ہادکے لغوی معنی ہر وہ کوشش اور محنت ہےجو کسی معین مقصد کے لیے کی جائے اور اصطلاح میں اس محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جو اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں، اسلام کے لیے ، نظام ملت کے لیے یا استحکام شعائر اللہ کے لیے کی جائے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ) یہ  لفظ  قرآن میں کبھی لغوی معنوں میں اور کبھی اصطلاحی معنوں میں متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
اس روئے زمین پر اخلاق و آداب، عبادات و معیشت، سیاست و معاشرت۔ الغرض تمام معاملات میں قدم قدم پر ہر خیر کے ساتھ ساتھ شرکاء عنصر بھی کارفرما ہے۔ اسلام امر بالمعروف (خیر) کا داعی ہے اور نہی عن المنکر(شر) کی نفی کرتا ہے۔ اس کوشش کو شریعت نے جہاد فی سبیل اللہ کا نام دیاہے۔اس لیے راہ خدا میں جہاد کرنے کا مفہوم سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اللہ کی رضا کی خاطر اس کے دین برحق کی سربلندی کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالا جائے جو انسان کے دائرہ اختیار میں ہو۔ اس مقصد اعلیٰ کے حصول میں پوری قوتیں صرف کردینے کا نام جہاد ہے۔ زیادہ معین معنوں میں جہاد۔اسلام کا فریضہ بھی ہے اور ہرمسلمان پر واجب بھی ہے کہ بطور عبادت وہ ہر کوشش اور محنت کرے جوملت کے استحکام میں اعلائے کلمۃ الحق میں مظلوم بھائیوں کی حمایت میں اسلامی ریاست کے خلاف حملہ آوروں کے مقابلہ میں بار آور ثابت ہوسکے۔ مستشرقین کی یہ کج فہمی ہے کہ جہاد محض ہوس دولت اور ملک گیری کے سلسلہ میں لڑائی کا نام ہے۔ جنگ (قتال) ضرور جہاد میں شامل ہے مگر یہ جہاد کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلامی اقامت کے لیے جنگ کرنا واحد وسیلہ نہیں ہے مگر جب اللہ کا بول بالا کرنے اور کلمۃ اللہ کے اعلا میں باطل قوتوں سے جنگ ناگزیر ہوجائے اس وقت ملّی استقامت کے لیے تلوار سے جہاد (جنگ) ایک بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ امام بخاری نے عبداللہ بن عمر سے اندرونی مشاجرت کے سلسلہ میں روایت کی ہے  کہ فتنوں کو کچلنے کے لیے پہلے سامان مہیا کر، عقل اور شریعت کا حکم ہے۔ جذبات جب انجام بینی سے یکسر خالی ہوں تو دائمی ناکامی کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔اسی طرح جب عقل جذبات سے کوری ہوجاتی ہے تو وہ بھی صرف دماغی فلسفہ میں مبتلا ہوکر رہ جاتی ہے۔ کامیابی کا راز جوش کے ساتھ ساتھ ہوش میں پنہاں ہے ۔ (ترجمان السنہ)

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے جہاد صرف جنگ کرنے ہی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ تطہیر حیات کی ایک مہم ہے۔ یہ ایک جہد مسلسل ہے۔ اسلام کی فضیلت اور کفر کی فضیحت کی تبلیغ کرنا (قلم سے یا زبان سے) اور اپنے مال و دولت کواسلام کے قیام میں خرچ کرنے کی جدوجہد کرنا ضروری ہے اور جب کوئی چارہ نہ رہے تب دین متین کی خاطر دشمنان اسلام سے جنگ (تلوار سے جہاد) کرنا برحق ہوجاتا ہے اور اس جہد مسلسل میں تمام یا کسی ایک میں بھی حصہ لینے والے کو جہاد میں شریک سمجھنا واجب ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ تو یہاں تک بھی فرمایا کہ سلطان جابر یا بے دین کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی جہاد ہے۔ (سید سلیمان ندوی۔ سیرۃ النبیؐ)

ہمیں اعتراف ہے کہ بعض بادشاہون کا اصول جنگ جہانبانی نہیں تھا بلکہ مقصد جہاں داری تھا جس کو جہاد سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جہاد ایک مقصد ارفع کی بازیابی کے لیے ہوتا ہے نہ کہ تخت و دولت کی دستیابی کے لیے۔ جن بادشاہوں نے جہاد پر قانون  قرآنی کے مطابق عمل کیا وہ جزا کے مستحق ہوں گے اور جنہوں نے ایسا نہ کیا وہ خود خدا کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ سیدھی سچی بات یہ ہے کہ ہمارے لیے قانون ربانی ہی حجت ہے اور اس کے خلاف کوئی فعل باعث حجت نہیں بن سکتا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے حضورﷺ تک جتنے بھی انبیاء کرام مبعوث ہوئے اور انہیں جن ادیان کی سربراہیاں سونپی گئیں ان سب میں قدر مشترک توحید تھی۔ یہ بنی نوع انسان کا ایک ایسا ازلی اور ابدی عقیدہ تھا اور ہے جو زمان و مکان کی قیود و قدغن سے بالا تر تو ہے۔ تمام انبیائے کرام کو پے در پے تاکید و ہدایت کی جاتی رہی کہ ہر حالت میں گم کردہ راہ انسانیت کو توحید کی تبلیغ اور توحید حق کی تلقین کرتے رہیں۔کسی نبی کے لیے توحید امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے معنوی۔ اعتقادی اور عملی تقاضوں کو بذات کود سمجھ لینا یا ان پرعمل درآمد کرنا ہی کافی نہ سمجھا گیا بلکہ واضح ہدایات ارسال فرمائی گئیں کہ وقت اور حالات کی پابندیوں، مصلحتوں ، اندیشوں کوبالائے طاق رکھ کر دنیا کے بندگان عقل و خرع اور خوگراں محسوسات میں کھلم کھلا راہ صواب۔ توحید کے فہم و ادراک کے لیے جہاد (جدوجہد) کرتے رہو۔ چونکہ توحید ہی وہ فلسفہ ہے اور فطری عقیدہ ہے جو انسان کو ہر ممکن لغزش سے محفوظ کرکے تائید ایزدی پرمکلف کرتا ہے۔ اس عقیدہ  کو ہر جہت میں اسلام کے نام سے ہی یاد کیا گیا۔ صحف ابراہیم سے لے کر خاتم الانبیاء تک اسلام کا مذہب ہی انشراح ہدایت بنا رہا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے جس پر بُرائی سے گریز اور سچاوی کا پھیلانا افضل ہے۔ اگرہم ان عوامل کا بنظرغائر مطالعہ کریں کہ وہ کون کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے اس مذہب کو روئے زمین پر پھیلا دیا اور اس جدوجہد میں کون کون سے  وسائل کارفرما رہے۔ تو ایک مبصر ہرگز ہرگز یہ کہنے کا جواز نہیں رکھتا کہ یہ مذہب تلوار سے پھیلا ہے۔ مذہب اسلام کی وسعت اور کامرانیوں کی تاویلات جو مغربی مفکرین اور مستشرقین نے پیش کی ہیں وہ ان اذکار کے وقت سینٹ لوئیس کے احکامات کو فراموش کردیتے ہیں۔ جس نے حکم دیا تھا کہ جب کوئی شخص عیسائی مذہب کی مذمت میں کوئی لفظ کہے ت ودین کی حمایت میں تلوار کا اس طرح وار کرو کہ اس منکر عیسائیت کے پیٹ میں پوری  اتر جائے (جے۔ جی۔ ول سینٹ لوئیس)اس کے برعکس اسلام میں فریضہ تبلیغ ایسی چیز نہیں بلکہ۔

