میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

؁ء میں ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے:
$11.      اسلام ہمارا دین ہے۔
$12.      سوشلزم ہماری معیشت ہے۔
$13.      جمہوریت ہماری سیاست ہے۔
$14.      طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
عوام میں دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ نعرہ خاصا مقبول ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نعرہ کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور ہر ایک جزو دوسرے جزو کو حاصل قرار دیتا ہے۔
اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے لہٰذا اسے سیاست اور معیشت کے لئے دوسرے نظاموں سے کچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ہمارا دین فی الواقعہ سوشلزم  اور مغربی جمہوریت کا محتاج ہے تو پھر ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین نامکمل ہے۔
پھر جس طرح اسلام ایک دین یعنی مکمل ضابطۂ حیات ہے اسی طرح سوشلزم کا دائرہ بھی معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دنیاوی عقائد اور سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گویا سوشلزم بھی بذاتِ خود ایک دین ہے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر کی بنیاد خدا کی حاکمیت اور آخرت میں اعمال کے جزا و سزا کے عقیدہ پر اٹھتی ہے۔ جب کہ ثانی الذکر ان عقائد کا یکسر منکر ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ملتی۔ مصلحتِ وقت اور حالات سے زیادہ سے فائدہ اُٹھانا ہی ان کے نزدیک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے۔
اس نعرہ کا چوتھا جزو دراصل تیسرے جزو ہی کی شرح ہے کیونکہ جہاں موجودہ دور کی مغربی طرز کی جمہوریت اور طرز انتخاب ہو گا۔ لہٰذا لا محالہ حاکمیت عوام ہی کی ہو گی۔ خواہ اس ملک کے آئین کی ابتداء میں واضح الفاظ میں درج کر دیا جائے کہ ’’اقتدار اعلیٰ‘‘ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ کیونکہ حقِ بالغ رائے دہی، کثرت رائے کا اصول اور پھر ایک مقررہ مدت کے بعد انتخاب، ان دو باتوں کے امتزاج سے منطقی نتیجہ یہی برآمد ہوتا ہے کہ حاکمیت عوام کی ہو۔ جیسا کہ جمہوریت کی تعریف بذات خود اس حقیقت کی پوری وضاحت کر رہی ہے۔ اب اگر کوئی صاحب یہ سمجھتے ہیں یا اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا طرزِ انتخاب تو موجودہ مغربی جمہوریت کا سا ہو اور اس کے نتیجہ میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جا سکے گی اس طرح سے اسلام سر بلند ہو سکے گا تو ہم اس کی سادہ لوحی یا خوش فہمی کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
