مشورہ اور اس کے متعلقات

قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے:
﴿وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم ... ﴿٣٨﴾...الشورى
اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔
اور سورۂ آل عمران میں (جو جنگ اُحد میں نازل ہوئی تھی) حضور اکرم  کو یہ حکم دیا گیا کہ:
﴿وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ ... ﴿١٥٩﴾...آل عمران
اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو اور جب کسی کام کا عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔
حضور اکرم ﷺ مکّی دور سے ہی مسلمانوں سے اکثر مشورہ کیا کرتے تھے۔ جنگ اُحد کے بعد دوبارہ اس لئے تاکید فرمائی گئی کہ جنگِ احد کے دوران مسلمانوں سے چند غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی غلطیوں کو معاف کیجیے اور دل میں کوئی بات نہ لائیے بلکہ ان سے حسب دستور مشورہ کا عمل جاری رکھیے اور مشورہ کی اہمیت تو اسی بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس آیت میں مسلمانوں سے مشورہ کی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورہ کا نام ہی ’’شوریٰ‘‘ رکھا گیا۔
مشورہ سے متعلق درج ذیل امور تفصیل طلب ہیں:
$11.      مشورہ طلب امور اور ان کی نوعیت۔
$12.      مشورہ کی غرض و غایت۔
$13.      مشیر کی اہلیت۔
$14.      مشیروں کی تعداد۔
$15.      مشورہ کا طریق۔
$16.      طریق فیصلہ۔ 
اب ہم ان امور کو ذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔
$11.   مشورہ طلب امور:
مشورہ کی ضرورت عموماً اس وقت پیش آتی ہے۔ جب کسی معاملہ کے دو یا اس سے زیادہ پہلو نظروں کے سامنے ہوں اور دونوں پہلوؤں میں فائدے اور نقصان دونوں باتوں کا احتمال ہو۔ ایسے معاملات انفرادی قسم کے بھی ہو سکتے ہیں اور اجتماعی قسم کے بھی۔ تشریعی امور بھی ہو سکتے ہیں اور انتظامی قسم کے بھی۔ تشریعی امور میں حضور اکرم ﷺ صحابہؓ سے مشورہ کرنے کے پابند نہیں تھے کیونکہ وہ شارع ہیں۔ جیسے صلح حدیبیہ کے وقت آپ نے کسی سے مشورہ نہیں فرمایا۔ جب کہ اس صلح کی شرائط اکثر صحابہؓ کی ناپسند تھیں۔ اسی طرح آپ نے حضرت زینبؓ کا نکاح کرتے وقت بھی کوئی مشورہ نہیں کیا۔ یہ نکاح عرب کے دستور کے خلاف تھا لہٰذا عین ممکن ہے کہ اگر مشورہ کیا جاتا تو کثرت رائے اس کے خلاف ہوتی۔
تاہم جہاں آپ مناسب سمجھتے تشریعی امور میں بھی مشورہ فرما لیتے تھے جب کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح ہدایت نہ ملتی تھی جیسا کہ اذان کی ابتدا کا ماملہ ہے اس مشورہ کا ذکر بھی ہم شامل کتاب کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ خالص تشریعی نوعیت کا تھا۔ تاہم اس میں بھی آپ نے مشورہ فرمایا۔
تشریعی امور کے علاوہ انتظامی امور میں آپ بھی مشورہ کے پابند تھے۔ جیسے آپ ﷺ نے جنگِ بدر میں لڑائی کے میدان کے انتخاب میں اور جنگ بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں پھر جنگ کے متعلق کہ مدینہ سے باہر رہ کر لڑی جائے یا شہر میں رہ کر، یا جنگ خندق کے موقع پر صحابہ کرامؓ سے مشورے کیے۔ ان میں دو مجالس مشورت بابت ’’اساریٰ بدر‘‘ اور ’’جنگ اُحد کے لئے جگہ کا انتخاب‘‘ ہم اس کتاب میں شامل کر رہے ہیں۔
انفرادی امور میں بھی مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ آپس کے ذاتی اور نجی معاملات میں بھی ایک دوسرے سے مشورہ کر لیا کریں۔
$12.   مشورہ کی غرض و غایت:
کسی معاملہ میں مشورہ سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کے تمام تر پہلو سامنے آجائیں۔ پھر ان جملہ پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم کیا جائے کہ کونسا پہلو اقرب الی الحق ہے۔ اور کتاب و سنت سے زیادہ مطابقت رکھا ہے گویا مجلس مشاورت منعقد کرنے کی غایت یہ ہے کہ کونسا اقدام اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو سکتا ہے۔ مختصر الفاظ میں ہم اسے ’’دلیل کی تلاش‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
$13.   مشیر کی اہلیت:
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔
المستشارُ مُؤْتَمِنٌ (متفق علیہ)
جس سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ وہ امین بنایا گیا ہے۔
گویا مشیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ نہایت دیانتداری سے مشورہ لینے والے کی خیر خواہی کو ملحوظ رکھ کر بہتر سے بہتر مشورہ دے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو گویا اس نے امانت میں خیانت کی اور اگر اس معاملہ سے اس کی اپنی غرض بھی متعلق ہے تب بھی اس کے ذمہ یہی واجب ہے کہ اپنے فائدہ کو نظر انداز کرتے ہوئے بھی صحیح مشورہ دینے میں کوتاہی نہ کرے۔
مشیر کی دوسری صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ عالم اور سمجھدار ہو۔ جاہل اور بے وقوف نہ ہو۔ ورنہ اس سے مشورہ لینے میں فائدہ کے بجائے نقصان کا زیادہ احتمال ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ﴿٤٣﴾...النحل
ترجمہ: اگر تم لوگ نہیں جانتے تو یاد رکھنے والوں سے پوچھ لو۔
اور اس کی تیسری صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ تجربہ کار اور عقل مند ہو۔ کسی معاملہ کی تہ تک پہنچنے یا اس سے نتیجہ برآمد کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ وَلَو رَدّوهُ إِلَى الرَّسولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم...﴿٨٣﴾...النساء
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اس کو رسول اور اپنے حاکموں کے پاس لے جاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے۔
$14.   مشیروں کی تعداد:
قرآن و سنت میں مشیروں کی تعداد کے متعلق کوئی قید نہیں۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ اگر معاملہ انفرادی نوعیت کا ہو تو ایک دو مشیروں سے اکٹھے یا علیحدہ مشورہ کرنا چاہئے اور اگر اجتماعی نوعیت کا ہو تو پھر زیادہ مشیروں کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اگر مشیر متعدد ہوں تو ان کی آپس میں کسی قسم کی چپقلش نہ ہونی چاہئے۔ ورنہ اس مشاورت کا نتیجہ الجھاؤ اور تنازعہ کے سوا کچھ برآمد نہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کی اسمبلیوں میں اکثر تنازعات برپا ہوتے اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے کیونکہ وہاں حزبِ اقتدار کے حزبِ اختلاف کا وجود لازمی ہوتا ہے اور ان دونوں کے نظریات الگ الگ اور آپس میں منافرت ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کبھی حزبِ اقتدار کو دیانتداری سے اور اس کی خیر خواہی کو ملحوظ رکھ کر مشورہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ اس سے اس کے اپنے مفادات اور نظریات پر زد پڑتی ہے۔ بحمد اللہ اسلامی مجلس شوریٰ کا دامن ایسی بے ہودگیوں سے پاک ہوتا ہے۔
$15.   مشورہ کا طریق:
مشورہ کا طریق کار بھی معاملہ کی نوعیت پر منحصر ہے۔ اگر کوئی معاملہ اہم اور تھوڑے وقت میں حل طلب ہو تو ایک ہی مجلس میں اس کا فیصلہ کر لینا چاہئے جیسا کہ جنگِ احد کے معاملہ میں حضور اکرم ﷺ نے کیا۔ اور اگر مسئلہ اہم بھی ہو اور مستقل نوعیت کا حامل بھی تو اس میں الگ الگ مشورے بھی لیے جا سکتے ہیں۔ بعد میں سب کو اکٹھا کر کے بھی، دوبارہ بھی، سہ بارہ بھی مشورہ کیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ حضرت عمرؓ نے عراق کی زمینوں کو بیت المال کی تحویل میں لینے کے بارے میں کیا۔ یا طاعون والے علاقے میں داخل ہونے یا واپس چلے آنے کے بارے میں کیا۔ ان واقعات کی تفصیل آئندہ مذکور ہے۔
$16.   طریق فیصلہ:
کسی معاملہ پر مختلف آراء اور بحث و تمحیص کے بعد فیصلہ کیسے ہو؟ یہی معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام نے فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ ... ﴿١٥٩﴾...آل عمران
اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو۔ پھر جب کام کا عزم کر لو۔ تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔
اس آیت میں عَزَمْتَ کے الفاظ سے یہ بالکل واضح ہے کہ آخری فیصلہ کا اختیار آپ کو دیا گیا ہے۔
فیصلہ کے لئے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ کسی دلیل کی قوت، یا کثرت رائے۔ اسلامی مجلس مشاورت میں فیصلے دلیل کی بنیاد پر ہوتے ہیں جیسا کہ خلافت ابو بکرؓ کے موقع پر تمام انصار نے حضور اکرم ﷺ کے ارشاد کے آگے سر جھکا دیا۔ یا عراق کی مفتوحہ زمینوں کا معاملہ بالآخر (والذین جاء وامن بعدھم ص ۵۹) کی دلیل سے طے پایا۔ یہ تو خیر نص قطعی کا معاملہ ہے۔ اگر نص نہ مل سکے تو امیر مجلس ایسی رائے کو اختیار کر کے جو اسے منشائے الٰہی سے قریب تر معلوم ہو۔ اس پر فیصلہ دے سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے طاعون زدہ علاقہ سے واپسی کے معاملہ میں فیصلہ دیا۔ حتّٰی کہ اگر ساری شوریٰ بھی ایک طرف ہو اور امیر کو یہ وثوق ہو کہ اس کی رائے اقرب الی الحق ہے تو ساری شوریٰ کے خلاف بھی دے سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو بکرؓ نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا۔ (ان تمام واقعات کی تفصیل آگے آتی ہے)
کثرت رائے کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ جب کوئی نص قطعی نہ مل سکے اور عقلی دلائل دونوں طرف برابر ہوں یا دونوں طرف عقلی دلائل بھی موجود نہ ہوں۔ تو صرف قطع نزاع کے لئے فیصلہ کثرت رائے کے مطابق کر دیا جاتا ہے۔ اس سے تنازعہ تو ختم ہو جاتا ہے لیکن وضوحِ حق کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے قرعہ کے ذریعے کسی تنازعہ کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ ذکر کر دینا بے جا نہ ہو گا کہ جمہوریت کا بنیادی اصول ہی چونکہ کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جمہوریت نواز عموماً ہر واقعہ کو توڑ موڑ کر پیش کر کے یا غلط تاویل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ بھی کثرت رائے کے مطابق ہوا اور وہ فیصلہ بھی کثرت رائے سے ہوا اور جہاں کوئی گنجائش نہ مل سکے اس کی کچھ اور توجیہ پیش کر دیتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ کہنا مقصود تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں فیصلہ میر مجلس کے بجائے کثرت رائے کی بنیاد پر درست ہوتا تو آیت مذکورہ کے الفاظ مندرجہ ذیل دو صورتوں میں سے کسی ایک طرح پر نازل ہونے چاہئیں تھے۔
$11.        وشاورھم فی الامر فاذا عزموا فتوکل علی الله۔
$12.        وشاورھم فی الامر واتبع اکثرھم وتوکل علی الله۔
بلکہ اس سے بھی آگے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر کثرت رائے ہی معیارِ حق ہوتا تو انبیاء کی بعثت کی ضرورت ہی نہ تھی۔
کثرت رائے کے معیارِ حق ہونے کا اصول ان لوگوں کو وضع کردہ ہے جن کے ہاں سے دلیل گم ہو گئی تھی۔ آسمانی تعلیمات میں تحریف اور ردّوبدل کی وجہ سے اور پھر اپنے مذہبی رہنماؤں کی اجارہ داری سے تنگ آکر جمہوریت کی راہ اختیار کی۔ اندریں صورت انہیں کثرت رائے کا اصول وضع کرنے کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ ورنہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی باہمیکش مکش میں کسی بھی امر کا فیصلہ ہونا ناممکن تھا۔ 