ترجمہ: لوگوں کو اپنے پروردگار کے راستہ کی طرف دانائی اور اچھی شخصیت کے لیے بلاؤ اور ان کے ساتھ ایسے طریق پر مباحثہ کرو جوبہت اچھا ہو۔ (النحل :126)

ترجمہ: جن لوگوں نے انبیاء کے بعد ورثے میں کتاب پائی ہے وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں۔ اس لیے ان کوبلائیے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہئیے۔ جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجئے اور کہہ دیجئے کہ میں ایمان لایاہوں۔ اس کتاب پر جو خدا نے  اتاری ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل کروں۔ اللہ ہمارا پروردگار ہے۔ ہمارے لیے عمل  ہیں اور تمہارے لیے عمل ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ہمیں اکٹھا کرے گا اور ہمیں اس کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے۔ (الشوریٰ:13۔14)

یہ تھیں وہ ہدایات جو دین اسلام کے پیروکاروں کے لیے نازل فرمائیں گئیں۔ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ فرمائیں تو محسوس کریں گے کہ محمدﷺ نے کفار کومسلمان بنانے پر اتنا زور نہیں دیا جتنا کہ ان کو دائرہ حکومت الٰہیہ میں داخلے کے لیے کوشش کی۔ فتوحات جو جنگ کے ذریعہ بھی کی گئیں وہاں بھی مسلمانوں کی غایت یہ ہرگز نہ تھی بلکہ مقصد اوّلین یہی تھا کہ غیر مسلموں کو حکومت اسلامیہ  کے زیرنگیں کرلیا جائے۔ قرآن میں کسی جگہ بھی کسی شخص کے مذہب کو جبراً تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پورے قرآن پاک میں قاری کو ایسی کوئی بھی ایک نظیر نہیں ملتی ہے جس سے جبری تبدیل مذہب کی تاویل نکل سکتی ہو۔ اس کے برعکس اشاعت اسلام کی فضیحت اور درستگی  فکر و عمل کی ترغیب ہر جگہ نظر آتی ہے۔ آپ کے پیش نظر حضور رحمۃ للعالمین ؐکی سیرت طیبہ کی روشن مثال موجود ہے کہ  آپ نے اسی تعلیم و تلقین کی رو سے تمام دفاعی لڑائیاں لڑیں۔ پس ثابت ہوتا ہےکہ اسلام ہمیشہ صرف نظریہ اور عمل کی درستگی کا مقتضی رہا ہے۔

لفظ جہاد کا مادہ ج ھ د ہے جو مختلف الفاظ سے مشتق ہے۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ کم و بیش 38 مقامات پر اپنے مادہ کی مختلف مشتقات کی اشکال میں نظر آتا ہے۔ سورہ بقرہ میں ایک  مرتبہ سورہ آل عمران میں ایک مرتبہ، سورہ نساء میں 3 مرتبہ، سورہ مائدہ میں 3 مرتبہ، سورہ انعام میں ایک مرتبہ، سورہ توبہ میں یہ لفظ مختلف صورتوں میں 12 مرتبہ، سوہ نحل میں دو مرتبہ، سورہ الحج میں ایک مرتبہ، سورہ النور میں ایک مرتبہ، سورہ فرقان میں دو مرتبہ، سورہ لقمان میں ایک مرتبہ، سورہ فاطر میں ایک مرتبہ، سورہ الحجرات میں ایک مرتبہ، سورہ محمدؐمیں ایک مرتبہ، سورہ صف میں ایک مرتبہ اور سورہ ممتحنہ میں ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

ان آیات ربانی میں کسی جگہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کرنا  مقصود ہے۔کسی جگہ کافروں اور منافقوں کو وعظ و نصیحت کرنےکی کوشش پر وعظ و تلقین ہے۔ کسی جگہ امر بالمعروف نہ کرنے اور گھروں میں چھپے بیٹھے رہنے والوں پر اللہ کی راہ میں مشقت اٹھانے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ کسی جگہ اللہ کے راستہ میں محنت اور کوشش کرنے والوں کو ثابت قدم رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی جگہ مہاجرین کو پناہ دینے اور انکی مدد کرنے کی فہمائش کی گئی ہے ۔ کسی جگہ قرآنی احکامات پر چلنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے ۔ کسی جگہ منافقوں اور کافروں کو دوست بنانے والوں پرلعن طعن کیا گیا ہے۔کسی جگہ واضح کیا گیا ہیکہ نام کے مسلمان اور سچ مچ جو اللہ کی راہ میں کوششیں کرتے ہیں، برابر نہیں ہوسکتے۔ کسی جگہ اللہ کے خوف اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے کی طرف راغب کیا گیاہے۔ الغرض لفظ جہاد یا اس کے مشتقات جو قرآن پاک میں جستہ جستہ استعمال ہوئے ہیں قطعی طور پر یہ وضاحت نہیں کرتے کہ کافروں کو بلا وجہ قتل کرنے یا کسی پرامن غیر مسلم حکومت پر چڑھ دوڑنے اور جنگ و جدال کرنیکا نام جہاد ہے۔

آپ یہ معلوم کرکے حیران ہوجائیں گے کہ قرآن پاک میں جہاد کو تمام انسانی اعمال میں ایمان کے بعد سب سے بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اگر فہم و ادراک کو بروئے کار لائیں تو محسوس ہوگا کہ واقعی جہاد فی سبیل اللہ تمام فضائل و مکارم  اخلاق کی روح ہے۔ اس لیے کسی جگہ بھی جہاد کے لیے یہ کہہ کر رغبت نہیں دلائی گئی کہ تم خدا کے لیے کوشش کرو۔ تبلیغ کرو یا لڑائی لڑو اور اس کے بدلہ میں تمہیں مال و دولت ملے گی ، تاج و تخت ملے گا، عزت و ثروت ملے گی، سطوت و حکومت ملے گی بلکہ اس کے برعکس جہاں اللہ کی راہ میں کوشش ، جدوجہد اور محنتیں کرنے کی اجرت کا بیان کیا۔ فرمایا گیا ہے کہ اس کے عوض میں  محض تمہیں خدا کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ خُدا کے ہاں بڑا درجہ ملے گا۔ دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنےکا وعدہ اور دائمی بہشت میں قیام گاہ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

