ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1980
اکرام اللہ ساجد
عرب جاہل تھے ،گنوار تھے ، تہذیب و تمدن کی روشنی  سے کوسوں دور وہ  ایک ایسے خطہ کے مکین تھے جس کی تاریخ خاندانی جھگڑوں یا قبائلی جنگوں سے عبارت تھی----- لیکن انھیں اپنے اس اندو ہناک ماضی پر فخر تھا اور اپنے حال کی پستیوں پر ناز ! ---کوئی برائی جو انہیں اپنے  حال کی پستیوں پر ناز ! ------کوئی برائی جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھی، ان کی نظر میں قابل نفرت ، اور کوئی نیکی جسے ان کے آباؤ  اجداد ٹھکرا چکے تھے ، ان کے نزدیک قابل التفات نہ تھی  ----ان کا و جود زندگی کی ہر سعاد ت کی نفی  کرتا تھا ------وہ جس روش پر چل  رہے تھے اسی پر چلتے رہنا چاہتے تھے ----ان کے ماحول کی ظلمتوں کو کسی روشنی کی احتیاج نہ تھی لیکن یہی و ہ ظلمت کدہ تھا جو آئندہ کے لیے روشنی کے ہر جویا کی نگاہوں کا مرکز بننے والا تھا -----اوریہی وہ افق تھا جس کی تاریکیاں آفتاب رسالت کی ضیاء پاشیوں کی اولین مستحق سمجھی گئی تھیں ----ہاں وہ ربع الاول ہی کی ایک صبح درخشاں تھی جس نے مدتوں سے بھیانک تاریکیوں ارو بے نشان راستے پر چلنے والی انسانیت کو ایک نئی روشنی کا پیغام دیا -----اور -----جس نے تاریک رات کے مسافروں کو چونکا دیا تھا :
آفتاب رسالت فاران کی چوٹیوں پر سے نمودار ہو ا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری کائنات کو ایک ایسی  روشنی سے منور کر گیا کہ جس کی تابندگی و تابانی ، زوال و غروب کے الفاظ سے کبھی آشنا نہ ہو سکی اور آئندہ کبھی ہو سکے گی :
﴿هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ ﴿٣٣﴾...التوبة
  • مارچ
1980
عبدالرحمن عاجز
معدن حسن ہے سر چشمہ ہے رعنائی کا 
ہر دل مردہ کو جینے کا سلیقہ آیا ،
ڈرے ذرے کی جبیں سے مہ و انجم ٹوٹے 
جس کی رنگت کو قیام اور نہ خوشبو کو دوام 
رات دن پر دہ ٔ سمیں پہ ستارے دیکھوں 
دور حاضر میں اسے کہتی ہے دنیا فن کار 
اک مسلمان مسلمان ہی سے خائف ہو 
اہل بینش بھی ہر اک اندھے کو بینا سمجھے
  • مارچ
1980
عزیز زبیدی
کراچی سے جناب قاری  محفوظ اللہ ہزاروی پوچھتے ہیں کہ:
ایک شخص کا خیال ہے کہ درود ہزارہ ، درود لکھی ، درود تاج ، دعا گنج العرش اور عہد نامہ وغیرہ کا درد ،وظیفہ خلاف شرع اور بدعت ہے ۔
دوسرے صلح حسب کہتے ہیں کہ :
نہیں یہ بدعت نہیں کار ثواب ہے کیونکہ ان میں بھی خدا کی صفات کا بیان ہے جیسے کوئی شخص اپنی زبان میں خدا کو یاد کرتا ہے اسی طرح ان کا حال ہے ۔ ان  میں سے صحیح  کس کا خیال ہے ؟
الجواب :
صحیح موقف پہلے شخص کا ہے دراصل اس قسم کے اور ادر ارو وظائف نے تلاوت قرآن اور مسنون ذکر و اذکار کی جگہ لے لی ہے جس سے بڑھ کر خسارہ کا تصورہی  نہیں کیا جا سکتا ،  قرآن حکیم  کی تلاوت ذکر بھی ہے اور مطلوب تلاوت بھی ، جس کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں ۔دوسرے جتنے وظیفے اور ذکر   ہیں ان کی یہ کیفیت نہیں ہے ۔ اسی طرح سے ، رسول اللہﷺ نے جو دعائیں اور جو ورد وظیفے اور ذکر اذکار بتائے یا اپنائے ہیں ،خدا کے ہاں ان کی حثییت عبادت کی ہے ، دوسروں کی یہ شان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یار لوگ مصر ہیں کہ ہمیں درود ہزارہ ،لکھی ،تاج ،وغیرہ کے ورد وظیفہ کی اجازت ملنی چاہیے ۔ آخر اس میں راز کیا ہے ؟ گھاٹے کا یہ سودا ان کو کیوں منظور ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے توان اداؤں بے چینیوں اور سوچنے کے انداز کو غلط قرار دیا ہے ۔
  • مارچ
1980
محمد صدیق
قبر میں رسول اللہ ﷺ کی بابت میت سے سوال کیا جاتا ہے کیا اس وقت  آپ کا وجود مبارک میات کے سامنے ہوتا ہے ؟ یا  صرف اوصاف پر کفایت ہوتی ہے ؟
شعبان 1354 ہجری کی بات ہےکہ اے ۔ای پٹیل از جوہانسبرگ افریقہ نے حضرت محدث روپڑی کی خدمت میں ایک استفتاء بھیجا کہ قبر میں منکر نکیر میت سے پوچھتے ہیں ’’ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ‘‘
یعنی یہ شخص جو تم میں مبعوث ہوا ہے وہ کیا ہے ؟ فيقول محمد ﷺ  حدیث مذکورہ سے معلوم  ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ وجود مبارک  میت کے سامنے ہوتا ہے جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے ’’ ماہذا الرجل الذی بعث فیکم ‘‘ کیونکہ لفظ ہذا ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول الہل ﷺ وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ اگر لفظ ہذا  کا دوسرا کوئی معنی ہے ،مع دلیل و حوالہ بیان کیجیے ۔
یہ سوال انہوں نے اپنے ایک عالم سے کیا ۔ انہوں نے جو جواب دیاوہ حسب ذیل ہے ۔
