زمانہ طالب علمی میں جب یہ حدیث پڑھی ’’من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر  مائۃ شہید‘‘ یعنی جو شخص میر امت میں فتنہ و فساد کے موقعہ پر میری سنت کا احیاء  کرے گا تو اسے سو شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔اس وقت نوعمری کا زمانہ تھا ۔ علم وعقل میں پختگی نہیں تھی ۔ بنا بریں یہ بات میرے فہم و ادارک سے بالا تر رہی کہ ایک چھوٹی سی  سنت جیسے رفع الیدین فی الصلوٰۃ وغیرہ پر عمل کرنے سے سو شہید کا ثواب کیسے ملے گا  آج سب کچھ معلوم ہو رہا ہے اور عقل و دانش اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی رسو ل اکرم ﷺ کی سنت کے احیاء میں اتنا ثواب ہونا چاہیے ۔
چنانچہ آج  کے دور میں جسے جدید دورسے تعبیر کیا جاتا ہے جس قدر سنت نبوی سے  بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں  برتی جا رہی  چنانچہ بعض لوگوں کو سنت نبوی کی پیروی کرنے کی وجہ سے مسجدوں سے نکلا گیا اور سنت سے انکاروں  انحراف کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے امام صاحب  سے یوں نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ کچھ لوگ حدیث اور سنت کے معاملہ میں اس قدر افراط اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر عربی عبارت کو حدیث تصور کرتے ہیں ہر قصہ کہانی کی کتاب  میں  میں آنحضرت  ﷺ  کا کوئی معجزہ ، کوئی واقعہ یا کوئی فرمان سنتے  ہیں تو اسے آنکھیں بند  کر کے حدیث نبوی تصور کرتے ہیں اور اسے تسلیم نہ کرنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ  نبی ﷺ کی حدیث کاہی منکر ہے ۔ یہ گستاخ اور بے ادب ہے ،وغیرہ )بعض سراسر موضوع احادیث کو صحیح  مرفوع احادیث سےمقدم سمجھتے ہیں ۔
چنانچہ محدثین نے صحیح اور موضوع احادیث  کی تمیز کرنے کے لیے چند اصول مقرر کیے ۔ ان کے مطابق حدیث  کی جرح قدح کرنے کے بعد اگر ان کے اصولوں کے مطابق پوری اتری تو اسے صحیح تصور کیا اور اسی میں کوئی نقص یا خامی نظر آئی تو اس پر ضعف کا حکم لگایا۔ اگر کلیۃ ان اصولوں کے خلاف نظر آئی تو اسے موضوع قرار دیا ۔ یہ ایک وسیع علم ہے ۔ اس کے لیے نہایت جانفشانی سے کام لینا پڑتا ہے ۔ پھر گوہر مقصود حاصل ہوتا ہے ۔ بعض لوگ سنت نبوی سے انحراف کے لیے یہ بہانہ تراشتے ہیں کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمایا تھا ۔ اس وقت کے واقعات اور ملفوظات  کو محفوظ رکھنے کے لیے سوائے انسانی دماغ کے اور کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔ وہ اسے محفوظ  رکھنے کے قابل ن نہیں ۔ جب ہم کسی شخص کی کلام سنتے ہیں تواس کے الفاظ بعینہ ہمارے دماغ میں محفوظ نہیں رہتے ۔ پھر جب ہم کسی اور کو یہی کلام سناتے ہیں تو  و ہ  بھی بعینہ  ہماری  کلام کو یادرکھنے  کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس طرح تیسرے شخص تک پہنچنے کے بعد واقعہ  کے اصل الفاظ اور مفہوم بالکل بدل جاتے ہیں اور آج چودہ سوسال کے بعد ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہیں ۔ بنابریں حدیث ظنی اور ناقبل  عمل ہے ۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد ان لوگوں کے لیے تھے جن میں آپ  تشریف لائے تھے ۔ آج دنیا کے طور واطوار بد چکے ہیں ۔
دعائے صحت کے لیے اپیل
راغب شیخوپوری صاحب کے والد محترم استاذ العلماء بقیۃ  السلف حضرۃ مولانا عمر الدین صاحب موضع دھیردا ڈوگراں ضلع شیخو پورہ والے عرصہ سے علیل ہیں اور آج کل صاحب فراش ہیں ۔ احباب اہل حدیث سے بالعموم اور ان کے فیض یافتگان سے بالخصوص درخواست ہے کہ وہ  مولانا موصوف کے لیے خلوص قلب سے دعاء فرمائیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت عاجلہ و کاملہ عطاء فرمائے ۔ اور حیات آسودگی  اور راحت نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔
تہذیب و تمدن میں دنیا کہیں سے کہیں پہنچ  چکی ہے ۔ اس لیے آج آپ کے وہ فرمودات  جو عرب کے جاہل بدوں کے لیے تھے ہمارے لیے کچھ سود مند نہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ بہانہ سازی اور حیلہ تراشی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت ﷺ صرف عرب کے ناخواندہ لوگوں کے لیے تشریف لائے تھے یا تمام روئے زمین پرقیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے مبعوث ہوئے تھے ۔ اگر رسول اکرم ﷺ کی بعثت کو صرف عرب کے بدوں تک محدود سمجھا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔ قل يا يها الناس اني رسو ل الله اليكم جميعا  - کا کیا مطلب ہوا ؟ و ما ارسلنك لارحمة اللعالمين  كے کیا معنی ہو ں گے ۔ اگر آب کی رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے تو پھر آپ کی سنت سے گریز کیوں ؟اگر سنت  سے انحراف کیا جائے تو پھر رسالت تسلیم کرنے کا کیا مطلب ہوا ؟ اور ’’وما اتاكم الرسول فخذوه وما نها كم عنه فانتهوا‘‘ پر کیسے عمل ہو گا ؟ اس لیے سنت نبوی کو دین میں حجت تسلیم کرناپڑے گا بلکہ حقیقتا  دین یہی ہے ۔ جیسے  علامہ اقبال  نے فرمایا ہے ۔
مصطفی ٰ برساں خویش کہ دین ہمہ دست    نگر با اور نہ رسیدی تمام بو لہبی ست
چنانچہ اسی سلسلہ میں ڈاکٹر  محمد ابوشہبہ کا مضمون الاسفناء بالقرآن میں السنۃ  جہل  وحماقۃ مجلہ ’’رابطہ عالم اسلامی ‘‘ کے کچھ شماروں میں 1979ء میں شائع ہوا تھا ۔ وہ اردو کے قالب میں ڈھال کر قارئین کرام کے مطالعہ کےلیے اور احیاء سنت کا ثواب حاصل کرنے کی غرض سے پیش خدمت ہے ۔ (سیف الرحمن الفلاح بی۔اے )
دین میں سنت نبوی سے روگردانی
جهالت اور الحاد ہے