جو لوگ یہ تصورات رکھتے ہیں اور یہ توجیہات پیش کرتے ہیں کہ جہاد صرف تلوار سے دین اسلام پھیلانے کا نام ہے اور صرف تلوار کے ساتھ جہاد کرنے سے ہی اسلام روئے زمین پر پھیلا ہے۔ ان کی یہ کم عقلی اور کوتاہ بینی ہے اور مطالعہ تاریخ کی قلت کا سب ہے۔ روئے زمین پر مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک کوئی خطہ زمین اس وقت ایسا نہیں ہے جہاں کوئی نہ کوئی اسلام کانام لیوا موجود نہ ہو۔ یہ شرف صرف جہاد (بالقلم یا باللسان) کو ہی حاصل ہوا۔ مبلغین اسلام نے کفار اور منکرین کو دائرہ اسلام میں لانے کے لیے بغیر جبرو اکراہ جو کوششیں کی ہیں وہ آج اظہر من الشمس ہیں۔ اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ چین، برما، ملایا، فلپائن، جاوا، سماٹرا، آسٹریلیا، شمالی امریکہ، جزائر غرب الہند اور ایسے ہی متعدد ممالک میں اسلام کی  اشاعت کے اسباب کیا تلوار تھی، ہرگز نہیں۔ حالات میں انقلاب کیسے آیا، یکایک ہوا کا رخ کیسے بدل گیا۔ حقیقتیں کیسے پلٹ گئیں۔ ساکنین ارض کے سابق نظریات و دلائل کیوں غلط ثابت ہوئے۔ بڑی بڑی قدیم سلطنتیں خس و خاشاک کی طرح کیوں بہ گئیں۔ آلات حرب اس سیلاب کو کیوں نہ روک سکے۔ یہ سیلاب ہزارہا سال کی پرانی تہذیبوں کو کیوں بہا لے گیا۔ اقوام و ملل کے عقائد و نظریات کیسے تبدیل ہوگئے اور وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے؟ یہ تھا وہ جہاد۔ یہ تھیں تبلیغ اسلام کی وہ بے پناہ اور ان تھک کوششیں جنہوں نے کفار کے جور و تعدّی سے کروڑوں افراد کو نجات دلائی۔

پروفیسر آرنلڈ نے اسلام کی روحانی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ تبلیغ ہی وہ مؤثر حربہ ہے جو دین اسلام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ اسلام میں جہاد بالسیف ہی اسلام کی اشاعت کی بنیاد ہے۔ جس زمانہ میں تاتاری لشکروں نے بغداد کو تاخت و تاراج کردیا۔ فرڈی ننڈ نے مسلمانوں کو قرطبہ سے باہر نکال دیا۔ سرزمین اندلس میں مسلمانوں کو آخری جائے پناہ غرناطہ بھی عیسائی حکومت کا باج گزار بن گیا۔ عین اسی زمانہ میں اسلام نے جزائر سماٹرا، بورنیو، جاوا میں  اپنے قدم جما لیے اور مجمع الجزائر ملایا  سے اپنی پیش قدم کی ابتدا کی۔ یہ امر قابل غور ہے کہ اسلام نے اپنے اسی زوال اور انحطاط کے زمانہ میں بعض نہایت شاندار روحانی فتوحات حاصل کی تھیں۔ مثلاً اسلام کی تاریخ میںدو مواقع ایسے آوے جبکہ وحشی کفار نے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ پامال کردیا۔ اولاً سلجوقی ترکوں نے گیارہویں صدی اور ثانیاً تاتاریوں نے تیرہویں صدی میں مسلمانوں کو مفتوح کیا تو کیا ہوا؟ ان دونوں موقعوں پر فاتحین نے اسی قوم کا مذہب اختیا رکرلیا جس کو انہوں نے مغلوب کیا تھا۔ مسلمان مبلغین نے اپنا مذہب وسطی افریقہ، چین اور جزائر ہند چینی میں کیسے پھیلایا۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالانکہ ان کو وہاں کسی دنیوی حکومت کی امداد حاصل نہ تھی، روئے زمین کے اس قدر وسیع حصے میں اسلام نے جو اشاعت پائی ہے اس کے کئی معاشرتی، سیاسی اور مذہبی اسباب ہوسکتے ہیں۔ مگر سب سے قوی اور سب سے عظیم الشان اس کی کامیابی یہ ہے کہ مسلمان مبلغین نے اس بارے میں انتھک کوششیں کیں۔ رسول کریمﷺ کا اسوہ حسنہ ان کے سامنے تھا۔ چنانچہ انہوں نے کفار اور منکرین کو دائرہ اسلام میں لانے کے لیے اپنی قوتوں کو بے دریغ صرف کیا۔ (پریچنگ آف اسلام) تاریخ  اسلام کے ابواب ان حقیقتوں سے بھرے پڑے ہیں کہ ائمہ کرام،  اولیائے کرام، صالحین مجددین نے ہمیشہ بڑے بڑے بادشاہوں کے سامنے اعلائے کلمۃ الحق کہا۔ اس جہاد میں انہوں نے بڑی بڑی صعوبتیں اٹھائیں۔ مگر ان کے پائے استقامت کو لغزش نہ آنے پائی۔

امام ابوحنیفہ حق گوئی و بے نیازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ قلائد عقود العیقان کا بیان ہے کہ آپ  بارہ لاکھ نوے ہزار سے زائد مسائل کے مدون تھے۔ آپ کو بنی امیہ کے آخری حاکم عراق ابن  ہبیوتہ نے تازیانے لگوائے۔ خلیفہ ابوجعفر منصور نے آپ کو سالہا سال زندان میں ڈالے رکھا۔ حتیٰ کہ وہیں انتقال فرما گئے۔ امام ابن تیمیہ بڑے مجتہد فی الدین تھے۔ علوم قرآنیہ حدیث اور فقہ میں آفتاب نصف النہار تھے مگر سلطان وقت کے حکم سے آپ کی عمر کا بیشتر حصہ پابند زنداں کیا گیا ۔  آپ دور کیوں جاتے ہیں۔ پاک و ہند  کی تاریخ کے اوراق الٹ کر ملاحظہ کریں۔ جہاں حضرات ابوالحسن ہجویری، فرید الدین گنج شکر ،قطب الدین بختیار کاکی، خواجہ نظام الدین اولیا، خواجہ معین الدین چشتی، بہاؤ الدین زکریا، بو علی قلندر، مجدد الف ثانی جیسے عزم و ثبات کے گوہ گراں نظر آئیں گے۔ یہ لوگ علم و بصیرت ، زہد و تقویٰ اور صدق و خلوص کے فقید المثال پیکر تھے۔ کون ہے؟ جو ان جیسی برگزیدہ ہستیوں کے اسمائے گرامی صفحات تاریخ سے  حذف کرسکتا ہے۔ جن کے پاس نہ توفوج تھی نہ لشکر نہ آلات حرب جو جہاد بالسیف رکھتے ۔ یہ صرف آپ کے اوصاف  کردار اور قرآن و سنت کی تبلیغ ہی تھی جس کی وجہ سے کروڑوں انسان اسلام کے دامن میں سما گئے۔ جنہوں نے دنیاوی دولت و ثروت، راحت و مسرت، اقتدار و اختیار حکومت و قیادت سب کو لات مارکر غربت و فلاکت ، مصائب و آلام، مجبوری و محکومی کے ادوار میں استغنا و بے نیازی سے اللہ کی رضا کے لیے زبان سے جہا دکیے۔ قلم سے جہاد کیے اور تاریخ گواہ ہے کہ دین اسلام کی اشاعت محض ایسے پرامن طریقوں سے کی اور ایسے ایسے محرکات و اسباب پیدا کیے کہ لوگ جوق در جوق آپ حضرات کے اعلیٰ تخیلات اور صحیح مقاصد کے پیروکار بن گئے۔ انہوں نے اس قدر محبت و موّدت، شفقت و روحانیت سے رب العزت کی اطاعت و خوشنودی اور عقبیٰ کے عیش جاودانی کی طرف رغبت دلائی کہ جس کی وجہ سے گناہ و معصیت میں مبتلا کثیر التعداد مشرکین اسلام کی جانب کھنچے چلے آئے۔

