1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے:
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں:
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔
$15.      حریت۔ رائے و خیال اور مطبوعات (پریس) کی آزادی اسی کے تحت ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ موجودہ جمہوریت ملوکیت کی دوسری انتہا اور اس کی عین ضد ہے۔ اب ان پانچوں دفعات کی تحصیل کیجیے تو آخر میں صرف ایک ہی عنصر بسیط باقی رہے گا۔ یعنی قوت حکم و ارادہ اشخاص و ذات کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ جماعت و افراد کے تسلط میں ہو۔
مختصر الفاظ میں اس کی تعبیر اس ایک جملہ میں ہو سکتی ہے۔ ’’نفی حکم ذاتی مطلق‘‘ باقی چار دفعات میں جو امور بیان کیے گئے ہیں وہ سب کے سب اس کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ مساوات حقوق مالی و قانونی، اساس مشورہ و انتخاب، عدم اختیار و تصرف خزانہ ملکی و حریت آرا و مطبوعات وغیرہ سب ’’نفی حکم ذاتی و مطلق‘‘ ہی کی تفسیر ہیں۔
مندرجہ بالا دفعات کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بادشاہت کی دشمنی کے جوش میں اگر کچھ بادشاہت کے اصول اچھے بھی تھے تو جمہوریت پسندوں نے اس کی بھی مخالفت کو اپنا فرض سمجھ کر افراد کو بے لگام قسم کی آزادی کی بشارت دے دی۔
جمہوریت اور عوامی حقوق
اس اعلان اور اس کی دفعات پر تبصرہ کرنے سے پیشتر یہ متعین کر لینا ضروری ہے کہ حقیقی جمہوریت ہے کیا۔ کاروبار مملکت میں عوام کی عدم مداخلت کا نام شخصی حخومت یا ملوکیت ہے اور جس حکومت میں عوام کی مداخلت جس قدر بڑھتی جائے گی۔ اسی قدر ہی وہ جمہوری حکومت کہلانے کی مستحق ہو گی۔ بالفاظ دیگر رئیس مملکت کے (اور اسی طرح دوسرے حکام یا اولو الامر کے) اختیارات و امتیازات۔ خواہ معاشرت سے تعلق رکھتے ہوں یا معیشت سے۔ جس قدر زیادہ ہوں گے اسی قدر وہ حکومت مائل بہ ملوکیت سمجھی جائے گی اور اس میں عوام کے حقوق کم ہوتے جائیں گے اور رئیس مملکت کے اختیارات جس قدر محدود ہوں گے۔ وہ حکومت مائل بہ جمہوریت سمجھی جائے گی۔ اور اس میں عوام کے حقوق کی نگہداشت زیادہ ہو گی۔
اب اسی معیار پر ہم مذکورہ منشور کی دفعات کا ترتیب وار جائزہ لیں گے۔ جس سے:-
$11.      خلافت، جمہوریت اور ملوکیت کا فرق واضح ہو گا۔
$12.      ہر صاحبِ فکر آدمی یہ اندازہ کر سکے گا کہ حقیقی جمہوریت کا علمبردار اسلام ہے یا موجودہ مغربی جمہوریت۔
$13.      اور یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ عوام کے حقوق کی نگہداشت کس نظام میں سب سے زیادہ ہے۔
$11.   استیصال حکم ذاتی:
اس دفعہ کی پہلی شق یہ ہے کہ ’’حق حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں آجائے۔‘‘
یہ شق ملوکیت کے عین برعکس ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ریاست کے تمام شہری صدرِ مملکت کے انتخاب میں یکساں حق رکھتے ہوں۔ خواہ وہ اس حق کو بالواسطہ استعمال کریں یا بلا واسطہ۔ یہیں سے جمہوریت کا مشہور سیاسی حق۔ حق بالغ رائے دہی (بشمول خواتین) جنم لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد ہر ووٹ کی قیمت یکساں قرار پاتی ہے۔
اسلام اس لامحدود حق کا قائل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق چونکہ معاشرہ کی اکثریت جاہل، فاسق اور ظالم لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے وہ نہیں چاہتا کہ ریاست کے اطراف و اکناف سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے مرکز میں لا کر ڈھیر کر دیا جائے۔ اسلام ایک نور ہدایت اور روشنی ہے جو مرکز سے نمودار ہو کر ریاست کے اطراف و اکناف میں اجالا کرتی ہے۔ اسلام میں خلیفہ کو انتخاب کرنے کا حق صرف ان لوگوں کو ہے جو اس کے نظریۂ توحید و رسالت  اور آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ان رائے دہندگان کے دیگر اوصاف اپنے مقام پر تفصیلاً ذکر کر دیئے گئے ہیں۔
اس کی دوسری شق یہ ہے کہ: ’’شخص، ذات یا خاندان کو تسلط و حکم میں دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزنڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اس کو حق عزل و نصب ہو۔‘‘
ملوکیت میں تو ظاہر کہ سربراہ ایک مخصوص۔ شاہی۔ خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور جمہوریت میں ہر شخص کو یہ سیاسی حق دیا گیا ہے کہ وہ سربراہِ مملکت بن سکے۔ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ لیکن اسلام میں مملکت کا سربراہ صرف مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ دوسرا شخص صدر مملکت تو کجا کسی کلیدی آسامی پر بھی فائز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اسلام ایک نظریاتی مملکت کا تصور پیش کرتا ہے۔
گویا پہلی دفعہ کی دونوں شقوں میں اسلام اعتدال کی راہ اختیار کرتا ہے۔
$12.    مساوات عامہ
’’اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں: مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی، مساوات قانونی، مساوات  ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔‘‘
$11.   مساوات جنسی:
سے مراد یہ ہے کہ عورت بھی مرد کے برابر حقوق رکھتی ہے۔ خواہ یہ سیاسی حقوق جیسے حق رائے دہی، حق نمائندگی، حق منصب و عہدہ اور سیاسی جماعت بنانے کا حق یا دوسرے قانونی اور معاشرتی حقوق ہوں۔
ملوکیت میں تو سیاسی حقوق ہوتے ہی نہیں۔ جمہوریت نے اس کو لا محدود کر دیا اور اس میدان میں عورت کو بھی لا گھسیڑا ہے حتّٰی کہ وہ صدر مملکت بھی بن سکتی ہے۔ جو اسلای نقطۂ نگاہ سے کسی صورت میں درست نہیں۔ اور یہ بحث ہم ’’عورت کا ووٹ‘‘ کے تحت درج کر آئے ہیں۔ رہے قانونی اور معاشرتی حقوق۔ تو ان میں اسلام عورت اور مرد میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھتا۔
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ میں عورتیں بھی مردوں کے دوش بدوش چلیں۔ سیاسی کے علاوہ معاشی اور دوسرے میدانوں میں بھی۔ موجودہ تہذیب نے ’’مساواتِ مرد و زن‘‘ کے نعرہ سے جو خاندانی  مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ اور پھر جوانی و رعنائی کے بعد عورت کو جس کسمپرسی کے میدان میں جا پھینکا ہے۔ اس کی تفصیل ہم پہلے دے چکے ہیں۔ گویا اس مسئلہ میں موجودہ تہذیب افراط اور تفریط دونوں طرح کی مضرتوں کا شکار ہے۔ جب کہ اسلام نے اس معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔
$12.   مساوات خاندانی:
کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ سربراہ مملکت کسی بھی خاندان سے ہو سکتا ہے اور اس منشور میں غالباً یہی مطلب لیا گیا ہے۔
اب ملوکیت میں تو یہ عہدہ محض ایک مخصوص خاندان سے تعلق رکھتا ہے جمہوریت اور اسلام دونوں میں خاندان کی کوئی قید نہیں۔ تاہم اسلام ساتھ ہی ساتھ یہ پابندی ضرور لگاتا ہے کہ وہ مسلمان بھی ہو اور متقی بھی۔
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ میں بلا امتیاز ہر خاندان کی یکساں قدر و منزلت ہو۔ ملوکیت میں تو شاہی خاندان بہرحال شاہی ہوتا ہے۔ دوسرے خاندان اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ جمہوریت اس مساوات کی دعوےدار ضرور ہے مگر اس پر عمل کم دیکھا گیا ہے۔
$13.   معاشرتی مساوات:
اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آج کے جمہوری اور مہذب ترین ممالک میں گورے اور کالے کے جھگڑے بدستور موجود ہیں۔ امیر اور غریب کے مسائل بھی بدستور ہیں۔ عبادت گاہوں میں امراء کو تو کرسیاں ملیں اور بے چارے فرش پر بیٹھیں۔ حد یہ ہے کہ بعض جگہ امرا کے گرجے ہی الگ الگ ہیں۔ اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں تو آج تک ذات پات کی تمیز قائم ہے۔ شودروں کی عبادت گاہیں الگ ہونا تو درکنار۔ ان کے سایہ سے ہی برہمن ناپاک ہو جاتا ہے۔ اسلام نے گورے کالے اور امیر غریب کی تمیز ختم کر کے سب کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ حتّٰی کہ امیر اور غلام ایک صف میں کھڑے ہیں اور جو جہاں کھڑا ہے اسے وہاں سے دوسرا ہٹا نہیں سکتا۔ یہاں شرف کا معیار ہے تو تقویٰ ہے۔ یہاں بلال حبشی جیسے پست قد، کالے رنگ اور موٹے ہونٹوں والے صحابی کو حضور اکرم ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے۔
اَرِحْنَا یا بلال۔ اے بلال ہمیں (اذان کہہ کر) راحت پہنچائیے۔
اور جن کو آپ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔
اور اس معاشرتی مساوات کا سبق خود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دیا تھا۔ آپ ﷺ چند سرداران قریش کو اسلام کے متعلق سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک نابینا صحابی ابنِ مکتوم آئے اور آکر ایک آیت کا مطلب پوچھنے لگے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ بات ناگوار محسوس ہوئی اور انقباض کے اثرات چہرہ پر نمودار ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے عتاب نازل فرمایا تو اس کی وجہ محض یہ تھی کہ اس نابینا صحابی کی طلبِ صادق کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے قریش کے کافر سرداروں سے بہت زیادہ تھی۔
معاشرہ کی مساوات کا دوسرا پہلو ’’بڑائی کی نخوت‘‘ کا خاتمہ ہے۔ ایک دنیادار معاشرہ میں وقار کا مسئلہ (Question of Prestige) ایک عام بیماری ہوتی ہے۔ ما تحت کا یہ حق ہے کہ وہ بہرحال افسر کو سلام کرے۔ چاہے ماتحت بیٹھا کام کر رہا ہو اور صاحب بہادر باہر سے تشریف لائیں ورنہ ان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس طرح یہ رواج بھی عام ہے کہ کمتر درجہ کے لوگ بڑوں کو سلام کریں۔ یا خاندان کے افراد سربراہ خاندان کو سلام کریں۔ اسلام نے چند ضابطے مقرر کر کے اس نخوت اور معاشرتی عدم مساوات کا علاج کر دیا ہے۔ وہ یہ کہ ہر آنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ اس طرح ہر سوار پر لازم ہے کہ وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے۔ سربراہ خانہ پر لازم ہے کہ وہی گھر میں داخل ہو کر اپنے بال بچوں کو سلام کہے۔ افسروں پر لازم ہے کہ جب وہ دفتر میں تشریف لائیں تو اپنے ملازموں کو وہ سلام کریں۔ اسی طرح سوار لوگوں کی نخوت کا یہ علاج ہے کہ وہ پیدل چلنے والے کو سلام کہیں۔ بزرگوں کی بزرگی کے مقامات اور بھی بہت سے ہیں۔ اسلام نے سلام کے یہ ضابطے مقرر کر کے ان کی نخوت کا علاج اور وقار کے مسئلہ کا حل پیش کیا ہے۔
حکام سلطنت کی بود و باش:
معاشرتی مساوات کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ حکام اپنے آپ کو برتر مخلوق سمجھتے ہوئے عوام پر اپنے دروازے بند نہ کر دیں۔ نظام خلافت میں امیر اور حکام سے مسجد میں ملاقات کی جا سکتی ہے اور برسرِ عام بازاروں میں بھی۔ ان سے التجا بھی کی جا سکتی ہے۔ سوال بھی اور ان پر تنقید بھی۔ حضرت عمرؓ جب کسی کو عامل مقرر کرتے تو ان سے مندرجہ ذیل باتوں کا عہد لیا جاتا تھا۔
$11.      ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہو گا۔
$12.      باریک کپڑے نہ پہنے گا۔
$13.      چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا۔
$14.      دربان نہ رکھے گا۔ اہل حاجت کے لئے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے گا۔
یہ شرطیں اکثر پردانہ راہداری میں درج کی جاتی تھیں اور ان کو مجمع عام میں پڑھ کر منایا جاتا تھا۔
مندرجہ بالا شرائط میں سے پہلی تین شرائط تو معاشرتی مساوات سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور چوتھی عوام کے بنیادی حقوق اور معاشرتی مساوات سے متعلق۔

عمّال سے احتساب:
ایک بار حضرت عمرؓ بازار میں پھر رہے تھے۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ ’’عمر! کیا عاملوں کے لئے چند قواعد مقرر کر دینے سے تم عذابِ الٰہی سے بچ جاؤ گے؟ تم کو یہ خبر ہے کہ عیاض بن غنم جو مصر کا عامل ہے۔ باریک کپڑے پہنتا ہے اور دروازے پر دربان مقرر ہے۔
حضرت عمرؓ نے محمد بن مسلمہ (انصاری) کو بلایا (یہ اکابر صحابہ میں سے تھے۔ تمام غزوات میں شریک رہے اور ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک مہم پر تشریف لے گئے تو ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ انہی وجوہ کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں عاملوں کے شکایات کی تحقیقات پر مقرر کیا تھا) اور کہا۔ عیاض کو جس حال میں پاؤ۔ ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہؓ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان بھی تھا اور باریک کپڑے کا کرتہ پہنے بیٹھے تھے۔ اسی ہیئت اور لباس میں ساتھ لے کر مدینہ آئے۔ حضرت عمرؓ نے وہ کرتا اتروا کر کمل کا کرتہ پہنایا اور بکریوں کا ایک گلہ منگوا کر حکم دیا کہ ’’جنگل میں جا کر چراؤ۔‘‘
عیاض بار بار یہ کہتے تھے کہ ’’اس سے تو مر جانا بہتر ہے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’تجھے اس سے عار کیوں ہے؟‘‘ تیرے باپ کا نام غنم اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چرایا کرتا تھا۔‘‘
غرض عیاض نے دل سے توبہ کی اور جب تک زندہ رہے اپنے فرائض نہایت خوبی سے سرانجام دیتے رہے۔
اسی طرح کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ حضرت سعد بن وقاصؓ نے کوفہ میں اپنے لئے ایک محل بنوایا تھا جس میں ڈیوڑھی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس خیال سے کہ اس سے اہلِ حاجت کو رکاوٹ ہو گی۔ محمد بن مسلمہ کو حکم دیا کہ جا کر ڈیوڑھی میں آگ لگا دیں۔ چنانچہ اس حکم کی پوری تعمیل ہوئی اور سعد بن ابی وقاص کھڑے دیکھتے رہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ عام آدمیوں کو بھی باریک کپڑے پہننا یا ڈیوڑھی بنانا ممنوع تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطنت کے ارکان میں طرز معاشرت کا یہ امتیاز عوام کے دل میں اپنی کہتری کے احساس کا سبب بنتا ہے اور اس سے آقا غلام کا تصوّر ابھرتا ہے۔
اب ذرا موجودہ جمہوری معاشروں پر نظر ڈالیے۔ صدر کا عوام کے درمیان مل کر بیٹھنے کا تصور ہی محال ہے۔ اور صدر کی کیا بات ہے۔ چھوٹے چھوٹے افسروں  کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر کڑے پہرے بٹھائے جاتے ہیں اور بعض صاحب بہادروں کی رسائی تک کئی کئی دن گزر جاتے ہیں مگر ملاقات نصیب ہی نہیں ہوتی۔ نقل و حرکت بھی سیف گارڈ کی کڑی نگرانی میں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بادشاہت اور جمہوریت میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ کیا یہی معاشرتی مساوات ہے کہ عوام اپنی جائز شکایات یا ضروریات کے لئے بھی ان حکام کی ملاقات کو ترستے ہیں۔ ان شکایات کا ازالہ تو دور کی بات ہے۔
$14.    مساوات مالی
یعنی اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔

جمہوریت اور سرمایہ داری:
یہ شق زیب منشور تو ہے مگر موجودہ جمہوری ملک میں اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ صدارت کا انتخاب لڑنا تو دور کی بات ہے۔ کسی اسمبلی یا بلدیاتی ادارے کا انتخاب لڑنے کے لئے نمائندہ کا سرمایہ دار یا جاگیر ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ طرزِ انتخاب ہے ہی ایسا کہ کافی سرمایہ کا متقاضی ہے۔ نمائندہ کو اپنی تشہیر، کنویسنگ، جلسے جلوسوں اور ضیافتوں کے لئے کثیر سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ خواہ وہ خود مہیا کرے یا اسے پارٹی فنڈ سے ادا کیا جائے۔ اس کے بغیر وہ انتخاب لڑ ہی نہیں سکتا۔
ملوکیت میں تو خیر اس طرح کی مالی مساوات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جمہوریت کے پردہ میں بھی حقیقتاً سرمایہ ہی بولتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبر سب سرمایہ دار یا جاگیر دار ہوتے ہیں اور صدر تو بہرحال ان سے بڑا سرمایہ دار ہونا چاہئے۔ ہر ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہر وقت تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
البتہ اسلامی نظام میں ایسی مثالیں ضرور موجود ہیں۔ حضرت عمرؓ بچپن میں بکریاں چرایا کرتے تھے اور وہ خلیفہ بنے۔ اسی طرح حضرت علی بچپن میں مفلس تھے وہ بھی منصب خلافت پر فائز ہوئے۔
مالی مساوات کا ایک دوسرا مفہوم یہ بھی لیا جا سکتا ہے جسے معاشی مساوات کہا جاتا ہے اور سوشلسٹ اس کا ڈھنڈورا پٹتے رہتے ہیں۔ تو ایسی مساوات نہ ملوکیت میں ہے نہ جمہوریت میں اور نہ اسلام میں۔
سوشلسٹ معاشرہ میں معاشی مساوات سے یہ مراد ہوتی ہے کہ حکومت سب سے ان کی املاک جبر سے چھین لے۔ اور انہیں قومی تحویل میں لے کر عوام کو بقدر سدِ رمق دے کر باقی سب کچھ پر خود قابض ہو جائے۔ بالفاظ دیگر حکومت عوام سب کو ایک جیسا مفلس بنا کر خود بہت بڑی مال دار اور ڈکٹیٹر بن جائے۔ تو اس قسم کی مساوات کا اسلام قائل نہیں ہے کیونکہ معاشی مساوات ایک غیر فطری چیز ہے۔ ہر انسان کی ضروریات الگ الگ نوعیت اور صفت کی ہوتی ہیں۔ ایک کسان کی ضروریات ایک چیف جسٹس کی ضروریات کے مناسب اور برابر نہیں ہو سکتیں۔ حالانکہ دونوں معاشرے کے لابدی رکن ہیں۔ نظریہ ’’معاشی مساوات کے ابطال کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اس پر اشتراکیت کے مادر وطن روس میں بھی آج تک صحیح طور پر عمل نہیں ہو گا۔
معاشی مساوات سے آج کل یہ مفہوم بھی لیا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے سب عوام پر وسائل رزق ایک جیسے کھلے رہیں۔ اس نظریہ کی دعویدار تو سب طرح کی حکومتیں ہیں۔ لیکن ان پر عمل مفقود ہوتا ہے۔ ملوکیت میں کلیدی آسامیاں شاہی خاندان کے لئے مخصوص ہوتی ہیں کیونکہ وہ ان کا پیدائشی حق سمجھا گیا ہے۔ جمہوریت میں کلیدی اسامیوں میں اکثر رد و بدل اور عزل و نصب ہوتا رہتا ہے، جو اکثریتی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے۔ وہ اپنے مفادات کے پیش نظر ان اسامیوں پر اپنے آدمی براجمان کرتی ہے۔ اسلام میں نہ تو یہ مناصب کسی خاندان کا حق ہے نہ کسی اکثریتی پارٹی کا۔ سارے عوام پر ان کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان اسامیوں پر متقی اور صالح مسلمان ہی فائز ہو سکتے ہیں۔
رہا معمولی قسم کی ملازمتوں کا مسئلہ تو یہ لوگ چونکہ کاروبارِ حکومت پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں تمام حکومتیں حسبِ ضرورت ہر شخص سے استفادہ کر لیتی ہیں۔ اسلام میں ایسی ملازمتیں غیر مسلموں کو بھی دی جا سکتی ہیں۔
ملوکیت اور جمہوریت دونوں سرمایہ دارانہ نظام ہیں۔ لہٰذا سرکاری ملازمتوں کے علاوہ دوسرے میدانوں میں عموماً سرمایہ دار ہی کی سرپرستی کی جاتی ہے اور انہیں کے حقوق و مفادات کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ سود اور ٹیکس جو سرمایہ دارانہ نظام کے اہم ستون ہیں ملوکیت و جمہوریت دونوں میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ سود سرمایہ دار کے سرمایہ میں ہر دم اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اور ٹیکسوں کا بار بھی بیشتر غریب عوام پر پڑتا ہے۔ صنعتی اور تجارتی ادارے بنکوں سے سود لیتے دیتے ہیں جس سے عوام کا معاشی استحصال ہوتا رہتا ہے۔ حکومت ان سودی اداروں کی سرپرستی کرتی ہے۔ لہٰذا بایں ہمہ دعویٰ یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان مذکورہ دونوں نظاموں میں غریب لوگوں پر وسائل رزق کے دروازے بند رہتے ہیں۔ اسلام میں سود کے بجائے زکوٰۃ کا نظام ہے اور کاروباری اشتراک کے مضاربت کا اصول۔ جس کے ذریعہ محنت کش کو وسائل رزق سے وافر حصہ نصیب ہو جاتا ہے۔
$15.   قانونی مساوات
یعنی اس بنا پر بھی ’’پریذیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔‘‘
ملوکیت میں تو بادشاہ کی ذات خود قانون ہوتی ہے۔ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی قانون سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن حیرانگی تو یہ ہے کہ جمہوریت میں بھی بایں ہمہ دعویٰ یہی کچھ ہوتا ہے جو ملوکیت میں ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے پاکستان کے دستور میں آج تک (۱۹۷۳ء کے آئین میں بھی) ایسی دفعات موجود ہیں۔ جن کی رو سے صدر مملکت، وزیر اعظم، گورنر اور وزرائے اعلیٰ پر نہ تو کوئی فوجداری مقدمہ دائر ہو سکتا ہے۔ نہ انہیں عدالت کسی ایسے فوجداری مقدمہ میں ملوث قرار دے سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی کوئی بڑی سے بڑی عدالت انہیں طلب کر سکتی ہے۔ اور یہ صرف پاکستان پر منحصر نہیں بلکہ ہر جمہوری ملک کے صدر وغیرہ کے لئے ایسی قانونی مراعات موجود ہیں۔
پھر جمہوری ممالک کے صدر جب عوامی بنیادی حقوق کو کم یا سلب کرنا چاہیں تو ہنگامی حالات کا سہارا لے کر کسی وقت بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ اور یہ تو ہم بتلا چکے ہیں کہ حقوق کا توازن کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ عوامی حقوق بڑھ جائیں تو صدر کے حقوق خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر عوام کے حقوق کم کر دیئے جائیں تو صدر کے اختیار خود بخود بڑھ جاتے ہیں۔
اب اسلامی نظام کی طرف آئیے: قانونی مساوات یہ ہے کہ خود حضور اکرم ﷺ نے اپنے آپ کو پیش کر کے یہ اعلان کر دیا کہ جس کسی نے مجھ سے کوئی بدلہ یا قصاص لینا ہو وہ آج لے سکتا ہے۔ پھر جب آپ ہی کے قبیلہ قریش کی ذیلی شاخ کی ایک عورت فاطمہ مخزومی نے چوری کی تو آپ سے اس جرم کی سزا موقوف کرنے کی سفارش کی گئی تو آپ نے فرمایا۔
’’پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی کمزور جرم کرتا تو اسے سزا دیتے اور اگر شریف ایسا کرتے تو اس کی سزا موقوف کر دی جاتی۔ یہ نوفاطمہ مخزومی کی بات ہے۔ خدا کی قسم! اگر میری اپنی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔

اسلام کے خلیفہ کے اختیارات:
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (گورنر شام) نے حضرت معاذ بن جبل کو رومیوں کے پاس سفیر بنا کر بھیجا۔ رومیوں کے لشکر میں پہنچے تو دیکھا کہ خیمے میں دیبائے زریں کا فرش بچھا ہے۔ ایک عیسائی نے آکر کہا کہ میں گھوڑا تھام لیتا ہوں آپ دربار میں جا کر بیٹھیے۔ معاذؓ نے کہا: ’’میں اس فرش پر جو غریبوں کا حق چھین کر تیار ہوا ہے، بیٹھنا نہیں چاہتا۔ یہ کہہ کر زمین پر بیٹھ گئے۔
بات چیت کے دَوران بادشاہ اور اس کے اختیارات کا ذکر چھڑ گیا تو حضرت معاذؓ نے فرمایا:
’’تم کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال کا اختیار ہے لیکن ہم نے جس کو اپنا بادشاہ بنا رکھا ہے۔ وہ کسی بات میں اپنے کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اگر وہ زنا کرے تو اس کو درّے لگائے جائیں۔ چوری کرے تو ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ وہ پردے میں نہیں بیٹھتا۔ اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا۔ مال و دولت میں اس کو ہم پر ترجیح نہیں۔‘‘
اور یہی وہ بات ہے جنہیں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ بار بار اپنے خطبوں میں دہرایا کرتے تھے۔
حضرت عمرؓ تو اس قانونی مساوات کا اس قدر خیال رکھتےتھے کہ بارہا خود عدالت میں حاضر ہوئے۔ ایک دفعہ آپ حضرت زید بن ثابت کی عدالت میں بطور مدعا علیہ پیش ہوئے۔ حضرت زیدؓ آپ کی تکریم کی خاطر اُٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ یہ تمہاری پہلی بے انصافی ہے۔‘‘ اور مدعی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس مقدمہ میں فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف ہوا جس کی تفصیل ہم نے کسی دوسرے مقام پر درج کر دی ہے۔
حضرت علیؓ کے اپنے دورِ خلافت میں ان کی اپنی زرہ چوری ہو گئی۔ جو حضرت علیؓ نے ایک یہودی کے پاس دیکھ لی تو آپ نے یہ نہیں کیا کہ اس سے اپنے زرہ لے لیتے بلکہ قاضی شریح عدالت میں اس یہودی پر مقدمہ دائر کر دیا۔ حضرت علیؓ کے پاس بطور گواہ ان کے بیٹے حضرت حسنؓ اور ان کے غلام تھے۔ قاضی شریح نے آپ کا مقدمہ صرف اس بنا پر خارج کر دیا کہ یہ شہادتیں اسلامی ضابطہ انصاف و عدل کے تقاضے پورے نہیں کرتیں۔ بیٹے کی شہادت باپ کے حق میں اور غلام کی شہادت آقا کے حق میں ناقابل قبول ہے۔ حالانکہ عدالت کو خوب معلوم تھا کہ مدعی اور گواہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔ لیکن عدل کا تقاضا یہی تھا کہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔
یہ صورت حال دیکھ کر یہودی نے زرہ بھی واپس کر دی۔ اور خود بھی مسلمان ہو گیا۔

مفت اور بلا تاخیر انصاف:
قانونی مساوات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مملکت کے ہر فرد کو بلا امتیاز مذہب و نسل، عدل و انصاف مفت اور بلا تاخیر حاصل ہو۔ قانونی مساوات کا یہ پہلو بھی جمہوری ممالک میں یکسر ناپید ہے۔ دیوانی مقدمات کا تو یہ حال ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ ہونے تک مدعی یا مدعا علیہ میں سے کوئی ایک فریق مر چکا ہوتا ہے۔ یا وہ یہ بھول چکا ہوتا ہے کہ مقدمہ کی نوعیت کیا تھی اور فوجداری مقدمات کا سالہا سال تک فیصلہ نہیں ہو پاتا۔
اسلام نے مفت انصاف کے لئے دو طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اسلامی نظام میں کورٹ فیس کا کوئی جواز نہیں اور مدعی پر ظلم کے مترادف ہے اور اس کا فائدہ عام طور پر غریب طبقہ کو پہنچتا ہے۔ اور غریب طبقہ ہی عموماً مظلوم ہوتا ہے۔
اور دوسرا یہ کہ اس نظام میں وکیل کی ضرورت کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ جو لوگ وکلا کی بھاری فیسیں اور ان کے روزمرہ کے مطالبات پورے نہیں کر سکتے وہ بھی وہ اپنے جائز حقوق کے حصول سے محروم نہ رہ سکیں۔ عدالت کو یہ حکم ہے کہ وہ مدعی سے ہمدردی اور دلجوئی کا برتاؤ کرے اور کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس سے فریقین میں سے کسی پر عدالت کا رعب طاری ہو سکے۔ یہاں کسی کو عدالت کے آداب ملحوظ رکھنے اور توہینِ عدالت کا خوف نہیں ہوتا۔
اور بلا تاخیر انصاف کے لئے اسلام نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے ہیں۔
$11.      ہر محلہ کی عدالت اسی محلہ میں ہونی چاہئے تاکہ قاضی کو خود بھی حالات کا کسی نہ کسی حد تک علم ہو۔ اور دوسرے یہ کہ مدعا علیہ کو طلب کرنے میں زیادہ وقت خرچ نہ ہو۔ یا دِقّت پیش نہ آئے۔ حضرت عمرؓ بعض دفعہ بازار میں کھڑے ہی مقدمات فیصل کر دیا کرتے تھے۔
$12.      قانونِ شہادت: اسلامی عدالت میں ہر کس و ناکس کی شہادت قابل قبول نہیں۔ اس کے لئے ضابطے مقرر ہیں۔ اگر کسی گواہ کی شہادت عدالت میں غلط ثابت ہو جائے تو عدالت از خود اس پر فرد جرم عائد کر سکتی ہے اور اس کے جرم کے مطابق سزا دے سکتی ہے۔ اور آئندہ کے لئے اس کی شہادت کبھی قابل قبول نہیں۔ جبکہ ہماری عدالتوں میں ایسے گواہوں کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے اور ان پر کوئی مواخذہ نہیں کیا جاتا۔
اسی طرح اگر مستغیث کا الزام عدالت میں جھوٹا ثابت ہو تو ہماری عدالتیں اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتیں الا یہ کہ مستغاث اپنے مقدمہ سے فارغ ہو کر پہلے مستغیث پر نئے سرے سے دعویٰ نہ کر دے۔ یہ بات بھی عدل و انصاف کے خلاف ہے۔
$13.      بدنی سزائیں: بلا تاخیر انصاف کے حصول کے لئے اسلام نے تیسرا ضابطہ جو مقرر کیا ہے وہ برسر عام بدنی سزائیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کیا ہے۔ آج کے جمہوری دور میں بدنی سزاؤں کو ’’ظلم کے مترادف‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر میں اس کو غیر انسانی سلوک قرار دے کر ایسی سزاؤں کو ترک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اس نظریہ کے دعویدار اپنی حکومتوں میں سیاسی اور بعض دفعہ فوجداری ملزموں پر بند کمروں میں ایسے ایسے مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور بدنی سزائیں دی جاتی ہیں جن کے تصوّر سے ہی روح کانپ اُٹھتی ہے اور مشاہدہ یہ ہے کہ ایسی سزائیں مجرموں کو اپنے کردار میں پختہ کر دیتی ہیں۔ پھر یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ جہاں جہاں عدالتوں میں بدنی سزائیں موقوف ہوئیں۔ جرائم میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
ہم حیران ہیں کہ اگر انسانی جسم کو بچانے کے لئے پھوڑے کا آپریشن محض جائز ہی نہیں بلکہ اسے عین ہمدردی سمجھا جاتا ہے تو معاشرہ کو ظلم و فساد سے بچانے کے لئے بدمعاش کو بدنی سزا دینا کیسے غیر انسانی سلوک بن جاتا ہے؟ بدمعاش پر رحم کر کے معاشرہ میں بدامنی کو کیوں گوارا کیا جاتا ہے؟ اور اس وقت لوگوں کی ہمدردیاں کیوں اس کے لئے پیدا ہو جاتی ہیں جبکہ یہ بات قرآن کے حکم صریح کے برخلاف ہے۔ کیا یہ معاشرہ کے ساتھ غیر انسانی اور غالمانہ سلوک نہیں ہے؟ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ غیر انسانی سلوک کے یہ علمبردار اپنے ممالک میں قیام امن میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں غنڈہ عناصر کی اس پشت پناہی کی و جہ محض یہ ہے کہ موجودہ جمہوری دور میں ’’ غیر انسانی سلوک کے یہ علمبردار‘‘ خود غندہ عنصر کے رحم و کرم کے محتاج اور اسی راستہ سے برسرِ اقتدار آتے ہیں تو ایسے لوگ اپنے معاونین کے حق میں برسر عام بدنی سزا کیسے گوارا کر سکتے ہیں؟
$14.      رشوت: بلا تاخیر انصاف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ’’رشوت‘‘ ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک لا دینی ریاست میں چند سینکڑے تنخوا پانے والا تحصیلدار، جس کے پاس لاکھوں کی جائیداد کے مقدمے فیصلہ کے لئے آتے ہیں اور فریقین میں سے ہر ایک ہزارہا روپے رشوت دینے کو برضا و رغبت تیار ہوتا ہے، کس حد تک اپنے آپ پر جبر کر کے رشوت لینے سے باز رہ سکتا ہے۔ جب کہ وہ پہلے ہی تنگی ترشی سے بسر اوقات کر رہا ہے۔ اور جمہوری دور کے تقاضوں کے مطابق اسے اپنی پوزیشن (Status) بھی برقرار رکھنا پڑتی ہے۔
اسلام نے رشوت کے انسداد کے لئے دو طریق اختیار کیے ہیں۔ اخلاقی اور عملی۔
اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد ہی چونکہ آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا پر ہے۔ لہٰذا وہ قانون سے زیادہ اخلاق پر زور دیتا ہے۔ انسان کو زندگی میں لا تعداد ایسے مواقع مل جاتے ہیں جب وہ قانون کی دسترس سے بچ کر آسانی سے گناہ کے کام اور جرائم کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اسے صرف یہ تصور ہی گناہ سے باز رکھ سکتا ہے۔ اسلام نے رشوت کو بہت بڑا گناہ اور قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔
الراشی والمرتشی کلاھما فی النار
 رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
اور بعض روایات میں الراشٍ کا لفظ بھی موجود ہے۔ یعنی وہ شخص جو درمیان میں سودا طے کراتا ہے وہ بھی جہنمی ہے۔
رشوت تو درکنار، اسلام میں کسی عامل کو ہدیہ یا تحفہ لینے سے بھی سختی سے منع کر دیا گیا ہے کہ وہ بھی رشوت ہی کی ایک قسم ہے۔
اور عملی اقدام یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے قاضیوں کی بیش بہا تنخواہیں مقرر کیں تاکہ انہیں ’’بالائی آمدنی‘‘ کی احتیاج نہ رہے۔ مثلاً ربیعہ اور قاضی شریح کی تنخوا پان پان سو درہم ماہوار مقرر کی گئی تھی۔
دوسرے آپ نے یہ قاعدہ مقرر کیا کہ قاضی صرف وہ شخص مقرر کیا جائے جو دولت مند بھی اور صاحب ثروت بھی ہو۔ دولت مند اس لئے کہ وہ رشوت کی طرف راغب نہ ہو۔ اور صاحب ثروت اس لئے کہ وہ فیصلہ کرتے وقت کسی معزز آدمی سے مرعوب و متاثر نہ ہو۔ گویا رشوت اور سفارش دونوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔
$15.   مساوات ملکی و شہری
یعنی اس بنا پر بھی ’’پریذنڈنٹ کو عام باشندگانِ ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر ریاست ملک کا کوئی باشندہ یا شہری صدر بن سکتا ہے۔ یہ شق دراصل پہلی ہی شقوں کی شرح ہے اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اسلامی نظام میں صرف ملکی یا شہری ہونا کافی نہیں۔ بلکہ اس کا مسلمان اور متقی ہونا بھی لازمی شرائط ہیں۔
اور اس مساوات کی دوسری تعبیریں اگر کچھ ہو سکتی ہیں تو ان کا ذکر بھی پہلے درج ہو چکا ہے۔
$13.   خزانہ ملکی
خزانہ ملکی، ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریذنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔

جمہوری ملکوں میں شاہانہ ٹھاٹھ:
اس دفعہ کی حقیقت ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ اور صدر کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور کروفر میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ یہ ایکڑوں زمین پر پھیلے ہوئے پریزیڈنٹ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کیا ہیں؟ کیا ان جمہوری ممالک کے صدروں کی رہائش گاہیں شاہی محلات سے کسی صورت میں کم ہیں۔ کیا ان پر پہرہ داروں کی کڑی نگرانی نہیں ہوتی۔ نقل و حرکت کے لئے سرکاری خرچ سے چلنے والی بیسیوں فٹ لمبی کاریں اور ہوائی جہاز ان کے لئے ہر وقت تیار کھڑے نہیں ہوتے؟ تو پھر آخر جمہوری ملک کے صدر اور کسی ملک کے بادشاہ کے طرزِ بود و باش میں ..... خطِ امتیاز ہے؟
فرق صرف یہ ہے کہ ملوکیت میں قومی خزانہ بادشاہ کی جاگیر ہوتا ہے۔ جسے وہ اپنی ذات اورخاندان پر بے دریغ خرچ کر سکتا ہے۔ اور جمہوریت میں اکثریتی پارٹی اپنی اکثریت کی طاقت کے بل بوتے پر خزانہ عامرہ پر ہاتھ صاف کرتی ہے۔ ملوکیت میں تو صرف ایک خاندان عیش کرتا ہے جب کہ جمہوریت میں صدر کے علاوہ پوری پارٹی گلچھرے اڑاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف علامہ اقبال نے حسب ذیل اشعار میں توجہ دلائی ہے۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب                                     تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام                  جس کے پردے میں نہیں غیر از نوائے قیصری
ترجمہ: جمہوریت کے پردے میں وہ شخصی حکومت کا دیو رقص کر رہا ہے جسے تو آزادی (اظہار خیال) کی نیلم پری سمجھ رہا ہے۔ یہ مغربی جمہوری نظام حقیقتاً ملوکیت ہی کا چربہ ہے۔ جس کی تہ میں اسی شاہانہ شان و شوکت کی صدائے باز گشت ہے۔

بیت المال اور امرا کی دسترس:
اسلام یہ تصور پیش کرتا ہے کہ قومی خزانہ امیر کے پاس ایک قومی امانت ہے۔ اس میں ناجائز ٹیکسوں اور غصب و مظالم سے کوئی آمدنی جمع نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی اس آمدنی کے پہلے سے طے شدہ مصارف کے علاوہ کسی دوسری مدّ میں خرچ کی جا سکتی ہے۔ امیر کا اس آمدنی سے ناجائز فائدہ اُٹھانا یا اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو نوازنا یا ناجائز مصارف میں خرچ کرنا بدترین قسم کی خیانت ہے۔ اب امیر یا کسی عامل کے جائز اخراجات کیا ہیں؟ جو وہ بیت المال سے لینے کا حقدار ہے۔ وہ حضرت عمرؓ کی زبانی سنیے۔
انما انا وما لکم کَوَلِّی اِلیتیم ان اسْتَغْنَیْتُ اِسْتَعْنَنْتُ وان افْتَقَوْت اکلت بالمعروف (کتاب الخراج ابو یوسف)
مجھ کو تمہارے مال (یعنی بیت المال) میں صرف اس قدر حق ہے جتنا یتیم کے مربّی کو یتیم کے مال میں۔ اگر میں دولت مند ہوں تو کچھ نہ لوں گا تو دستور کے مطابق کھانے پینے کے لئے لوں گا۔
یہ تو حق کی بات تھی۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ اسلام خود غرضی اور مفاد خویش کے بجائے ایثار یا دوسرے کے مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں مومنوں کی ایک یہ صفت بھی بیان کی گئی ہے۔
وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ
 اور وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود وہ فاقے سے ہوں۔
اور اس ایثار کی ایسی ایسی مثالیں مسلمانوں نے قائم کی ہیں۔ جن کی نظیر تاریخ میں کہیں ڈھونڈے سے نہیں مل سکتی۔
حضرت ابو بکرؓ جب خلیفہ ہو گئے تو دوسرے دن حسبِ دستور کپڑے کی گٹھڑی کندھوں پر اٹھائے بازار کو نکل کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ راستے میں مل گئے۔ ’’پوچھا کیا بات ہے؟‘‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ’’بچوں کو کہاں سے کھلاؤں؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ اب امت کا بار آپ کے سر پر آپڑا ہے۔ آپ کو تمام تر توجہ اس طرف دینی چاہئے۔ رہا معاش کا مسئلہ تو اس کے لئے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (این الامت، جو اس وقت بیت المال کے ناظم تھے) کے پاس چلتے ہیں۔‘‘
چنانچہ دونوں حضرات ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے پاس گئے۔ اور تینوں کے مشورہ سے حضرت ابو بکرؓ کی تنخواہ ایک عام آدمی کی گزران کے مطابق چار ہزار درہم سالانہ طے پائی۔ حضرت ابو بکرؓ دو سال خلیفہ رہے اور دو سال ہی یہ تنخواہ وصول کی (اپنی وفات سے قبل یہ وصیت کی کہ میرا مکان بیچ کر ۸ ہزار درہم (جو وہ بصورت مشاہرہ بیت المال سے وصول کر چکے تھے) بیت المال کو واپس کر دیئے جائیں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے جب یہ بات سنی تو فرمانے لگے۔ ’’خدا ابو بکرؓ پر رحم فرمائے انہوں نے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا۔‘‘ (کنز العمال ج۲ ص۲۳۸)
ایثار کی جو مثالیں خود حضور اکرم ﷺ نے قائم کی تھیں۔ ان کو چھیڑنے کی ہمیں ہمت نہیں۔ حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل آپ پڑھ چکے ہیں۔ آپ نے قحط کے دوران گندم کی روٹی کھانے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ جب غریب لوگوں کو گندم کی روٹی میسر نہیں تو میں کیسے کھا سکتا ہوں۔ بیت المقدس کی صلح کے موقع پر عیسائیوں نے آپ کو بلوایا تھا۔ جب وہاں گئے تو کُرتے میں پیوند لگے ہوئے تھے اور اونٹ پر غلام بیٹھا ہوا تھا۔ جب شہر میں داخل ہوئے کیونکہ باری اس کی تھی۔ حضرت عثمانؓ مال دار ضرور تھے لیکن ان کے زہد اور دنیا سے بے رغبتی کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی اسی سادگی میں اپنی پوری زندگی بسر کی۔ بلکہ ان کے خلفاء کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیزؓ نے اِسی طرزِ بود و باش پر عمل پیرا ہو کر خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔ اب بتلائیے کہ کیا کسی جمہوری ملک کے کسی صدر کی ایسی مثال پیش کی جا سکتی ہے؟ اور پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ خزانہ ملکی، ملک کی ملکیت ہے۔ اس پر پریزیڈنٹ کا کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔‘‘

یہ تو خلفاء کی مثال تھی۔ اب عمالِ حکومت کی طرزِ بود و باش ملاحظہ فرمائیے۔

یہ تو ہم بتلا چکے ہیں کہ حضرت عمرؓ عمال مقرر کرتے وقت پردانۂ تقرری میں یہ شرائط درج کر دیا کرتے تھے کہ وہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہو گا۔ باریک کپڑے نہ پہنے گا اور چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا اور پھر ان شرائط کا جس طرح آپ احتساب کرتے تھے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس کے علاوہ جب کوئی عامل مقرر کیا جاتا تو اس کے مال و اسباب کی مفصل فہرست تیار کر کے محفوظ رکھی جاتی تھی۔ اور اگر عامل کی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی تو اس سے مواخذہ کیا جاتا۔ (فتوح البلدان ص ۲۱۹)

ایک حضرت عمرؓ کو اطلاع ملی کہ بعض عمال کی جائیداد میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ نے سب کی موجودات کا جائزہ لے کر آدھا مال بٹا لیا اور بیت المال میں داخل کر دیا۔

اب تک ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ایک بیت المال کے خرچ سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی عمالِ حکومت اور امیر مملکت خود بھی اس کا امانت سمجھتے اور اس سے ناجائز تمتع کا حق نہیں رکھتے۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں ناجائز آمدن از قسم غصب اور ناجائز ٹیکس بھی داخل نہیں کیے جا سکتے۔

بیت المال کی آمدنی کی ایک بڑی اہم مدّ زکوٰۃ اور خراج ہے۔ مسلمانوں سے زکوٰۃ اور عشر وصول کیا جاتا ہے اور غیر مسلموں (ذمیوں) سے خراج اور جزیہ۔ زمین کے لگان کو اہلِ ایران خراگ کہتے تھے۔ خراج اسی سے معرب ہے۔ لگان کے علاوہ دوسرے ٹیکسوں کو اہلِ ایران گزیت کہتے تھے۔ جزیہ کا لفظ اس سے معرب ہے۔ گویا غیر مسلمانوں پر دستور کے مطابق سابقہ ٹیکس ہی بحال رہنے دیئے گئے۔ زکوٰۃ و عشر اور خراج و جزیہ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ اور عشر کی شرح ناقابل تغیرّ و تبدل ہے۔ جب کہ جزیہ و خراج کی شرح احوال و ظروف کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہے۔

حضرت عمرؓ نے خراج کی شرح نہایت نرمی سے مقرر کی تھی اور احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ہر سال جب عراق سے زکوٰۃ و خراج کی آمدنی وصول ہوتی تو دس معتبر اشخاص بصرہ سے اور دس کوفہ سے طلب کیے جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ ان کو چار دفعہ شرعی قسم دلاتے تھے کہ یہ مالگزاری یا زکوٰۃ کسی ذمی یا مسلمان پر ظلم کر کے تو نہیں لی گئی۔ (کتاب الخروج ص ۶۵)

حقوق ملکیت کا تحفط:

اور غصب کے معاملہ میں یہ احتیاط تھی کہ ایک بار حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو حضرت ابی بن کعب کا مکان اس میں رکاوٹ تھی۔ حضرت عمرؓ نے ابی بن کعب سے کہا کہ وہ جائز قیمت لے کر مکان دے دیں۔ لیکن حضرت ابی بن کعب مکان فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ تنازعہ بڑھ گیا تو فریقین (جس میں مدعی حکومت وقت تھی اور مدعا علیہ حضرت ابی بن کعب) نے حضرت زید بن ثابتؓ کو ثالث (یا عدالت) منظور کر لیا۔ حضرت زیدؓ نے فیصلہ حضرت زیدؓ نے فیصلہ حضرتؓ کے خلاف دے دیا۔
جب ابی بن کعبؓ نے مقدمہ جیت لیا تو انہوں نے یہ مکان بلا قیمت ہی مسجد کی توسیع کے لئے دے دیا۔
اس واقعہ سے جہاں امیر کی بے بسی اور عوام کا اختیار حق ملکیت ثابت ہوتا ہے۔ وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ غصب تو دور کی بات ہے۔ جائز قیمت ادا کرنے کے باوجود بھی حکومت فرد کو اس کی ملکیت فروخت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
اب ذرا جمہوری ممالک میں اس حق ملکیت کا اندازہ لگائیے۔ زمینیں زبردستی (Aquire) کر لی جاتی ہیں تو عوام بے بس ہیں۔ ان کی قیمت مروجہ نرخ سے بہت کم لگائی جاتی ہے تو اس زبردستی پر بھی عوام بے بس ہیں۔ قیمت نقد ادا کرنے کی بجائے کئی کئی سال کی قسطوں میں ادائیگی کی جاتی ہے تو بھی عوام مجبور محض ہیں۔ حکومتیں اپنی مرضی سے بڑی بڑی صنعتوں اور تجارتی اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں اور ادائیگی بانڈوں کی صورت میں سالہا سال تک پس پشت ڈال دی جاتی ہے۔ کیا ان جمہوری ممالک میں عوام کے حق ملکیت کے تحفظ کا یہی تصور ہے۔

نظامِ کفالت اور عوام کے حقوق:

’’خزانہ ملکی ملک کی ملکیت ہو‘‘ کی صحیح اور واضح تعبیر صرف اسلام کے نظامِ کفالت یا بیت المال میں مل سکتی ہے۔ اسلامی نظام میں حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ غریب اور مستحقِ امداد افراد کا پتہ چلائے۔ پھر ان کی مدد کرے۔ یہاں غریب اور مستحق افراد کو امداد کے لئے حکومت سے نہ التجا کرنی پڑتی ہے نہ چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ جب حضرت عمرؓ نے عراق کی مفتوحہ زمینوں کو بیت المال کی تحویل میں لے لیا تو فرمایا۔
فَلَئِنْ عِشْتُ فلیاتین الراعی وھو بسَرْدٍ وحَمِیْرَ نصیبہٗ منھا لم یخرق فیھا جبینہٗ (مشکوٰۃ۔ باب الفیٔ)
اگر میں زندہ رہا تو سَرو اور حمیر اس کے چرواہے کو بھی اس میں سے حصہ پہنچے گا۔
جس کی پیشانی پر پسینہ نہیں آیا۔ (یعنی جس نے جہاد کے سلسلہ میں کچ بھی محنت نہ کی ہو)
حضرت عمرؓ کے غلام اسلم کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ رات کو گشت کرنے کے لئے مدینہ سے تین میل صرار کے مقام تک نکل گئے۔ وہاں دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔ حقیقت حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ بچوں کو کئی وقتوں سے کھانا نہیں ملا۔ ان کے بہلانے کے لئے خالی ہانڈی میں پانی ڈال کر چڑھا دی ہے۔ حضرت عمرؓ اسی وقت بیت المال کی طرف لوٹے۔ آٹا، گوشت، گھی اور کھجوریں لیں اور اسلم سے کہا۔ میری پیٹھ پر رکھ دو۔ اسلم نے کہا۔ میں لیے چلتا ہوں۔ فرمایا۔ لیکن قیامت میں تم میرا بار نہیں اُٹھاؤ گے۔‘‘ غرض سب چیزیں اپنی پیٹھ پر لاد لائے اور سب چیزیں اس عورت کے آگے رکھ دیں۔ اس نے آٹا گوندھا اور ہنڈیا چڑھائی۔ حضرت عمرؓ خود چولہے کی آگ کو پھونکیں مار رہے تھے۔ یہاں تک کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی تر ہو گئی۔ کھانا تیار ہو گیا۔ بچوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور اچھلنے کودنے لگے۔ حضرت عمرؓ ان کو اس حال میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ عورت نے کہا۔ خدا تم کوجزائے خیر دے۔ سچ یہ ہے کہ امیر المؤمنین ہونے کے قابل تم ہو نہ کہ عمرؓ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے مسلمان یہی سمجھتے تھے کہ غریبوں کی خبر گیری امیر مملکت کی ذمہ داری ہے۔ غریبوں کو لازم نہیں کہ وہ اپنی صورتِ حال جا کر حکام کو پیش کریں۔ درج ذیل واقعہ سے یہ تصور اور بھی زیادہ اُجاگر ہو جاتا ہے۔
حضرت عمرؓ کو اس کی ہمیشہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ ان کے عمال رعایا کی پروا کرتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہر شخص تو ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ چنانچہ محض تفتیش حال کے لئے شام، جزیرہ، کوفہ اور بصری مقامات کے دورہ کا ارادہ کیا۔ لیکن موت نے اتنی فرصت نہ دی۔ تاہم شام کے دورہ میں ایک ایک ضلع میں ٹھہر کر لوگوں کی شکایات سنیں اور داد رسی کی۔ دار الخلافہ کو واپس آرہے تھے کہ راہ میں ایک خیمہ دیکھا۔ سواری سے اتر کر خیمہ کے قریب گئے۔ ایک بڑھیا عورت نظر آئی اس سے پوچھا۔ ’’عمر کا کچھ حال معلوم ہے؟‘‘
وہ بولی۔ ’’ہاں! شام سے روانہ ہو چکا لیکن خدا اس کو غارت کرے۔ آج تک مجھ کو اس کے ہاں سے ایک حبّہ تک نہیں ملا۔‘‘
حضرت عمرؓ نے کہا۔ ’’اتنی دور کا حال عمرؓ کو کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟‘‘
کہنے لگی۔’’ اس کو رعایا کا حال معلوم نہیں تو خلافت کیوں کرتا ہے؟‘‘
حضرت عمرؓ کو سخت رقت ہوئی اور رو پڑے۔
حضرت عمرؓ نے تمام لاوارث بچوں کے دودھ پلانے اور دیگر مصارف کا انتظام بیت المال سے کیا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی قاعدہ تھا کہ جب عام بچوں کا دودھ چھڑا لیا جائے تو ان کا وظیفہ مقرر کر دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ تحقیق احول کے لئے رات کو بھیس بدل کر گشت پر نکلے: ایک قافلہ مدینہ منورہ آیا ہوا تھا اور شہر سے باہر اترا تھا ادھر چل دیئے اور پہرہ دینے لگے۔ ایک طرف سے کسی شیر خوار بچے کے رونے کی آواز آئی جسے اس کی ماں اُٹھائے ہوئے تھی۔ آپ نے ماں کو تاکید کی کہ اسے بہلائے۔ تھوڑی دیر بعد ادھر سے گزرے تو پھر بچے کو روتے پایا۔ غصہ میں آکر اس عورت سے کہا ’’تو تو بڑی بے رحم ماں ہے۔‘‘
وہ بولی۔ ’’مجھے تنگ نہ کرو۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ عمرؓ نے حکم دیا ہے کہ بچےجب تک دودھ نہ چھوڑیں بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے۔ میں اس غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور یہ اس وجہ سے روتا ہے۔‘‘
حضرت عمرؓ کو رقت ہوئی اور بولے: ’’ہائے عمر! تو نے کتنے بچوں کا خون کیا ہو گا۔‘‘ پھر اسی دن منادی کرا دی کہ بچے جس دن پیدا ہوں اسی تاریخ سے اس کے روزینے مقرر کر دیئے جائیں۔
ایک دفعہ گشت کے دوران دیکھا کہ ایک خیمہ کے باہر ایک بدّو بیٹھا ہے۔ اس سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ دفعۃً اندر سے رونے کی آواز آئی۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا ’’کون روتا ہے۔‘‘ بدو بولا۔ میری بیوی ہے جو دردزہ میں مبتلا ہے اور کوئی پرسانِ حال نہیں۔‘‘
آپ واپس گھر آئے۔ اپنی بیوی ام کلثوم کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ بدو سے اجازت لے کر ام کلثوم کو خیمہ میں بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد بچہ پیدا ہوا۔ ام کلثوم نے پکارا۔ امیر المومنین! اپنے بھائی کو مبارک باد دیجیے۔
امیر المؤمنین کا لفظ سن کر بدّو چونک پڑا اور مؤدب ہو بیٹھا۔ آپ نے فرمایا۔ کوئی بات نہیں۔ تم کل میرے پاس آنا۔ میں اس بچے کی تنخواہ مقرر کر دوں گا۔
تو یہ ہیں ایک اسلامی مملکت میں عوام کے حقوق۔ جوں جوں عوام کے حقوق بڑھتے جاتے ہیں۔ عمالِ حکومت کی ذمہ داریاں بڑھتی اور ان کے اختیارات محدود ہوتے جاتے ہیں اور یہ ہے قومی خزانہ کے ملک کی ملکیت اور امانت ہونے کی صحیح تصویر۔ اس کے متعلق حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ لوگوں سے یوں خطاب فرمایا:
لکم عَلَیَّ ایھا الناس خصبال فخذونی بھا۔ لکم عَلَیّ ان لا اُجْتَبِیْ شیئاً من خراجکم ولا مما افاء اللّٰہ علیکم الا من وجھہ۔ ولکم عَلَیَّ اذا وقع فی یدی ان لا یخرج منّی الا فی حقہ۔ ولکم عَلَیَّ ان ازید فی اعطیاتکم واسدُّ ثغورکم۔ ولکم عَلَیَّ ان لا القیکم فی المھالک (کتاب الخراج ص ۶۰)
’’لوگو! مجھ پر آپ لوگوں کے کچھ حقوق ہیں جن کا تم مجھ سے مواخذہ کر سکتے ہو۔ ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بے جا طور سے نہ جمع کیا جائے۔ ایک یہ کہ جب میرے پاس خراج اور غنیمت آئے تو بے جا صرف نہ ہونے پائے۔ ایک یہ میں تمہارے روزینے پڑھاؤں اور تمہاری سرحدوں کو مضبوط کر دوں اور ایک یہ کہ تم کو خطرات میں نہ ڈالوں۔
$14.    اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو
اور قوت و حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔ اِس دفعہ پر مفصل بحث حصہ دوم میں گزر چکی ہے۔
$15.   حریت رائے و خیال
اور مطبوعات (پریس) کی آزادی اِسی کے تحت میں ہے۔

آزادی اظہار رائے:
یہ آزادی اگر معقول حدود میں ہو تو مثبت نتائج پیدا کرتی ہے اور اگر یہ آزادی بے لگام و بے مہار ہو تو ہزاروں فتنے پیدا کر کے مملکت کی سرحدوں کو کمزور کرتی رہتی ہے۔ یہ جمہوریت نوازوں کی کمزوری ہے کہ استبداد (خود رائے) کے مقابلہ میں انہوں نے لا محدود آزادی اظہار رائے کر دیا۔ لیکن وقتاً فوقتاً حکومتوں کو اس لا محدود آزادی کو مختلف پابندیوں اور اخلاقی ضابطوں سے محدود کرنا پڑتا ہے۔
یہ اسی بے لگام آزادی کے کرشمے ہیں کہ کہیں اسلام مردہ باد اور سوشلزم زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ کہیں قرآن کریم کو ایک فرسودہ کتاب قرار دیا جاتا ہے اور کہیں جلا بھی دیا جاتا ہے۔ کہیں مسلمانوں کا منشور آزادی (خطبہ حجۃ الوداع) ضبط کیا جاتا ہے۔ سرخ انقلاب اور انتقام کے برسرِ عام نعرے لگائے جاتے ہیں اور کہیں علاقائی اور لسانی تعصب کو ہوا دے کر نظریہ پاکستان اور اسلام کی بیخ کنی کی جاتی ہے اور یہ سب کچھ جمہوریت میں اس لیے گوارا کر لیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادی لا دینیت پر ہے اور آزادی رائے پر بے لگام ہے۔
اسلام نے اس آزادی رائے کو جائز اور لازم قرار دیا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ یہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ خلفائے راشدین کے دور میں ہر مسلمان کو آزادی رائے اور حکومت پر نکتہ چینی کا پورا پورا حق حاصل تھا جسے وہ اپنا دینی فریضہ تصور کرتا تھا۔ تاکہ عوام کو ان کے جائز حقوق مِل سکیں اور تاکہ ملک میں برائی کا استیصال اور نیکی کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہاں یہ حق کسی خاص جماعت۔ حزبِ اختلاف۔ کو نہیں کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرے اور اس کے اچھے کام کی بھی مذمت کرتی رہے۔
خلفائے راشدین خود اس جذبۂ تنقید کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ خلیفۂ اول حضرت ابو بکرؓ نے اپنی پہلی تقریر میں یوں فرمایا تھا۔ ’’میں تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں تم سے بہتر نہیں۔ لہٰذا اچھا کام کروں تو میری مدد کرو اور اگر غلط روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو۔‘‘
اور حضرت عمرؓ نے اپنی پہلی تقریر میں یوں فرمایا۔ ’’میں اس شخص کو زیادہ پسند کروں گا جو مجھے میرے عیبوں اور کمزوریوں پر آگاہ کرے۔‘‘ اور بارہا ایسا ہوا کہ آپ کو برسرِعام ٹوکا گیا۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایسے موقعوں پر کیا رویہ اختیار کیا۔
ایک دفعہ آپ تقریر میں لوگوں کو ہدایت فرما رہے تھے کہ ’’حق مہر زیادہ مقرر نہ کیے جائیں اور اس کی حد چار سو درہم تک ہونی چاہئے۔‘‘
یہ معاملہ عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک عورت اُٹھی اور کہنے لگی۔ ’’تم یہ پابندی کیسے لگا سکتے ہو۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔
وَاِنْ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا
اگرچہ تم ان عورتوں میں سے کسی ایک خزانہ بھر بھی (بطور حق ہر) دے چکے ہو۔
یہ بات سن کر حضرت عمرؓ بے ساختہ پکار اُٹھے۔ ’’پروردگار مجھے معاف فرما۔ ہر شخص عمرؓ سے زیادہ فقیہ ہے۔ پھر منبر پر چڑھے اور کہا: لوگو! ’’میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ حق مہر دینے سے روکا تھا۔ میں اپنی رائے سے رجوع کرتا ہوں۔ تم میں سے جتنا پسند کرے۔ مہر میں دے۔
ایک دفعہ آپ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک صحابہ نے آپ کی ذات پر یہ اعتراض کیا کہ آپ نے جو قمیض پہن رکھی ہے یہ انہیں چادروں کی ہے جو مال غنیمت میں ہر ایک حصہ میں ایک ایک چادر آئی ہے۔ ایک چادر سے اتنی لمبی قمیض نہیں بن سکتی۔ آپ کی کیسے بن گئی۔ پہلے اس بات کا جواب دیجیے تب ہم آپ کی بات سنیں گے۔
یہ بات حقیقتاً حضرت عمرؓ پر بیت المال میں خیانت کا الزام تھا۔ آپ برافروختہ نہیں ہوئے۔ اپنے لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے مجمع عام میں یہ اعلان کیا کہ میں نے اپنے حصہ کی چادر بھی اپنے والد کو دے دی۔ تب یہ قمیص تیار ہوئی۔
اس پر معترض نے اُٹھ کر کہا۔ ہاں۔ اب فرمائیے۔ ہم آپ کی بات بھی سنیں گے اور طاعت بھی کریں گے۔
ایک دفعہ آپ بازار میں جا رہے تھے۔ جارود عبدی ساتھ تھے۔ راستہ میں ایک خاتون نے سلام کیا اور تند و تیز لہجہ میں کہنے لگی۔ ’’عمرؓ! تم پر افسوس ہے۔ میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب تم عمیر کہلاتے اور بازار عکاظ میں نوجوانوں سے کشتی لڑا کرتے تھے۔ پھر تھوڑے ہی دن گزرے کہ عمر کہلانے لگے اور اب کچھ دنوں سے امیر المومنین بنے پھرتے ہو۔ سنو! رعایا کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔۔۔۔۔!‘‘
بڑھیا کی یہ بات سن کر جارود عبدی نے کہا۔ ’’خاتون! آپ نے امیر المومنین پر بہت زیادتی کی۔‘‘ حضرت عمرؓ کہنے لگے۔ ’’انہیں کہنے دو۔ شاید تمہیں معلوم نہیں یہ عبادہ بن صامت کی اہلیہ خولہ بنت حکیم ہیں۔ جن کی بات سات آسمانوں پر سنی گئی تھی۔ عمر کو تو بدرجہ اولیٰ سننا چاہئے۔‘‘
اسی طرح ایک اور موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا ’’اِتَّق اللّٰہ یا عمر!‘‘ یعنی اے عمر! خدا سے ڈرو۔‘‘ اسے کہنے دو۔ اگر یہ لوگ نہ کہیں تو بے مصرف ہیں۔ اگر ہم نہ مانیں تو ہم۔

عوامی شکایات اور عمال سے احتساب:

یہ تو خلفاء پر تنقید کی بات تھی۔ اب دیکھیے آپ کے عمال سے کیسے مواخذہ ہوتا تھا۔
آپ جب کوئی عامل مقرر کرتے تو اسے پروانہ تقری ملتا تھا جس میں اس کے اختیارات و فرائض کا ذکر ہوتا تھا۔ اس عامل پر لازم تھا کہ وہ وہاں پہنچ کر مجمع عام میں یہ مکتوب سنائے تاکہ عوام اس کے جائز اختیارات سے آگاہ ہو جائیں اور اگر وہ ان اختیارات کی حد سے آگے بڑھے تو اس پر مواخذہ کر سکیں۔ ان حقوق و اختیارات کو آپ نے بارہا مجمع عام میں خود بھی سنایا۔ عاملوں کے لئے یہ ہدایات ہوتی تھیں۔
’’یاد رکھو! میں نے تم لوگوں کو امیر اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجا۔ بلکہ امام بنا کر بھیجا ہے کہ لوگ تمہاری تقلید کریں۔ تم لوگ مسلمانوں کے حقوق ادا کرو۔ ان کو زود کوب نہ کرو کہ وہ ذلیل ہوں۔ بے جا تعریف نہ کرو کہ غلطی میں نہ پڑیں اور ان کے لئے اپنے دروازے بند نہ رکھو کہ زبردست کمزوروں کو کھا جائیں۔ ان سے کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہ دو کہ یہ ان پر ظلم کرتا ہے۔‘‘
پھر عاملوں کی خطاؤں پر سخت گرفت کی جاتی تھی۔ خصوصاً ان باتوں پر جن سے ترفع اور فخر و نمود ثابت ہو اور اس طرح کے چند واقعات ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
عمال سے احتساب کے تین طریقے درج تھے۔ پہلا یہ کہ لوگ اپنے عامل کے متعلق شکایات لکھ کر دار الخلافہ میں بھیج دیتے۔ ایسی صورتِ حال کے لئے حضرت عمرؓ نے ایک تحقیقاتی کمیشن قرر کر رکھا تھا جو موقعہ پر جا کر تحقیقات کرتا تھا اور حسبِ ضرورت عامل کو مدینہ طلب کر لیا جاتا تھا۔
دوسرا یہ کہ ہر سال حج کے موقعہ پر مختلف علاقوں کے وفود آکر حضرت عمرؓ سے ملاقات کرتے اور اپنے عاملوں کے متعلق شکایات کرتے۔
تیسرا یہ کہ آپ حج کے موقعہ پر سب عاملین کو وہاں بلا لیتے تھے اور منادی کرا دی جاتی تھی کہ جس شخص کو اپنے عامل سے کوئی شکایت ہو وہ بلا روک ٹوک پیش کرے۔
پھر ان شکایات کی پوری تحقیق کی جاتی اور الزام ثابت ہونے پر قرار واقعی سزا دی جاتی تھی اور بسا اوقات انہیں معزول کر دیا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ کے عوامی حقوق کی نگہداشت اور عمال پر گرفت ہی کا یہ اثر تھا کہ عمال ہر وقت اپنے آپ کو یوں سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ کا ایک ہاتھ ان کے نچلے جبڑے پر ہے اور دوسرا اوپر کے جبڑہ پر، جب کوئی بے اعتدالی ہوئی تو وہ انہیں چیر کے رکھ دیں گے۔
ایک دفعہ حسبِ معمول حج کے موقعہ پر تمام عمال حاضر تھے کہ ایک شخص نے اُٹھ کر شکایت کی کہ ’’آپ کے عامل (مصر کے گورنر عمرو بن عاص) نے مجھ کو بے قصور سو کوڑے مارے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے اِسی مجمع میں مستغیث کو حکم دیا کہ ’’اُٹھ اور اپنا بدلہ لے۔‘‘ عمرو بن عاص کہنے لگے۔ ’’امیر المومنین! اس طرح تو تمام عمال بددل ہو جائیں گے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’تاہم ایسا ضرور ہو گا۔‘‘ پھر مستغیث کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ ’’اُٹھ اور اپنا کام کر۔‘‘
اب عمرو بن عاص نے مستغیث کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ سو دینار لے لے اور اپنے دعویٰ سے باز آئے۔ اس طرح حضرت عمرو بن عاص کی جان چھوٹی۔ (کتاب الخراج ص ۶۶)
اور حضرت عمرؓ کی عمال پر یہ گرفت اتنی مضبوط تھی کہ سوائے حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ اور حضرت معاویہؓ کے کوئی عامل بھی ان کی گرفت سے آزاد نہ رہا تھا۔ حضرت معاویہ البتہ باریک کپڑے پہنتے اور ٹھاٹھ سے رہتے تھے جس کے لئے انہوں نے حضرت عمرؓ کے سامنے معذرت کر دی تھی کہ میں جس علاقہ (شام) میں رہتا ہوں وہاں کی سوسائٹی کے لحاظ سے مجھے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
اسلام اور بنیادی حقوق
جہاں تک فرانس کے منشورِ جمہوریت پر تقابلی تبصرہ کی ضرورت تھی وہ ہم نے پیش کر دیا ہے۔ اس تبصرہ سے بآسانی یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ بنیادی حقوق کی تحفظ و نگہداشت کسی نظام میں زیادہ ہے۔ بالفاظ دیگر صدر اور دیگر حکام جمہوریت میں زیادہ با اختیار ہوتے ہیں یا نظامِ خلافت میں۔ لیکن بنیادی حقوق کے تحفظ کی بحث ابھی مزید تفصیل و تنقیح کی محتاج ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
$11.   جان و مال کا تحفظ:
انسان کا سب سے بڑا اور بنیادی حق جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ جان و مال کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے خود بدنی سزائیں مقرر کر کے اس حق کی حفاظت اور بڑے بڑے جرائم کا انسداد کیا ہے۔ اس کی مثال نظامِ خلافت کے سوا کہیں نہیں مل سکتی۔
جان کے بدلے جان، بصورتِ دیگر انسانی جان کی قیمت سو اونٹ یا تقریباً ۵ لاکھ روپیہ جو کہ قاتل کے پورے خاندان سے علی حفظ قرابت وصول کیا جاتا ہے۔ ایسی سزا ہے جو پورے معاشرہ کو متنبہ کر دیتی ہے کہ اس جرم کے نزدیک نہ جانا چاہئے۔ چوری اور ڈاکہ کی سزا مالی تحفظ کے لئے اور زنا اور شراب کی سزا عزت کی تحفظ کے لئے ہے۔
موجودہ جمہوری قوانین تو زنا کو صرف اس صورت میں جرم سمجھتے ہیں جب کہ وہ بالجبر ہو۔ شراب کبھی حلال کر دی جاتی ہے کبھی حرام۔ آبرو کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کوئی بدمعاش آپ کی بے عزتی کرے، گالی دے، مارے۔ موجودہ قانون اس وقت تک حرکت میں نہیں آتا جب تک کہ وہ آپ کو مار کر زخمی نہ کرے۔ رہا چوری ڈاکہ اور قتل کی وارداتیں۔ تو عدالتوں کے طریق اور وکلا کی موشگافیوں اور رشوت کے کاروبار نے ان جرائم کو اتنا ارزاں کر دیا ہے کہ انسان کی قیمت ایک جانور جتنی بھی نہیں سمجھی جاتی۔
اسلام نے ان قانونی اقدامات کے علاوہ کسی کے جان و مال اور عزت سے کھیلنے کے متعلق جو وعید سنائی ہے وہ بھی سن لیجیے۔
حضور اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے مجمع میں مسلمانوں سے پوچھا۔ بتلاؤ آج کونسا دن ہے؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ حرمت کا دن (یوم النحر) ہے۔ دوسری مرتبہ پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں کے پہلے سے جواب پر آپ ﷺ نے فرمایا یہ حرمت والا مہینہ (ذی الحجہ) ہے۔ پھر آپ نے تیسری بار پوچھا۔ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں کے پہلے سے جواب پر آپ نے فرمایا۔ یہ حرمت والا شہر  (مکہ مکرمہ) ہے۔ اس سوال و جواب کے بعد آپ نے فرمایا:
ان اللّٰہ حرم علیکم دماؤکم واموالکم واعراضکم کحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا فی بلدکم ھذا (بخاری کتاب المناسک)
بے شک تمہاری جانیں، تمہارے اموال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر اس قدر حرام ہیں جیسے آج کے دن، اس مہینہ اور اس شہر میں حرمت ہے۔

