ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اپریل
1980
نظریانی لگن اور بقاء واحیاء ملی 
ہر باشعور انسان اور ہرمتمدن معاشرے کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ،کوئی نہ کوئی نظریہ حیات ضرور ہوتا ہے ۔ اگر نظریہ حیات پورے شعور و شدت سے فکرو عمل کو گرماتاہو تو افراد اور معاشرے کے تمام مسائل بطریق احسن پورے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے سامنے  علم وعرفان ،سیادت و قیادت اور تسخیر و تسلط کے رموز و نکات  کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اس نظریاتی لگن سے عاری افراد اور ادارے ذاتی نقصان اٹھانے کے علاوہ بسا اوقات پورے معاشرے کو بھی لے ڈوبتے ہیں ۔ افراد اور ملتوں کی تعمیر و تخلیق کے لیے نظریاتی لگن کی حرارت ناگزیر ہے ۔
نظریاتی لگن کی بالا دستی 
بین الاقوامی  منڈی میں اس وقت کئی ایک نظریے کشمکش اشاعت و اقتدار میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان کے نظریہ حیات کے خدو خال قرآن حکیم میں وضع کر دیے گئے ہیں ۔ اس عظیم اسلامی مملکت کے قیام کے لیے ایک دلولہ انگیز جہاد بھی اسی لیے ہوا تھا کہ مسلمانان برصغیر اپنی زندگی قرآن و سنت کے تابع کرسکیں ۔ چنانچہ اس اسلامی ریاست کی اساس ان شہدائے کرام کے مقدس لہو پر  رکھی گئی جنھوں نے ہمیں قرآن وسنت کی روشنی سے معمور ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی بھی داؤ پر لگا دی تھی ۔ اب ہمارے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس مقدس نظریے کو دل سے لگائے رکھیں اور اپنی  زندگی کے تمام شعبوں میں اسی سے رشدوہدایت لیتے رہیں ۔
  • اپریل
1980
محمد صدیق
اس کے علاوہ آپ کا حاضر فی الذہن ہونا ان لوگوں کی نسبت تو درست ہو سکتا ہے جنھوں نے  آپ کو دیکھا ہے کیونہ ان کےذہن میں آپ کی خاص صورت و شکل حاضر ہو سکتی ہے ۔ لیکن جنھوں نےآپ کو نہیں دیکھا  ان کے ذہن میں تو آپ کی صفات ہیں جو کلیات ہیں جن میں تعین اور تشخص نہیں تو پھر آپ بعینہ حاضر کس طرح ہوئے اور جب آپ بعینہ حاضر نہ ہوئے اور صرف آپ کی صفات ہوئیں ۔ جو کلیات  ہیں تو ان کے نزدیک بھی حاضر فی الذہن ہذا کاحقیقی معنی نہ ہو ا اس سے بھی معلوم ہو اکہ عنی  کا خیال  درست ہے اور اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حاضر فی الذہن ہذاکا حقیقی معنی ہو گا۔ پس اس صورت میں عنی  اورحافظ ابن حجر  برابر ہوں گے کیونکہ لفظ جب دو معنوں کے درمیان مشترک ہو تو بغیر دلیل کےکسی کو نہیں لے سکتے نہ حافظ ابن حجر کا مذہب ثابت ہوا نہ عینی کا ۔ ہاں عنی کے مذہب کو اایک اور طرح سے ترجیح ہو سکتی ہے وہ یکہ حاضر فی الذہن کو ہذا کا حقیقی معنیٰ ماننے کی صورت میں لازم آتا ہے کہ ہذا دومعنوں میں مشترک ہوا اور اگر حاضر فی الذہن کو مجازی معنیٰ قرار دیں تو اس صورت میں ہذا حقیقت مجاز ہوگا اور عربیت کا یہ قاعدہ ہےکہ جب ایک  لفظ اشتراک اور حقیقت مجاز کے درمیان دائر ہو تو حقیقت مجاز کی کثرت ہے ۔ پس کثرت پر حمل ہو گا ۔ اس بنا پر بھی عینی کے مذہب کو ترجیح ہوئی اور رسو ل اللہ ﷺ کا مثکوف ہونا ہی غالب رہا ۔
  • اپریل
1980
ابوشہبہ
زمانہ طالب علمی میں جب یہ حدیث پڑھی ’’من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر  مائۃ شہید‘‘ یعنی جو شخص میر امت میں فتنہ و فساد کے موقعہ پر میری سنت کا احیاء  کرے گا تو اسے سو شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔اس وقت نوعمری کا زمانہ تھا ۔ علم وعقل میں پختگی نہیں تھی ۔ بنا بریں یہ بات میرے فہم و ادارک سے بالا تر رہی کہ ایک چھوٹی سی  سنت جیسے رفع الیدین فی الصلوٰۃ وغیرہ پر عمل کرنے سے سو شہید کا ثواب کیسے ملے گا  آج سب کچھ معلوم ہو رہا ہے اور عقل و دانش اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی رسو ل اکرم ﷺ کی سنت کے احیاء میں اتنا ثواب ہونا چاہیے ۔
