عیدالفطر کے روز نماز فجر کے بعد صبح سویرے میں قبرستان کی طرف گیا۔ اس قبرستان میں ایک نہیں میرے کئی عزیز  کتنے احباب منوں مٹی کے نیچے محو خواب ہیں۔ میں چل رہا تھا او رمیرے ہمرکاب ایک جنازہ بھی تھا۔ یہ فکر کا جنازہ تھا جسے فکر کا ندھا دیئے ہوئے تھا۔ یہ دل کا جنازہ تھا جو دل کے ہمراہ جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جو گریہ کناں تھی اور ایک ایسی کیفیت تھی جس پر آنسو بہائے جارہے تھے۔
میرا معمول رہا ہے کہ میں جب بھی ان راہوں سے ہوتا ہوا اس جگہ آتا ہوں تو میرے ساتھ میری اشکبار آنکھیں ساون کی گھٹائیں لے ہوئے ہوتی ہیں اور دل ہجوم غم و الم کے جلو میں یہاں فروکش ہوتا ہے۔میں قبرستان اس لیے گیا تھا کہ اپنے عزیز وں، دوستوں سے ملاقات کروں، دنیا کے تفکرات سےالگ تھلگ  ان کی صحبت میں کچھ لمحات گزاروں دنیا و آخرت او رحیات و ممات کے فلسفے پرکچھ ان سے تبادلہ خیال کروں ! اس شہر خاموشاں کے باسیوں سے کچھ ان کے حالات معلوم کروں ۔ آہ۔ وہاں وہ تو مجھے وہاں نہ ملے مگر ان کی لاشوں پر مٹی کے ڈھیر نظر آئے           ؎
یہ ڈھیر خاک کا اور اس میں لاش انساں کی ...... مقام فکر ہے کتنا مہیب منظر ہے    (عاجز)
 اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ وہ قبرستان کے ان گڑھوں میں پڑے ہوئے یہاں آنے والوں سے اس طرح ہم کلام ہیں کہ  ہم نے دنیائے دوں کی چیز سے پیار کیا بوقت مرگ اسی نے ہم سے  راہ فرار اختیار کی او راس موقع پر کسی نے بھی ہم سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار نہین کیا۔ ہمارے سینکڑوں وفادار، ہزاروں جاں نثار فرشتہ اجل کے روبرو بے بس و لاچار تھے او رہمارا کوئی بھی پیارا ہماری قبر میں ہمارے ساتھ داخل ہوکر ہمارا مونس و غمخوار نہ ہوا۔              ؎
ہم کو احباب وہاں چھوڑ گئے ہیں کہ جہاں ..... اپنے سائے پہ بھی  دشمن کا گماں ہوتا ہے     (عاجز)
محبت کے بڑے بڑے دعویدار ہمیں لحد میں رکھ کر اس طرح ہم سے جدا ہوئے کہ آج تک ان کی شکل نہیں دیکھی۔    ؎
موت تک ساتھ ہے  بس دہر میں ان کا عاجز ....... زندگی میں جو ترے یار چلے آتے ہیں
کسی نے ہم سے پھر نہیں پوچھا کہ ہم کس حال میں ہیں۔ ہمارے پسماندگان میں سے ہمارے عزیز ہماری کمائی ہوئی دولت سے خود مزے اڑا رہے ہیں او رہم سے یہ سلوک کہ ہمارے ہی ترکہ سے ہمارے لیے کوئی صدقہ جاریہ بھی نہیں کیا او رہمیں یہاں تک بھلا دیا گیا کہ اب ہماری قبر پر آکر کوئی سلام و دعا کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا            ؎
فقط تیرا لحد تک ساتھ دیں گے   ...... یہ دشمن دوست اپنے اور پرائے                 (عاجز)
خاک کے ان ڈھیروں پر میری نظر جمی ہوئی تھی، دل دھڑک رہا تھا،آنکھیں اشکبار ، ہاتھ کانپ رہے تھے او رپاؤں ڈگمگا رہے تھے۔ میں اسی حالت میں افتاں و خیزاں ایک شکستہ قبر کے سرہانے کھڑا ہوگیا ۔ اس پر ایک لوح کندہ تھی جس پریہ شعر لکھا ہوا تھا۔         ؎
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے ..... یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
میں یہ شعر پڑھ کر چونک گیا اور شاعر نے جس حقیقت کا جس انداز سے اظہار کیاہے۔کچھ دیر ک لیے اس میں ڈوب گیا۔ اس موقع پر مجھے اپنے چند شعر یاد آئے جن میں سے تین شعر درج ذیل ہیں               ؎
کمال فکر و دانش ہے زوال رغبت دنیا ..... زوال فکر و دانش ہے کمال قربت دنیا
محبت کر نہ دنیا سے کہ اس کو چھوڑ جانا ہے ..... رولائے گا دم رحلت مال الفت دنیا
پہنچنا ہے تجھے منزل پہ منزل دور ہے عاجز ..... سنبھل ، اُٹھ، جاگ اے محو جمال جنت دنیا
میری آنکھوں نے بارہا یہ دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اقارب و احباب کی قبور کی  الواح پر اس قسم کے نصیحت آمیز اشعار کندہ کرائے۔ ان کی اپنی دینی حالت پہلے سے بھی بدتر ہوگئی ۔باپ دادا کی چھوڑی ہوئی بلا محنت ہاتھ آئی ہوئی دولت  بے دریغ راہ عیش و عشرت میں صرف ہورہی ہے اور قبر و قیامت میں حساب و کتاب اور وہاں کے سوال و جواب سے یکسر بےنیازانہ زندگی گزر رہی ہے اور رقص و سرود اور جام مئے گلفام غذائے روح بنی ہوئی ہے      ؎
ہاتھ کچھ  آیا نہ ان کو روسیاہی کے سوا ..... جن کا محور رقص و موسیقی و مے خانہ رہا    (عاجز)
قبروں پر اس قسم کے اشعار تحریرکرانا بھی ایک فیشن، ایک رسم اور کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ جس طرح اہل خانہ سےمیت کی تعزیت بھی ایک رواج کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ تعزیت کا اصل مقصد میت کے لواحقین کو صبر کی تلقین کرنا او رمیت کی مغفرت کے لیے دعائیہ کلمات ادا کرنا اور اپنی موت یاد کرنا ہے لیکن یہ چیز مفقود ہوتی جارہی ہے ۔ اس کے خلاف وہاں تین روز تمام دن اخبار بینی، حقہ کشی، اور ادھر ادھر کی  کاروباری فضول باتیں اور ایک د وسرے کی غیبتیں ہوتی ہیں۔ یہ میت کی تعزیت ہے؟