اس اہم بحث کاآغاز کرنے سے پیشتر  جس  کی مسلمانوں کو شدید ضرورت ہے ۔ خاص کر مودہ دو ر مین جس میں باطل قیاس آرائیوں اور گمراہ کن خواہشات کے ریلے چاروں طرف سے انسان کی سب سے قیمتی  متاع ایمان پریلغار کر رہے  ہیں ۔ حتیٰ کہ حق و باطل کے مابین کوئی  امتیاز نہیں رہا اور صواب و خطا کی پہچان کےلیے کوئی کسوٹی نہیں رہی  یہ امر محتسن معلوم ہے  ہوتا ہے کہ ایک  مقد پر پیش کروں جس میں حدیث اورسنت کی تعریف اور ماہیت بیان کروں تاکہ یہ واضح ہو جائے  کہ ان دونوں سے کیا مرادہے اور قاری اسے حجت بنا سکے ۔ تو اللہ کی توفیق اور مدد کے ساتھ میں بیان کرتا ہوں۔
حدیث کسے کہتے ہیں :
حدیث کے لغوی معنیٰ نئی  چیز کےہیں ۔ یہ قدیم  کا ضد ہے اس کا اطلاق لوگوں کی باتوں پربھی ہوتا ہے ۔ خواہ وہ باتیں کم ہوں یا زیادہ ۔ چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ۔
ام يقولون تقوله بل لا يومنون  - فلياتو بحديث مثله ان كانوا صادقين  - الطورع  یا یہ کافر )کہتے ہیں (یہ قرآن پاک اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں بلکہ )اس (نبی ﷺ)نے اپنی طرف سے من گھڑت باتیں بتائی ہیں ۔ اچھا اگر وہ اپنے دعوے  میں سچے ہیں تو ایسی  کلام پیش کریں ۔
حدیث کا اطلاق کلام پر بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ وقتاً فوقتاً معرض وجود آتی رہتی ہے ۔
محدثین کی اصطلاع میں رسول اکرمﷺ کے ارشادات و افعال اورایسے اقوال و افعال جو آپ کی موجودگی میں کئے گئے ہوں اور آپ اسے پسند فرمائیں یا ان سے منع  نہ کریں یا ایسے افعال و اقوال جو آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں نہ کیے گئے ہوں مگر جب آپ کو ان کی اطلاع ہو تو آپ خاموشی اختیار فرمائیں اور آب کی حسن خلقت اور حسن خلق کی صفات کے مجموعہ کو حدیث کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ پھر محدثین نے حدیث کوتین اقسام میں منقم کیا ہے ۔ 1)قولی حدیث 2)فعلی حدیث 3)تقریری حدیث ۔
قولی حدیث :۔
آنحضرت ﷺ کے تمام اقوال و فرمودات قولی حدثیں ہیں ۔ان کا شمار بہت مشکل امر ہے ۔ ایسی حدیثوں کی مثال مندرجہ ذیل حدیثیں ہیں ۔
1)انما  الاعمال بالنيات – صحيحين
2)المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويد ه –صحيحين
3)المومن للمومن كا لبنيان يشد بعضه بعضاو شبك  بين  اصابعه (صحيحين )
فعلی حدیث :
اس سے مراد وہ افعال ہیں جو آپ نے زندگی بھر کیے ان کا شمار  بھی ناممکن ہے ۔ اس کی مثال وہ حدیثیں ہیں جو رسو ل اکرم ﷺ کے وضو ،تیمم ،غسل  اور نماز وغیرہ کی کیفیت بیان کرتی ہیں ۔ جیسے امام بخاری  نےحضرت ابن عباس کی روایت  سے بیان کیا ہے ، توضا النبي ﷺ مرة مرة – صحيح  بخاري ص 27-
نیز حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ سے ، جس کا لقب صاحب رؤیا الاذان ہے کی روایت سے بیان کیاہے ۔
ان النبي ﷺ توضا مرتين مرتين ص 27-
اسی کی مانند وہ حدیث ہے کہ صحابی کہے کہ میں نے آنحضرت  ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ جیسے بخاری نے اپنی صحیح بخار میں ابو قلابہ سے روایت کی ہے کہ حضرت مالک بن حویرث ﷜ نے آنحضرت ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کی مجلس میں بیٹھے  ہوئے کہا ۔ سنو!  میں تمھیں  رسول خدا ﷺ کی نماز کی خبر سناتا ہوں ۔ اس وقت نماز کا وقت نہیں تھا ۔ چنانچہ مالک بن حویرث ﷜ اٹھے  اور نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی ۔ پھر دعائے استفتاح اور قراءات وغیرہ کے بعد رکوع کےلیے تکبیر  پڑھی اور روکوع کیا ۔ پھر قومہ کے لیے سراوپر اٹھایا تھوڑی دیر قیام کرنے کے بعد سجدہ کیا ۔ پھر سر اوپر اٹھایا اور تھوڑی دیر قعدہ  کرنے  کے بعد سر اوپر اٹھایا ۔۔۔۔آخر حدیث تک ۔
رسول اکرم ﷺ کے افعال کی حکایت بیان کرنے میں کثرت سےاحادیث  وارد ہوئی ہیں ۔
تقریری حدیث ۔
اس کی تعریف علمائے محدثین نے یوں کی ہے کہ کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں کوئی کام کرے یا کوئی  بات کرے اور آپ اس کے فعل یا قول کا انکار نہ کریں ۔ یا یہ کام یا  بات رسو ل اکرم ﷺ کی موجودگی میں نہ ہو لیکن اس قول یا فعل کی آب کو خبر پہنچ گئی ہو اور آپ اس پر خاموشی اختیار فرمائیں ۔ تو یہ خاموشی اس قول و فعل کی توثیق کرتی ہے ۔ اس سے اسے شرعی حیثیت  حاصل ہو جائے گئی ۔ کیونکہ یہ  بات تو ناممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی  غیر مشروع امر پر خاموشی اختیار کریں۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے ابو داؤد ، دار قطنی او رحاکم نےحضرت عمرو بن عاص کا قصہ جو جنگ  ذات اسلاسل میں پیش  آیا تھا ،  بیان  یکا ۔ وہ یوں ہے کہ حضرت  عمروبن عاص ﷜ اس جنگ کے موقعہ پر رات کو نا پاک ہو گئے ۔ اس وقت سردی سے جسم کا نپ رہا تھا۔  اس لیے انھوں نے غسل نہ کیا بلکہ تیمم پر اکتفا کیا ۔ اسی حالت  میں باقی صحابہ کے ساتھ نماز پڑھ  لی پھر جب وہ آئے اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو صحابہ کرام نے ان کا تمام ماجرا بیان کیا ۔ آپ نے پوچھا ۔ اے عمرو ! تو نے جنابت کی حالت میں نماز کیوں پڑھی ؟ تو نے غسل کیوں نہ کیا ؟ اس نے عرض کی یاحضرت ! میں نے ہلاکت کے ڈر سے غسل  نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ ولا تقتلو ا انفسكم ان اللهكان بكم رحيما – النساء ع 5‘‘ تم اپنی جانوں کو خواہ مخواہ ہلاکت کے گڑھے میں مت ڈالو۔ اللہ تعالیٰ تو تم پر مہربان ہے  وہ تمھیں  ایسے حکم ہرگز نہیں دینا چاہتا جس کی تعمیل میں تم اپنی جان سے ہاتھ دھولو) یہ سن کر آب خاموش ہو گئے اور اسے کوئی سرزنش نہیں کی بلکہ بعض روایات میں ہے کہ آب نے تبسم فرمایا ۔
یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کام حضرت عمروبن عاص ؓ نےکیا ۔ آنحضرت ﷺ نے اسے نظر رضا اور استحسان دیکھا ۔
امام بخاری  نے اپنی کتاب صحیح بخاری کتاب التیمم میں  یوں باب بدھا ہے ۔ باب اذا خاف الجنب  علي نفسه المرض او الموت او خاف العطش تيمم – پھر اس نے اصل قصہ صیغہ تصنیف  کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
اس کی ایک اور مثال سنیے !
