ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
1981
انور طاہر
سلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔ جس کے نتیجے میں دورِ حاضر کے مسلمان اسلام کو دین کامل قرار دینے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ان تصورات پر کامل یقین کو بھی جزوِ ایمان سمجھ بیٹھے ہیں، جن پر ایمان لانے کے بعد اسلام کی اساس (توحید و رسالت) کم از کم عمل کی جان نہیں بنتی۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے: 
$11.      اسلام ہمارا دین ہے۔ 
$12.      سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ 
$13.      جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ 
$14.      طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ 
عوام میں دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ نعرہ خاصا مقبول ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نعرہ کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور ہر ایک جزو دوسرے جزو کو حاصل قرار دیتا ہے۔ 
اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے لہٰذا اسے سیاست اور معیشت کے لئے دوسرے نظاموں سے کچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ہمارا دین فی الواقعہ سوشلزم  اور مغربی جمہوریت کا محتاج ہے تو پھر ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین نامکمل ہے۔ 
پھر جس طرح اسلام ایک دین یعنی مکمل ضابطۂ حیات ہے اسی طرح سوشلزم کا دائرہ بھی معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دنیاوی عقائد اور سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گویا سوشلزم بھی بذاتِ خود ایک دین ہے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر کی بنیاد خدا کی حاکمیت اور آخرت میں اعمال کے جزا و سزا کے عقیدہ پر اٹھتی ہے۔ جب کہ ثانی الذکر ان عقائد کا یکسر منکر ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ملتی۔ مصلحتِ وقت اور حالات سے زیادہ سے فائدہ اُٹھانا ہی ان کے نزدیک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو جماعت اسلامی نظامِ خلافت کا دعویٰ لے کر اُٹھتی ہے وہ خود کن صفات سے متصف ہونی چاہئے؟ اس کی وضاحت سورۂ شوریٰ کی مندرجہ ذیل آیات میں ملتی ہے جو مکی دور کے آخر میں نازل ہوئیں۔ ارشاد باری ہے: 
﴿وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِرونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَزَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِرونَ ﴿٣٩﴾...الشورى
اور جو خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو: 
$11.      ایمان لائے (یعنی اللہ، اس کے رسول اور یومِ حساب پر) 
$12.      اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 
$13.      بڑے گناہوں اور بیحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں۔ 
$14.      جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں (آپس میں ایک دوسرے کو) 
$15.      اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔ 
$16.      نماز قائم کرتے ہیں۔ 
$17.      اپنے معاملات باہمی مشورہ سے[1] طے کرتے ہیں (جس میں امیر کا انتخاب بھی شامل ہے) 
$18.      جو مال ہم نے انہیں دیا اس میں خرچ کرتے ہیں (زکوٰۃ اور اس کے علاوہ بھی) 
$19.      جب ان پر ظلم و تعدّی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں (اغیار سے)
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1:امامت قریش میں ہو گی
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے[1]۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ’’الامراء من قریش‘‘ (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ 
$11.الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لِمُسْلِمِھم وکافرھم تبع کافرھم (مسلم، کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافة فی قریش) 
’’موجودہ صورت حال یہ ہے کہ لوگ قبیلہ قریش ہی کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جو مسلمان ہیں وہ مسلمان قریش کی اور جو کافر ہیں وہ کافر قریش کی۔‘‘ 
گویا امر خلافت کو فیصلہ قریش سے منسوب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی دوسرے فیصلہ کی اطاعت گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔ 
آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد خلفا قبیلہ قریش سے ہوں گے اور ۱۲ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا اور یہ سب قبیلہ قریش سے ہوں گے۔ 
$12.عن جابر بن سمرة یقول سمعت النبی ﷺ یقول: لا یزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا۔ فقلت لابی ما قال؟ فقال کلھم من قریش (مسلم، ایضا) (بخاری کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔ 