پھر جس طرح سوشلزم کے امام خدا ناشناس اور اس کے منکر تھے اسی طرح جمہوریت کے علمبرداروں نے پہلے مذہب سے بغاوت کی راہ اختیار کی۔ پھر جمہوریت کی بنیاد ڈالی۔ جمہوریت ابتداء  ۵۰۰ ؁ ق م میں یونان کی بعض ریاستوں میں رائج رہی لیکن اپنے گوناگوں مفاسد کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ چنانچہ ارسطو نے بھی اس نظام سیاست کو بھی ناپسند نگاہوں سے دیکھا بعد ازاں یہ نظام سیاست دو ہزار سال سے زائد عرصہ تک اس خطہ زمین سے معدوم رہا۔ پھر اٹھارویں صدی کے اواخر میں انقلاب فرانس کے بعد اس کا دوبارہ احیا ہوا۔ اس تفصیل سے ہماری مراد فقط یہ بتلانا ہے کہ سوشلزم تو خیر موجودہ زمانہ کی پیداوار ہے ہی لیکن جمہوریت کا اسلام سے کئی صدیاں پیشتر دنیا میں تجربہ ہوا اور یہ ناکام ثابت ہوئی اس کے موجد اُس دور میں بھی خدا نا آشنا تھے اور آج بھی دین بیزار طبقہ ہے۔
جس طرح سوشلزم سرمایہ داری کی دوسری انتہا ہے بعینہٖ اسی طرح موجودہ جمہوریت شخصی اور استبدادی حکومت کی دوسری انتہا ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی چیز اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو فوائد کے بجائے اس کے مضر اثرات زیادہ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کرتا ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا دعویٰ ہے: 
﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلنـٰكُم أُمَّةً وَسَطًا لِتَكونوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ ...﴿١٤٣﴾...البقرة
اسی طرح ہم نے تمہیں ایک متوسط امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن سکو۔ اور حضور اکرم ﷺ نے اس کی وضاحت یوں فرمائی:
خیر الامور اوساطھا
ہر معاملہ میں اعتدال کی راہ ہی بہتر ہے۔
بات پیپلز پارٹی کے نعرہ کی ہو رہی تھی۔ ہاں تو جب اس نے یہ متضاد قسم کا نعرہ بلند کیا اور کہا کہ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ تو دین پسند سیاسی جماعتوں اور دوسرے دینی حلقوں سے ایک شور بلند ہوا کہ سوشلزم تو ایک خالص کا فرانہ نظام ہے۔ اس کی ’’اسلامی سوشلزم‘‘ یا ’’محمدی‘‘ مساوات‘‘ سے تعبیر کر کے اسے مشرف باسلام کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کا شکر ہے کہ اس موضوع پر ایسا کافی لٹریچر منصّۂ شہود پر آگیا جس میں سوشلزم کو اسلام کے عین برعکس قرار دیا گیا تھا اور اس کے ابطال کے نقل و عقلی دلائل دیئے گئے تھے لہٰذا نعرہ کا یہ جزو قبولیت عام سے بے بہرہ ہی رہا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے دانشوروں کی طرف سے یہ جواب ضرور دیا جاتا رہا کہ اگر محض ’’شورائیت‘‘ کی بناء پر (جو جمہوریت اور خلافت میں قدر مشترک ہے) موجودہ جمہوریت کو مشرف باسلام کیا جا سکتا ہے تو کیا وجہ ہے ’’عفو و انفاق‘‘ کی بنیاد پر (جو اسلام سوشلزم میں قدر مشترک ہے) سوشلزم کو سند جواز عطا نہیں کی جا سکتی۔‘‘
اب مشکل یہ تھی کہ  ۱۹۴۹؁ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد خوش فہمی کی بنا پر اکثر دین پسند سیاسی جماعتوں نے مغربی طرزِ انتخاب کو اپنانے میں خیریت سمجھ لی۔ اس امید پر کہ شاید اللہ کی حاکمیت واقعی تسلیم کر لی جائے گی اور فی الواقعہ آئین سے قرآن و سنت کے منافی دفعات خارج کر دی جائیں گی۔ یہ کام تو ہو سکے۔ البتہ ان دینی رہنماؤں کے ذہن مغربی طرزِ انتخاب کے سانچے میں ڈھل گئے۔ پہلے جو بات ناخوب تھی بتدریج وہی خوب نظر آنے لگی۔ لہٰذا انہوں نے خلافت و جمہوریت کے فرق کو اجاگر کرنے کی بجائے مغربی طرزِ انتخاب کو عین اسلامی نظام ثابت کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایسے وقت میں بعض علمائے حق نے حق کی آواز بلند کی۔ جس کا ثبوت اس دَور یااس سے پہلے کا اردو لٹریچر ہے۔ لیکن چونکہ بالائی سطح پر محض ایسے علما کی آواز ہی پہنچ پاتی جو سیاسی جماعتوں کے قائد بھی تھے۔ لہٰذا حقیقت خرافات میں دب کر رہ گئی۔ بھلا اس نقارخانے میں طوطی کی آواز سنتا بھی کون تھا؟