امام بخاری ؓ نے رسو ل اکرم ﷺ کاواقعہ بیان کیا ہے کہ آپ ایک دفعہ حضرت فاطمہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے ۔ وہاں حضرت علی ؓ موجود نہ تھے ۔حضرت فاطمہ ؓ سے دریافت  کیا کہ حضرت علی ؓ کہاں گئے ہوئے ہیں ؟ انھوں نے بتایا اباّ جان ! وہ ناراض ہو کر گھر سے باہر چلے گئے ہیں اور دوپہر کا قیلولہ بھی میرے پاس نہیں کیا ۔ چنانچہ آپ نے ان کی تلاش میں ایک آدمی بھیجا ۔ وہ تلاش کرتا ہوا مسجد میں پہنچ گیا ۔وہاں پر حضرت علیؓ  کو برہنہ پیٹھ سوئے ہوئے دیکھا ۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت علی ؓ مسجد میں لیٹے ہوئے ہیں ۔ آپ ﷺ وہاں تشریف لائے اور حضرت علی ؓ کو دیکھ کر بطور ملاطفت فرمایا ’’ اے ابو تراب اٹھو ! آپ نے حضرت علی ؓ کے مسجد میں سونے  پر اعتراض نہیں کیا ۔ صحیح بخاری ص 63
اس حدیث سے امام بخاری  نے یہ استدلال پکڑا ہے کہ مردوں کے لیے مسجد میں  سونا جائز ہے ۔ اور کتاب الصلوٰۃ میں باب باندھا ہے ’’ بَاب نَوْمِ الرِّجَالِ فِي الْمَسْجِدِ ‘‘اور اسی قسم کا یہ واقعہ  جو امام بخاری  نے صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسو ل خدا ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے نکاح کرنے کےبعد جب ان کے پاس  تشریف لے جاتے تو وہ گڑیوں سے کھیل رہی ہوتیں ۔ یہ گڑیاں اون کی بنی ہوئی تھیں ۔ چونکہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو گڑیوں سے نہیں روکا ۔ اس سے اس  امر کی توثیق ہو گئی ۔ جمہور نے اس سے یہ استدلال پکڑا ہے کہ نابالغ لڑکیوں کے لیے گڑیاں کھیلنا  جائز ہے اور یہ شارع علیہ السلام  کی نہایت نرمی اور شفقت کی نشانی ہے ۔
خلقی صفات :
آپ سب لوگوں سےزیادہ بہادر اور زیادہ سخی تھے ۔ فقیروں کے سامنے تواضع سے پیش آتے اور ان پر شفقت فرماتے ۔ مسکینوں ،یتیموں ،بیواوں کی مدد فرماتے اور ان پر نرمی اور شفقت سے پیش آتے ، ان کے پاس بیٹھتے  او ر ان سے باتیں کرنے کو  اپنی شان کے خلاف نہ تصور کرتے ۔ آپ تمام لوگوں سے زیادہ تحمل مزاج اور برد بار تھے ۔ دشمن بر غلبہ پانے کےبعد اسے معافی دے دیتے تھے اور دیگر اخلاق حسنہ کامجسمہ پیکر تھے ۔
خلقی صفات :
صحیح اور حسن احادیث میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کا رنگ سفید سرخی مائل تھا آپ نہ زیادہ طویل تھے نہ بہت قصیر ۔ جب آپ زمین  پر چلتے تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے آپ اونچی  سے نیچے کو اتر رہے ہیں ۔ آپ کے بال نہ بہت گھنگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے ۔ اس کے علاوہ وہ آپ  کی اور کئی صفات حدیثوں میں مذکور ہیں ۔ صحیح بخاری باب صفتہ الرسول اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا اطلاق صرف اس پر ہو گا جو رسو ل اکرم ﷺ تک مرفوع ہو ۔ بعض محدثین کی یہی رائے ہے ۔ انھوں نے اپنی کتابوں میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ امام بخاری  اور امام مسلم  اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔
بعض علما نے حدیث کی تعریف میں صحابہ کرام ﷜ اور تابعین کے اقوال کو بھی شامل کیاہے ۔ یہ  ان کی اصطلاح ہے جو قبول کرنے کے لائق ہے ۔ جمہور محدثین کی کاروائی بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ انھوں نے  اپنی کتابوں میں رسول کریم ﷺ ،صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال وافعال اور ان کی تقریرات کو اکٹھا کیا ہے ۔
سنت :
سنت کے لغوی معنیٰ طریقہ ہے ’’المصباح المنیر ‘‘ میں السنۃ مطریقۃ ‘‘ یعنی سنت سے مراد طریقہ ہے ۔
سنت کا اطلاق سیرت پر بھی ہوتا ہے خواہ اچھی ہو یابری ۔ لیکن مطلق سنت سے مراد اچھی سیرت  ہوگی ۔ جب اسے برائی کے معنی ٰ میں استعمال کہ جائے تو اس پر قید لگائی جائے گی ۔ آنحضرت ﷺ کامندرجہ ذیل فرمان اس امر کا  شاہد ہے کہ یہ اچھائی اور برائی دونوں پر مشتمل ہے ۔
من سن خي الا سلام سنة حسنة فلم ثوابها و ثواب من عمل بها الي يوم القيامة ومن سن في السلام سنة سيئة فعليه و زدها و وزهن عمل بها الي يوم القيامة – رواه مسلم
جو شخص اسلام میں اچھی عادت کا رواج ڈالتا ہے تو اسے اس کا ثواب ہو گا اور دیگر  لوگ  جو اس پر عمل کریں گے ان سب کا اسے ثواب ملے گا اور جو شخص اسلام میں بری عادت کو رواج دیتا ہے تو اسے اس کا گناہ ہو گا اور جو لوگ قیامت تک اس بری عادت کو جاری رکھیں گے  سب کا بوجھ اسی کی گردن پر ہو گا ۔
محدثین کی اصطلاح میں سنت سے مراد آنحضرت ﷺ کے اقوال ،افعال اور جو امور آپ کی موجودگی میں کیے گئے یا جو باتیں آپ کے سامنے ہوئیں اور آپ نے ان پر خاموشی اختیار  فرمائی اور آپ کی  جسمانی صفات اور خلقی صفات کے مجموعے کا نام حدیث ہے ۔ بعض علماء نے صحابہ  کرام اور تابعین عظام کے اقوال و افعال کو اس میں شامل کیا ہے ۔ اس کے لیے بطور اشتشہاد  ابو داؤد اور جامع ترمذی کی وہ حدیث بیان کرتے ہیں جس کے راوی حضرت عرباض بن ساریہ ؓ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ عليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين ‘‘ یعنی میری اور میرے خلفائے راشدین ہدایت یافتہ کی سنت کولازم پکڑو۔ اس کیاسناد صحیح  ہے ۔ اس لحاظ سے یہ حدیث کے ہم معنیٰ ہے ۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ حدیث رسو ل خدا ﷺ کے فرمودات اور افعال کے ساتھ خاصل ہے ۔ اور سنت آپ کے اقوال ،افعال ،تقریرات ،صفات ،سکنات ،حرکات  ،نوم ،بیداری وغیرہ پر مشتمل ہے ۔ اس لحاظ سے حدیث اور سنت میں خاص اور عام کس نسبت ہو گی ۔ لیکن سنت کو حدیث کے ہم معنی تصور کرنا زیادہ  قرین قیاس ہے ۔ میرا ذاتی رحجان بھی اس طرف ہے ۔ اہل اصول کی اصطلاح میں سنت آنحضرت ﷺ کے اقوال و افعال او ر تقریرات  کے مجموعے کا نام ہے ۔ ان کی تعریف پہلے محدثین کے مانند ہے ۔ فقہا کے نزدیک سنت  واجب کے مقابلے میں ہے ۔ اس کے کرنے والے کو ثواب ہوتا ہے  اور اس کے تارک کو کوئی سزا یا عذاب نہیں ۔
شریعت کی زبان میں سنت و ہ کام ہے جو بدعت کے مقابلہ میں آئے ۔ اس صورت میں عام ہو گا خواہ وہ مشروع کام واجب ہو یا غیر واجب ۔