بیشتر مواقع ایسے بھی آئے کہ بعض علماء و صالحین کو شہنشاہی سطوتوں نے مجبور و مہجور بھی کیا۔ قید و بند کی زنجیریں، دارورسن کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں مگر روحانیت کی طاقت نے مادیت کے ایک ایک پھندے کو کاٹ کرپھینک دیا۔حق کے سامنےباطل کا سرجھک گیا۔ اگر ان اکابرین کی حکمت اور دانائی بروقت آڑے نہ آتی تو  کفر کی حریصانہ و طاغوتی ہلاکتیں اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں سدراہ بن جاتیں۔ ایسے ہی موقعوں پر علمائے بیباک کی شعلہ بیانی تقریروں نے سوختہ خرمن مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی تمازت سے روح اسلام کو تروتازہ کردیا اور غالب مادی طاقتیں بوکھلا اٹھیں۔

یہ بات بالکل لغو ہے کہ لوگ کسی سیاسی یا اقتصادی اغراض کے لیے اپنا مذہب مالوف تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے تھے یا گردن زدنی کے خوف سے محفوظ رہنے کی خاطر ان کے لیے تبدیل مذہب ناگزیر ہوگیاتھا۔ نہ ہی ایسا امکانات میں سے ہے کہ لاکھوں کروڑوں افراد اپنے آبائی مذہب کو ترک کرکے دوسرے دین میں داخل ہوجائیں۔یہ اجتماعی لیبک فی الاسلام صرف اسی پر  صاد ہے کہ جہاد باللسان نےساکنین کے قلوب و اذہان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور یہ سب کچھ ان صالحین کی تعلیمات ، فرمودات ، ملفوظات، انداز فکر،تدبیر و دانش کی بین اور ناقابل تردید دلیل ہے۔

روز ازل سے قتل جیسا فعل ہر تہذیب ، ہر معاشرہ میں ہمیشہ ناپسندیدہ رہا ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد آیات میں قتل کو حرام قرا ردیا گیا ہے اور اس فعل کو بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ امن اور اتحاد کی راہ میں قتل و غارت گری معاشرے کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ اسلام کی تو بنیاد ہی عدل و انصاف، مکافات عمل اور اطاعت شعاری پر استوار کی گئی ہے اس کی دیواریں افراط و تفریط کے درمیان عدل و توسط کے بیش بہا اصولوں پر قائم کی گئی ہیں۔ شعائر اللہ میں کسی انسان کا خون بہانا حرام اور معصیت گردانا گیا ہے۔ اس فعل کو ہر مقام پر انتہائی قساوت اور سنگدلی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے ارتکاب پر جن زاویوں سے قرآن نے  نفرین کی ہے وہ فقید المثال اور دل نشین تنبیہ و تہدید ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

﴿لا تَقتُلوا أَنفُسَكُم ...﴿٢٩﴾...النساء(اپنی جانوں کو قتل نہ کرو) گویا ایک شخص کا دوسرے شخص کو قتل کرنا خود کشی کے مترادف ہے۔﴿ لا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّـهُ إِلّا بِالحَقِّ...﴿٣٣﴾...الإسراء(جس جان کو اللہ تعالیٰ نے محترم کیا اسے ناحق قتل نہ کرو۔) ﴿لا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم خَشيَةَ إِملـٰقٍ ...﴿٣١﴾...الإسراء (اپنی اولاد کو محتاج کے ڈر سے قتل نہ کرو۔قتل اولاد گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ ﴿إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرًا ﴿٣١﴾...الإسراء (اولاد کا قتل بہت بڑا گناہ ہے) ﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا﴿٩٣﴾...النساء(جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی سزا دوزخ ہے ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہے گا اور اس پر غضب ہوگا اوراس پر لعنت ہوگی اللہ نے اس کے لیے بھاری عذاب تیار کیا ہے۔)

یہ پڑھ کر ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ ناحق قتل کیا ہوتا؟ مسلمان کو قتل کرنے پر کیوں وعید ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ قتل کے بارے میں قرآنی عبارتوں کا جب بغور مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ افعال ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں۔ مثلاً ایمان داری، مظلوموں کی امداد، محتاجوں کی اعانت، عدل و انصاف کا قیام، خدا اور بندوں کے حدود کی ادائیگی و تبلیغ۔ اس کے برعکس خیانت، دروغ گوئی ، فتنہ و فساد ، بے انصافی، باطل کی حمایت، حق و صداقت کا اخفا، کمزور اور زیردست  کو ستانا ایسے اعمال و افعال ہیں جو خلاف انسانیت و خلاف فطرت ہیں۔ جن سے احتراز اور ان کا قلع قمع کرنےکی جدوجہد اللہ تعالیٰ کو انتہائی پسند ہے۔

جس طرح افراد پراپنے نفس ہی کے نہیں بلکہ اپنے ابنائے نوع اور اپنے خدا کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ جنہیں ادا کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔اسی طرح ایک قوم پربھی اپنے خالق اور اپنی وسیع انسانی برادری کی طرف سے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں اور وہ ہرگز ایک شریف قوم کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ان حقوق کو ادا کرنے میں اپنی جان و مال اور زبان و  دل سے جہاد نہ کرے اپنی آزادی کو محفوظ رکھنا اپنے استقلال کی حمایت کرنا اپنے آپ کو شرارت کے تسلط سے بچانا یقیناً ایک قوم کا پہلا فرض ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں جس کو ادا کرکے اسے مطمئن ہوجانا چاہیے بلکہ اس کا اصلی فرض ہے کہ وہ اپنی قوت سے تمام نوع بشری کو نجات دلانے کے لیے کوشش کرے۔ انسانیت کے راستہ سے تمام رکاوٹیں دور کرے اور جو اس کی اخلاقی و مادی اور روحانی ترقی میں حاول ہوں اور ظلم و طغیان، بدی و شرارت فتنہ و فساد کے خلاف اس وقت تک برابر جنگ جاری رہے۔ جب تک یہ شیطان قوتیں دنیا میں باقی ہیں (مودودی۔ جہاد فی الاسلام)