۱۹۷۰؁ء کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آگئی۔ اس کے دورِ حکومت میں پاکستان کا نیا آئین بنا۔ پیپلز پارٹی کا اپنا مزاج سوشلزم کی طرف مائل تھا۔ تاہم عوام۔ جو اسلام سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔کو مطمئن کرنے کے لئے دستور کی ابتدا میں تبّرکاً‘‘ میں یہ فقرہ بھی بحال رہنے دیا گیا کہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ اور ایسے قوانین کو جو قرآن و سنت سے ٹکراتے تھے۔ خارج کرنے یا ان میں ترمیم کرنے کے لئے ایک اسلامی نظریاتی کونسل بھی تشکیل دی گئی۔ لیکن عملاً حاکمیت بھی عوام کی بدستور قائم رہی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اگر کچھ تھیں۔ تو وہ بھی کسی سرد خانے ہی کی نذر ہو گئیں۔
۱۹۷۷؁ء کے انتخابات اور پھر انتخابات کی بدعنوانیوں کے نتیجہ میں تحریک نظام مصطفےٰ اور پھر موجودہ فوجی حکومت برسرِ اقتدار آئی۔ اس کے سربراہ جنرل ضیاء الحق چونکہ خالص اسلامی ذہن رکھتے تھے۔ لہٰذا اسلامی نظام کے نفاذ کے اعلان کے علاوہ عملاً بھی بہت سے معاملات میں پیش رفت شروع کر دی۔ تو یہ بحث نئے سرے سے چھڑ گئی کہ آیا موجودہ جمہوری طرزِ انتخاب اسلامی نظام انتخاب کے مطابق ہے یا اس سے متصادم؟ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل اور شریعت پنچوں کا قیام اس بات کی واضح دلیل تھی کہ ہمارا آئین اسلامی نقطۂ نظر سے بہت سی ترامیم کا محتاج ہے۔ اسی سلسلہ میں جمہوری طرزِ انتخاب کا مسئلہ پھر زیرِ بحث آیا۔ دریں اثناء ایک سابق جج سپریم کورٹ جناب بدیع الزمان کیکاؤس نے شریعت بنچ کے سامنے درخواست پیش کر دی کہ موجودہ طرزِ انتخاب سراسر غیر اسلامی ہے۔
ادھر سیاسی جماعتوں کے رہنما حرکت میں آئے۔ انہوں نے شریعت بنچ میں ایسے دلائل اور بیانات پیش کئے جو اس طرزِ انتخاب کو محض اسلام سے سند جواز ہی عطا نہیں کرتے تھے بلکہ اسے عین اسلام یا اس کی بہتر صورت قرار دیتے تھے۔ کسی نے کہا:
’’مغربی نظام سیاست میں جو چیز سب سے زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے۔ وہ یہی جمہوریت ہے۔ نیز یہ کہ موجودہ جمہوریت کے علمبرداروں نے جمہوریت کے تمام تر اصول اسلامی تعلیمات سے ہی مستعار لیے ہیں اور ہم مسلمان ہیں کہ اپنے اس پوشیدہ خزانہ سے بیگانہ ہیں۔‘‘
اور کسی نے کہا:۔
’’موجودہ دَور کی اسمبلیاں (پارلیمنٹ) اسلامی مجلسِ شوریٰ کا نعم البدل ہے اور تعاونوا علی البّرِ والتقویٰ کی صحیح تعبیر ہے۔‘‘
اور کسی نے یوں کہا:
’’یہ طرزِ انتخاب ہمارے ہاں تقریباً ایک صدی سے رائج ہے۔ علماء نے اس کے آئین میں شرکت کی اور انتخابات میں حصہ لیا کسی طرف سے ایسی آواز بلند نہیں ہوئی کہ جس نے جمہوریت کو شرعاً ناجائز قرار دیا ہو۔ لہٰذا اس پر اجماع سکوتی رہا جو کہ شرعاً قابلِ حجت ہے۔ اب جو لوگ اس کو ناجائز قرار دے رہے ہیں وہ اسلام کی خدمت کرنے کے بجائے امت میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔‘‘
