ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالرحمن کیلانی
16 اکتوبر 1979 ء کو صدر پاکستان نے تمام  سیاسی  پارٹیوں کو  کالعدم قرار دے کر اور انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر کے ایک دفعہ  پھر ملک و قوم کو تباہی سے بچا لیا ہے ۔ ہم اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور جہاں تک ہمارا مطالعہ ہے عوام کی اکثریت صدر موصوف  کے اس فیصلے پر نہایت خوش اور تہ دل سے مشکور ہے ۔
ویسے تو مغربی جمہوری نظام کا یہ خاصہ ہے کہ اس کے زیر سایہ بہت  سی سیاسی جماعتیں معرض وجود میں آجاتی ہیں ،لیکن  پاکستان کی سر زمین اس معاملے میں ضرورت سے کچھ  زیادہ ہی زرخیز ثابت ہوئی ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جب انتخابات کے انعقاد کا دور دورہ ہو تو کئی نئی جماعتیں  اس سرعت  سے نمودار ہونے لگتی ہیں ۔ جیسے  موسم برسات میں ’’حشرات الارض    ‘‘ جولائی 1977 ء میں جب موجودہ حکومت  نے عنان حکومت  سنبھالی تو اس وقت صدر موصوف کے بیان کے مطابق ان جماعتوں کی تعداد 46 کے لگ بھگ تھی ۔ظاہر ہے کہ کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد کبھی خوشگوار  نتائج پیدا نہیں کر سکتی  لہذا صدر موصوف نے کئی بار  انتباہ کیا کہ ان جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد قوم و ملک کے لئے تباہ کن ہے
  • جنوری
  • فروری
1980
اسرار احمد سہاروی
حسن كی جلوه نمائی ہو تو دیوانے بہت !!
درد کے گرقدرداں آئیں نظر کے سامنے 
قیس پر کیا منخصر ہے کوہکن ہے کیا ضرور 
دل کی ویرانی کا قصہ مختصر یہ ہے کہ آج !!
وہ رہے نا آشنا ئے غم اگر چہ ہر طرف 
شوق کو مہمیز کیجئے  بیدلی ہے سدراہ 
بیدلی ہائے تمنا  کا برا ہو ان دنوں 
ایک عالم پر ہجوم یاس ہے چھا یا ہوا
  • جنوری
  • فروری
1980
عزیز زبیدی
لودھراں سےایک صاحب لکھتے ہیں کہ !
$11.                 ایک عورت جس کو تین طلاق ہو گئی  ہیں ۔ وہ  اب صرف اس لیے حلالہ کراتی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ کیا ایسا حلالہ شرعی حلالہ کہلائے گا اور وہ اس طرح پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی ؟
$12.                  کیا بے نماز عورت کا نکاح نمازی مرد سے ہو سکتا ہے ؟
ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ :
$13.                 نماز میں جہراً ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا ثابت ہے ؟
$14.                  کیا خطبہ غیر عربی میں ہو سکتا ہے ؟
ضلع پشارو سے گل مان شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ :
$15.                 نماز میں سینہ پر یازیر ناف ہاتھ باندھنے میں سے صحیح کیا ہے ؟
$16.                  قرأت فاتحہ خلف الامام جائز ہے یا نا جائز ؟
$17.                  جیسا کہ حنفی حضرات وتر پڑھتے ہیں ، میں بھی ویسے وتر تین  رکعت پڑھتا آرہا ہوں ۔ کیا یہ درست ہے ؟ 
قرآن و حدیث کے ساتھ جواب عنایت فرمایا جائے ۔
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالسلام رحمانی
قبر میں سوال ’’ ماہذا الرجل ‘‘ کی کیفیت کیا ہے ‘‘ اس عنوان پر محدث روپڑی نے ایک علمی اور تحقیقی فتویٰ لکھا ہے جو اخبار تنظیم اہلحدیث ‘‘میں چھپا ۔ پھر فتاویٰ اہلحدیث جلد دوم کے صفحات کی زینت بنا 
مولانا عزیز زبیدی نے حضرت محدث روپڑی ﷫ کی اس تحقیق پر 12 اکتوبر 1979 کے اخبار اہلحدیث  میں تعاقب کیا ہے اختلاف رائے کا اصل مقصد غلط فہمی کا اظالہ اور صحیح صورت حال کا تعین ہو تو ایسی تقید اور اختبلاف رائے نہ صرف قابل برداشت بلکہ ایک مستحسن اقدام ہے ، اس کی ضرورت سے کسی کو انکا نہیں ۔مگر اس قسم کی تنقید میں تین باتوں کا ہونا ضرو ری ہے ۔