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔عن محمد بن عبد الله بن سوار بن نویرہ، و طلحة بن الاعلم، و ابو حارثه وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینة بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنه خمسة ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونه۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیة، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرة بعد مرة۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونه فارسلوا الیه حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم ویطلب المصریون طلحة فاذا لقیھم باعَدَھم وتیرا من مقالتھم مرة بعد مرة، وکانوا مجتمعین علٰی قتل عثمان، مختلفین فیمن یَتوون، فلما لم یجدوا مما لثا ولا مجیبًا جمعھم الشر علی اَولِ من اجابھم وقالوا: لا نُولّی احدا من ھؤلاء الثلاثۃة فبعثوا الی سعد بن ابی وقاص وقالوا انک من اھل الشورٰی فرایُنافیک مجتمع، فَاقَدِم نبایعک۔ فبعث الیھم: اِنِّی واین عمر فرضا منھا فلا حاجة لی فیھا۔ ثم انھم اتوا ابن عمر عبد الله، فقالوا: انت ابن عمر فقم لھذا الامر: فقال: ان ھذا الامر انتقاماً والله لا اتعرض به فالتمسوا غیری۔‘‘ فَبَقُوا حَیَارٰی لا یدرون ما یستون والامر امرھم (ص ۲۳۴) 
محمد بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن سوار بن نویرہ، طلحہ بن الاعلم، ابو حارثہ اور ابو عثمان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں شہادتِ عثمان کے بعد پانچ دن تک غافقی بن حرب امارت کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ یہ لوگ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو امارت قبول کرے لیکن ناکام رہے۔ مصری لوگ حضرت علیؓ کے پاس آئے تو وہ ان سے غائب ہو گئے اور مدینہ کی ایک فصیل میں پناہ لی۔ جب یہ ان سے ملے تو حضرت علیؓ نے ان سے اور ان کے مطالبہ سے بار بار بیزاری کا اظہار کیا۔ اور کوفی لوگ حضرت زبیر کو امام بنانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے حضرت زبیر کو کہیں نہ پایا۔ تو ان کی تلاش کے لئے آدمی بھیجے۔ حضرت زبیرؓ نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اور بصری لوگ حضرت طلحہؓ کو امیر بنانا چاہتے تھے۔ جب یہ ان سے ملے تو انہوں نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ یہ شر پسند حضرت عثمان کو شہید کر دینے پر متفق تھے مگر نئے امام کے تقرر میں اختلاف رکھتے تھے۔ پھر جب ان لوگوں کو کوئی بھی ایسا آدمی نہ ملا جو ان کے مطالبہ کو قبول کرتا یا جھوٹے وعدہ سے...
  • جون
1980
عبدالرحمن کیلانی
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ’’میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا‘‘ (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴) 
2. ثم قال اِن مِتُّ فاقتلوہ وان شتُ فانا اعلم کیف اصنع به۔‘‘ فقال جندب بن عبد الله ’’یا امیر المومنین! ان مت نبایع الحسن؟‘‘ فقال ’’لا امرکم ولا انھا کم، انتم اَبْصَدُ۔‘‘ (البدایہ والنہایہ ص ۳۲۷، ج۷) 
پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں مر گیا تو اس (قاتل) کو قتل کر دینا اور اگر میں زندہ رہا تو میں جانوں میرا کام۔‘‘ حضرت جندب بن عبد اللہ نے کہا۔ ’’اے امیر المؤمنین! اگر آپ فوت ہو جائیں تو ہم حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ فرمایا: ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ تم خود بہتر سمجھتے ہو۔‘‘ 
3. بُوْیَعَ للحسن بن علی علیه السلام بالخلافة وقیل ان اوّل من بایعه قیس بن سعد قال له ابسط یدک ابا یعک علٰی کتاب الله عزوجل وسنة نبیه (طبری ج ۵ ص ۱۵۸) 
حضرت حسنؓ بن علیؓ کی خلافت پر بیعت ہوئی اور کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے بیعت کی وہ قیس بن سعد تھا۔ اس نے کہا اپنا ہاتھ اُٹھائیے۔ میں آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر بیعت کرتا ہوں۔‘‘
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
مشورہ اور اس کے متعلقات

قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے: 
﴿وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم ... ﴿٣٨﴾...الشورى
اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔ 
اور سورۂ آل عمران میں (جو جنگ اُحد میں نازل ہوئی تھی) حضور اکرم  کو یہ حکم دیا گیا کہ: 
﴿وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ ... ﴿١٥٩﴾...آل عمران
اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو اور جب کسی کام کا عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔ 
حضور اکرم ﷺ مکّی دور سے ہی مسلمانوں سے اکثر مشورہ کیا کرتے تھے۔ جنگ اُحد کے بعد دوبارہ اس لئے تاکید فرمائی گئی کہ جنگِ احد کے دوران مسلمانوں سے چند غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی غلطیوں کو معاف کیجیے اور دل میں کوئی بات نہ لائیے بلکہ ان سے حسب دستور مشورہ کا عمل جاری رکھیے اور مشورہ کی اہمیت تو اسی بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس آیت میں مسلمانوں سے مشورہ کی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے: 
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔ 
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں: 
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔ 
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔ 
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