اور کسی کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ:
اگر یہ طرزِ انتخاب غیر شرعی ہے تو پاکستان کے وجود کے متعلق کیا خیال ہے جو اِسی طرزِ انتخاب کے تحت وجود میں آیا؟ یا ۱۹۷۳؁ء کے آئین کا کیا بنے گا؟
نیز یہ بھی شریعت بنچ کو جب آئین میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار نہیں ہے تو ایسی بحث چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
عدالت میں تو یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ صدر محترم نے ایک اعلان کیا کہ نظامِ حکومت کے متعلق بحث کا خیر مقدم کیا جا ئے گا۔ چنانچہ چند دن پیشتر روز نامہ نوائے وقت نے نظام حکومت سے متعلق مندرجہ ذیل سوال نامہ تیار کیا۔ پھر مختلف سیاسی لیڈروں سے انٹر ویو لیے، بعض کے یہ سوال نامہ بذریعہ ڈاک بھیجا گیا اور آج کل ان لیڈروں کے جوابات باری باری اخبار مذکور میں شائع ہو رہے ہیں۔ اصل سوال نامہ یہ تھا۔
$11.      مغربی نظامِ سیاست اور مذہبی جمہوریت میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
$12.      اسلامی نظام سیاست اور مغربی نظامِ سیاست یا جمہوریت میں آپ کے بعد محسوس کرتے ہیں؟
$13.      مغربی یا اسلامی نظام میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کا کیا مقام ہے؟
$14.      اسلامی نظامِ سیاست میں آپ مقنّنہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے لئے کیا کردار متعین کرتے ہیں؟
$15.      پاکستان کے حالات کے لئے آپ کس نظام کو موزوں سمجھتے ہیں۔ اسلامی نظامِ ریاست یا مغربی جمہوریت؟
$16.      اسلامی نظام سیاست میں سربراہِ مملکت کا انتخاب براہِ راست ہو یا بالواسطہ؟
ان سوالات کے جواب میں اکثر سیاسی لیڈروں کے جوابات صرف مغربی جمہوری نظام کی ہی طرح سرائی پر ختم ہو جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: پارلیمانی نظام ہی اسلام سے قریب تر ہے۔ دوسرا فرماتا ہے۔ پاکستان کے لئے پارلیمانی نظام ہی مناسب ہے۔ تیسرا فرماتا ہے: مغربی جمہوری نظام اسلامی نظام سے متصادم نہیں۔ بس گول مول سے جوابات پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے۔ الّا ماشاء اللہ۔ سوال نمبر ۳، نمبر ۴ اور نمبر ۶ سے کوئی تعرض نہیں فرماتا اور ہمارا خیال ہے کہ عوامی جذبات سے کھیلنے والا یہ شعبدہ باز طبقہ ایسے سوالات کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ ان کا معقول جواب دے سکے۔ اور جو کوئی سمجھتا ہے تو وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے کر ایسے سوالات سے آنکھیں بند کر کے نکل جاتا ہے اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان لیڈروں میں سے اکثر ایسے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے نا اژنا ہیں اور جن کا ماحصل دوسرے لوگوں کی اردو کتابوں اور انہیں مصنفین کے ذہن کا مرہونِ منت ہے۔ بہرحال ایک بات پر سب متفق اور دست بدعا ہیں کہ اللہ کرے جمہوری طرزِ انتخاب بحال اور سلامت رہے تاکہ ان ۱قتدار کے بھوکے طالع آزماؤں کی قسمت آزمائی کے مواقع میسر آتے رہیں۔
