1)حضرت زینب ؓ بنت ابی سلمہ ؓ
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ﷜ کی صاحبزادی تھیں جو ان کی پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ ﷜ بن عبدالاسد مخزومی کے صلب سے تھیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
زینب ؓبنت ابو سلمہ ؓ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی۔
حضرت ابو سلمہؓ رسو ل اکرم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی ، اس  لحاظ سے حضرت زینب  ﷜ حضور کی بھتیجی ہوتی تھیں۔ (برہ بنت عبدالمطلب حضرت زینب ﷜ کی دادی تھیں اور حضور ﷺکی پھوپھی ) ان کی ولادت  کے بارے میں روایتوں میں ان کے والدین مکہ سے ہجرت کرنے کےبعد قیام پذیر تھے ۔ حضرت ابو سلمہ ؓ اور ام سلمہ ؓ حبشہ میں چند سال گزارنے کےبعد مکہ واپس آگئے اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی (حضرت ابو سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ام سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں )مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر الصحابیات میں لکھا ہے کہ حضرت زینب ؓنے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی ۔ اگر حضرت زینب ؓ کی ولادت حبشہ  میں تسلیم کی جائے تو پھر انہوں نے ’’والدین ‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ والدہ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی ،دونوں میاں بیوی کے زمانہ ہجرت میں ایک سال کا تفاوت ہے ) اس وقت ان کی عمر کم از کم تین چار سال ضرور ہو گی لیکن بعض ارباب سیر نے لکھا ہے کہ حضرت ابو سلمہ ؓ نے 4؁ ہجرمیں وفات پائی تو اس وقت حضرت زینب  ؓ شیر خوار تھیں۔ حافظ ابن حجر نے تو اصابہ میں یہاں تک لکھا ہے کہ ان کو حضرت اسماء ؓ بنت ابی بکر ؓ نے دودھ پلایا ۔ عدت گزارنے کے بعد حضرت ام سلمہ ؓ سرور عالم ﷺ کے عقد نکاح میں آئیں تو ننھی زینب  ؓبھی  حضور ﷺ کے آغوش تربیت میں آگئیں ، ان کا اصل نام برہ تھا ۔ حضور ﷺنے بد کر زینب رکھا ۔
بعض روایتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 4؁ھ میں والد حضرت ابو سلمہ ؓ کی وفات کے بعد پیداہوئیں ۔ہماری تحقیق کے مطابق جن روایات میں حضرت زینب ؓ کی ولادت حبشہ میں بتائی گئی ہے وہ صحیح نہیں کیونکہ ابن ہشام نے محمد بن اسحاق کے حوالہ سے خود حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جس وقت میں نے ہجرت کی 13؁ بعد بعثت میں میری گود میں ایک ہی بچہ تھا (سلمہ ؓ بن ابو سلمہ ؓ) اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت زینب ؓ مدینہ منورہ میں ہجرت نبوی کے بعد پیدا ہوئیں ، 4؁ھ میں حضرت ام سلمہ ؓ کو ام المؤمنین  بننے کا شرف حاصل ہوا تو حضرت زینب شیر خوار تھیں اس لحاظ سے ان کا سال ولادت 4؁ ہجری کےلگ بھگ ٹھہرتا ہے ۔ حضرت ام سلمہ ؓ کےحضور ﷺ سے نکاح کے وقت حضرت زینب ؓ کی شیرخوارگی کی تصدیق مسند احمدؓ بن حنبل اور طبقات ابن سعد کی اس روایت سےبھی ہوتی ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نہایت حیا دار تھیں ۔ حضور ﷺسے نکاح کے بعد کچھ عرصہ تک ان کی یہ کیفیت رہی کہ جب حضور ﷺ تشریف  لاتے تو ہ فرط حیا سے اپنی شیرخوازیچی زینب کو گود میں لے کر دودھ پلانے لگتیں حضور ﷺ یہ دیکھ کر واپس ہو جاتے ،حضرت عمار ﷜بن یاسر ﷜ کو جو حضرت ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے ،معلوم ہوا تو  وہ ناراض ہوئے اور حضرت زینب ؓ کو اپنےگھر لے گئے (عارضی طور پر )۔
