او رایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (مشکوٰة باب الاعتصام) اہل کتاب کوئی بات سنائیں تو ان کو سچا کہو اورنہ جھوٹا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو شے ہم سے غائب ہے اس کا وجود اور عدم اعتقاد کے لحاظ سے برابر ہے یعنی محتمل ہے ہو یا نہ ہو۔ جب دونوں طرف برابر ہوئے تو بتلائیے۔ آپ نے آج تک کون سی دلیل پیش کی ہے۔ جہاں تک ہم نے آپ کے تعاقبات پر نظر کی ہے۔ صفر ہی پایا۔ آپ کوئی صریح حدیث پیش کریں یا کسی سلف کا قول پیش کریں تو کچھ آپ کے تعاقب کی قدر بھی ہو۔ ورنہ ویسے ورق سیاہ کرنے سے کیا فائدہ؟
حافظ ابن حجر او رعلامہ عینی : کیا حافظ  ابن حجر وغیرہ کے محض خیال سے علامہ عینی وغیرہ چپ ہوسکتے ہیں ۔خاص کر جب علامہ عینی وغیرہ کے ہاتھ میں حدیث کا لفظ صریح ھذا ہو جس کا حقیقی معنی محسوس ۔ مبصر منکر ہے۔ تو ایسی صورت میں حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور علامہ عینی وغیرہ پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ فرضی طور پر تسلیم کرلیاجائے کہ عدم اصل ہے تو بھی علامہ عینی کا پلڑا بھاری رہتا ہے کیونکہ ایسے بے دلیل اصل کو دلیل کے مقابلہ میں ترک کردیا جاتاہے او ریہاں ھذا کا لفظ دلیل موجود ہے ہاں اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ھذا کبھی غیرمحسوس یا غیر حاضر میں بھی  استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ یہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے او رحقیقی معنی مجازی پر مقدم ہے اسلیے ترجیح مکشوف ہونے کو ہے۔
مولانا عبدالجلیل: انہوں نے جمع الجوامع سیوطی۔ مطول، رضی شرح کا فیہ، قرطبی وغیرہ کتب کے حوالہ سے ثا بت کیا ہے کہ ھذا قریب اور بعید دونوں میں مستعمل ہے۔ علاوہ ازیں کشف بالاتفاق مستجیل ہے۔ مالم یدل الدلیل علیہ والاصل عدم الکشف نیز استعمال لفظ ھذا کا ایسے مواضع میں کالمشاھدہ کی بنا پر ہوتا ہے ۔مطول میں ہے۔ "اصل الاسماء الاشارة ان یشاربھا الی شاھد محسوس غیر مشاھدا والی ما یستحیل احساسہ مشاھدته فمصیره کالمشاھد رضی شرح کافیه" میں ہے۔ "الاصل ان لا یشار باسماء الاشارة الا الیٰ مشاھد محسوس قریب او بعید فلان اشیربھا الی محسوس غیر مشاھد نحوتلک الجنة فمصیره کالمشاھد وکذلک ان اشیربھا الی ما تستحیل احساسه نحوذ الکم اللہ"۔ کشف کے ممکن او رناممکن کو جانے دیجئے کیا نبیﷺ نے مسئلہ القبور میں تصریح کی ہے کہ میں قبر میں ہر مسئول کے سامنے مکشوف ہوں گا۔ اگر نہیں فرمایا تو پھر یہ  خیال باطل۔ کیا محض توہم کی بنا پر یہ بھی نہیں کہ لفظ ھذا محسوس مبصر کے علاوہ مستعمل ہی نہ ہوتا ہو بلکہ اہل عرب غیر شاہد میں اسم اشارہ کوکالمشاھد قرار دےکر  استعمال کرتے ہیں:
محدث روپڑی: مولانا عبدالجلیل صاحب کےتعاقب کاجواب دیتے ہوئے محدث روپڑی نے لکھا ہے یہ جتنی عبارتیں آپ نے ذکر کی ہیں۔ ان  سب کا حاصل یہ ہے کہ کبھی ھذا بعید یا غیر محسوس یا غیر حاضر میں استعمال ہوتاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ استعمال حقیقی ہے یا مجازی آپ کی اپنی عبارتوں سے ظاہر ہے کہ یہ استعمال مجازی ہے اب مجاز کا حکم سنئیے۔
