ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
1980
ادارہ
پاکستان طبی کانفرنس کا تحقیقی اجلاس مورخہ 80؍2؍15 جو جہاں نما گلبرگ لاہور مین منعقد ہوا جس میں دو سائنسدان دو ڈاکٹر اور تین حکیموں نے ''ہائی بلڈ پریشر''کے موضوع پرمقالے پڑھے۔ زیر نظر مقالہ اسی اجلاس میں ڈاکٹر ظہیر احمد ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ اسلام آباد کی صدارت میں پڑھا گیا۔
(ادارہ)
صاحب صدر!
حضرات و خواتین!! السلام علیکم !
اسے ضنعط الدم یا بلڈ پریشر بھی کہتے ہیں۔ اس مرض کے متعلق میرے ساتھی معالج روشنی ڈالیں گے۔لہٰذا میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس کی تفصیلات کو موضوع بحث بناؤں۔ نیز اس مرض سے آپ بخوبی واقف ہیں کیونکہ آپ میں سے اکثر بحیثیت معالج زندگی بسر کررہے ہیں۔اس لیے علامات، اسباب او رعلاج کی تفصیلات بتانےکی ضرورت نہیں۔ مگر بطور تمہید یہ عرض کردوں کہ اس مرض کے لیے موٹے موٹے اسباب تقریباً تین بنتے ہیں۔
1۔ فساد کون یعنی (خون کاغیر ہوجانا خصوصاً گاڑھا یا غلیظ)
  • جون
1980
عبدالرحمن عاجز
عیدالفطر کے روز نماز فجر کے بعد صبح سویرے میں قبرستان کی طرف گیا۔ اس قبرستان میں ایک نہیں میرے کئی عزیز  کتنے احباب منوں مٹی کے نیچے محو خواب ہیں۔ میں چل رہا تھا او رمیرے ہمرکاب ایک جنازہ بھی تھا۔ یہ فکر کا جنازہ تھا جسے فکر کا ندھا دیئے ہوئے تھا۔ یہ دل کا جنازہ تھا جو دل کے ہمراہ جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جو گریہ کناں تھی اور ایک ایسی کیفیت تھی جس پر آنسو بہائے جارہے تھے۔
میرا معمول رہا ہے کہ میں جب بھی ان راہوں سے ہوتا ہوا اس جگہ آتا ہوں تو میرے ساتھ میری اشکبار آنکھیں ساون کی گھٹائیں لے ہوئے ہوتی ہیں اور دل ہجوم غم و الم کے جلو میں یہاں فروکش ہوتا ہے۔میں قبرستان اس لیے گیا تھا کہ اپنے عزیز وں، دوستوں سے ملاقات کروں، دنیا کے تفکرات سےالگ تھلگ  ان کی صحبت میں کچھ لمحات گزاروں دنیا و آخرت او رحیات و ممات کے فلسفے پرکچھ ان سے تبادلہ خیال کروں ! اس شہر خاموشاں کے باسیوں سے کچھ ان کے حالات معلوم کروں ۔ آہ۔ وہاں وہ تو مجھے وہاں نہ ملے مگر ان کی لاشوں پر مٹی کے ڈھیر نظر آئے           ؎
  • جون
1980
زاہد علی واسطی
ہادکے لغوی معنی ہر وہ کوشش اور محنت ہےجو کسی معین مقصد کے لیے کی جائے اور اصطلاح میں اس محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جو اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں، اسلام کے لیے ، نظام ملت کے لیے یا استحکام شعائر اللہ کے لیے کی جائے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ) یہ  لفظ  قرآن میں کبھی لغوی معنوں میں اور کبھی اصطلاحی معنوں میں متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
اس روئے زمین پر اخلاق و آداب، عبادات و معیشت، سیاست و معاشرت۔ الغرض تمام معاملات میں قدم قدم پر ہر خیر کے ساتھ ساتھ شرکاء عنصر بھی کارفرما ہے۔ اسلام امر بالمعروف (خیر) کا داعی ہے اور نہی عن المنکر(شر) کی نفی کرتا ہے۔ اس کوشش کو شریعت نے جہاد فی سبیل اللہ کا نام دیاہے۔اس لیے راہ خدا میں جہاد کرنے کا مفہوم سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اللہ کی رضا کی خاطر اس کے دین برحق کی سربلندی کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالا جائے جو انسان کے دائرہ اختیار میں ہو۔ اس مقصد اعلیٰ کے حصول میں پوری قوتیں صرف کردینے کا نام جہاد ہے۔ زیادہ معین معنوں میں جہاد۔اسلام کا فریضہ بھی ہے اور ہرمسلمان پر واجب بھی ہے کہ بطور عبادت وہ ہر کوشش اور محنت کرے جوملت کے استحکام میں اعلائے کلمۃ الحق میں مظلوم بھائیوں کی حمایت میں اسلامی ریاست کے خلاف حملہ آوروں کے مقابلہ میں بار آور ثابت ہوسکے۔
  • جون
1980
عبدالرحمن عاجز
رہ  وفا میں مراحل تو بے شمار آئے