قرآن مجید میں ناحق قتل کرنے کا ذکر متعدد جگہوں پر وضاحت سے کیا گیا ہے۔ مثلاً اپنی اولادوں کو تنگ دستی کی غرض سے قتل نہ کرو ۔ روزی دین ےوالا تو اللہ ہے (بنی اسرائیل) بدکاری کو روکنے کے لیے  مگر حد سے تجاوز کرنے پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ (الفرقان) مسلمانوں کو تببیہ کردی گئی ہے کہ مسلمانوں کو قتل نہ کرو بلکہ یہ فعل انتہائی مکروہ اور گھناؤنا بتایا گیا ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہوگی (النساء) کچھ آیات میںقتل کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے بلکہ اسے کفر کی نشانی بتائی گئی ہے (التکویر، انعام،النحل، المومن، انفال، مائدہ) کفار کو انبیاء کے قتل پر زجروتوبیخ کی گئی ہے۔ (البقرہ، مائدہ، النساء) کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلہ میں قتل کرنے پر نفرین کی گئی ہے( النساء ، آل عمران) چنانچہ اس قسم کے قتال کو ناحق قرار دے کر اظہار تنفر کیا گیا۔ بیعت کرتے وقت امت میں داخل ہونے والا دوسری باتوں کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی بیعت کرتا تھا کہ وہ کسی کو ناحق قتل نہیں کرے گا۔ ایک مرتبہ حضورﷺ نے ناحق قتل کرنے والوں پر لعنت کی (دائرہ  معارف اسلامیہ)اسلام قبول کرنے کے بعد ایک آدمی کی جان و مال دونوں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ مسلمان کی جان اور اس کا مال ایسے ہی حرام ہیں جیسے ذوالحجہ میں حدود حرم کے اندر قربانی کا دن(البخاری، کتاب الدیات) قیامت کے دن سب سے پہلے بے گناہوں کے قتل کے مقدمات پیش ہوں گے۔ اب ذرا سوچیئے تو سہی جہاد اور قتل کا کیا تعلق ہے۔ یہ غلط خیال لوگوں کے  اذہان میں بٹھایا گیاہے کہ جہاد صرف قتل و غارت گری کا نامہے۔ سوچئے تو سہی کہ یہ کہاں تک درست ہے ۔ اسلام سے زیادہ کسی مذہب نے قتل پر نفرین نہیں کی۔ آئیے دیکھتے ہین کہ وہ کون سی وجوہات  اور اسباب ہیں جہاں قتل کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے۔

درحقیقت حضور کے لیے خیر کثیر تو آپ کے مراتب و درجات عالیہ کے لحاظ سے ظاہر ہی ہے مگر دنیا و عقبیٰ کے تمام انعامات الٰہی و کثرت علوم۔ کثرت معارف۔ کثرت حسنات ۔کثرت عبادات، حضورﷺ کا ہی حصہ ہیں مگر ان کے باوجود آپ کاکوئی قدم اللہ جل و علیٰ کی جانب سے کسی وقت کسی لمحہ بھی بغیر رہبری و رہنمائی کے نہ اٹھتا تھا۔ آپ کو قرآن کے ذریعہ تبلیغ دین کی ہدایات ملتی تھیں جو کہ تبلیغ دین مبین کا ذریعہ بنیں۔﴿وَيَقولونَ طاعَةٌ فَإِذا بَرَزوا مِن عِندِكَ بَيَّتَ طائِفَةٌ مِنهُم غَيرَ الَّذى تَقولُ وَاللَّـهُ يَكتُبُ ما يُبَيِّتونَ... ﴿٨١﴾...النساء
ترجمہ: ’’وہ تجھ سے کہتے ہیں کہ ہم مطیع ہیں مگر جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں ت وان میں سے ایک گروہ جوکچھ کہتا ہے۔ اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور جو کچھ یہ لوگ راتوں کو منصوبے بناتے ہین اللہ ان سے خبردار ہے۔‘‘
ملاحظہ فرمائیں یہاں باطل کو اپنا پیہم و شریک بنانے پر نفرین کی گئی ہے۔ اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ اجتماعی نظام کی بنیادیں نہ خراب ہوجائیں۔ مزید سورۃ کافرون میں کفر و باطل کی قدروں کو صریحاً الگ الگ کردیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجئے۔ اے کافرو! نہ تو میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرنے والا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرنے والے ہو۔ تمہیں تمہارے دین کا بدلہ ملے گا اور مجھے میرا بدلہ۔‘‘ (ماجدی)

یہ خطاب ان کافروں سے ہے جوکفر و ایمان کو جاہلیت و السام کے طریقوں کو بغض و عناد کے سبب ملانے جلانے کی تجویزیں کرتے تھے انتہائی منافقانہ اقدام زیر عمل لاتے تھے۔ یہ کوششیں عرب اور اس دور کے عرب کے ساتھ بھی مخصوص نہ تھیں بلکہ بار بار یہ کوششیں کی جاچکی ہیں اور اب بھی جاری و ساری ہیں کہ کفر و اسلام، شرک و توحید کو خلط ملط کرکے اصل دین سے فرار کی صورت نکال ڈالیں۔ اسلامی سوشلزم کی اسکیم ایک ایسے ہی افترا پرداز اور ملمع ساز ذہن کی تعمیر تھی۔ مگر قرآن میں صاف صاف فرمایا جاتا ہے کہ کہہ دو جب تک تم اپنے دین پرقائم ہو تمہارا شمار اہل توحید میں نہیں ہوسکتا اور جب تک میں اپنے مسلک پر قائم ہوں مشرک نہیں بن سکتا۔ کفر و اسلام کے درمیان کوئی نقطہ اشتراک نہیں ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے فرمایا کہ سورت کافروں میں اہل ضال سے تبریٰ و مفارقت کی تصریح نکلتی ہے اور اسی کا دوسرا نام بغض فی اللہ ہے۔