مولانا اسماعیل شہید  اصول فقہ میں لکھتے ہیں:
واللفظ لایحمل علی المعنی المجازی الا بقرینة (صفحہ 70)
یعنی لفظ کا معنی مجازی بغیر دلیل کے نہیں لیا جاسکتا۔ بتلائیے آپ نے یہاں کون سی دلیل قائم کی ہے کہ  یہاں ھذا غائب کے لیے ہے کیابے دلیل ہی حافط روپڑی  کومسلک محدثین سے الگ کررہے ہیں۔مولوی عبدالجلیل صاحب سے اس لیے ہم نے کہا تھا کہ ایک من علم کے لیے  دس من عقل چاہیے ۔ مگر آپ ایسے ہی اناپ شناپ لکھتے چلے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ آپ کو سمجھ دے۔ آمین۔
ڈبل غلطی: مولوی عبدالجلیل بعض عبارتیں بے محل نقل کرتے جاتے ہیں بلکہ بجائے فائدہ کے ان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ مطول کی دوسری عبارت (تدیکون لا ما العھد) کا یہاں کوئی تعلق نہیں بلکہ اس میں یہ بتایا ہے کہ کبھی لام بھی حاضر کے لیے آتا ہے جس سے ایک محل اس کا اسم اشارہ ھذا ہے مگر مولوی عبدالجلیل بے سوچے سمجھے اناپ شناپ لکھتے چلے جاتے ہیں جس سے ناواقفوں کو معلوم ہو کہ دلائل کی بھرمار ہورہی ہے لیکن حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ تضیع اوقات سے محفوظ رکھے۔ آمین
اس عبارت میں مولوی عبدالجلیل نے لکھا ہے کہ کشف بالاتفاق مستحیل ہے یہ بالکل سفید جھوٹ ہے۔ جب آخرت کے معاملہ میں بین ان یکون و بین ان لایکون ہے یعنی محتمل ہے کہ ہو یا نہ ہو چنانچہ اوپر ذکر ہوچکا ہے توپھربالاتفاق مستحیل کہنا کیونکہ صحیح ہوگا۔ بلکہ ممکن ہوگا اور اگر بالفرض مستحیل ہو تو اس کی وجہ یہی ہوگی کہ وہ خرق عبادت ہے۔ سو یہ دنیا کے لحاظ سے ہوسکتا ہے نہ آخرت کے لحاظ سے کیونکہ عادت وہ طریقہ جاریہ ہے جو خدا نے  کسی سلسلہ نظام کے قیام کے لیے تکوینی طور پرمقرر کردیا ہے او رچونکہ دنیا کے خرق عادات آخرت میں عموماً طریقہ جاریہ ہیں۔ اس لیے آخرت کے معاملہ کو دنیا پرقیاس کرکے مستحیل کہنا ڈبل غلی ہے۔ مثلاً مردہ میں روح ڈالے جانا، اس کابیٹھ جانا، منکر نکیر کا اس سے سوال و جواب کرنا، قبر کا تنگ ہوجانا یا صاحب قبر کا میت سے باتیں کرنا، جنت اور دوزخ کی طرف سے کھڑکی کاکھلنا یا سانپ بچھو کا اس پر مسلط ہونا وغیرہ وغیرہ یہ تمام سلسلہ دنیا کے لحاظ سے خرق عادت ہے، مگر  آخرت میں یہ طریقہ جاریہ ہے اس لیے یہ موافق عادات ہے پس کشف کو آخرت کے لحاظ سےمستحیل کہنا یہ سخت غلطی ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو بات ہم سے غائب ہو۔ اگر اس پر دلیل نہ ہوتو وہ بین ان یکون و بین ان لایکون ہے جیسا کہ مولانا اسماعیل شہید نے اس کی تصریح کی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آخرت کو دنیا پر قیاس کرنا ٹھیک نہیں اور کشف چونکہ اخروی معاملہ ہے اس لیے اس کو مستحیل نہیں کہہ سکتے بلکہ ممکنات سے کہیں گے۔
خلفاء کے اقوال: اب ہم خلفاء کے اقوال سے اور احادیث سے اس کا ممکنات سے ہونا ثابت کرتے ہیں۔مگر پہلے مولوی عبدالجلیل کی پیش کردہ احادیث او رعلماء کے اقوال بیان کیے جاتے ہیں۔