 انا للہ۔ ایسے عبرتناک موقعہ اور مقام پربھی موت ، قبر، قیامت کا نہ ذکر او رنہ فکر ؟ فانی مال و منال کی حرص اور دنیا پرستی کسی وقت بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔کیا مقصد زندگی یہی ہے؟ اسی لیے ہر موقع پر اس کا اہتمام ضروری ہے؟ یاد رہے حقیقت اس کے خلاف ہے۔کامل للمبرد میں عجیب فقرہ درج ہے۔
العجب تعزی الاموات الاموت الی الاموات۔ ’’تعجب ہے مردے   مردوں کی تعزیت مردوں سے کررہے ہیں۔‘‘ یعنی مردے کی تعزیت کرن ےوالے بھی مردے ہیں اس لیے کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آنے والا ہے او رمیت کے جو رشتہ دار ہیں وہ بھی  عنقریب مرنے والے ہیں لہٰذا وہ بھی مردے ہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی پہلے کوئی پیچھے۔کچھ مردے قبروں کے اندر ہیں اور کچھ باہر۔ انجام سب کا باری باری یہی ہے۔
پھر میں ایک خوبصورت پختہ مگر زمین میں دھنسی ہوئی قبر کے پاس جاکھڑا ہوا اور سوچنے لگا کہ مرنے والے کے لواحقین نے کتنا روپیہ صرف کرکے کس ذوق و شوق اور محبت سے یہ قبر تعمیر کراوی۔ مگر آج یہ ٹوٹ پھوٹ کر زمین میں دھنسی پڑی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پرسان حال بھی  کوئی زندہ نہ رہا۔ یا پھر جو لوگ زندہ ہیں اب انہیں اس کا احساس بھی نہیں رہا۔ میت کے لیے صدقہ و خیرات اور دعا وغیرہ کا اہتمام چند روز تک رہتا ہے۔ جب تک زخم تازہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد پس ماندگان اہل دنیا کے دستور کے مطابق اپنے اپنے دھندوں میں مشغول ہوجاتے ہیں اور آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب ان کی اپنی باری آتی ہے             ؎
بتاؤں کس طرح لُٹ گیا میں مری ذرا آنکھ لگ گئی تھی
ہوا جو بیدار خواب س میں اجل مرے سامنے کھڑی تھی 
(عاجز)
او رملک الموت (فرشتہ اجل ) اچانک سامنے آتا ہے او راپنے خدا کا پیغام دیتا ہے کہ دنیا سے تیرا آب و دوانہ ختم ہوچکا ہے۔ اب عالم آخرت کے سفر اور میدان قیامت میں اس دنیا سے کیے ہوئے جملہ اعمال و افعال کی جواب دہی کے لیے تیار ہوجا۔ میں اس قبرکے پاس کھڑا ہوا ایک زمانے سے دوسرے زمانے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ایک دنیا سے دوسری دنیا کی طرف نگاہین تھیں۔ یاد ماضی نے قدیم خوشیوں کے انبار لگا دیئے۔ تاکہ انہیں غموں کا سامان بنایا جاسکے۔ میں اس قبر کے قریب کھڑا ہوا موت و زیست کے موضوع پر غوروفکر کررہا تھا۔ یکایک میرے دل میں یہ شعر نازل ہوا   ؎
زندگی بھر سندگی سے تیرا یارانہ رہا .... او رکیا ہے زندگی تو اس سے  بے گانہ رہا    (عاجز)
موت ہر آن انسان کے تعاقب میں ہے جیسے گرتی ہوئی دیوار کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب دھڑام  سے زمین پر آرہے۔ ایسے ہی انسان کو موت کے بارے میں معلوم نہین کہ کب اسے آکر دبوچ لے۔ تعجب ہے کہ لوگ یہاں لڑتے جھگڑتے ہیں یہ چیز میری ہے یہ تیری ہے لیکن جب موت آتی ہے تو سب کچھ یہیں دھرا رہ جاتا ہے او رمرنے والا کوئی چیز اپنے ہمراہ نہیں لے جاتا۔ حضرت عبداللہ بن  شخیرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز سورہ تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے اس موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ:
یقول ابن آدم  مالی مالی وھل لک یا بن ادم من مالک الا ما اکلت فافنیت او بست فابلیت او تصدقت فامضیت  (مسلم، نسائی)
’’آدم ﷤ کا بیٹا کہتا ہے۔میرا مال ، میرا مال، تیرے مال  میں سے تو تیرا وہی ہے جو تو نے کھا لیا اور ختم کردیا یا تو نے پہن لیا او رپھاڑ دیا یا پھر (راہ خدا میں) صدقہ کردیا (اور اسے) آگے بھیج دیا۔‘‘
موت آکے ذرا پردہ انجام اٹھا دے ..... ہوجائے گی پھر تیری ہر اک چیز پرائی     (عاجز)
آنے والا ہر دن زندگی کو کم  کررہا ہے او رموت کو قریب ۔ مثلاً جس شخص کی عمر بیس سال کی ہو جاتی ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کی زندگی میں سے بیس سال کم ہوگئے۔ قبر ایک ایسا نشان ہے جو انسان کو اس کی عمر کے بارے میں انتہا و انقطاع کی یاد دلا رہا ہے اور وہ دنیا کے اس گھر ک ینفی کررہا ہے۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:
الدنیا دار من لا دارله ومال من لامال له ولھا یجمع من لا عقدله (الترغیب ج4 ص178)
’’دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں او ریہ مال اس کا مال ہے جس کا پھر کوئی مال نہیں او راس مال کو وہی جمع کرتا ہے جسے عقل نہیں ہے۔‘‘