یہاں پر اس سنت کے متعلق بحث کی جائے گی جو حدیث کے ہم معنیٰ ہے اور اسی کے موافق ہے ۔ اس لحاظ سے حدیث اور سنت دونوں ایک ہی مسمی کے دو نام ہیں اور دونوں سے مراد ایک ہی چیز ہے ۔
دین میں حدیث اور سنت کی اہمیت

شریعت  اسلامیہ کا مرجع اور منبع دو امور ہیں ۔
1)قرآن کریم     (2) حدیث نبوی
اصل اوّل :
قرآن کریم اللہ تعالی ٰ نے تقریباً بائیس  سال میں آنحضرت ﷺ پر نازل فرمایا ۔ نزول قرآن کی ڈیوٹی  پر حضرت جبریل مامور تھے ۔ انھوں نے لفظ ً و معناً پورا قرآن پاک اللہ کی جانب سے آنحضرت ﷺ پر بحالت بیداری نازل کیا ۔ یہ بذریعہ وحی جلی نازل ہوا ۔ یہ نیند  میں یا الہام کے ذریعہ سے نازل نہیں ہوا ۔ اسی لیے اس کا ایک ایک حرف بعینہ  محفوظ ہے اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ پھر رسو ل اکرم ﷺ نے بعینہ سارا قرآن پاک اپنی امت کے کانوں تک پہچایا اور اس میں سے ایک آیت بلکہ ایک لفظ تک نہیں چھپایا ۔
یہ نہ حضرت جبریل کی کلام ہے اور نہ حضرت محمدﷺ کی بلکہ یہ کلام الہی ہے حضرت حبریل علیہ السلام کے ذمے تو آنحضرت ﷺ تک پہنچانا تھا اور رسول کریم ﷺ کے ذمے اپنی امت کے موجود لوگوں کے کانوں تک پہنچانا تھا ۔ چنانچہ  آپ ﷺ نے صحابہ رکام ﷜ تک اپنی آواز قرآن کریم کے ساتھ پہنچائی  ۔پھر صحابہ کرام سے ہزاروں تابعین نے سیکھا ۔پھر تابعین سے لاکھوں تبع  تابعین نے قرآن کریم سیکھا ۔ اسی طرح ہر زمانہ کے لوگوں نے سیکھا حتی کہ ہمارے پاس بعینہ  اس طرح پہنچ گیا جیسے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر نازل کیا تھا ۔ یہ تو اتراس کے قطعی اور یقینی  ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ ایسا تو اتر دنیا کی کسی اور کتاب کےلیے ،خواہ وہ قدیم ہو یا نئی ،ہرگز ثابت نہیں ۔ یہ صرف قرآن پاک کو شرف حاصل ہے کہ جیسا وہ نازل ہوا قیامت تک ویسا محفوظ رہے گا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے ۔
انا نحن نزلنا الذكر ونا له لحفظون (الحجر )
ہم نے اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے اور اس  یک حفاظت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔
اصل ثانی سنت اور حدیث :
شریعت کے اصولوں میں قرآن کریم اصل اول ہے اور سنت اصل ثانی ہے ۔ یہ بات اہل اصول کی اس بات کے خلاف نہیں کہ شریعت کےاحکام کی بنیاد چار اصولوں پر منحصر ہے ۔
1)کتاب   2)سنت   3)اجماع 4)قیاس
کیونکہ اجماع کے لیے ضروری ہےکہ وہ حقیقۃ  اور نفس الامر میں قرآن کریم یا سنت نبوی سے مستند ہو ۔ خواہ ہمیں  ایسا معلوم نہ ہو ۔ اسی طرح قیاس کے لیے بھی ضروری ہے کہ مقیس علیہ موجود ہو ۔ وہ قرآن پاک ہو گا یاحدیث ۔ اس طرح شریعت  اسلامیہ کا مرجع دو چیز یں رہ گئیں قرآن یا سنت  یا ایسی بات  جو ان دونوں کی طرف مستند ہو ۔
سنت او رحدیث کی اہمیت قرآن پاک کی نظر میں:
قرآن کریم کی نظر میں حدیث کا مرتبہ  اس کے شارح  کا ہے ۔ وہ مبہم کی وضاحت کرتی ہے ۔ محمل کی تفصیل بیان کرتی ہے ۔ مطلق کو مقید کرتی ہے اور عام کو خاص کرتی ہے ۔ موجز  کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتی ہے ۔
اگر قرآن کریم تمام امور پر شرع و بسط کے ساتھ مشتمل ہوتا تو یہ موجودہ قرآن پاک سے کئی  گناہ بڑا ہوتا ۔ اگر یہ معاملہ ہوتا تو امت کے لیے اس کا حفظ کرنا مشکل  امر تھا ۔ یہ صرف امت محمدیہ کو شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے پرور دگار کی کتاب  کو لفظ بلفظ یاد کیا ہوا ہے ۔ پہلی امتیں اس  شرف سے محروم تھیں ۔ اللہ  تعالیٰ نے رسول خدا ﷺ کو امت محمدیہ کی طرف مبعوث فرما کر ان پر بڑا احسان فرمایا ۔ کیونکہ ان کے ذریعے قرآن کریم جیسی بے نظیر فصیح اور بلیغ کتا ب انھیں  عنایت کی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا تو ان کی ڈیوٹی لگائی کہ اس کتاب کی تشریح اور توضیح آپ کے ذمے ہے ۔ یہ کام آپ کے سپرد اس لیے کیا کہ آپ بھی دیگر انبیاء کی طرح جھوٹ ،خیانت اور غلط بات کہنے سے محفوظ تھے ۔ خصوصاً تبلیغ کے معاملہ میں آپ کو کبھی  سہو نہیں ہوئی ۔ اس سے اس امر کی تصدیق اور توثیق ہو تی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے قولا ً یا قعلاً جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ اس کی شرح اور بیان ہوتا ہے ۔
اللہ تعالی نے سچ فرمایا ۔
يا يها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك و ان لم تفعل فما بلغت رسالته و الله يعصمك من الناس (المائده )
اے رسو ل کریم ﷺ ! آپ پر جو کچھ (قرآن کریم ) آپ کے رب کی طرف سے  نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے  اگر آپ نے اس معاملہ میں کوتاہی سےکام لیا تو یاد رکھیے آپ نے تبلیغ کا حق ادا نہیں کیا (آپ تبلیغ کے معاملہ میں کسی سے ڈرئیے نہیں ) اللہ آپ کی حفاظت کرے گا ۔
ولو تقول علينا بعض الاقاويل الاخذنا منه بالمين  ثمه لقطعنا منه الوتين فما منكم  من احد عنه  حاجزين – (الحاقة )
اگر وہ ہمارے متعلق جھوٹی باتیں ذکر کرتے تو ہم انھیں دائیں ہاتھ سے پکڑ کر ان کی شاہ رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی بھی ہمیں ایسا کرنے سے نہ روک سکتا ۔
اس شرح اور بیان کو عادل ضبط کرنے ولے صحابہ نے آپ سے نقل کیا حتی کہ سنت اور حدیث کی تدوین ہو گئی ۔ پھر تدوین حدیث کے بعد ایک طویل عرصے تک لوگوں نے بیان کیا ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی وضاحت اور بیان حضور اکرم  ﷺ کے ذمے لگایا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم  واللهم  تفكرون (النحل )
ہم نے قرآن کریم آپ پر  اس لیے نازل کیا ہے تا کہ آپ اس کی لوگوں کے سامنے وضاحت کریں اور لوگ اس پر غور وفکر کریں ۔
یہ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی ضاحت کا معاملہ آنحضرت ﷺ کے سپرد کیا تھا تکہ آپ مختلف وسائل سے اس کی تشریح کریں ۔ نیز فرمان ایزدی ہے ۔
2)و انک لتهدي الي صراد  متقيم – صراط الله الذي له ما في السموات و مافي الارض الا الي الله تصير الامور (الشوري)
(اے نبی ﷺ یقینا آپ صراط مستقیم کی طرف (لوگوں کی ) رہنمائی کرتے ہیں یہ  اس اللہ کا راستہ ہے جو زمین  و آسمان کا مالک ہے سنو  !تمام امور کا انجام اس کی طرف  لوٹتا ہے ۔یعنی اچھے اور برے امور کا فیصلہ وہی کرتا ہے ۔
