معدن حسن ہے سر چشمہ ہے رعنائی کا

ہر دل مردہ کو جینے کا سلیقہ آیا ،

ڈرے ذرے کی جبیں سے مہ و انجم ٹوٹے

جس کی رنگت کو قیام اور نہ خوشبو کو دوام

رات دن پر دہ ٔ سمیں پہ ستارے دیکھوں

دور حاضر میں اسے کہتی ہے دنیا فن کار

اک مسلمان مسلمان ہی سے خائف ہو

اہل بینش بھی ہر اک اندھے کو بینا سمجھے

خاک دیکھے گا وہ ہنگامہ ٔ محفل کی طرف

اشک غم بھی ہو میسر تو پس انداز کرو ،

ہر لب گل پہ ہے چر چا تری یکتائی کا

معجزہ ہے یہ تری شان مسیحائی کا

یہ کرشمہ ہے مری باویہ پیمائی کا

نام کیا لیجئے اس پھول کی رعنائی کا

کیا یہی شکر ہے اس نعمت بینائی کا

رقص کی لت ہو جسے ، ذوق ہو شہنائی کا

ہائے یہ حال مسلمان کی رسوائی کا

کس قدر قحط ہے اس دور میں بینائی کا

خوف رہتا ہے جسے قبر کی تنہائی کا

یہ زمانہ ہےمرے دوستو مہنگائی کا


توہے دانا تو کسی اور کو ناداں نہ سمجھ

ہے تقاضا یہی عاجز تری دانائی کا !