یعنی اس فانی دنیا کو اپنا مستقل اور دائمی گھر سمجھتے ہوئے وہی یہاں عیش و عشرت کی زندگی کا اہتمام کرتا ہے جس کے لیے پھر حقیقی آرام دہ جنت کا گھر نہیں ہے اور دنیا کے مال و منال کو وہی جمع کرتا ہے اور اس سے وہی محبت کرتا ہے جسے پھر عقبیٰ میں سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا اور ایسی فاش غلطی وہی کرتا ہے جو عقل و شعور سے کورا ہے۔ قبر صداقت اور راستبازی کاکلمہ ہے جو اپنے گردوپیش کی تکذیب کرتا ہے۔لوگ جب غرور، فکر، باطل پرستی کے سبب حقیقت کو بھول جاتے ہیں تو قبر ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو اس حقیقت کو یاد دلاتی رہتی ہے۔ جیسا کہ دانائے کل فخر   کائنات سید المرسل ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہ  صلی اللہ علیه  وآله وسلم انی نھیتکم عن زیارة القبور فزودوھا فان فیھا عبرة (الترعیب بحواله احمد ج4 ص357)
’’حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت  ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (ابتداء) قبروں کی زیارت سے منع کردیاتھا لیکن اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کہ اس میں عبرت ہے۔‘‘
وہ لوگ جنہیں عمر رفتہ کا احساس نہیں اور وہ دنیا کے رذائل و خصائص ہی سے اپنے دامن بھر  رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیٹ ہی کو شریعت سمجھ رکھا ہے او راپنی قیمتی سندگی اسی کے تابع کررکھی ہے او ران کی روحانیت پر حیوانیت کا غلبہ ہے۔ قبر انہیں احساس دلاتی ہے کہ دیکھو ! تمہاری اتنی عمر گزر گئی خواب غفلت سےبیدار ہو کر مقصد حیات کو پہچانو، قبر کی زیارت گویا زندگی کی قدروقیمت کا شعور پیدا کرتی ہے۔ قبر ببانگ دہل اعلان کررہی ہے ۔ لوگو! جلدی کرو، جلدی کرو، وقت جارہا ہے۔ تیزی سےبھاگ رہا ہے ۔ عمر رواں کے ان لمحات کو غنیمت جانو۔ ان لمحات میں آخرت کے لیے تیاری کرلو۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ!
خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم فقال یاایھا الناس توبوا الی اللہ قبل ان تموتوا و بادروا بالاعمال الصالحة قبل ان تشغلوا و صلوا الذی بینکم و بین ربکم بکترة ذکرکم له و کثرة الصدقة فی السرو العلانیة ترزقوا و تنصروا (الترعیب  بروایت ابن ماجه ج4)
’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا۔ فرمایا: کہ اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرو اس سے قبل کہ تمہیں موت آگھیرے اور اعمال صالحہ کے لیے دوڑو جلدی کرو۔ اس سے پہلے تمہیں مصروفیت پیش آجائے۔ اپنے او راپنے پروردگار کے درمیان اس کے کثرت ذکر کے ساتھ تعلق پیدا کرلو۔ او رکھلے طور پر اور خفیہ صدقہ کے ساتھ (اس کی رضا حاصل کرلو) تاکہ تمہیں اس کی عطا اور بخشش سے نوازا جائے اور تمہاری (مصائب میں) مدد کی جائے۔‘‘
اس آخرت کی فکر کرو جہاں نہ یہ اوقات حیات ہاتھ آئیں گے او رنہ تلافی مافات کے لیے مہلت ملے  گی وہ جہان، وہ عالم آخرت دارالعمل نہیں بلکہ دارالجزاء ہے وہاں دو مقامات میں سے ہر شخص کے لیے ایک مقام ہوگا۔ جنت یا جہنم       ؎
 قرار کیسے ہو دل کو جب اس کا علم نہیں..... کہ میرے واسطے جنت ہے یا جہنم ہے       (عاجز)
اہل جنت سے جنت کی نعمتیں کبھی چھینی نہیں جائیں گی او رنہ کبھی انہیں جنت سے نکالا جائے گا۔ انہیں جنت کا وارث بنا دیا جائے گا۔
﴿الَّذينَ يَرِثونَ الفِردَوسَ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿١١﴾...المؤمنون
’’وہ لوگ فردوس بریں کے وارث بنا دیئے جائیں گے او رہمیشہ اس میں رہیں گے۔‘‘
﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ كانَت لَهُم جَنّـٰتُ الفِردَوسِ نُزُلًا ﴿١٠٧﴾ خـٰلِدينَ فيها لا يَبغونَ عَنها حِوَلًا ﴿١٠٨﴾...الكهف
’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہون گے ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے او روہاں سے کبھی کسی جگہ جانے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔‘‘
ان کے مقابلہ میں اہل جہنم کا یہ حال ہوگا:
﴿لا يُخَفَّفُ عَنهُمُ العَذابُ وَلا هُم يُنظَرونَ ﴿١٦٢﴾...البقرة
’’نہ تو ان پر سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔‘‘
﴿وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ عَلَيها مَلـٰئِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعصونَ اللَّـهَ ما أَمَرَهُم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ ﴿٦﴾...التحريم
’’اس (جہنم) کا  ایندھن انسان او رپتھر ہیں اور اس پر تند خُو بڑے مضبوط فرشتے (مقرر) ہیں (انہیں) جو کچھ حکم دیا جاتا ہے فوراً بجا لاتے ہیں وہ اہل جہنم میں سے کسی پر ذرا بھی رحم و شفقت نہیں کرتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے بغیر توبہ و اصلاح احوال جو فوت ہوگیا او راس کی سزا میں جہنم واصل ہوا۔ ان کے بارے میں فرمان الہٰی ہے۔﴿وَما هُم بِخـٰرِجينَ مِنَ النّارِ ﴿١٦٧﴾...البقرة ’’اور وہ دوزخ میں سے کبھی بھی نہ نکلنے پائیں گے۔‘‘
اہل جہنم سے جہنم کا عذاب کسی لمحہ کم نہیں کیا جائے گا ۔ بلہ ہر آن اس میں شد   ت ہوتی جائے گی۔ اللھم احفظنا من الفتن والشرور۔