اس امر میں کوئی گنجائش نہیں کہ اسلامی حکومت کا فرض اوّلین یہ ہے کہ شعائر اللہ کے اصولوں پر سختی سے قائم رہے۔ اپنے اجتماعی نظام میں دورخی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرے۔ جبکہ اسلام کو فطری یکتائی پسند ہے۔جو لوگ اسلامی دستور حیات پر یقین نہیں رکھتے اور ان قوانین کے بارے میں استہزا کرتے ہیں۔ ان کوقرآن و سنت کی اطاعت پر آمادہ کیا جائے۔ جس کی بہترین صورت یہ ہے کہ سربراہ اور عمال حکومت پہلے خود اپنامحاسبہ کریں اور عوام الناس کو اسلامی شعائر کا عملی نمونہ بن کردکھائیں اور دیکھنے والوں کے لیے سراپا اسلام کا جیتا جاگتا پیکربن جائیں ۔مگر ایسا نہ ہو کہ ان کی گفتار و کردار میں تفاوت ہو اور عیرت و حمیت کا جوہر ایمان سے عاری ہو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: ﴿أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتـٰبَ أَفَلا تَعقِلونَ ﴿٤٤﴾...البقرة’’کیا تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کیے دیتے ہو اور تم کتاب پڑھتے ہو پھر کیوں نہیں سمجھتے۔‘‘ (البقرہ:44)
علاہ محمد الخضری نے جہاد کی اصطلاحی انداز میں تشریح جو بیان کی ہے وہ مختصر ہے اور پرمعنی بھی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ ظلم کے وقت مدافعت کے لیے جہاد یعنی جب دوسرا آپ پر حملہ کرے تو دین اور اسلامی ریاست کے تحفظ کی خاطر تلوار استعمال کی جائے۔
2۔ اگر دعوت اسلام میں کوئی اس طریقہ س رکاوٹ پیدا کرے کہ جو شخص ایمان لے آئے اس کو طرح طرح کی تکالیف پہنچا کر ابتلا و امتحان میں ڈالے تاکہ اس نے اپنے لیے جس عقیدہ کو پسند کیا اس سے پلٹ جائے یا جو شخص اسلام لانا چاہتا ہے اس کو اسلام لانے سے روک دیا جائے یا کسی داعی اسلام کو تبلیغ دعوت سے باز رکھے تو ان صورتوں میں اسلام کی مدافعت و حفاطت کے لیے تلوار سے جہاد ضروری ہے۔ (تاریخ فقہ اسلامی۔ دارالمصنفین)
قیام امن اور اصلاح معاشرہ میں ایسے لوگ جو حدود مملکت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کے درپےہوں۔جہاں دعوت دین کے دستوری اور قانونی راستے بند کردیئے جائیں اور خدا کے بندون کو انسانوں کی غلامی میں جکڑ لیا جائے تو شرکے فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لیے منکر کے تسلط کو توڑنے کے لیے قوت استعمال کی جائے۔ (اسلامی نظریہ حیات کراچی یونیورسٹی)
جہاد میں قتال کرنے کی فرضیت وضاحت سے بیان فرمائی  گئی ہے۔﴿كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ وَهُوَ كُرهٌ لَكُم وَعَسىٰ أَن تَكرَهوا شَيـًٔا وَهُوَ خَيرٌ لَكُم وَعَسىٰ أَن تُحِبّوا شَيـًٔا وَهُوَ شَرٌّ لَكُم وَاللَّـهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ ﴿٢١٦﴾...البقرة
ترجمہ: ’’مسلمانو! تم پر (خدا کے راستہ میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے۔ خواہ وہ تمہارے لیے بار خاطر ہی کیوں نہ ہو۔ ممکن ہے کہ تم ایک چیز ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاد بالسیف (قتال) ان مکارم حیات اور امر و نہی کے استحکام کے لیے فرض  کردیا گیا۔ جہاں اشاعت کلمۃ اللہ کے دیگر ذرائع ناکام ہوجائیں۔ تب اس مین چون و چرا کی گنجائش کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی کیونکہ جو اس کے فوائد کثیر اور اجران بے نظیر کے بارے میں علم انسانی بہت لا علم ہے اور یہ احکامات قطعی ہوگئے کہ قیام امن اور اصلاح معاشرہ میں منجملہ وہ تمام رکاوٹیں جو حدود اسلامیہ کو نقصان پہنچانے کے درپے آزار ہوں ان تمام کا صفیا کردینا اتنا ہی ضروری ہے۔ چاہے قتال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اس میں دریغ کرنا قطعاً نادرست ہے۔قتال کے متعلق جو پہلی آیت نازل ہوئی۔ ﴿وَقـٰتِلوا فى سَبيلِ اللَّـهِ الَّذينَ يُقـٰتِلونَكُم وَلا تَعتَدوا ...﴿١٩٠﴾...وَاقتُلوهُم حَيثُ ثَقِفتُموهُم وَأَخرِجوهُم مِن حَيثُ أَخرَجوكُم وَالفِتنَةُ أَشَدُّ مِنَ القَتلِ...﴿١٩١﴾...البقرة
ترجمہ:’’اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے زیادہ نہ بڑھ جاؤ کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور ان کو مارو جہاں پاؤ۔ اور ان کو نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے کیونکہ فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔‘‘
 امام ابن قیم کافرمانا ہے۔ ازروئے تحقیق ہر قسم کا جہاد فرض عین ہے۔ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ انواع جہاد میں کسی نہ کسی نوع سے جہاد کرے۔ چاہے قلم و زبان سے چاہے مال و سنان سے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جہاد بالنفس (جان کےساتھ جہاد کرنا) فرض کفایہ ہے۔ اور جہاد بالمال فرض کے متعلق دو قول ہیں کہ یہ فرض عین بھی ہے اور فرض کفایہ بھی (زاد المعاد)
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ تِجـٰرَةٍ تُنجيكُم مِن عَذابٍ أَليمٍ ﴿١٠﴾ تُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَرَسولِهِ وَتُجـٰهِدونَ فى سَبيلِ اللَّـهِ بِأَموٰلِكُم وَأَنفُسِكُم ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿١١﴾...الصف
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کی خبردوں (جو) تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پرایمان لاتے ہو اور اللہ کے راستے میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتے ہو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ! اگر تم جانتے ہو۔‘‘
ان آیات کریمہ سے حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص  راہ خدا میں جنگ کرنے والوں کی تعریف و فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اللہ کی راہ میں جان اور مال صرف کرنے والون کو عذاب سے نجات کا وعدہ فرمایا ہے۔ایسی تجارت کی ترغیب دی گئی ہے جس میں دولت و ملک گیری مقصود نہیں بلکہ صرف اللہ کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ الطاف عنایات کے بے پناہ وعدے شامل ہیں۔
قرآن نے سب معاملات میں انتہائی صبر و تحمل و برداشت کی تعلیم دی ہے۔ مگر اس تحمل و برداشت کو پست ہمتی۔ حق سے اعراض و مصالحت پر محمول نہ کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ صریح الفاظ میں دین اسلام میں خوبیاں پیدا کرنے کو اور مسلمانوں کو کسی دوسرے نظام حیات کو اپنے اوپر مسلط کرنے کی ممانعت کی ہے۔مسلح جہاد ، جہاد کی سب سے  مشکل اور صبر آزما قسم ہے۔مگر جب کوئی صورت باقی نہ رہے تو مسلمانوں کو دین کی سرخروئی کے لیے اپنا مال اور جان تک خدا کی  راہ میں صرف کردینے کی ہدایت کی ہے۔ یہاں بھی پابندیاں ہیں کہ طاغوتی طاقتوں کے مقابلہ میں اپنی اسلامی قوت استعمال کرو مگر کسی انسانیاگروہ کو جبر یہ مسلمان بنانے کی کلی و قطعی اجازت نہیں۔ جب کفار اسلامی ریاست کے باشندے بن کر اطاعت سے پھر جائیں یا کفار کے زیرنگیں مسلمان سب و شتم کا نشانہ بن جاویں اور اللہ کی راہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی استمداد کے طالب ہوں اور تم دیکھو کہ مسلمانوں کے انسانی حقوق پامال ہورہے ہین ۔ اور وہ لوگ حرارت ایمان  و غیرت ملی کے خلاف باطل کی ذلت و نامرادی کے گڑھے میں      دھکیلے جارہے ہیں۔اس وقت صبر و برداشت کو بالائے طاق رکھ کر راہ صواب میں نکل آنے والوں کے لیے اجر عظیم کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ قرآنی آیات سے مظہر ہے ملاحظہ فرمائیے۔
﴿وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقـٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ ... ﴿١٢﴾...التوبة
ترجمہ: ’’ اگر کفار اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اور تمہارے دین پر طعن کریں ت وان کفر کے پیشواؤں کو قتل کردو۔‘‘