مولوی عبدالجلیل صاحب نے لکھا ہے:
’’علاوہ ازیں اگر حدیث کے الفاظ کی طرف بھی بنظر غائر توجہ کی جائے تو بھی اس امر کی مزید تشفی ہوسکتی ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن حبان، حاکم، بیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں:
ماتقول فی ھذا الرجل الذی کان فیکم
ابن مردویہ کے لفظ حضرت انسؓ سے یہ ہیں:
فقال کیف تقول فی ھذا الرجال الذی کان بین اظھر کم الذی یقال له محمد۔
مسند احمد و بیہقی میں حضرت عائشہؓ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
فیقال ماھذا الرجل الذی کان فیکم
بیہقی کتاب الاعتقاد:مصنف ابن ابی شیبہ جزرابع کے الفاظ ابوہریرہؓ سے یہ مروی ہیں:
فیقال له ارأیتک ھذا الرجل الذی کان فیکم ای رجل ھو وماذا لقول فیه وماذ اتشھد به علیه فیقول ای رجل فیقال الذی کان فیکم فلا یھتدی لا سمه حتیٰ یقال له محمد۔
ابن ابی شیبہ جز رابع ابن جریر۔ ابن حبان میں حضرت ابوہریرہؓ کے یہ الفاظ ہیں:
فیقول عم تسئلو فی فیقولون ارءیت ھذا الرجل الذی کان فیکم ما تقول به ما تشھد به علیہ قال فیقول محمد فیقال له لم۔
مسند احمد، ابی داؤد، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ کے لفظ براء بن عازب سے یہ الفاظ مروی ہیں:
فیقولان له ما ھذا الرجل الذیبعث فیکم
کتاب الروح ابن قیم میں براء کے لفظ
ماھذا النبی الذی بعث فیکم
ابن جریر، ابن ابی حاتم بیہقی میں ابن عباسؓ کےلفظ
واذا قیل له من الرجل الذی بعث الیکم ولم یرجع الیھم شیئاً فلذلک قوله و یضل اللہ الظالمین۔
میرے معزز دینی برادر! آپ نے الفاظ کو تو ملاحظہ فرما لیا جو صاف اور صریح روز روشن کی طرح چمک رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا وجو دمکشوف نہیں ہواکرتا۔ حاضر محسوس مبصر کے حق میں یہ الفاظ ہرگز موزون نہیں۔ اس قسم کے الفاظ غیر حاضر ہی کےلیے  موزوں ہیں بشرطیکہ ایمان داری سے کام لیا جائے ۔(اہل حدیث 23 جولائی 1936ء)
محدث روپڑی: ان حادیث کا جواب 5 جون 1936ء کے تنظیم میں مفصل دے چکے ہیں۔ ہمارا جواب نقل نہیں کیا یہ احادیث ہمارےموافق ہیں کیونکہ  ان  میں وہی ھذا کا لفظ ہے۔ جو شے کے سامنے کو چاہتا ہے۔ حقیقی معنی اس کا یہی ہے۔ غیر حاضر میں اس کااستعمال مجازی ہے اور مجازی معنی حقیقی کے مقابلہ میں معتبر نہیں۔
پھر ہم پوچھتے ہیں۔ ان احادیث میں کون سا لفظ ہے جو غیر حاضر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔’’الذی‘‘ کا لفظ ہے یا ضمیر غائب ہے یا کوئی اور لفظ ہے۔ اگر کوئی اور لفظ ہے تو بتلائیے ورنہ ’’الذی‘‘ اور ضمیر غائب تو غیر حاضر ہونے پر دلالت نہیں کرتے ۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿وَإِذا رَءاكَ الَّذينَ كَفَروا إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهـٰذَا الَّذى يَذكُرُ ءالِهَتَكُم... ﴿٣٦﴾...الأنبياء
’’اے محمد! کفار جب تمہیں  دیکھتے ہیں۔ تو مذاق سے کہتے ہیں کیا یہ وہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو بُرائی سے یاد کرتا ہے۔‘‘