اس عمر کو غنیمت جانو! جو انسان جس حال میں بھی ہے اسے نعمت سمجھتا ہوا اس کی قدر کرے ایک وقت آئے گا کہ یہ بھی نہیں رہے گا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ۔ اغتنم خمسا قبل خمس شبابک قبل ھرمک و صحتک قبل سقمک و غناک قبل فقرک و فراغک قبل شغلک و حیاتک قبل موتک (الترغیب ج4 ص251)
’’پانچ (وقتوں) سے پہلے پانچ ( وقتوں) کو غنیمت جانو! بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور بیماری سے پہلے تندرسی کو اور فقیری سے پہلے امیری کو اور مشغولیت سے پہلے فراغت کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘
یعنی مذکورہ بالا حالات کے ظہور سے پہلے پہلے آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ساتھ تیاری کر لو کہیں ایسا نہ ہوکہ غفلت ہی میں یہ اوقات آپہنچیں اور تم حسرت و ندامت سے ہاتھ ملتے رہ جاؤ۔
گوہر سے گراں تر ہیں تری عمر کے لمحات .... ہشیار! کہ ہوجائیں نہ یہ نذر خرافات
کٹ جائے نہ غفلت ہی کے رستے میں یہ مہلت .... لب پر نہ ترے وقت اجل  ہو کہیں ہیہات
اگر ساری زندگی ہی اعمال صالحہ میں بسر کردی جائے۔عمر کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں گزارو تو حق یہ ہے کہ سندگی عطا کرنے والے حق تعالیٰ کا ہم ادنیٰ سے ادنیٰ حق بھی ادا نہیں کرسکتے۔ موت کا جب وقت آجاتا ہے تو پھر انسان عمر دراز کو بھی یون محسوس کرتا ہے گویا وہ دنیا میں ایک دن سے بھی کم مدت رہا ہے۔
قبر سے ندا آرہی ہے کہ لوگو! اپنے عیوب کی اصلاح کرلو۔ اگر تم اپنے آقا کی نافرمانی پر اسی طرح مصر رہے تو یاد رکھو آخر ایک دن تم نے میرے پاس آنا ہے۔ تم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ میں تمہاری خوب خبر لوں گا او رتمہیں اس طرح پکڑوں گا کہ میرے پکڑ سے تمہیں کوئی چھڑا نہیں سکے گا اور میرے اندر تمہیں ایسا سخت عذاب دیا جائے  گا کہ اگر جن او رانسان دیکھ لیں تو وہ زندہ نہ رہ سکیں۔ اب تو تمہارے پاس وقت ہے۔ اسے غفلت میں ضائع نہ کرو۔ اگر تم اب اپنے عیوب کی اصلاح نہ کرسکے تو یہ عیوب ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی چمٹے رہیں گے او رتم اسی حال میں قبر میں داخل ہوجاؤ گے۔ وہاں پھر سزا سے نہ بچ سکو گے۔ میں اس شکستہ قبر کے سرہانے کھڑا تھا او رمجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قبر کے اندر لیٹا ہوا انسان مجھ سے یوں مخاطب ہے۔ میرے حال سے عبرت حاصل کرو۔میرے واقعہ سے نصیحت پکڑو۔ میں ایک امیر کبیر آدمی تھا۔ میرے پاس کتنےکارخانے، کتنے بنگلے، سینکڑوں نوکر چاکر، ہر وقت اردگرد خادموں کا ہجوم، بے شمار احباب، دنیا کی ہرنعمت موجود ، ہمہ اقسام کے سامان عیش و عشرت کی بہتات، زندگی کا ہر لمحہ پرمسرت اور آنے والے ہر خطرہ سے لاپروا گزر رہا تھا کہ اسی غفلت و نشاط میں اچانک پیغام موت لے کر عزرائیل علیہ السلام آگئے۔ میں عالم نزع میں تھا او رمیری کوٹھیاں ، میرے کارخانے، میرا مال و منال ، اعزہ و اقارب، دوست و احباب ، نوکر چاکر اور متعدد حکیم و ڈاکٹر میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے مصروف تماشا تھے۔ میں حسرت بھری نگاہوں سے ہر چیز کی طرف دیکھ رہا تھا او رخیال کررہا تھا کہ ان میں سے تو میرے کوئی  چیز  بھی اس وقت کام نہیں آئی اور کوئی چیز  میرا ساتھ نہیں دے رہی، دنیا کی ہر چیز کا مجھ سے یوں دفعتاً منہ موڑنا او ران سے جدائی کا غم مجھے نڈھال کررہا تھا اور قبر و قیامت میں حساب زندگی کی فکر مجھے لرزہ براندام کررہی تھی۔ دنیا سے جانے کا آخری اور سفر آخرت کا پہلا دن تھا۔ راہ آخرت کے ہولناک مناظر ، تھرا دینے  والے مراحل سامنے تھے او رمیں محسوس کررہا تھا کہ یہ کٹھن سفر تو نے تنہا طے کرنا ہے۔ اب اس راہ  میں تیرا کوئی ساتھی ہے نہ مددگار۔ اس تصور سے کلیجہ منہ کو آرہا تھا او رمیں بری طرح تھر تھرا رہا تھا۔ آخر وہی ہوا جو ہونا تھا، جو ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے جام اجل پلا دیا گیا او رروح جسم سے علیحدہ کردی گئی۔اہل خاندان اور احباب نے نہلا دھلا کر کفن پہنا کر او رنماز جنازہ ادا کرکے مجھے منوں مٹی کے نیچے دفن کردیا۔ اب میں یہاں کس حال میں ہون، کسی کو خبر نہین، نہ ہی کوئی میری خبرپوچھتا ہے۔ اب میں ہوں او رمیرے اعمال، اس جگہ وہی میرے ساتھی ہیں او ربس             ؎
اتر کے قبر میں ہم پر یہ آشکار ہوا .... نشاط عیش جہاں خواب تھا فسانہ تھا    (عاجز)