جواب ۔1: لفظ ہذا اس مذکور موجود شے کی طرف اشارہ کرنے کےلیے موضوع ہے جو قریب ہو عام اس سے مذکر حقیقی ہو حکمی اور موجود خارجی ہو یا ذہنی ۔
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
  • اپریل
1980
منظور احمد
اگر قرآن حکیم ،مستند روایات اور اسلامی تاریخ کا دیانت و بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ  بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا قابل اعتماد سر چشمہ رسو ل اللہ کی احادیث ہیں ،قرآن کریم میں ارشاد باری ہے :
﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
’’ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کے مخالفت پر تل جاتا ہے ،اور سبیل المؤمنین کی بجائے دوسری راہ اختیار  کرتا ہے  تو ہم اسے اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پلٹ گیا ہے اورہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘
اس آیت میں دو باتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ رسو  ل اللہ کی مخالفت  اور آپ ﷺ کے احکام سے سرتابی ،دوسرا سبیل اللہ سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے راستہ کی پیروی ۔ظاہر ہے کہ اگر رسو  ل اللہ کے احکام و فرامین جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ،اگر ان کی صرف حیثیت تاریخ دین کی ہے تو اس پر اس قدر وعید نہ ہونی  چاہیے تھی گویا یشاقق الرسول ‘‘ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی جو سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اسے جہنم کی وعید سنائی جارہی ہے ۔ اس آیت میں دوسرا جرم جس پرعذاب کی دہمکی دی گئی ہے ،
  • اپریل
1980
طالب ہاشمی
1)حضرت زینب ؓ بنت ابی سلمہ ؓ
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ﷜ کی صاحبزادی تھیں جو ان کی پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ ﷜ بن عبدالاسد مخزومی کے صلب سے تھیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
زینب ؓبنت ابو سلمہ ؓ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی۔
حضرت ابو سلمہؓ رسو ل اکرم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی ، اس  لحاظ سے حضرت زینب  ﷜ حضور کی بھتیجی ہوتی تھیں۔ (برہ بنت عبدالمطلب حضرت زینب ﷜ کی دادی تھیں اور حضور ﷺکی پھوپھی ) ان کی ولادت  کے بارے میں روایتوں میں ان کے والدین مکہ سے ہجرت کرنے کےبعد قیام پذیر تھے ۔ حضرت ابو سلمہ ؓ اور ام سلمہ ؓ حبشہ میں چند سال گزارنے کےبعد مکہ واپس آگئے اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی (حضرت ابو سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ام سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں )مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر الصحابیات میں لکھا ہے کہ حضرت زینب ؓنے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی ۔ اگر حضرت زینب ؓ کی ولادت حبشہ  میں تسلیم کی جائے تو پھر انہوں نے ’’والدین ‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ والدہ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی ،دونوں میاں بیوی کے زمانہ ہجرت میں ایک سال کا تفاوت ہے )
  • مارچ
1980
علیم ناصری
کچھ مصطفے ٰ سے مانگ نہ کچھ مرتضے ٰؓسے مانگ 
دست سوال غیر کے آگے نہ کر دراز
اللہ کے سوا نہیں حاجت روا کوئی 
قار ہے کارساز ہے مشکل کشا بھی ہے 
سب انبیاء اولیا ء سائل اسی کے ہیں 
ہر کس فنا پذیرہے ہر شے فنا سر شت 
طوفاں میں ناخدا پہ بھروسہ نہ کر علیم
  • مارچ
1980
طالب ہاشمی
پاکستان مین مسیحیت

تالیف :ڈاکٹر محمد رضا صدیقی
ناشر :مسلم اکادمی ۔ 18/29 محمد نگر لاہور 
قیمت :چالیس روپے صفحات :520
برصغیر پاک وہند میں مسیحیت کا پھیلاؤ ایک عبرت انگیز داستان ہےجس کی طرف بہت کم توجہ دی گ‘ی ہے ۔جناب امدادصابیری صاحب کی تالیف ’’فرنگیوں کا جال ‘‘ اس موضوع پر پہلی قابل ذکر کتا ب ہے ۔ انہوں نے برصغیر میں جلال الدین اکبر کےزمانے سے لے کر برطانوی عہد اقتدار تک مسیحت کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا ہے ۔ اس تالیف کے بعد مسحیت کے بارے میں مناظر انہ اور تحقیقی انداز کی کتابیں تو شائع ہوتی رہیں مگر کسی نے مسیحی تبلیغی اداروں کی راز دارانہ اور کھلم کھلا سرگرمیوں کا  جائزہ نہیں لیا حتی  کہ 1952 ء میں ایک مسیحی پرچے ’’ ‘‘ نے اشاعت مسیحیت پر ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ سے پاکستان میں بھی ہلچل پیدا ہوئی ۔ چند کتابچے منظر عام پر آئے جناب حافظ نذر احمد صاحب نے پاکستان میں فروغ مسحیت پر اعد اد وشمار کی زبان میں گفتگو کی اور اہل نظر کو پاکستان میں راتداد کی تشویشناک صورت حا ل کی طرف توجہ دلائی ۔