پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔ درج ذیل حدیث اس بات پر پوری طرح روشنی ڈالتی ہے:
$11.عن ابن عباس انَّ علی ابن ابی طالبٍ خَرَجَ من عند رسول اللّٰہ ﷺ فی وجعه الذی تُوَفِّی به فقال الناس: یا اَبَا حسنً! کیف اصبح رسول اللّٰہ ﷺ؟‘‘ فقال: ’’اصبح بحمد اللّٰہ بارئاً۔‘‘ فَاخَذ بیدہ عباس بن عبد المطلب فقال له: ’’انت والله بعد ثلاثٍ عبد العصا، وانی والله لَا اریٰ رسول الله ﷺ سوف یتوفّٰی فی وجعه ھذا انّی لَاَعْرف وجوہَ بنی عبد المطلب عند الموتِ، اذھب بنا الی رسول اللّٰہ ﷺ فَلْنَسْئَلْہ فیمن ھذا الامر ان کان فینا عَلِمْنَا وان کان فی غیرنا علمناہ فاوصٰی بنا۔‘‘ فقال علِیٌّ انا والله لئن سئلناھا فمنعناھا لا یعطیناھا الناس بعدہ واِنّی والله لا اسئلھا رسول الله ﷺ۔ (بخاری، باب مرض النبی)
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بیماری کے دوران جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔ حضرت علیؓ آپ کے پاس سے باہر نکلے۔ لوگوں نے پوچھا: ’’اے ابو الحسن! آج آپ ﷺ کا مزاج کیسا ہے؟‘‘ حضرت علیؓ نے کہا۔ ’’بحمد اللہ تندرست ہیں‘‘ یہ سُن کر عباسؓ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے۔ ’’خدا کی قسم۔ تین دن کے بعد تم غلام بن جاؤ گے۔ اور میں بخدا آنحضرت ﷺ کے چہرہ پردہ آثار دیکھ رہا ہوں جو بنی عبد المطلب کے خاندان کے لوگوں کے منہ پر بوقت وفات ظاہر ہوتے ہیں۔ سو آؤ حضور اکرم ﷺ کے پاس چلیں اور امر خلافت کے متعلق پوچھ لیں۔ اگر ہمیں ملتی ہے تو بھی معلوم ہو جائے گا اور دوسروں کو ملتی ہے تو پتہ چل جائے گا۔ تاکہ حضورؐ ہمارے متعلق (حسنِ سلوک کی) وصیت ہی کر جائیں۔‘‘ حضرت علیؓ نے کہا: ’’خدا کی قسم! اگر ہم نے حضور ﷺ سے یہ سوال کیا اور انہوں نے انکار کر دیا تو پھر لوگ آئندہ کبھی خلافت نہ دیں گے۔ لہٰذا بخدا میں حضور اکرم ﷺ سے کبھی یہ سوال نہیں کروں گا۔‘‘
اس واقعہ سے چند دن پہلے (وفات النبیﷺ سے چار دن قبل) مشہور واقعہ قرطاس بھی پیش آیا تھا۔ اس کے راوی عبد اللہ بن عباس ہیں۔ اور یہ واقعہ بھی حدیث کی معتبر کتابوں یعنی بخاری مسلم وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس کے واقعہ کے نکات یہ ہیں:
$11.      حضور اکرم ﷺ نے قلم دوات طلب فرمائی تاکہ ایسا وصیت نامہ لکھوا دیں جس سے امت گمراہ نہ ہو۔
$12.      حضرت عمرؓ نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا۔ حسبنا کتاب اللّٰہ یعنی ہمیں ہدایت کے لئے قرآن کافی ہے۔ لہٰذا اس حالت میں حضور ﷺ کو تکلیف نہ دینی چاہئے۔
$13.      حاضرین میں تکرار شروع ہو گئی کہ قلم دوات لائی جائے یا نہ لائی جائے۔
$14.      حضور اکرم نے ایسا شور سن کر فرمایا۔ یہاں سے چلے جاؤ۔
$15.      حضرت عبد اللہ بن عباس کہا کرتے تھے۔ ہائے مصیبت! وائے مصیبت۔ ہائے جمعرات کا دن، حضور اکرم ﷺ کو اختلاف اور بک بک نے یہ کتاب نہ لکھوانے دی (اور اس سے حضرت علیؓ کی امامت کے لئے وصیت لکھنا خیال کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب المغازی۔ باب مرض النبیؐ)
علامہ شبلی نعمانی نے اس واقعہ پر کسی پہلوؤں سے تنقید کی ہے۔ مثلاً:
$11.      یہ حدیث کئی طریقوں سے مذکور ہے۔ لیکن ان سب کے راوی صرف عبد اللہ بن عباس ہیں۔ جن کا موقع پر موجود ہونا بھی ثابت نہیں۔
$12.      حاضرین میں سے کسی نے بھی ایسے اہم واقعہ کو روایت نہیں کیا۔
$13.      حضرت عبد اللہ بن عباس کی عمر اس وقت صرف ۱۴-۱۳ سال تھی۔
$14.      نبیؐ سے ہذیان اور خصوصاً تشریعی امور میں ناممکن ہے۔ نیز حدیث میں کسی ہذیان کی بات کا کوئی ذکر تک نہیں۔
ان تمام باتوں سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کی عدالت میں شک نہیں۔ لیکن چونکہ وہ خود موقعہ پر موجود نہ تھے لہٰذا ممکن ہے انہیں صحیح کوائف نہ پہنچے ہوں۔ (الفاروق۔ واقعہ قرطاس)
پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہےکہ یہ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا محض ایک خیال تھا کہ حضور ﷺ خلافت کے لئے وصیت نامہ لکھوانا چاہتے تھے۔ مگر حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔ کیونکہ اس خیال کی کئی باتیں نفی کرتی ہیں۔ مثلاً:
$11.      حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ بنا نے کا ارادہ اور پھر اس سے رک جانا (جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے)
$12.      بخاری کے اس باب میں انہی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ لوگوں کے جانے کےبعد حضورؐ نے تین باتوں کی زبانی وصیت فرمائی۔ ایک یہ کہ مشرکوں کو عرب کے جزیرے سے باہر کر دینا۔ دوسرے ایلچی لوگوں کی اسی طرح خاطر کرنا اور تیسری انہوں نے بیان نہیں کی اور کہا کہ میں بھول گیا۔
$13.      بخاری کے اسی باب میں ایک روایت ہے جس کے الفاظ یوں ہیں: جب آپ گھبراتے تو منہ کھول دیتے۔ اسی حالت میں یوں فرماتے۔ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔‘‘
وفات النبی کے وقت حضرت ابو بکرؓ کی غیر موجودگی
پیر کے دن آپؐ کی وفات ہوئی۔ آپؐ کی وفات کے وقت حضرت ابو بکرؓ مدینہ میں موجود نہ تھے بلکہ ایک دن پہلے افاقہ کی خبر سن کر مدینہ سے دو میل دور مقام سُنح اپنے گھر چلے گئے تھے۔ وفات کی خبر سن کر مدینہ تشریف لائے۔ حضرت عمرؓ کو تو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ حضورؐ وفات پا چکے ہیں۔ آپ بازار میں تلوار سونت کر  کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے جو یہ کہے گا کہ حضور فوت ہو چکے ہیں۔ میں اس کا سر قلم کر دوں گا[2]۔