ایک اور موقع پر ان لوگوں کے خلاف جہا د(قتال) کا حکم دیا گیا ہے جب کہ کفار کےملکوں میں مسلمانوں کے کمزور مرد ان کی عورتیں اور ان کے بچے موجود ہوں اور کفار ان کے مٹا دینے کے درپے ہوں۔﴿ما لَكُم لا تُقـٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّـهِ وَالمُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلدٰنِ الَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا أَخرِجنا مِن هـٰذِهِ القَريَةِ الظّالِمِ أَهلُها وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ وَلِيًّا وَاجعَل لَنا مِن لَدُنكَ نَصيرًا ﴿٧٥﴾...النساء
ترجمہ:’’ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد (قتال) نہیں کرتے اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ کمزور مرد ، عورتیں، بچے ایسے ہیںجو کہتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندوں نے ظلم کررکھے ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی پیداکر اور ہمارےلیے اپنی طرف سے کسی کو مددگار بنا۔‘‘

﴿فَقـٰتِل فى سَبيلِ اللَّـهِ لا تُكَلَّفُ إِلّا نَفسَكَ وَحَرِّضِ المُؤمِنينَ عَسَى اللَّـهُ أَن يَكُفَّ بَأسَ الَّذينَ كَفَروا ...﴿٨٤﴾...النساء
ترجمہ:  ’’ پس اللہ کی راہ میں جنگ کیجئے۔ آپ کو صرف اپنی جان ہی کی تکلیف چکانی ہے اور مسلمانوں کو جہاد کی طرف آمادہ کیجئے۔ امید ہے کہ اللہ کافروں کے خوف کو روک دے گا۔‘‘

﴿فَلا تُطِعِ الكـٰفِرينَ وَجـٰهِدهُم بِهِ جِهادًا كَبيرًا ﴿٥٢﴾...الفرقان
ترجمہ: ’’آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور اس (قرآن) کے ساتھ ان سے زبردست جنگ کریں۔‘‘
قرآن کے ساتھ جنگ کرنے کا مفہوم سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ منکرین اسلام کے سامنے قرآنی دلیلوں سے بات کرو اور اگر باز نہ آئیں تو قرآنی ہدایتوں کی روشنی میں ان سے قتال کرو جب تک تمہیں کامیابی میسر نہ ہو۔ اس نقطہ کو عبدالماجد دریا بادی نے اس طرح تفسیر کیا ہے کہ کافر تو چاہتے ہی ہیں کہ ان کی آزادی میں فرق نہ پڑنے پائے اور آپ (مسلمان) تبلیغ کے کام میں سست روی اختیارکریں۔ سو آپ ان کے کہنے پرنہ چلیں۔ آپ قرآن حکیم کے قائم کردہ دلائل حق کے ساتھ تبلیغ عام و تام جاری رکھیں۔فقہانے کہا کہ اعلان قرآن اور تبلیغ بالقرآن میں غایت سعی و جہاد واجب ہے۔
جنگ کی مصلحت کو خدائے علیم و حکیم جو عسر و یُسر، نفع و نقصان،موت و حیات کا مختار کل ہے سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نظام حیات و تعلیمات اسلام کے ذخائر و خزائن کا متعدد جگہ تفصیل سے ذکر کیاگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معمورہ شرک و کفر اور گہوارہ فسق و فجور میں پرورش پانے والے غلیظ منکرات سے جنگ کرنے کے  لیے بغیر افراط و تفریط احکامات جاری کردیئے جن کی فراست وژرف نگاہی بایں ہمہ عقل و شعور انسانیت کے لیے دلیل حجت ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔
﴿كُلَّما أَوقَدوا نارًا لِلحَربِ أَطفَأَهَا اللَّـهُ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا وَاللَّـهُ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ ﴿٦٤﴾...المائدة
ترجمہ: ’’یہ لوگ جب کبھی جنگ و خونریزی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کوبجھا دیتا ہے۔ یہ لوگ زمین پر فساد پیدا  کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ مگر اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
یہی فتنہ و فساد ، طمع و ہوس ، منافقت و عداوت، تعصب و تنگ نظری جیسی منکرات کی ایسی غلیظ پیداوار ہے جس کو حق تعالیٰ اس حد تک ناپسند فرماتا ہے کہ اس کے خلاف جنگ و جدل کا حکم دیتا ہے۔ ابن ماجہ سے حدیث مروی ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے روکو اور بدکار کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے حق کی طرف موڑ دو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پربھی دوسرے کا اثر ڈال دے گا اور تم پر بھی اس طرح لعنت کرے جیسے ان پر کی تھی۔‘‘ ایسے حکام اور سربراہان سلطنت جن کا مطمع نظر اتباع خواہش ،نفس پرستی، ظلم پروری ہو ان کی پیروی سے منع کیا گیا ہے۔ فتنہ ریزی کی اقامت اور استبدائیت کی استقامت کے خلاف پورے زور شور سے تبلیغ جہادکی تلقین کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

﴿وَلا تُطيعوا أَمرَ المُسرِفينَ ﴿١٥١﴾ الَّذينَ يُفسِدونَ فِى الأَرضِ وَلا يُصلِحونَ﴿١٥٢﴾...الشعراء  ﴿ووَإِذا تَوَلّىٰ سَعىٰ فِى الأَرضِ لِيُفسِدَ فيها وَيُهلِكَ الحَرثَ وَالنَّسلَ وَاللَّـهُ لا يُحِبُّ الفَسادَ ﴿٢٠٥﴾...البقرۃ اور جب وہ حاکم بنتا ہے تو زمین پرفساد پھیلانے کی کوشش کرتا ہے اور کھیتوں اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘ فساد کی ایک جامع تعریف قرآن میں یہ کی گئی ہے کہ ان روابط اور تعلقات کو خراب کرنا اور ان رشتوں پر تیشہ چلانا جو فی الحقیقت انسانی تمدن کی بنیاد ہیں۔‘‘ (جہاد فی الاسلام) والذین ینقضون عھد اللہ من بعد ............... اللعنۃ ولھم سوء الدار (رعد:25) ترجمہ: ’’ اور جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان  تعلقات کو قطع کردیتے ہیں جنہیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیاہےاور زمین پر فساد پھیلاتے ہیں۔ انہی پر اللہ کی لعنت ہے اور وہی لوگ  ہیں جن کے لیےبُراٹھکانہ ہے۔‘‘