قبرستان میں پھرتا پھراتا میں ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں میری نگاہوں کے سامنے ایک چھوٹی سی قبر تھی جو کہ یقیناً کسی ننھے بچے کی تھی، لیکن  اس قدر مرصع، اس درجہ مزین کہ میں کچھ دیر کے لیے ورطہ حیرت و استعجاب میں غرق ہوگیا او رمیرا خیال ہے جو بھی اس طرف سے گزرتا ہے اس کے قدم یہاں ضرور رک جاتے ہیں او روہ اس قبر کے منظر میں ضرور کچھ دیر کے لیے محو ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ قبر سنگ مرمر سے بھی اعلیٰ قسم کے پتھر سے تیار کی گئی ہے۔ اس کے ارد گرد تقریباً تین فٹ اونچی چار دیواری ہے او رچار ستونوں پر چھت ہے۔ستونوں اور ستونوں پر چھت کے اندر کے حصے  پر جس جانفشانی اور محنت سے معماروں نےاپنی  صنعت گری اور فن کاری کے کمالات کا مظاہرہ کیاہے وہ اہل نظر کے لیے دعوت نظارہ ہے۔ اس ننھے بچے کی قبر پر دل کھول کر بے دریغ دولت صرف کی گئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی اہل ثروت کے لخت جگر کی قبر ہے جو کہ اسے بہت پیار ا ہوگا۔ ہر ماں باپ کو اپنا ہر بچہ پیارا ہوتا ہے لیکن اس بچے کا باپ دولت مند ہوگا۔ لہٰذا اس نے اپنے بچے کی وفات کے بعد اس کی قبر پر پانی  کی طرح دولت بہا کر اپنی محبت اور اپنی دولت کی یوں نمائش کردی۔ اس لیے یہ کوئی انوکھی او رتعجب انگیز بات تو نہیں ہونی چاہیے۔ قبر کے سرہانے اونچی چھت تک نہایت خوبصورت منقش دیوار تھی او راس میں سنگ مرمر کی تکتی جڑی ہوئی تھی جس پر یہ شعر تحریرتھا                          ؎
پھول تو دو دن بہار  جانفزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
بے شک  نازو نعمت سے پالے ہوئے بچے کی وفات پر ماں باپ کو گہرا صدمہ ہوتا ہے او رپھر جن کا بچہ بھی ایک   ہی ہو او روہ بھی ایام پیری میں للہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہو ، جس سے ہزاروں امیدیں وابستہ ہوں۔ وہ اچانک لقمہ اجل بن جائے۔ ایسے حادثے سے ماں باپ پر جو گزرتی ہے اس کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے۔ لیکن قضاء و قدر کے سامنے  ہر انسان بے بس ہے۔ میرا دل اس بچے کی لوح قبر  پر لکھے ہوئے اس شعر کےمفہوم میں منہمک تھا اور آنکھیں قبر کی  ظاہری آرائش پر مرکوز تھیں او رمیں یہ سوچ رہا تھا کہ اس قدر دولت مند آدمی اپنے لخت جگر سے بے پناہ محبت کے باوجود اسے پنجہ موت سے نہ چھڑا سکا۔اس کی دولت یہاں کچھ کا م نہ آئی او راس واقعہ کے بعد خود اس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے ۔ ایک دن وہ بھی موت کا شکار ہوگا او راس کو بھی قبر میں اتارا جاوے گا او رایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس بچے کی یہ مرصع و مزین قبر منہدم ہوجاوے گی او راس کی مرمت کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا اور آخر پیوند زمین ہوکر اس کانشان تک بھی نہ رہے گا     ؎
گزر گئے ہیں کچھ ایسے بھی ہمنشیں جن کا ... کہیں مزار نہیں ہے کہیں نشان نہیں    (عاجز)
دل انہی خیالات میں مستغرق اور آنکھوں سے سیلاب اشک رواں تھا۔ کچھ دیر کے بعد لڑکھڑاتا ہوا میں وہاں سے آگے بڑھا۔ تو اب میرے سامنے ایک ایسا دلدوز، اتنا ہولناک ، اس درجہ کربناک منظر تھا کہ اس کا نقشہ صفحہ قرطاس پرنہیں کھینچا جاسکتا۔ اس دردناک نظارے کی کیفیت نوک قلم سے تحریر نہیں کی جاسکتی۔اس حسرتناک نظارے کی داستان الفاظ کے سانچے میں نہیں ڈھالی جاسکتی۔ یہ پہلو بہ پہلو میرے پیارے والدین کی قبریں ہیں۔ ان دو مٹی کے ڈھیروں کے نیچے میرے ماں باپ محو استراحت ہیں۔ یہ میرے محترم میرے شفیق والد کی قبر ہے جو ایک عالم دین او رحافظ قرآن تھے او رنہایت پرسوز لہجہ میں قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ نماز میں کلام اللہ پڑھتے ہوئے کود بھی رویا کرتے اور مقتدیوں کو بھی رُلایا کرتے او رقبر و قیامت کے خوفناک حالات سنا کر ہمیشہ ہمیں ڈرایا کرتے اور سفر آخرت کی تیاری کی تلقین اور دنیائے فانی کی محبت سے منع فرمایا کرتے او رزندگی بھر حق گوئی ان کا شعار رہا ۔ راہ تبلیغ میں آمدہ مصائب سے کبھی نہیں گھبرائے۔
اہل حق ہمت  و جرأت سے گزر جاتے ہیں...... مرحلہ آتا ہے جب بادیہ پیمائی کا     (عاجز)
اس سلسلے میں نہ کبھی کسی  کی خوشامد کی اور نہ کبھی کسی سے مرعوب ہوئے۔ موٹا جھوٹا پہننا اور روکھا سوکھا کھانا یہ ان کا اختیاری عمل رہا۔ اسی حال میں دنیا سے چل بسے۔ ان کے پہلو ہی میں یہ والدہ محترمہ کی قبر ہے۔والدہ صاحبہ اگرچہ پڑھی لکھی خاتون نہیں تھیں مگر والد محترم کی صحبت اور نیکی کا ان پر بڑا گہرا اثر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عبادت گزار تھیں۔ آخری عمر میں اکثر ساکت و صامت اور ذکر اللہ میں مشغول رہتی تھیں، زبانی یاد کی ہوئی قرآن کریم میں سے سورتیں اور دعائیں پڑھتی  رہتیں اوّل وقت نماز ادا کرنے کا اہتمام آخری وقت تک رہا۔ جس صبح کو دنیا سے آخرت کی جانب عازم سفر ہونا تھا حسب معمول رات کو عشا کی نماز پڑھی اور دیر تک ذکر اللہ اور دعاؤں میں مشغول رہیں۔ پھر اہل خاندان سے باتوں میں کچھ  دیر تک مصروف رہیں۔ اس کے بعد سوگئیں، حسب معمول صبح کی نماز کے لیے نہ اٹھیں تو میری ہمشیرہ نے آواز دی، کوئی جواب نہ پاکر کر قریب آکر شانہ ہلایا تو اس پر بھی جب نہ کوئی حرکت  نہ جنبش لب،معلوم ہوا رات کو کسی وقت روح پرواس کرگئی۔ کچھ دیر تک تو میں والدین کی قبروں پر کھڑا ان ک لیے دعا کرتا رہا لیکن جوں جوں زندگی میں ان کی شفقت و محبت کے واقعات یاد آتے رہے او راس کے مقابلے میں ان کی خدمت ان کی اطاعت کے بارے میں اپنی کوتاہی او رلاپرواہی سامنے آئی تو فرط غم سے میں نڈھال ہوکر ان کی قبروں کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ اب قرآن کی یہ آیت میرے سامنے  آئی جس میں والدین کی عطمت کا خالق کائنات نے خود ذکر فرمایا ہے اور وصیت فرمائی ہے کہ میری عبادت کے بعد والدین کی اطاعت او ران کی خدمت تم پر فرض ہے۔ او رمیری رضا ان کی رضا میں مضمر ہے۔