یہاں پر ہدایت سے مراد قرآن کریم اور سنت کی ہدایت ہے جو قرآن کریم کی شارح اور وضاحت کرنے والی ہے ۔
3)حدیث اور سیرت کی کتابوں میں عام ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ دعوت الی اللہ کے معاملہ میں صرف قرآن پاک کی تلاوت پر اکتفا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ قرآن پاک کے علاوہ  کچھ اور وسائل بروئے کار لاتے تھے ۔ ان وسائل کو حدیث اور سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے چنانچہ آپ اکثر  اپنی قوم سے فرماتے ۔ تم کلمہ پڑھ لو  ۔ اگر تم نے کلمہ پڑھ لیا تو عرب ، و عجم تمھارے زیر نگیں ہو جائیں گے یہ کلمہ توحید ’’لا اله الا الله محمد رسو الله ‘‘ہے ۔
حضو اکرم ﷺکے بیان کرنے کے طریقے ۔
آپ کبھی اپنے قول سے وضاحت فرماتے ،کبھی اپنے فعل سے ،کبھی قول و فعل دونوں سے ۔بعض اوقات اپنے اخلاق و اطوار سے بیان فرماتے ۔ قولی بیان کی تو کئی مثالیں سابقہ سطور میں آچکی  ہیں ۔ فعلی بیان کی مثال جیسے حضرت مالک بن حویرث ؓکی روایت سے آنحضرت کا فرمان صلوا کما رایتمونی اصلی (البخاری ) یعنی جیسے  مجھے نماز پڑھتا دیکھتے  ہوا سی طرح تم بھی نماز پڑھو۔  اسی طرح ححۃ الوداع کے موقعہ پر نبی کریم ﷤نے اپنے   صحابہ سے فرمایا  ’’لتا خذ وامنا سككم فاني لا ادري لعلي  لا القاكم بعد حجتي هذه (رواه مسلم)
تم مجھ سے عبادات حج کے طریقے سیکھ لو کیونکہ ممکن ہے کہ میں اس حج کے بعد تم سے نہ مل سکوں ۔جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضور اکرم ﷺ کے خلق کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا ۔ کان خلقہ القرآن ‘‘ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ آب اپنے اخلاق اور طور طریقے سے قرآن کریم کی تشریح کرتے ہیں ۔ یہ طریقہ ہدایت کے طریقوں میں سے سب سے زیادہ کامیاب ہے ۔ یہ بیان کا ایسا طریقہ ہے کہ جس سے تربیت و تہذیب اور راہنمائی میں کافی مدد ملتی ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں مذکور ہے ۔ "وانك لعلي خلق عظيم ‘‘یہاں پر  خلق آپ کے اقوال و افعال ،سلوک و عقائد اور شرائع سبھی کوشامل ہے ۔
شریعت میں سنت سے احکام کا مستقل ہونا
جس طرح سنت اورحدیث قرآن کریم کی شارح اور وضاحت کندہ ہے اسی طرح بعض اوقات عام  کو خاص کرتی ہے اور مطلق کو مقید کرتی ہے ۔ اسی طرح بعض اوقات شریعت میں اس  کی مستقل حیثیت ہوتی ہے ۔ اس کی مثالیں کافی بیان کی جاسکتی ہیں ۔ مثال کےطور پر مرد کا  اپنی بیوی کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ کا نکاح میں جمع کرنا حرام ہے (اس بات کا قرآن پاک میں کہیں ذکر نہیں ) اس مسئلہ پر سنت  نے روشنی ڈالی ہے ۔ اسی طرح رضاعت کے تمام قرابتی  رشتہ داروں کے حرام ہونے کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ہے ۔ سنت سے اس کی وضاحت ہوئی ہے کہ ان کا حکم بھی محرمات نسبی کا ہے ۔ اس لیے رسو ل اکرم ﷺ کا فرمان ہے ۔
یحرم من الرضا ما یحرم من النسب
جو ناطے نسب کی وجہ سے حرام ہیں  رضاعت سے بھی وہ سب حرام ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح درندوں میں ذی ناب  کی حرمت اور پرندوں میں ذی مخلب کی حرمت اور سمندر کےمروار کی حلت اور جب وہ گواہ نہ ہوں تو اکی گواہ اور ایک قسم سے فیصلہ کرنا وغیرہ احکام کاذکر کتاب اللہ میں نہیں ۔ ان تمام امور کا سنت نے اضافہ کیا ہے ۔
قرآن کریم کو سنت کے ذریعے بیان کرنے کے طریقے :
رسو ل اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام قرآن کریم کی وضاحت بعض اوقات قولی سنت سے بیان کرتے اور بعض اوقات فعلی سنت سے ای ان دونوں سے کرتے جیسے کہ  اکثر اہل علم نے قرآن پاک سے آپ کے اخلاق و کردار کا بیان کیا ہے ۔ اس کی مثالیں سنیے ۔
1)جب اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ۔
الذين امنو ا ولم يلبسوا يما نهم بظلم اوليك لهم الا من وهم مهتدون (الانعام )
جو لوگ امان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے ملوث نہیں کیا ان لوگوں کو (قیامت کے روز) امن ہو گا اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔
یہ آیت سن کر صحابہ کرام کانپ اٹھے اور کہنے لگے ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ۔ کیونکہ انھوں نے ظلم کو عام معنوں میں شمار کیا جو کفر اور کبیرہ و صغیرہ گناہوں پر مشتمل ہے چنانچہ وہ آنحضرت ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اپنے دلوں میں کھٹکا پیدا ہوا اس کا آپ کے سامنے ذکر کیا ۔ ان کی بات سن کر آپ نے فرمایا یہاں ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے ۔ استدلال کے طور پر قرآن کریم میں اللہ کے نیک بندے حضرت لقمان نے جو اپنے بیٹے کو نصیحت  کی ،اس کا ذکر کیا ۔
واذ قال لقمان لابنه وهو يعظه  يا بني لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظيم (لقمان )
چنانچہ وہ سب راضی خوشی گھر کو چلے گئے ۔
2)جب حضور اکرم ﷺ نے فرمایا  ۔ جس کے حساب کی سخت پڑتال ہو گی تو اس کو عذاب دیا جائے گا ۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ سخت پریشان ہوئیں ۔کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے ۔
فاما من  اوتي كتابه بيمينه فسوف يحاسب حسابا يسيرا و ينقلب الي اهله مرورا (الانشقاق )
يعنی جس شخص کو اس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا گیا تو اس کا حساب  آسان ہو گا (یعنی اس کے اعمال کی پڑتال نہیں ہو گی ) وہ اپنے گھر والوں کی طرف  خوشی لوٹے گا ۔
پھر حضور اکرم ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ حساب یسیر سے مراد اس کے اعمال پر چشم پوشی اور در گزر  کرنا مراد ہے ۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ خاموش ہو گیئں  اور آیت کا صحیح  مفہوم سمجھ لیا ۔
3)اسی قبیل سے ہے جو آنحضرت ﷺ نے ’’انا اعطینک الکوثر‘‘ کی تفسیر  فرمائی کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے ۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ  میٹھا  اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کی طرح لا تعداد ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب  التفسیر )