حضرت ابو سلمہ (بن عبد الرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ مجھے عائشہؓ نے خبر دی کہ:
ان ابا بکر اقبل علٰی فرس من مسکنه بالسُنُحِ حتی نزل فدخل المسجد فلم یکلم الناس حتّٰی دخل علٰی عائشة فتیمَّمَ رسول الله ﷺ وھو مغشیًّ بِثَوْبِ حِبَرَۃ فکشف عن وجھه ثم اکّب علیه وقبله وبکٰی ثم قال: بابی انت وامی والله لا یجمع اللّٰہ علیه موتتین انما الموتة التی کتبت علیک فقد متھا۔
حضرت ابو بکرؓ ایک گھوڑے پر سوار اپنے گھر سُخُ سے آئے۔ گھوڑے سے اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔ کسی سے کوئی بات نہیں کی۔ حتّٰی کہ حضرت عائشہ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ (کی نعش) کی طرف گئے۔ آپ کو ایک یمنی کپڑے میں ڈھانپا گیا تھا۔ پھر چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ پھر اس پر جھُکے، بوسہ دیا اور رونے لگے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! اللہ تعالیٰ آپ کو دوبار نہیں مارے گا۔ بس ایک موت جو اللہ نے لکھی ہوئی وہ ہو چکی۔
قال الزھری وحدثنی ابو سلمة عن عبد اللّٰہ ابن عباس ان ابا بکر۱ خرج وعمر یکلم الناس فقال اجلس عمر فابی عمران یجلس فاقبل الناس الیه وترکوا عمر فقال ابو بکر۔ ’’اما بعد! من کان منکم یعبد محمدا ﷺ فان محمداً قد مات ومن کان منکم یعبد واللة فان الله حیٌّ لا یموت۔ قال الله۔ ما محمد الا رسول۔ قد خلت من قبله الرسل (الی قوله) الشاکرین۔‘‘
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو سلمہ نے عبد اللہ بن عباس سے یہ روایت بیان کی پھر حضرت ابو بکرؓ باہر نکلے تو حضرت عمرؓ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے کہ (آنحضرتؐ نہیں مرے) ابو بکرؓ نے ان سے کہا۔ بیٹھ جاؤ۔ لیکن حضرت عمرؓ نہ بیٹھے۔ پھر لوگ حضرت ابو بکرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور عمر کو چھوڑ دیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: اما بعد۔ تم میں سے جو شخص محمدؐ کو پوجتا تھا تو بے شک محمدؐ وفات پا چکے۔ اورجو کوئی اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ محمدؐ بس اللہ کے رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے۔۔۔۔ اور یہ آیت آخر شاکرین تک پڑھی۔‘‘
وقال: والله لکاَنَّ الناس لم یعلموا انّ الله انزل ھذہ الایة حتی تلاھا ابو بکر فتلقاھا منه الناس کلھم فما اسمع بشرًا من الناس الا یتلوھا۔
ابن عباس کہتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اللہ نے یہ آیت بھی اتاری ہے جب تک حضرت ابو بکرؓ نے یہ آیت نہ پڑھی پھر ابو بکرؓ سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔
فَاَخْبِرْنِیْ سعید بن المسیب ان عمر قال: والله ما ھو الا ان سمعت ابا بکر قلاھا فعقرتُ حتّٰی ما تفلَّنی رجلای وحتّٰی اَھویت الی الارض حین سمعته قلاھا ان النبی ﷺ قدمات (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی)
زہری نے کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے۔ بخدا! مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت ابو بکرؓ کے تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو میں سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اُٹھتے تھے۔ میں زمین پر گر گیا۔ اور جب میں نے ابو بکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تب مجھے معلوم ہوا کہ واقعی آنحضرت ﷺ کی وفات ہو گئی۔
خلافت کے لئے انصار کی کوشش اور بیعتِ ابو بکرؓ
ادھر صحابہؓ کبار رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین میں مصروف تھے۔ ادھر انصار کے کچھ لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔ یہ انصار بھی خلافت کے امیدوار[3] تھے۔ بلحاظ آبادی یہ مدینہ میں اکثریت میں تھے۔ اور دو قبیلوں اوس اور خزرج پر مشتمل تھے۔ ان کے سردار سعد بن عبادہ۔ جو خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ خلافت کے امیدوار تھے۔ انہوں نے ہی اپنے ساتھیوں کو یہاں امر خلافت طے کرنے کے لئے اکٹھا کیا تھا۔ انہیں حضور اکرمؐ کا یہ ارشاد اذا بویع للخلفتین فاقتلوا اخرھما (مسلم کتاب الامارۃ) (جب دو خلیفوں کی بیعت ہونے لگے تو پچھلے کو قتل کر دو) خوب یاد تھا۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس موقع کو غنیمت جان کر فوری طور پر امیر کا انتخاب کر لیا جائے۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ اگر مہاجر بھی یہاں پہنچ گئے تو پھر ان کی دال نہیں گلے گی۔ لہٰذا وہ اس معاملہ کو جلد از جلد طے کرنے پر تلے ہوئے تھے اور یہ بات چیت شروع کر دی تھی۔ اس واقعہ کی اطلاع جس طرح مہاجرین کو ہوئی وہ حضرت عمرؓ کی زبانی سنیے[4]:
بینما نحن فی منزل رسول الله ﷺ اذا رجل ینادی من وراء الجدار ان اخرج اِلیَّ یا ابن الخطاب۔ فقلت: الیک عَنِّیْ فانا عنک مشاغیل۔ یعنی بامرِ رسول اللّٰہ ﷺ فقال له: قد حَدَثَ اَمْرٌ فان الانصار اجتمعوا فی سقیفۃ بنی ساعدة فادرکوھم ان یُحدِّثُوا امرًا ان یکون فیه حَزبٌ. فقلت لابی بکرٍ اِنْطَلِقْ.