رحمت عالم ﷺ کو ننھی زینب ؓ سے بے حد محبت تھی ، وہ آپ ﷺ کی ربیبہ بھی تھیں اور بھتیجی بھی ۔ حضور ﷺکبھی غسل فرماتے ہوتے اور ننھی زینب آہستہ آہستہ چلتے آپ ﷺ کے قریب چلی جاتیں تو آپ ﷺ پیار سے ان کے منہ پر پانی چھڑکتے تھے ۔ اہل سیر نے تواتر کے ساتھ لکھا کہ اس پانی کی برکت سے حضرت زینب ؓ کے چہرے پر بڑھاپے میں بھی جوانی کی آب و تاب قائم رہی ۔
حضرت زینب ؓسن بلوغ کو پہنچیں تو ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ نے ان کی شادی اپنے بھانجے حضرت عبداللہ ؓ بن زمعہ (بن اسود بن مطلب بن اسدبن عبدالعزیٰ بن قصی )سے کر دی ۔ اس سے چھ لڑکے اورتین لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔
63ھ؁ میں حضرت زینب ؓ کو ایک عظیم صدمہ سے دو چار ہونا پڑا،یہ ان کے دو لڑکوں یزید بن عبداللہ ؓ اور کثیر بن عبداللہ ؓ کی شہادت تھی جو واقعہ حرہ میں ہوئی ۔ جب ان کی لاشیں حضرت زینب ؓ کے سامنے لائی گئیں تو ’’انا الله وانا اليه راجعون ‘‘ پڑھ کر فرمایا کہ مجھ پر بڑی مصیبت پڑی، میرا یک  فرزند تو سر میدان لڑکر شہید ہوا لیکن دوسرا تو خانہ نشین تھا ، ظالموں نے اسے گھر میں گھس کر ناحق قتل کیا ۔ اس کےبعد نہایت حوصلہ اور صبر سے اپنے دونوں نو نہالوں کے کفن دفن کا انتظام کیا ۔ اس واقعہ کے دس سال بعد 73ھ ؁  میں حضرت زینب ؓ نے بھی پیک اجل کو لبیک کہا ،جنت البقیع میں دفن ہوئیں ۔جنازے میں فقیہ امت حضرت  عبداللہ بن عمر ﷜بھی شریک ہوئے ۔
حضرت زینب ؓ نےرحمت دو عالم ﷺ کےدامن شفقت میں تربیت پائی تھی اس لیے فض و کمال کےلحاظ سے نہایت بلند مرتبے پر فائز تھیں ۔ علامہ ابن عبدالبر نے ستیعاب میں اور علامہ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں لکھا ہے ۔’’كانت من افقه نساء زما نها ‘‘ (وہ اپنے زمانے کی فقیہ ترین خاتون تھیں )
ارباب سیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے بڑے ذی علم لوگ حضرت زینب ؓ سے مسائل پوچھا کرتے تھے ۔ حافظ ابن حجر  نے ’’اصابہ ‘‘ میں حضرت ابو رافع ﷜ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ جب میں مدینہ کی کسی فقیہ عورت کا ذکر کیا تو زینب بنت ابو سلمہ ﷜ کو ضرور یاد کیا ۔
حضرت زینب سے چند احادیث بھی مروی ہیں ۔ ان سے روایت کرنے والوں میں حضرت امام زین العابدین  اور عروہ بن زبیر ﷜ جیسی عظیم شخصیتیں  شامل ہیں ۔
2)حضرت درّہ بنت ابی سلمہ ؓ
حضرت زینب ؓبنت ابی سلمہ ﷜ کی ہمشیرہ تھیں ۔والد حضرت ابو سلمہ ؓ کی وفات کے بعد انہوں نے بھی سرور عالم ﷺ کےسایہ عاطفت میں پرورش پائی ۔ صحیح بخاری میں ان کا ذکر  آیا ہے ۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ نے ایک دفعہ حضور ﷺ سے کہا ،ہم نے سنا ہے کہ آپ درہ ﷜ سے نکا ح کرنا  چاہتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر میں نے اس کی پرورش نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ میرے لئے کس طرح حلال نہ تھی کیونکہ  وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے ۔ مزید حالات معلوم نہیں ہیں ۔