ایسے حالات میں ضروری معلوم ہوا کہ اس بحث میں دورِ نبوی یا خلافت راشدہ کے جن واقعات سے نتائج کا استنباط کیا جاتا ہے وہ اولین اور صحیح ترین ماخذوں سے پیش کیے جائیں۔ میرے خیال میں اس بحث کا انحصار صرف دو طرح کے واقعات پر مبنی ہے:
$11.      خلفائے راشدہ کا انتخاب کس طرح عمل میں آیا؟ اس سے رئیس مملکت کے طرزِ انتخاب پر پوری روشنی پڑتی ہے۔
$12.      عہد نبوی اور خلافتِ راشدہ میں مجلس شوریٰ کس قسم کی تھی۔ کس قسم کے معاملات مشورہ طلب ہوتے تھے اور ان کا فیصلہ کس طرح ہوتا تھا؟ اس سے اسلامی مجلس مشاورت اور موجودہ دَور کی مقنّنہ کا فرق واضح ہو گا۔
اصل میں تو یہ دونوں قسم کے واقعات ایک ہی سلسلہ ’’وامرھم شوری بینھم‘‘ کی کڑیاں ہیں۔ کیونکہ امیر کا انتخاب بھی مجلس شوریٰ ہی کرتی ہے جو اس کا ایک ضمنی کام ہے۔ مگر آج کے جمہوری دور میں چونکہ اسمبلیاں اپنے انتخاب کے بعد سب سے پہلے صدرِ مملکت کا انتخاب کرتی ہیں اور باقی کام بعد میں، لہٰذا اسی ترتیب کو ملحوظ رکھ کر ہم نے پہلے خلفائے راشدہ کے انتخاب ہی کو سپردِ قلم کیا ہے۔
میں نے حتّی الامکان یہ کوشش کی ہے کہ ایسے واقعات بخاری اور مسلم جیسی مسند احادیث کے متون، اردو ترجمہ اور حوالے سے پیش کر دی جائیں اور بحمد اللہ اس میں بہت حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ پھر جہاں کوئی واقعہ ان کتابوں میں نہیں مل سکا تو دوسری کتب صحاح کا سہارا لیا ہے اور ایسے واقعات جہاں احادیث خاموش ہیں وہاں کسی مستند تاریخ کی کتاب کا سہارا لیا گیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ حوالے بھی پیش کر دیئے گئے ہیں۔
اس کاوش کا فائدہ یہ ہو گا کہ جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر خلفا کے طرزِ انتخاب اور مشورہ کی حقیقت کا صحیح ترین ماخذوں سے مطالعہ کرے گا وہ بہت حد تک اصل حقیقت کو سمجھ لے گا۔ اور اسے یہ اندازہ لگانا بھی چنداں مشکل نہ ہو گا کہ جو لوگ بہ تکلف جمہوریت کی قبا کو اسلام کے بدن پر فٹ کرنا چاہتے ہیں تاویلات کا سہارا لینے اور واقعات کو توڑ موڑ کر پیش کر کے حسبِ خواہش نتائج برآمد کرنے کے لئے کس قدر دماغ سوزی کرنا پڑتی ہے۔
یہ کتاب مقدمہ کے بعد تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں خلفائے راشدین کا انتخاب اور اس کے ضمنی مباحث درج ہیں۔ دوسرے میں دور نبوی اور خلفائے راشدین میں مشہور مجالس مشاورت اور ضمنی مباحث ہیں۔ ان مباحث میں ان تمام اعتراضات اور اشکالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو جمہوریت نوازوں کی طرف سے آج تک کئے گئے ہیں۔ تیسرا حصہ ان مباحث پر مشتمل ہے جو آج کل بالخصوص زیر بحث آتے رہتے ہیں۔ آخری مبحث ’’ربط ملّت کے تقاضے اور اسلامی نظام کی طرف پیش رفت‘‘ میں ایک مجمل خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں اسلامی نظامِ حیات کی طرف کیسے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو حقائق کی تاویلات ڈھونڈنے کی بجائے خود اپنا ذہن بدلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عبد الرحمان کیلانی
رمضان المبارک ۱۴۰۰؁ء