وفا شعار بہرگام کامگار آئے

کوئی نہ کام زمانے میں کیجئے ایسا

یقین دل کونہ آنکھوں کو اعتبار آئے

جنہیں خبر تھی شہادت کا مرتبہ کیا ہے

گزر کے دیروحرم سے وہ سوئے دار |آئے

کہاں کہاں دل بے تاب لے گیا ان کو

کہاں کہاں تیرے شیدا تجھے پکار |آئے
  • جون
1980
منظور احمد
نفاذ شریعت کا ایک اور نقطہ نظر........... تدریج
پاکستان میں اسلامی قانون کا اجراء آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے او رملک میں اسلامی قانون جاری کرنے کے لیے جن ذرائع تدابیر کا اختیار کرنا ضروری ہو انہیں عملی جامہ پہنایا جائے؟
اسلامی قانون کے اجراء کے متعلق بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ نظام حکومت کے تغیر کا اعلان ہوتے ہی پچھلے تمام قوانین یک لخت منسوخ ہوجائیں گے او راسلامی قانون بیک وقت نافذ ہوجائے گا لیکن یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ملک کے قانون کا اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے ، جب تک کسی ملک کا نظام زندگی اپنے تمام شعبوں کے ساتھ نہ لائے اس کے قانونی نظام کابدل جانا ممکن نہیں، خاص کر اس حالت میں کہ انگریزی تسلط نے ہماری زندگی کے تمام پورے تمام کو اسلامی اصولوں سے ہٹا کر غیر اسلامی اصولوں پر چلایا اور اب اسے پھر بدل کر دوسری بنیادوں پر لانا کس قدر محنت طلب ہے؟
  • جون
1980
برق التوحیدی
کیا حدود محض زواجر ہیں؟موصوف قاضی صاحب فرماتے ہیں۔ ’’ اوپر دنیاوی سزا کا ذکر ہے آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہوگی۔‘‘ (ترجمان القرآن مارچ 1979ء)
جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے قتل کے جرم میں قصاص لیا جائے یا سرقہ کے ضمن میں قطع ید ہو یا زنا کے سلسلہ میں رجم کردیا جائے وغیرہ وغیرہ تو یہ سزا صرف دنیاوی سطح تک معتبر ہوں گی عنداللہ ان کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ ان مجرموں کو مزید سزا دی جائے گی۔
حدود کے ضمن میں دی جانے والی سزا کیا آخرت میں بھی کافی ہے یا نہیں؟ یہ اصولی بحث تو ہم کسی اور جگہ کریں گے تاہم مسئلے کی وضاحت کے لیے تو حدیث ہی کافی ہے جو خود قاضی صاحب نے بھی اپنے مضمون میں نقل کی ہے او روہ یہ کہ عوام کو محفوظ رکھنے کی غرض سے مسئلہ سمجھا دیا جائے۔ مسئلہ کی وضاحت کے لیے اولاً جو درمیان مضمون آپ نے جو حدیث درج کی ہے وہ  اس کی طرف سے بردہ آزاد کرد۔ بردہ کے ہر عضو کی آزادی کی وجہ سے اس کا ہر عضو دوزخ سے آزاد ہوجائے گا۔ اس سوال یہ ہےکہ اگر وہ جہنم سے آزاد ہوگیا تو اور سزا کیا ہوگی؟ کیا اسے بطور سزا جنت میں بھیج دیا جائے گا؟
  • جون
1980
اسرار احمد سہاروی
بکھری ہوئی ہیں ان کی ادائیں کہاں کہاں

دامن کو دل کے ان سے بچائیں کہاں کہاں

جلوے قدم قدم ہیں تمہارے بہ ہر نگاہ

آنکھوں کو فرش راہ بنائیں کہاں کہاں

ہیں امتحان میں اپنی وفاداریاں ہنوز

داغوں سے اپنے دل کو سجائیں کہاں کہاں
  • جون
1980
محمد صدیق
او رایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (مشکوٰة باب الاعتصام) اہل کتاب کوئی بات سنائیں تو ان کو سچا کہو اورنہ جھوٹا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو شے ہم سے غائب ہے اس کا وجود اور عدم اعتقاد کے لحاظ سے برابر ہے یعنی محتمل ہے ہو یا نہ ہو۔ جب دونوں طرف برابر ہوئے تو بتلائیے۔ آپ نے آج تک کون سی دلیل پیش کی ہے۔ جہاں تک ہم نے آپ کے تعاقبات پر نظر کی ہے۔ صفر ہی پایا۔ آپ کوئی صریح حدیث پیش کریں یا کسی سلف کا قول پیش کریں تو کچھ آپ کے تعاقب کی قدر بھی ہو۔ ورنہ ویسے ورق سیاہ کرنے سے کیا فائدہ؟
حافظ ابن حجر او رعلامہ عینی : کیا حافظ  ابن حجر وغیرہ کے محض خیال سے علامہ عینی وغیرہ چپ ہوسکتے ہیں ۔خاص کر جب علامہ عینی وغیرہ کے ہاتھ میں حدیث کا لفظ صریح ھذا ہو جس کا حقیقی معنی محسوس ۔ مبصر منکر ہے۔ تو ایسی صورت میں حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور علامہ عینی وغیرہ پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ فرضی طور پر تسلیم کرلیاجائے کہ عدم اصل ہے تو بھی علامہ عینی کا پلڑا بھاری رہتا ہے کیونکہ ایسے بے دلیل اصل کو دلیل کے مقابلہ میں ترک کردیا جاتاہے او ریہاں ھذا کا لفظ دلیل موجود ہے ہاں اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ھذا کبھی غیرمحسوس یا غیر حاضر میں بھی  استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ یہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے او رحقیقی معنی مجازی پر مقدم ہے اسلیے ترجیح مکشوف ہونے کو ہے۔