3)حضرت حبیبہ ؓبنت عبید اللہ
ام المؤمنین  حضرت ام حبیبہ ؓ بنت ابو سفیان ؓ یک صاحبزادی تھیں اور ان کے پہلے شوہر عبید اللہ بن جحش کے صلب سے تھیں ۔ سلسلئہ نسب یہ ہے :
حبیبہ ؓبنت عبیداللہ بن جحش بن رئاب بن یعمربن صبرۃ بن مرۃ بن کثیر بن غنم بن دودان بن سعد بن خزیمہ ۔
ان کی دادی امیمہ بنت عبدالمطلب سور عالم ﷺ کی پھوپھی تھیں ۔ اس لحاظ سے ان کے والد عبداللہ حضور ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور وہ حضور ﷺ کی بھتیجی  ہوتی تھیں۔
حضرت ام حبیبہ ؓ اور عبیداللہ بن جحش دونوں نے بعد بعثت کے ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کیا اور 6؁ نبوت میں ہجرت کرکے حبش چلے گئے ۔ حضرت حبیبہ ؓ وہیں پیدا ہوئیں ۔ بدقسمتی سے عبیداللہ ،حبش میں بری صحبت میں پڑگئے اور اسلام سے منحرف ہو کر عیسائی ہو گے ۔ ساتھ ہی کثرت سے بادہ نوشی شروع کردی ، اور اسی حالت میں وفات پائی ۔حضرت ام حبیبہ ؓ اپنی بچی کےساتھ پردیس میں بے یارومدد گار رہ گئیں ۔ کچھ عرصہ بعد حضور ﷺ نے انہیں پیغام نکاح بھیجا جو انہوں نے  قبول کرلیا اور نجاشی شاہ حبشہ نے ان کا غائبانہ نکاح حضور ﷺسے کر دیا ۔ حضرت ام حبیبہ ؓ غزوہ خیبر کے موقع پر حبش سے مدینہ منورہ آئیں تو حضور ﷺ نے ان کی بچی حبیبہ ؓ کو بھی اپنےسایہ عاطفت میں لے لیا اور نہایت محبت سے ان کی پرورش کی ۔ حضرت حبیبہ ؓ کا نکاح داؤد بن عروہ ؓ بن مسعود سے ہوا جو بنو ثقیف کےرئیس تھے ۔اس سے زیادہ حالات معلوم نہیں ۔
4)حضرت سلمی ؓخادمہ رسو ل اللہ
حضرت سلمی ٰ ؓ سرور عالم ﷺ کی کنیز تھیں لیکن حضور ﷺ نے انہیں آزاد کر کے اپنے  آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓ سے ان کا نکاح کر دیا تھا ۔ انہوں نے اس استقلال سے حضور ﷺ کی خدمت کی کہ لوگوں میں خادمہ رسو ل  اللہ ﷺ کےلقب سے مشہور ہو گئیں ۔ حضرت ماریہ قبطیہ ؓ کےبطن سے حضور ﷺ کے فرزند ابراہیم ؓ پیداہوئے تو دایہ گیری کی خدمت حضرت سلمی ٰؓ ہی نے انجام دی۔ ان کے شوہر حضرت ابو رافع ؓ نےحضور ﷺ کو ابراہیم ؓ کی ودالدت کامثردہ سنایا تو آپ ﷺ نے اس کے صلہ میں ایک غلام عطا فرمایا ۔ حضرت سلمیٰ ؓ کا سال وفات اور مزید حالات معلوم نہیں ہیں ۔
5)حضرت فضہ ؓ
حضرت فضہ ؓ سرور عالم ﷺ کی لخت جگر سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ بتول کی کنیز تھیں۔ وہ سید ۃ النسا ء کی حیات پاک کے کس دور میں ان  کی خدمت میں آئیں ؟ اہل سیر نے اس کی تصریح نہیں کی ۔ بہر صورت مختلف روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ زندگی کےآخری سانس تک خاندان نبوت سے وابستہ رہیں ۔ ان کے شرف صحابیت پر سب اہل سیر کا اتفاق ہے ۔ بعض روایتوں میں ہے کہ ان کا اصل نام میمونہ تھا ،سرور عالم ﷺ نے فضہ ؓ رکھا ۔بعض ارباب سیر نے ان کا وطن حبش بیان کیا ہے ، اور کئی روایتوں میں ان کا نام ’’فضۃ النوبیہ ‘‘ درج ہے ۔