ہم رسول اللہ ﷺ کے خانہ مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعۃً دیوار کے پیچھے سے ایک آدمی (مغیرہ بن شعبہ) نے آواز دی۔ اے ابن الخطاب ذرا باہر آؤ۔ میں نے کہا۔ چلو ہٹو! ہم لوگ آنحضرت ﷺ کے بندو بست میں مشغول ہیں۔‘‘ اس نے کہا کہ ایک حادثہ پیش میں آیا ہے یعنی انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے جلد پہنچ کر ان کی خبر لو۔ ایسا نہ ہو کہ انصار کچھ ایسی باتیں کر بیٹھیں  جس سے لڑائی چھڑ جائے۔ اس وقت میں نے ابو بکرؓ سے کہا کہ چلو۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچنے کے متعلق بخاری کی درج ذیل روایت ملاحظہ فرمائیے:-
عن عمر قال حین توفّی الله نبیَّه ﷺ ان الانصار اجتمعوا فی سقیفة بنی ساعدة فقلت لابی بکر انطلاق بنا فجئْنَاھم فی سقیفة بنی ساعدة (بخاری کتاب المظالم باب ما جاء فی السقائف)
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو اُٹھا لیا تو انصار بنی ساعدہ کے منڈوے میں جمع ہوئے۔ میں نے ابو بکرؓ سے کہا۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں۔ پھر ہم اس سقیفہ میں انصارکے پاس پہنچے۔
اس حدیث میں لفظ بنا (ہمارے ساتھ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سقیفہ جانے والے بزرگ قریش دو سے زیادہ تھے۔ آئندہ بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ بھی ان کے ہمراہ تھے اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سقیفہ مذکورہ میں قریش سے کل چار یا زیادہ سے زیادہ پانچ آدمی پہنچے تھے۔ درج ذیل روایت حضرت عمرؓ کے اس طویل خطبہ کا آخری حصہ ہے جو انہوں نے اپنی خلافت کے آخری سال مسجد نبوی میں دیا تھا۔ یہ انتخاب ابو بکرؓ کے بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔
ثم انه بلغنی ان قائلاً منکم یقول والله لومات عمر بایعت فلانا فلا یغترن المرؤٌ انما کانت بیعة ابو بکر فَلْتَة وتمَمَّت الا وانما کانت کذلک ولٰکِنّ الله قد وقٰی شرھا ولیس فیکم من تقطع الا عناق الیه مثل ابی بکر من بایع رجلا من غیر مشورة من المسلمین فلا یبائع ھو وَلَا والذی بایعه تغرّۃة ان یُقْتَلَا۔
وانه کان من خبرنا حین توفی اللّٰہ نبیه ﷺ الا ان الانصار خالفونا واجتمعوا بِاَسَرِھِمْ فی ثقیقه بنی ساعدة وخالف عنا علیٌّ والزبیر ومن معھا واجتمع المھاجرون الی ابی بکر فقلت فقلت لابی بکر یا ابا بکر انطلاق بنا الی اخواننا ھٰؤُلاء من الانصار فانطلقنا نُرِیْدُھم فلما دنونا منھم لَقِیْنَا منھم رجلان صالحان فذکرا ماتما لَا علیہ القوم فقالا اَیزَ تریدون یا معشر المھاجرین؟ فقلنا نوید اخواننا ھٰؤُلاء من الانصار۔ فقالا لا علیکم ان تقربوھم، اقضُوا امرکم۔ فقلت والله لنا تینھم فانطلقنا حتّٰی اتینھُمق فی سقیفة بنی ساعدۃ فاذا رجل مزمَّلٌ بین ظھر اینھم۔ فقلت من ھذا؟ فقالوا ھذا سعدُ بن عبادۃ فقلت مَا لَہٗ؟ قالوا یُوْعَکَ۔ فلَما جلسنا قلیلاً تشھد خطیبھم فَاَثْنٰی علی الله بما ھو اھله ثم قال اما بعد، نحن انصار الله کتیبة الاسلام وانتم معشر المھاجرین رَھْطٌ وقد رَفَّتْ رآفة من قومکم فاذا ھم یریدون ان یختزلونا من اصلنا وان یختزلونا من اصلنا وان تحصنُونا من الامر۔ فلما سکت اردت ان اتکَلَّمَ وکنت زَوَّدْتُ مقالة اعجبتنی، ارید ان اَقدِّمھا بین یدی ابو بکر وکنت اُدارِی منه بعض الحَدِّ فَلَمَّا اردت ان اَتَکُلُّم، قال ابو بکرٌ عَلٰی رِسْلِکَ۔ فکرھتُ ان اغضبه  فَکَلَّمَ ابو بکرٌ فکانھو اَحْلَمَ مِنِّیْ واَوْقَرَ وَالله ما ترک من کلمة اعجبتنی فِی تزویری الا قال فی هدیته مثلھا او افضل منھا حتّٰی سکت فقال ما ذکرتم فیکم من خیر فانتم له اھل ولن یُعْرَف ھذا الامرِ الا لھذا الحیِّ من قریش ھم اوسط العرب نسبًا وداراً وقد رضیت لکم احد ھٰذین الرجلین فیایعوا ایّھُما شِئتُمْ فاخذ بیدی وبید ابی عبیدۃ بن الجرّاح وھو جالسٌ بیننا۔ فلم اکرہ مما قال غیرھا والله ان اقدم فُیضْرَبَ عُنُقِیْ لا یقربنی ذٰلِکَ من اثم احَبّ الی من ان اَقَاَمَّوَّا علی قوم فیھم ابو بکر۔ الّٰلھُمَّ اِلَّآ ان نُسوِّل علی نفسی عند الموت شیئًا لا اجدُہُ الآن۔ فقال قائِلٌ من الانصار: انا جُذیْلُھا المحکَّکُ وعذیقھا المرحّبٌ منا امیر ومنکم امیر یا مشر قریش فکثر اللغت وارتفعت الاصواتُ حَتّی فَرِقٰتُ من الاختلاف فقلت اُبسُطَ یدک یا ابا بکر۔ فبسط یده فبایعته وبایعه والمھاجرون ثم بایعته الانصارُ۔ مرنَزَدْنا عَلٰی سعد بنِ عُبَادۃَ فقال قائلٌ منھم قَتَلْتُمْ سعد بن عبادۃ۔ فقلت قتل الله سعد ابن عبادة۔ قال عُمَرُ: وانا واللّه ما وَجَدُنَا فیما حضرنا من امرا قویٰ من مبایعة ابی بکر۱ خشینا ان فارقنا القوم ولم تکن بیعة ان یبایعوا رجلا منھم بعدنا فاما بایعناھم عَلٰی مالا ترضی واما نخالفھم یکون فسادًا فمن بایع رجلاً ان غیر مشورة من المسلمین فلا یتبایعُ ھو والذی بایعه تَغِرَّۃً ان یُقْتَلَا۔ (بخاری۔ کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی)
پھر مجھے یہ خبر بھی ملی ہے۔ تم میں سے کسی نے یوں کہا: ’’اگر عمرؓ مر گیا تو فلاں شخص سے بیعت کر لوں گا۔‘‘ دیکھو! تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ وہ ایسا کہنے لگے۔ حضرت ابو بکرؓ کی بیعت ہنگامی حالات میں ہوئی اور پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ بے شک حضرت ابو بکرؓ کی بیعت ناگہانی ہوئی تھی تاہم اللہ تعالیٰ نے اس (طرح کی) بیعت کی برائی سے (اُمّت) کو) بچا لیا۔ پھر تم میں سے (آج) حضرت ابو بکرؓ کی طرح (متقی اور پرہیزگار) کون ہے؟ جس سے ملنے کے لئے لوگ سفر کرتے ہوں۔ تو اب جس کسی نے مسلمانوں سے مشورے کے بغیر کسی کی تو بیعت کرنے والا اور جس کی بیعت کی گئی ہو دونوں اپنی جانیں گنوا بیٹھیں گے۔
پھر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اُٹھا لیا تو انصار نے ہماری مخالفت کی۔ اور اپنے حمائیتوں سمیت بنو ساعدہ کے منڈوے میں اکٹھے ہوئے۔ ادھر حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ اور ان کے ساتھی بھی ہمارے مخالف تھے۔ باقی مہاجرین حضرت ابو بکرؓ کے پاس جمع ہوئے۔ میں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا: ’’اے ابو بکرؓ! اپنے انصار بھائیوں کے پاس ہمارے ساتھ چلیے۔ سو ہم ان کے پاس آنے کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو دو نیک بخت انصاری[5] آدمی (عویم بن ساعدہ اور عاصم بن عدی) ہم سے ملے انہوں نے وہ سب کچھ بتلایا جس پر (سقیفہ میں جمع انصار) تلے ہوئے تھے (یعنی سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنانے پر) پھر انہوں نے کہا۔ ’’اے مہاجر بھائیو! تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ ہم نے کہا ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ وہاں مت جاؤ۔ تمہیں جو کرنا ہے کر ڈالو (خلیفہ منتخب کر لو)‘‘ میں نے کہا۔ خدا کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے۔