سیوطی نے لکھا ہے کہ یہ متعد طرف سے مروی ہے ۔
حضرت ابن عباس ﷜ سے صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ کوثر سے مراد خیر کثیر ہے ۔ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی خیر کثیر  سے تفسیر کی ہے ۔ جو نبوت ،قرآن پاک ، توحید کی نشر واشاعت ، امت کی کثرت اورحوض کوثر وغیرہ بھلائیوں ،فضائل اور خصائص پر مشتمل ہے جن  کا شمار ناممکنات میں سے ہے ۔
4)اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ و اقيمو الصلوة و اتوالزكوة –
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کا حکم تو دیا ہے لیکن نمازوں کی تعداد و ارکان کا ذکر نہیں  کیا ۔ نماز کی شرائط اور سنن اور اوقات نماز کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ان تمام امور کی وضاحت سنت نبوی نےکی ۔ آپ نے اپنے قول و فعل سے اس کی پوری تشریح  فرمائی ۔ نماز کے متعلق قرآن کریم مین مختصر ذکر ہے ۔ لیکن حدیث اور سنت نے نماز کے  متعلق کسی جزئی کو باقی  نہیں چھوڑا ۔ بلکہ ایک ایک جزئی کی پوری پوری وضاحت فرمائی ۔ اس معاملہ میں آپ حدیث کی کوئی کتا ب دیکھ لیں تو آپ کو پختہ یقین ہو جائے گا جیسے صحیح بخاری میں نماز کے ہر مسئلہ کی پوری پوری وضاحت ملتی ہے ۔
4)اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینے کا حکم تو دیا ہے لیکن یہ نہیں بتا یا کہ کس مال میں زکوٰۃ واجب ہے اور اس کا کیا نصاب ہے ؟ اور کتنا مال بطور زکوٰۃ دیا جائے ۔ اور کب واجب ہوتی ہے ؟ اسی طرح قرآن کریم نے  زکوٰۃ کے مستحق لوگوں کا تفصیلاً ذکر نہیں کیا  بلکہ مجملاً ذکر کیا ہے ۔ سورۃ برات کی آیت میں مصارف زکوٰۃ کا ذکر تو ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ زکوٰۃ لینا کس کےلیے حرام اور ناجائز ہے ۔ ان تمام امور کی سنت اور حدیث نے وضاحت کی ہے ۔
5)اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
والسارق والسارقة فاقطعوا ايديهما جزاء بما كسبا نكلا من الله والله عزيز الحكيم (المائدة )
چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں یہ ان کے جرم کی پاداش  ہے ۔ اللہ کی طرف سے یہ باعث عبرت ہے اللہ غالب حکمت والا ہے ۔
اس آیت میں چوری کی تعریف نہیں کی گئی اور نہ نصاب کا ذکر  ہے کہ کتنا مال چوری کرنے پر چور کو حد لگائی جائے ۔ لفظ ایدی کی وضاحت بھی مطلوب ہے اس سے کیا مراد ہے ۔ کیا ایک ہاتھ کاٹا جائے یا دونوں کاٹے جائیں اور کس مقام سے کاٹے جائیں ؟ ان تمام سوالات کو سنت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے 
4)نیز اللہ تعالی ٰ نے فرمایا ۔
يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون – انما يريد الشيطان ان يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمرو الميسر و يصد كم عن ذكر الله وعن الصلوة فهل انتم منهون (المائدة )
اے ایمان والو! شراب ،جوا،تھان بتوں کے اور پانسے (یہ سب) پلید ہیں جو شیطانی کام ہیں ۔ ان سب سے بچ جاؤ تاکہ کامیاب ہو جاؤ ۔ شیطان کی تو یہ خواہش ہےکہ شراب  اور جوئے سے تمہارے درمیان عداوت اورکینہ ابھارے اورتم کو خدا کی یاد سے اور نماز سے روکے ۔ کیا اب بھی تم (مذکورہ بالا گناہوں سے )باز آتے ہو یا نہیں ۔
مذکورہ  امور کی نہی کا ذکر تو ہے لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خمر اور میسر کی کیا تعریف ہے ۔ انصاب کسے کہتے ہیں ؟ ازلام سے کیا مراد ہے ؟ اور شراب پینے کی کیا حد ہے ؟ حد کس چیز سے ثابت ہوتی ہے ؟ حد کون لگائے ؟ شراب کی کتنی  مقدار پر حد واجب ہوتی ہے ؟ کیا حد پوشیدہ لگائی جائے یا سرعام لگائی جائے ؟ باربار شراب پینے والے کے متعلق کیا حکم ہے ؟ کیا توبہ سے شراب کی حد معاف ہو جاتی ہے ؟ کیا غلام اور آزاد آدمی کی حد ایک ہی ہے یا دونوں کی مختلف حدیں ہیں وغیرہ مسائل اور احکام ۔ ان تمام سوالات کے جوابات سنت نے دیے ہیں اور ان معموں کو سنت نے حل کیا ہے ۔
7)اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
الزانية والزاني فاجلد واكل واجد منها مائة جلدة ولاتا خذكم بهما رانة  في دين الله ان كنتم تومنون بالله واليوم الاخر وليشهد عذابهما طائفة من المومنين –(النور )
مرد زنا كار اور عورت زنا كار ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ ۔ اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو توحد لگانے میں نرمی سے کام مت لو کیونکہ ان کو حد لگانا اللہ کےدین میں شامل ہے (سزا دیتے وقت کسی بند کوٹھڑی میں مت دو بلکہ) برسرعام مومنوں کے ایک گروہ  کے سامنے سزادی جائے (تاکہ تمام لوگوں کو عبرت حاصل ہو کہ بد کاری کا یہ انجام ہے )
اس آیت میں زنا کاری کی سزا بتائی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ زنا کون سا ہے جس پر حد واج ہوتی ہے کیا حد مذکور محصن (شادی شدہ ) یا غیر محصن کےلیے ہے ؟ محصن اور غیر محصن کی تعریف کیا ہے ؟ کوڑا کس چیز کا ہو ؟ جب یہ آیت غیر محصن کے لیے ہے تو محصن کے متعلق کیا حکم ہے ؟ کیا کوڑوں کے سوا کوئی او  ر سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔ اگر ہے تو وہ کون سی ہے ؟ کیا کوڑوں کی سزا ،ملک بدر کرنا ، اور ایک سال کی جلاوطنی سب اکھٹی سزائیں دی جاسکتی ہیں ؟ چنانچہ سنت نے ان تمام ! موریز وضاحت سے روشنی ڈالی ، اور تمام عقدے حل کر دیے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
8)انها جزاءالذين يحاربون الله ورسوله و سعون في الارض فسادا ان يقتلوا  او يصلبوا و تقطع ايديهم و ارجلهم من خلاف او ينفوا من الارض ذلك لهم خذي في الدنيا و لهم في الاخرة عذاب عظيم الا الذين تابوا من قبل ان تقدرواعليهم فاعلموا ان الله غفور رحيم (المائده )