$11.                 دلائل آمیز تنقید و تعاقب ۔
$12.                  تحقیر آمیز الفاظ سے اجتناب 
$13.                 حق قبول کرنے کےلیے طبیعت کو آمادہ کرنا ۔
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیسوی ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جن کا شمار عظیم  للرتبت صحابیات میں ہوتا ہے لیکن ان کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہیں یہاں ہم ایسی بارہ صحابیات کے حالات ( جس قدر معلوم ہیں ) نذر قارئین  کرتے ہیں ۔
حضرت ام ایوب انصاریہ ﷜
اصل نام معلوم نہیں اپنی کنیت  ’’ام ایوب‘‘ سے مشہور ہیں ۔ میزبان روسول اللہ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی اہلیہ تھیں ۔ ہجرت نبوی سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ  تشریف لائے تو سات ماہ تک  حضرت ابو ایوب ﷜ کے گھر میں ہی قیام فرمایا ۔ اس دوران میں حضرت ام ایوب ﷜ ہی حضور ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا کرتی تھیں ۔ ابتداء میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوب ﷜ کے مکان کی زیریں منزل  میں قیام فرمایا ۔ حضرت ابو ایوب﷜ اور ام ایوب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اگرچہ  حضور ﷺ کی ابنی خواہش کے مطابق بالاخانہ میں منتقل ہو گئے تھے مگر دونوں میاں بیوی کو ہر وقت یہ خیال مضطرب رکھتا تھا
  • جنوری
  • فروری
1980
اسعد گیلانی
نا م            سید احمد 
والد کانام                   سید محمد عرفان            
تاریخ ولادت            6 صفر 1201ھ مطابق 29 نومبر 1786 ء بروز پیر 
مقام پیدائش             رائے بریلی، ہندوستان 
خاندان  کے ایک بزرگ شاہ علم اللہ اہل وعیال کے ساتھ سفر حجاز کی نیت سے اپنے وطن نصیر  آباد سے روانہ ہوئے ۔ لیکن رائے بریلی پہنچ کر ایک خدارسیدہ  بزرگ کے اصرار پر یہیں  قیام کیا ۔ اور پھر مستقل  آباد ہوگئے ۔
چار سال کی عمر میں مکتب میں بٹھائے گئے  ۔ لیکن طبعیت  کو تعلیم سے لگاؤ نہ تھا ۔ اس لیے  تین سال کی مسلسل کوشش کے بعد رواجی تعلیم چھوڑی  دی ۔ اس  دوران  میں فارسی عربی  تعلیم  اور قرآن مجید کی چند سورتیں یاد ہو سکیں اور دین کے ضروری مسائل سے بھی پوری طرح آگاہی ہوگئی ۔ کچھ  فارسی شعراء  کے پسندیدہ اشعار بھی یاد تھے ۔ چنانچہ  اپنی بعد کی زندگی  میں جب انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں ڈال دیا تھا تو اکثر یہ اشعار زبان پر رہتے جو ان کے دل میں بھڑل کنے والے نصب العین کے عشق کا بہترین اظہار ہیں ۔
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
ہندوستا ن کی پہلی اسلامی تحریک 
از ۔۔۔ مولانا مسعود عالم ندوی
ضخامت : 180 صفحات بڑا سائز 
کاغذ ، کتابت و طباعت عمدہ 
قیمت : دس روپے
ناشر: ادارہ مطبوعات سلیمانی 
40۔بی  اردو بازار ۔ لاہور 
دینی  اور علمی حلقوں میں مولانا مسعود عالم ندوی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ ایک یگانہ روز گا ر عالم دین ، بلند پایہ مؤرخ اور صاحب  طرز انشاء پرداز تھے ۔ وہ برکوچک پاک و ہند کے ان چند علمائیں  سے تھے جن کو عربی زبان پر بے پناہ عبور حاصل تھا یہاں تک کہ خود عرب ادباء  وفضلا ان پر رشک کرتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سوز درون کی دولت سے مالا مال تھے
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالرحمن عاجز
اس چیز کی خواہش جو مقدر میں نہیں ہے 
جب کتبہ تقدیر پہ ایماں ہے یقیں ہے 
ہر شے میں جھلکتا ہے ترا چہرہ ٔ روشن 
ہر غنچہ رنگیں ہے ترے حسن کا مظہر 
ملتی ہے یہیں سے مہ داختر کو بلندی 
ہے جس پہ عمل راحت و عظمت کی ضمانت 
چلتا تھا زمیں  پر جو کبھی ناز دادا سے !