آخر ہم سقیفہ بنی ساعدہ پہنچ گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آدمی کپڑا اوڑھے بیٹھا ہے۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ لوگوں نے کہا۔ ’’یہ سعد بن عبادہ ہیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’اسے کیا تکلیف ہے؟‘ کہا گیا۔ ’’انہیں بخار آرہا ہے۔‘‘ ہم تھوڑی دیر ہی بیٹھے تھے کہ ان کے خطیب (ثابت بن قیس یا اور کسی نے) تشہدّ پڑھا۔ پھر اللہ کی ثناء بیان کی۔ جیسی کہ اسے سزاوار ہے۔ پھر کہنے لگے۔ ہم اللہ (کے دین) کے مددگار اور اسلام کی فوج ہیں اور اے مہاجرین تم تھوڑی سی جماعت ہو۔ تم میں سے ایک چھوٹی سی جماعت اپنی قوم (قریش) سے نکل کر ہم میں آرہی۔ تو اب تم یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہمیں خلافت سے محروم کر دو۔‘‘ خطیب جب چُپ ہوا تو میں نے گفتگو کرناچاہی۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں سوچ رکھی تھی اور چاہتا تھا کہ حضرت ابو بکرؓ کے بات کرنے سے پہلے شروع کر دوں اور میں اس تقریر سے وہ تلخی دور کرنا چاہتا تھا جو اس خطیب کی تقریر سے پیدا ہوئی۔ پھر جب میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابو بکرؓنے کہا۔ ذرا ٹھہر جاؤ۔ میں نے حضرت ابو بکرؓ کو خفا کرنا مناسب نہ سمجھا۔ سو حضرت ابو بکرؓ نے تقریر شروع کی۔ اور خدا کی قسم! وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور متین تھے۔ اور جو عمدہ تقریر میں نے اپنے ذہن میں سوچ رکھی تھی اس میں سے کوئی بات نہ چھوڑی اور سب کچھ فی البدیہہ کہہ دیا۔ بلکہ میری سوچی ہوئی تقریر سے بہتر تقریر فرمائی۔ پھر خاموش ہو گئے۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا۔ ’’انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی وہ سب درست ہے اور تم بے شک اس کے سزاوار ہو مگر خلافت قریش کے سوا کسی اور قبیلہ کے لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ قریش ازروئے نسب اور خاندان تمام عرب قبائل سے بڑھ کر ہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ان دو آدمیوں میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو جسے تم چاہو۔ پھر میرا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح۔ جو لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے کا ہاتھ تھاما۔
(حضرت عمرؓ کہتے ہیں) کہ مجھے حضرت ابو بکرؓ کی کوئی بات بھی اتنی ناپسندیدہ معلوم نہ ہوئی جتنی یہ  بات۔ خدا کی قسم! اگر مجھے آگے لا کر میری گردن مار دیں در آنحالیکہ میں کسی گناہ میں ملوّث بھی نہ ہوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ان لوگوں کی سرداری کروں جن میں ابو بکر موجود ہوں۔ میرا اب تک بھی یہی خیال ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مرتے وقت میرا نفس مجھے بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرتا۔
پھر انصار میں کا ایک خطیب (حجاب بن منذر) کہنے لگے۔ ’’میں وہ لکڑی ہوں جس سے اونٹ رگڑ کر اپنی کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور وہ باڑ ہوں جو درخت کے گرد لگائی جاتی ہے (یعنی لوگوں کا متعمد علیہ، مدبّر اور محافظ ہوں) میری تجویز یہ ہے کہ) ایک امیر ہم میں سے ہو اور اے قریش! ایک امیر تم میں سے ہو۔‘‘ اس تجویز پر غُل مچ گیا۔ اور کئی طرح کی آوازیں بلند ہونے لگیں (حضرت عمرؓ کہتے ہیں) کہ میں ڈر گیا کہ امت انتشار و اختلاف کا شکار نہ ہو جائے۔ سو میں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے بیعت کی اور مہاجرین نے بیعت کی۔ پھر انصار نے بیعت کی۔ پھر ہم سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے۔ کسی نے کہا۔ ’’تم نے سعد بن عبادہ کو ہلاک کر ڈالا۔‘‘ تو میں نے کہا اسے اللہ نے ہلاک کیا ہے۔ (راوی کہتا ہے) حضرت عمرؓ نے اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا۔ اس وقت ہمیں حضرت ابو بکرؓ کی خلافت کے علاوہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ خطرہ تھا کہ اگرہم لوگوں سے جدا رہے جب تک ابھی تک بیعت نہ ہوئی تھی وہ کسی اور شخص کی بیعت کر بیٹھے۔ تو پھر دو ہی صورتیں تھیں) یا تو ہم اس شخص کی بیعت پر مجبور ہو جاتے یا مخالفت کرتے تو آپس میں فساد (پھوٹ) پڑ جاتا۔ دیکھو! میں پھر یہی کہتا ہوں کہ جو شخص بغیر مسلمانوں کے صلاح  مشورہ کے کسی کی بیعت کرلے۔ تو دوسرے لوگ اس کی (بیعت کرنے میں) پیروی نہ کریں۔ نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی۔ کیونکہ دونوں اپنی جانیں گنوا بیٹھیں گے۔‘‘
حافظ ابن کثیر سیرۃ النبویہ ج ۴ صفحہ ۴۹۱ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو بکر صدیقؓ نے حضرت سعد بن عبادہؓ کو رسول اکرم ﷺ کا ارشاد سنایا تو انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔
ولقد علِمتَ یا سعد! ان رسول اللّٰہ ﷺ قال۔ وانت قاعد۔ قریشٌ ولاۃُ ھذا الامر، فبَرُّا الناس تیع لَبِرِّھم وفاجرھم لفاجرھم۔ فقال لہ سعد: صدَقتَ، نحن الوزراء وانتم الامراء۔‘‘
’’اے سعد! تم خوب جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ اس وقت تم موجود تھے۔ ’’قریش امرِ خلافت کے والی ہیں۔ ان کے نیک نیکوں کا اور فاجر فاجروں کا اتباع کرتے ہیں۔‘‘ تو سعدؓ نے جواب دیا: ’’آپ نے سچ کہا۔ ہم وزیر ہوں گے اور تم امیر۔‘‘
بنو ہاشم کی بیعت میں تاخیر
جب انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کے متعلق مسئلہ چھیڑ ہی دیا۔ تو اس مسئلہ کی اہمیت اس بات کی متقاضی تھی کہ سب سے پہلے اب ادھر توجہ کی جائے۔ حضرت ابو بکرؓ اور ان کے چند ساتھی تو سقیفہ بنی ساعدہ پہنچ گئے۔ لیکن بنو ہاشم وہاں عمداً نہیں گئے۔ کیونکہ سقیفہ مذکورہ میں موجود انصار و مہاجرین میں سے کوئی گروہ بھی حضرت علیؓ کے دعویٰ کی تائید کو تیار نہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے حضرت فاطمہؓ بنت رسول ﷺ کے گھر کا رخ کیا۔ بخاری شریف کی مذکورہ طویل حدیث کی شرح میں فتح الباری میں امام مالکؒ سے یہ روایت درج ہے۔ از سیرۃ النبویہ ابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۴۸۸)