$12.   معاشرتی حقوق:
معاشرتی حقوق سے متعلق بھی اِسی خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا کہ گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں (معیار فضیلت صرف تقویٰ ہے) اور تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔
اس پر مفصل بحث ہم خاندانی مساوات کے تحت کر چکے ہیں اور یہ بھی بتلا چکے ہیں کہ یہ مساوات صرف اسلام میں قائم ہو سکتی ہے۔ جہاں سب انسان ہم مرتبہ ہیں۔ کوئی ایک دوسرے کا محکوم نہیں۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔
اب دیکھیے اسلام صرف اس معاشرتی مساوات پر اکتفاء نہیں کرتا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو بھائی بھائی بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ ارشادِ باری ہے۔ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ۔
اور اخوہ ایک باپ کی اولاد کو کہتے ہیں جس میں لڑکے لڑکیاں سب شامل ہوتے ہیں۔ گویا اسلام آپس میں بھائیوں جیسا رشتہ مؤدّت قائم کرنا چاہتا ہے۔
اور رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔ الدین نصیحۃٌ دین (یا نظام حیات) خیر خواہی کا نام ہے۔
اور اس خیر خواہی میں سب مسلم اور غیر مسلم شامل ہیں۔ ایک مسلمان کو ہر ایک کے بھلے کی بات ہی سوچنا چاہئے۔
$13.   قانونی حقوق:
مفت اور بلا تاخیر انصاف کے حصول کے لئے اسلام کے متعدد اقدامات کر کے امیر اور غریب میں جس طرح امتیاز ختم کیا ہے اور یہ حق حاصل کرنے کی جتنی سہولتیں بہم پہنچائی ہیں اس کی تفصیل قانونی مساوات میں گزر چکی ہے۔ اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ دیگر جمہوری معاشروں میں غریب عوام کو یہ حق وصول کرنے میں کیا کیا دشواریاں اور مشکلات پیش آتی ہیں۔
$14.   حقوق ملکیت:
اس کی تفصیل قومی خزانہ میں حقوق ملکیت کے تحفظ کے تحت دے چکے ہیں اور یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اس سلسلہ میں جمہوی ملکوں کو عوام پر کیونکر ظلم روا رکھا جاتا ہے۔
$15.   معاشی حقوق:
کا تفصیلی تذکرہ قومی خزانہ کے تحت نظام کفالت پیش کیا جا چکا ہے۔ اور یہ بھی ثابت کیا جا چکا ہے جس ملک میں۔ خواہ وہاں ملوکیت ہو یا جمہوریت۔ سرمایہ دارانہ نظام قائم ہو، وہاں غریب عوام مالی وسائل سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ اسلام میں سود کے بجائے مضاربت اور زکوٰۃ اور نظامِ کفالت ایسے اقدامات ہیں جن سے غریب عوام کو وسائل رزق بھی مہیا ہو جاتے ہیں اور ان کی امداد بھی ہو جاتی ہے حتّی کہ غیر مسلموں کا بھی پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔
$16.   حق تعلیم:
یوں تو جمہوری ممالک میں بھی عوام کی تعلیم کا حسب ضرورت اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام میں تعلیم حاصل کرنا اس کا لازمی حصہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس کے لئے کئی تدابیر اختیار کیں اور بہت سے ادارے قائم کیے۔ حتّٰی کہ خانہ بدوش بدؤں کے لئے قرآن مجید کی تعلیم جبری طور پر قائم کی۔ ابو سفیان نامی ایک شخص کو چند آدمیوں کے ساتھ مامور کیا کہ وہ قبائل میں پھر پھر کر ہر شخص کا امتحان لے اور جس کو قرآن مجید کا کوئی حصہ بھی یاد نہ ہو اس کو سزا دے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں ایسی تعلیم جو اس کے بنیادی نظریات کے خلاف ہو اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا جبکہ جمہوری ممالک میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ کیونکہ یہ ریاستیں عموماً لا دینی قسم کی ہوتی ہیں۔ بلکہ واضح تر الفاظ میں یوں سمجھیے کہ وہ مذہبی دعوے کے باوجود لا دینی ہی رہتی ہیں۔
$17.   حق ضمیر و آزادی مذہب:
یعنی ہر شخص کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جونسا عقیدہ اور جونسا مذہب پسند کرتا ہے، اختیار کرے۔ لیکن کسی دوسرے مذہب یا فریق کی دل آزاری اور نقضِ امنِ عامہ کا باعث نہ بنے۔
اسلام یہ حق تو دیتا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ ہر شخص جو دین پسند کرتا ہے وہ اختیار کرے۔ لیکن ایک دفعہ اسلام لانے کے بعد دین تبدیل کرنے کو وہ مجرم قرار دیتا ہے۔ کیونکہ اسلام ایک تحریک ہے۔ لہٰذا دین کی تبدیلی کو بغاوت سمجھ کر اس کی سزا قتل قرار دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے قانونی حقوق ہیں مثلاً حق نقل و حرکت، حق معاہدہ، حق انجمن سازی یا خاندانی حقوق ایسے حق ہیں جو سب نظام تسلیم کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے تذکرہ کا کوئی فائدہ نہیں۔
$18.   سیاسی حقوق:
جس کی کوئی اقسام ہیں۔ مثلاً حق بالغ رائے دہی (بشمول خواتین) حق نمائندگی (قانون سازی کا حق) حق منصب و عہدہ، حکومت پر نکتہ چینی کا حق وغیرہ اور دراصل یہی حقوق ہیں جن پر جمہوری ممالک کا سارا زور صرف ہوا ہے۔ ان سب حقوق پر ہم پہلے بھرپور تبصرہ کر چکے ہیں۔
گو اسلام میں امیر کا انتخاب شوریٰ کی ذمہ داری ہے۔ امیر باہمی شمورہ سے باقی حکام کو نامزد کرتا ہے۔ پھر بھی اسلام نامزدگی یا عزل و نصب میں جمہوری روح یا حکومت میں عوام کی مداخلت کا عنصر قائم رکھتا ہے:۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ نے کئی گورنروں کو اہلِ علاقہ کی شکایت کی بنا پر معزول کر دیا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے پایہ کے بزرگ صحابی اور فاتح کو حضرت عمرؓ نے کوفہ کی گورنری سے محض اس لئے معزول کر دیا کہ وہاں کے لوگوں نے ان کی شکایت کی تھی۔
صوبجات اور اضلاع کے حاکم اکثر رعایا کی مرضی سے مقرر کیے جاتے تھے اور بعض اوقات بالکل انتخاب کا طریقہ عمل میں آتا تھا۔ کوفہ، بصرہ اور شام میں جب عمال خراج (Collector) مقرر کیے جانے لگے تو حضرت عمرؓ نے ان تینوں صوبوں میں احکام بھیجے کہ وہاں کے لوگ اپنی اپنی پسند سے ایک ایک شخص انتخاب کر کے بھیجیں جو ان کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ دیانتدار اور قابل ہوں۔ چنانچہ کوفہ سے عثمان بن فرقد، بصرہ سے حجاج بن علاط اور شام سے معن بن یزید کو لوگوں نے منتخب کر کے بھیجا اور حضرت عمرؓ نے انہیں لوگوں کو ان  مقامات کا حاکم مقرر کیا۔
عوامی حقوق کے اس سرسری جائزہ سے یہ بات صاف واضح ہے کہ ایسے حقوق جن کا تعلّق لادینیت، فحاشی اور عیاشی سے ہے۔ ان حقوق کا تو مغربی جمہوریت میں خوب ڈھنڈورا پیٹا جاتا اور ان کی حمایت کی جاتی ہے اور جن حقوق کا تعلّق مصالحِ عامہ، غریب پروری، اور امن سے ہے وہ بالعموم نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام انہیں بنیادی اور عوامی حقوق کی نگہداشت کرتا اور سارا زور ان پر صرف کرتا ہے۔
اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کے حقوق
مملکت اسلامیہ میں قانونی حقوق غیر مسلموں (ذمیوں) کو بھی ویسے ہی حاصل ہوتے ہیں جیسے مسلمانوں کو۔ اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کر ڈالتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً اس کے بدلے مسلمان کو قتل کرا دیتے تھے۔ مال اور جائیداد کے متعلق ان کے حقوق کی حفاظت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ جس قدر زمینیں ان کے قبضے میں تھیں، فتح کے بعد بھی ان کے قبضہ میں بحال رہنے دی گئیں۔ ملکی انتظامات میں بھی ان سے مشورہ لیا جاتا تھا۔ ایسے انتظامات جن کا تعلق ذمیوں سے ہوتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے مشورہ اور استصواب کے بغیر کام نہیں کرتے تھے۔
ایک دفعہ شام کے ایک کاشتکار نے شکایت کی کہ اہل فوج نے اس کی زراعت کو پامال کر دیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال میں سے دس ہزار درہم ان کو معاوضہ میں دلوا دیئے۔
مذہبی امور میں ذمیوں کو پوری آزادی تھی۔ ہر قسم کی رسوم مذہبی ادا کرتے تھے۔ علانیہ ناقوس بجاتے اور صلیب نکالتے تھے۔ مسلمان اگر کسی سے سخت کلامی کرتے تو وہ اس کی پاداش کے مستحق ہوتے تھے۔
ان سے جزیہ اور عشور کے علاوہ کوئی محصول نہ لیا جاتا تھا اور جزیہ کی شرح میں نرمی کا پہلو اختیار کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے کو بھیک مانگتے دیکھا۔ پوچھا بھیک کیوں مانگتا ہے؟ بولا مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے۔ اور مجھ میں ادا کرنے کی طاقت نہیں۔‘‘ آپ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے اور کچھ نقد دے کر بیت المال کے ناظم کو کہلا بھیجا کہ اس قسم کے معذوروں کے لئے بیت المال سے وطیفہ مقرر کر دیا جائے۔
آپ کے دَور میں قاعدہ یہ تھا کہ جو مسلمان اپاہج یا ضعیف ہو جاتا۔ بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر ہو جاتا تھا۔ بعینہٖ ایسی ہی مراعات ذمیوں کو بھی حاصل تھیں۔
ماحصل یہ ہے کہ سوائے کلیدی اسامیوں پر فائز ہونے کے ان لوگوں کو وہ تمام قانونی مراعات حاصل تھیں جو مسلمانوں کو حاصل تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ذمیوں نے اپنی ہم مذہب سلطنتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ ذمّی ہی تھے جو مسلمانوں کے لئے رسد بہم پہنچاتے، لشکر گاہ میں مینا بازار لگاتے، اپنے اہتمام اور خرچ سے سڑک اور پل تیار کراتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جاسوسی اور خبر رسانی کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔ 

2. کیا مغربی جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے
اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا(  تعارف مدنیت ص ۱۰۶۔ پروفیسر محمد امین جاوید ایم اے تاریخ و سیاسیات۔)۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔          ؎
تراناداں امید غمگساری ہاز افرنگ است                                 دل شاہین نہ سوزد بہر آں مرغے کہ درچنگ است
گو یہ بحث یہاں پر ہی ختم ہو جانی چاہئے تاہم چونکہ ہمارے دستور میں یہ الفاظ شامل کر دیئے گئے ہیں کہ ’’مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ اس لئے ہم اس بات کا ذرا تفصیل سے جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ آیا ایسا ہونا ممکن ہے بھی یا نہیں؟
فرانس کے منشورِ آزادی۔ جسے موجودہ جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے۔ کو تیار کرنے والے وہ لوگ تھے جو ایک طرف تو کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں سے تنگ تھے اور دوسری طرف بادشاہ کے استبداد اور اس کے ٹیکسوں سے۔ لہٰذا وہ مذہب سے بھی ایسے ہی بیزار تھے جیسے کہ بادشاہ اور اس کی استبدادی حکومت سے۔ اس منشورِ آزادی میں ان کی مذہب سے بیزاری اور بادشاہت سے دشمنی یہ دونوں باتیں واضح طور پر پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ منشور میں جہاں مختلف قسم کی پانچ مساوات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سیاسی مساوات اور جنسی مساوات اس قسم کی ہیں۔ جن کا جواز غالباً انجیل سے بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اور قرآن و سنت میں تو انہیں غلط ثابت کرنے کے لئے اتنی نصوص مل سکتی ہیں کہ ان سے ایک الگ مجموعہ تیار کیا جا سکتا ہے۔
مندرجہ بالا دونوں قسم کی مساوات دراصل ایک ہی اصل ’’حق بالغ رائے دہی‘‘ کی فروغ ہیں اور یہ سیاسی حق مغربی طرزِ انتخاب کی جان اور روحِ رواں ہے۔
مغربی طرزِ انتخاب کا دوسرا بنیادی اصول ’’کثرت رائے کو معیارِ حق‘‘ قرار دینا ہے۔
کثرت رائے حاصل کرنے کے لئے امیدواروں کو درخواست، تشہیر، جلسے جلوس، کنویسنگ اور ایسے ہی دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنا پڑتے ہیں اور کثرت رائے کے حصول کے لئے ہی مختلف سیاسی پارٹیاں وجود میں آتی ہیں۔ جن کی ہاؤ و ہو اور غل غپاڑے سے ملک انتشار کا شکار ہوتا اور اس کا امن تباہ ہوتا ہے۔
گویا اصل مبحث یہی دو بنیادی اصول ہیں۔ حق بالغ رائے دہی کے سنجیدہ مطالعہ کے لئے انتخاب خلافت راشدہ کی پوری تاریخ مستند حوالوں سے درج کر دی گئی ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نہ تو ہرکس و ناکس سے رائے لینے کی ضرورت سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے جائز سمجھتا ہے۔ پھر ہر کس و ناکس کی رائے ہم قیمت یا ہم وزن بھی نہیں ہو سکتی۔ نیز اسلام نے عورت کو ایسے امور سے مستثنیٰ ہی لکھا ہے تاکہ بے حیائی اور فحاشی کو فروغ نہ ہو اور عائلی نظام پر بھرپور توجہ دی جاسکے۔
کثرت رائے پر سنجیدہ مطالعہ کے لئے مشورہ اور اس کے متعلق عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے دور کے اہم ترین واقعات درج کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ مغربی جمہوریت  میں پانچ ارکان ایسے ہیں جو شرعاً ناجائز ہیں:
$11.      حق بالغ رائے دہی۔ بشمول خواتین (سیاسی اور جنسی مساوات)
$12.      ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت
$13.      درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جملہ لوازمات
$14.      سیاسی پارٹیوں کا وجود
$15.      کثرت رائے سے فیصلہ
ان ارکانِ خمسہ میں سے ایک رکن بھی حذف کر دیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ جب کہ اسلامی نظامِ خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ایک کو بھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ یعنی نہ تو جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظامِ خلافت میں جمہوریت کے مروجہ اصول شامل کر کے اس کے سادہ، فطری اور آسان طریق کار کو خواہ مخواہ مکدّر اور مبہم بنایا جا سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ایک لا دینی نظام ہے اور اس کے علمبردار مذہب سے بیزار تھے جب کہ خلافت کی بنیاد ہی خدا، اس کے رسول اور آخرت کے تصور پر ہے اور اس کے اپنانے والے انتہائی متقی اور بلند اخلاق انسان تھے۔
ہمارے خیال میں جیسے دِن اور رات یا اندھیرے اور روشنی میں سمجھوتہ ناممکن ہے۔ بالکل ایسے ہی دین اور لا دینی یا خلافت اور جمہوریت میں بھی مفاہمت کی بات ناممکن ہے۔ لہٰذا اگر جمہوریت کو بہرحال اختیار کرنا ہے تو اسے توحید و رسالت سے انکار کے بعد ہی اپنایا جا سکتا ہے۔                 ؎
باطل دوئی پرست ہے حق لا شریک ہے                  شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
 کیا ووٹوں کے ذریعے اسلام لایا جا سکتا ہے؟
آج کے دَو ر میں بعض اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات اور نیک نیتی سے اسلامی انقلاب کے داعی لیڈر جب دیکھتے ہیں کہ اقتدار پر قبضہ کیے بغیر اسلامی نظام کی ترویج ناممکن ہے تو اِس کا حل انہوں نے یہ تلاش کیا ہے کہ نیک شہرت رکھنے والے امیدوار انتخاب کے لئے نامزد کیے جائیں اور عوام میں اسلامی تعلیمات کا پرچار ایسے نیک نمائندوں کی ہر ممکن امداد پر لوگوں کو ابھارا جائے تا آنکہ اسمبلی میں نیک لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ موجودہ جمہوری دور میں معاشرہ کی اصلاح اور اسلامی نظام کی ترویج کی یہی واحد صورت ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہم اس سلسلہ میں ان کی تائید نہیں کر سکتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ووٹوں کے ذریعہ نہ آج تک کبھی اسلام آیا ہے اور نہ آئندہ آسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوناممکن ہونا تو انبیاء اس پُر امن ذریعۂ انتقالِ اقتدار کو ضرور استعمال کرتے۔
بنی نوعِ انسان کے لئے قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ کی سنت سے بہتر دستور ناممکن ہے اور قرآن کریم کی تبلیغ کے لئے جو ان تھک اور جان توڑ کوششیں حضور اکرم ﷺ نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ کو جاں نثار اور مخلص پیرو کاروں کی ایک جماعت بھی مہیا ہو گئی جو اسلام کے عملی نفاذ کے لئے صرف تبلیغ و اشاعت اور پروپیگنڈا پر ہی انحصار نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی پوری پوری زندگیاں اسی قالب میں ڈھال لی تھیں۔ صحابہؓ کی جماعت گویا قرآنی تعلیمات کے چلتے پھرتے نمونے تھے لیکن تیرہ سال کی انتھک کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہو سکا کہ حضور اکرم ﷺ مکّہ میں اسلامی ریاست قائم کر لیتے۔
جب ایک بہترین دستور بھی موجود ہو اور اس کو عملاً نافذ کرنے والی جماعت بھی مثالی کردار کی مالک ہو۔ وہ تو اس دستور کو کثرت رائے کے ذریعہ نافذ نہ کر سکی تو آج کے دَور میں یہ کیونکر ممکن ہے؟
اسلامی نظام کی ترویج کے لئے اقتدار کی ضرورت سے انکار نہیں۔ لیکن رائے عامہ کو صرف تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنا اور اس طرح اسلامی انقلاب برپا کرنا خیالِ خام ہے۔ اِس کے لئے ہجرت، جہاد اور دوسرے ذریعے ہی اختیار کرنے پڑیں گے جیسا کہ انبیاء اور مجاہدینِ اسلام کا دستور رہا ہے۔
جماعت اسلامی پوری نیک نیتی سے اسلام نظامی کی داعی ہے اور جب سے اس جماعت نے عملاً سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے۔ مندرجہ بالا نظریہ کے مطابق نیک امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے۔ لیکن ہر الیکشن میں ہمیشہ پٹتی ہی رہی ہے۔ ۱۹۷۰ء میں جب یحییٰ خان نے انتخابات کرائے اور غالباً پاکستان کی پوری تاریخ میں یہی انتخاباتِ آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تھے تو انتخاب سے ایک دو روز قبل تک تمام سیاسی مبصرین اور اخبارات کی یہی رائے تھی کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا انتخابی مقابلہ برابر کی چوٹ ہے لیکن جب نتیجہ نکلا تو پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی جب کہ جماعت اسلامی کو صرف چار نشستیں مل سکیں۔
ایسے مایوس کن نتائج کی وجہ یہی ذہنی مغالطہ تھا کہ عوام الناس کو محض وعظ و تبلیغ سے نیک بنایا جا سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی زیادہ سے زیادہ یہ کچھ کر سکتی تھی کہ اسمبلی کی پوری نشستوں کے لئے اتنے ہی بڑے نیک اور صالح نمائندے کھڑے کریں لیکن انہیں ووٹ دینا تو عوام کا کام ہے۔ اس مقام پر جماعت کی پوری کارکردگی بے بسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ عوام کیا کثریت زبانی طور پر بے شک جماعت اسلامی کو نیک اور دیانتدار اور اسلام کی داعی جماعت تصوّر کرے لیکن اسے ووٹ نہیں دے گی۔ ووٹ تو کوئی شخص صرف اِس وقت دے سکتا ہے جب اپنے آپ پر اسلام کے نفاذ کو قبول کر لے۔
موجودہ طرزِ انتخاب کی تطہیر:
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نمائندے ایسے منتخب کیے جائیں جو اس کے اہل ہوں اور علاوہ ازیں ووٹ دینے کا حق بھی قرآن و سنت کے قاعدہ کے مطابق صرف صالح افراد کو ملنا چاہئے۔ گویا متقی لوگ ہی کھڑے ہوں اور صرف صالحین کو ووٹ کا حق ہو تو اس طرح بہتر نتائج کی پوری توقع ہے۔
ہمارے خیال میں اس جمہوری دور میں ووٹر پر عمل صالح کی پابندی لگا کر یہ نسخہ آزمانا مشکل سا نظر آتا ہے۔ جب تک کاروبارِ حکومت میں حصہ لینے کے عوامی حق‘‘ کے ذہن کو نہ بدلا جائے تب تک                    ؎
’’تاثر یامے رود دیوار کج‘‘
والا معاملہ ہی رہے گا۔ کثرت رائے کا اصول پھر پارٹیاں پیدا کرے گا۔ جو رائے عامہ منظم کریں گی۔ وہی ہتھکنڈے وہی خرابیاں۔ اور پارلیمنٹ میں پارلیمانی اور صدارتی نظام کے جھگڑے اور کثرت رائے کے فیصلے۔ آخر کیا کچھ اسلامی مزاج کے خلاف برداشت کیا جا سکتا ہے۔
پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ طرزِ انتخاب اور مرکزی اسمبلیوں کا قیام دراصل مغربی عیاشی کی ایک شکل ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس مدّ پر ہر چوتھے پانچویں سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قومی دولت اور وقت کے ضیاع کا تو اندازہ لگانا ہی بہت مشکل ہے۔ قوم میں اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جو پیدا ہوتی ہیں وہ مستزاد ہیں۔ پھر بھلا وہ کون سی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم اِس نظام کی ترمیم شدہ شکل سے چمٹے رہنے کی کوشش جاری رکھیں۔
3. موجودہ طرزِ انتخاب اور اجماعِ سکُوتی
جمہوریت نوازوں کی طرف سے اکثر یہ اعتراض بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ:
$11.      مغربی جمہوری نظام ہمارے ملک میں تقریباً ایک صدی سے رائج ہے لیکن علماء نے اس کے عدم جواز کا آج تک فتویٰ نہیں دیا۔
$12.      ۱۹۴۹ء میں جو قراردادِ مقاصد منظور ہوئی۔ یہ قرار داد تقریباً ۲۲ ممتاز علمائے دین کی مشترکہ جدوجہد سے منظور ہوئی جن کے سربراہ علامہ شبیر احمد عثمانی تھے۔ اس قرار داد کی منظوری پر سب علماء مطمئن  اور خوش تھے۔
$13.      ۱۹۷۳ء کے آئین میں بھی ممتاز علمائے کرام مثلاً مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد وغیرہ موجود تھے۔ جنہوں نے اس آئین کو صحیح اور پہلا اسلامی آئین قرار دیا۔
$14.      بہت سے ممتاز علمائے کرام خود اس طرزِ انتخاب میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
$15.      ان ساری سرگرمیوں کے باوجود آج تک (یعنی ۸۰-۱۹۷۹ء تک) کسی عالمِ دین نے اس کے خلاف فتویٰ نہیں دیا لہٰذا یہ اجماع سکوتی ہے جو منجملہ ادلّہ شرعیہ ایک قابلِ حجت امر ہے۔ اب اس کے خلاف آواز اُٹھانا:
ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی ویتبع غیر سبیل المومنین نولہ ما تولّٰی ونصلہ جھنم وساءت مصیرا۔ (۴/۱۱۵)
اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔
کی رُو سے ناجائز اور جماعت مسلمین میں انتشار اور تفرقہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
یہاں تین باتیں قابلِ غور ہیں۔
$11.      اجماعِ صحابہ کے حجت ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں۔ لیکن ما بعد کے ادوار کا اجماع کا حجت ہونا بذات خود مختلف فیہ مسئلہ ہے اور راحج قول یہی ہے کہ ما بعد کا اجماع امت کے لئے قابلِ حجت نہیں ہے۔
$12.      صحابہ کا اجماع تو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان کا زمانہ بھی محدود اور علاقہ بھی محدود تھا۔ لیکن ما بعد کا اجماع ثابت کرنا ہی بہت مشکل ہے۔ جب کہ امت اقصائے عالم میں پھیل چکی ہے، اور علماء بھی ہر جگہ موجود ہیں۔
$13.      مسئلہ زیر بحث پر واقعی اجماع ہے یا نہیں؟ بالخصوص ہمارے علاقہ پاکستان کے کیا سب علماء اس پر متفق ہیں؟
ہم صرف تیسری شِق پر غور کریں گے۔ اگر یہ اجماع ہی ثابت نہ ہو سکے تو باقی دو کی تفصیل و تشریح تحصیل حاصل ہو گی۔ ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ مغربی طرزِ انتخاب کے پانچ ارکان ہیں اور ان کی بنیاد عوام کی حاکمیت ہے ان میں سے ایک بھی حذف ہو جائے تو یہ نظام چل نہیں سکتا اب دیکھیے:
$11.      عوام کی حاکمیت کے بجائے اللہ کی حاکمیت تو ایسا بنیادی مسئلہ ہے جس میں کسی دینی رہنما کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ قرآن کریم میں بے شمار ایسی آیات ہیں جو اس مسئلہ میں قطعی حکم کا درجہ رکھتی ہیں۔ لہٰذا اِس مسئلہ پر علماء کی تصانیف بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ موجودہ جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ مقتدرِ اعلیٰ صرف انسان ہی ہو سکتا ہے۔ انسان سے ماوریٰ کوئی ہستی متصور نہیں ہو سکتی(تعارف مدنیت ص ۱۰۶ بیسواں ایڈیشن از پروفیسر محمد امین جاوید ایم اے (تاریخ سیاسیات)۔ اللہ کی حاکمیت کا زبانی یا تحریری اقرار کچھ سود مند نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ موجودہ طرزِ انتخاب کی تشکیل ہی اس نہج پر ہوتی ہے کہ وہ خواہ عوام کی حاکمیت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتی ہے لہٰذا یہ اجماع سراسر نامکمل ہے کیونکہ اس کی اصل بنیاد سے سب علماء اختلاف رکھتے ہیں۔
$12.      علامہ اقبال جنہیں سیاسی بصیرت کے لحاظ سے نظریہ پاکستان کا خالق اور دینی بصیرت کے لحاظ سے مفکر اسلام سمجھا جاتا ہے۔ جنہوں نے خود مغربی ملکوں میں گھوم پھر کر اس جمہوریت کا بغور مطالعہ کیا۔ انہوں نے نصف صدی پیشتر مسلمانوں کو جمہوریت کی قباحتوں سے متنبہ کر دیا تھا۔ مثلاً:
$11.      حق بالغ رائے دہی اور پھر ’’ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں۔
گریز از طرزِ جمہوری غلامِ پختہ کارے شو                         کہ از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانے نے آید
یہاں دو صد خر سے مراد عوام اور پختہ کار انسان سے مراد صاحب الرائے ہے۔ اِسی مضمون کو دوسرے شعر میں اس طرح ادا کیا ہے۔
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں                   بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
$12.      ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لئے پارٹیاں بنانے اور الیکشن لڑنے کے متعلق فرماتے ہیں:
الیکشن، ممبری کونسل، صدارت           بنائے خوب آزادی کے پھندے
میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ                               نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے
$13.      وہ اس نظام کو بھی آمریت اور استبداد ہی کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ملوکیت میں ایک آدمی خود سر اور خود رائے ہوتا ہے۔ جمہوریت میں اکثریتی پارٹی خدا بن بیٹھتی ہے۔ باقی پارلیمنٹ اور رعایا سب اس کی محکوم و مجبور و مقہور ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں       ؎

دیو استبداد، جمہوری قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

ہے وہی سازِ کہن، مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردے میں نہیں غیر از نوائے قیصری