حضرت فضہ ؓ نہ صرف گھر کے کام کاج میں حضرت فاطمۃ الزاہراؓ کاہاتھ بٹاتی تھیں بلکہ ان کے ہر دکھ سکھ میں بھی شریک رہتی تھیں ۔ باب عالم حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سیدۃ  النساء کی خدمت میں رہنے  کی بدولت ان کا پایہ علم و فضل بھی بہت بلند ہو گیا تھا ۔ ان کو سید ۃ النساء کے ساتھ  والہانہ محبت تھی ۔ علامہ طبری کا بیان ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ نے وفات پائی تو ان کو غسل  دیتے وقت حضرت فضہ ؓ بھی موجود تھیں ۔ سیدہ ؓ کا جنازہ اٹھنے لگا تو حضرت علی ؓ نے اہل خانہ کو اس طرح آواز دی ’’اے ام کلثوم ؓ،اے زینب ،اے فضہ ؓ ،اے حسن ؓ ،اے حسین ؓ آؤ اور اپنی  ماں کو آخری بار دیکھ لو ، اب تمہاری جدائی ہو رہی ہے اور پھر جنت میں ہی ملاقات ہو گی ۔ گو یا حضرت علی ؓ کے نزدیک حضرت فضہ ؓ بھی ان کے گھر کا ایک فرد تھیں ۔
سید ہ النساء ؓ کی وفات کے بعد حضرت فضہ ؓ سیدہ زینب ؓ بنت علی ؓ کی کنیز میں آگئیں  اور مصائب کر بلا میں برابر ان کے ساتھ شریک رہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدہ النساء ؓ کی وفات کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےحضرت فضہ کا نکاح ابو ثعلبہ حبشی ؓ سے کر دیا تھا ان سے ایک لڑکا پیدا ہوا ،ابو ثعلبہ ؓ کے انتقال کےبعد ان کا نکا ح ابو سلیک غطفانی سے ہوا بعض اہل سیر نے لکھا ہے کہ حضرت  فضہ ؓ کی ایک لڑکی (مسکہ )اور پانچ لڑکے تھے ۔ حضرت فضہ ؓ کے سال وفات کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ملتی تاہم بعض اصحاب نے یہ خیال ظاہر کیا ہےکہ وہ حضرت زینب ؓبنت علی ؓ کے رحلت کے چند سال بعد فوت ہوئیں اور ان کی قبر حضرت زینب ؓکی قبر کے ساتھ شام میں ہے ۔
6)حضرت عاتکہ ؓ بنت زید
قریش کےخاندان عدی سے تھیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
عاتکہ بنت زید بن عمروبن نفیل بن عبدالعزیٰ بن ریاح بن  عبداللہ بن قرظ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی ۔
جلیل القدر صحابی حضرت سعید ؓ بن زید (یکےازاصحاب عشرہ مبشرہ ) ان کے حقیقی بھائی تھے اور  حضرت عمر ؓ بن خطاب چچا زاد بھائی ۔ مشہور صحابیہ حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب ان کی چچا زاد بہن بھی تھیں  اور بھاوج بھی ۔
حضرت عاتکہ ؓ کے والد زید ان لوگوں میں سے تھے جو زمانہ جاہلیت میں ہی توحید کے قائل تھے اور جن کےبارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ قیامت کے دن تنہا ایک امت کے حیثیت سے اٹھیں گے ۔زید کو حضور ﷺ کی بعثت سے چند سال قبل کسی دشمن  نے قتل کر ڈالا تھا اور عاتکہ یتیم رہ گئی تھیں ۔سن شعور کو پہنچ کر انہوں نے قبول اسلام کی سعادت حاصل کی اور صحابیت کا شرف بھی حاصل کیا ۔ ان کی شادی حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ سے ہوئی ۔ نہایت حسین وجمیل اور عاقلہ و فاضلہ خاتون تھیں ۔ حضرت عبداللہ ؓ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کے عشق میں جہاد تک کو ترک کر دیا تھا ۔ وہ بھی شوہر پر جان چھڑکتی تھیں اور ہمیشہ ان کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح  دیتی تھیں ۔ چونکہ انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ کو جہاد پر جانے کے لئے مجبور نہیں کیا تھا اس لئے حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے حضرت عبداللہ ؓ کو حکم دیا کہ وہ عاتکہ ؓ کو  طلاق دے دیں پہلے تو وہ  پہلے تو وہ کچھ عرصہ  ٹالتے رہے لیکن جب والد ماجد کی طرف سے سخت اصرار ہوا تو انہوں نے حضرت  حضرت عاتکہ ؓ کو ’’ایک ‘‘ طلاق دے دی لیکن بیوی کے فراق نے انہں  نڈھال کر دیا اور انہوں نے یہ شعر کہے :