نیز قرآن مجید میں ہے: ﴿وَإِذا رَأَوكَ إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهـٰذَا الَّذى بَعَثَ اللَّـهُ رَسولًا ﴿٤١﴾...الفرقان
’’جب کفار تجھے دیکھتے ہیں تو مذاق سے کہتے ہیں ۔کیا یہ وہی شخص ہے جس کو خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
ان آیتوں میں باوجود حاضر ہونے کے الذی بھی ہے اور یذکر میں ضمیر غائب  بھی ہے اس طرح عربیت کے لحاظ سے انا الذی یقال لی زید جس میں ضمیر غائب ہے زیادہ فصیح ہے حالانکہ سامنے ہوتا ہے ۔ناظرین کرام خیال فرمائیں کہ ہم عربیت کے  محاورات پیش کررہے ہیں اور مولوی عبدالجلیل ویسے ہی کہہ رہے ہیں کہ:
’’یہ الفاظ روز روشن کی طرح چمک رہے ہیں او رنبی ﷺ کا وجود منکشف نہیں ہوتا‘‘
مولوی عبدالجلیل مسئول یعنی تشہد میت کے جوابات نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فیقول اشھد انه رسول اللہ وانه جاء نا بالبینات من عنداللہ فصد قناہ بیہقی میں ابوہریرہؓ کے لفظ فیقول ھو رسول اللہ عبد بن حمید کے لفظ انسؓ سے فیقول انه رسول اللہ و عبدہ ترمذی کےلفظ ابوہریرہؓ سے فیقول ماکان یقول ھو عبداللہ و رسوله ابن جریر ابن حبان کے لفظ فیقول انه رسول اللہ مسند احمد کے لفظ اسماءؓ سے قال اشھدانه رسول اللہ قال وما یدرک ادرکته قال اشھد انه رسول اللہ و عبدہ بخاری کے لفظ اسماءؓ سے فاما المومن والموقن فیقول محمد رسول اللہ جاء نا بالبینات والھدیٰ۔
احمد۔ داؤد۔ نسائی صحیحین کے لفظ حضرت انسؓ سے فاما المؤمن فیقول عبداللہ و رسوله تعجب ہے کہ جب مکشوف ہوکر سامنے ہی ہوتے ہیں تو پر انه رسول اللہ اشھد انه عبداللہ و رسوله ھو محمد رسول اللہ اشھدانه رسول اللہ کہنے کی کیا ضرورت تھی وہی ھذا سے جواب دے دیتے۔ حالانکہ یہاں غائب سے جواب ظاہر ہے کہ یہاں کوئی شے مکشوف نہیں کہ جسے ھذا وغیرہ سے جواب کی ضرورت واقع ہوتی۔ یہ الفاظ مکشوفیت کے ابطال پربہت بڑی دلیل ہیں۔
محدث روپڑی: مولوی عبدالجلیل ضمیر غائب کو مکشوفیت کے ابطال پر اوّل نمبر کی دلیل بتاتے ہیں مگر ان بیچاروں کو معلوم نہیں کہ ضمیر غائب حضور کے منافی نہیں چنانچہ اوپر عربی کی امثلہ گزر چکی ہیں زیادہ اطمینان کے لیے ہم وضاحت کیے دیتے ہیں۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿قالَ بَل فَعَلَهُ كَبيرُهُم هـٰذا فَسـَٔلوهُم إِن كانوا يَنطِقونَ﴿٦٣﴾ فَرَجَعوا إِلىٰ أَنفُسِهِم فَقالوا إِنَّكُم أَنتُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٦٤﴾ثُمَّ نُكِسوا عَلىٰ رُءوسِهِم لَقَد عَلِمتَ ما هـٰؤُلاءِ يَنطِقونَ ﴿٦٥﴾...الأنبياء  ابراہیم﷤نے کہا یہ فعل ان بتوں کے بڑے نے کیا ہے جو یہ ہے۔ اگر یہ بول سکتے ہیں تو ان سے دریافت کرلو۔ کفار نے اپنے اندر سوچ کر آپس میں کہا کہ تم ہی ظالم ہو۔ پھر سروں پر اوندھے ہوگئے کہنے لگے تجھے معلوم ہے کہ یہ بول نہیں سکتے۔ یہ سارا بت خانے کا واقعہ ہے۔ کفار نے جب بت ٹکڑے ٹکڑے دیکھے تو ابراہیم ﷤ کو اس مجمع میں بلا کر پوچھا۔ ابراہیم ﷤ نے بڑے بت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ اس کا فعل ہے۔ ان بتوں سے پوچھو یہ خود ہی بتا دیں گے کہ ان کو کس نے توڑا ہے تو کفار نادم ہوئے پھر ضد میں آکر بتوں کی امداد پر تل گئے او رکہنے لگے ہم ان سے کیا پوچھیں یہ کوئی بولتے ہیں۔