چند مشہور مجالس مشاورت

1. بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ کا صحابہ سے مشورہ
جنگ بدر میں قریش کے ستر بڑے بڑے آدمی گرفتار ہو کر دربار نبوت میں پیش کیے گئے تو آپ نے حسبِ عادت مجلس شوریٰ طلب کی اور یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
یہ واقعہ مختصراً صحیح مسلم (کتاب الجہاد۔ باب اباحۃ الغنائم) میں بروایت حضرت عمرؓ بن الخطاب یوں مذکور ہے:
فلما اسروا الا ساری قال رسول الله ﷺ لابی بکر وعمر ’’ما ترون فی ھٰؤلاء لا ساریٰ؟ فقال ابو بکرؓ: یا نبی الله ھم بنو عمّ والعشیرۃ اَرٰی ان تاخذ منھم فدیة فتکون لناقوة علی الکفار فعسی الله ان یھدیھم للاسلام۔‘‘ فقال رسول الله ﷺ ’’ما تری یا ابن الخطاب!‘‘ قال: ’’قلت لا والله یا رسول الله ما اَرٰی رای ابی بکر۱ ولٰکنی ارٰی ان تَمکَّنَّا فنضرب اعنقاھم فیَمَکَّنَّ علیًا من عقیل فیضرب عنقه وتمکّنّی من فلان نسبیًّا لعمر فاضرب عنقه فان ھؤلاء ائمه الکفر وصنادیدھا‘‘ فَھَوِیَ رسول الله ﷺ ما قال ابو بکر ولم یَھْوَ ما قلتُ۔ فلما کان عن الغد جِئْتُ فاذا رسول الله ﷺ وابو بکر قاعِدَیْن وھما یبکیان۔ قلت ’’یا رسول الله اخبرنی من ای شیءٍ تبکی انت وصاحبک، فان وجدت بکاءً بکیتُ وان لم اجد بکاءً قباکیت لبکائکما۔‘‘ فقال رسول الله ﷺ ابکی الذی عرض علی اصحابک من اخذھم الفداء لقد عرض علی عذابھم ادنٰی من ھذہ الشجرۃ شجرۃ قریبة من نبی ﷺ فانزل الله عزوجل: ﴿ما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكونَ لَهُ أَسرىٰ حَتّىٰ يُثخِنَ فِى الأَرضِ تُريدونَ عَرَضَ الدُّنيا وَاللَّـهُ يُريدُ الـٔاخِرَةَ وَاللَّـهُ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٦٧﴾ لَولا كِتـٰبٌ مِنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُم فيما أَخَذتُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٦٨﴾...الأنفال
ترجمہ: جب قیدی گرفتار کر لیے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے پوچھا۔ ان قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابو بکرؓ نے کہا:-
اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے خویش و اقارب اور بھائی بند ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ:-
$11.      قرابتداری کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔
$12.      اس رقم کو ہم جہاد اور دوسرے دینی امور میں لا کر قوت حاصل کر سکتے ہیں۔
$13.      یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی اولاد کو اللہ تعالیٰ اسلام کی توفیق عطا کرے۔
پھر حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمرؓ سے ان کے بارے میں رائے پوچھی۔ انہوں نے کہا۔ اے اللہ کے رسولؐ میری رائے قطعاً ابو بکرؓ کے مطابق نہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان کو تہ تیغ کیا جائے (یہی نہیں بلکہ ہر ایک اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل کرے) علی عقیل کی گردن اڑائیں اور میں اپنے فلاں رشتہ دار کی اڑاؤں گا۔ کیونکہ یہ لوگ کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔‘‘
حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ابو بکرؓ کی رائے پسند کی اور میری رائے کو پسند نہ کیا۔
پھر جب میں دوسرے دن آیا تو حضور اکرم ﷺ اور ابو بکرؓ کھڑے رو رہے تھے۔ میں نے کہا! یا رسول اللہ! مجھے بتلائیے آپ ﷺ اور آپ کا ساتھی کیوں روتے ہیں۔ ایسی ہی بات ہے تو مجھے بھی رونا چاہئے۔ ورنہ میں آپ دونوں کو روتا دیکھ کر رونا شروع کر دوں گا۔‘‘
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا۔ ہمیں اس بات نے رلایا ہے جو فدیہ لینے کی وجہ سے تیرے ساتھیوں پر پیش کی گئی۔ مجھ پر مسلمانوں کے لئے عذاب اس درخت سے بھی قریب پیش کیا گیا ہے۔ یہ درخت حضور اکرم ﷺ کے پاس ہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں۔
نبی کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی آئیں اور وہ انہیں تہ تیغ نہ کر دے۔ تم دنیا کے مال کے طالب ہو اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہو چکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے۔ اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔
اتنی بات پر تو تمام روایاتِ حدیث متفق ہیں کہ اس بارہ میں مختلف آرا پیش کی گئیں مگر یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس مجلس کے کل ارکان کتنے تھے۔ صرف پانچ صحابہؓ کی موجودگی کا علم ہو سکا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ اور حضرت سعد بن معاذؓ۔
تاہم اصل اختلاف حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی آراء میں تھا۔ حضرت سعد بن معاذ حضرت عمرؓ کے ہم رائے تھے۔ اور عبد اللہ بن رواحہ کی رائے حضرت عمرؓ سے بھی سخت تر تھی۔ آپ نے کہا: ’’یا رسول اللہ! میرے رائے تو یہ ہے کہ ان سب کو کسی ایسی وادی میں داخل کیا جائے جہاں سوختہ زیادہ ہو اور پھر اس میں آگ لگا دی جائے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے فرمایا:۔
لَوِ اجْتَمَعَا مَا عصیتہ کما اگر تم دونوں کسی ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو میں اس کے خلاف نہ کرتا (در منثور ج ۳ ص ۲۰۲)
بہرحال آپ یہ مختلف آراء سن کر گھر تشریف لے گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ آپ حضرت ابو بکرؓ کی رائے پسند کریں گے اور کوئی کہتا تھا کہ حضرت عمرؓ کی رائے قبول کی جائے گی۔‘‘
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی تحقیق کے مطابق کثرت آراء حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ تھی کیونکہ خود حضور اکرم ﷺ بھی اپنی فطری نرمی اور شفقت کی بنا پر حضرت ابو بکرؓ کے ہم خیال تھے۔ اور حاضرینِ مجلس میں بھی اکثر کی رائے یہی تھی۔ گو اِن میں سے بعض کی نظر صرف مالی منفعت تک محدود تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم کے الفاظ ’’تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا‘‘ سے واضح ہے۔ (حاشیہ آیت مذکورہ ۸/۶۷)
اور مفتی محمد شفیع کی تحقیق کے مطابق کثرت آراء حضرت عمرؓ کے ساتھ تھی کیونکہ جن پانچ اکابر صحابہ کا اوپر ذکر کیا ہے ان میں سے صرف حضرت ابو بکرؓ فدیہ لینے کے حق میں تھے۔ باقی سب حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے۔ (اسلام میں مشورہ کی اہمیت ص ۱۶۰) تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ فیصلہ کثرت و قلت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حضور اکرم ﷺ کی صوابدید پر منحصر تھا۔
کچھ دیر بعد آپ گھر سے واپس آئے اور ایک مختصر تقریر فرمائی جس میں فریقین کی دلجوئی کے الفاظ تھے اور فیصلہ بالآخر حضرت ابو بکرؓ کی رائے کے مطابق دے دیا  تو اس کے بعد جو وحی نازل ہوئی اس سے ظاہر ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دینا مسلمانوں کی زبردست اجتہادی غلطی تھی۔
اس واقعہ مشاورت سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:-
$11.      مشورہ کرتے وقت کثرت رائے کے بجائے مشیر کی اہلیت کو بڑا دخل ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ اگر حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ ہم رائے ہو جاتے (اور باقی خواہ سب صحابی دوسری طرف ہوتے) تو انہیں کی رائے کے مطابق فیصلہ کرتا۔‘‘ اس بات پر واضح دلیل ہے۔
$12.      مختلف آراء سننے کے بعد حضور اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے تو صحابہؓ نے کسی ایک رائے کی موافقت میں آراء کو شمار کرنے کی بجائے یہی خیال کیا کہ ’’دیکھیں حضور اکرم ﷺ حضرت ابو بکرؓ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں یا حضرت عمرؓ کی رائے کو‘‘ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ فیصلہ کثرت آراء کی بجائے امیر کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حضرت عمرؓ کی رائے کے موافق ہوا۔ تو یہ محض وقتی مصلحت کا تقاضا تھا کیونکہ بالآخر شرعی حکم وہی قرار پایا جو حضرت ابو بکرؓ کی رائے تھی۔ سورۂ محمد جو آلِ عمران سے بعد نازل ہوئی اس میں یہ حکم یوں ہے:-
﴿فَإِذا لَقيتُمُ الَّذينَ كَفَروا فَضَربَ الرِّقابِ حَتّىٰ إِذا أَثخَنتُموهُم فَشُدُّوا الوَثاقَ فَإِمّا مَنًّا بَعدُ وَإِمّا فِداءً ...﴿٤﴾...محمد
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو (تو جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کر لو۔ پھر یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہئے یا مال لے کر۔
$13.   مشاورت متعلقہ اذان
نماز باجماعت کے لئے اذان کی ابتدا کیونکر ہوئی۔ یہ قصہ بخاری۔ مسلم (باب الاذان) میں مجملاً یوں مذکور ہے:-
عن ابن عمر قال: کان المسلمون حین قدموا المدینة یجتمعون فیتَعَیَّنون للصلوٰۃ ولیس ینادّی بھا احد۔ فتکلموا یومًا فی ذلک: فقال بعضھم: اتخذوا مثل ناقوس النصاریٰ۔‘‘ وقال بعضھم: قرناً مثل قرن الیھود: فقال عمر۔ اولا تبعثون رجلا ینادی بالصلوٰۃ فقال رسول الله ﷺ: قم یا بلال فناد بالصلوٰۃ۔
حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو جمع ہو کر وقت کا اندازہ کرتے اور ایک وقتِ معین کر دیتے تھے اور ان کا کوئی منادی نہ تھا۔ پس ایک روز اس مسئلہ پر مشورہ کیا۔ بعض نے کہا نصاریٰ کا ساناقوس لے لو۔ بعض نے کہا یہود کا ساقرنا لے لو۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ کوئی آدمی کیوں نہ مقرر کر دو جو نماز کا بلاوا دے آیا کرے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بلال کھڑے ہو جاؤ اور نماز کی منادی کر دو۔
بعض دوسری احادیث کتب مثلاً ابو داؤد، دارمی،دار قطنی اور ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلی مجلس میں اذان کی صحیح شکل اور کلمات متعین نہیں ہوئے تھے یعنی صرف حی علی الصلوٰۃ کے الفاظ سے منادی کر دی جاتی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن زید بن عبدِ ربہ کہتے ہیں کہ:-
مجھے خواب میں ایک شخص ملا جو ناقوس بیچ رہا تھا۔ میں نے کہا: ناقوس بیچ رہے ہو؟ اس نے کہا: ہاں لیکن تمہیں اس سے کیا غرض؟‘‘ میں نے کہا۔ اس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلائیں گے۔‘‘ اس نے کہا میں تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ میں نے کہا۔ ’’ہاں‘‘ تو اس نے کہا: اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر.... آخر تک اذان کے کلمات کہے۔
صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا خواب بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’انشاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے یہ کلمات بتلاؤ اور وہ اذان کہے وہ تجھ سے بلند آواز ہے۔ ’’پس میں بلال کے ساتھ ہوا اور انہیں اذان کے کلمات بتلانے لگا اور وہ اذان کہتے رہے۔
جب حضرت عمرؓ نے گھر میں اذان کی آواز سنی تو چادر گھسیٹتے (جلدی میں) گھر سے آئے اور آکر عرض کیا ’’یا رسول اللہ میں نے بھی بالکل ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔‘‘ تو اس پر آپ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔‘‘
اس مجلس مشاورت سے مندرجہ ذیل امور میں روشنی پڑتی ہے:۔