وان علیّاً والزبیر ومن کان معھُما تخلَّفُوا فی بیت فاطمة بنت رسول الله۔
اور علیؓ اور زبیرؓ اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے۔ وہ حضرت فاطمہ الزہراؓ کے گھر میں الگ جمع ہوئے۔
یہ بنو ہاشم گو تعداد میں گم تھے مگر اپنے دعوے میں متشدد تھے۔ طبری جلد ۳ کی یہ روایت اس معاملہ پر روشنی ڈالتی ہے:
وتخلّف علیٌّ والزبیر واخترع الزبیر سیفه وقال: لا اعمده حتی یبایع علیٌّ۔
اور حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ نے علیحدگی اختیار کی اور حضرت زبیرؓ نے تلوار میان سے کھینچ لی اور کہا: جب تک حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت نہ کی جائے میں تلوار کو میان میں نہ ڈالوں گا۔‘‘
بیعتِ عامہ
وفات النبی کے دن ہی یعنی پیر کو سقیفہ بن ساعدہ میں حضرت ابو بکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو اس سے اگلے دن یعنی منگل کو مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی۔ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
اخبرنی انسُ بنُ مالکٍ انه سمع خطبة عمر الاخرة حین جلس علی المنبر وذلک الفَدَ من یوم توفِّیْ النبی ﷺ فتشھد وابو بکر صامت لا یتکلم قال: کنت ارجوا من یعیش رسول الله ﷺ حتی یدبُرَنَا یُرید بذٰلک ان یکون اٰخرھم فان یک محمّدٌ فقد مات فان الله تعالٰی قد جعل اظھرکم نوراً تھتدون به ھدی الله محمدًا ﷺ وان ابا بکر صاحب رسول الله ﷺ ثانی اثنین فَاِنَّه اَوَلَی المسلمین بامورکم فقوموا فیایعوہ وکانت طائفة منھم قد بایعرہ قبل ذٰلک فی سقیفة بنی ساعدة وکانت بیعة العامة علی المنبر۔ قال الزھری عن انس بن مالک سمعتُ عُمَرُ یَقُوْلُ لابی بکرٍ یومئِذٍ اصعَدِ المنبر فلم یزل حتّی صعد المنبر فبایعه الناس عامة۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
مجھ کو انس بن مالکؓ نے خبر دی۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کا دوسرا خطبہ سنا۔ جب وہ منبر پر بیٹھے۔ یہ حضور ﷺ کی وفات کے دوسرے دن انہوں نے سنایا۔ انہوں نے تشہد پڑھا۔ حضرت ابو بکرؓ خاموش بیٹھے رہے۔ کوئی بات نہ کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ مجھے تو یہ امید تھی کہ آنحضرت ﷺ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب ہم دنیا سے اُٹھ جائیں گے اور آپ ہم سب کے بعد وفات پائیں گے۔ خیر اب محمد ﷺ گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے تم میں ایک نور باقی رکھا ہے جس سے تم راہ پاتے رہو گے۔ اسی نور سے اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھی راہ بتلائی اور بلاشبہ ابو بکر صدیق آنحضرت ﷺ کے خاص رفیق اور ثانی اثنین ہیں۔ تمام مسلمانوں میں ان کو خلافت کا زیادہ حق ہے، سو اُٹھو اور ان سے بیعت کرو۔
(حضرت عمرؓ نے یہ خطبہ اس وقت سنایا) جب مسلمانوں کا ایک گروہ پہلے ہی بنی ساعدہ کے منڈوے میں ابو بکرؓ سے بیعت کر چکا تھا (وہ بیعت خاص تھی) یہ بیعت عامہ (مسجد نبوی میں منبر پر ہوئی۔
اسی سند سے زہری نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ حضرت ابو بکرؓ سے برابر یہی کہتے رہے۔ اٹھو! منبر پر چڑھو۔ حتّٰی کہ وہ منبر پر چڑھے اور عوام الناس نے ان سے بیعت کی۔
حضرت علی کی بیعت
سقیفہ بن ساعدہ میں حضرت ابو بکرؓ نے اپنی تقریر کے دوران جب حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد پیش کیا کہ آئمہ قریش سے ہوں گے۔ تو جماعتِ انصار نے اس فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیا۔ حضرت بشیر بن سعدؓ خزرجی نے حضرت ابو بکرؓ کے خیالات کی پرزور تائید کی اور فرمایا:
’’ہم نے اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ فقط اطاعتِ رسول اور رضائے الٰہی کے لئے تھا۔ یہ مناسب نہیں کہ ہم اس کے عوض متاعِ دنیا کے خواہاں ہوں۔ ہمیں اجر دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ خلافت کی مستحق تم سے زیادہ خود حضور ﷺ کی قوم ہو سکتی ہے۔ تم لوگ اللہ کا خوف کرو اور مخالفت سے باز آؤ۔‘‘ (طبری جلد ۳ صفحہ ۲۲۱)
چنانچہ اسی مجمع میں سے بیشتر انصار نے حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ باقی نے دوسرے دن بیعت کی۔ حضرت ابو بکرؓ نے کچھ تعرض نہیں فرمایا۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ ’’انصار میں سے جو کوئی نیک ہو اس کی قدر کرنا اور جو بُرا ہو اس کے قصور سے درگزر کرنا۔‘‘ (بخاری۔ کتاب المناقب باب اَقْبِلوا من مُحسنِھِمْ وتجاوزوا عن مُسَیِّھم)
ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن عبادہؓ نے اسی دن بعد میں بیعت کر لی۔ جبکہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کا انتقال ہو گیا۔ اس دوران کبھی کبھار بنو ہاشم حضرت فاطمہؓ کے مکان پر جمع ہو کر مشورے کرتے رہتے۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور طبری نے تاریخ کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک بار حضرت فاطمہؓ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا[6]:
’’یا بنت رسول اللہ! خدا کی قسم آپ ہم کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ تاہم اگر لوگ آپ کے یہاں اس طرح مجمع کرتے رہے تو میں ان لوگوں کی وجہ سے گھر میں آگ لگا دوں گا۔‘‘
گو اس روایت کی صحت کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم حضرت عمرؓ کی تندیٔ مزاج سے یہ بات بعید نہ تھی اور یہی مزاج کی تندی بعض دفعہ بڑے بڑے اُٹھنے ہوئے فتنوں کو دبا دیتی تھی۔
غالباً یہی وجہ تھی کہ جب حضرت ابو بکرؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمرؓ کو نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس معاملہ کے متعلق حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت عثمانؓ سے مشورہ کر چکے تو حضرت طلحہؓ نے آپ کے پاس آکر کہا تھا:
’’آپ کی موجودگی میں حضرت عمرؓ نے ہمارے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا؟ اب خلیفہ ہوں گے تو خدا جانے کیا کریں گے اور آپ اس بارے میں خدا کو کیا جواب دیں گے؟ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا۔ میں خدا سے کہوں گا۔ میں نے اس شخص کو امیر بنایا جو تیرے بندوں میں سب سے زیادہ اچھا تھا۔‘‘