اس واقعہ میں بتوں کے حق میں پہلے ضمیر غائب کا استعمال ہے پھر اسم اشارہ کا اس سے معلوم ہوا کہ حاضر میں اسم اشارہ کا استعمال ضروری نہیں۔
مولوی عبدالجلیل لکھتے ہیں:
حضرات! شراح حدیث و محدثین کرام فرماتے ہیں:
عون المعبود جلد 3 صفحہ 316 میں ہے:
ماکنت نقول فی ھذا الرجل محمد ولم یقولا ما تقول فی ھذا النبی وغیرہ من الفاظ التعظیم لقصدالا متحان للمسئول اذا ربما تلقن تعظیمہ من ذالک ولکن یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت۔
علامہ  سناوی تفسیر صفحہ292 میں فرماتے ہیں:
قوله ما کنت فی حیاتک (تقول فی ھذا الرجل) عبریه لا ینحوھذا النبی امتحانا للمسئول لئلاتیلقن منه۔
نیز صفحہ 298 ج1، کسوف میں فرماتے ہیں:
(ما علمک بھذا الرجل) انما تقول له الملکان السائلان ما علمک بھذا الرجل ولا یقولان رسول امتحانا وغرابا علیه لئلاتیلقن منھا اکراما النبی صلی اللہ علیه وآله وسلم فوقع مرتبة فیعظمه تقلید الھما لا اعتقادا ولھذا یقول المؤمن ھو رسول اللہ۔
محدث روپڑی:مولوی عبدالجلیل کو اتنی بھی خبر نہیں ۔ ان سب عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر ھذا الرجل کہہ کر سوال کیوں کرتے ہیں۔ ھذا النبی وغیرہ کیوں نہیں کہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں سوال سے میت جواب نہ سمجھ جائے۔کیونکہ جب سوال نبی یا رسول کا لفظ ہوگا تو میت سمجھ لے گی کہ یہ کدا کا رسول ہے تو سوال کا کیا فائدہ؟ بس یہ ان عبارت کا خلاصہ ہے۔ ان میں متنازعہ فیہ مسئلہ کا نام و نشان نہیں۔ بلکہ اور سنئیے مولوی عبدالجلیل کے مضمون میں منکرنکیر کے سوالات کی روایتیں گزر چکی ہیں۔ ان میں ھذا النبی۔ من الرسول موجو د ہے اب مولوی عبدالجلیل یا تو ان علماءکی تردید کریں یا ان روایتوں کی تردید کریں۔ دوسری صورت میں ہم پوچھیں گے ہمارے سامنے (روایات مردودہ کیوں پیش کیں اگران علماء کی تردید کریں گے تو ہم سوال کریں گے کہ جب آپ خود علماء کی مخالفت کرتے ہیں تو ہم پر ان کی مخالف کا کیوں الزام لگاتے ہیں۔ اگر سوالات کی مختلف صورتیں قرار دی جائیں تو ہمارا بھی حق مختلف قرار دیں مثلاً کہیں کہ جن میں ھذا ہے ان میں کشف ہے جن میں ھذا نہیں ان میں کشف نہیں               ؎
بنطق آدمی بہتر است ازدواب
وہ اب از توبہ گر نہ گوئی ثواب
ہم نے ابتدا میں وضاحت کردی ہے کہ اس مسئلہ میں د واحتمال ہیں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ رسول خداﷺ کے اوصاف کا تذکرہ کرکے میت سے سوال کیا جاتا ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ درمیان سے پردہ اٹھایا جاتا ہے۔ نبیﷺ کا وجود مبارک میت کو قریب  نظر آنے لگتا ہے۔ اور منکر نکیر ما تقول فی ھذا الرجل وغیرہ الفاظ کہہ کر میت سے سوال کرتے ہیں۔ حضرت محدث روپڑی نے دوسرے احتمال کو ترجیح دی ہے۔ اس کی جو انہوں نے وجوہات بیان کی ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