﴿وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسـٰنًا إِمّا يَبلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُما أَو كِلاهُما فَلا تَقُل لَهُما أُفٍّ وَلا تَنهَرهُما وَقُل لَهُما قَولًا كَريمًا﴿٢٣﴾ وَاخفِض لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحمَةِ وَقُل رَبِّ ارحَمهُما كَما رَبَّيانى صَغيرًا ﴿٢٤﴾...الإسراء
’’اور تیرے پروردگار نے یہ حکم کیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تمہاری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے رُوبرو ہوں تک نہ کرنا او رنہ کبھی انہیں جھڑکنا او ران سے ہمیشہ نرمی سے بات کرنا او ران کے لیے تواضع کے ساتھ  اپنے بازو جھکائے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان پر رحم کر جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔‘‘
﴿أَنِ اشكُر لى وَلِوٰلِدَيكَ ...﴿١٤﴾’...لقمان ’میرا شکر کرو او راپنے والدین کا بھی۔‘‘
جو والدین کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کرے وہ بڑا بدبخت ہے۔
عن ابی ہریرة رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم رغم انفه رغم انفه رغم انفه قیل من یارسول اللہ قال من ادرک والدیه عند الکبر احدھما او کلاھما ثم لم یدخل الجنة (مسلم)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے خاک آلودہ ہوناک اس کی ، خاک آلودہ ہوناک اس کی، خاک آلودہ ہوناک اس کی۔ پوچھا گیا کون ہے وہ اے اللہ کے رسولؐ؟ فرمایا کہ اپنے ماں باپ کو جو بڑھاپے کی حالت میں پائے پھر وہ ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کرے۔‘‘
والدہ کی عزت و عظمت
 عن ابی ہریرۃ قال قال رجل یارسول اللہ من احق بحسن صحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک (بخاری و مسلم)
’’حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پھر عرص کیا پھر کون؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کیا پھر کون؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پھر عرض کیا پھر کون؟ فرمایا تیرا باپ‘‘
سائل کے جواب میں ماں کا حق آنحضرتﷺ نے تین مرتبہ او رباپ کا حق ایک دفعہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولاد پر ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔ یہ چیز واضح ہے کہ اولاد کی پرورش میں باپ کی نسبت ماں بہت زیادہ تکلیف اٹھاتی ہے۔ اسی لیے باپ کی نسبت اولاد پر ماں کا حق بھی زیادہ ہے۔      ؎
قدموں میں تیری ماں کے ہیں جنت کے بہاریں
لائق نہیں خدمت میں کوئی ماں سے زیادہ 
(عاجز)
جس کا اندازہ ثواب نہیں۔ اپنے ماں باپ کی وہ خدمت ہے (جام طہور) والدین کے ساتھ حسن سلوک، احسان،مروت، ان کی اطاعت،ان کی خدمت،ان  کے لیے دعاؤں کے بارے میں قرآن و احادیث میں جس التزام کے ساتھ تاکید اور وصیت آئی ہے۔ اس کا احاطہ بھی مشکل ہے۔ اللہ اور رسول کے بعد سب سے زیادہ اولاد کے لیے دنیا میں ماں باپ ہی پُرخلوص محبت کرتے اور ان سے بے لوث شفقت کرتے ہیں۔ اپنی اولاد کس محنت شاقہ اور صعوبات مستمرد سے پالتے ہین اور پھر کبھی شکایت تو درکنار ماتھے پر بل نہیں آتا۔ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اولادبھی اسی محبت، اسی جذبہ صادق او رایثار و خلوص کے ساتھ ان کی خدمت ، ان کی اطاعت، ان کی عزت کرے۔ اس آخری عمر میں نظام قدرت کے تحت ان کے حواس  اگر درست نہ رہیں ۔ عقل میں کمی آجائے ، اگر وہ بتقاضائے عمر کوئی بات، کوئی  کام مروجہ تہذیب کے خلاف، تمہاری طبیعت کے برعکس کریں تو تمہارا فرض ہے کہ اپنابچپن کا زمانہ یاد کرو جب کہ تم اس سے بھی زیادہ غلط حرکات کرتے تھے او رماں باپ ان سے درگزر ہی نہیں بلکہ تمہیں پیار و محبت سے سمجھاتے تھے تم بھی اس کا کچھ خیال نہ کرو او ران سے محبت و اطاعت میں ذرا  فرق نہ آنے دو۔ میں والدین کی قبروں کے پاس بیٹھا ہوا اپنے بچپن کا زمانہ اور اس وقت کی ان کے حق میں گستاخیاں او ران کی شفقت و محبت یاد کررہا تھا او رمذکورہ بالا قرآن کریم کی آیات او راحادیث کا مفہوم سامنے تھے۔ اپنی نالائقی، کوتاہی، غفلت پرآنسو بہا رہا تھا او رسوچ رہا تھا۔ یہ تیرے ماں باپ ہیں۔ جو تیرے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے اورتیرے لیے نہ معلوم انہوں نے کس قدر مصائب اٹھائے اور تیری پرورش کی۔ آج یہ کس عالم بےبسی میں اور کس حالت بے کسی  میں شہر  سے باہر سنسان جنگل میں مٹی کے نیچے پڑے ہیں۔ ان کے اپنے اعمال کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اب یہ ہماری دعاؤں اور صدقات کے محتاج ہوگئے ہیں۔ آہ یہ کس قدر حسرتناک منظر ہے۔ میں نے کسی کتاب (غالباً حلیۃ الاولیاء یا کتاب الزہد للامام احمد بن حنبل) میں عمرو بن عتبہ بن فرقد کا قصہ پڑھا تھا ۔ حوالہ پورا یاد نہیں او رنہ ہی بجنسہ الفاظ بالضبط محفوظ ہیں۔تاہم جو الفاظ یاد ہیں وہ پیش خدمت کررہا ہوں۔