اِس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو

آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

فرنگ آئین جمہوری نظام نہاد است

رسن از گردنِ دیوے کشاد است

دائے بر دستورِ جمہور فرنگ

مُردہ تر شد مردہ از صور فرنگ


حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس قومی ہیرو کی ہر سال بڑے جوش و خروش سے برسی منائی جاتی ہے۔ مقرر حضرات علامہ اقبال کے شعروں سے اپنی تقریر کو مزین کرتے ہیں اور مصنفین اس کے شعروں کے بغیر اپنی تحریر کو مستند و مکمل نہیں سمجھتے لیکن یہ عقیدت محض رسمی اور نمائشی ہی معلوم ہوتی ہے۔
علامہ اقبال کے بعد قائد اعظم پاکستان کے بانی اور قومی ہیرو ہیں۔ آپ کے ارشادات کا بھی بار بار تکرار کیا جاتا ہے۔ آپ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ۱۰؍ مارچ ۱۹۴۱؁ء کو جو تقریری فرمائی۔ اس کے درج ذیل اقتباس پر غور فرمائیے:-
’’میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ جمہوری پارلیمانی نظامِ حکومت، جیسا کہ انگلستان اور بعض دوسرے مغربی ممالک میں ہے برصغیر کے لئے قطعاً غیر موزوں ہے۔‘‘ (نوائے وقت ۷۹/۶/۱۶)
$14.      مورخ اسلام اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے اپنی تصنیف ’’تاریخ اسلام‘‘ جلد اول کے مقدمہ کے آخر میں (صفحہ ۳۷ تا ۴۶) ملوکیت، جمہوریت اور خلافت کے فرق کو واضح کر کے موجود جمہوریت کو باطل قرار دیا ہے۔
$15.      اس وقت سیاسیات کے کورس کی تین کتابیں ہمارے سامنے پڑی ہیں۔ یہ کتابیں کالجوں میں طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہیں۔ ان سب میں جمہوریت کے مقابلے نظام خلافت کا واضح تصور پیش کیا گیا ہے اور جمہوریت کو لا دینی نظام قرار دیا گیا ہے۔
$11.      تعارف مدنیت: پروفیسر محمد امین جاوید ایم اے سیاسیات، تاریخ          پہلا ایڈیشن ۱۹۶۵ء، تیسواں ایڈیشن ۱۹۷۸ء صفحہ ۱۰۱ تا ۱۰۶
$12.      کتاب شہریت: پروفیسر محمد سرور، پروفیسر محی الدین صدر شعبہ سیاسیات             پانچواں ایڈیشن                          ۲۴۴ تا ۲۴۸
$13.      اصول سیاسیات: پروفیسر صفدر رضا صدر شعبہ سیاسیات                     پہلا ایڈیشن ۱۹۶۵ء، پانچواں ایڈیشن ۱۹۶۷ء صفحہ ۴۴۸
$16.      مندرجہ ذیل علماء نے اپنی تصانیف میں سیاسی جماعتوں کے وجود (Party System) کو ناجائز قرار دیا ہے:
$1a.       پولیٹیکل تھیوری                         سید ابو الاعلیٰ مودودی                   صفحہ ۳۷
$1b.      اسلام کا اقتصادی نظام                  مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی         صفحہ ۸۹
$1c.       پولیٹیکل تھیوری                         ڈاکٹر عزیز احمد                             صفحہ ۱۷
$1d.      قرآنی قوانین                             غلام احمد پرویز                            صفحہ ۹ نیا ایڈیشن ص ۳۱ پرانا ایڈیشن
$1e.       اسلام کا نطام حکومت                   مولانا حامد اللہ انصاری                 صفحہ ۴۷۱
$1f.        اسلام کا سیاسی نظام                       مولانا محمد اسحاق سندھیلوی            صفحہ ۱۰۶
$1g.      دستورِ اسلام                               مولانا محمد ادریس کاندھلوی          صفحہ ۱۸
$17.      مندرجہ ذیل مستقبل تصانیف ہیں جو مغربی طرز انتخاب کو باطل قرار دیتی ہیں۔
$1a.       اسلام میں خلیفہ کا انتخاب             ڈاکٹر محمد یوسف پی۔ ایچ۔ ڈی
$1b.      اسلام میں مشورہ کی اہمیت            مفتی محمد شفیع صاحب کراچی
$1c.       امیر کہاں تک شوری کا پابند ہے؟   قاری محمد طیب مہتمم دار العلوم دیو بند
$1d.      اکثریت معیار حق نہیں                مولانا ابو الکلام آزاد
$18.      جزوی مضامین:
$1a.       درخواست دہندگی اور عہدہ کی طلب              تفہیم القرآن    زیر آیت اجعلنا للمتقین امام       مولانا ابو الاعلیٰ مودودی
$1b.       حق بالغ رائے دہی کا ابطال                            تفہیم القرآن             زیر آیت استخلاف       مولانا ابو الاعلیٰ مودودی
ہمیں ایسی مطبوعات یا مضامین کو مزید تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس ’’اجماع سکوتی‘‘ کے ابطال کے لئے یہ کچھ بھی بہت کافی ہے۔
آج کل قومی بحث کے عنوان سے نوائے وقت میں جو انٹرویو یا سیاسی لیڈروں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں ان میں کئی سیاسی رہنماؤں نے مغربی جمہوریت کے قطعاً غیر اسلامی ہونے کا بیان دیا ہے۔ حالانکہ وہ خود انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
$11.      مولانا معین الدین صاحب لکھوی
$12.      رفیق احمد باجوہ
$13.      رانا خداداد خاں
$14.      حافظ عبد القادر روپڑی
اور ایسے حضرات تو بہت زیادہ ہیں جو کسی سیاسی شہرت کے مالک نہیں لیکن وہ جمہوریت کے خلاف مضامین قلمبند کر رہے ہیں۔ اور ایسے مضامین نوائے وقت سمیت دوسرے اخبارات میں بھی چپ رہے ہیں۔
گویا آج سے پچاس ساٹھ سال پیشتر سے لے کر آج تک یہ آواز مسلسل سنائی دے رہی ہے کہ مغربی طرز انتخاب ازروئے اسلام ناجائز ہے تو پھر اِس پر اجماع سکوتی کا فتویٰ کیونکر درست ہے؟
اب رہا یہ سوال کہ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے ساتھیوں نے ۱۹۴۹ء کی قرار داد مقاصد پر اطمینان کا اظہار کیا تھا تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کے لئے ایک نسخہ تجویز ہوا تھا۔ یہ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اس نسخہ کا استعمال بھی کیا جائے گا مگر جب یہ امید بر نہ آئی تو پھر ہر طرف سے آوازیں اُٹھنے لگیں۔ یہ تو واضح ہے کہ نسخہ خواہ کتنا ہی قیمتی اور شفا بخش کیوں نہ ہو اگر استعمال ہی نہ کیا جائے اور اس کاغذ کے پرزے کو سنبھال کر رکھا جائے تو اس سے شفا کی توقع خیال باطل ہے۔
۱۹۷۳ء کے آئین میں جن علماء کی موجودگی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ سب ایک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے اطمینان کو وجہ جواز بنانا فضول ہے۔ سیاسی قائد کا اپنا مفاد اسی میں ہے کہ انتخاب کا سلسلہ چلتا رہے الا ما شاء اللہ۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جو سیاسی اور دینی رہنما جمہوری طرزِ انتخاب کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں وہ خود کیوں انتخابات میں حصہ لیتے رہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ برضا و رغبت الیکشن میں حصہ نہیں لیتے بلکہ بہ امر مجبوری انہیں یہ تلخ فریضہ سر انجام دینا پڑتا ہے تاکہ دین بیزار اور خراب عناصر کے راستہ کو بالکل آزاد نہ چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ اس بے دینی اور بد عنوانی کے سیلِ رواں کے سامنے جہاں تک ہو سکے رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہئیں۔ گویا ان لوگوں کا انتخاب میں حصہ لینا ایک دفاعی طریقۂ کار تھا۔ اور اَھْوَن الْبَلِیَّتَیْنِ کے نظریہ کے پیش نظر انتخابات میں حصہ لینا اس لئے گوارا کر لیا گیا کہ اگر انتخاب میں حصہ نہ لیا جائے تو اس کا نقصان اس سے بھی زیادہ ہو گا۔
سیاست دانوں کی جمہوریت سے وابستگی کی وجوہات:
مذکورہ مذہبی رہنماؤں کے علاوہ پیشتر سیاست دان ایسے ہیں جو بہرحال مغربی طرزِ انتخاب کو سینے سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
$11.      حقیقت یہ ہے کہ جمہوری نظام میں حاکمیت عوام کی نہیں ہوتی بلکہ ان پیشہ ور ریاست بازوں کی ہوتی ہے جو عوام کی رائے سے ہروقت کھیلتے اور اپنا اُلّو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ اس نظام میں سیاسی مقتدر اعلیٰ (یا طاقت کا سرچشمہ) تو عوام کو کہا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنا اختیار نمائندوں کو بذریعہ ووٹ منتقل کر دیتے ہیں تو ان کی منتخب شدہ ممبروں کی یہ پارلیمنٹ آئینی اقتدارِ اعلیٰ بن جاتی ہے۔
عوام کی اپنی رائے کچھ نہیں ہوتی نہ ہی وہ اہل الرائے ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور دولت کے وسائل پر قابض لوگ ان کی رائے کو بگاڑتے اور سنوارتے رہتے ہیں۔ عوام کی حیثیت اس خام مال کی ہوتی ہے جو چند سرمایہ داروں کو سیاسی اقتدارِ اعلیٰ سے اُٹھا کر آئینی اقتدارِ اعلیٰ کے ایوانوں میں لا کھڑا کرتا ہے تاکہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق قانون بنا سکیں اور اس مدت کے دوران عوام ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ البتہ آئینی اقتدار سے محروم سیاست دان چاہیں تو سیاسی اقتدار اعلیٰ یعنی عوام کو بیوقوف بنا کر آئینی مقتدر اعلیٰ کو مخصوص مدت سے قبل ہی ختم کر سکتے ہیں اور خود آئینی اقتدار اعلیٰ کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن پیشہ ور سیاست بازوں کا ایک اَور خول سیاسی مقتدر اعلیٰ (عوام) کو ایک بار پھر بے وقوف بنا کر نئے آئینی مقتدر اعلیٰ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ عوام کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا تصور یہی ہے کہ وہ بار بار بیوقوف بنتے رہیں۔ تاکہ ان کی حماقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہیں ہر بار بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔
یہی وہ جمہوریت کا دلچسپ کھیل ہے جس سے ہمارا سیاستدان بہرحال چمٹا رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ پھر چونکہ عوام بے علم ہونے کے باوجود اسلام کے شیدائی ضرور ہیں۔ اس لئے وہ آیت کی تاویل کر کے اور واقعات کو اِس طرح توڑ موڑ کر پیش کرے گا کہ جس طرف سے دیکھیں جمہوریت کے آئینہ میں اسلام ہی اسلام نظر آئے۔
$12.      سیاست ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ کوئی سیاست دان چند سالوں کے لئے نہ سہی چند دنوں کے لئے ہی کرسیٔ اقتدار پر متمکن ہو جائے تو اس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ وہ جائز وناجائز ذرائع سے اس قدر سرمایہ اکٹھا کر لیتا ہے کہ پھر عمر بھر اِسی سرمایہ سے سیاست بازی کا شوق آسانی سے پورا کرتا رہتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے خوف کاتصور تک نہیں ہوتا۔
$13.      بیشتر سیاسی رہنما بلکہ علماء کو بھی سرے سے اس بات کا علم ہی نہیں کہ مغربی جمہوریت اور نظامِ خلافت میں کتنا بعد ہے۔ مدت دراز سے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ جب سیاستدان اور علمائے دین دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اِسلامی قوانین کو منطبق نہیں کر پاتے تو مغرب کے بنے بنائے نظام کو اسلامی اصولوں پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ انہیں خود کچھ ذہنی کاوش نہ کرنی پڑے۔
$14.      اکثریت سیاست والوں کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اگر فی الواقعہ اسلامی نظام آجائے تو ان کے مفادات، اقتدار اور جاگیریں سب غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا سیاسی کاروبار اسلامی نظام کے نعرہ کے بغیر چل نہیں سکتا۔ لہٰذا اِس نعرہ کی آڑ میں جمہوریت کو ہی عین اسلام یا اسلام سے قریب تر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ جمہوریت اور اسلامی نظام کے فرق کو واضح کر کے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنا نہیں چاہتے۔
$15.      کچھ سیاست دان ایسے بھی ہیں جو بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور بیرونی طاقتوں  کا مفاد اِسی میں ہے کہ مسلمان اِسی لا دینی سیاست میں الجھے رہیں اور ان طاقتوں کو ملک میں عمل دخل کا موقعہ ملتا رہے۔ اِسی جمہوریت کے ذریعے وہ ملکوں پر دباؤ ڈالتے اور جب چاہتے ہیں کسی ملک کی حکومت کا آسانی سے تختہ اُلٹ دیتے ہیں۔ یہ ایجنٹ حضرات بھی چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا ساغر چلتا رہے۔ لہٰذا اِنہیں بھی اِس طرز انتخاب کو عوام میں مقبول بنانے کے اسلام کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
انہی عوام کا یہ اثر ہے کہ بھرپور پروپیگنڈہ کے ذریعہ جمہوریت کو عین اسلام بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس پروپیگنڈہ میں حق کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔
4. خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات
1. اقتدارِ اعلیٰ
نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک اور وہی قانون ساز ہے۔ ملت اسلامیہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے بنیادی قوانین اللہ تعالیٰ خود بذریعہ انبیاء انسانوں کو بتلاتا ہے۔ ایسی قانون سازی کا اختیار کسی نبی کو بھی نہیں ہوتا۔ جب کہ دوسرے تمام نظام ہائے سیاست میں مقتدر اعلیٰ کوئی ایک انسان یا ادارہ ہوتا ہے۔ ملوکیت اور آمریت میں یہ مقتدر اعلیٰ بادشاہ یا ڈکٹیٹر ہوتا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی مقتدر اعلیٰ تو عوام ہوتے ہیں اور قانونی مقتدر اعلیٰ پارلیمنٹ۔ اقتدار اعلیٰ کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ مثلاً:
فرانسیسی مفکر بودِن (Bodin) اس کی یوں تعریف کرتا ہے:
’’اقتدار اعلیٰ شہریوں اور رعایا پر ریاست کا وہ برتر اختیار ہے جو کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا۔‘‘
امریکی مصنف برجس (Burgess) اس کی یوں تعریف کرتا ہے۔
’’اقتدار اعلیٰ ہر فرد پر اور افراد کے تمام اداروں پر اصلی، حاوی، مطلق اور غیر محدود اختیار کانام ہے۔‘‘
اور فرانسیسی مفکر روسو (Roasseau) اس کی تعریف یوں کرتا ہے۔
’’اقتدارِ اعلیٰ مطلق، قطعی، ناقابلِ تقسیم اور ناقابلِ انتقال اختیار کو کہتے ہیں۔‘‘
ان تعریفوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مقتدر اعلیٰ میں مندرجہ ذیل خصوصیات کا پایا جانا ضروری ہے:۔
وہ مطلق العنان ہو، مستقل بالذات ہو، جامع، منفرد حیثیت کا مالک، ناقابلِ تقسیم، ناقابلِ انتقال اور ناقابلِ زوال ہو۔
اور یہ تو ظاہر ہے کہ ان صفات کی جامع اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی انسان یا ادارہ نہیں ہو سکتا۔ بادشاہ یا آمر کے اختیارات کو ایسے بہت سے خارجی عوامل محدود کر دیتے ہیں جو اس کے قابو میں نہیں ہوتے۔ جمہوریت میں کسی ایک ادارے کے پاس حقیقی حاکمیت موجود نہیں ہوتی۔
ہر ادارے کے ظاہری اختیار کے پیچھے کچھ دوسری با اختیار طاقتیں نظر آتی ہیں۔ اور یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوتا۔
اب دیکھیے کہ قرآن کریم نے جو مقدرِ اعلیٰ کا تصور پیش کیا ہے وہ مغربی مفکرین کے تصوّر سے کئی لحاظ سے مختلف ہے مثلاً:
$11.      ملکیت میں فرق: اسلامی نقطۂ نگاہ سے اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ حاکمیت کے اختیارات کا حامل نہیں۔ لیکن مغربی مفکرین کے نزدیک اقتدارِ اعلیٰ کا انسان ہونا ضروری ہے۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدرِ اعلیٰ(  تعارف مدنیت ص ۱۰۶، پروفیسر محمد امین جاوید ایم اے۔ (تاریخ و سیاست) تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
$12.      اختیارات میں فرق: اسلام میں نقطۂ نظر سے کسی فرد کو یا ادارہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خدائی قوانین میں ترمیم و تنسیخ کر سکے۔ جب کہ انسانوں نے قوانین میں آئے دِن ترمیم و تنسیخ کا سلسلہ جاری رہتا ہے کیونکہ اس پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔
$13.      اکثریت کی حکمرانی: جمہوریت کی اکثریتی پارٹی اپنی مرضی کے مطابق قانون بناتی ہے تو اقلیت کے حقوق و مفادات نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسلام نے اکثریت و اقلیت کی اس مصنوعی تقسیم کو ختم کر کے واحد قانون کا تصور دیا ہے۔ یہ واحد قانون اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حکم ہے جو ہر ایک کے لئے یکساں طور پر واجب الاطاعت ہے۔
اسلام میں اقتدار اعلیٰ کی خصوصیات:
$11.      صرف اللہ تعالیٰ ہی حاکم اعلیٰ ہے۔ کوئی فرد، خاندان، گروہ بلکہ پوری ملت بھی حاکمیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
$12.      اللہ تعالیٰ ہی قانون ساز ہے۔ کسی دوسرے کو قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں۔ اور نہ خدا کے بنائے ہوئے قانون میں رد و بدل کر سکتا ہے۔ حتّٰی کہ نبی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔
$13.      امیر یا اسلامی حکومت صرف اِسی صورت میں اطاعت کی مستحق ہے کہ وہ خدا کے قانون کو نافذ کرے۔
$14.      اسلام میں قانونی اور سیاسی حاکمیت میں کوئی امتیاز نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی سیاسی اور قانونی مقتدرِ اعلیٰ ہے۔
اقتدارِ اعلیٰ اور اسلام کی عالمگیریت:
انیسویں صدی کے اواخر میں سائنسی ترقی کے نتیجہ میں جب وسائل ابلاغ میں وسعت اور نقل و حرکت میں آسانی اور تیز رفتاری پیدا ہوئی تو تمام دنیا کو ایک عالمی برادری کا احساس پیدا ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ پہلی جنگِ عظیم میں بہت سے ممالک کو چار و ناچار حصہ لینا پڑا۔ جنگ کے اختتام پر عالمی امن کو برقرار رکھنے کی خاطر جمعیت اقوام (League of Nations) کا قیام عمل میں آیا جو بالآخر ناکام ثابت ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ طاقتور حکومتوں کے مفادات کمزور ملکوں کی حمایت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
جمعیت اقوام کی ناکامی کا ثبوت اِس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم بپا ہو کر رہی۔ اِس کے اختتام پر نئے جوش و خروش سے ایک دوسرا عالمی ادارہ اقوام متحدہ (U.N.O.) وجود میں آیا۔ اس ادارے نے عالمی امن کے لئے بہت سے قواعد مقرر کئے۔ عالمی عدالت بھی قائم کی۔ تحدید اسلحہ کی کوشش بھی کی اور دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ’’بنیادی حقوق کا چارٹر‘‘ بھی شائع کیا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود نتائج کچھ حوصلہ افزاء نہیں۔ وجہ وہی ہے کہ بڑی بڑی طاقتیں اپنے اَنا کو قائم رکھتی اور اپنے اپنے مفادات کی خاطر کمزور ملکوں کے حقوق و مفادات کو کچل دیتی ہیں جیسا کہ آج کل بالخصوص عالمِ اسلام سے ہو رہا ہے۔ اور یہ سب حالات آپ کے سامنے ہیں۔ باہمی آویزش پہلے سے کم نہیں زیادہ ہی ہوئی ہے۔
اب بڑے بڑے مفکرین اِس مصیبت سے نجات کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور ان کے فکر کا نتیجہ اِس شکل میں سامنے آرہا ہے کہ جب تک تمام دنیا میں ایک عالمگیر حکومت قائم نہ ہو، عالمی امن کی ضمانت دینا ناممکن ہے۔ بالفاظ دیگر اِس عالمی حکومت کا اقتدار اعلیٰ صرف ایک ہی ہونا چاہئے۔
اگر انسانی فکر صحیح راہ پر گامزن رہی تو اِسے جلد ہی یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اقتدارِ اعلیٰ صرف ایسی ہستی ہونی چاہئے جس کی نگاہ میں دنیا بھر کے انسانوں کے حقوق و فادات یکساں حیثیت رکھتے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ صفت کسی انسان میں یا ادارہ میں نہیں ہو سکتی۔ انسان میں اِس لئے نہیں کہ وہ بہرحال کسی نہ کسی قوم اور علاقہ سے تعلق رکھتا ہو گا اور اِسے بہرحال ترجیح دے گا اور ادارہ کی اس لئے نہیں کہ ان کے مفادات آپس میں ٹکراتے رہیں( یہی جمہوریت، ملوکیت اور اسلام کا بنیادی فرق ہے۔۔
ان حالات کے پیش نظر وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک دنیا اسلام کی طرف رجوع نہ کرے گی۔ عالمی امن کا قیام ناممکن ہے۔ اسلام ہی ایسا دین ہے جس میں عالمگیر دین کے تمام اوصاف موجود ہیں جس کی تفصیل آئندہ ’’ربط ملّت کے تقاضے‘‘ میں آئے گی۔
نظامِ اقتدار کے بجائے نظامِ اطاعت:
نظامِ خلافت کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حاکم اور محکوم کا وہ تصوّر سرے سے مفقود ہے جو آج کل کے نظام ہائے حکومت میں پایا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ خود ہے۔ قانون اور حکم اِسی میں پایا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ خود ہے۔ قانون اور حکم اِسی کا چلتا ہے۔ آئین تحریری صورت میں موجود ہے۔ حاکم اور رعایا سب اِسی کے تابع فرمان ہیں اور اسی کی منشا و مرضی معلوم کرنے اور اس پر عمل کرنے کے پابند۔ یہاں کوئی انسان کسی دوسرے انسان (حاکم یا اولو الامر) کا غلام نہیں کہ اس کے خود ساختہ قوانین و احکام کی اطاعت و پابندی لازم ہو۔ اس معاشرہ میں حق و باطل، عدل و انصاف اور حقوق و فرائض پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ جن کا حاکم کو بھی ایسے ہی علم ہوتا ہے جیسے اس کی رعایا کے ایک ایک فرد کو۔ خلیفہ یا امیر ان حقوق و فرائض میں اپنی طرف سے نہ کوئی اضافہ کر سکتا ہے نہ ہی ان میں کمی کا مجاز ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو یہی نہیں کہ اس کی اطاعت ناجائز ہوتی ہے، بلکہ اس کی مسندِ خلافت بھی معرض خطر میں پڑ جاتی ہے۔ بالفاظِ دیگر اِس معاشرہ کا حکمران کوئی مطلق العنان یا مقتدر اعلیٰ شخصیت نہیں ہوتی بلکہ قانونی لحاظ سے وہ عام آدمی کی سطح پر ہی ہوتا ہے۔ اس کی حکمرانی صرف ان معنوں میں ہے کہ وہ خدائی قوانین کی مشترکہ اطاعت کے لئے طریق کار وضع کرے اور رعایا میں اس کی تنفیذ کے لئے تدبیری قوانین بنائے اور ان کا نفاز کرے۔ وہ اللہ کے احکام پہلے اپنی ذات پر نافذ کرتا ہے پھر دوسروں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
اس تصورِ حیات کا فائدہ یہ ہے کہ رعایا حکمران کے ایسے قوانین و احکام کی بسر و چشم اطاعت کرتی ہے کیونکہ اس کا بھی عین مقصود یہی کچھ ہوتا ہے اس طرح راعی اور رعایا کے درمیان حاکم و محکوم کے نفرت انگیز تصور کے بجائے اخوت، ہمدردی اور مساوات جیسے ارفع جذبات فروغ پاتے ہیں۔
نظامِ اطاعت کی ہمہ گیری:
پھر اس مشترکہ ذمہ داری نظامِ اطاعت کی ہمہ گیری بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ارشادِ نبوی ہے:-
کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعیتہٖ (متفق علیہ)
تم سے ہر ایک حکمران ہے اور اپنی رعایا کے متعلق وہ مسئول ہے۔
یہاں کلکم کا لفظ خاصا توجہ طلب ہے۔ گویا اسلامی معاشرہ کا ہر فرد اپنی حد تک حکمران بھی ہے اور اس سلسلہ میں جواب دہ بھی۔ ایک گھر کا سربراہ افراد خانہ کے لئے۔ ایک شہر کا حکمران اپنے شہر کے لئے، اسی طرح علاقہ کا حکمران علاقہ کے لئے اور پوری ریاست کا حکمران پوری رعایا کے لئے خدا کے ہاں بھی مسئول ہو گا اور حقوق کے اتلاف یا زیادتی کی شکل میں عام رعایا بھی اس سے باز پرس کر سکتی ہے۔
ریاست اور قومیت کے بجائے ملت کا تصور:
اسلامی نظامِ ریاست میں رعایا کا وہ مفہوم مطلق نہیں پایا جاتا جو دوسرے نظام ہائے حکومت میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً ریاست کی جو مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ ان  کے مطابق ریاست کے عناصر کے ترکیبی اجزاء چار ہیں (۱) آبادی (۲) علاقہ (۳) حکومت اور (۴) اقتدارِ اعلیٰ۔ لیکن نظامِ خلافت کے لئے مخصوص علاقہ کی کوئی شرط نہیں ہے۔ نظامِ خلافت ریاست کی بجائے ملت کا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ کسی مخصوص علاقہ کی قید سے آزاد ہے اور اس کا مقصد عمدہ عالمی نظام قائم کرنا اور اس کی تعمیر و بلندی ہے۔ اسلام نے صرف اپنے وطن اور سرزمین کے لوگوں کو اپنا پیغام نہیں دیا۔ بلکہ یہ پیغام تمام دنیا کے لئے یکساں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:-
یَاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (۴۹/۱۳)
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔
اِسی طرح اسلام کے پیغامبر کو بھی محض اپنے وطن کی خدمت کے لئے نہیں بھیجا گیا تھا۔
ارشادِ باری ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّۃً لِلّنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا (۳۴-۲۸)
اور اے محمد! ہم نے تم کو تمام لوگوں کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
دنیا کا خدا رب العالمین ہے جس کی ربوبیتِ عامہ میں خصوصیت وطن و مقام نہیں ہے۔ اِس کا پیغام امن و نجات دنیا بھر کے لئے یکساں ہے۔ ملت کی تعریف میں جماعت، امیر اور ان دونوں کے مابین حقوق و فرائض کا تعلق تو پایا جاتا ہے لیکن وطن یا علاقہ کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ ارشادِ نبوی ہے۔
لا اسلام الا بالجماعۃ، ولا جماعۃ الا بالامیر ولا امیر الا بالسمع والطاعۃ۔
جماعت کے بغیر اسلام نہیں۔ اور امیر کے بغیر جماعت نہیں اور امیر کا حق ہے کہ اس کا حکم سنا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔
حضور اکرم ﷺ نے ملّتِ اسلامیہ کی تنظیم کا نقشہ پیش فرمایا ہے۔ اِس میں بھی علاقہ یا وطن کا تصور معدوم ہے۔ اِسی تصور کو علامہ اقبال نے یوں واضح کیا۔ ؎
ہر ملک مِلکِ ماست کہ ملک خدائے ماست
اسلام انسانیت کی وحدت اور اتحاد پر زور دیتا ہے اور یہ اصول دراصل اسلام کے عقیدۂ توحید کے ساتھ وابستہ ہے۔ انسانی وحدت قائم کرنے کے لئے ایک منتخب گروہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جو دوسرے انسان کی رہنمائی کر سکے۔ یہ منتخب گروہ مسلمان ہیں۔
تمام مسلمان ملّت اسلامیہ کے رکن ہوتے ہیں۔ اور ملّت کی تنظیم کے ذریعہ انسانیت کے اتحاد و ترقی کی کوشش کرتے ہیں۔ ملّت کی بنیاد توحید اور ختم نبوّت کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ توحید کا اصول اطاعتِ خداوندی کی دعوت دیتا ہے اور انسانی اعمال کی رہنمائی کرتا ہے۔ نبوت کی وجہ سے ملت کا نظم و ضبط قائم ہے۔ حضور اکرم ﷺ ملّت کے رہنما ہیں۔ اور آپ کی ذاتِ اقدس کی وجہ سے ملّت کا نظم و ضبط قائم ہے۔ ملّت کی تنظیم کا تصوّر قومیت کے اِس محدود نظریہ کو رد کرتا ہے۔ جس کی بنیاد جغرافیائی اتصال، یا نسل و رنگ اور لسانی اتحاد پر ہے۔ مسلم ملّت کی بنیاد دین اسلام ہے۔ اور اس لحاظ سے تمام مسلمان خواہ وہ کسی ملک، نسل یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔ ملّت کے اراکین متصور ہوں گے۔ علاقائی، نسلی، لَونی، لسانی، غرضیکہ کسی طرح کے بھی تعصب کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ وطن کے اختلاف کی بنیاد پر جداگانہ قوموں کا تصور بھی یورپ کی پیداکردہ لعنت ہے۔ وطن پرستی اور قوم پرستی موجودہ دَور کے سب سے بڑے معبود ہیں جن کی پرستش کی جا رہی ہے۔ علاقہ اقبال کے الفاظ ہیں:-
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن ہے اس کا وہ مذہب کا کفن ہے
ملت اسلامیہ کے افراد مختلف زبانیں بولنے، مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے، مختلف رنگوں کے حامل ہونے، مختلف علاقائی حدود میں بسنے اور مختلف لباس اور مقامی رسم و رواج رکھنے کے باوجود ایک ہی طرز پر سوچتے اور ایک ہی سر چشمۂ ہدایت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ان سب کو ملتِ واحدہ میں پرو دیتی ہے۔ دراصل اسلام ایک ایسے آفاقی نظام کے قیام کا خواہش مند ہے۔ جس میں نظریہ اور عمل میں مکمل اتفاق و یگانگت پائی جائے اور جو تمام بنی نوعِ انسان کے ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی کرے۔
غیر جماعتی نظام حکومت:
بعض حضرات جو اسلام میں سیاسی پارٹیوں کے وجود کے قائل نہیں وہ اسلامی نظام کو یک جماعتی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیونکہ آج کل دنیا میں دو ہی قسم کے نظام ہائے حکومت رائج ہیں۔
$11.      جمہوری نظام جس میں سیاسی پارٹیوں اور خصوصاً حزبِ اختلاف کا وجود لازمی قرار دیا گیا ہے۔
$12.      یک جماعتی نظام جیسا کہ کمیونسٹ یا سوشلسٹ ممالک میں رائج ہے۔
وہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ غیر جماعتی نظامِ حکومت (No Party System) بھی قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔
یک جماعتی حکومت بھی مخالف عنصر کو پہلے سے فرض کر لیتی ہے اگرچہ اِس عنصر کو بزوردبا کر معطل رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس نظام میں انتہائی غیر منصفانہ اقتصادی ناہمواری اور خطرناک مجلسی عدم مساوات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ دورِ حاضر میں تو یہ نظام کمیونسٹ یا سوشلسٹ ممالک میں رائج ہے۔ قرونِ اولیٰ میں فرعونِ مصر کی حکومت کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔
گو اسلامی معاشرہ میں بھی کاروبارِ حکومت کی کلیدی آسامیاں اور حق انتخاب و مشورہ میں اقلیتیں شامل نہیں ہو سکتیں لیکن وہ اس نظام حکومت میں مقہور و مجبور نہیں ہوتیں۔ وہ اپنا معاشرتی، قانونی اور معاشی حقوق مسلمانوں کے برابر ہی رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت میں اقلیتیں ہمیشہ حکومت کی خیر خواہ رہی ہیں اور معاون و مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
غیر طبقہ دارانہ حکومت:
اسلام نے معاشرتی و سیاسی لحاظ سے ہر مسلمان کا درجہ مساوی قرار دیا ہے۔ اگر کسی کو دوسرے پر افضلیت ہے تو فقط تقویٰ کی بناء پر ہے۔ لہٰذا اسلامی ریاست میں خلیفہ یا امیر کے خاندان یا قبیلہ کو شاہی خاندان کی حیثیت ہرگز حاصل نہیں ہوتی۔ ملوکیت میں تمام کلیدی اسامیوں پر شاہی خاندان مسلط ہوتا اور ہر طرح مادی فوائد حاصل کرتا ہے اور جمہوریت میں برسراقتدار پارٹی تمام کاروبار سلطنت پر چھائی ہوتی ہے اور یہ ان کا حق ہوتا ہے لیکن اسلام میں ایسے حق کی کوئی گنجائش نہیں۔ حتّٰی کہ امیر کے خاندان کے افراد کسی قسم کی سماجی یا مادی مراعات کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتے۔ اسلامی ریاست میں عہدے فقط ذاتی استعداد، تقویٰ اور دیانت کی بنا پر تفویض کیے جاتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اِس سلسلہ میں کمال احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرانے قبائلی طرزِ حکومت کے جاہلی نظریہ کی جڑ کٹ گئی اور امت بنیان مرصوص کی طرح متحد رہی۔
حضرت عثمانؓ کا ابتدائی چھ سالہ دَور بھی معاشرہ کے اِسی مزاج سے ہم آہنگ تھا لیکن بعد میں حضرت عثمانؓ کے خاندان بنو امیہ نے چالاکی سے کچھ ناجائز حقوق و مراعات حاصل کر لیے۔ حضرت عثمانؓ ذہنی طور پر اِس مادی دنیا کے مخمصول سے اس قدر دور تھے کہ دنیوی معاملات کے نظم و نسق میں حکمتِ عملی کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا ان کے لئے مشکل تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ فرشتہ سیرت اور رحم دل انسان تھے اور اپنے عزیز و اقارب سے حسنِ سلوک کرنے اور اپنے اختیار کو ان کے مفاد کے لئے استعمال کرنے کو نیکی تصور کرتے تھے (طبری جلد اول) یہ اموی عمال من مانی کاروائیاں کرنے اور ناجائز طور پر املاک غصب کرنے لگے جسے صحابہ اور عامۃ الناس نے شدت سے محسوس کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض مفسدہ پردازوں نے عوام کو بر انگیختہ کر دیا۔ بغاوت ہوئی جس کا خاتمہ حضرت عثمانؓ کی شہادت ہوئی۔ اس بغاوت کے بعض دوسرے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہی اقربا نوازی تھی۔
حضرت علیؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو انہوں نے ایسے تمام اموی عمال کو معزول کر دیا یا معزولی کے حکم نامے صادر فرما دیئے۔ حالانکہ اب یہ خاندان خلیفہ کے خاندان سے تعلق نہ رکھتے تھے۔ یہی سلوک اگر بتدریج ہوتا تو شاید کسی کو احساس تک بھی نہ ہوتا۔ حضرت علیؓ کے دَور میں حکومت کو استحکام نصیب نہ ہونے کے اسباب میں سے ایک اہم سبب اموی خاندان سے اس قسم کا سلوک تھا۔
گویا اسلامی ریاست اور معاشرہ نہ تو کسی خاندان سے ناجائز ترجیحی سلوک کو برداشت کرتا ہے اور نہ ہی توہین آمیز سلوک کو۔ نتیجۃً دونوں صورتوں میں بگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے۔
اخلاقی بنیادیں اور اضافی ذمہ داریاں:
اسلام میں سیاسی تنظیم ایک اخلاقی بنیاد رکھتی ہے یہاں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں بھی دوسری ریاستوں سے کافی زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک غیر اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں محض یہ ہیں کہ پولیس کے ذریعے امن بحال رکھا جائے۔ انتظامیہ کے ذریعہ حکومت کا کروبار چلایا جائے۔ اور فوج کے ذریعے سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ لیکن ایک اسلامی ریاست یہ ذمہ داریاں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہے۔ اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں۔
$11.      نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
$12.      ملک سے ظلم و جور ختم کر کے عدل و انصاف قائم کیا جائے۔
$13.      مکروہ کاموں کی روک تھام اورنیک کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
$14.      اور جو قوانین اس نظام کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں ان کو دور کیا جائے۔ اِسی کا نام جہاد ہے۔
اور اِس ساری تگ و دو کا مقصد عمدہ عالمی نظام قائم کرنا اور انسانیت کی تعمیر اورسربلندی ہے۔
یہ تو ظاہر ہے کہ ریاست کا آئین خواہ کتنا ہی بہتر ہو اور حکومت خوا کسی طرز کی ہو۔ اگر اس سے اخلاقی اقدار کو جدا کر لیا جائے تو کبھی مثبت نتائج بر آمد نہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی اخلاقی بنیاد اسلامی طرزِ حکومت کو دوسرے تمام اقسام سے ممتاز کرتی ہے۔
عدلیہ کی بالا دستی:
یوں تو تقریباً سب کی حکومتیں عدلیہ کی بالا دستی کا دعویٰ کرتی رہتی ہیں۔ لیکن نظامِ خلافت کے سوا اس دعویٰ پر پورا اترنا ناممکن ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نظامِ خلافت ہی واحد طرزِ حکومت ہے۔ جس میں مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔ جس طرزِ حکومت میں جو بھی مقتدرِ اعلیٰ ہو گا حقیقت میں بالا دستی اسی کی ہو گی۔ ملوکیت میں مقتدر اعلیٰ خود بادشاہ کی ذات ہوتی ہے۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا لفظ ہی حکم ہے۔ اور وہی قانون ہے۔
جمہوریت میں سیاسی مقتدر اعلیٰ تو عوام ہوتے ہیں اور آئینی مقتدر اعلیٰ پارلیمنٹ ہوتی ہے۔ عدلیہ محض پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابندی ہوتی ہے۔ حد یہ ہے کہ پارلیمنٹ خود یا وزیر اعظم یا صدر کو اگر عدالت کی طرف سے اپنے مفادات کے خلاف فیصلہ کرنے کا خطرہ ہو تو نیا قانون بنا کر عدلیہ کو بے بس کر سکتی ہے۔ اب ذرا انگلستان جیسے مہذب جمہوری ملک میں پارلیمنٹ کے اختیارات ملاحظہ فرمائیے:-
انگلستان میں اقتدار اعلیٰ پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ ڈائسی (Dycey) کے الفاظ میں ’’پارلیمنٹ قانونی طور پر ایسی با اختیار ہے کہ نا بالغ کو بالغ قرار دے سکتی ہے۔ ناجائز بچہ کو جائز بنا سکتی ہے اور اگر یہ چاہے تو ایک شخص کو اپنے مقدمہ میں خود ہی جج بنا سکتی ہے۔‘‘ (یہ سب عدلیہ کے فرائض ہیں)
پارلیمنٹ کے مقابلہ میں عدلیہ کی بے بسی ملاحظہ فرمائیے۔
عدالتیں صرف قانونی اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتی ہیں اور اس کے بنائے ہوئے قانون کی روشنی میں مقدمات کا فیصلہ کرتی ہیں۔ انگلستان میں عدالتوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے کسی قانون کو ناجائز یا خلاف ضابطہ قرار دے سکیں۔ وہ صرف اس کی ترجمانی کرنے کی مجاز ہیں۔‘‘
 ایک آزاد مملکت میں قانونی مقتدر اعلیٰ ایک مقررہ جماعت یا فرد ہوتا ہے۔ اس کا اختیار لا محدود ہوتا ہے اور اس کی منشاء کو نہ تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے احکام کو قوانین کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور کوئی ان کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اگرچہ وہ اخلاق اور مذہب کے اصول کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کریں۔ شہریوں کے جو حقوق ہوتے ہیں وہ قانونی مقتدر اعلیٰ کے عطاکردہ ہوتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ وہ جب چاہے ان حقوق کی تنسیخ کر سکتا ہے۔‘‘
(اصول سیاسیات ص ۱۰۶۔ صفدر رضا صدر شعبہ سیاسیات گورنمنٹ کالج سرگودھا)
’’اسمبلی کے ارکان کی تقاریر پر عدلیہ باز پرس نہیں کر سکتی۔‘‘ (آئین پاکستان: دفعہ ۱۱۱)
’’اسمبلی کی کسی بھی کاروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (تحریک آزادی اور دستورِ پاکستان ص ۴۵۲)
پاکستان کے آخر دستور (اپریل ۱۹۷۳ء) میں اب تک ایسی دفعات موجود ہیں۔ جن کی ُرو سے سربراہ مملکت، وزیر اعظم، گورنر اور وزرائے اعلیٰ پر نہ تو کوئی فوجداری مقدمہ دائر ہو سکتا ہے۔ نہ عدالت انہیں ایسے مقدمہ میں ملوث قرار دے سکتی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی سے بڑی عدالت انہیں طلب کر سکتی ہے۔
ہمارے قومی اسمبلی کے ارکان کو بھی اجلاس کی کاروائی سے ۱۴ دن پہلے اور ۱۴ دن بعد تک کوئی دیوانی یا محصولاتی عدالت یا انتخابی ٹریبونل طلب نہیں کر سکتے۔ نہ ہی ایسی کاروائی کر سکتے ہیں جس میں رکن اسمبلی فریق ہو۔ (دستورِ پاکستان ص ۴۵۳)
اور آج جب کہ مغربی طرزِ انتخاب کو شریعت بنچ میں چیلنج کیا گیا ہے تو جمہوریت نوازوں کی طرف سے یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ جب اس شریعت بنچ کو آئین میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار ہی حاصل نہیں تو اس کارروائی کا فائدہ ہی کیا ہے۔
اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر شریعت بنچ اس طرزِ انتخاب کو غیر شرعی قرار دے دے تو آئین کا کیا بنے گا جو اِسی طرزِ انتخاب کے بعد قومی اسمبلی نے بنایا۔ اور پھر پاکستان کی آئینی حیثیت کیا ہو گی؟ جب کہ یہ کثرت رائے کے معیارِ حق ہونے کے اصول پر وجود میں آیا تھا۔‘‘ یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں سب اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ آئینی اقتدار اعلیٰ (اسمبلی) یا سیاسی اقتدارِ اعلیٰ (عوام) کے مقابلہ میں عدلیہ کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
اب اسلامی عدلیہ کا حال دیکھیے: وہ سربراہ مملکت کو طلب ہی نہیں کر سکتی۔ اس کے خلاف بلا جھجک فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں خلفاء کو عدالت نے اس دوران طلب کیا جب کہ وہ خود خلیفہ تھے۔ جب سربراہِ مملکت عدلیہ کے سامنے یوں بے بس ہو تو دوسرے افراد کو کوئی قانونی رعایت یا گنجائش کیسے مل سکتی ہے۔ یہ محض اِس وجہ سے ہے کہ فرد کے حقوق و فرائض تو خود شریعت نے مقرر کر دیئے ہیں۔ اب ان میں نہ عدالت کمی بیشی کر سکتی ہے اور نہ سربراہِ مملکت۔ دونوں مقتدرِ اعلیٰ (اللہ تعالیٰ) کے سامنے ایک جیسے مجبور اور جوابدہ ہیں۔‘‘ عدلیہ پر کسی بڑی سے بڑی شخصیت کا قطعاً کوئی دباؤ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ’’قانون کی بالا دستی‘‘ اسلامی خلافت کی ایک ایسی امتیازی خصوصیت ہے جس کی کوئی دوسری حکومت مثال پیش نہیں کر سکتی۔
انسان کی غلامی سے نجات:
ملوکیت میں ایک انسان کی غلامی ہوتی ہے۔ جمہوریت میں پارلیمنٹ کی۔ اسی طرح دوسرے نظام ہائے حکمرانی میں جو فرد یا ادارہ مقتدر اعلیٰ ہو گا۔ وہ حاکم اور عوام یا رعایا اِس کی غلام ہو گی۔ بادشاہ یا ادارہ جب چاہے نئے احکام و قوانین جاری کر سکتا ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق معطّل کر سکتا ہے۔ نیز کئی طرح کی پابندیاں لگا سکتا ہے جب کہ خلافت میں امیر اور رعایا پر ایک ہی قانون نافذ ہوتا ہے۔ دونوں اللہ کے بندے اور غلام ہوتے ہیں۔ کوئی انسان  کسی حاکم یا ادارے یا دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ حضور اکرم ﷺ نے اہل نجران کے نام جو نامہ مبارک لکھا تھا۔ اس میں درج ذیل الفاظ قابلِ غور ہیں۔
من محمد النبی رسول اللّٰہ الی اسقف نجرانفانی احمد الیکم اِلٰہِ ابراھیم واسحٰق ویعقوب، امّا بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللّٰہ من عبادۃِ العبادِ الخ (البدایۃ والنھایۃ ج۵ ص ۵۳)
 یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف نجران کے سردار کے نام ہے۔ میں تمہارے سامنے ابراہیم، اسحٰق و یعقوب کے معبود کی حمد کرتا ہوں۔ زاں بعد تمہیں بندوں کی غلامی سے نجات دلا کر اللہ تعالیٰ کی غلامی اور عبدیت کی طرف بلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تآخر