$1(1)  منکر نکیر کے سوال میں لفظ  ھذا ہے۔ جس کا استعمال مبصر قریب کے لیے ہوتا ہے۔ ھذا کا یہ حقیقی معنی ہے۔ جب حقیقی معنی بن سکتا ہو تومجازی معنی نہیں لینا چاہیے
$1(2)  کوئی نص صریح نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ نبیﷺ کے اوصاف کا تذکرہ کرکے میت سے سوال ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس حدیث میں اسم اشارہ ھذا کے لفظ سے یہ معنی راحج معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے وجود باجود اور میت کے درمیان سے پردہ اٹھا دیا جاتا ہے اور آپ کا وجود مبارک میت کو قریب نظر آنے لگتا ہے۔ ھذا کے حقیقی معنی کا یہ تقاضا ہے۔
$1(3)  کشف حجاب کے اس مسئلہ کا تعلق عالم برزخ سے ہے۔ وہاں کا کوئی معاملہ نہ خرق عادت ہے او رنہ تجربہ او رمشاہدہ کے خلاف کہہ کر اس کا انکار کیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں جو امر خرقی عادت ہے عالم برزخ میں وہ عادت کے مطابق ہے۔ جیسے قبر کا فراخ اور تنگ ہونا۔ قبر کا میت سے باتیں کرنا۔ جنت  او ردوزخ کی طرف کھڑکی کا کھلنا۔ علامہ قسطلانی نے بھی کشف کی صورت کی ترجیح کا اس لیے انکار نہیں کیا کہ وہ خرق عادت ہے بلکہ یہ کہا ہے : قیل یکشف للمیت حتی یری النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھی بشریٰ عظیمة للمؤمنین ان صح یعنی مؤمن کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ نبیﷺ اور میت کے درمیان سے  حجاب دور ہوجاتا ہے او رمومن کو آپ کا وجود قریب دکھائی دینے لگتا ہے ۔ اگر صحیح حدیث سے یہ بات ثابت ہوجائے ۔ جہاں تک ہمارا علم کام کرتا ہے اس بارہ میں کوئی صحیح حدیث صحیح نہیں۔ قائل کے پاس ھذا اسم اشارہ دلیل ہے جس کا اطلاق حقیقتاً مشار الیہ مبصر حاضر پر ہوتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ھذا کا مشار الیہ وہ ہو جو ذہن میں ہے۔ مگر یہ معنی مجازی ہے۔ مجازی کہہ کر دوسرے مسلک کی کمزوری بیان کی ہے۔
$1(4)  کشف اور عدم کشف کے بارہ میں نہ کوئی نص ہے اور نہ اس حدیث کی تشریح میں سلف کا کوئی قول ہے تو اس صورت میں مرفوع حدیث کے لفظ ھذا کے حقیقی معنی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کشف کے مسئلہ کو ترجیح دے تو اس کامسلک اس سے زیادہ مضبوط ہے جس کے پاس ھذا کی تشریح میں نہ حدیث ہے او رنہ سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ ھذا مشار الیہ ذات نہیں بلکہ صفات ہیں۔ آخری میں محدث روپڑی فرماتے ہیں:
اس مسئلہ میں تین احتمال ہیں ایک یہ کہ کشف ہوتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی صورت مثالی پیش ہوتی ہے۔ تیسرا یہ کہ صرف اوصاف پر کفایت ہوتی ہے۔ صورت مثالی کی وجہ یہ ہے کہ ھذا اسم اشارہ قریب کے لیے ہے اور ایک وقت میں ہزار میتوں سے سوال ہوتا ہے تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ بیک وقت آپ سب جگہ حاضر ہوں اس لیے صورت مثالی مراد ہے۔مگر اس پر شبہ ہوتا ہے کہ اگر سب میتوں سے ہذا کے ساتھ سوال ہو تو یہ اعتراض پڑتا ہے۔ اگر بعض سے ہو جس کی صورت یہ ہو کہ جب ایک سے سوال ہو تو اس وقت دوسری جگہ کسی اور سے نہ ہو تو پھر کوئی اعتراض نہیں اور احادیث میں سب سے ایک طرح سے سوال ثابت نہیں ہوتا  بلکہ کئی طرح سے ثابت ہوتا ہے پس یہاں یہ اعتراض درست نہیں۔
کشف: کشف کی وجہ یہ ہے کہ ھذا میں مخاطب کی نظر میں قریب شرط ہے سو کشف ہوکر رسول اللہ ﷺ میت کے قریب معلوم ہوتے ہیں جیسے آفتاب کی باب حدیث میں آیا ہے کہ میت کو عصر کے وقت پر معلوم ہوتا ہے۔
جو علماف صرف اوصاف کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں عدم کشف اور عدم مثال اصل ہے او رھذا کبھی حاضر فی الذھن کے لیے بھی آتا ہے اس لیے صرف اوصاف کا قول ٹھیک  ہے۔ مگر اس پر اعتراض پڑتا ہے کہ اوّل تو اس محل میں عدم کو اصل کہنا ٹھیک نہیں کیونکہ آخرت کا معاملہ ہماری آنکھوں سے غائب  ہے۔ اس لیے اپنے خیال سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صورت مثالی یا کشف نہیں ہوتا۔ بالفرض اس محل میں عدم کو اصل مان لیں۔ تو پھر دلیل سے ایسے بے دلیل اصل کو چھوڑا جاتا ہے او ردلیل یہاں ھذا کا  لفظ ہے او ریہ کہنا کہ کبھی ھذا حاضر فی الذھن کے  لیےبھی آتا ہے تو یہ مجازی معنی ہے اور حقیقی معنی پر مقدم ہوتا ہے جب تک کوئی دلیل نہ ہومجازی معنی پر لفظ کو حمل کرنا جائز نہیں۔
کشف مستحیل نہیں ہے: یہ کہنا بھی درست نہیں کہ کشف مستحیل ہے۔ حافظ ابن حجر، قاضی عیاض وغیرہم کے اقوال کو دیکھا جائے تو وہ صرف انکاری اور تردیدی اقوال ہیں۔ ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ان کا اعتقاد و عدم کشف ہے یا عدم صورت مثالی ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کا اعتقاد نہ کشف ہو اور نہ عدم ہو۔ کیونکہ ان کے خیال میں کسی طرف دلیل نہیں او رکسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ کشف بالا تفاق مستحیل ہے۔ شیخ الاسلام پارہ پنجم متعلق تیسیر الباری شرح بخاری جلد دوم میں لکھتے ہیں:
ظاہر آنست کہ القاء مے کنند دردل مشارالیہ راکہ درمے یا بد مخاطب بآں اشارت الخ یعنی ظاہر یہ ہے کہ جب اشارہ کے ساتھ سوال کرتے ہیں تو خدا کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کا دل میں القاء ہوجاتا ہے یا برنبائے شہرت حاضر فی الذھن کی طرف اشارہ ہوتا ہے او ریہ دونوں صورتیں منافق اور کافر میں بھی پائی جاتی ہیں اور احتمال ہے مومن پر صورت مثالی پیش ہوتی ہو یا کشف ہوتا ہو۔ مگر اس پر کوئی دلیل نہیں۔ اگر ایسا ہو تو موت بہت مبارک ہے جو حیات پر ترجیح رکھتی ہے۔ شیخ اصل ترجمہ مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں۔
اس جگہ رسول اللہ ﷺ کے عاشقوں کےلیے بڑی بشارت ہے مگر وہ اس خوش میں جان دے دیں یا زندے قبر میں چلے جائیں تو لائق ہے۔