کان عمرو بن عتبة بن فرقد یخرج لیلا علی فرسه فیقف علی القبور و یقول یا اھل القبور قد طویت المصحف و رفعت الاعکال ثم یبکی حتیٰ  یصبح ثم یسمع الندآء فیاتی الی الصلوٰۃ۔
’’عمرو بن عتبہ بن فرقد رات کو اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر (قبرستان شہر سے دور ہوگا) قبرستان آجاتے اور وہاں آکر پکارتے۔ اے اہل قبور صحیفے (رجسٹر)لپیٹ دیئے گئے اور تمہارے اعمال اوپر اٹھا لیے گئے (اللہ کے پاس پہنچ گئے) یہ کہہ کر زار زار روتے اور صبح تک اس طرح روتے رہتے، یہان تک کہ نماز فجر کی اذان سنتے تو پھر نماز کے لیے لوٹ آتے۔‘‘
ان اہل قبور کے لیے اب اعمال کا وقت ختم ہوچکا اب تو اعمال کی سزا اور جزاء کا وقت ہے، اور مرنے والے زندوں کی دعاؤں اور صدقات و خیرات کے محتاج ہیں یاوہ خود کوئی   خود صدقہ جاریہ کرگئے۔ مسجد، مدرسہ، سرائے، شفا خانہ بنوا گئے  یا کنوان لگوا گئے۔ دینی کتب پڑھنے کے لیے کسی کو دے گئے یا اولاد کو علم دین پڑھا گئے۔یہ اعمال ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کا ثواب ان کو ملتا رہے گا۔اسی طرح کوئی بدبخت شخص خلاف شریعت اگر کوئی بُرا کام جاری کرے گا تو جب تک وہ جاری رہے گا ۔ لوگ اس پر عمل کرتے رہیں گے۔ اس کا عذاب اس میت کوہوتا رہے گا جس نے کہ وہ کام اپنی زندگی میں جاری کیا۔ میں اپنے پیارے والدین کی قبروں پرمٹی کے ڈھیر او ران کی بےبسی کے عالم کا منظر دیکھ رہا تھا۔ نہ میں کچھ ان سے اور نہ وہ مجھ سے کچھ کہہ سکے۔ نہ میں اپنا حال انہیں بتا سکا اور نہ وہ مجھے اپنا حال بتا سکے۔ مختصر مدت میں ہمارے خاندان کے بیسیوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اب ان میں سے ہر ایک کی تصویر او ران کے بعض حالات میری آنکھوں کے سامنے پھر رہے تھے۔ ان میں موت کے دو حادثے نہایت درد انگیز کرب انگیز ہیں۔ (1) میری ہمشیرہ کی صاحب زادہ امۃ الاکرام نے غیر شادی شدہ بعمر بیس سال چولہے کے پاس بیٹھی ہے۔ اچانک اس کے کپڑوں میں آگ لگ جاتی ہے۔اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جاتے ہیں۔ چند رو ز موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہ کر وہ ہسپتال میں اپنے عزیزوں کو داغ مفارقت دے جاتی ہے (2) اس کے کچھ عصہ بعد میرا بیٹا عطا الرحمٰن بعمر 28 سال چار بچوں کاباپ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم ہے۔ وہ کپڑے دھونے کی مشین میں پانی کی بجائے پٹرول ڈال کر اپنے کپڑے اس سے  دھونے لگتا ہے ۔ قریب ہی سٹور جل رہا تھا پٹرول اس سے آگ پکڑ لیتا ہے۔ پٹرول کے شعلوں سے وہ جھلس جاتا ہے او راسے ہسپتال لے جاتے ہیں۔ وہ بھی اسی طرح مکہ مکرمہ کے ہسپتال میں چند روز زیر علاج رہ کر بالآخر جان جاں آفریں کے  حوالے کردیتا ہے۔ دوسرے دونوں بھائی وہاں موجود اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرتے ہیں۔ اتفاق سے شب معراج کے سبب عبادت کے لیے مقامی اور باہر سے آئے ہوئے حرم شریف میں لاکھوں آدمیوں کا اجتماع تھا چنانچہ اس کثیر انبوہ میں اس کی نماز جناسہ ادا کی گئی او رجنت المعلیٰ میں دفن کردیا گیا۔ اس موقع پر ہم اس کی نہ صورت ہی دیکھ سکے اور نہ نماز جنازہ میں شریک ہوسکے۔
عاجز سے اُس کے دل کا خطاب
اے عاجز اس مختصر عرصہ میں تیرے اپنے ہی خاندان میں اس کثرت سے اموات ، کیا یہ سچے واقعات ہیں یا جھوٹے خواب؟ روزانہ بے شمار حادثات اموات تیرے جو کان سن رہے ہیں اور آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ اخبارات میں پڑھ رہا ہے۔ کیا یہ سب بے بنیاد افسانے ہیں یا ناقابل تردید حقائق کے خاکے؟ اب تک تو جن لوگوں کے جنازوں میں شریک ہوا وہ مردہ انسان تھے یا انسان نما لکڑی وغیرہ کے ڈھانچے؟ تو بتا کہ یہ مٹی  کے ڈھیر تجھے نظر آرہے ہیں ان میں انسان دفن ہیں یانظر کا دھوکا ہے؟ میں اپنے دل کے ان سوالات کا کوئی جواب نہ دے سکا اور ندامت سے نگاہیں نیچی کرلیں ۔ جس کے معنی ہیں تو نے جو کچھ کہا وہ سب سچ اور حق ہے۔
دل نے پھر مجھ سے کہا
اے عاجز آج 28 اپریل 1980ء ہے اور تو نے اپنی عمر کے تریسٹویں (63) سال میں قدم رکھ لیا ہے ۔ اب ذرا گوش حقیقت نیوش سے رحمت عالمﷺ کی اس حدیث پاک کو سن!
