حسن كی جلوه نمائی ہو تو دیوانے بہت !!

درد کے گرقدرداں آئیں نظر کے سامنے

قیس پر کیا منخصر ہے کوہکن ہے کیا ضرور

دل کی ویرانی کا قصہ مختصر یہ ہے کہ آج !!

وہ رہے نا آشنا ئے غم اگر چہ ہر طرف

شوق کو مہمیز کیجئے  بیدلی ہے سدراہ

بیدلی ہائے تمنا  کا برا ہو ان دنوں

ایک عالم پر ہجوم یاس ہے چھا یا ہوا

غم کے ہاتھوں ان دنوں مایوس ہی ہونا پڑا

ان کو سننے کے لیے کچھ حوصلہ بھی ہو اگر

 

شمع روشن ہو تو جلنے کو ہیں پر وانے بہت

دل کی کیا کہیئے  کہ ہیں جانوں کے نذرانے بہت

ذوق ہو  دیوانگی  کا اب بھی ویرانے بہت !

دل زدہ ہیں شاز و نادر اور فرزانے بہت

تھیں طرب گاہیں بہت کم ادرغم خانے بہت

دل ہو گر سود ازدہ  دنیا میں ویرانے بہت

ہم کو کو یاد آیا  کیے گم گشتہ افسانے بہت

بستیا ں آباد کم ہیں  اور ویرانے بہت

گرچہ دل کے مشورے ہر دور میں مانے بہت زندگی میں ردح فرساغم کے افسانے بہت


کیا کریں اسرار ہیں مجبور بے حدان دنوں
چھان مارے ہیں انہوں نے ورنہ ویرانے بہت