اس عمر کے دو ساتھی ہیں راحت بھی الم بھی 
ہشیار و خبر دار سنھبل  کر اسے چھونا !
  • جنوری
  • فروری
1980
مسعود احمد
اللہ تعالیٰ ہمارا حاکم حقیقی ہے ، ہم اس کے احکام کے تابع ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام اس کے بندوں تک پہنچائے کا ذریعہ صر ف اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں  جن کو اللہ تعالیٰ خود منتخب فرماتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کے مجموعہ کو اللہ تعالیٰ کا دین کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے دین کا نام اسلام  ہے اور اس دین کو ماننے والا مسلم کہلاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کے دو ماخذ ہیں ۔ قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ قرآن مجید کا ماخذ احکام ہونا موضوع بخث نہیں ، اس وقت موضوع بحث صرف احادیث کا ماخذ احکام ہونا ہے ۔
اگرچہ قرآن مجید کے  ۔۔۔ماخذ قانون ہونے کا ابھی تک کھلم کھلا  انکار نہیں کیا گیا ۔ تاہم دبے دبے الفاظ میں یہ تو کہا جانے لگا ہے کہ یہ 1400 سال پرانا قانون اس دور میں نہیں چل سکتا ۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ، قرآن مجید کا ابھی تک ظاہر ی طور پر انکار نہیں ہوا لیکن معنوی طور پر ہو چکا ہے ۔ قرآن مجید کی وہ تشریح جو عہد رسالت سے چلی آرہی تھی اس کا انکار کیا جا چکا ہے ۔
  • جنوری
  • فروری
1980
محمد حسین کلیم
پاکستان کے مسلمان شہر ی کیا چاہتے ہیں ۔ اسلام یا جمہوریت ؟
’’اسلام‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بھیجا ہوا نظام ہے ۔ اس میں ہر اس شعبہ زندگی کے لیے  ہدایات موجود ہیں جوایک مسلم کو پیدائش سے لے کر وفات تک پیش آسکتا ہے ۔ اس کا اپنا معاشی نظام بھی ہے اور اقتصادی بھی سیاسی نظام بھی ہے اور معاشرتی بھی ۔ غرضیکہ اسلام ایک  مکمل نظام حیات ہے یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان میں ’’سو شلزم  ہماری معیشت ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تو اس سر زمین میں علمائے کرام  نے بالاا تفاق واشگاف الفاظ میں سو شلزم کے کفر ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا ۔ یہ بالکل بجا تھا اور بر وقت بھی۔
لیکن مجھے اس بات پر بہت جبرت ہے کہ ان علمائے کرام و زعمائے عظام نے ’’جمہوریت ہماری سیاست ‘‘ پر کیوں نہ اعتراض فرمایا۔ نہ صرف یہ کہ اس پر اعتراضص نہیں کیا  بلکہ خود بھی جمہوری ملک  ‘‘ جمہوری نمائندے ‘‘ فوجی حکومت ‘‘و غیرہ وغیرہ نعرے لگارہے  ہیں اور بیانات دے رہے ہیں کسی بھی مکتب فکر کے عالم دین نے جہاں تک میری معلومات ہیں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ۔ 
میں ان لوگوں سے اب ادب ہو کر یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر سو شلز م کے معاشی نظریات کی اسلام میں پیوند کاری جائز نہیں تو کیا اسلامی سیاست میں جمہوریت کی پیوند کاری جائز ہے ؟ اگر اسلام کا اپنا معاشی نظام ہے اور اسے مار کسی نظریات سے بھیک مانگنے کی قطعا ضرورت نہیں تو اسلام کا اپنا سیاسی نظام بھی ہے اسے یورپی  طرز سیاست یعنی جمہوریت سے دریوزہ گری کی بالکل ضرورت نہیں ۔ اور اسلام کا  سیاسی نظام ہے خلافت
  • جنوری
  • فروری
1980
راسخ عرفانی
تو ذوالجلال ہے تو خدائے قدیر ہے               یکتا ہے ، لا شریک و علیم و بصیر ہے
تو صیف لکھ رہا ہوں تیرے کمال کی              طاری دل و دماغ پہ کیف صریر ہے
گرداب حاثات میں گھر  کر بھی اے خدا      دل ہے کہ تیرے ذکر سے راحت پذیر ہے
شاہ دو زیر منعم و محکوم و حکمراں                    جو شخص بھی ہے تیرے ہی در کا فقیر ہے