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم اعذر اللہ الی امرء اخراجله حتیٰ بلغ ستین سة (الترغیب جلد 4 ص253 بحواله بخاری)
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ اس شخص کا کوئی عذر قبول نہیں کرے گا۔ جس کی موت کو یہاں تک موخر رکھا کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔‘‘
یعنی ساٹھ سال کی عمر جسے عطا فرمائی گئی وہ اتنی لمبی عمر پاکر بھی گناہوں سے باز نہ ایا۔ اور آخرت کی نہ کبھی فکر کی نہ اس کے لیے تیاری۔ بلکہ اس قدر عمر دراز اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور  غفلت ہی میں کھو دی۔ ایسا شخص اللہ کے غضب او راس کے عذاب سے بچنے کے لیے اس کے سامنے کوئی عذر، کوئی حیلہ، کوئی بہانہ پیش کرنے کی جرأت نہ کرسکے گا ۔میرے دل نے مجھے سے کہا۔ اے عاجز تیری عمر ساٹھ برس سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ تین چار سال سے ذیابیطس (شوگر) کا لاعلاج مرض بھی تجھے لگا ہوا ہے۔ جو کہ اندر ہی اندر تیرا کام تمام کررہا ہے اور تُودم بدم کمزور ہوتا جارہا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تیرے کریم  آقا کی تجھ پر شفقت و مہربانی ہے کہ تجھے ایسے لاعلاج بیماری میں مبتلا کرکے اور بتدریج ضعف  اعضائے بدن کے ساتھ تجھے قرب موت کی اطلاع دے دی ہے اور عالم برزخ (قبر) میں پیش آنے والے معاملات کی فکر اور اس کسی تیاری کی دعوت دے دی ہے۔ اب تو اگر ان حقائق سے چشم پوشی کرے تو تجھ سے زیادہ ناداں او رظالم کون ہوگا؟ یاد رکھ! اب تیرا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے۔ یہ لمحات حیات کپچھلے گناہوں سے توبہ و استغفار او راللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں گزار تاکہ تلافی مافات ہوجائے۔ تو اب نیکی کا راستہ اختیار کر، او رنیکی کی تلقین بھی کر، اور خود بُرائی سے بچ او رلوگوں کو بُرائی سے بچا۔ تجھے کوئی اچھا سمجھے یا بُرا اس کی مطلق پروا نہ کر، لوگوں کا اچھا کہنے سے تیرا کچھ سنورتا نہیں، اور ان کا تجھے برا کہنے سے تیرا کچھ بگڑتا نہیں۔ اپنا معاملہ خفیہ اللہ کے ساتھ درست رکھ۔ اگر تیرا مالک (اللہ تعالیٰ) تجھ سے راضی ہے تو تُو کامیاب ہے، خوش بخت ہے۔  اگر تیرا معاملہ تیرے آقا (اللہ تعالیٰ) سے ٹھیک نہیں وہ تجھ سے ناراض ہے تو تُو بڑا مجرم ، بڑا بدبخت  ہے۔ تجھے کہیں پناہ کی  جگہ نہیں لے گا او رتیرا ٹھکانا دہکتی آگ یعنی جہنم ہے۔ خوب سوچ سمجھ لے۔ عمر تیری پوری ہوچکا ہے او رتو قبر کے کنارے کھڑا ہوا ہے ۔ اجل کا تندو تیز جھونکا آیا اور تو اس میں گرا۔ اگر پانچ  دس سال زندگی کے او رتجھے مل بھی گوے۔ تو یہ زندگی تیری ارذل العمر یعنی نکمی زندگی ہے جس سے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پناہ مانگی ہے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے ۔ اللھم انی اعوذ بک من ارذل العمر ’’ اے اللہ میں نکمی زندگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ ہاں لمبی عمر ہو اور اعمال صالحہ ہوں تو یہ خوش بختی ہے ۔ ورنہ اگر عمر دراز ہو اور اعمال بد تو یہ بدبختی کی علامت ہے۔جیساکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے۔
عن ابی بکرة رضی اللہ عنه ان رجلا قال یارسول اللہ ای الناس خیر؟ قال من طال عمرہ وحسن عمله ۔ قال فای الناس شر؟ من طال عمره و ساء عمله (الترغیب ج4 ص254 بحواله الترمذی)
’’حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ لوگوں میں اچھا شخص کون ہے۔آپؐ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں ، اس نے  پھر عرض کیا کہ لوگوں میں بُرا آدمی کون ہے۔ آپؐ نے  ارشاد فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور اس کے اعمال بُرے ہوں۔‘‘
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ساٹھ سال کے بعد اعضائے جسم کمزور ہوجاتے ہیں او رانسان کا روبار کے قابل نہیں رہتا اور آدمی قسم قسم کی لاعلاج بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں بیوی بچوں پر بوجھ بن جاتا ہے۔ جب تک وہ کما کر انہیں کھلاتا رہا تب تک وہ اس سے  محبت اور اس کی خدمت کرتے رہے اب جبکہ نہ  کمانے کے قابل رہا او رنہ اس کی صحت درست رہی، بلکہ خود دوسروں کا محتاج ہوگیا۔ ایسی  حالت میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بیوی بچے اس کی موت مانگنے لگ جاتے ہیں تاکہ  اس کی خدمت سے نجات حاصل ہو، لہٰذا اے عاجز میری نصیحت پر عمل کر، حقیقت میں تیرا کوئی ساتھی نہیں ہے۔ تیری قبر میں تیرے عمل کے سوا تیرے ساتھ کوئی نہیں جائے گا۔ کیا تو نہیں دیکھ رہا۔ تیرے ماں باپ اور دوسرے تیرےعزیزوں کے ساتھ ان کی قبروں میں کوئی داخل ہوا؟ اپنی عمر کے ان آخری لمحات کی قدر کر۔ او رانہیں قبروقیامت کی تیاری میں صرف کر۔ میرے دل کی یہ نصیحت واقعی نسخہ  اکسیر سے کم نہیں۔ چنانچہ میں سفر آخرت کی پہلی منزل قبر کے خوفناک منظر کے تصور اور اپنی بے عملی اور غفلت پر کانپتا ، لرزتا، تھرتھراتا والدین کی قبروں کے پاس بیٹھا ہوا، وہاں سے اٹھا اور تمام راستہ اشکبار آنکھوں کے ساتھ گھر پہنچا۔
چپکے چپکے روتے روتے کٹ جاتے ہیں شام و سحر
عرض کرے کیا عاجز اس کو کس غم نے بیمار کیا