حضرت علیؓ کی بیعت کی تفصیل بخاری، کتاب المغازی باب غزوہ خبیر میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے بغرض اختصار اس طویل حدیث کے چیدہ چیدہ اقتباسات یہ ہیں:
$11.      ’’حضرت فاطمہؓ کے انتقال کے بعد حضرت علیؓ کے متعلق لوگوں کی وہ توجہ نہ رہی جو پہلے تھی۔ لہٰذا حضرت علیؓ نے بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
$12.      حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکرؓ کو اکیلے گھر پر آنے کی دعوت دی۔ دونوں ایک دوسرے کے مناقب بیان کرتے رہے۔ حضرت علیؓ نے یہ شکوہ کیا کہ آپ نے امرِ خلافت میں ہمیں مشورہ میں شامل نہیں کیا۔ آخر حضرت علیؓ نے کہا کہ شام کو میں مسجد نبوی میں بیعت کروں گا۔
$13.      لیکن یہ بیعت ظہر کی نماز کے بعد ہی واقع ہو گئی۔ پہلے حضرت ابو بکرؓ حضرت علیؓ کے فضائل بیان کیے پھر حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکرؓ کے اور اپنی معذرت پیش کی۔ لوگوں کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ حضرت علیؓ ’’معروف‘‘ کی طرف لوٹ آئے ہیں اور اب وہ پہلے سے زیادہ حضرت علیؓ سے محبت کرنے لگے۔‘‘
امرِ خلافت پر تنقید
اب یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ انصار سے سعد بن عبادہؓ اور بنو ہاشم سے حضرت علیؓ جو خلافت کے امیدوار تھے کیا وہ اس دعویٰ میں حق بجانب تھے یا نہیں؟ اور کیا ان کا انتخاب ممکن بھی تھا یا نہیں۔
ہم پیرا گراف نمبر ۵ میں ایسی پانچ مستند اور صحیح احادیث درج کر چکے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ طلبِ امارت یا اس کی آرزو کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا دونوں بزرگوں کے اس دعویٰ اور اقدامات بشری کمزوریوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔ تاہم وہ انسان ہی تھے، فرشتے یا معصوم من اللہ نہیں تھے۔
رہے حضرت ابو بکرؓ جن کی افضلیت کے سب قائل تھے (پیرا گراف نمبر ۴) اور جن کی خلافت سے متعلق بہت سے اشارات بھی ملتے ہیں (پیرا گراف نمبر ۳) ان کا امارت کی طلب کرنا ہرگز ثابت نہیں۔ جب حضور ﷺ نے وفات پائی تو مدینہ میں موجود ہی نہ تھے۔ یہ اطلاع ملنے پر مدینہ آئے تو ایسا کوئی ذکر نہیں کیا۔ بلکہ ان کے ساتھی حضرت عمرؓ تو یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھے کہ حضور وفات پا چکے ہیں۔ تجہیز و تکفین میں مشغول ہوئے تو وہاں سے سقیفہ بنی ساعدہ کے سلسلہ میں بلایا گیا۔ آئے، تقریر فرمائی تو صرف اس طرف توجہ دلائی کہ بموجب فرمانِ نبوی خلافت قریش میں ہو گی۔ خود قطعاً دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت عمرؓ اور ابو عبیدہؓ بن الجراح کا نام لیا تو جس طرح حضرت عمرؓ نے یہ جواب دیا کہ آپ کی موجودگی میں خلیفہ بننا ہمیں سخت ناگوار ہے۔ آپ نماز میں آپ کے خلیفہ، سب سے افضل اور ثانیثین فی الغار ہیں۔ بالکل اسی طرح کا جواب حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے بھی دیا (طبری جلد ۳ ص ۲۲۱) آخر حضرت عمرؓ نے ان کا ہاتھ اٹھا کر بیعت کی۔ تو سب لوگوں نے بیعت کر لی۔
وہ اپنے خلیفہ بن جانے پر بھی چنداں خوش نہ تھے۔ جیسا کہ خلافت کے بعد ان کی پہلی تقریر سے ثابت ہوتا ہے (ملاحظہ ہو طلب امارت اور اس کی آرزو ص ۱۰۸) نیز آپ نے اپنی وفات کے وقت بھی یوں فرمایا تھا۔
وَوَدَدْتُ الی یوم سقبقه بنی ساعدة فکنتُ قَذَفتُ الْاَمْر فِی عُنُقِ احد الرجلین۔ یرید عمرو ابا عبید، فکان احدھما امیرًا وکنت وزیرًا (طبری ج ۳، ص ۴۳۰)
سقیفہ بنی ساعدہ کے دن چاہتا تھا کہ امرِ خلافت کا بار عمرؓ اور ابو عبیدہؓ میں سے کسی ایک کے سر پر ڈال دوں تاکہ ان میں سے کوئی ایک امیر بن جاتا اور میں وزیر ہوتا۔
اسی طرح حضرت عمرؓ اپنے خلیفہ نامزد ہونے پر چنداں خوش نہ تھے اور اس کا اظہار حضرت عمرؓ نے ایک تو اپنی وفات کے وقت کیا (دیکھیے انتخاب عثمانؓ) اور دوسرے اس بے رغبتی کا اظہار حضرت عمرؓ کے اس قول سے بھی ہوتا ہے جب غزوۂ خیبر کے متعلق حضور اکرم ﷺ نے یہ فرمایا کہ میں کل جھنڈا اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو خیبر فتح کرے گا۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے۔
ما احببت الامارة الا یومئذٍ (مسلم۔ فضائل علی ابن ابی طالب)
مجھے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی خوشی نہ ہوئی۔
گویا اس لحاظ سے بھی حضرت ابو بکرؓ کی امارت کے لئے افضلیت ثابت ہوتی ہے۔
حضرت سعد بن عبادہ کی خلافت پر اتفاق دو وجہ سے ناممکن تھا۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ قبیلہ قریش اپنی دینی و دنیوی برتری کی وجہ سے کسی فیصلہ کو اپنا ہم سر نہ سمجھتے تھے لہٰذا وہ کسی دوسرے قبیلہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہ تھے اور نہ ہی دوسرے قبائل اپنے ہم سر یا اپنے سے کم تر قبیلہ کی فرمانروائی قبول کر سکتے تھے۔ اِسی حقیقت کو حضرت ابو بکرؓ نے الفاظ میں واضح فرمایا ہے
ان العرب لا تعرف ھذا الامر الا لھذا الحی من قریش (بخاری۔ کتاب المحاربین)
اہل عرب قبیلہ قریش کے علاوہ کسی دوسرے کی خلافت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتے۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ انصار خود دو گروہ تھے۔ اوس اور خزرج اور ان کا باہم اتفاق نہ تھا۔ گو خزرج تعداد میں زیادہ تھے اور اوس کی حیثیت بھی ثانوی قسم کی تھی تاہم ان میں باہمی رقابت کی بجھی ہوئی چنگاریاں ابھی تک موجود تھیں۔ ان حالات میں بہتر تھا کہ کسی لائق تر شخص کا انتخاب کر کے انصار کے اس دعویٰ کو دیا دیا جاتا۔ اور اگر امارت کی بحث پہلے سے شروع نہ ہو چکی ہوتی تو حضرت ابو بکرؓ کا فوری اور متفقہ انتخاب عین ممکن تھا۔
اور تیسری وجہ یہ بھی تھی کہ انصار اور پھر خزرج کے قبائل میں سے بنو ساعدہ کو تقویٰ اور بزرگی کے لحاظ سے کوئی خاص مقام حاصل نہ تھا۔ جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے اس روایت کے راوی بذاتِ خود انصاری ہیں اور سعد بن عبادہؓ کے ذیلی قبیلہ، قبیلہ بنو ساعدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
عن ابی حُمَیْدٍ عن النبی ﷺ قال: ’’اِنّ خیرٌ دُورِ الانصار دار بنی النجار ثُمّ عبدُ الاشَھدِ ثم دارُبنیالحارث ثم بنی ساعدۃ وفی کل دُورِ الانصارِ خیر۔‘‘ لَلَحِقنَا سعد بن عبادۃ فقال ابو اُسیدٍ: اَلَمْ تَرَ اَنَّ نبی الله ﷺ خیر الانصار فجعلنا اخِیرًا۔‘‘ فادرک سعد النبیُّ ﷺ فقال: یا رسول الله خیر دُورِ الانصار فجعلتنا اٰخرًا۔ فقال: اَوَ لَیْس یُحببکُمْ اَن تکونوا من الخیار (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب فضل دُورِ الانصار)
