرتی ہے ہر اک دن پانچ بار
اور اے انسان تو ہے عیش و عشرت میں مگن
وہ بشر سوتا نہیں ہرگز کبھی غفلت کی نیند
جس کی منزل دور ہو اور راستہ جس کا کٹھن
مست ہے تو اس قدر کیوں زیست خوش آواز پر
موت اس آغاز کے انجام پر ہے خندہ زن
ہوشیار اے رہروانِ راہِ عقبی ہوشیار
ہر قدم پر راہزن ہے ہر قدم پر اہرمن
وہ سہے گا کس طرح نارِ جہنم کا عذاب
دھوپ تک برداشت جو کرتا نہیں نازک بدن
تو ہے بے آرام عاجز جن کی راحت کے لیے
حشر میں کام آئیں گے تیرے نہ یہ فرزند و زن