پارلیمنٹ اور شُوریٰ کا تقابلی مطالعہ

ایک صاحب فرماتے ہیں:-
تعاونوا علی البر والتقویٰ کو پارلیمنٹری پارٹی کی اصل قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ پارٹیوں کو گوارا نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ ہر دو سال بعد جنگ جمل، ۵ سال بعد جنگ صفین اور دس سال بعد کربلا بپا کرتے رہیں۔
ملاحظہ فرمائیے کہ جب انسانی سوچ غلط راستے پر پڑ جائے اور اس میں تعصب پیدا ہو جائے تو کیا کیا گل کھلاتی ہے۔ صاحب موصوف کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا واقعات اس لئے پیش آئے کہ پارٹیوں کے وجود کو گوارا نہ کیا گیا۔ بالفاظ دیگر حضرت علیؓ کو چاہئے تھا کہ وہ حضرت معاویہ کی سیاسی کو برداشت کر لیتے۔ اِسی طرح حضرت معاویہ کو بھی چاہئے تھا کہ حضرت علیؓ کی سیاسی پارٹی کو برداشت کر لیتے تاکہ یہ ہنگامے نہ ہوتے۔ اور یہ دونوں فرق (حزب اقتدار اورحزب اختلاف) مل بیٹھ کر کوئی سیاسی سمجھوتہ کر لیتے۔
قطع نظر اِس بات کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ محض الگ الگ سیاسی پارٹیاں نہ تھیں بلکہ متوازی حکومتیں تھیں، تاہم اگر فرض کر لیں وہ الگ الگ پارٹیاں ہی تھیں تو کیا ایسی متحارب پارٹیوں کا وجود ملّت اسلامیہ میں برداشت کرنے کا کوئی جواز ہے؟ یا محض اِس وجہ سے برداشت کر لینا چاہئے کہ جمہوری طرز کا تقاضا یہی کچھ ہے۔ کیا ان معرکوں کی اصل وجہ مسلمانوں کے سیاسی اختلاف سے زیادہ باغی اور بدمعاش عنصر کی مفسدہ پردازیاں نہ تھیں؟ جو مسلمان اپنی باطنی خباثت کی وجہ سے فریقین کو جنگ میں صرف اس لئے جھونک رہے تھے کہ صلح و آشتی کی صورت میں ان کی خیر نہیں؟ مندرجہ بالا معرکوں کے اسباب و علل سے متعلق ہمیں زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم سردست یہ پوچھتے ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ جہاں سیاسی پارٹیوں کا وجود گوارا ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ وہاں تو ’’سب ٹھیک‘‘ ہی رہتا ہے۔یہ پاکستان دو لخت کیسے ہو گیا۔ نجیب اور بھٹو میں کیا اختلاف تھا کہ ملک ہی تقسیم کرنا پڑا۔ وہاں مسلمانوں کا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا۔ یہ لوگ تو پارٹیوں کے وجود کو گوارا کرتے ہیں۔ اگر آپس کے اختلاف حل کرنے کا یہی طریقہ بہترین ہے تو پھر اسمبلیوں میں کرسیوں سے جنگ کیوں ہوتی ہے اور حزب اختلاف کی غنڈوں سے مرمت کیوں کروائی جاتی ہے؟
پھر کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو موجودہ پارلیمنٹ کو شوریٰ کا نعم البدل قرار دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ بے شک اسے شوریٰ سے بہت مفید ادارہ سمجھیں مگر خدارا درمیان میں اسلام کا نام لا کر عوام کو گمراہ نہ کریں۔ اگر اسلام کا نام لینا ہے تو پھر اسلامی اقدار کے مطابق یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا ایسے ادارہ کے وجود کا جواز بھی ہے یا نہیں؟ ذیل میں ہم ان دونوں اداروں کا موازنہ پیش کرتے ہیں۔
نظام خلافت میں شوریٰ کی حیثیت قطعاً وہ نہیں ہے جو جمہوری نظام میں مقننہ کی ہے۔ ان دونوں کی بنیاد الگ الگ، اصول تشکیل الگ اور اغراض و مقاصد الگ، غرض کوئی چیز ایک دوسرے سے نہیں ملتی۔ اب ہم اس فرق کو ذرا تفصیل سے واضح کریں گے۔
اقتدارِ اعلیٰ:
پارلیمانی نظام میں آئینی اقتدار اعلیٰ خود پارلیمنٹ ہے اور سیاسی اقتدارِ اعلیٰ عوام ہوتے ہیں۔ جب کہ شوریٰ کا اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم اگر اپنے آئین کے دیباچہ میں سنہری اور جلی الفاظ میں یہ درج کر دیں کہ پاکستان کا مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے لیکن اگر طرزِ انتخاب کے بنیادی اصول جمہوری ہی رہیں گے یعنی بالغ رائے دہی اور کثرت رائے پر فیصلہ تو یہاں اللہ کی حاکمیت کبھی قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ یہاں اسلام کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی جا چکی ہے (ملاحظہ ہو کیا جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے)۔
پارلیمنٹ کا کام عوام کی خواہشات کے مطابق قانون سازی ہے:
اگر ۱۰۰ میں سے ۵۱ ممبر یہ کہہ دیں کہ سود کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی تو سود آئینی طور پر جائز ہو جائے گا۔ جب کہ شوریٰ کو قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ وہ قرآن و سنت کی شکل میں پہلے ہی موجود ہے۔ ذیلی اور انتظامی قوانین و ضوابط کے لئے قانون فہمی اور نفاذ کے لئے صرف ضوابط کا کام اس کے ذمہ ہوتا ہے۔
ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ قرار دادِ مقاصد منظور ہونے کے بعد شریعت کے منافی قانون بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جن باتوں کے متعلق قرآن و سنت سے واضح احکام مل سکتے ہیں وہاں مشورہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ مشورہ صرف مباح امور میں کیا جاتا ہے۔
لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قرارِ داد مقاصد کی منظوری  ۱۹۴۹؁ء کے بعد سے لے کر آج تک ہمارے آئین میں بے شمار ایسی دفعات موجود ہیں جو قرآن و سنت کے منافی ہیں۔ حالانکہ کئی بار اسلامی مشاورتی کونسلیں اور نظریاتی کونسلیں اِسی غرض سے تشکیل دی جاتی رہی ہیں پھر یہی نہیں بلکہ آئندہ ایسے نئے قوانین بھی بنتے رہے جو صریحاً قرآن و سنت کے مناقی تھے۔ مثلاً عائلی قوانین جو ایوب خان کے دور میں پاس ہوا۔ جس کے خلاف علماء نے احتجاج بھی کیا تھا۔
ہمارے آئین میں ایسے قوانین کی فہرست بہت طویل ہے جو قرآن و سنت سے متصادم ہیں مگر ہمارے جمہوریت پسندوں کو نظر نہیں آتے۔ ایسے غیر شرعی قوانین کی موجودگی کا اس سے واضح ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے شریعت بنچ، شرعی وفاقی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے محض اس غرض سے قائم کیے ہیں کہ ہمارے اس آئین کی شریعت کے مطابق تطہیر کی جائے۔
اہلیت:
شوریٰ  کے ممبر فہم و بصیرت والے پختہ کار اور نیک اور متقی ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے سامنے جوابدہی کے تصور کو مدّ نظر رکھ کر حتی الامکان خیر خواہی سے مشورہ دیتے ہیں۔ اور چونکہ اس مشاورت کا مقصد اقرب الی الحق پہلو کی تلاش اور اللہ کی رضا کی جستجو ہوتا ہے۔ لہٰذا ان میں نہ کسی مسئلہ پر اپنی رائے پر اصرار ہوتا ہے اور نہ ہی اَتَا کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبر کی اہلیت یہ ہے کہ اس کی عمر ۲۵ سال سے کم نہ ہو اور اس کا نام فہرست میں درج ہو۔ نیز پچھلے ۵ سال کے عرصہ میں کسی عدالت سے فوجداری جرم میں سزا یافتہ نہ ہو۔ اس کی سزا کی مدت ۲ سال قید ہے۔ (آرڈر نمبر ۵، ۱۹۷۷؁ء آرٹیکل نمبر ۱۰)
یہ صاحب چور ہوں، خائن ہوں، ڈاکو، ملک دشمن یا غدّار ہوں کوئی چیز ان کے انتخاب میں آڑے نہیں آسکتی۔
علمی لحاظ سے خواہ وہ قرآن کریم کا ایک لفظ بھی نہ جانتا ہو۔ اسلامی تعلیمات سے یکسر نابلد ہو۔ نظریاتی لحاظ سے خواہ وہ نظریہ پاکستان کا ہی دشمن ہو، سوشلزم کا حامی ہو۔ انتقام اور خونی انقلاب کے نعرے لگاتا ہو۔ بیرونی حکومتوں کا ایجنٹ ہونا بھی ثابت ہو۔ لسانی اور علاقائی تعصبات کو خوب بھڑکاتا ہو۔ کوئی بات اس کی انتخابی اہلیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ اندازہ لگائیے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے قانون ساز ادارہ میں جہاں قرآن و سنت سے استنباط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ صاحب کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ کیا یہ پوری قوم اور خود اسلام سے بدترین مذاق نہیں؟ ایسے لوگ اپنے پیسہ اور علاقہ میں غنڈہ گردی کے اثر و رسوخ کی بنیاد پر اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس سینکڑوں کی تعداد میں سے دس آدمی بھی بمشکل ایسے نکل سکیں گے جو معاملہ زیر بحث کو سمجھ کر کچھ مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔
علاوہ ازیں اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا وجود اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ کبھی حزبِ اقتدار کو خیر خواہی سے مشورہ نہیں دے سکتا۔ باہمی رقابت اور اَنَا کا مسئلہ یہ دونوں باتیں مثبت انداز فکر اختیار کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور ہمارے خیال میں ہمارے تنزل و انحطاط کی سب سے بڑی وجہ یہی طریق مشورہ اور پارلیمان ہے۔ ہم نے پہلے ۳۰ سال میں اصل منزل کو کھویا ہی ہے کچھ پایا نہیں۔
پارلیمنٹ سرمایہ دار اور عیار لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے پلیٹ فارم سے سرمایہ بولتا ہے۔ سرمایہ یا پارٹی فنڈ کے بغیر جمہوریت ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ پارلیمنٹ سرمایہ دار کا تحفظ کرتی ہے اور سرمایہ دار اس کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کا نظام ہے۔ ذہانت و فطانت کا نہیں۔ اس سے جمہوریت کے لبادے میں امراء کی حکومت قائم ہو جاتی ہے جو عوام کے نام پر غریب عوام کا استحصال کرتی ہے جب کہ شورائی نظام میں امیر و غریب کا کوئی مسئلہ نہیں وہاں صرف اہل تقویٰ کو آگے لایا جاتا ہے تاکہ وہ امورِ سلطنت کو اللہ کی رضا و مرضی کے مطابق سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ شورائی نظام میں صاحب الرائے اور متقین کی تلاش و جستجو کرنا پڑتی ہے لیکن پارلیمانی نظام میں ہر دولت مند اقتدار حاصل کرنے کے لئے خود بے چین نظر آتا ہے۔
اسمبلی اور دوسرے بلدیاتی اداروں کے ممبروں (عوام کے نمائندگان) میں عملاً مندرجہ اوصاف کا موجود ہونا ضروری ہے۔
$11.      سرمایہ دار اور اقتدار کا بھوکا ہو۔ یہ سرمایہ خواہ وہ اپنی گرہ سے خرچ کرے یا اسے پارٹی مہیا کرے۔
$12.      عیار ہو، اپنے گن گانے اور حریف کی تذلیل کے فن سے آگاہ ہو۔ جائز و ناجائز کاموں میں کود جانے کی جسارت رکھتا ہو۔ جوڑ توڑ کے فن سے بھی آشنا ہو۔ خوف خدا اور اسلامی اقدار اس کے سامنے ہیچ ہوں۔
$13.      تھانہ اور عدالتوں میں اسے دسترس ہو تاکہ بدمعاش لوگوں کی سرپرستی کر سکے۔ ان کے جرم پر پردہ ڈال کر انہیں بے گناہ ثابت کر کے انہیں سزا سے بچا سکے تاکہ یہی لوگ انتخابات کے دوران اس کے دستِ راست اور ممد و معاون ثابت ہوں اور اس کا حساب چکا سکیں۔ اس طرح یہ دونوں مل کر عوام کے حقوق کا استحصال کرتے ہوں۔
اگر ہمارے نمائندہ میں ان اوصاف میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہو تو اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اہلِ شوریٰ کا نعم البدل ہے۔
کثرتِ رائے معیارِ حق کا اصول:
بہت بڑی قباحت ہے جو مندرجہ بالا صورتِ حال کے پیش نظر گوارا کرنا پڑتی ہے۔ ورنہ اندریں صورتِ حال کسی معاملہ کا فیصلہ ہونا ناممکن ہے۔ جموری نظام میں یہ اصول بہ امر مجبوری اختیار کیا گیا ہے جس کی حیثیت بنائے فاسد علی الفاسد سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس اصول سے معاملہ کا نزاع تو ختم ہو سکتا ہے لیکن راہِ صواب سے اس کا کچھ تعلق نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس شوریٰ میں مشورہ طلب معاملہ کے لئے دلیل کی جستجو ہوتی ہے۔ میر مجلس ہر ممبر سے دلیل کا خواہاں ہوتا ہے پھر جس سے دلیل میسر آجائے۔ وہ خواہ اقلیت کی بجائے صرف فرد واحد ہی ہو، جب میر مجلس اس پر مطمئن ہو جائے تو اس کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہے۔
پارلیمنٹ میں چونکہ فیصلہ کی بنیاد کثرت رائے ہے۔ اس لئے کثرت رائے حاصل کرنے کے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری پارٹیوں کے ممبروں کو ہم رائے بنانے کے لئے گٹھ جوڑ شروع ہو جاتا ہے جو مزید مناقشت اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔ لیکن شوریٰ ایسی قباحتوں سے پاک ہوتی ہے اور مشورہ پوری خیر خواہی سے دیا جاتا ہے۔ گویا پارلیمنٹ کے ممبر انتخاب کے بعد نئے سرے سے جرائم کے ارتکاب میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شوریٰ کے ممبروں کا اصل مقصد ہی جرائم کا استیصال ہوتا ہے۔
حق انتخاب اور طریقِ انتخاب:
پارلیمنٹ کے ممبر کاروبارِ حکومت میں اپنا حق سمجھ کر نمائندگی کے لئے درخواست گزارتے ہیں۔ فیصلہ چونکہ کثرت رائے پر ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں اپنی تشہیر اور دوسرے رقیبوں کے مقابلے میں اپنی اہلیت اور پاکیزگی ثابت کرنے کے لئے اور دوسرے فریق کی تذلیل کے لئے اشتہارات، پوسٹر، گھر گھر جا کر ووٹ کے لئے بھیک مانگنا، جلسے جلوس وغیرہ سر انجام دینے کے لئے کثیر مصارف برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ وہاں کئی قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے بھی استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جو قرآن و سنت کی رُو سے ناجائز اور قبیح جرائم ہیں۔ جب منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں تو انہیں سب سے زیادہ فکر اس زر کثیر کی ہوتی ہے جو اس مہم پر صرف ہوا ہے۔ اس کی تلافی کے لئے وہ کئی طرح کی بد دیانتیوں کے مرتکب ہوتے اور خزانہ عامرہ پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔
اس کے برعکس شوریٰ کے ممبروں کا انتخاب بالکل سادہ اور فطری فریق پر ہوتا ہے۔ امیر مشورہ سے حسب ضرورت مشیروں کا انتخاب (Selection) کر لیتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی اہلیت کی بنا پر از خود ہی معاشرہ کی سطح پر ابھر آتے ہیں۔ لہٰذا ان کے انتخاب میں دقت نہیں ہوتی۔ اس سلسلہ میں کسی مخصوص علاقہ کے لوگ بھی ایسے آدمیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اور ان کے عزل و نصب میں عوام کی اس آزادانہ رائے کو بھی خاصا دخل ہوتا ہے۔ ان کے انتخاب کے لئے کسی مصنوعی طریقہ یا انتخابی مہم کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہاں مشیر کا نہ تو دولت مند ہونا ضروری ہوتا ہے۔ نہ اسے کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا انہیں نہ تو مذکورہ جرائم کا مرتکب ہونا پڑتا ہے اور نہ ہی رشوت اور غبن کے ذریعہ انہیں اپنی دولت بڑھانے کی فکر ہوتی ہے۔
مدت منصب:
جمہوریت میں پارلیمنٹ کی ممبر شپ ایک حق ہے۔ اب اِسی طرح کے دوسرے حق دار اِس انتظار میں رہتے ہیں کہ انہیں یہ حق کب نصیب ہوتا ہے۔ لہٰذا اِس منصب کی مدت معین کر دی گئی ہے۔ جب کہ شوریٰ کی ممبر شپ حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اور یہ مشیر خدا کے سامنے جوابدہی کے تصوّر کے سامنے رکھ کر اپنا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ لہٰذا یہاں مدت منصب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
امیر اور شُوریٰ کا انتخاب
اولو الامر کے اوصاف
مسلمان ہونا:
ایک اسلامی ریاست کے خلیفہ یا امیر اور اسی طرح باقی سب اولو الامر، جن میں اہلِ شوریٰ یا ارباب حل و عقد، انتظامیہ اور عدلیہ کے ممتاز ارکان شامل ہیں، کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اسلامی ریاست ایک نظریاتی ریاست ہوتی ہے اور وہ لوگ جو اس نظریہ پر ایمان ہی نہ رکھتے ہوں وہ اس کا کاروبار کیسے چلا سکتے ہیں۔ ارشادِ باری ہے:
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِیْ الْاَمْرِ مِنْکُمْ (۴/۵۹)
اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خبَالًا (۳/۱۱۸)
اے ایمان والو! نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا۔ وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔
گو امیر یا اولو الامر کی یہ صفت بادی النظر میں چنداں اہم معلوم نہیں ہوتی لیکن اس کی اہمیت اور وضاحت اس لحاظ سے ضروری ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان جو قرارداد مقاصد مارچ  ۱۹۴۹؁ء کی رو سے اسلامی جمہوریہ پاکستان بن چکا تھا، کے دستور ۱۵۵۶؁ء اور  ۱۹۶۲؁ء میں جب یہ شق شامل کی گئی کہ ’’صدر مملکت کا مسلمان ہونا ضروری ہے‘‘ تو قومی اسمبلی میں بعض مسلمان حضرات نے ہی اس پر اعتراض کیا تھا کہ محض مذہبی اختلاف کی بنا پر غیر مسلموں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس شرط کی موجودگی میں خود ملک بھی ایک قابل ترین شخص کی خدمات سے فائدہ اُٹھانے سے محض اس لئے محروم رہ سکتا ہے کہ وہ غیر مسلم[1] ہے۔‘‘ پھر یہ بھی درج ہے کہ قائم مقام صدر، جو قومی اسمبلی کا سپیکر ہوتا ہے، کے لئے ضروری نہیں کہ وہ مسلمان[2] ہو۔ غور فرمائیے ایسی پارلیمنٹ اسلام کی کیا خدمت کر سکتی ہے؟
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہماری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) جسٹس کارنیلیس رہ چکے ہیں جو ایک عیسائی تھے اور آج کل بھی سپریم کورٹ کے ایک سینئر جسٹس دراب پٹیل عیسائی ہیں۔ اِسی طرح دوسری کئی کلیدی اسامیوں پر غیر مسلم یا کمیونسٹ لوگ براجمان ہیں۔ یہ چیز اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے اور ہمارے دستور کی اس دفعہ کے بھی خلاف ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اقرار کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم جمہوریت کو سینہ سے لگائے ہوئے جس کی بنیاد ہی لا دینیت پر ہے۔
علوم قرآن و سنت میں مہارت:
امیر اور اولو الامر سب کے لئے ضروری ہے کہ علوم قرآن و سنت کے اس قدر عالم ہوں کہ احوال و ظروف کے مطابق نصوص سے استنباط کا ملکہ رکھتے ہوں: ارشادِ باری ہے۔
وَاِذَا جَآءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمَنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ وَلَوْ رُدُّوْہُ اِلَیْ الرَّسُوْلِ وَاِلٰیْ اُوْلِیْ الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلَمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ (۴/۸۳)
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اِس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اِس کی تحقیق کر لیتے۔
متقی ہونا:
امیر یا اولی الامر کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ علومِ قرآن و سنت میں ماہر ہو بلکہ اس کا عامل اور متقی ہونا بھی ضروری ہے۔ جتنا کوئی زیادہ پرہیزگار ہو گا اتنا ہی اسلامی معاشرہ کا معزز رکن شمار ہو گا۔ بموجب ارشاد باری تعالیٰ۔
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (۴۹/۱۳)
اور خدا کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔
ذمہ داریوں کو نباہنے کی اہلیت:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھْلِھَا (۴/۵۸)
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اس کے مستحق کے حوالے کرو۔
عمر کی پختگی:
اگر چالیس یا اسکے لگ بھگ ہو تو بہتر ہے۔ کیونکہ انسان چالیس کے بعد پختہ عمر ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہُ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً (۴۶/۱۵)
یہاں تک کہ انسان بھر پور جوان ہوتا اور ۴۰ سال کی عمر کو پہنچتا ہے۔
مندرجہ بالا پانچ اوصاف ’’ہر صاحب امر‘‘ میں پائے جانے چاہئیں۔ اب اولی الامر کی تین شاخیں ہو جاتی ہیں۔
$11.   اہلِ شوریٰ:
کی نمایاں صفت یہ ہونی چاہئے کہ علوم قرآن و سنت میں مہارت کے علاوہ وہ ممارست کی بنا پر اجتہاد و استنباط کر سکتے ہوں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اہلِ شوریٰ کی یہ نمایاں صفت ہونی چاہئے۔
$12.   انتظامیہ کے اولو الامر:
بالخصوص فوج کے افسروں کے لئے جسم کا مضبوط اور بہادر ہونا بھی ضروری ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِیْ الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (۲/۲۴۷)
اللہ نے تم میں سے اِسے انتخاب کیا اور اسے علم اور جسم (طاقت) میں کشادگی دی گئی ہے۔
$13.   قاضی کے اوصاف:
اور جو اولو الامر عدلیہ سے تعلق رکھتے ہوں تو ان میں صاحب بصیرت اور قوت فیصلہ کا ملک ہونا، یہ صفات بھی ضروری ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وفَصْلِ الْخِطَابِ
ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن بات کرنے کی صلاحیت دی۔
امام بخاریؒ نے کتاب الاحکام میں ایک باب یہ بھی باندھا ہے کہ قاضی کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں؟ وہ لکھتے ہیں:-
وقال الحسن اخذ اللّٰہ علی الحکام اَنْ                                       امام حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے حاکموں سے یہ عہد لیا۔
لا یتبع الھوی                                                                               (۱) خواہش نفس کی پیروی نہ کریں (غیر جانبدار رہیں)
ولا یخشوا الناس ولا یشتروا بایاتی ثمنًا                  (۲) اللہ کے احکام کو تھوڑے سے دنیوی مفاد
قلیلا۔                                                                                           (رشوت وغیرہ) لے کر پس پشت نہ ڈالیں۔
اور خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزیز قاضی کے لئے مندرجہ ذیل شرائط ضروری قرار دیتے تھے۔
وقال مزاحم بنُ زُفَرَ قَالَ لَنَا                                                      اور مزاحم بن زفر نے کہا کہ ہم سے عمر بن عبد العزیز
عمرُ بْن العزیزِ: خَمْسٌ اذا اَخْطَأ                                                  خلیفہ نے کہا کہ قاضی کے لئے پانچ باتیں ضروری
القَاضِی مِنْھُنَّ خَصْلَۃً کَانَتْ فِیْہِ                                                ہیں۔ ان میں سے ایک بھی نہ ہو تو
وصْمۃٌ اَن یکون فَھِیْمًا                                                                   (۱) سمجھ والا ہو (قرآن و حدیث میں فہم سلیم رکھتا ہو)
حلِیْمًا                                                        (۲) بردبار ہو۔
عَفِیْفًا                                                     (۳) حرام کاموں اور بدکاری سے پاک ہو۔
صَلِیْبًا                                                     (۴) حق و انصاف پر پکا اور مضبوط ہو۔
عالمًا سؤلا عَنِ الْعِلْمِ۔                                                             (۵) عالم ہو اور علم کی باتیں دوسرے اہل علم سے
(بخاری۔ کرتاب الاحکام باب مذکور)                              تحقیق کرتا ہو۔