چنانچہ آج  کے دور میں جسے جدید دورسے تعبیر کیا جاتا ہے جس قدر سنت نبوی سے  بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں  برتی جا رہی  چنانچہ بعض لوگوں کو سنت نبوی کی پیروی کرنے کی وجہ سے مسجدوں سے نکلا گیا اور سنت سے انکاروں  انحراف کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے امام صاحب  سے یوں نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ کچھ لوگ حدیث اور سنت کے معاملہ میں اس قدر افراط اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر عربی عبارت کو حدیث تصور کرتے ہیں ہر قصہ کہانی کی کتاب  میں  میں آنحضرت  ﷺ  کا کوئی معجزہ ، کوئی واقعہ یا کوئی فرمان سنتے  ہیں تو اسے آنکھیں بند  کر کے حدیث نبوی تصور کرتے ہیں اور اسے تسلیم نہ کرنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ  نبی ﷺ کی حدیث کاہی منکر ہے ۔ یہ گستاخ اور بے ادب ہے ،وغیرہ )بعض سراسر موضوع احادیث کو صحیح  مرفوع احادیث سےمقدم سمجھتے ہیں ۔
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
  • اپریل
1980
اسرار احمد سہاروی
ہشیار ہو غاف کہ بجا ہے طبل جنگ               نغمے کی صدا تیز ہو ،لے ہو بلند آہنگ
جھنکار سلاسل کی صدا دیتی ہے ہر دم            جینا ہے غلامی کا تجھے موت کا ہمرنگ
صیقل ہے ضروری تیرو تیغ کی ہردم               فرمان نبی ﷺ ہے کہ نہ کھا جائے  انھیں رنگ
اٹھ تجھ کو بلاتی ہے صدا آ ہ وفغان کی             خون شہدا سے کمر و کوہ ہے اثررنگ
  • اپریل
1980
عبدالرشید عراقی
قوموں کا عروج و زوال ، انحطاط و ارتقاء اور زندگی  کا دارومدار ان کی اپنی  تاریخ  پر منحصر ہے ۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تاریخ کے آہم و روش  ادوار پر گہر  رکھتی ہیں جو قوم اپنی تاریخ  کو بھلا  دتی ہے ۔ یقینا  وہ ایک دن زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔
تاریخ اصل مین افراد کی حیات و ممات کے علاوہ تمدنی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی مذہبی و اخلاقی اور دماغی کارناموں کا مرقع ہوتی ہے ۔ سوانح و تذکرے تاریخ ، ہی کا حصہ ہیں ۔ جن میں فرد کے خصوصی  کانامے ،مذہبی و اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتہ ان تمام افکار رو عوامل کیاسیر حاصل تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ جس کے ذریعہ فرد عوام کی  نگاہوں میں غیر معمولی مقبولیت و جاذبیت کا حامل ہوتا ہے ۔
سوانح  و تذکروں کی ترتیب کا دوسرا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اہم کا رناموں  کی انجام دہی ملی و مذہبی عظیم  اصلاحی پہلوؤں کی طرف خیالات و افکار کا میلان فطری  و جبلی صلاحیتوں کی نشوونما اور کار ز ارحیات کے نشیب  و فراز کی واضح تصویر کو قارئین  کے سامنے لایا جائے ۔ نئی نسلیں  ماضی میں اپنے اسلاف کے حیات آفرین کارناموں سے واقفیت کے بعد ہی مستقبل کے لیے ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل معین کرتی ہیں ۔ اس میدان میں جب ہماری نظریں کسی مشہور و معروف شخصیت  کی تاریخ  سے مزین صحفہ پر پڑتی ہیں تو اچانک ایک ہمہ گیر شخصیت سامنے آجاتی ہے ۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس قوم کی  سطح ذہن پر آجاتی ہیں۔ اسی طرح ملتوں اور جماعتوں کی تاریخ کا حالہے ۔