اعاتك لا انساك ماذرشاق 
وما ناح قمر ي الحمام المطوق
اعاتك قلبي كل يوم وليلة
اليك بما تخفي النفوس معلق
ولم ارمثلي طلق اليوم مثلها
ولا مثلها في غير جرم تطلق
اے عاتکہ ؓ جب تک سورج چمکتا رہے گا ،
اور قمر ی بولتی رہے گی میں تجھے نہ بھولوں گا
اے عاتکہ ؓ میرا دل شب و روز
بصد ہزار تمنا و شوق تجھ سے لگا ہوا ہے
مجھ جیسے آدمی نے اس جیسی خاتون کو کبھی
طلاق نہ دی ہو گئی اور نہ اس جیسی خاتون کو بغیر گناہ طلاق دی جاتی ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ بڑے نرم دل تھے ،ان کے کانوں تک یہ اشعار پہنچے تو انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ  کو رجعت کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد وہ ہر غزوے میں شریک ہونے لگے ۔ طائف کےمحاصرے میں ایک دن وہ دشمن کی طرف سے آنے والے ایک تیر سے سخت مجروح ہو گئے ۔ اگر چہ یہ زخم اس وقت تو مندمل ہوگیا لیکن تیر کا زہر اندر ہی اندر کام کرتا رہا ۔ سرور عالم ﷺ کے وصال کے کچھ  عرصہ بعد (شوال 11؁ھ میں یہ زخم عود کر آیا اور اسی کے صدمہ سے حضرت عبداللہ ؓ بن ابی بکر ؓ نے وفات پائی ۔ حضرت عاتکہ ؓ کو انکی وفات سے سخت صدمہ پہنچا ،مرحوم خاوند کی طرح وہ بھی شعر وشاعری میں درک رکھتی تھیں ۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پر درد مرثیہ کہا جس کے کچھ اشعار یہ ہیں ۔
اليت لاينفك عني حزنية
عليك ولا ينفك جلدي اغبرا
لله عينا من راي مثله فتي
اكرو احمي في الهياج و اصبرا
اذا شرعت فيه الاسنة خاضها
الي الموت حتي يدرك الموت احمر ا
مدي الدهر حين غنت حمامة ايكة
وما ترد الليل الصباح المنورا
قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تیرے غم میں میری آنکھ
روئے گئی اور میرا جسم غبار آلود رہے گا
زہے قسمت اس آنکھ کی جس نے تجھ جیسا
جنگ جو اور ثابت قدم جوان دیکھا
اس پر تیر برستے تو ان کی بوچھاڑ میں گھستا ہو
وہ اس وقت تک موت کی رف چلتا رہتا جب
تک کہ خون کی ندیاں نہ بہا لیتا ۔ زندگی بھر جب جنگلی
کبوتر گنگنائے گا (روتی رہوں گی ) اور جب تکط رات پر صبح روشن آتی رہے ۔
کچھ عرصہ بعد حضرت عمر فاروق ؓ نےحضرت عاتکہ ؓ سے نکاح کر لیا ۔ دعوت و لیمہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی شریک تھے ، انہوں نےحضرت عاتکہ ؓ کو اوپر والے مرثیے کا پہلا شعر یاد دلایا تو  وہ رونے لگیں تاہم عمر فاروق ؓ سے بھی ان کی وفاداری اور محبت ہمیشہ مثالی رہی ۔حضرت عمر فاروق ؓ نے شہادت پائی تو اس موقع پر بھی انہوں نے ایک درد ناک مرثیہ کہا اس کے چند اشعار یہ ہیں ۔
من لنفس عادها احزانها
ولعين شفها طول السهد
وجسد لفف في  الكفانه
رحمة الله علي ذاك الجسد
فيه تفجيع لمولي عازم
لم يدعه الله يمشي بسبب
كون سمجھائے اس نفس کو جس کے غموں نے پھرا عادہ کیا ہے ۔
اور اس آنکھ کو جس کو بیداری کی کثرت نے تکلیف دی ہے
اور اس جسم کو جو کفن میں لپیٹا گیا ہے
اللہ تعالی کی اس پر رحمت ہو
مقروض اور نادار عزیزوں کو  اس کا صدمہ ہے ۔
حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد حضرت عاتکہ ؓ کا نکاح حواری رسو ل حضرت زبیر ؓ بن الغوام سے ہوا ،انہوں نے جنگ جمل کے موقع پر ابن جرموز کے ہاتھ سے شہادت پائی تو حضرت عاتکہ ؓ فرط غم سے نڈھا ل ہو گئیں اور بے اختیار ان کی زبان پر یہ مرثیہ جاری ہوگیا ۔
غدر ابن جرموز بفارس بهمة
يوم اللقاء وكان غير معزد
يا عمرو *لونبهة ه لوجدعه
لا طائشار عش الجنان ولا اليد
كم غمر ة قد خاضها لم يثنه
عنا طرادك ياابن فقع القردد
ثكلتك امك ان ظفربمثله
ممن مضي *ممن يروح و يغتدي
والله ربك ان قتلت لمسلما
حلت عليك عقوبة المتعمد
ابن جرمو ز نے لڑائی کے دن ایک عالی ہمت شہسوار سے غداری کی اور غداری بھی ایسی حالت  میں وہ نتہا  اور بے سروسامان تھا ۔ اے عمرو اگر تو اس کو پہلے سے متنبہ کر دیتا تو اس کو ایسا شخص پاتا کہ نہ اس کے دل میں خوف ہوتا اور نہ ہاتھ میں لرزہ کتنے مصائب ہیں کہ وہ ان میں گھس گیا اے بندر یاکے بیٹے  تو ان میں اس کو جھکا یا بچھاڑ نہ سکا ،تیری ماں تجھ پر روئے تو ان لوگوں پر جو گزر چکے ہیں اور جو زندہ ،میں اس طرح غالب نہیں ہو سکا  خدا کی قسم،تونے ایک مسلمان کو ناحق قتل کیا تجھ پر ضرور اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا  ۔
حضرت عاتکہ ؓ کا سال وفات اور مزید حالات دستیاب نہیں ہیں ۔
7)حضرت سلمی ٰ ؓبنت عمیس
عم رسول حضرت حمزہ ؓ کی اہلیہ تھیں اور قبلیہ خثعم سے تعلق رکھتی تھیں ،سلسلہ نسب یہ ہے :سلمیٰ بنت عمیس بن معد بن حارث بن تیم بن کعب بن مالک بن قحافہ بن عامر بن ربیعہ بن عامر بن معاویہ بن زید بن مالک بن بشر بن وہب اللہ بن شہران بن عفرس بن خلف بن اقبل (خثعم )
ماں کا نام ہند (خولہ )بنت عوف تھا وہ قبلہ کنانہ سے تھیں ۔
جلیل القدر صحابیہ حضرت اسماء ؓ بنت عمیس (جن کا نکاح یکے بعد دیگر ے حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوا )حضرت سلمیٰ کی حقیقی بہن تھیں جبکہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ بنت حارث اور حضرت ام الفضل ؓ (اہلیہ حضرت عباس ؓ عم رسو ل)ان کی اخیانی بہنیں  تھیں۔
حضرت امامہ ؓ بنت حمزہ ؓ ،حضرت سلمی ٰ ؓ ہی کے بطن سے تھیں ۔ حضرت سلمی ٰ ؓ کے مزید حالات معلوم نہیں ہیں ۔
8)حضرت امامہ ؓبنت حمزہ ؓ
عم رسول سید الشہدا ء حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں جو سلمیٰ بنت عمیس کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔ حضرت حمزہ ؓ یک شہادت (3؁ھ) میں وہ بہت کم سن تھیں۔
صحیح بخاری میں ان کے متعلق یہ واقعہ مذکورہ ہے کہ ذیقعدہ 7؁ ہجری میں حضور ﷺ عمرۃ القضاء کےلئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۔ صلحنامہ حدیبیہ کی شرط کے مطابق تین دن کے قیام کے بعد آپ ﷺ مکہ سے چلنے لگے تو امامہ ؓ بنت حمزہ ؓ یا عم یا عم  کہتی ہوئی حضور کی طرف دوڑیں (ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت وہ یا اخی یا اخی یعنی بھائی بھائی کہہ رہی تھیں۔ فی الحقیقت حضور ﷺ حضرت حمزہ ؓ کے رضاعی اور خالہ زاد بھائی بھی تھے اور ان کے بھتیجے بھی تھے ۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ امامہ ؓ کےچچا بھی ہوتے تھے اور بھائی بھی )حضرت علی ؓ نے ان کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے جاکر حضرت فاطمۃ الزہرار ؓ کے سپرد کر دیا کہ یہ تمہاری بنت عم ہے ۔ حضرت علی ؓ کے بھائی حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب اور حب النبی حضرت زید ؓ بن حارثہ نے امامہ ؓ کو اپنی آغوش تربیت میں لینے کے لئے حضور کی خدمت میں الگ الگ دعوے پیش کئے ۔ حضرت علی ؓ کہتے تھے کہ امامہ ؓ میرے چچا کی لڑکی ہے ، اس لئے میں حق دار ہوں ،حضرت جعفر ؓ یہ کہہ کر اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے کہ وہ  میری بنت غم ہے ،اور میری اہلیہ اسماء ؓ بنت عمیس کی حقیقی بھانجی ہے ۔حضرت زید ؓبن حارثہ کہتےتھے کہ  وہ میرے دینی بھائی (حضرت حمزہ ؓ) کی لڑکی ہے ۔ سرور عالم ﷺ نے اس  منازعت کا فیصلہ حضرت جعفر ؓ کے حق میں صادر فرمایا کیونکہ ان  کی زوجہ اسماء بنت عمیس حضرت امامہ ؓ کی حقیقی خالہ تھیں اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔
حضرت امامہ ؓ سن بلوغ کو پہنچیں تو ان کانکاح حضرت سلمہ ؓ 0یا بروایت دیگر عمر ؓ) بن ابی سلمہ ؓ سے ہوا جو ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کے فرزند اور سرور عالم ﷺ کے رہیب تھے ۔
حضرت امامہ ؓ بنت حمزہ ؓ کے اس سے زیادہ حالات معلوم نہیں۔
9)حضرت فاطمہ ؓبنت ولید
قریش کےخاندان بنو عبدسمش میں تھیں ،سلسلہ نسب یہ ہے :
فاطمہ ؓ بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبدمناف بن قصی ۔ حضرت فاظمہ ؓ کا دادا عتبہ بن ربعیہ قریش کا نامور رئیس تھا ،اور والد ولید کاشمار بھی قریش کے شجاع او ر متمول جوانوں میں ہوتا تھا ۔ دادا اور والد دونوں آخر دم تک کفر وشرک کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہے ،اور غزوہ بدر (2؁ھ )میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارئے گئے ۔ البتہ چچا حضرت ابو حذیفہ ؓبن عتبہ اور خود حضرت فاطمہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق دی ،اور دونوں نے شرف صحابیت حاصل کیا حضرت ابو حذیفہ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے قبول حق کی توفیق دی ، اور دونوں نے شرف صحابیت حاصل کیا حضرت ابو حذیفہ ؓ نے سعادت مند بھتیجی کانکاح اپنےمنہ بولے بیٹے اور آزاد کردہ غلام حضرت سالم ؓ سے جو سالم ؓ مولی ابو حذیفہ ؓ کے نام سے مشہور ہیں کر دیا ۔ حضرت فاطمہ ؓ کو ہجرت کاشرف بھی حاصل ہوا ۔ نہایت مخلص صحابیہ تھیں ۔ مزید حالات معلوم نہیں ہیں ۔
10)حضرت زینبؓ بنت حنظلہ
تمام اہل سیر نے ان کا شمار حضور ﷺ کی صحابیات میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ سرور عالم ﷺ نے خود ان کا نکاح حب النبی ﷺ حضرت اسامہ ؓ بن زید ؓ بن حارثہ سے کر دیا تھا لیکن ان سے بناہ نہ ہو سکا اور  دونوں میں تفریق ہوگئی اس کے بعد ان کا نکاح مشہور صحابی حضرت نعیم الخام عدوی ؓ سے ہوا ،ان کے صلب سے ایک صاحزادے ابراہیم پیدا ہوئے ۔ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری  نے رحمۃ اللعالمین  جلد سوم میں حضرت زینب ؓ کے خاندان کےبارے میں لکھا ہے کہ زینب ؓ اس بڑے خاندان کی خاتون تھیںکہ شہزادہ امر القیس ان کے جدا مجد کامداح تھا ۔
مزید حالات دستیاب نہیں ہوئے ۔