اسلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔ جس کے نتیجے میں دورِ حاضر کے مسلمان اسلام کو دین کامل قرار دینے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ان تصورات پر کامل یقین کو بھی جزوِ ایمان سمجھ بیٹھے ہیں، جن پر ایمان لانے کے بعد اسلام کی اساس (توحید و رسالت) کم از کم عمل کی جان نہیں بنتی۔
اسلام ایسے دینِ خالص کے بارے میں جب اس کے پیروکاروں کا زاویۂ نظریہ تک بن جائے تو اس وقت کم از کم عمل کی جو تصویر بنتی ہے وہ اس پاک سرزمین کے چپے چپے پر دیکھی جا سکتی ہے، جسے نظام اسلام کے نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ ہمارے عمل کی یہ تصویر اس تلخ حقیقت کی عکاس بھی ہے کہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی تصورات پر مبنی نظام کو اپنایا تو جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے نتائج اسلام کے ثمرات تو نہیں بن سکتے یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم معاشرہ جس اخوت، یکجہتی اور استحکام کا مظہر ہوتا ہے۔ پاکستان کے نقشہ سے ابھی اس کے اظہار کا انتظار ہی کیا جا سکتا ہے۔
اسلام دشمنوں کی کامیابی اور مسلمانوں کی ناکامی نے اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ایک ملک میں بھی اپنے اثرات ثبت نہیں کئے بلکہ اس کامیابی اور ناکامی نے فرزندانِ توحید کے درمیان حائل سرحدی لکیروں کو اجنبیت کے سانپ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور ان سانپوں کے گھیرے میں جن جن مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ ہے ان کی مدد کیلئے دنیا بھر کے مسلمانوں کی تڑپ تو دیکھی جا سکتی ہے لیکن کوئی عمل نہیں۔ یہ اس لئے کہ ہم ایک خطۂ ارضی میں ہی اسلام کو اس کی روح کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ چہ جائیکہ ہمیں اتنی فرصت ملے کہ ہم اللہ کی پوری زمین پر اللہ کے احکام اور اس کے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو عملی طور پر نافذ کر سکیں۔
ہماری بے عملی اتنی افسوس ناک نہیں جتنی کہ اسلام کو دینِ کامل قرار دینے کے باوجود دین خالص کے تقاضوں سے ہماری بے خبری ہے۔ یہی بے خبری ہمیں اپنی اصلاح کے متعلق سوچنے کی بھی مہلت نہیں دیتی۔ جبکہ یہ امر مسلمہ ہے کہ اصلاح کی جانب پہلا قدم اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔
زیرِ نظر مقالہ (خلافت و جمہوریت) مسلمانوں کو اسلام ایسے دینِ خالص کی طرف رجوع کی ترغیب کی ایک کوشش ہے اور اس میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام کے نام لیوا اسلام کے ابدری اور لا متناہی ثمرات سے محروم کیوں ہیں اور یہ کہ نظامِ خللافت مسلمانوں کے مسائل کا حل کیوں ہے اور جمہوریت کو اپنانے سے مسلمان کن مسائل سے دو چار ہیں؟
ہمارے محترم مولانا عبد الرحمٰن کیلانی کی اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ میں انہوں نے خلافت و جمہوریت کو لازم و ملزوم قرار دینے کے فلسفہ کا تجزیہ کیا ہے کہ آخر اس فلسفہ کے حامل کیا چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کتاب و سنت اس کی تائید کرتی ہے؟ اگر کتاب و سنت سے یہ چاہت متصادم ہے تو اسلام کے یہ ’’علمبردار‘‘ اسلام کا ہی نام کیوں لیتے ہیں۔
اس کتاب کے دوسرے حصے میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ جمہوریت کو نظری اعتبار سے جن خوبیوں کا حامل نظام قرار دیا جاتا ہے۔ کیا وہ واقعی عملی صورت میں ایسا ہی ہے؟ یہ جائزہ سیاسیات کے طالب علموں کے لئے بہت ہی اہم ہے کیوں کہ ہماری پچاسی فیصد آبادی، جسے ہم ناخواندہ قرار دیتے ہیں وہ تور ہی ایک طرف طالب علم تک سیاست باذوق کے نعروں میں آکر کتابیں درسگاہوں میں پھینک کر سڑکوں پر آجاتے ہیں اور ان کی واپسی اس وقت ہوتی ہے جب وہ صرف سیاست کے۔ اور وہ نعروں کی حد تک سیاست کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی کا یہ مقالہ ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ کیا مسلمانوں کو ایک خدا کی عبادت کرنی چاہئے جو مسلمانوں کے ایک ہونے کا درس دیتا ہے یا اپنے ہی ہاتھوں سے گھڑے ہوئے بتوں کی اور یہ کہ کیا مسلمانوں کو ایک رسولؐ کی اتباع کرنی چاہئے۔ جنہوں نے مسلمانوں کو اخوت کی صرف ایک ہی لڑی کے موتی بننے کی تلقین اپنے اسوہ حسنہ سے کی، یا خود ساختہ قائدین کی، جو خود بھی ہدایت یافتہ نہیں اور مسلمانوں کو اپنے مفادات کی قربان گاہ پر قربان کرنے کے لئے تُلے ہوتے ہیں۔
زیرِ نظر مقالہ کے بعض مباحث اگرچہ وضاحت طلب ہیں اور بعض محلِ نظر ہیں۔ لیکن یہ مقالہ خلافت و جمہوریت کے تصادم کو واضح کرنے کی کوشش کا کامیاب آغاز ہے۔ حرفِ آخر صرف عمل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا عمل دینِ خالص کے تقاضے بروئے کار لانے کا تقاضا کرتا ہے۔ (انور طاہر)