سربراہِ مملکت کا انتخاب
اولی الامر کی مندرجہ بالا صفات کے علاوہ سربراہِ مملکت میں ایک صفت کا اضافہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ اسے عوام کا اعتماد بھی حاصل ہو جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے سقیفہ بنی ساعدہ میں الائمۃ من قریش کہہ کر اس اصول کی تصریح فرما دی تھی۔ امیر کا انتخاب اہل شوریٰ ہی کی ذمہ داری ہے اور اہلِ شوریٰ چونکہ امت کے بہترین آدمیوں پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے عموماً شوریٰ میں سے ہی اَتْقٰی اور اہل تر آدمی کو امیر منتخب کر لیا جاتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ کو نامزد فرمایا۔ حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ شوریٰ کے ممبر بھی تھے اور قاضی القضاۃ کے عہدہ پر بھی فائز تھے۔
حضرت عمرؓ نے جن چھ آدمیوں کو خلافت کے لئے نامزد فرمایا یہ سب آپ کی شوریٰ کے ارکان اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ ایک اور صحابہ سعد بن زید بھی آپ کی کے رکن اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور بقید حیات تھے لیکن وہ حضرت عمرؓ کے رشتہ دار تھے۔ لہٰذا ان کا نام اس کمیٹی میں شامل نہیں کیا۔
اب ذرا صدر پاکستان کی اہلیت کا بھی مطالعہ فرما لیجیے:
$11.      مسلمان ہو (۱۹۶۲ء سے پہلے مسلمانی بھی شرط نہ تھی)
$12.      ۳۵ سال سے کم عمر نہ ہو اور اس فہرست  میں اس کا نام درج ہو۔
$13.      قومی اسمبلی کا ممبر بننے کا اہل ہو۔ اور قومی اسمبلی کے ممبر کی اہلیت درجِ ذیل ہے:-
$1a.       بالغ شہری اور رائے دہندہ ہو۔
$1b.      کسی منافع بخش عہدے پر متمکن ہو۔
$1c.       دیوالیہ یا ایبڈوزدہ نہ ہو۔
$1d.      سیاسی اور اخلاقی جرائم میں پچھلے ۵ سالوں میں ۲ سال تک قید کی سزا نہ بھگت چکا ہو۔
$1e.       صوبائی یا قومی اسمبلی کا رکن یا کسی صوبے کا گورنر نہ ہو۔
اب پارلیمنٹ کے ممبر کی اہلیت و کردار اور شوریٰ کے ممبر کی اہلیت و کردار کا آپ خود موازنہ کر سکتے ہیں۔
شوریٰ کی ہیئت اور ارکان کی تعداد:
شوریٰ کے ارکان کتنے ہوں، ان کے اجلاس کتنی دیر بعد ہوں اور کہاں ہوں۔ یہ سب باتیں مشورہ طلب امر کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر ہونی چاہئیں۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں نظامِ حکومت خوب مستحکم ہو چکا تھا۔ اور اس دور میں مسلمانوں کی سلطنت بھی ہمارے پاکستان سے بہت بڑی تھی۔ لہٰذا آپ کے دَور کی شوریٰ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو وہ ہمارے لیے نظیر کا کام دے سکتی ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ اسلام میں جو شخص زیادہ متقی اور صالح ہو گا وہ شوریٰ کا زیادہ حق دار ہے۔ اس لحاظ سے مہاجرین اولین کو اسلامی معاشرہ میں سب سے زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد دوسرا درجہ عام مہاجرین و انصار کا تھا اور اس کے بعد تیسرا درجہ عام مسلمانوں کا تھا۔ تو مشورہ میں بھی یہی ترتیب ملحوظ رکھی جاتی تھی۔
مہاجرین متقدمین پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ مسجد نبوی میں موجود رہتی تھی جس میں صرف مہاجرین صحابہؓ ہی شریک ہوتے تھے جہاں روزانہ انتظامات اور ضروریات پر گفتگو ہوتی تھی۔ صوبجات اور اضلاع کی روزانہ خبریں جو دربارِ خلافت میں پہنچتی تھیں حضرت عمرؓ ان کو اس مجلس میں بیان کرتے تھے۔ بحث طلب امور کا فیصلہ ہوتا اور موجود لوگوں سے استصواب کیا جاتا تھا۔ چنانچہ مجوسیوں پر جزیہ مقرر کرنے کا مسئلہ بھی اوّل اِسی مجلس میں پیش ہوا تھا۔
مورخ بلا ذری نے اس مجلس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔
کان للمھاجرین مجلس فی المسجد فکان عمر یجلس معھم فیہ ویحدثھم عما ینتبی الیہ من اصرار الآفاق فقال یومًا۔ ’’ما ادری کیف اصنع المجوس۔
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں مہاجرین پر مشتمل ایک مجلس مسجد نبوی میں تھی۔
حضرت عمرؓ ان کے ساتھ بیٹھتے اور سلطنت کے اطراف سے آنے والی خبروں پر گفتگو کرتے۔ ایک دِن فرمایا: مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ مجوسیوں کے ساتھ کیسے معاملہ کیا جائے۔‘‘
اس طرح کی مجلس کو ہم رئیس مملکت کے مشیروں کا نام دے سکتے ہیں۔
دوسری مجلس مہاجرین و انصار پر مشتمل تھی اور اِس مجلس میں دونوں گروہوں کی موجودگی لازمی تھی۔ اِس مجلس کے ارکان کی تعداد تو معلوم نہیں ہو سکتی۔ البتہ چھ ارکان کا ذکر عام ملتا ہے جو مہاجرین سے تھے اور یہ وہی بزرگ ہیں جن کو حضرت عمرؓ نے خلافت کے لئے نامزد فرمایا تھا یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عبد الرحمٰنؓ بن عوف اور تین انصار کا نام بھی ملتا ہے۔ معاذ بن جبلؓ، ابی بن کعبؓ اور زید بن ثابتؓ۔
 جب کوئی اہم معاملہ پیش ہوتا تو یہ اجلاس بلایا جایا۔ اس کے انعقاد کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے ایک منادی اعلان کرتا تھا کہ اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ یعنی سب لوگ نماز کے لئے جمع ہو جائیں۔
کیونکہ ان میں سے بعض ارکان مسجد نبوی سے دور ہی رہائش پذیر تھے۔ جب یہ ارکان مسجد میں جمع ہو جاتے تو حضرت عمرؓ دو رکعت نماز پڑھاتے (جیسا کہ ہمارے ہاں تلاوت سے افتتاح ہوتا ہے) نماز کے بعد منبر پر بیٹھ کر خطبہ فرماتے اور بحث طلب مسئلہ پیش کیا جاتا۔
بعض دفعہ حضرت عمرؓ یوں بھی کرتے کہ پہلے ایک گروہ سے مشورہ کر لیا، پھر دوسرے سے جیسا کہ آپ نے طاعون زدہ علاقے شام میں داخل ہونے کے وقت کیا اور عراق کی زمینوں کا مسئلہ مہاجرین و انصار کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ ایسی مجالس میں ہر شخص کو اختیار ہوتا تھا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار پوری آزادی اور بے باکی سے کریں۔
ایسی مجلس کو ہم موجودہ اسمبلی کا نام دے سکتے ہیں۔
اور جب کوئی معاملہ اس مجلس میں بھی طے نہ ہو پاتا[3]۔ تو پھر یہ مسئلہ اجلاس عام میں پیش کیا جاتا۔ معرکہ نہاوند میں حضرت عمرؓ کی بذات خود روانگی کا مسئلہ بھی ایسا ہی تھا لیکن عام اجلاس کے باوجود یہ مسئلہ پھر بھی اہلِ شوریٰ کے رائے کے مطابق طے ہوا اور حضرت عمرؓ نے سپہ سالاری کا خیال ترک کر دیا۔ عراق کی مفتوحہ زمینوں کا معاملہ بھی اجلاس عام میں پیش ہوا لیکن پھر بھی یہ طے نہ ہو سکا۔ بالآخر حضرت عمرؓ کو قرآن کی آیت کا ایک حصہ ایسا یاد آگیا جو اس مسئلہ میں نص قطعی کا درجہ رکھتا تھا۔ چنانچہ اسی کے مطابق حضرت عمرؓ نے فیصلہ دیا۔
اس طرح کی مجلس کوہم استصواب عام کہہ سکتے ہیں۔ اس مجلس کے ارکان کی تقرری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ان مجالس میں گو آخری فیصلہ کا اختیار حضرت عمرؓ کو تھا مگر بحیثیت مشیر وہ بھی بالکل مساوی درجہ رکھتے تھے۔ آپ کا ارشاد ہے۔
انی لم از عجکم اِلَّا لِاَن تُشْرِکُوا فی امانتی فیما حملت من امورکم فانی واحدٌ کاحدکم ولست ارید ان تتبعوا ھذا الذی ھو ھوای[4]۔
میں نے تمہیں اس لئے تکلیف دی ہے کہ تم میرے اس بارِ امانت میں شریک ہو جو تمہارے ہی امور ہی متعلق ہیں۔ میں بھی تم جیسا ہی ایک فرد ہوں اور نہیں چاہتا کہ تم میری رائے یا خواہش کے پیچھے لگو۔
پہلے امیر ہو یا شوریٰ؟
آج کل یہ سوال بڑی شد و مد سے اُٹھایا جا رہا ہے کہ موجود دَور میں نہ تو شوریٰ موجود ہے جو امیر کا انتخاب کرے اور نہ امیر موجود ہے جو شوریٰ کو منتخب کرے تو آغاز کار کہاں سے اور کیسے ہو؟‘‘ پہلے انڈا یا مرغی؟‘‘ والا معاملہ ہو تو کیا کیا جائے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے امیر ہونا چاہئے۔ حضور اکرم ﷺ نے خود شوریٰ کو منتخب فرمایا تھا۔ شوریٰ کے ارکان کے لئے ضروری ہے کہ تقویٰ کی بنیاد پر ان کی Selection ہو۔ امیر کے تقرر میں مشورہ اور انتخاب مستحسن ضرور ہے۔ لیکن لازمی نہیں۔ جیسا کہ ہم خلافت کے مباحث سے تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں اور امیر کے لئے ایک مخصوص طرز انتخاب متعین نہ کرنے میں غالباً یہی شرعی حکمت تھی اور یہ بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ ملّت اسلامیہ کا اصل مقصد اسلامی نظامِ حیات کا قیام ہے۔ سربراہِ مملکت کا تقرر اصل مقصود نہیں۔ بلکہ اس کے حصول کا ذریعہ ہے۔ امیر کے انتخاب کے لئے شورائی صورت بہتر صورت ضرور ہے جب کہ اور بھی بہت سے طریقوں سے جواز ثابت ہے۔ ان باتوں سے ہم اِس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سربراہِ مملکت خواہ کسی بھی طریقہ سے برسراقتدار آجائے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق نظام بپا کرتا ہے تو اس کے تقرر کر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ نہ اسے یہ طعنہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ غیر آئینی طریقہ سے یا چور دروازے سے آیا ہے بلکہ اس کی اطاعت واجب و لازم ہو جاتی ہے۔ (تفصیل ملی وحدت کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔)
نظریۂ ضرورت:
اس کی تازہ مثال موجودہ حکومت اور صدر ضیاء الحق کا برسر اقتدار آنا ہے۔ جس کو ہماری عدالت نے نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا ہے۔ ہمارے خیال میں عدالت کا یہ فیصلہ شریعت کے عین مطابق ہے اور اس کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
عن انس بن مالک قال: خطب رسول اللّٰہ ﷺ فقال ’’اَخَذ الرایۃ زَیْدٌ فَاَصِیْبُ، ثُمَّ اخذھا جعفرٌ ناصیب، ثُمَّ اخذہٗ عبد اللّٰہِ ابن رواحۃ ناصیب، ثم اخذھا خالد بن ولید عن غیر اِمْرَۃً فَفُتِح علیہ (بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب من تَاَمَّرَ فِی الْحَرْبِ من غیرِ اِمْرَۃٍ)
حضرت انس بن مالک کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبطہ سنایا اور فرمایا کہ (جنگ موتہ میں) سرداری کا جھنڈا زید بن حارثہؓ نے سنبھالا وہ شہید ہوئے،پھر جعفر بن ابی طالب نے سنبھالا وہ بھی شہید ہوئے، پھر عبد اللہ بن رواحہ نے سنبھالا وہ بھی شہید ہوئے (ان تینوں کا حکم تو حضور اکرم ﷺ نے خود یکے بعد دیگرے دیا تھا) پھر خالد بن ولید نے یہ سنبھالا کہ ان کی سرداری کا حکم نہیں دیا گیا تھا (وہ آپ ہی ضرورت دیکھ کر سردار بن گئے) تو اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح دی۔
لہٰذا اب اگلا مرحلہ یہ ہو گا اور اس بات کا امیر کو حق ہے کہ وہ شوریٰ کا انتخاب حسبِ دستور خود کرے۔ صوبائی گورنر اپنی شوریٰ کا انتخاب بھی اسی طرح کریں گے جس طرح ہائی کورٹ کے ججوں کا انتخاب مشورہ سے ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
شوریٰ کا انتخاب کیسے ہو
ہمارے موجودہ جمہوری نظام میں سربراہِ مملکت عدلیہ اور انتظامیہ کی کلیدی اسامیوں کے انتخاب خود کرتا ہے اور اس سلسلہ میں اسے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ مثلاً وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر خود کرتا ہے۔ پھر اس کے مشورہ سے دوسرے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔ اسی طرح وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور متعلقہ صوبہ کے گورنر کے مشورہ سے ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس، پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، متعلقہ صوبہ کے گورنر اور متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورہ سے ہائی کورٹ کے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔ گویا متذکرہ افراد سے وہ صرف مشورہ کرنے کا پابند ہے اس مشورے کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔ یعنی ان تقرریوں میں اسے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ وہ عارضی جج اور اٹارنی جنرل کا تقرر بھی کرتا ہے۔
یہ عدلیہ کی بات تھی۔ انتظامیہ میں اسے اس سے زیادہ وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ بیسیوں محکموں کے کلیدی مناصب، افواج پاکستان کے بڑے بڑے عہدہ دار اور بیرونی ممالک میں سفیروں کے تقرر تک کے اختیارات اسے حاصل ہیں۔ ان تقرریوں میں بھی وہ مشورہ کا پابند ضرور ہے۔ لیکن اس مشورے کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔
ہمارے خیال میں جس طرح سربراہِ مملکت عدلیہ کے جج منتخب کرتا ہے۔ بعینہٖ اِسی طرح اسے اپنی شوریٰ تشکیل دینی چاہئے۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے صرف ایک نہایت متقی اور عالم شخص کا انتخاب کرنا چاہئے پھر صدر اس کے مشورے سے حسبِ ضرورت جتنے افراد مجلس شوریٰ میں شامل کرنا چاہتا ہے منتخب کر لے۔ اس مجلس شوریٰ میں ماہرینِ فن بھی حسبِ ضرورت شامل کیے جا سکتے ہیں۔ جو کہ کم از کم مسلمانی کی شرط ضرور پوری کرتے ہوں۔
موجودہ جمہوری نظامِ حکومت میں عدلیہ اور انتظامیہ کے بڑے بڑے عہدوں کا تقرر خود صدر مملکت کرتا ہے لیکن مقننہ حق بالغ رائے دہی (بشمول خواتین) کی بنیاد پر نیز ووٹ کی برابر قیمت تصوّر کرتے ہوئے کثرت رائے کے اصول پر عوام منتخب کرتے ہیں۔ لیکن نظامِ خلافت میں ان تینوں شعبوں کے اولی الامر خلیفہ کی مرضی کے مطابق مقرر کیے جاتے ہیں۔ امیر متعلقہ افردا سے مشورہ کرنے کا پابند ضرور ہے مگر اِسے قبول کرنے کا پابند نہیں البتہ نظامِ خلافت میں کسی خاص علاقہ کے لوگ ولی امر انتخاب کر کے اس کی سفارش کر سکتے ہیں۔ اِسی طرح اہل علاقہ کی شکایت پر کسی حاکم کو معزول بھی کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ سفارش یا شکایت صحیح معیار پر پوری اترتی ہو۔
7. ربطِ ملّت کے تقاضے
اور نظامِ خلافت کی طرف پیش رفت
ہم پہلے بتلا چکے ہیں کہ دینِ اسلام اپنے پیرو کاروں سے اتفاق و اتحاد کا تقاضا کرتا ہے اور اس میں تفرقہ و انتشار کو کفر کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ملی وحدت کے بقا کے سلسلہ میں ہم بہت سی آیات و احادیث درج کر چکے ہیں۔
اور یہ بھی بتلا چکے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کسی مخصوص علاقہ یا قوم یا نسل کی پابند نہیں ہوتی۔ آج کل ریاست کا تصور، جس کا ایک لازمی عنصر علاقہ بھی ہوتا ہے، اسلام میں مفقود ہے۔ کیونکہ یہ عالمگیریت کا متقاضی ہے۔ اس کے احکام اللہ رب العالمین کے نازل کردہ ہیں جس کی نظر کسی ایک قوم یا علاقہ کے مفادات پر نہیں۔ بلکہ اس کی نظروں میں پوری دنیا کی یکساں فلاح و بہبود ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ ہیں          ؎
عقلِ خود بیں غافل از بہبود غیر                              سُودِ خود بیند نہ بیند سُود غیر
وحی حق بینندۂ سود ہمہ                          در نگاہش سود و بہبود ہمہ
حضور اکرم ﷺ صرف عرب کے لئے نہیں تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ ارشادِ باری ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفّۃً لِلّنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا (۳۴/۲۸)
اے رسول! ہم نے تجھے تمام عالمِ انسانیت کے لئے نذیر اور بشیر بنا کر بھیجا ہے۔
اور آپ ﷺ کا لایا ہوا پیغام (قرآن کریم) بھی تمام دنیا کے لئے ہے جو ..... الفاظ سے دنیا بھر کے لوگوں کو خطاب کرتا ہے۔
ھٰذَا بَصَآئِرُ لِلْنَّاسِ (۴۵/۲۰)
یہ (قرآن) تمام لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں۔
اِسی طرح اس امت کا مرکز بھی دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ہے۔
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلْنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّھدًی لِّلْعَالَمِیْنَ (۳/۴۵)
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکہ میں ہے بابرکت اور جہان کے لئے موجب ہدایت ہے۔
اسی طرح امتِ مسلمہ کو، جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مامور ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں کے اعمال پر نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ارشادِ باری ہے۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلْنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (۳/۱۰۹)
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے بھیجی گئی۔ تم (لوگوں کو) نیکی کا حکم دیتے اور بری باتوں سے روکتے ہو۔
تفرقہ کی اقسام:
یہ ہے ملت اسلامیہ کا صحیح تصوّر۔ ایسی ہی امت حضور اکرم ﷺ نے تشکیل فرمائی۔ جس میں حبشی، رومی، فارسی، عربی سب ہم مرتبہ تھے۔ اگر کسی کو تفوّق اور فضیلت تھی تو محض تقویٰ کی بنیاد پر تھی۔لیکن آج اس امت میں وحدت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ اور کئی قسم کے تفرقہ و انتشار کا شکار ہے۔ اس وحدت پر سب سے زیادہ کاری ضرب وطن کے موجودہ نظریہ نے لگائی ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں بڑے واضح الفاظ میں فرمایا تھا۔
لوگو! بے شک تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں۔ برتری صرف تقویٰ کے سبب سے ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔‘‘
وطن کے اختلاف کی بنیاد پر جُداگانہ قوموں کی تشکیل یورپ کی پیدا کردہ لعنت ہے۔ وطن پرستی اور قومیت پرستی آج کے سب سے بڑے معبود ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کو بیسیوں ممالک میں تقسیم کر کے ذلیل و خوار کیا اور تباہی و بربادی کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔
دوسری لعنت کسی قوم میں، ملت نہیں بلکہ قوم میں، سیاسی پارٹیوں کا وجود ہے جو موجودہ جمہوریت کا عطا کردہ تحفہ ہے اور جس کے بغیر جمہوریت زندہ نہیں رہ سکتی۔ اِسی جمہوریت کو ہم سینہ سے لگائے ہوئے ہیں اور کسی قیمت پر اِسے جدا کرنے پر آمادہ نہیں۔ پاکستان میں موجودہ مارشل لاء کے نفاذ سے پیشتر ان کی تعداد ایک سو سے متجاوز کر گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ملت کی وحدت کا تصوّر بھی ناممک ہے۔
تیسری لعنت وہ مذہبی فرقے میں جو اپنی الگ الگ فقہ کو سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ:
کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ (۳۰/۳۲)
سب فرقے اِسی سے ِخوش ہیں جو ان کے پاس ہے:-
کے مصداق جو کچھ ان کے پاس ہے بس وہی ٹھیک ہے۔ باقی سب غلط ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن تو سب کا ایک ہے۔ اور سنت بھی ایک ہے لیکن فقہ چار ہیں۔ بلکہ اگر شیعہ حضرات کی فقہ جعفریہ بھی شامل کر لیں تو پانچ ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی فقہ دین کا حصہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی ایک مخصوص فقہ پر اصرار کرنا واجب ہے اس سے دوسرا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اگر پہلے ۵ فقہ موجود ہیں تو اب موجودہ زمانہ کے تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے چھٹی فقہ بھی اگر مرتب کر لی جائے تو اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ اس کا دوسرا حل یہ بھی ہے کہ ایسے فروعی مسائل، جن میں ہر فریق کے پاس ادلہ شرعیہ موجود ہوں۔ جیسے حنیف، شافعی وغیرہ کے مختلف فیہ مسائل) ان میں سے کسی ایک جانب کو اگر امیر یا خلیفہ متعین کر کے لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دے تو ان کا فرق ہو گا کہ اس کا اتباع کریں اگرچہ بحیثیت حنفیت یا شافعیت اس کے مذہب کے خلاف ہو (اسلام میں مشورہ کی اہمیت از مفتی محمد شفیع صاحب ص ۱۵۱)
ملکی تفریق اور اس کا حل:
موجودہ دَورمیں ربط ملت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کسی ایک ملک کے سربراہ کو جو خلیفہ کے زیادہ سے زیادہ اوصاف سے متصف ہو اپنا سربراہ تسلیم کر لیں۔ اور ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ سعادت سعودی عرب کے حصہ میں آنی چاہئے کیونکہ اتحاد بین المسلمین میں وہ پیش پیش ہونے کے علاوہ کافی ایثار سے کام لے رہا ہے۔ مسلمانوں کا بین الاقوامی مرکز بھی وہیں ہے اور دوسرے ممالک سے نسبتاً وہی زیادہ شریعت کے احکام کا پاسبان بھی ہے۔ اگر مسلمان ممالک کے سربراہ یا ان میں سے چند ایک بھی ایثار کی مثال پیش کرتے ہوئے اِسے اپنا سربراہ تسلیم کر لیں تو ربط ملّت کی داغ بیل پڑ سکتی ہے۔
گو موجودہ دَور کی دَو سُپر طاقتووں امریکہ اور روس کی اسلام دشمنی اور معاندانہ سرگرمیوں نے مسلمان ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر مسلمان زندہ رہنا چاہتا ہے تو اس کی صورت صرف ان کا آپس میں اتحاد و اتفاق ہے۔ تاہم مسلمانوں کی یہ سوچ ابھی مشترکہ تجارت اور مشترکہ دفاع وغیرہ جیسے مسائل تک محدود ہے۔ گو ایسا اتحاد بھی ایک نیک فال ہے۔ تاہم یہ ربط ملت اور ملّی وحدت کے تقاضے پورے نہیں کرتا اور وہ صرف اس صورت میں پورے ہو سکتے ہیں جب کہ یہ اتحاد و اتفاق محض اللہ کی خوشنودی اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے ہو۔ دنیوی مفادات کی حیثیت اس میں ثانوی حیثیت رکھتی ہو۔
اگر مسلمان قوم کی خوش نصیبی اور اللہ کی مہربانی سے ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو منسلکہ ممالک کے سربراہ یا جنہیں وہ منتخب کریں شوریٰ کے ممبر قرار پائیں گے۔ شوریٰ کے ممبروں کے لئے علاقائی تقسیم مناسب نہ ہو گی بلکہ اہل شوریٰ کے اوصاف سے متصف افراد کسی ملک سے ایک سے زیادہ بھی منتخب کیے جا سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ملک سے ایسا کوئی نمائندہ نہ جا سکے اور یہ سب کچھ اللہ کی رضا مندی کے لئے ہونا چاہئے۔ بطور حق کے نہیں بلکہ بطور ذمہ داری ادائیگی کے یہ کام سر انجام دینے چاہئیں۔
اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ممالک کے پاس ہر طرح کے وافر وسائل موجود ہیں۔ کسی کے پاس دولت ہے۔ کسی کے پاس افرادی اور عسکری قوت تو کسی کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی کے معتدبہ وسائل موجود ہیں۔ اگر ایسا وفاق عمل میں آجائے تو مسلمان قوم دنیا کی سپر طاقت بن کر اسلام کو سربلند کر کے یہ تقاضا پورا کر سکتی ہے۔
ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (۹/۳۳)
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔
پاکستان آج کل جن حالات سے دو چار ہے اور جس طرح پر کھڑا ہے اس کے لئے تو اور بھی ضروری ہے کہ ایسے الحق کی جلد از جلد کوشش کرے اور دوسرے ممالک کو اس کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دے۔ اس سے پاکستان کے بیشتر مسائل بالخصوص نظام اسلامی کی ترویج، معاشی مسائل اور اسلام کی سربلندی، بطریق احسن حل ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تفریق اور اس کا حل:
ربط ملّت کے لئے اندرون ملک کام کرنے کے یہ ہیں کہ مغربی طرزِ انتخاب کا سلسلہ یکسر بند کر دیا جائے۔ اور سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا جائے۔ یہ غیر اسلامی فعل اسلام کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کو یکسر منسوخ یر دیا جائے۔ یہ آئین کوئی خدا کا نازل کردہ آئین نہیں ہے جس پر منتخبہ پارلیمنٹ جیسے غیر اسلامی ادارے کے بغیر کسی کو ترمیم و تنسیخ کا اختیار نہ ہو۔
ہم بہ دلائل یہ ثابت کر چکے ہیں کہ شوری سے زیادہ اہم معاملہ امیر کا تقرر ہے۔ امیر اگر شوریٰ کے ذریعے منتخب ہوا ہو تو بہتر ہے ورنہ کسی بھی طریقہ سے کوئی شخس اقتدار حاصل کر لیتا ہے تو اگر وہ اسلامی نظام کا نفاذ کرتا ہے تو وہ امیر برحق ہے۔ اس کی اطاعت واجب و لازم ہے۔ اس کے تقرر کو چیلنج کرنا او اس کی آئینی حیثیت کو زیر بحث لانا جمہوریت پرستوں کا کام تو ہو سکتا ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
شوریٰ کی تشکیل اور اس کے فرائض:
سربراہِ مملکت کے لئے لازم ہے کہ وہ موجودہ پارلیمنٹ کی جگہ اپنے لئے شوریٰ کے ممبروں کا انتخاب کرے۔ اور اس کی صورت بالکل ویسی ہو ہوگی جیسے وہ سپریم کورٹ کے جج اور ہائی کورٹ کے ججوں کے باہم مشورے سے انتخاب کرتا ہے۔ ایسے انتخاب میں مختلف علاقوں کے علمائے حق کے مشورہ اور رائے سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ مجلس شوریٰ میں مختلف فنون کے ماہرین کی شمولیت بھی ضروری ہے تاکہ انتظامی میں مشورہ کے وقت ان کے علم اور تجربہ سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ ایسے مشیروں کی تعداد کا تعین ملکی ضروریات کے پیش نظر جتنی سربراہ مملکت مناسب تصور کرے مقرر کرنی چاہئے۔
صوبائی گورنر اسی طریق پر اپنی الگ مجلس شوریٰ منتخب کرسکتے ہیں۔
اگر سربراہِ مملکت زمانہ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب سمجھے تو خواتین کا ایک الگ نمائندہ ادارہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے جو ملک بھر کی چند نمائندہ خواتین پر مشتمل ہو اور جس کا اہم فریضہ خواتین سے متعلقہ قانون سازی میں مشورے دینا ہو۔ اس طرح ایک طرف تو خواتین کو ملکی سیاسیات میں عملی طور پر ملوث کر کے اصل ذمہ داریوں سے ان کی توجہ ہٹانے کی ضرورت باقی نہ رہے گی اور دوسری طرف شوریٰ خواتین کے مسائل سے صرف نظر نہ کر سکے گی۔
مجلس شوریٰ کے فرائض یہ ہوں گے:-
$11.      جن معاملات میں نص موجود ہے اس میں اگرچہ شوریٰ کوئی رد و بدل نہیں کر سکتی تاہم ان کے لئے ضروری ضروری قواعد و ضوابط مقرر کرے گی۔
$12.      جن احکام میں کتاب و سنت کے احکام کی ایک سے زیادہ تعبیریں ممکن ہوں۔ ان میں سے اس تعبیر کا قانونی شکل دینا جو کتاب و سنت سے قریب تر ہو۔
$13.      جن معاملات میں احکام موجود نہ ہوں تو اسلام کے مزاج کے مطابق نئے قوانین وضع کرنا یا پہلے سے موجود فقہی قوانین میں سے کسی ایک کو اختیار کر کے اسے قانونی شکل دینا۔
$14.      جن معاملات میں قطعاً کوئی اصولی رہنمائی نہ ملتی ہو تو ان کے متعلق شوریٰ مناسب قوانین بنا سکتی ہے بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم یا اصول سے متصادم نہ ہوں۔ اور
$15.      اگر شوریٰ مناسب سمجھے تو پاکستان کے آئین کو از سرِ نو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کرے۔
مندرجہ بالا دفعات اس بات کی متقاضی ہیں کہ اہل شوریٰ کا صاحب علم و بصیرت اور متقی ہونا اشد ضروری ہے ورنہ ان کے غلط فیصلے شریعت کو مسخ کر سکتے ہیں۔
پھر جس طرح شوریٰ کے ممبروں کا عالمِ دین اور متقی ہونا ضروری ہے۔ اِسی طرح انتظامیہ اور عدلیہ کے کلیدی مناصب کے لئے بھی یہ اوصاف ضروری ہیں۔ ان اسامیوں کو کسی غیر مسلم کے حوالے قطعاً نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ جو لوگ اسلامی نظریہ حیات پر ایمان نہیں رکھتے یا اس کے نفاذ میں کوشش نہیں کرتے وہ یقیناً اس کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوں گے جیسا کہ آج کل ہماری بیورو کریسی کا شیوہ ہے۔ لہٰذا ان کلیدی مناصب کی بتدریج تطہیر اشد ضروری ہے۔ ورنہ شوریٰ کی کارکردگی بھی مؤثر نتائج پیدا نہ کر سکے گی۔
عدلیہ کا دائرۂ کار:
نظامِ خلافت میں عدلیہ کا کام قانونِ شریعت کا نفاذ ہے۔ وہ انتظامیہ اور مقننہ کے دباؤ سے آزاد ہوتی ہے۔ گو قاضی القضاۃ اور دیگر قاضیوں کا تقرر امیر کرتا ہے۔ لیکن اس کے بعد امیر کو کوئی حق نہیں کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو۔ امیر کے خلاف عدالت میں دعویٰ بھی دائر کیا جا سکتا ہے اور اسے ایک عام شہری کی طرح عدالت کی طلبی پر عدالت میں حاضر ہونا اور جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ عدلیہ کی ایسی آزادی کی مثال انسان کے وضع کردہ کسی نظام میں بھی نہیں مل سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا عدلیہ کو شوریٰ کے کسی طے شدہ قانونی مسئلہ کو اس بنا پر رد کر سکتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف ہے؟ خلافت راشدہ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے خیال میں عدلیہ کو یہ اختیار تو ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے قانونی مسئلہ کے خلاف آواز اُٹھائے لیکن اسے رد نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس کام کے لئے ایک مستقل ادارہ (شوریٰ) موجود ہے۔ جس کے ارکان علم و تقویٰ کے لحاظ سے عدلیہ کے ارکان سے کسی طرح کم نہیں ہوتے۔
مذہبی تفریق اور اس کا حل:
مذہبی فرقوں کی تفریق سے چھٹکارا حاصل کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اصل ماخذ قرآن و سنت ہی قرار دیا جائے۔ اور فقہ کی تمام کتابوں سے نظائر کی حقیقت سے استفادہ کیا جائے۔ اگر ممکن ہو تو شوریٰ سابقہ تمام کتب فقہ کو سامنے رکھ کر موجودہ تقاضوں کے پیشِ نظر نئی فقہ کی تدوین کرے اور جب تک یہ صورت ممکن نہ ہو دو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔
$11.      عدالتیں پرسنل لاء کو ملحوظ رکھ کر مقدمات کے فیصلے کریں۔ فریقین جس فقہ کے پیروکار ہوں اسی کے مطابق ان کے مطابق ان کے مقدمات و خصومات کا فیصلہ کر دیا کریں۔
$12.      اور دوسری وہی صورت ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں کہ ایسے فروعی مسائل جن میں ہر فریق کے پاس ادلّہ شرعیہ موجود ہوں (جیسے حنفیہ، شافعیہ کے مختلف فیہ مسائل) ان میں سے کسی ایک جانب کو اگر امیر یا خلیفہ متعین کر کے لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دے تو ان کا فرض ہو گا کہ وہ اس کی اتباع کریں۔ اگرچہ بحیثیت حنفیت یا شافعیت اِس کے مذہب کے خلاف ہو۔
اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فروعی اختلاف کو ہوا دینے والا علمائے سوء کا وہ گروہ ہے جس کا روزگار ان مسائل سے وابستہ ہے۔ اگر علماء اور آئمہ مساجد کی کفالت کی ذمہ داری حکومت لے لے۔ جس طرح کہ سعودی عرب میں ہے۔ تو یہ تفرقہ و انتشار کی فضا بہت حد تک کم کی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں مختلف مذاہب کے مقتدر علماء کی مشترکہ مجلسوں میں ان اختلافات کو زیر بحث لا کر اور بھی کم کیا جاسکتا ہے۔


[1]  تحریک آزادی و دستور پاکستان طبع چہارم ص ۴۱۵ از فاروق اختر نجیب۔

[2]
[3]  واضح رہے کہ یہاں طے ہونے سے مراد میر مجلس کا انشراح صدر یا قلبی اطمینان ہے جو محض آراء کی گنتی سے نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی صورت نہ رہے تو پھر کثرت رائے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
[4] کتاب الخراج۔ امام ابو یوسف۔