ابو حمید ساعدی کہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: بہتر گھرانہ انصار کا بنی نجار کا گھرانہ ہے، پھر عبد الاشہل کا، پھر بنی حارث کا، پھر بنی ساعدہ کا اور انصار کے سب گھرانے اچھے ہیں۔‘‘ پھر سعد بن عبادۂ ابو اُسید سے ملے‘‘ تو کہنے لگے ’’ابو اُسید! تم نہیں دیکھتے کہ آنحضرت ﷺ نے تعریف بیان کی تو ہم کو آخر میں کر دیا۔ پھر سعد بن عبادہ نبی ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا۔ ’’یا رسول اللہ! انصار کے گھرانوں کی تعریف ہوئی تو ہمیں آخری درجہ دیا گیا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم اچھے لوگوں میں شمار ہوئے (اوّل، آخر کی کیا بات ہے) 
بنو ہاشم بوجہ قرابت امارت کے دعوے دار اور اس نظریہ میں متشدد بھی تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکرؓ اور عمرؓ نے ان سے امارت ظلماً اور حسداً چھین لی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے تعلقات قریش کے ساتھ کچھ ایسے پیش در پیچ تھے کہ قریشی کسی طرح ان کے آگے سر نہیں جھکا سکتے تھے۔ علامہ طبری نے حضرت عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے۔ جس سے اس حقیقت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
حضرت عمرؓ: عبد اللہ بن عباس! علی ہمارے ساتھ کیوں نہیں شریک ہوئے؟
عبد اللہ بن عباسؓ: میں نہیں جانتا۔
حضرت عمرؓ: تمہارے باپ رسول اللہ ﷺ کے چچا اور تم رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی ہو۔ پھر تمہاری قوم تمہاری طرف دار کیوں نہیں ہوئی؟
عبد اللہ بن عباس: میں نہیں جانتا۔
حضرت عمرؓ: لیکن میں جانتا ہوں۔ تمہاری قوم سردار ہونا گوارا نہیں کرتی تھی۔
عبد اللہ بن عباسؓ: کیوں؟
حضرت عمرؓ: وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ایک ہی خاندان (بنو ہاشم) میں نبوت اور خلافت دونوں آجائیں۔ شاید تم یہ کہو گے کہ حضرت ابو بکرؓ نے ہمیں خلافت سے محروم کر دیا ہے۔ لیکن خدا کی قسم! یہ بات نہیں۔ ابو بکرؓ نے وہ کیا جس سے زیادہ کوئی مناسب نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر وہ تم کو خلافت دینا بھی چاہتے تو تمہارے حق میں کچھ مفید نہ ہوتا۔‘‘ (طبری ص ۲۷۶۸ بحوالہ الفاروق ص ۲۶۶)
حضرت عمرؓ کا استخلاف
حضرت ابو بکرؓ کو اگرچہ مدتوں کے تجربے سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ خلافت کا بارِ گراں حضرت عمرؓ کے سوا اور کسی سے اٹھ نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ نے حضرت عمرؓ کو نامزد کر دینے کا عزم کر لیا۔ اس نامزدگی سے متعلق آپ اکابر صحابہؓ کی رائے کا بھی اندازہ کرنا چاہتے تھے۔ ہم اس سلسلہ میں طبری جلد ۳ ص ۴۲۸ تا ص ۴۳۰ سے چیدہ چیدہ اقتباس پیش کر رہے ہیں:
$11.        وعقد ابو بکر فی مرضۃ التی تُوَفِّیَ فیھا العمر بن الخطاب عقد الخلافۃ من بعدہٖ۔ وذکر انہ لما اراد العقد لہ دعا عبد الرحمٰن بن عوف فیما ذکر ابن سعد، عن الواقدی۔۔۔۔۔ قال لما نزل بابی بکر رحمہ اللّٰہ الوفاۃ فدعا عبد الرحمٰن بن عوف، قال: اخبرنی عن عمر فقال: یا خلیفۃ رسول اللّٰہ! ھو واللّٰہ افضل من رَایِکَ فیہ من رجل، ولٰکن فیہ غلظۃ۔
فقال ابو بکر: ذٰلِکَ لانہ یرانی رقیقا۔ ولو افضی الامر الیہ لترک کثیرا مما ھو علیہ۔
اور حضرت ابو بکرؓ نے اپنی مرض الموت میں اپنے بعد کے لئے حضرت عمر بن الخطاب کو خلیفہ مقرر فرمایا۔
کہا گیا ہے کہ جب انہوں نے خلیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کر لیا تو حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کو بلایا جیسا کہ ابن سعد نے، اس نے واقدی سے...... ذکر کیا ہے کہ جب ابو بکرؓ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ نے عبد الرحمان بن عوف کو بلایا اور کہا۔ عمرؓ کے متعلق کیا خیال ہے؟‘‘ حضرت عبد الرحمانؓ نے کہا۔ اے خلیفہ رسولؐ! حضرت عمرؓ آپ کی رائے نے بھی زیادہ بہتر ہیں۔ لیکن مزاج میں سختی ہے۔
حضرت ابو بکرؓ نے کہا۔ ’’وہ اس لئے تھی کہ میں نرم تھا۔ جب خلافت کا بوجھ سر پر پڑے گا تو سب سختیاں دور ہو جائیں گی۔
$12.ثم دعا عثمان بن عفان، قال: یا ابا عَبْدُ اللّٰہِ اخبرنی عن عمر۔ قال: ’’انت اَخْبَرُ بہٖ۔ فقال ابو بکر: علّی ذلک یا ابا عبد الله! قال: اللھم علمی به ان سویرتہٗ خیرٌ من علانیته وان لیس فینا مثله[7]۔ قال ابو بکر رحمه الله: رحمک الله یا ابا عبد الله، لا تذکر مما ذکرتُ لک شیئاً۔
پھر حضرت عثمان بن عفّانؓ کو بلایا اور کہا ’’اے ابو عبد اللہ! حضرت عمرؓ کے متعلق کیا رائے ہے؟ حضرت عثمانؓ نے فرمایا۔ آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں۔‘‘ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: اے ابو عبد اللہ! بات واضح کیجیے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا: میرے علم کے مطابق ان کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور ہم لوگوں میں ان کا کوئی جواب نہیں۔
حضرت ابو بکرؓ نے کہا۔ ’’اے ابو عبد اللہ! آپ پر رحم کرے۔ دوسرے لوگوں سے اس بات کا تذکرہ مت کرنا۔
$13.      جب اس بات کے چرچے ہوئے کہ حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ کو خلیفہ کرنا چاہتے ہیں تو بعضوں کو تردّد ہوا۔ چنانچہ حضرت طلحہؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے جا کر کہا کہ آپ کے موجود ہوتے عمر کا ہم لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ تھا؟ اب وہ خلیفہ ہوں گے تو خدا جانے کیا کریں گے۔ اب آپ خدا کے ہاں جاتے ہیں یہ سوچ لیجیے کہ خدا کو کیا جواب دیجیے گا؟ حضرت ابو بکرؓ نے کہا۔ میں خدا سے کہوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر اس شخص کو افسر مقرر کیا ہے جو تیرے بندوں میں سب سے اچھا تھا۔ (الفاروق۔ شبلی نعمانی)
$14عن محمد بن ابراھیم بن الحارث۔ قال۔ دعا ابو بکرٍ عثمان خالیا فقال اُکْتُب۔
بِسم الله الرحمن الرحیم، ھذا ما عھد ابو بکر بن ابی تحانة الی المسلمین۔ اما بعد قال: ثم اُغْمِیْ علیه، فذھب عنہ فکتب عثمان: اما بعد فانی قد استخلف علیکم عمر بن الخطاب، ولم آلُکم خیرًا منه، ثم افاق ابو بکر فقال اِقْرًا عَلَیَّ۔ فقرا علیه، فکبّر ابو بکر۔‘‘
محمد بن ابراہیم حارث کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عثمانؓ کو تنہائی میں بلایا اور فرمایا: لکھو!