جو لوگ اللہ اور اس کے رسو لﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں خون خرابہ کی کوشش کرتےہیں تو ان کی سزا یہ ہے کہ انھیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر لٹکائے جائیں یا ان کی مخالف سمتوں سے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا انھیں ملک بدر کیا جائے ۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے ۔ ہاں البتہ و مجرم جنھوں نے تمھارے  قابو آنے سے پہلے پہلے توبہ کر لی (تو انھیں مذکورہ بالا سزاؤں سے معافی  ہے توبہ کرنے والے کو معاف کر دو ) کیونکہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھی معافی دینے والا مہربان ہے ۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نےمحاربت کی سزا تجویز کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ محاربت کیا ہے۔ نیز ’’ان یقتلوا‘‘ وغیرہ احکام اختیار کے طور پر ہیں یا نوعیت بیان کرنے کے لیے آئے ہیں ’’ایدی اور ارجل ‘‘ سے مراک ہے ؟ من خلاف ‘‘ کا کیا مطلب ہے قبل القدرۃ سے کیا مراد ہے ؟ کیا توبہ کرنے سے تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں اور تمام گناہ معاف ہو  ہو جاتے ہیں ؟ تو سنت اور حدیث نے ہر ایک کی وضاحت کی اور راہزنی کرنے والے کے متعلقہ تمام احکام بھی بتائے ۔
9)اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔
وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ۰۰۴اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۵(النور)
جو لوگ پاکدامن عورتوں کو تہمت لگاتے ہیں ۔پھر اس کے ثبوت میں چار گواہ پیش نہیں  کرسكتے  تو انھیں (تہمت لگانے کی حد )اسی کوڑے  لگاؤ اور آئندہ کے لیے ان کی شہادت مت قبول کرو ۔ یہ لوگ نافرمان ہیں  ہاں جن لوگوں نے  (ارتکاب جرم یعنی تہمت لگانے کے بعد )توبہ کر لی اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لی تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے ۔
ان آيات میں رمی کی حد مذکورہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ رمی  کی حد مذکور ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ رمی سے کیا مراد ہے جس پر حد مرتب ہوتی ہے ؟ محصنات کون ہیں ؟ کوڑا کس چیز کا ہو ؟ تو بہ کا کیا مطلب ہے ؟ توبہ کا اثر شہادت کے رو ہونے او ر فسق دونوں پر وارج ہوتا ہے یا صرف آخری پر اثر پڑتا ہے ؟ بغیر زنا کے قذف کا  کیا حکم ہے ؟ وغیرہ مسائل جو ان دو آیات سے متعلق ہیں ۔ چنانچہ سنت اور حدیث نے مذکورہ امور میں سے ہر ایک کی پوری پوری وضاحت کی ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
10) وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۱۷(البقره )
یعنی جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا پھر کفر کی حالت میں مر جائے گا تو ایسے لوگوں  کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے ۔ یہ لو گ جہنمی  ہیں ۔ یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اس آیت میں ردت پر وعید مذکور ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ ردت سے کیا مراد ہے ؟ ودت کن امور سے متحقق ہوتی ہے ؟ دنیا اور آخرت میں حببوط کا کیا مطلب ہے ؟ اس آیت میں دین سے کیا مراد ہے ؟ ردت کی حد کیا ہے؟ کیا مرتد کو توبہ  کرنے کے لیے نصحیت کرنے کا حکم ہے ؟ کیا مرتد اور مرتدہ کا حکم ایک ہی ہے ؟ کیا زندیق اور مرتد میں کچھ فرق ہے یا ایک حکم ہے ؟ جو باربار توبہ توڑ کر مرتد ہو جائے اس کا  کیا حکم ہے ؟ مرتد کی توبہ کیسے متحقق ہوتی ہے ؟ مرتد کے مال کا کیا حکم ہے ؟ اور مرتد ہونے کی صورت میں اس کے مال میں تصرف کرنے کا کیا حکم ہے ؟ نیز مباحث جن کا ذکر ردت کے ساتھ ہے ۔ ان تمام سوالات کو سنت نے حل کیا ہے اور معمہ نہیں چھورا ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۱۸
اور ان تينوں کو بھی (اللہ نے معافی دے دی)جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے (ان کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ ) ان پر زمین تنگ ہو چکی تھی باوجود یکہ یہ بہت کشادہ تھی اور ان پر ان کی زندگیاں دو بھر ہو گئی تھیں تو انھوں نے خیال کیا کہ اللہ کی ناراضگی  سے بچنے کی کوئی صورت نہیں مگر اس کے ہاں ۔ پھر اللہ نے ان پر کرم کیا تاکہ وہ توبہ کریں ۔ یقینا  اللہ تعالی توبہ کرنے والا مہربان ہے ۔
اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ تین اشخاص جنگ سے رہ گئے تھے مگر یہ ذکر نہیں کہ کس جنگ سے رہ گئے تھے اور ان کے اسماء کیا کیا تھے ؟ ان پر زمین کیسے تنگ ہو گئی باوجود یکہ وہ کشادہ تھی ؟ ان کی جانیں ان کے لیے کیسے دو بھر ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کب قبول فرمائی ؟ توبہ قبول ہونے کے بعد انھیں کس قدر خوشی ہوئی ؟ ان سب باتوں کی حدیث نے وضاحت سے بیان کیا ہے ۔ حضرت کعب بن مالک کی حدیث ان صحابہ کے متعلق جو جنگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے سب حدیثوں  سے لمبی شمارہوتی ہے جن کا ذکر حدیث اور سیرت کی کتا بوں میں ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ۰۰۲۳۸                                                                                                                                                                                                                                                  
اس آیت میں نمازوں کی حفاظت خصوصا نماز وسطی ٰ کی حفاظت کے متعلق ذکر ہے لیکن صلوٰۃ وسطیٰ کے متعلق وضاحت نہیں کی کہ اس سے مراد کونسی نماز ہے ؟ چنانچہ حدیث نے اس کی تشریح اور وضاحت کی ۔ چونکہ اس سلسلہ میں مختلف آثار مذکور ہیں ۔ اسی لیے علماء کا اس میں اختلاف ہے چنانچہ  ہر نماز کے لیے وسطٰی کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن زیادہ صحیح یہ بات ہے کہ اس سے مراد نماز عصر ہے کیونکہ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ۔ جنگ خندق کے موقع پر کفار نے ہمیں نماز وسطیٰ ،نماز عصر سے محروم کر دیا ۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے  بھرے (مسلم ،بخاری)لیکن بخاری میں صلوٰۃ العصر کا لفظ نہیں ۔
اسی طرح سنت نے بیان کیا کہ تانتین سے مراد ساکتین (خاموش )ہے اس آیت سے نماز میں کلام کرنا ممنوع ٹھہرا ۔ چنانچہ اصحاب ستنہ وغیرہ نے زید بن ارقم ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ہم رسو لﷺ کے زمانہ میں نماز میں کلام کر لیا کرتے تھے ۔ ایک آدمی نماز پڑھتا ہوا  اپنے ساتھ کھڑے ہوئے سے باتیں کرنے لگتا تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ۰۰۲۳۸