$11.      حضور اکرم ﷺ بعض تشریعی امور میں بھی صحابہؓ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ جب کہ بذریعہ وحی کوئی واضح دلیل موجود نہ تھی۔
$12.      مختلف آراء سننے کے بعد کسی رائے کا اقرب الی الحق یا رضائے الٰہی ہونا ناپسندیدگی کا معیار تھا۔ مشیروں کی تعداد نہیں گنی جاتی تھی۔
$13.      کسی رائے کی پسندیدگی امیر کی صوابدید پر منحصر ہے۔
$14.    مشاورت متعلقہ غزوۂ اُحد
جب ابو سفیان اور مشرکین مکہ تین ہزار کا لشکرِ جرار لے کر مدینہ کے پاس پہنچ گئے۔ تو آپ ﷺ نے اس امر میں صحابہؓ میں مشورہ فرمایا کہ جنگ مدینہ میں رہ کر مدافعانہ طور پر کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے؟
حضور اکرم ﷺ کی اپنی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ لڑی جائے۔ وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے دو تین خواب دیکھے تھے۔
$11.      گزشتہ رات آپ ﷺ نے خواب دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی گئی ہے۔
$12.      آپ ﷺ نے یہ بھی خواب دیکھا تھا کہ آپ کی تلوار کی تھوڑی سی دھار گر گئی ہے۔
$13.      آپ ﷺ نے یہ بھی دیکھا تھا کہ آپ  ﷺ نے ایک زرہ میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔
ان میں سے مذکورہ پہلے دو خواب بخاری کتاب التعبیر میں مذکور ہیں اور پھر یہ تینوں خواب البدایۃ والنہایہ ج ۴ ص ۱۲ پر بھی مذکور ہیں۔ مختصراً یہ کہ ان خوابوں کی تعبیر میں مسلمانوں کی شہادت اور آپ ﷺ کے زخمی ہونے کے اشارات پائے جاتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ مدینہ میں رہ کر مدافعانہ جنگ لڑنا چاہتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے اہل الرائے اور بزرگ بھی آپ کے ہم رائے تھے۔ مسلمانوں کا کل لشکر ایک ہزار پر مشتمل تھا۔ جن میں تین سو افراد عبد اللہ بن اُبی منافق کے ساتھی تھے۔ عبد اللہ بن ابی کی بھی رائے یہی تھی کہ جنگ مدینہ میں رہ کر لڑی جائے لیکن کچھ جوشیلے نوجوانوں کا طبقہ جو بدر میں شامل نہ ہو سکا تھا۔ اس حق میں تھا کہ جنگ کھلے میدان میں لڑی جائے۔ اب اس پس منظر میں حافظ ابن کثیر صاحبِ البدایۃ والنہایہ کی زبان سے اس مشورہ کا حال سنیے:
وقال الذین لم یشھدوا بدرًا ’’کنا نتمنِّی ھذا الیوم وندعوا الله فقد ساقه الله الینا وقرب السیر، وقال رجل من الانصار: متی تقاتلھم یا رسول الله اذاً لم تقاتلیھم عند شعبنا؟ وقال رجال ’’ما ذا تمنع اذا لم تمنع الحرب بروع؟ وقال رجال صدقوا وامضُوا علیه منھم حمزہ بن عبد المطلب قال: والذی انزل علیک الکتاب لنجَادلنّھم۔ وقال نعیم بن مالک بن ثعلبه وھو احد بنی سالم: یا نبی الله لا تحرمنا الجنة۔ فو الذی نفسی بیدہ لادخلنَّھا۔‘‘ فقال له رسول الله ﷺ: بِمَ؟ قال: بِاَبِّی احب الله ورسوله ولا اخِرُّ یوم الزحف۔‘‘ فقال له رسول الله ﷺ: صدقَتَ واستشھد یومئذٍ۔ وَابی کثیرًا من الناس الا الخروج الی العدوِّ ولم یتناھوا الی قول رسول الله ﷺ ورَایه ولو رضوا بالذی امرھم کان ذلک ولٰکن غلب القضاء والقدر وعامة من اشار علیه بالخروج رجال لم یشھدوا بدرًا قد علموا الذی سبق لاصحاب بدر من الفضیلة۔ فلما صلی رسول الله ﷺ الجمعة وعظ الناس وذکرھم وامرھم بالجھد والجھاد ثم انصرف من خطبته وصلوٰته فدعا بلأمته فلبسھا ثمَّ اَذَّنَ فی الناس بالخروج۔ فلما رای ذلک رجال من ذوی الرأی قالوا: امرنا رسول ﷺ ان تمکث بالمدینة وھو اعلم بالله وما یرید ویاتیه الوحی من السماء فقالوا: یا رسول الله امکث کم اَمَرْتَنَا‘‘ فقال: ’’ما ینبغی لنبی اذا اخذ لأمة الحرب وَاذَّن بالخروج الی الله وان یَرْجِعَ حَتّٰی یقاتل وقد دعوتکم الی ھذا الحدیچ فابیتھم الی الخروج فعلیکم بتقوی الله والصبر عند الباس اذا لقیتم العدوَّ وانظروا الی ما امرکم الله به فافعلوا۔‘‘ (البدایة والنھایه ج ۴ ص ۱۳-۱۲)
اور وہ لوگ جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے۔ کہنے لگے: ہم آج کے دن کی تمنا کرتے اور اللہ سے دعا مانگتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ اسے ہماری طرف لے آیا اور فاصلہ قریب کر دیا۔ انصار میں ایک شخص نے کہا! یا رسول اللہ! ہم اس وقت ایک مضبوط جماعت ہیں۔ اگر اب ان سے لڑائی نہ کی تو اور کب کریں گے۔
اور کچھ لوگوں نے کہا: کیا ہم لڑائی کے خوف سے رکے رہیں۔
اور کچھ لوگوں نے کہا جن میں حمزہ بن عبد المطلب بھی تھے اور انہوں نے اپنی بات سچ کر دکھلائی اور اسی راستہ پر چلے۔ کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ پر قرآن اتارا ہم ضرور لڑائی کریں گے اور نعیم بن مالک بن ثعلبہ نے جو بنی سالم کے یکتا نوجوان تھے، کہا اے اللہ کے نبی! ہمیں جنت سے محروم نہ کیجیے۔ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور جنت میں داخل ہوں گا۔‘‘ اس کو رسول اللہ ﷺ نے کہا۔ ’’کیسے‘‘ اس نے کہا۔ کیونکہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ میں لڑائی کے دوران فرار کی راہ اختیار نہ کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: تو نے سچ کہا اور وہ اس دن شہید ہو گیا۔
علاوہ ازیں بہت سے لوگوں نے دشمن کی طرف نکل کر لڑنے کی رائے دی۔ اور رسول اللہ ﷺ کی بات اور رائے کی پرواہ نہ کی۔ اگر وہ اس رائے سے راضی ہو جاتے تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن اللہ کی تقدیر غالب ہوئی اور وہ لوگ جو بدر میں شریک نہ ہو سکے اور انہیں اس کی فضیلت معلوم ہوئی تو باہر نکل کر لڑنے کی طرف ہی اشارہ کرتے تھے۔
پھر جب حضور اکرم ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ فرمایا۔ انہیں نصیحت کی اور کوشش اور جہاد کا حکم دیا پھر خطبہ اور نماز سے فارغ ہو کر گھر چلے گئے پھر لڑائی کے ہتھیار منگوائے انہیں زیبِ تن کیا اور باہر نکلنے کا اعلان کر دیا۔
جب لوگوں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو کچھ اہل الرائے ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ ہمیں حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا اور جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہ اسے خوب جانتے تھے اور ان پر آسمان سے وحی آتی ہے تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مدینہ میں ہی ٹھہریے جیسے آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے۔‘‘ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
نبی کو یہ لائق نہیں کہ اسلحہ جنگ زیبِ تن کرے اور دشمن کی طرف نکلنے کا اعلان کرے تو اس سے لڑے بغیر واپس ہو۔ میں نے تمہیں یہی بات کہی تھی تو تم نے اسے تسلیم نہ کیا اور باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ اب تم پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو جنگ میں ثابت قدم رہو اور اس بات کا خیال رکھو کہ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اسی طرح کرو۔
اس مشاورت سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:
$11.      حضور اکرم ﷺ نے ان جوشیلے نوجوانوں کی رائے پر فیصلہ فرمایا جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور جہاد کی انتہائی آرزو رکھتے تھے تو محض یہ ان کی دلجوئی کی خاطر فیصلہ کیا گیا تھا۔
$12.      کل لشکر کی تعداد ایک ہزار تھی۔ جس میں ۳۰۰ عبد اللہ بن ابی کے ساتھی بھی حضور ﷺ کے ہم رائے تھے۔ اور وہ بزرگ صحابہ جو جنگِ بدر میں پچھلے ہی سال شریک ہوئے وہ بھی آپ کے ہم رائے تھے۔ ان کی تعداد ۳۰۰ کے لگ بھگ تھی۔ لہٰذا من حیث المجموع ان نوجوانوں کی اکثریت ثابت نہیں ہوتی اور متن میں جو کثیرًا من الناس کے الفاظ آئے ہیں تو اس سے مراد سو یا دو سو بھی ہو سکتے ہیں۔ اتنے لوگوں پر بھی یہی لفظ استعمال ہو گا۔
$13.      اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے  کہ وہ فی الواقعہ کثرت میں تھے۔ تو انہی لوگوں نے جنگ سے پہلے ہی اپنے ارادہ کو بدل کر معذرت پیش کی لیکن ﷺ نے اس ’’کثرت‘‘ کی بات تسلیم نہیں کی۔
نتیجہ واضح ہے کہ فیصلہ امیر کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ وہ اکثریت کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں ہوتا۔
$14.    مانعینِ زکوٰۃ سے متعلق حضرت ابو بکرؓ کا مشورہ
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہت ہیں کہ جب حضور اکرم ﷺ کی وفات ہو گئی تو مدینہ میں نفاق پھیل گیا۔ عرب قبائل مرتد ہونے لگے۔ کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ ادھر جیش اسامہ کی روانگی کا مسئلہ بھی سامنے تھا۔ جس کو خود حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ترتیب دیا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر حضرت ابو بکرؓ نے پہلے جیش اسامہ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا تو ان نازک حالات میں شوری فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابو بکرؓ نے اپنا دو ٹوک فیصلہ ان الفاظ میں فرمایا:
والذی نفس ابی بکر بیدہ، لو ظننت ان السبّاع تخطفنی لانقذت بعث اسامة کما امر به رسول الله ﷺ، ولو لم یبق فی القریٰ غیر لَاَنْقَذْتُه۔ (طبری جلد ۳ ص ۲۲۵)
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ ابو بکرؓ کی جان ہے۔ اگر مجھے یہ یقین ہو کہ درندے آکر مجھے اُٹھالے جائیں گے تو بھی میں اسامہ کا لشکر ضرور بھیجوں گا۔ جیسا کہ حضوراکرم ﷺ نے حکم دیا تھا۔ اور اگر ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی شخص بھی باقی نہ رہے تو بھی میں یہ لشکر ضرور روانہ کروں گا۔
چنانچہ یہ لشکر بھیجا گیاجو چالیس دن کے دن ظفر یاب ہو کر واپس آگیا۔ اب مانعین زکوٰۃ کے متعلق حضرت ابو بکرؓ نے مہاجرین و انصار کو جمع کیا اور فرمایا:-
’’آپ کو معلوم ہے کہ عرب نے زکوٰۃ ادا کرنی چھوڑ دی اور وہ دین سے مرتد ہو گئے اور عجم نے تمہارے لئے نہادند تیار کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان جس شخص کی وجہ سے ہمیشہ فتحیاب ہوتے تھے وہ تو گزر چکا۔ اب موقع ہے کہ مسلمانوں کو مٹا دیا جائے۔ آپ مجھے مشورہ دیں کہ اس حالت میں کیا کرنا چاہئے۔ کیونکہ میں بھی تمہیں میں سے ایک شخص ہوں اور مجھ پر تمہاری نسبت اس مصیبت کا بوجھ زیادہ ہے۔‘‘
اس تقریر سے مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا۔ طویل خاموشی کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا:-
’’اے خلیفہ رسولؐ! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت عرب سے نماز ادا کرنے ہی کو غنیمت سمجھیں اور زکوٰۃ چھوڑنے پرمواخذہ نہ کریں۔ یہ لوگ ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ تمام اسلامی فرائض و احکام کو تسلیم کر کے سچے مسلمان بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کو قوت دے دے گا تو ہم ان کے مقابلہ پر قادر ہو جائیں گے لیکن اس وقت کو مہاجرین اور انصار میں تمام عرب و عجم کے مقابلہ کی سکت نہیں۔‘‘
حضرت عمرؓ کی رائے سننے کے بعد حضرت ابو بکرؓ حضرت عثمانؓ کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے بھی حرف بحرف حضرت عمرؓ کی رائے کی تائید کی۔ پھر حضرت علیؓ نے بھی اسی کی تائید کی۔ ان کے بعد تمام انصار و مہاجرین اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہو گئے۔
یہ سن کر حضرت ابو بکرؓ منبر پر چڑھے اور فرمایا:
والله لا ابرح اقوم بامر الله واجاھد فی سبیل اللّٰہ حتّٰی ینجز الله تعالٰی ویَفِیَ لنا عھدہ فیقتل من قتل منا شھیدا فی الجنة ویبقی من بقی خلیفة الله فی ارضه و وارث عبادہ الحق فان الله قال ولیس لقومه خلف ’’وَعَدَ الله الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لِیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلِفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ۔‘‘ والله لو منعونی عقالًا کانوا یعطون رسول الله ﷺ ثم اقبل معھم الشجر والعَدَرُ والجِنُّ والانس لجاھدتھم حتّٰی تلحقَ روحی بالله ان الله لم یفرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ ثم جمعھما(ایک روایت میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عمرؓ کو کہا۔ تمہیں کیا ہو گیا۔ تم کفر کی حالت میں تو بہت جری اور دلیر تھے۔ اب اسلام میں آکر کمزوری دکھاتے ہو۔)(کنز جلد ۳ ص ۱۴۲)
ترجمہ: خدا کی قسم! میں برابر امر الٰہی پر قائم رہوں گا اور خدا کی راہ میں جہاد کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما دے اور ہم میں سے جو قتل ہو وہ شہید ہو کر جنت میں جائے اور جو زندہ رہے وہ خدا کی زمین میں اس کا خلیفہ اور اس کے بندوں کا وارث ہو کر رہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے نیک عمل کرنے والے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اِن کو خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔ خدا کی قسم! اگر یہ لوگ جو زکوٰۃ حضرت محمد ﷺ کو دیتے تھے اس میں سے ایک رسی بھی روکیں گے تو میں ان سے برابر جہاد کرتا رہوں گا حتّٰی کہ میری روح خدا تعالیٰ سے جا ملے۔ خواہ ان لوگوں کی مدد کے لئے ہر درخت اور پتھر اور جن و انس میرے مقابلہ کے لئے جمع ہو جائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں فرمایا۔ بلکہ دونوں کو ایک ہی سلسلہ میں ذکر کیا ہے۔
یہ تقریر ختم ہوتے ہی حضرت عمرؓ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور فرمایا ’’جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابو بکرؓ کا شرح صدر فرمایا میرا بھی اسی طرح پر شرح صدر ہو گیا۔
اسی واقعہ کو امام بخاریؒ نے نہایت اختصار اور تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یوں بیان فرمایا ہے:
ان ابا ھریرۃ قال: لما تُوَفِّیَ النبی ﷺ واستخلف ابو بکر و کفر من کفر من الرب قال عمر: یا ابا بکر! کیف تقاتل الناس وقد قاتل رسول الله ﷺ ’’امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله عَصَمَ مِنِّیْ ما له ونفسه الا بحقه وحسابه علی الله۔‘‘ قال ابو بکرٍ: والله لَاُقاتلَنَّ من فرَّق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ فان الزکوٰۃ  حق المال، والله لو منعونی عناقًا کانوا یؤدونھا الی رسول الله ﷺ لقاتلھم علی منعھا۔‘‘ قال عمر: فو الله ما ھو الا ان رأیت ان قد شرح الله صدر ابی بکر للقتال فعرفت انه لحق (بخاری، کتاب استتابة المرتدین)
ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا: جب آنحضرت ﷺ کا انتقال ہو گیا اور حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بن گئے اور عرب کے کچھ لوگ کافر ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھ کو لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الٰہ الا للہ نہ کہیں پھر جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ لیا اس نے اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچا لیے الا یہ کہ اس کے لئے کا بدلہ اس کے مال یا جان کا نقصان ہو اور جو اس کے دل میں ہے تو اس کا حساب اللہ پر ہے۔‘‘
حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا۔ ’’خدا کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا۔ اس لئے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے (جیسے نماز جسم کا) خدا کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیں گے جو آنحضرت ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کی عدم ادائیگی پر ان سے ضرور لڑوں گا۔‘‘
حضرت عمرؓ نے کہا۔ خدا کی قسم! اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابو بکرؓ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں پہچان گیا کہ حضرت ابو بکرؓ کی رائے حق ہے۔‘‘
چنانچہ حضرت ابو بکرؓ مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کا عزم مصمم کر کے نکل کھڑے ہوئے مقام ذی القصہ تک پہنچ گئے تو حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی باگ تھام لی اور فرمایا: ’’اے خلیفہ رسولؐ! آج میں آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو آپ نے غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کو کہی تھی۔ یعنی:-
شم سیفک ولا تفجعنا بنفسک فو الله لئن اصبنا بک لا یکون للاسلام بعدک نظاما ابدًا (کنز ج۳۔ ص ۱۴۳)
اپنی تلوار کو میان میں کیجیے اور ہمیں اپنی ہستی سے محروم نہ کیجیے۔ خدا کی قسم اگر آپ کے قتل کی مصیبت ہم پر پڑ گئی تو پھر آپ کے بعد اسلام کا نظام کبھی درست نہ ہو گا۔
حضرت علیؓ کے اصرار پر حضرت ابو بکرؓ خود تو واپس مدینہ تشریف لائے۔ اپنی جگہ حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالار بنا کر بھیج دیا اور جہاد کا کام جاری رکھا تا آنکہ مرتد قبائل کو راہِ راست پر نہیں لے آئے۔
مندرجہ بالا واقعات کثرت رائے کے معیار حق ہونے کے ابطال پر دو ٹوک اور قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں۔ جہاں خلیفہ وقت تمام شوریٰ کی متفقہ رائے کو ناقابل تسلیم قرار دے کر اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرتااور اسے نافذ بھی کر دیتا ہے اور شوریٰ نے بھی اعتراف کیا اور واقعات نے بھی ثابت کر دیا کہ واقعۃً اکیلے خلیفہ کی رائے اقرب الی الحق تھی۔
$15.   مشاورت متعلقہ ’’حضرت عمرؓ کا خود سپہ سالار بن کر عراق جانا
(ماخوذ از طبری جلد ۳ صفحہ ۴۸۰ تا ۴۸۲)
حضرت عمرؓ حج بیت اللہ سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو ملک کے ہر حصے سے لوگوں کے گروہ آنا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام میدان مدینہ آدمیوں سے پُر نظر آنے لگا۔ فاروق اعظمؓ نے حضرت طلحہؓ کو ہرا دل کا سردار مقرر فرمایا۔ زبیر بن العوام کو میمنہ پر اور عبد الرحمٰن بن عوفؓ کو میسرہ پر مقرر فرما کر خود سپہ سالار بن کر اور فوج لے کر روانگی کا عزم فرمایا۔ حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور فوج لے کر مدینے سے روانہ ہوئے اور چشمہ صرار پر آکر قیام کیا۔ تمام فوج میں لڑائی کے لئے بڑا جوش پیدا ہو گیا تھا۔ کیونکہ خلیفہ وقت خود اس فوج کا سپہ سالار تھا۔
حضرت عثمانؓ نے فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا خود عراق کی طرف جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
فاروق اعظمؓ نے تمام سردارانِ فوج اور عام لشکری لوگوں کو ایک جلسہ عظیم میں مخاطب کر کے مشورہ طلب کیا تو کثرت رائے خلیفہ وقت کے ارادے کے موافق ظاہر ہوئی۔ لیکن حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے فرمایا کہ میں اس رائے کو ناپسند کرتا ہوں۔ خلیفہ وقت کا خود مدینہ منورہ سے تشریف لے جانا خطرہ سے خالی نہیں۔ کیونکہ اگر کسی سردار کو جنگ میں ہزیمت حاصل ہو تو خلیفہ وقت بآسانی اس کا تدارک کر سکتے ہیں لیکن خدانخواستہ خود خلیفہ وقت کو میدانِ جنگ میں کوئی چشم زخم پہنچے تو پھر مسلمانوں کے کام کا سنبھلنا دشوار ہو جائے گا۔
یہ سن کر حضرت علیؓ کو مدینہ منورہ سے بلا لیا گیا اور تمام اکابر صحابہ سے مشورہ کیا گیا۔ حضرت علیؓ اور تمام جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کی رائے کو پسند کیا۔
فاروق اعظمؓ نے دوبارہ اجتماع عام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’میں خود تمہارے ساتھ عراق جانے کو تیار تھا لیکن صحابہ کرام کے تمام صاحب الرائے حضرات میرے جانے کو ناپسند کرتے ہیں۔ لہٰذا میں مجبور ہوں۔ اب کوئی دوسرا شخص سپہ سالار بن کر تمہارے ساتھ جائے گا۔
اب صحابہ کرام کی مجلس میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ کس کو سپہ سالار بنا کر عراق بھیجا جائے حضرت علیؓ نے انکار فرمایا۔ حضرت ابو عبیدہؓ اور خالد شام میں مصروف پیکار تھے۔ بالآخر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے مسعد بن ابی وقاص کا نام پیش کیا۔ سب نے اس کی تائید کی اور حضرت عمرؓ نے بھی پسند فرمایا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ان دنوں صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ چنانچہ انہیں بلا کر سپہ سالار مقرر کیا گیا اور خود حضرت عمرؓ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔‘‘
اس واقعہ مشاورت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف متعدد صاحب الرائے اشخاص کی رائے عوام کی بھاری اکثریت کی رائے سے زیادہ وزنی ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے تمام فوج اور فوج کے سرداروں اور خود اپنی خواہش کے مطابق ایک معاملہ طے کیا۔ لیکن صرف چند اہل الرائے کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے اکثریت کی رائے کو رود کر دیا۔
$16.    مشاورت عمرؓ۔ طاعون سے متعلق
عن عبد الله بن عباس ان عمر بن الخطابِ خرج الی الشام حتّٰی اذا کان بِسَرَغٍ لقیه اھل الاجناد ابو عبیدۃ بن الجراح واصحابُه واخبروہ ان الوباء قد وقع بالشام۔ قال ابن عباس فقال عمر اُدع لی المھاجرین الاولیجن‘‘ فدعوتھم فاستشارھم واخبرھم ان الوبا وقع بالشام۔ فاختلفوا۔ فقال بعضھم: قد خرجت لامرٍ ولا نری ان ترجع عنه۔ وقال بعضھم معک بقیة الناس واصحاب رسول الله ﷺ ولا نریٰ تقدِمَھم علی ھذا الوباء۔ قال ارتفعوا عَنِّیْ۔ ثم قال: ادع لِیَ الانصار۔‘‘ فدعوتھم له فاستشارھم فسلکوا سبیل المھاجرین واختلفوا کاختلافھم فقال ارتفعوا عنی۔ ثم قال: ادع لی من کان ھھنا من مشیخة قریش من المھاجرة قبل الفتح۔ فدعوتھم فلم یختلف علیه رجلان۔ فقالوا: نریٰ ان ترجع بالناس فلا تقدمھم علی ھذا الوباء۔ فنادی عمر بالناس انی مصبحٌ علی ظھر فاصبحوا علیه۔‘‘ فقال ابو عبیدۃ بن الجراح: افرارًا من تدر الله؟ فقال عمر: ’’لو غیرک قالھا یا عبیدۃ‘‘ وکان عمر یکرہ خلافه نعم نُفِرَّ من قدر الله الی قدر الله۔ ارایت ان کانت اِبِلٌ فھبطت وادیًا له عِدوّتان احدھما خیسبة والاخری جدبة الیس ان رعیت الخیسبة لقدر الله؟ وان رعیت الجدبة رعیتھا لقدر اللّٰه؟‘‘ قال جاء عبد الرحمٰن بن عوف مُتَغَیِّبًا فی بعض حاجته فقال: ان عندی علمًا سمعت رسول الله ﷺ یقول: اذا سمعتم به بارض فلا تقدموا علیه، واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا منه فرارًا۔‘‘
قال: فحمد الله عمر بن الخطاب ثم انصرف۔ (مسلم۔ کتاب السلام۔ باب الطاعون)
عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ شام کی طرف نکلے اور جب مقام سرغ پر پہنچے تو اسلامی حکام فوج سردار وابو عبیدہ بن جراح (جو اس وقت شام کے گورنر تھے) یہاں آکر ملے اور خبر دی کہ آج کل شام میں وباء (طاعون) پھیلی ہوئی ہے۔ ابنِ عباس کہتے ہیں مجھے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ’’مہاجرین اوّلین کو بلاؤ۔‘‘ میں نے انہیں بلایا تو انہیں شام میں وبا پھیلنے کی اطلاع دی۔ اور اس کے متعلق ان سے مشورہ طلب کیا۔ ان کا آپس میں اختلاف ہوا۔ بعض کہتے تھے کہ ’’آپ دینی کام کے لئے نکلے ہیں۔ ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس جائیں۔ اور بعض کہتے تھے۔ ’’آپ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور بہت سے دوسرے لوگ ہیں۔ ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ انہیں وبا میں جھونک دیں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ ’’میرے پاس سے اب چلے جاؤ۔‘‘ پھر حضرت عمرؓ نے مجھے کہا۔ ’’اب انصار کو بلاؤ۔‘‘ میں انہیں بلا لایا۔ پھر ان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا۔ آپ نے انہیں بھی یہی کہا کہ ’’چلے جاؤ۔‘‘ پھر مجھے کہا۔ اب ان قریشی مہاجرین بزرگوں کو جمع کرو۔ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی۔‘‘ میں انہیں بلا لایا۔ ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہ کیا اور کہنے لگے: ہم یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ ’’آپ لوگوں کو اس وبا میں نہ جھونکیں۔ اب حضرت عمرؓ نے اعلان کر دیا کہ ’’میں علی الصبح واپس مدینہ چلا جاؤں گا۔ اور لوگ بھی واپس لوٹ آئے۔‘‘ یہ اعلان سن کر ابو عبیدہ بن الجراح حضرت عمرؓ سے کہنے لگے: کیا آپ تقدیر سے بھاگتے ہیں۔‘‘ حضرت عمرؓ کہنے لگے: ’’کاش یہ بات ابو عبیدہ کے سوا کوئی اور کہتا‘‘ (کیونکہ حضرت عمرؓ ان کے خلاف بات کو پسند نہ کرتے تھے) ’’کہنے لگے۔ ’’ہاں! ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ (پھر فرمایا) بھلا دیکھو تو! اگر آپ اپنے اونٹ کسی وادی میں چرانے کو لے جائیں جس کا ایک حصہ خراب اور قحط زدہ ہو اور دوسرا سبزہ زار تو کیا یہ صحیح نہیں کہ اگر خراب حصہ میں سے چرائیں گے وہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہو گا اور اگر سبزہ زار سے چرائیں گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق۔‘‘ابن عباس کہتے ہیں کہ اتنے میں عبد الرحمٰن بن عوف آگئے جو اپنے کسی کام کی وجہ سے غیر حاضر تھے۔ کہنے لگے۔ ’’مجھے اس کا شرعی حکم معلوم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ’’جب سنو کہ کسی شہر میں طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ۔ اور اگر ایسی جگہ طاعون پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو وہاں سے مت بھاگ نکلو۔‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس ہو گئے۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:
$11.      جن لوگوں سے مشورہ لیا جائے۔ ان کے فرق مراتب کا لحاظ رکھا جائے۔ جو لوگ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی رضا جوئی میں پیش پیش ہوں۔ مشورہ کے سب سے زیادہ حقدار وہی لوگ۔ پھر علیٰ قدر مراتب دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔
$12.      مشورہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ سب اصحاب مشورہ ایک ہی مجلس میں اکٹھے ہوں۔ مشورہ علیحدہ علیحدہ بھی لیا جا سکتا ہے۔
$13.      مشورہ کے بعد رائے شماری یا اکثریت فیصلہ کا کوئی معیار نہیں ہے۔
$14.      مشورہ کے بعد فیصلہ امیر کی صوابدید پر ہے۔ جب تک حضرت عمرؓ کو دلی اطمینان یا انشراحِ صدر نہیں ہوا آپ مجلسِ شوریٰ بدلتے رہے۔ اگر پہلی ہی پر اطمینان حاصل ہو جاتا تو دوسری یا تیسری مجلس کی ضرورت ہی نہ تھی۔
$15.      دلی اطمینان کی وجہ یہ نہ تھی کہ تیسری مجلس نے بالاتفاق ایک ہی رائے دی اور اس میں اختلاف نہ ہوا بلکہ یہ تھی کہ ان کا اپنا اجتہاد (یا دلیل) بھی وہی کچھ تھا۔ جو تیسری مجلس نے رائے دی تھی۔ اور اسی دلیل سے آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو بھی مطمئن کیا۔
$16.    عراق کی مفتوحہ زمینوں کے متعلق
حضرت عمرؓ کی مجلس مشاورت
(یہ واقعہ چونکہ مالیات سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا درج ذیل اقتباسات کتاب الخراج للامام ابو یوسف عنوان متعلقہ میں درج احادیث و روایات سے ماخوذ ہیں)
جب عراق اور شام کو مسلمانوں نے فتح کر لیا اور ان زمینوں پر قبضہ ہو گیا تو امرائے فوج نے اصرار کیا کہ مفتوحہ مقامات ان کے صلہ فتح کے طور پر ان کی جاگیر میں عنایت کیے جائیں۔ اور باشندوں کو ان کی غلامی میں دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے عراق کی فتح کے بعد سعد بن وقاصؓ کو وہاں کی مردم شماری کے لئے بھیجا۔ کل باشندوں اور اہل فوج کی تعداد کا موازنہ کیا گیا تو ایک ایک مسلمان کے حصے میں تین تین آدمی پڑتے تھے۔ اسی وقت حضرت عمرؓ کی یہ رائے قائم ہو چکی تھی کہ زمین باشندوں کے قبضے میں رہنے دی جائے اور ان کو ہر طرح آزاد چھوڑ دیا جائے۔
اکابر صحابہؓ میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف اہل فوج کے ہم زبان تھے۔ اموال غنیمت کے علاوہ زمینوں اور قیدیوں کی تقسیم پر بھی مصر تھے اور حضرت بلالؓ نے تو اس قدر جرح کی کہ حضرت عمرؓ نے دق دکر فرمایا:
اللھم اکفنی بلالًا۔
اے خدا مجھ کو بلال سے نجات دے۔
حضرت عمرؓ یہ استدلال پیش کرتے تھے کہ اگر ممالک مفتوحہ فوج میں تقسیم کر دیئے جائیں تو آئندہ افواج کی تیاری، بیرونی حملوں کی مدفعت، ملک کے امن و امان قائم رکھنے کے لئے مصارف کہاں سے آئیں گے اور یہ مصلحت بھی ان کے پیش نظر تھی کہ اگر زمین افواج میں تقسیم کر دی گئی تو وہ جہاد کی طرف سے غافل اور جاگیرداری میں مشغول ہو جائیں گے۔ لہٰذا اموالِ غنیمت تو فوج میں تقسیم کر دینے چاہئیں اور زمین بیت المال کی ملکیت قرار دی جانی چاہئے کیونکہ اتنی کثیر مقدار میں اموال اور زمین اس کے بعد مسلمانوں کے ہاتھ لگنے کی توقع کم ہی نظر آرہی تھی۔
حضرت عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں کہ جن تلواروں نے ملک کو فتح کیا ہے انہی کو زمین پر قبضے کا بھی حق ہے۔ آئندہ نسلیں اس میں مفت میں کیسے شریک ہو سکتی ہیں؟ لیکن حضرت عمرؓ اس بات پر مصر تھے کہ جب وسائل موجود ہیں تو مملکت اسلامیہ کو ایک فلاحی مملکت بنانا ضروری ہے اور اس میں جملہ مسلمانوں کا خیال رکھنا چاہئے جیسا کہ بخاری کی درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہے:
قال عُمر: لو لا اٰخر المسلمین ما افتتحت قریة الا قسمتھا بین اھلھا کما قسم النبی ﷺ خیبر۔ (بخاری کتاب الجھاد والسیر۔ باب الغنیمة لمن شھد الوقعة)
ترجمہ: حضرت عمرؓ نے کہا: ’’اگر مجھے پچھلے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو بستی فتح کرتا اسے فتح کرنے والوں میں بانٹ دیتا جیسے آنحضرت ﷺ نے خیبر کو بانٹ دیا تھا۔‘‘
جہاں تک اسلامی مملکت کے استحکام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کا تعلق تھا۔ حضرت عمرؓ کو اپنی رائے کی اصابت کا مکمل یقین تھا لیکن وہ کوئی ایسی نص قطعی پیش نہ کر سکے تھے۔ جس کی بنیاد پر وہ مجاہدین، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف یا حضرت بلال کو قائل کر سکیں۔
چونکہ دونوں طرف دلائل موجود تھے۔ لہٰذا حضرت عمرؓ نے فیصلہ کے لئے مجلس مشاورت طلب کی۔ یہ مجلس دس افراد پر مشتمل تھی۔ پانچ قدماء مہاجرین میں اور پانچ انصار (قبیلہ اوس اور خزرج) میں سے اس مجلس میں شریک ہوئے۔ حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت طلحہؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے اتفاق کیا۔ تاہم کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ کئی دن تک یہ بحث چلتی رہی۔
حضرت عمرؓ کو دفعۃً قرآن مجید کی ایک آیت یاد آئی جو بحث کو طے کرنے کے لئے نص قاطع تھی۔ اس آیت کے آخر فقرے وَالَّذِیْنَ جَآءُ ومِنْ بَعْدِھِمْ (سورہ حشر) سے حضرت عمرؓ نے یہ استدلال کیا کہ فتوحات میں آئندہ نسلوں کا بھی حق ہے۔ لیکن اگر اسے فاتحین میں تقسیم کر دیا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے کچھ باقی نہیں رہتا۔ اب حضرت عمرؓ نے کھڑے ہو کر نہایت پر زور تقریر فرمائی: جس میں آپ نے زکوٰۃ، غنیمت اور فے کی تقسیم کے بارے میں یوں وضاحت فرمائی۔
عن مالک بن اوسٍ قال قَرَاَ عمر بن الخطاب اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقْرَآءِ وَالْمَسَاکِیْنَ حَتّٰی بَلَغَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ ثُمَّ قَرَآ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَه وَلِلرَّسُوْلِ حتی بلغ وابن السبیل ثم قال ھذہٖ لھٰؤلاء۔ ثم قَرَآءَ مَآ اَفَآءَ الله عَلٰی رَسُوْلِه مِنْ اَھْلِ الْقُرْیٰ حَتّٰی بلغ للفقراء ......وَالَّذِیْنَ جَآءُوْا مِنْ بَعْدِھِمْ‘‘ ثم قال ھذہ استرعبت المسلمین عامّة فلئِن عشت فلیاتینّ الراعی وھو بِسَرْوٍ وحَمِیرَ نصیبه منھا لم بعرق فیھا جینیه۔ رواہ فی شرح السنة (بحواله مشکوٰۃ۔ باب الفیٔ)
مالک بن اوسؓ سے روایت ہے: کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے یہ آیت پڑھی اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقْرَآءِ وَالْمَسَاکِیْنَ۔ یہاں تک کہ علیم حکیمٌ تک پہنچے۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ واعلموا انی عنمتم من شیءٍ۔ پھر کہا یہ ان لوگوں کا حصہ ہے۔
پھر یہ آیت پڑھی، جو چیز اللہ نے بستیوں میں اپنے رسول کے ہاتھ لگا دی یہاں تک کہ پہنچے واسطے فقیروں کے۔ اور ان لوگوں کے جو ان کے پیچھے آنے والے ہیں۔ پھر کہا اس آیت نے تمام مسلمانوں کو شامل کر دیا ہے۔ پس اگر میں زندہ رہا۔ تو سَرد اور حمیر کے اس چرواہے کو بھی اس میں سے حصہ پہنچے گا جس کی پیشانی پر پسینہ نہیں آیا (یعنی جس نے جہاد کے سلسلہ میں کچھ بھی محنت نہ کی ہو)
اس پر سب لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا۔ بلاشبہ آپ کی رائے صحیح ہے:۔
اس واقعہ سے درج ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے:۔
$11.      امیر فیصلہ کرتے وقت کثرت رائے کا پابند نہیں۔ اس کا اپنا دلی اطمینان یا انشراح صدر فیصلہ کی اصل بنیاد ہے۔مجلسِ مشاورت کے انعقاد سے پہلے فوج کے سب اراکین حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت بلالؓ جیسے صحابہ اس حق میں تھے۔ کہ زمینیں اور کاشتکار غازیوں میں تقسیم کر دیئے جائیں۔ لیکن حضرت عمرؓ اس رائے کے بہت سے نقصات دیکھ رہے تھے۔ لہٰذا کثرت رائے کو قبول نہیں فرمایا۔
$12.      امیر محض اپنی مرضی اور رائے بھی عوام پر ٹھونس نہیں سکتا۔ ورنہ آپ یہ نہ فرماتے۔ ’’اے اللہ! مجھے بلال سے نجات دے۔‘‘ لہٰذا آپ نے دس اکابر صحابہ (پانچ مہاجر، پانچ انصار) کی مجلس مشاورت بلائی۔ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ جیسے صحابی آپ کے ہم خیال تھے۔ لیکن دوسری طرف صحابہ کی کثیر تعداد تھی۔ علاوہ ازیں عہد نبوی کی نظیر (جنگ خیبر میں یہودیوں کی زمین کی غازیوں میں تقسیم) بھی ان کے حق میں جاتی تھی۔ لہٰذا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔
$13.      حضرت عمرؓ دین کی سربلندی کے لئے جو انتہائی ذہنی کاوش کرتے رہتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں اللہ کی توفیق سے آپ کو ایک آیت یاد آگئی۔ جو آپ کے رائے کے عین مطابق تھی۔ اس دلیل کی بنا پر آپ نے بڑی شد و مد سے اپنا فیصلہ صادر فرما دیا جس کے آگے سب نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کی اصل بنیاد کثرت رائے نہیں بلکہ دلیل کی قوت ہے اور شرط میر مجلس کا انشراح صدر!
