نظریانی لگن اور بقاء واحیاء ملی
ہر باشعور انسان اور ہرمتمدن معاشرے کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ،کوئی نہ کوئی نظریہ حیات ضرور ہوتا ہے ۔ اگر نظریہ حیات پورے شعور و شدت سے فکرو عمل کو گرماتاہو تو افراد اور معاشرے کے تمام مسائل بطریق احسن پورے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے سامنے  علم وعرفان ،سیادت و قیادت اور تسخیر و تسلط کے رموز و نکات  کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اس نظریاتی لگن سے عاری افراد اور ادارے ذاتی نقصان اٹھانے کے علاوہ بسا اوقات پورے معاشرے کو بھی لے ڈوبتے ہیں ۔ افراد اور ملتوں کی تعمیر و تخلیق کے لیے نظریاتی لگن کی حرارت ناگزیر ہے ۔
نظریاتی لگن کی بالا دستی
بین الاقوامی  منڈی میں اس وقت کئی ایک نظریے کشمکش اشاعت و اقتدار میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان کے نظریہ حیات کے خدو خال قرآن حکیم میں وضع کر دیے گئے ہیں ۔ اس عظیم اسلامی مملکت کے قیام کے لیے ایک دلولہ انگیز جہاد بھی اسی لیے ہوا تھا کہ مسلمانان برصغیر اپنی زندگی قرآن و سنت کے تابع کرسکیں ۔ چنانچہ اس اسلامی ریاست کی اساس ان شہدائے کرام کے مقدس لہو پر  رکھی گئی جنھوں نے ہمیں قرآن وسنت کی روشنی سے معمور ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی داؤ پر لگا دی تھی ۔ اب ہمارے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس مقدس نظریے کو دل سے لگائے رکھیں اور اپنی  زندگی کے تمام شعبوں میں اسی سے رشدوہدایت لیتے رہیں ۔
ہم نے یہیں اکتفا نہین کرنا ،بلکہ اپنے فکر  و عمل اور معیشت و معاشرت کے جملہ شعبوں  کی اس اعلیٰ و ارفع طریق سے تشکیل نو کرنا ہے کہ اپنے وطن میں اس عزیز از جان نظیرہ کو استحکام نصیب ہوا اور ااس کی روشنی میں ملی احیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی نظریاتی منڈی میں بھی انجام کا راسے  ہی  غلبہ نصیب ہو ۔ ملی معیشت و معاشرت کو نت نئے بحرانوں سے نکالنے اور عالمی امن کا راستہ تراشنے کے لیے اور کوئی لائحہ عمل اس سے  بہتر کم خرچ اور مؤثق ثابت نہیں ہو سکتا ۔
تعلیمی منصوبہ بندی میں نظریاتی لگن کے اقتصادی فوائد
نظریاتی لگن ہر قسم کی منصوبہ بندی میں بے حد منفعت بخش ثابت ہوتی ہے  مگر تعلیمی منصوبہ بندی میں تو نظریاتی حرارت خصوصی طور پر نمایاں رنگ لاتی ہے ۔ دنیا کے تعلیمی نظاموں کا تقابلی تجزیہ کیاجائے تو یہ حقیقت قطعی واضح ہو جاتی ہے کہ جن ممالک میں کسی نہ کسی قسم کا کوئی نہ کوئی نظریہ حیات کار فرما ہے وہاں تعلیم ایک قوی ،مؤثر اور سود مند تحریک کا روپ دھارے ہوئے ہے ۔ چنانچہ ایسے خطوں میں عامۃ الناس کے سیرت و کردار اور معیشت و معاشرت کے مختلف شعبوں میں نظریاتی لگن کی مفرح خاطر چھاپ واضح طور پر نظر آتی ہے ۔اس کے برعکس ایسے ممالک جہاں عوام کے دل و دماغ نظریاتی لگن سے عاری ہیں وہاں عمل تعلیم  اور عمومی زندگی میں وہ دلولہ اور رنگ مفقود ہیں جو بقا اور احیاء کا منطقی لازمہ ہوا کرتے ہیں۔
صوبائی تعلیم کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی فنی زندگی میں راقم الحررف نے بھی اس حقیقت کی توثیق مشاہدہ کی ہے ۔ چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ جن سکولوں ،کالجوں ،یونیورسٹیوں  اور تعلیمی دفاتر کے سربراہ نظریاتی لگن سے سر شار ہیں ۔ وہاں نتائج بحثیت مجموعی بے حد تسلی بخش ہین ۔ اس کے برعکس جہاں یہ لگن مفقود یا دھیمی ہے ،وہاں حالات نسبتا مایوس کن ہیں ۔ بلکہ کئی جگہوں میں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نظریاتی لگن کے فقدان سے اس قدر انتشار رو کہرام مچاہوا ہے کہ کئی اچھے بھلے منصوبے بھی نہ صرف بےحس اورجمود کا شکار ہیں بلکہ ان کے رخ بھی تعمیر و تخلیق  سے ہٹ کر تحریف و تخریب کی جانب مڑ چکے ہیں ۔ چنانچہ  اس افسوسناک صورت حال کے کفارہ کے لیے اور اپنے تعلیمی جہاد کو مزید مؤثر اور ثمر آور بنانے کےلیے خاکسار نے نظریاتی لگن گرمانےکے منصوبوں کو تیز تر کر دیاہے ۔ مقام مسرت ہے کہ ان کم خرچ اور تیر بہدف اصلاحی نسخوں سے کافی حوصلہ افزا نتائج مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔
نظریاتی لگن میں سقم و خلل کا علامج وانسداد
ایک مطہر اسلامی سلطنت میں تمام منصوبہ بندی کامحور قرآن و سنت ہونا قطعی لازمی ہے وسائل  کی کم مائگی کا تو اس سے بہتر اور کوئی علامج نہیں کہ نظریاتی لگن کی کم خرچ مگر تیز برقی حرارت سے اسی تہی دستی کا کفارہ کیا جائے مگر اگر کہیں شومئی قسمت سے وسائل کی تہی دستی اور نظریاتی لگن کا فقدان یکجا ہو جائیں تو معیشت و معاشرت کا مکمل طور پر کباڑہ ہوجاتاہے ۔ میرے تجزیہ کے مطابق ادوار ماضی میں ہماری معیشت کے المیہ کا بنیادی سبب ان ہر دو شقاوتوں کا یہی بد نصیب امتزاج تھا ۔
یہ امر بد یہی ہے کہ ہر قسم کے ماہریں منصوبہ بندی میں بالعموم اور تعلیمی منصوبہ بندی کے  تمام کارکنوں میں بالخصوص نظریاتی لگن کو اساسی کردار ادا کرنا چاہیے ۔ نظریاتی حرارت میں اگر کوئی خلل یا سقم واقع ہو تو اس کا علامج وانسداد ممکن ہے ۔ ایک سدھا سادھا طریق یہ بھی ہے  کہ منصوبہ ساز اپنے آپ سے فقط ایک سوال کرے  کہ زیر نظر منصوبہ کی اصل غرض و غایت کیا ہے ؟ چنانچہ ضمیر کی دھڑکنوں اور وقت کےتقاضوں سے واضح جواب ملتا ہے کہ ہم نے اس مقدس خطہ زمین کوجس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا اس کو زیر نظر منصوبہ کی وساطت سے  آگے بڑھانا لازم ہے ۔ اگر اس واضح نشاندہی کےبعد بھی مصنف منصوبہ کو کچھ سمجھائی نہ دے ، وہ اندھیری غاروں میں سرگرداں رہے یا رہنمائی کےلیے ادھر ادھر جھانکتا پھرے تو پھر اس کی کم مائیگی یقینا گمراہی ،ضیاع ،ہزیمت اور ہلاکت پر متج ہو گی۔
ضمیر کی آواز ،وقت کی ضروریات اورہمارے خصوصی تاریخی پس منظر کے حوالے سے منصوبہ بندی کے کارکن کو اپنے فرائض کے خدوخال اورطریق کا روضع کرنے میں کافی مدد ملتی  ہے ۔ اگر شکوک و ابہام کی دھند لکیں پھر بھی واضح  نہ ہوں تو فن منصوبہ بندی  پر جدید تصانیف  کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم ،احادیث  نبوی ﷺ اور تاریخ اسلام کے پر تجسس اور عقدہ کشا مطالعہ سے  مطلوبہ روشنی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مگر خدانخواستہ پھر بھی نظریاتی لگن میں حرارت پیدا ہونے اور قلزم اسرار کے پردے اٹھنے کی کوئی صورت پیدا ہوتی دکھائی نہ دے تو پھر تعلیمی  منصوبہ بندی کے مقدس فن سے خواہ مخواہ چپکے رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ منصوبہ ساز اپنی بے بصری کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے منصب سے فوراً مستعفی ہو جائے کیونکہ خالص  جہالت و جمود پر مبنی  منصوبہ بندی سے نہ صرف معیشت و معاشرت ملی کو شدید بحرانوں کا سامنا رہے گا۔ بلکہ خود منصوبہ ساز کی فنی صلاحیتوں اورجذباتی توازن پر بھی سخت ناگوار اثرات مرتب ہوں گے ۔
معیشت و معاشرت کی سلامتی کاواحد راستہ
ملی معیشت و معاشرت جس رنگ میں ہے وہ ہمارے سامنے ہے ۔ہماری تعلیمی منصوبہ بندی اور مختلف منصوبوں کی ترتیب وتعمیل کاجوحشر ہو رہاہے اس سے بھی آپ بخوبی آشنا ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ نظریاتی لگن کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے 
یا مردہ ہے یا عالم نزع میں گرفتار
وہ فلسفہ جو لکھا نہ گیا خون جگر سے
ایک نحیف و ناتواں اسلامی سلطنت اور خصوصا تیسری دنیا کے بے پناہ مسائل میں گری ہوئی مملکت کے سامنے اپنی بقاء اور احیاء کے لیے ایک اور صرف ایک ہی راستہ کھلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی معیشت و معاشرت کے تام شعبوں کی منصوبہ بندی میں نظریاتی لگن کی ولولہ انگیزی  کو  اولیت  دی جائے ۔ تعلیم منصوبہ بندی کو خلل و خرابے سے بچانے اور دنیائے تعلیم وتمدن کو تعمیر و تخلیق کے صراط مستقیم پر گامزن کرانے کےلیے  اس سے بہتر اور کوئی صورت نہیں ۔
خوش خبری
قرآن مجید مترجم مع حواشی فوائد ستاریہ از مولانا عبدالستار صاحب محدث دہلوی ر﷫ کے چند نسخے مفت تقسم کیے جارہےہیں ۔ پیکنگ اور رجسڑی خر چ کے لیے دس روپے کا منی آرڈر  بھیج کر ایک نسخہ طلب فرمالیں ۔ یہ رعایت صرف 1980-03-31 تک ہے  اپنا پتہ مکمل صاف تحریر کریں ۔ منی آرڈر پتہ ذیل پر روانہ کریں ۔ادراہ اشاعت القرآن والحدیث محمد ی ؐ مسجد اے ۔ایم ،کراچی