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وہ عہد نامہ ہے جو ابو بکر بن ابو قحافہ نے مسلمانوں کی طرف سے طے کیا۔ اما بعد۔ راوی کہتا ہے کہ پھر حضرت ابو بکرؓ کو غش آگیا۔ تو حضرت عثمانؓ نے یہ دیکھ کر لکھ دیا: اما بعد! بے شک میں نے تم پر عمر بن الخطاب کو خلیفہ بنانا ہے اور تمہاری بھلائی میں کوئی دقیقہ  فروگزاشت نہیں کیا۔‘‘ پھر حضرت ابو بکرؓ کو افاقہ ہوا تو کہنے لگے۔‘‘ مجھے پڑھ کر سناؤ کیا لکھا ہے؟ چنانچہ ان کو پڑھ کر سنایا گیا تو بے ساختہ اللہ اکبر پکار اُٹھے۔
$15.عن ابی السفر۔ قال: اَشْرَفَ ابو بکر علی الناس من کنیفه واسماء بنت عمیس مُمْسِکَته، مرشومته الیدین، وھو یقول: ترضون بمن استخلف علیکم فانی والله ما الوت بن جھد الرای ولاولیت ذا قرابة وانی قد استخلفت عمر بن الخطاب، فاسمعوا به واطیعوا۔ فقالوا سمعنا واطعنا۔
’’ابو السفر کہتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ اپنے بالا خانے پر چڑھ کر لوگوں سے متوجہ ہوئے جبکہ اسماء بنت عمیس انہیں تھامے ہوئے تھیں جس کے دونوں ہاتھ گودے ہوئے تھے اور حضرت ابو بکرؓ کہتے تھے۔
جس شخص کو میں نے خلیفہ بنایا ہے کیا تم اس سے راضی ہو۔ خدا کی قسم میں نے رائے قائم کرنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور اپنے کسی ر شتہ دار کو نہیں بلکہ عمرؓ بن الخطاب کو مقرر کیا ہے۔ لہٰذا تم اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ اس پر لوگوں نے کہا: ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔‘‘
$16.عن قیس، قال رایت عمر بن الخطاب وھو یجلس والناس مَعَه وبیده جریدة، وھو یقول ایھا الناس واسمعوا واطیعوا قول خلیفة رسول الله ﷺ انه یقول ’’انی لم آلُکمْ نصْحًا۔ قال: ومنه مولی لابی بکر یقال له شدید۔ معه الصحیفة التی فیھا استخلاف عمر۔
قیس کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب کو دیکھا جو کہ لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک ورق تھا اور وہ کہتے تھے۔ اے لوگو! خلیفہ رسول اللہ (حضرت ابو بکرؓ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں نے تمہاری خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ راوی کہتا ہے: کہ حضرت عمرؓ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ کے آزاد کردہ غلام شدید نامی تھے۔ اس غلام کے پاس وہ ورق تھا جس میں حضرت عمرؓ کی نامزدگی لکھی ہوئی تھی۔
$17.اور حافظ ابن کثیر کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ ہی حضرت ابو بکرؓ کی مرض الموت کے دوران (اور اس کے علاوہ بھی) جماعت کی امامت کراتے تھے۔ جس طرح حضرت ابو بکرؓ حضور اکرم ﷺ کی غیر موجودگی میں یہ فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ گویا حضرت ابو بکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ کی خلافت کا یہ واضح اشارہ تھا۔ استخلاف کے متعلق ابن کثیر کی یہ نہایت مختصر روایت اس طرح ہے:
وکان عمر ابن الخطاب نصلی عنه فیھا بالمسلمین وفی اثناء ھذا المرض فکتبه، بالامرِ من بعدہ الی عمر ابن الخطاب، وکان الذی کتب العھد عثمان بن عفنا، قُرِیَٔ علی المسلمین فاقرؤا به واسمعوا له واطاعوہ (البدایة والنھایة ج ۵ ص ۱۱۸)
اور حضرت ابو بکرؓ کی جگہ حضرت عمرؓ نماز پڑھایا کرتے تھے اور اس مرض کے دوران بھی۔ سو حضرت ابو بکرؓ نے اپنے بعد عمر بن خطاب کے لئے امر خلافت لکھا اور جس شخص نے یہ عہد لکھا وہ عثمان بن عفانؓ تھے۔ یہ عہد مسلمانوں پر پڑھا گیا۔ جب پڑھا گیا تو لوگوں نے سنا اور اطاعت کی۔ [1]  او قال قائل انا اولٰی والی بات پوری ہوئی۔
[2]  شبلی نعمانی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا یہ کہنا ازراہ مصلحت تھا۔ مدینہ میں اس وقت منافقین کی تعداد کافی تھی اور آپ اس خبر کی فوری تشہیر نہیں چاہتے تھے لیکن مذکورہ حدیث کے مطالعہ سے یہ خیال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ (بخاری۔ باب الاستخلاف)
[3]  اَوْ یَتَمَن مُتَمَنٍّ والی بات پوری ہو گئی۔ (مؤلف)
[4]  فتح الباری ج ۷ ص ۲۳ (بحوالہ الفاروق۔ شبل ص ۱۱۳-۱۱۴)
[5]  معلوم ہوا کہ انصار بھی سارے حضرت سعد بن عبادہ کے تقررِ خلافت پر راضی یا متفق نہ تھے۔
[6]  بحوالہ الفاروق۔ شبلی نعمانی۔ خلافت ابو بکر۔
[7]  ایک روایت کے مطابق آپ نے حضرت علیؓ کو بھی بلا کر پوچھا تو ان کا جواب بھی بعینہٖ حضرت عثمانؓ کے جواب کے مطابق تھا۔