اب آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ جن اسباب کے خلاف اسلام نے قوت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ان میں سےممتاز نوعیت فتنہ و فساد کی ہے جہاں جنگ کرنے کو ناگزیر بتایا گیا  ہے۔ یہ بدی ان منکرات میں سے ہے جن کا استیصال بغیر تلوار کے استعمال کے ناممکن ہے۔ فتنہ کے لغوی معنی امتحان  و آزمائش کے ہیں۔ خواہ وہ فائدے کے لالچ اور نعمت کی چاٹ اور محبوب چیزوں کی بخشش کے ژریعہ سے ہو یا نقصان کے خوف اور مصائب  کی مار اور ایذا رسانی کے ذریعہ سے۔ مودودی صاحب نے اس کی اس طرح تشریح کی ہے کہ یہ آزمائش انسان کی طرف سے ہو تو یہ طلم کہلاتا ہے۔ انسان جب کسی انسان کو فتنہ میں ڈالتا ہے تو اس کی غرض اس کی آزادی ضمیر سلب کرنے کی ہوتی ہے اور اس کو اپنی زندگی پر مجبور کرنا مقصود ہوتا ہے اور اسے یہ فتنہ اخلاقی و روحانی پستی میںمبتلا  کردیتا ہے۔ اس لیے اس کے خلاف جنگ کرنا فرض عین بن جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

قاتلو ھم حتی لا تکون فتنة (ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے) الا تفعلوہ تکن فتنة فی الارص و فساد کبیر (اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد ہوگا) والفتنة اشد من القتل (اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ بری چیز ہے) فتنہ و فساد کی بیخ کنی میں خالق الارض کی رضا شامل ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ تمام روئے زمین کا خالق ہے۔ اس واسطے اس کو کسی خاص ملک سے یا کسی خاص نسل سے اس قبیح فعل کی دفعگی مقصود نہیں ہے بلکہ اس کو اپنی تخلیق شدہ زمین کے کسی حصہ پر بھی فتنہ و فساد گوارا نہیں۔ حضور محمدﷺ سے زیادہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی منظور نہ تھی۔ آپ نظام تمدن کو فساد سےبچانے کے لیے۔ابنائے نوع میں پاکیزگی اور معروف شعور کی تکمیل  کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے تھے۔ آپ کی  حیات طیبہ امر و نہی سے پُر ہے اور اس کی بازیابی کے لیے ہمیشہ جہاد کے لیے تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ آپ سے ایک حدیث مروی ہے۔ حضور محمدﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے۔ پھر زندہ کیا جاوے۔ پھر قتل کیا جائے۔ پھر مجھے زندہ کیا جائے اور فرمایاگ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس روزے دار کی سی ہے جو اللہ کے احکام پر عامل و قائم ہے۔ یہاں تک کہ مجاہد اللہ کے راستہ سے واپس آجائے جس سے اللہ کا ودہ ہے کہ وہ اس سے وفا کرے گا۔ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اسے اجر سمیت واپس کرے گا۔‘‘ (ابن قیم۔ زاد المعاد) اسی طرح ایک اور حدیث ہے : ’’جو شخص مرجاتا ہے اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے۔ مگر جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور قبر کے عذاب سے بری ہوجاتا ہے۔ امام احمد نے آپؐ سے حدیث مروی کی کہ اللہ کی راہ میں ایک رات جو پہرہ دیتا ہے ۔ اس سے افضل ہے کہ وہ ایک ہزار رات قیام کرے اور ہزار ایام کے روزے رکھے (ترجمان السنہ)

جنگ کے اصولوں میں بھی جو رحم قانون قدرت کے موافق ہے اسلام نے اس میں بھی فروگزاشت نہیں کی۔ عورتوں کو،  بچوں کو، بوڑھوں کو اور جو لڑائی میں شریک نہ ہو ان کو قتل کرنے کی ممانعت کی ہے۔ عین لڑائی میں اور صف جنگ میں جو مغلوب ہوجائیں ان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ صلح کے معاہدوں کو اور امن کو ہر حالت میں قائم رکھنے کی رغبت دلائی ہے۔ باغوں، کھیتوں، مکانوں کوجلانے کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ قیدیوں کواحسان  رکھ کر یا فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔ نہایت ظالمانہ طریقے سے مثلہ کرنے اور اذیتیں پہنچا کر قتل کرنے کو قطعاً معدوم کردیا۔ الغرض صلاح اور فلاح، استقلال قوانین فطرت کی بقا کے لیے میدان کارزار میں بھی راہ صواب پر چلنے کی ہدایتیں موجود ہیں۔ اس سے زیادہ جنگ و جدل میں مصلحت بینی رحم و عدل اور کیا ہوسکتا ہے۔ بروایت عبداللہ ابن عباس حضور محمدﷺ نے ایک حدیث بیان فرمائی کہ آپ سپہ سالاروں کو روانہ کرتے وقت ان کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور جو مسلمان ساتھ ہون ان سے عمدہ برتاؤ کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔نیز یہ فرماتے کہ اللہ کی راہ میں اللہ سے کفر کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ خیانت قطعاً نہ کرنا، غداری نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، کسی عورت، بچہ یا بورھے کو جو جنگ میں شریک نہ ہو قتل ہرگز نہ  کرنا۔‘‘ (کتاب الخروج)

اب یہ بات سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ جو قوتیں اپنے مادی اسباب و علل کے بل بوتے پر اللہ رب العزت کے نام لیواؤں کو ذلت و خواری میں مبتلا کرڈالیں اور مدعیان ایمان کو ایمان سوز اذیتوں سے معتوب کریں۔ ان کی زجر و توبیخ کے لیے اپنے تمام اسباب و علل اور تدبیروں کو مجتمع کرکے خداوند قدوس نے تلوار پکڑنے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ حکم دیا ہے۔ یہی لڑائی میں مقتولوں کو دائمی عزت و ثواب کا وعدہ  فرمایا ہے۔ یہی لڑائی ہے جس میں لڑنے والوں  کی فضیلتوں کے قرآن اور احادیث میں بے شمار اذکار موجود ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کی لڑائی زیادتی اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ ایسی لڑاوی قانون قدرت کے منافی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس لڑائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور فلاح اخروی کے علاوہ کچھ اور بھی  ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی مکارم اخلاق کی سربلندی کے لیے نہیں ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی خدائے عزوجل کی مرضی کے خلاف  ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ یہ لڑائی کے معنی و محاسن مغلوب و مجبور مسلمانوں کی امداد اور ظلم و عدوان کے طاغوتوں کو مسمار کرنےکے علاوہ کچھ اوربھی نکل سکتے ہیں۔