اس عبارت میں شیخ اجل کا تو مذہب ہی کشف یا صورت مثالی بتایا ہے اور خود شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ ان دونوں صورتوں کا احتمال ہے مگر ان کے خیال میں اس پر کوئی دلیل نہیں۔ اگر دلیل مل جاتی تو ان کے نزدیک یہ بات پختہ ہوجاتی اب صرف احتمال ہے حجت نہیں۔
مظاہر حق جلد اوّل صفحہ 64 میں ہے:
اشارہ بہ سبب شہرت حضرت کے ہے یا حضرت کے روبرو لاتے ہوں ساتھ صورت مثالی کے۔ پس اس صورت میں آرزو موت کی کرنی واسطے حاصل ہونے اس نعمت عظمیٰ کے خوب ہے اور اس میں بشارت ہے مشاقوں کے لیے           ؎          
شب عاشقان بیدل چہ قدر دراز باشد
توبیا کز اول شب در صبح باز باشد
مشکوٰۃ غزنویہ کے حاشیہ میں ہے:
یہ اشارہ یا سبب شہرت حضرت محمدﷺ کے ہے یا حضرت کو روبرو لاتے ہیں۔ ساتھ صورت مثالی کے کہا قسطلانی نے۔ بعض نے کہا حضرتﷺ اور مومن کے درمیان سے سپردہ اٹھایا جاتاہے یہاں تک کہ مومن حضرت کو دیکھ لیتا ہے ۔ اس صورت میں یہ نعمت عظمٰی ہے اور بشارت مومن کے لیے  اگر یہ قول ثابت ہو او رہم کو کوئی حدیث صحیح اس بارہ میں معلوم  نہیں ہے اور اس کے قائل نے صرف یہی حدیث بیان کی ہے کہ اشارہ نہیں ہوتا مگر حاضر کے لیے لیکن احتمال ہے کہ اشارہ اس چیز کے لیے ہو جو ذہن میں ہے پھر مجاز ہوتا۔
غزنویوں نے تو شہرت کی بنا پر اشارہ کو اور صورت مثالی کو برابر بتلایا ہے او رقسطلانی نے کشف کی صورت کو بعض کا مذہب بتا کر کہا ہے کہ اشارہ میں حاضر فی الذہن کا بھی احتمال ہے۔ پھر اس کو مجاز کہہ کر کمزور کردیا گیا ہے۔ گویا کشف کی جانب قوی رہی ۔ اب غور کیجئے کہ کشف کو بالاتفاق مستحیل کہنا سچ ہے یا جھوٹ                          ؎
میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
احادیث کا فیصلہ: شرح الصدور فی شرح احوال الموتی والقبور مصنفه امام سیوطی اور تذکرة الموتیٰ والقبور۔قاضی ثناء اللہ پانی پتی۔ قضیة المقدور علی فتنة القبورنواب صدیق حسن خاں مذکورہ بالا تینوں کتابوں میں بحوالہ ابن ابی الدنیا اور ابن ابی شیبہ نے لکھا ہے:
یزید بن سنجر کہتے ہیں ۔ نہیں مرتا کوئی شخص  مگر دکھائی جاتی ہے اس کو صورت مثالی اس کے ہم نشینوں کو اگراہل لہو سے ہے تو اہل لہو کی اور اگر اہل ذکر سے ہے تو اہل ذکر کی  قضیۃ المقدور  علی فتنۃ القبور صفحہ 38۔
دوسری جگہ لکھا ہے:
ابن سیرین اس بات کو درست رکھتے تھے کہ مردے کو اچھا کفن پہنایا جائے او رکہتے تھے کہ مردے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔
پہلی حدیث میں ہم نشینوں کی صورت مثالی پیش ہونے کا ذکر ہے اور رسول اللہ ﷺ صحابہؓ کے ہمنشین تھے تو ان پر رسول اللہ ﷺ کی صورت ضرور پیش ہوتی ہوگی۔
دوسری حدیث میں عام وفات یافتگان کی ملاقات کا ذکر ہے جن میں رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں۔ غور کیجئے اب بھی کشف یا صورت مثالی بالاتفاق مستحیل ہے؟ ملاقات کی نسبت کشف تو بالکل معمولی بات ہے۔
ما بلبلیم نالاں گلزار  ما محمدؐ ...... ما نرگسیم حیران دیدار ما محمدؐ
قمری بہ سرو ناز و بلبل بگل فریبد ..... ما عاشقیم از جاں دلدار ما محمدؑ
           (عبداللہ امرتسری)