 $1a      


ضمنی مباحث

کیا کثرت رائے معیارِ حق ہے؟
ہم پہلے اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دلیل کے مقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب جمہوریت پرستوں کی مجبوری یہ ہے کہ جمہوری نظام ’’کثرت رائے بظور معیار حق‘‘ کے اصول کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ پھر اس اصول کو برقرار رکھنے کے لئے اس نظام کو یہ سہارا بھی لینا پڑا۔ ہر بالغ۔ مرد ہو یا عورت۔ کے ووٹ (رائے عقل و دانش) کی قیمت یکساں قرار دی جائے۔ اس اصول کو سیاسی مساوات کا نام دیا گیا۔
ہر ووٹ کی یکساں قیمت:
اس طرزِ انتخاب میں ہر چھوٹے اور بڑے، اچھے اور برے، عالم اور جاہل، نیک اور بد کردار کے ووٹ یا رائے کی قیمت یکساں قرار پاتی ہے۔ یہ نظریہ بھی قرآن آیات کے صریح خلاف ہے۔ مثلاً:
$11.      نیک اور بدکردار کے ووٹ کی قیمت یکساں نہیں ہے: ارشاد باری ہے:
﴿أَفَمَن كانَ مُؤمِنًا كَمَن كانَ فاسِقًا لا يَستَوۥنَ ﴿١٨﴾...السجدة
بھلا جو مومن ہے وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے۔ جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
$12.      اسی طرح وہ شخص جو کسی نمائندہ یا سربراہ کے انتخاب پر اس کی اہلیتوں  اور ذمہ داریوں سے واقف ہے۔ اس کی رائے کی قدر و قیمت اتنی ہی قرار پانا جتنی ایک دِن معاملات سے بالکل بے شعور آدمی کی ہے۔ یہ سخت نا انصافی کی بات ہوتی ہے۔
ارشاد باری ہے:
﴿ هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ...﴿٩﴾...الزمر
ترجمہ: کیا عالم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔
دوسرے مقام پر فرمایا:۔
﴿هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ ...﴿١٦﴾...الرعد
کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟
$13.      اسی طرح اچھے اور برے میں تمیز نہ کرنا بھی نا انصافی کی بات ہے۔ ارشاد باری ہے:
﴿قُل لا يَستَوِى الخَبيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَو أَعجَبَكَ كَثرَةُ الخَبيثِ... ﴿١٠٠﴾...المائدة
کہہ دیجیے۔ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے۔ خواہ ناپاک (چیزوں یا لوگوں) کی کثرت آپ کو بھلی معلوم ہو۔
کثرت رائے پر فیصلہ:
یہ تو ایک ضمنی بحث چل نکلی۔ بات کثرت رائے سے متعلق ہو رہی تھی۔ ہاں تو جمہوریت میں فیصلہ کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ معاملہ خواہ کوئی ہو، انتخاب ہو یا قومی اسمبلی میں قانون سازی کا کام یا اور کوئی مشورہ، آراء کی گنتی کر کے اکثریت کی بنیاد پر حق و باطل یا ٹھیک اور غلط کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظر سے یہ اصول غلط ہے اور قرآن کریم میں تقریباً ۹۱ آیات ایسی ہیں۔ جن میں لوگوں کی اکثریت کو ظالم، فاسق، جاہل، مشرک وغیرہ قرار دیا گیا ہے (جنہیں طوالت کی وجہ سے ہم یہاں درج نہیں کر رہے) نیز حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو اکثریت کے تتبع سے سختی سے منع کیا گیا ہے تو ان آیات کے متعلق سیاسی قائدین اور جمہوریت نواز یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ’’ایسی سب آیات کافروں سے متعلق ہیں۔‘‘ حالانکہ ان کا مخاطب معاشرہ ہے نہ کہ محض کفار۔ پھر یہ بات بھی سوچنے کے قابل ہے کہ کیا مسلمانوں میں فاسق، ظالم، جاہل یا مشرک نہیں ہو سکتے۔ اس رفع التباس کے لئے ہم ذیل میں دو ایسی آیات درج کرتے ہیں جن کے مخاطب صرف مسلمان ہیں۔ مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلّا وَهُم مُشرِكونَ﴿١٠٦﴾...يوسف
اور اکثر لوگ خدا پر ایمان لاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔
اسی طرح دوسری آیت صحابہؓ کرام سے متعلق ہے۔ معرکہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام اپنی کثرت کی وجہ سے اترانے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيَومَ حُنَينٍ إِذ أَعجَبَتكُم كَثرَتُكُم فَلَم تُغنِ عَنكُم شَيـًٔا وَضاقَت عَلَيكُمُ الأَرضُ بِما رَحُبَت...﴿٢٥﴾...التوبة
اور جنگحنین کے دن جب تم کو (اپنی جماعت (کی) کثرت پر ناز تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی اور زمین اپنی فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔
اکثریت کی گمراہی کو جائز بنانے کے لئے یہ جواب بھی دیا جاتا ہے کہ سب اوامر و نواہی تو قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ مشورہ صرف مباح امور میں ہوتا ہے۔ اور صرف مباح امور میں مشورہ سے گمراہی کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ مشورہ مباح امور میں ہو یا انتظامی امور میں، دیکھنا تو یہ ہے کہ مشیروں کی ذہنیت کیا ہے اور ان کی اہلیت کیسی ہے؟ اب دیکھیے کہ موجودہ جمہوریت اور اسلام میں صرف ’’مشورہ‘‘ ایک قدر مشترک ہے۔ لیکن مشورہ کے طریق کار، غرض و غایت، فیصلہ کا طریق۔ امیر کا اختیار کئی ایسے ضمنی مباحث ہیں جن میں اختلاف ہے اور دونوں راہیں الگ الگ ہو جاتی ہیں (یہی مباحث کتاب کا اصل موضوع ہیں) لیکن اس کے باوجود جمہوریت نواز اس طرزِ انتخاب کو اسلام کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں۔ اور اسلام ہی کے احکامات اور تاریخی واقعات کی من مانی تعبیر کر کے اور حقائق کو مسخ کر کے اپنے دعویٰ کا ثبوت بھی پیش کر رہے ہیں۔ تو پھر اس کے بعد ایسا کونسا مباح مشورہ طلب امر باقی رہ جائے گا۔ جسے حل تو عوامی خواہشات اور کثرت رائے سے کر لیا جائے اور اس کا ثبوت اسلام سے پیش نہ کیا جا سکے۔ لہٰذا جب تک مشیر متقی اور علومِ اسلامیہ سے واقف نہ ہوں گے۔ مباح امور میں مشورہ بھی ضلالت کی طرف ہی لے جائے گا۔
مشورہ کا فیصلہ اور میر مجلس کا اختیار:
ہم بالوضاحت ثابت کر چکے ہیں کہ اسلامی شوریٰ میں آخری فیصلہ کا اختیار میر مجلس کو ہوتا ہے اور اس فیصلہ میں وہ کثرت آراء کا پابند نہیں بلکہ دلیل کی قوت پر انحصار کرتا ہے۔ اگر فریقین کے پاس کوئی دلیل نہ ہو یا مساوی وزن کے دلائل ہوں۔ یا دلائل کی قوت میں صحیح اندازہ نہ لگایا جا سکے۔ تو قطع نزاع کے لئے آخری اور مجبوری شکل کثرت رائے کی بنیاد پر میر مجلس فیصلہ کر دیتا ہے۔ لیکن جمہوری نظام میں کثرت رائے ہی معیار حق اور اسی کے مطابق سب فیصلے سر انجام پاتے ہیں۔ میر مجلس مجبور محض ہوتا ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ اس کے ووٹ کی قیمت دو ووٹوں کے برابر سمجھی جاتی ہے اور یہ اس نظام کی مجبوری ہے۔ جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔
اب میر مجلس کو بے اختیار اور کثرت رائے کو معیارِ حق ثابت کرنے کے لئے جو عقلی اور نقلی دلائل پیش کئے جاتے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔
کثرت رائے کے حق میں دلائل:
کہا یہ جاتا ہے کہ ’’مشورہ طلب کرنے کے بعد اگر امیر مختار ہو چاہے تو اسے قبول کر لے اور چاہے تو رد کرے یہ روحِ مشورہ کے خلاف ہے۔ مشاورت میں فیصلہ کا قدرتی اصول کثرت رائے کا اصول ہی ہے۔ اس لئے امیر کو کوئی حق نہیں کہ وہ شوریٰ کی اکثریت کے فیصلہ کو ٹھکرا دے۔ مشورہ طلب کرنا اور اسے قبول نہ کرنا ایک لغو اور فضول بات ہے[1]۔ ایسی صورت میں مشورہ طلب یا مشورہ دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ یہ صورتِ حال امیر کو منزہ عن الخطا قرار دینے اور مقامِ خداوندی پر فائز کر دینے کے مترادف ہے۔‘‘
یہاں فیصلہ طلب امر صرف یہ ہے کہ آیا ’’مشاورت میں کثرت رائے کا اصول‘‘ فی الواقعہ قدرتی ہے بھی یا نہیں۔ ہمارے خیال میں یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے۔ اس کا عقلی جواب تو یہ ہے کہ ایک طرف دس آدمی عام عقل کے ہوں اور دوسری طرف صرف ایک ہی تجربہ کار در پختہ کار تو آپ اپنے ذاتی مشورہ کے لئے یقیناً اس ایک سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی کی طرف رجوع کریں گے۔ اور آپ ذرا غور فرمائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ اس کائنات کا پورا نظام ہی اس اصول پر قائم ہے کہ کسی پختہ کار اور سمجھ دار آدمی کی طرف رجوع اور اس کا اتباع کیا جائے۔ مگر پارلیمنٹ کا یہ حال ہے کہ اگر ۱۰۰ سے ۵۱ آدمی شراب کے حق میں ووٹ دے دیں تو وہ جائز قرار پاتی ہے۔
اور نقلی جواب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے مجلسِ ’’مشاورت متعلقہ اساریٰ .......‘‘ کے بھرے مجمع میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔
لَوِ اجتمعًا ما عصیتکما (در منثور)
اگر یہ دونوں ہم رائے ہو جاتے تو میں ان کا خلاف نہ کرتا۔
گویا آپ کے نزدیک ان دو بزرگوں کی رائے باقی سارے مجمع پر بھاری تھی اور جیش اسامہ کی روانگی اور مانعین زکوٰۃ کے بارے میں حضرت ابو بکرؓ کی رائے ساری شوریٰ پر بھاری تھی۔
کثرت رائے کے متعلق فقہاء کے ارشادات:
$11.      خلفائے راشدین ہر فرد سے مشورہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان لوگوں سے مشورہ کرتے تھے جن سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار عمرؓ نے فرمایا تھا:۔
’’تمہیں عوام نے اس منصب پر فائز نہیں کیا۔ بلکہ اس منصب کے لئے تمہیں اس لئے اہل تصور کیا گیا ہے کہ تمہارا تعلق رسول اللہ ﷺ سے قریبی تھا اور حضور اکرم ﷺ بھی تمہیں عزیز رکھتے تھے۔‘‘ (طبری، بحوالہ واقعہ کربلا، ابو بکر غزنوی)
$12.      امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
’’حاکم کو مشورے کا حکم صرف اس لئے دیا جاتا ہے کہ مشیر اس کو ان امور سے آگاہ کرے جس کی طرف اس کا دھیان نہیں گیا اور اس کی دلیل سے اس کو مطلع کرے یہ حکم اس لئے نہیں دیا گیا کہ حاکم مشیر کے مشورہ یا بات کی پیروی کرے کیونکہ اللہ اور اللہ کے رسول کے سوا کسی کی بھی پیروی کرنا فرض نہیں۔‘‘ (فتح الباری، باب قولہ تعالیٰ وامرھم شوریٰ بینھم)
$13.      امام ابن تیمیہ کہتے ہیں:
’’اگر شورائیہ کے کسی فرد نے کتاب و سنت اور اجماع کے مسئلہ کی کوئی واضح دلیل پیش کر دی تو اس وقت خواہ کتنی بڑی جمعیت ایک طرف ہو جائے اور اس سے کتنے بڑے بھونچال کا خطرہ ہو تو بھی اسے خاطر میں نہ لایا جائے۔ اگر دلائل کے لحاظ سے بھی اختلاف پیدا ہو جائے تو میر مجلس کو اس کی رائے پر فیصلہ کرنا چاہئے جو کتاب و سنت کے زیادہ قریب اور مشابہ ہو۔ (السیاسۃ والشراقیہ)
اسلامی مشاورت کا امیر مطلق العنان نہیں ہوتا بلکہ دلیل اور آراء کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ خود بھی ذہنی کاوش کر کے معاملہ مطلوبہ میں وہ پہلو اختیار کرتا ہے جو اقرب الی الحق ہو۔ محض اس بنا پر کہ اسے ترجیحی پہلو اختیار کرنے کا حق شریعت نے دیا ہے۔ اسے ’’منزہ عن الخطاء اور مقام خداوندی پر فائز‘‘ کے القاب سے نوازنا کہاں تک درست ہے؟
ہمارا دستور اور امیر کا اختیار:
حیرت کی بات یہ ہے کہ موجود دستور جو خالص جمہوری قدروں پر ترتیب دیا گیا ہے، نے بھی سربراہ مملکت کو مشورہ قبول کرنے کا پابند قرار نہیں دیا ہے۔ یہاں ہم تحریک آزادی و دستور پاکستان (مؤلفہ فاروق اختر نجیب) کے چوتھے ایڈیشن سے چند اقتباس پیش کرتے ہیں:
$11.      وزراء کا دوسرا کام حکومت کی پالیسی کی تشکیل میں صدر کو مشورے دینا ہے۔ اس سلسلہ میں صدر جب چاہے ان سے مشورہ طلب کر سکتا ہے۔ مگر وہ ان کے مشورے کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔‘‘ (ص ۴۴۴)