پھر ہمیں خاموشی کا حکم ہوا اور نماز میں کلام کرنے کی ممانعت ہو گئی ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
13) وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ۠١ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۰۰۶۰
(اے مسلمانو!)تم کفار کے مقابلہ کے لیے جہاں تک ممکن ہو اپنی طاقت بڑھاؤ اور گھوڑے باندھو تکہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمھارے دشمنوں پر تمھاری دھاک بیٹھ جائے ۔ ان کے علاوہ  ایسے دشمن جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ کو علم ہے ان پر بھی تمھارا رعب چھا جائے ۔ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا تمھیں پورا پورا اجر ملے گا ۔ تمھارا حق ہرگز نہیں مارا جائے گا ۔
اس آیت میں قوت بڑھانے کا ذکر ہے لیکن قوت کی وضاحت نہیں کی گئی کہ اس سے مراد ہے چنانچہ حدیث نے اس کی وضاحت کی ۔ امام احمد اور امام مسلم  نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے قوت کے متعلق سوال کیا گیا ۔ آپﷺ نے جوابا فرمایا ۔ قوت سے مراد تیراندازی  ہے قوت سے مراد تیر اندازی ہے ۔ قوت سے مراد تیز اندازی ہے ۔
يہاں پر مفسر کی تفسیر میں انتہائی وسعت ہے ۔ اسی لیے یہ ہر زمانہ اور ہر مکان کے لوگوں کے لیے ہے دراصل قوت سے مراد جنگ کے اسباب  کی تیاری ہے ۔ اس  آیت  میں اعجاز ہے کیونکہ قوت کے اسباب زمانے اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ  نے مطلق قوت کا ذکر کیا ہے اس میں کوئی قید نہیں لگائی  کہ اس قم کی قوت ہو ۔ چنانچہ یہ آیت ہر زمانہ اور جگہ کے لوگوں پر صادق آتی ہے ۔ اسی طرح ’’رمی ‘‘ کا لفظ بھی اعجاز میں شامل ہے یہ بھی  ہر زمانہ اور ہر زمان کے لوگوں کے لیے ہے ۔ چنانچہ رمی کا لفظ تیروں اور نیزوں پر منطبق ہوتا ہے جیسے عہد اول میں تھا اور رمی سے مراد  منجنیق  اور توپیں بھی ہیں جیسے عہد اول کے بعد تھا ۔اور رمی سے مراد گرنیٹ ، دستی بم اور ہائیڈروجن بم اور راکٹ بھی ہیں جو دور دراز علاقہ تک مار کرتے ہیں ۔ سمندروں اور براعظموں کو عبور کر جاتے ہیں ۔ جو آج کے  دور منطق ہوتا ہے ۔ یہ قرآن کریم کا معجزہ ہے اور رسو ل اکرم ﷺ کا معجزہ ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۷
اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک  کا جنت میں جو سامان تیار کیا ہے اسے کوئی نہیں جانتا لیکن اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کہ میں نے اپنے نیک اور صالح بندوں کےلیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی نے دیکھی  ہیں نہ سنی  اور نہ کسی کے دل میں ان کا کبھی خیال آیا ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی ۔ فلا تعلم نفس--------الاية
15)سورة واقعه میں ’’ وظل ممدود ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔
اس میں صرف سائے کے لمبے ہونےکا ذکر ہے ۔ اس کی کیفیت مذکور نہیں لیکن حدیث نے اس کی وضاحت کی ۔ چنانچہ صحیحین میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر اس کے سائے میں یاک شاہسوار تیز رفتار گھوڑے کو سو سال دوڑائے  تو پھر بھی سایہ ختم نہ ہوگا ۔ پھر آپ نے پڑھا ۔ ’’وظل ممدود ‘‘
علاوہ ازیں بے شمار مثالیں پیش کی دجاسکتی ہیں جو اس مضمون میں سما نہیں سکتی جن کے  لیے ایک بڑی کتاب چاہیے ۔
اے قاری ! یہ آیات جن کا میں نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے بطور نمونہ بیان کی گئی ہیں ان کی تفسیر اگر آنحضرت ﷺ نہ کرتے تو ہم اس کی تفسیر سمجھنے  سے قاصر رہتے اور نہ اس پر غور وفکر کرسکتے ۔اور قرآن کریم جو دین کا منبع او رماخذ ہے ۔ اس کا سمجھنا  ہمارے فہم اور ادراک سے بالا تر ہو جاتا ہے ۔ اس وقت یہ بہت بڑا المیہ ہوتا اور اسلام کی نشوونما  رک جاتی ۔
صحابہ کرام اور تابعین  اور تبع تابعین اور ائمہ دین سا حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے چنانچہ عبداللہ بن مبارک نے عمران بن حصین سے بیان کیا ہے کہ انہوں نےکسی خارجی سے کہا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف قرآن پاک پر عمل کرنے کے دعویدار ہیں اور سنت  اور حدیث  کی پراوہ نہیں کرتے ۔ تو ایک احمق ہے ۔ کیا اللہ کی کتاب میں نماز ظہر کی چار رکعت کے متعلق ذکر ہے کہ ان میں قرأت  جہر نہ کی جائے ؟ پھر کئی اور نمازوں اور زکوٰتوں وغیرہ کا ذکر کیا ۔ پھر پوچھا کیا ان کا ذکر اللہ کی کتا ب میں ؟ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کتاب میں ان کا ذکر مبہم اور غیر واضح ہے سنت نے ان کی تفسیر اور وضاحت کی ہے ۔
امام اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو حضرت جبریل ﷤ سنت لے کر آتے جو اس کی تفسیر کرتی ۔
مکحول ،جو ثقہ تابعی ہیں ،جسے زہری نے ’’علمائے ثلاثہ ‘‘ سے شمار کیا ہے ،بیان کرتے ہیں کہ قرآن کریم سنت کا زیادہ محتاج ہے بہ نسبت سنت کے جو قرآن کریم کی محتاج ہے ۔
اہل سنت کے امام احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ سنت کتاب اللہ کی تفسیر اور وضاحت کرتی ہے  امام شافعی نے اپنے ایک رسالہ ’’البیان الثالث ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا۰۰۱۰۳(النساء )
نیز فرمایا
وَّ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ
نيز فرمايا
وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ
پھر رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے اس کی وضاحت کی کہ کتنی نمازیں فرض ہیں اور ان کے کیا کیا اقات ہیں اور ان کی سنتیں کتنی ہیں وغیرہ ۔ زکوٰۃ کی مقدار کیا ہے ؟کس وقت نکالی جائے ؟ حج او ر عمرہ کیسے کیا جائے ؟ حج کب فرض ہوتا ہے او ر کب معاف ہے ؟ حج اور عمرہ کے احکام کب متفق اور کب مختلف ہوتے ہیں ؟ اسی نوعیت کی کئی اور باتوں کا قرآن پاک میں ذکر نہیں۔ ان کی سنت سے تشریح ہوتی ہے ۔ بنابریں قرآن کریم کی وضاحت  سنت سے ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے کہ جس پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور تمام علمائے سنت سے قرآن کریم کی تشریح کو قرآن پاک کی طرح تسلیم  کرتے ہیں ۔