$12.      صدر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اس کے مشورے سے دوسرے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔ اسی طرح وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور متعلقہ صوبہ کے گورنر کے مشورہ سے ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، متعلقہ صوبہ کے گونر اور متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورہ سے ہائی کورٹ کے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔ گویا متذکرہ افراد سے وہ صرف مشورہ کرنے کا پابند ہے۔ اس مشورہ کو قبول کرنے کا پابند نہیں۔‘‘ (ص ۴۳۴)
تو ایک ایسا ملک جہاں انتخابات سے لے کر قانون سازی تک تمام فیصلے اکثریت کی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔ اس کے ستور میں بھی سربراہ مملکت کو مشورہ کرنے کا پابند تو بنایا گیا ہے مگر اسے قبول کرنے کا پابند نہیں بنایا گیا تو پھر ہمارے یہ جمہوریت نواز دوست پہلے اپنے گھر کی خبر کیوں نہیں لیتے؟ ان مشیروں سے صدر مملکت مشورہ ہی کیوں طلب کرتا ہے جب کہ وہ ان مشوروں کو قبول کرنے کا پابند ہی نہیں۔
اکثریت کے معیارِ حق ہونے کے دلائل:
اکثریت کے معیارِ حق ہونے کی دلیل میں مندرجہ ذیل دو آیت پیش کی جاتی ہیں۔
$11﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّـهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسولِ ... ﴿٥٩﴾...النساء
اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحبِ حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو۔
اس آیت سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ امیر کا فیصلہ قطعی اور حتمی نہیں ہو سکتا وہ مختار محض نہیں۔ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اندریں صورت قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
اس آیت میں امیر سے اختلاف کی گنجائش تک تو بات درست ہے مگر یہ تو نہیں کہا گیا کہ اندریں صورت امیر کو چاہئے کہ وہ کثرت رائے کا احترام کرے۔ پھر بھی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے، اللہ کی رضا معلوم کرنے اور اس سے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہ جھگڑا امیر اور کسی ایک فرد کا بھی ہو سکتا ہے اور امیر اور شوریٰ یا بہت سے افراد کا بھی۔ اور خلافتِ راشدہ کے دَور میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں کہ امیر اور عامۃ الناس کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پھر اس کا فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق ہوا۔ مثلاً:
$11.   امیر اور فرد کا جھگڑا:
حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع کرنا چاہتے تھے۔ حضرت ابی بن کعبؓ کا مکان اس توسیع میں حائل تھا۔ آپ نے حضرت ابی بن کعب کو کہا کہ اس مکان کی قیمت لے کر فروخت کر دیں لیکن توسیع کے سلسلہ میں رکاوٹ نہ ہو۔لیکن حضرت ابن بن کعبؓ نہیں مانتے تھے۔ معاملہ نے طول کھینچا تو بالآخر فریقین نے حضرت زید بن ثابتؓ کو ثالث تسلیم کر لیا (ثالث بھی عدالت کے قائم مقام ہوتا ہے)۔ ایسے تنازعات میں عدالت کی طرف بھی رجوع کیا جا سکتا ہے اور ثالث کی طرف بھی) حضرت زید بن ثابتؓ نے فریقین کے دلائل سن کر فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف[2] دے دیا۔ جب فیصلہ ہو چکا تو حضرت ابی بن کعب نے یہ مکان قیمتاً دینے کی بجائے فی سبیل اللہ ہی دے دیا۔
$12.   امیر اور شوریٰ کا جھگڑا:
عراق کی مفتوحہ زمینوں کے بارے میں ہوا۔ دونوں طرف دلائل قوی تھے اور معاملہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ حضرت عمرؓ اس معاملہ میں کئی دن تک سخت پریشان رہے۔ اور قرآن و سنت میں ذہنی کاوش کرتے رہے۔ بالآخر بتوفیقِ الٰہی ان کو ایک ایسی آیت یاد آگئی جو ان حالات پر فٹ بیٹھتی تھی اور حضرت عمرؓ کے دلائل کے حق نص قطعی کا حکم رکھتی تھی۔ آپ نے بھرے مجمع میں یہ آیت سنائی اور اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔ جس کے آگے سب نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
یہ تھا ’’ردوہ الی اللّٰہ والرسول‘‘ کا مطلب۔ افراد کی آزادیٔ حق گوئی اور امیر کی غیر مطلق العنانی۔ پھر ہم تو یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ یہ آیت جمہوریت نوازوں کے حق میں ہے یا ان کے مخالف؟ یہاں تنازعات کے لئے دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا نہ کہ اسے کثرت رائے کے سپرد کیا جائے گا۔
دوسری دلیل:
مندرجہ ذیل آیت بھی اس ضمن میں پیش کی جاتی ہے:
﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
ترجمہ: اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور قیامت کے دن جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔
کہا یہ جاتا ہے اس آیت سے جہاں اجماع کی حجّیت ثابت ہوتی ہے۔ وہاں یہی آیت اکثریت کے فیصلے کو واجب الاتباع ہونے پر بھی دلالت کرتی ہے۔ پھر اس ضمن میں حدیث علیکم بالسواد الاعظم بھی پیش کی جاتی ہے کہ یہ حدیث بھی اکثریت رائے کے واجب الاتباع ہونے پر نص قطعی ہے۔
ہمیں یہ تسلیم ہے کہ فی الواقع اس آیت سے اجماع کی حجت ثابت ہوتی ہے۔ مگر اس سے اکثریتی فیصلہ کو واجب الاتباع قرار دینا بہت بڑا فریب اور قطعاً غلط ہے جس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
$11.      اجماع کے معنی اتفاق رائے ہے۔ کثرت رائے نہیں۔
$12.      اجماع صرف صحابہ کا حجت ہے۔ اس کے بعد کے ادوار میں امت کا اجماع کی حجیّت بذاتِ خود مختلف فیہ مسئلہ ہے۔
$13.      بعد کے ادوار کا اجماع ثابت کرنا اور ثابت ہونا فی نفسہٖ بہت مشکل امر ہے (یہ مفصل بحث موجودہ طرز انتخاب کے اجماع سکوتی میں ملاحظہ فرمائیے)
پھر اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا یہ لوگ کہتے ہیں تو کیا اسمبلیوں میں اکثریتی فیصلے کے خلاف ووٹ دینے والے سب جہنمی ہوتے ہیں؟ حزب اختلاف حزبِ اقتدار کے فیصلے کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کرتا کیونکہ ان کا اپنا سیاسی عقیدہ الگ ہوتا ہے اس کے متعلق کیا خیال ہے؟
آیت کا مطلب صاف ہے۔ اکثریتی رائے سے اختلاف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر جب اس اختلاف میں عصبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ خواہ یہ اختلاف مذہبی ہو یا سیاسی۔ پھر اس عصبیت کے تحت جماعت کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چل پڑے اور امت واحد کے انتشارو افتراق کا ذریعہ بنے تو اس کی سزا جہنم سے گویا یہ سزا اصل میں تعصب کی ہوتی ہے۔ نہ کہ محض اختلاف کی۔
 مندرجہ ذیل ارشاد نبوی اس بات پر پوری طرح روشنی ڈالتا ہے:-
عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ انه قال: من خرج عن الطاعة وخارق الجماعة فمات یات حقیقة جاھلیة ومن قاتل تحت رایة عمِیَّة یغضُب لحصبة او یدعوا الی عصبة او یصر عصبة فقتل قتلةجاھلیة (مسلم۔ کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین)
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص امیر کی اطاعت سے نکلا اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوا پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص کسی اندھا دھند نشان کے تحت لڑائی کرتا ہے۔ عصبیت کے لئے غصّ دلاتا، عصبیت کے لئے پکارتا یا عصبیت کی مدد کرتا ہے سو مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
اس حدیث سے ضمناً یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ حضرت سعد بن عبادہ یا بنو ہاشم، جنہوں نے حضرت ابو بکرؓ کی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت نہیں کی تھی، کی لغزش قابل مواخذہ نہیں۔ کیونکہ حکومت وقت کے وقت ان کی کوئی کاروائی ثابت نہیں۔ البتہ ایسی روایات ضرور ملتی ہیں جن سے ان کی اخوت اور اتحاد کا ثبوت ملتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل روایت سے واضح ہے:
’’جب حضرت ابو بکرؓ کی خلافت منعقد ہو گئی تو حضرت ابو سفیانؓ کو بھی یہ عصبیت ہی کی بنا پر ناگوار محسوس ہوئی۔ انہوں نے حضرت علیؓ سے جا کر کہا۔
قریش کے سب سے چھوٹے قبیلے کا آدمی کیسے خلیفہ بن گیا۔ تم اُٹھنے کے لئے تیار ہو تو میں وادی کو سواروں اور پیادوں سے بھردوں‘‘ مگر علیؓ نے یہ جواب دے کر ان کا منہ بند کر دیا کہ تمہاری یہ بات اسلام اور اہلِ اسلام کی دشمنی پر دلالت کرتی ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ تم سوار اور پیادے لاؤ۔ مسلمان سب ایک دوسرے کے خیر خواہ اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ خواہ ان کے دیار اور اجسام ایک دوسرے سے کتنے ہی دور ہوں۔ البتہ منافقین ایک دوسرے کی کاٹ کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہم ابو بکرؓ کو اس منصب کا اہل سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اہل نہ ہوتے تو ہم لوگ کبھی انہیں اس منصب پر مامور نہ ہونے دیتے۔‘‘ (کنز العمال ج ۵ ص ۲۳۷۴، طبری جلد ۲ ص ۴۴۹)
اگر کثرت آراء اور سواد اعظم ایک ہی بات ہے تو حضرت ابو بکرؓ نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنے کے سلسلہ میں جو شوریٰ منعقد کی تھی۔ اس میں آپ نے اس پورے سواد اعظم کی مخالفت کیوں کی تھی؟ ان کے متعلق کیا خیال ہے؟
یہاں بھی یہ لوگ فریب کاری سے باز نہیں آتے۔ کہہ دیا جاتا ہے کہ ’’مانعین زکوٰۃ‘‘ سے جنگ کرنا شریعت کا حکم تھا اور لشکر اسامہ کو خود حضور ﷺ اپنی زندگی میں ترتیب دے چکے تھے لہٰذا اس کا بھی خلاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنا شریعت کا واضح حکم تھا تو شوریٰ بلانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اور حقیقت یہ ہے کہ اختلاف اس بات میں نہ تھا کہ مانعین زکوٰۃ سے جنگ کی جائے یا نہ کی جائے؟ بلکہ اختلاف یہ تھا کہ ایسے ہنگامی حالات میں فوری طور پر یہ اقدام کرنا چاہئے۔ یا ابھی کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دینا چاہئے؟‘‘ (جیسا کہ یہ واقعہ تفصیل سے ہم ذکر آئے ہیں لیکن اصل حقیقت کو یار لوگ اس لئے گول کر جاتے ہیں کہ اس سے کثرت لوائے کی حجیت پر کاری ضرب پڑتی ہے۔
پھر کچھ ایسے واقعات بھی پیش کئے جاتے ہیں جہاں کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہوا۔ مثلاً:
جنگ اُحد کے موقع پر مقابلہ شہر سے باہر نکل کر کرنا یا حضرت عمرؓ کا جنگ نہاوند کے موقع پر کثرت رائے کا احترام کرتے ہوئے فوج کی کمان خود سنبھالنے کا ارادہ ترک کرنا وغیرہ وغیرہ۔
جنگ احد میں جس ’’اکثریت‘‘ (اگر فی الواقعہ اکثریت تھی) نے باہر نکل کر لڑنے کی رائے دی۔ لیکن آپ نے اس ’’اکثریت‘‘ کی رائے کو رد کر دیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امیر چاہے تو اکثریت کی رائے قبول کر لے۔ ورنہ وہ کثرت آراء کے سامنے کھلونا نہیں ہے۔
اور جنگ نہاوند میں حضرت عمرؓ نے اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فوج کی کمان سنبھالنے کا ارادہ تو کیا تھا۔ لیکن یہ ارادہ ترک تو صرف چند اہل شوریٰ کے رائے کے مطابق کیا۔ یہاں کثرت رائے کا کوئی قصہ ہی نہیں ہے۔
تیسری دلیل:
ہمارے بعض دوست اکثر شکایت کرتے ہیں کہ عوام کی اکثریت کو خواہ مخواہ بدنام کیا جاتا ہے۔ عوام کی اکثریت نے جب بھی کوئی فیصلہ کیا، ٹھیک اور درست ہی کیا۔ اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان بننے سے متعلق، یا تحرتک ختم نبوت یا تحریک نظام مصطفےٰ کے متعلق عوام کی اکثریت صحیح فیصلہ کرتی رہی: لہٰذا یہ کہنا کہ عوام کالانعام کو ریاست و سیاست کا شعور نہیں ہوتا۔ غلط نظریہ ہے۔
عوام کے فیصلہ اور شعور کی درستی یا نادرستی کی بات کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں بہرحال یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہمارے عوام کو اسلام سے والہانہ عقیدت ہے۔ جو مثالیں اوپر پیش کی گئی ہیں۔ ان سب میں یہی جذبہ کار فرما تھا۔ عوام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان بن گیا تو وہاں اسلامی نظام خلافت رائج ہو گا۔ یہی صورت تحرک ختم نبوت اور تحریک نفاذ نظامِ مصطفیٰ کی تھی۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ عوام بے چارے فی الواقعہ سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ہمارا عیار سیاستدان ہمیشہ ان کو فریب اور چکمہ دے کر اپنا مطلب حل کرتا رہا ہے۔ مثلاً تحریک نظامِ مصطفےٰ کے دوران سیاستدانوں نے مل کر قومی اتحاد قائم کیا اور اسی اسلام کے نام پر عوام کو خطرناک قسم کا دھوکا دیا یعنی انہیں یقین دلایا کہ یہاں نظام مصطفےٰ قائم کیا جائے گا۔ سادہ لوح عوام ان کے بھرے میں آگئے۔ زبردست تحریک چلی۔ عوام نے قربانیاں پیش کیں۔ یہاں تک کہ تحریک کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے ہم کنار کر دیا۔
مگر ہمارے عیار سیاستدانوں کا اصل مقصد وزیر اعظم بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا اور نئے انتخابات کا انعقاد تھا۔ جب یہ مقصد حل ہو گیا تو ایک ممتاز سیاست دان کا بیان اخبارات میں شائع ہوا کہ اس اتحاد کا مقصد محض بھٹو کو راستہ سے ہٹانا تھا اور وہ حاصل ہو چکا ہے۔ اسلامی نظام کی ترویج ہمارے پروگرام میں شامل نہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے وہ اتحاد سے نکلے بعد میں باری باری دوسرے بھی رخصت ہونے لگے۔ یہ تو اللہ کی مہربانی تھی کہ اس نے ایک ایسا بندہ بروقت بھیج کر پاکستان کی مدد فرمائی جو اسلام کا شیدائی تھا۔ ورنہ ان سیاست دانوں نے تو قوم سے بد ترین قسم کی غدّاری کی۔
اور حقیقت یہی ہے کہ عوامی رائے کو سنوارنے یا بگاڑنے، جمع کرنے یا منتشر کرنے میں ہمیشہ سیاستدانوں کا ہاتھ ہی کام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ عوام کی رائے سے فائدہ اُٹھانے کا فن انہیں خوب آتا ہے۔
مشورہ کا مقام، مختلف نظاموں میں
اب ہم یہ دیکھیں گے کہ مختلف نظام ہائے حکمرانی میں مشورہ کا مقام کیا ہے؟ ملوکیت کو عموماً استبدادی (خود رائے یا خود سر) حکومت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چنگیز اور ہلاکو جیسے آمر بھی مشورہ کیا کرتے تھے۔ قرآنِ مجید میں ایسے مشوروں کا بھی ذکر موجود ہے۔
﴿قالَت يـٰأَيُّهَا المَلَؤُا۟ أَفتونى فى أَمرى ما كُنتُ قاطِعَةً أَمرًا حَتّىٰ تَشهَدونِ ﴿٣٢﴾ قالوا نَحنُ أُولوا قُوَّةٍ وَأُولوا بَأسٍ شَديدٍ وَالأَمرُ إِلَيكِ فَانظُرى ماذا تَأمُرينَ ﴿٣٣﴾...النمل
ملکہ سبا بلقیس کہنے لگی۔ اے درباریو! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم حاضر نہ ہو اور صلاح نہ دو میں کسی کام کو فیصلہ کرنے والی نہیں۔ وہ بولے (اگر جنگ کا خیال ہے تو) ہم بہت زور آور اور سخت جنگجو ہیں۔ لیکن حکم آپ کے اختیار میں ہے۔ سو جو حکم دیں اس پر نظر کر لیجیے گا۔ حتّٰی کہ فرعون جیسا ڈکٹیٹر بھی اپنے درباریوں سے مشورہ کیا کرتا تھا۔ بموجب ارشادِ باری تعالیٰ:
﴿وَجاءَ رَجُلٌ مِن أَقصَا المَدينَةِ يَسعىٰ قالَ يـٰموسىٰ إِنَّ المَلَأَ يَأتَمِرونَ بِكَ لِيَقتُلوكَ فَاخرُج إِنّى لَكَ مِنَ النّـٰصِحينَ ﴿٢٠﴾...القصص
اور شہر کی پرلی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: اے موسی!  (فرعون کے) درباری تمہارے قتل کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں۔ تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔
نظامِ خلافت میں بھی مشورہ کا حکم ہے اور جمہوریت بھی اصولِ حکومت مشورہ کی علمبردار ہے۔ اب ہمیں معلوم کرنا چاہئے کہ ان میں فرق کیا ہے:۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف صرف دو باتوں میں ہے۔
$11.      مشیر کون اور کیسے لوگ ہیں۔
$12.      مشورہ کا فیصلہ کیونکر طے پاتا ہے۔
ملوکیت میں مشورہ نہایت محدود سطح پر ہوتا ہے۔ اگر اس مشورہ کا تعلق ولیعہدی سے ہو تو شاہی خاندان کے قریبی افراد سے مشورہ لیا جاتا ہے اور اگر انتظامی امور سے ہو تو اہل سرکار و دربار سے۔ مشورہ کے بعد اس کا فیصلہ قطعی طور پر بادشاہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیت نمبر ۱ سے ظاہر ہے۔
جمہوریت میں ریاست کو ہر بالغ شہری کو حتّٰی کہ عورتوں کو بھی مشورہ میں شمولیت کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔ انتظامی سہولت کی خاطر پہلے نمائندوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ پھر یہ لوگ صدر مملکت کا بھی انتخاب کرتے اور مشورہ سے دوسرے قوانین بھی بناتے ہیں اس میں مشورہ کے دائرہ کو تاحد الامکان وسیع کر دیا گیا ہے۔ پھر ہر شخص کی رائے کو ہم وزن قرار دیا جاتا ہے خواہ وہ مشورہ طلب امر کو سمجھ بھی نہ سکتا ہو اور فیصلہ کی بنیاد کثرت رائے ہے۔ مشیر کی اہلیت اور تجربہ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مشیر کا کسی خاندان، مذہب یا نسل سے متعلق ہونا ضروری نہیں۔
خلافت میں اعتدال کی راہ اختیار کی گئی ہے۔ صرف ان لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے جو معاملہ کو سمجھتے اور مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر مشورہ دینا ’’حق‘‘ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور بوجھ ہے جو مشیر کے سر پر پڑتا ہے کہ وہ سمجھ سوچ کر نہایت دیانتداری اور خیر خواہی سے مشورہ دے۔ ورنہ وہ عند اللہ مسئول ہوگا۔ مشورہ طلب امر میں فیصلہ کے لئے دلیل کی تلاش ہوتی ہے۔ اگر فرد واحد بھی دلیل پیش کر دے تو ساری شوریٰ کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ اگر دلیل نہ ہو یا دونوں طرف برابر وزن کے دلائل ہوں تو فیصلہ کثرت رائے سے ہو گا۔ دلائل کو پرکھنے اور آخری فیصلہ کا اختیار امیر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ شوریٰ  کے ممبر کا کسی خاندان یا نسل سے متعلق ہونا ضروری نہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ مسلمان ہی ہو۔ متقی اور صاحب فہم و بصیرت ہونا اس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
جمہوریت نوازوں کے مطابق خلافت و جمہوریت میں ’’مشورہ‘‘ قدر مشترک تو ضرور ہے لیکن مندرجہ بالا دو باتیں موجودہ جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں ایک واضح خط امتیاز کھینچ دیتی ہیں۔
کثرت رائے کے معیار حق ہونے کے نقصانات:
اب تک تو ہم ان اعتراضات کا جائزہ لے رہے تھے جو جمہوریت پرست میر مجلس کے فیصلہ پر مختار ہونے پر کرتے ہیں۔ اب ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کثرت رائے کا اصول۔ جس پر یہ لوگ اس قدر فریفتہ ہیں۔ فی نفسہٖ کیا اور کیسا ہے؟
کثرت رائے کو معیارِ حق قرار دینا ایک ایسی اصولی غلطی ہے جو لاتعداد غلطیوں اور بے شمار جرائم کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ الیکشن کے ایام میں جو طوفان بدتمیزی بپا ہوتا ہے وہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ہر نمائندہ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کر سکے۔ اب اس کوشش میں جو بھی جائز اور ناجائز حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جس طرح فریق ثانی کو ذات پر سوقیانہ حملے کیے جاتے ہیں۔ کنویسنگ اور جلسے جلوسوں پر جس بے دردی سے سرمایہ برباد ہوتا ہے۔ پھر انتخابی مہم انسان کے اخلاق پر کس قسم کے ناپاک اثرات چھوڑتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم کسی دوسری جگہ درج کر چکے ہیں۔ کہیں ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، کہیں تعلقات کے دباؤ، کہیں غنڈہ گردی اور دھمکیوں سے، کہیں پولیس کے تعاون اور ہنگاموں سے ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں اور بالآخر کامیابی سے وہ صاحب ہمکنار ہوتے ہیں جنہوں نے پیشہ بے دریغ خرچ کیا ہو۔ یا پھر کوئی ایسا بڑا بدمعاش اس معرکہ میں کامیاب ہوتا ہے جس کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں تعلقات بگڑنے کی صورت میں لوگ اس سے مرعوب اور دہشت زدہ ہوں اور جو صاحب ہمہ صفت موصوف ہوں یعنی سرمایہ دار بھی ہوں اور عیار بھی تو ان کی کامیابی پر شک نہ کرنا چاہئے۔
یہ کچھ تو الیکشن کے دوران ہوتا ہے۔ الیکشن ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کے باقیات الصالحات باہمی خانہ جنگیاں، عداوتیں، بعض و عناد وغیرہ ابھی دلوں میں باقی ہوتے ہیں کہ دوسرے الیکشن کی آمد آمد ہو جاتی ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔
موجودہ اور مروجہ جمہوریت میں کامیابی ہونے والے ممبروں کے تفصیلی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس جمہوری حکومت کا خود سرا میر یا تو روپیہ نکلے گا۔ یا جبر و استبداد اور مکر و فریب۔ کیونکہ جب کثرت رائے کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ تو اس کی تہ میں یہی چیزیں کار فرما نظر آتی ہیں۔
یہ کچھ تو اسمبلیوں سے باہر ہوتا ہے۔ اب اسمبلیوں میں پھر جماعتوں کو اسی ’’کثرت رائے‘‘ کی ضرورت پیش آتی ہے تو آپس میں جوڑ توڑ اور گٹھ جوڑ کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اور کوئی مشورہ یا بحث شروع ہو تو بسا اوقات لڑائی جھگڑے یا ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اجلاس ہنگامی آرائی کی وجہ سے ملتوی کر دیئے جاتے ہیں۔
پھر یہ نمائندے ووٹوں کی کثرت کی بنا پر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ عموماً خود غرض، ہوا پرست اور نااہل قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کے جان و مال کے مالک بن بیٹھتے ہیں جن کی نیت اور ہمت ابتدا ہی سے اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ انہیں حکومت کی کرسی مل جائے۔ پھر مخلوقِ خدا آرام سے رہے یا تباہ ہو۔ ان کی بلا سے۔ اور جب کوئی معاملہ زیرِ بحث آتا ہے۔ تو ان میں سے اکثر کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس معاملہ کے متعلق رائے طلب کی جا رہی ہے۔ بس ان کا کام صرف اتنا ہوتا ہے۔ جس طرف زیادہ ہاتھ اُٹھتے نظر آئے ادھر ہی اپنے بھی کھڑے کر دیئے۔ یا پھر اپنی پارٹی کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس رائے دہی میں پارٹی کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔
ان تمام تر خرابیوں کی ذمہ داری صرف کثرت رائے کو معیارِ حق قرار دینے پر ہے۔ اگر اختلاف رائے کے وقت فیصلہ امیر مجلس کے سپرد ہو تو ان میں سے اکثر مفاسد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔


[1]  یہ خالص جمہوری ذہن کی عکاسی ہے۔ اہلِ شوریٰ کے ذہن اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔
[2]  بیہقی، السنن کبریٰ ج۱ ص ۱۳۶۔ دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن۔ طبع اول ۱۳۵۵؁ھ