ایک استفتاء آیا ہے کہ:

اگر انتخاب کا متداول طریقہ صحیح نہیں ہے تو اس کی صحیح اور شرعی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ یہ سوال راقم الحروف کے کسی سابقہ تحریر کے مطالعہ سے پیدا ہوا ہے۔

الجواب

کتاب و سنت اور علماء کے افکار کے مطالعہ سے جو امور سامنے آئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔

نظام امارت:

اسلام میں مغربی جمہوریت میں ''حکمران'' عوام کالانعام اگلتےہیں اس لئے وہ انہی کی عینک سے دیکھتا اور دماغ سے سوچتا ہے اور اس کی حیثیت ایک فصلی بٹیرے کی ہوتی ہے وہ قوم کو ذہن دیتا ہے نہ لیتا ہے۔ ڈکٹیٹر شپ میں حکمران مسلط ہوتا ہے، لایا نہیں جاتا، اس لئے وہ اپنی ہانکتا ہے، کسی کی سنتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ اپنی مرضی کرتا ہے۔

اسلام میں ان کے بجائے ''نظام امارت'' ہے، جس کے حکمران امیر المؤمنین یا خلیفۃ المسلمین کہلاتے ہیں۔

ان کا انتخاب ہوتا ہے مگر وہ ایسا شخص نہیں ہوتا جو اپنے انتخاب کے لئے مہم چلا سکے۔ اس کا انتخاب عوام کالانعام نہیں کرتے بلکہ خواص کرتے ہیں، خواص سے مراد مغربی خواص نہیں، مسلم خواص ہیں یہ خواص اور زعماء عوام کے منتخب نہیں ہوتے، منتخب روزگار ہوتے ہیں، اپنے علم، سیاسی سوجھ بوجھ تقویٰ اور تقدس کی بنا پر ان کو اپنی قوم میں قبولِ عام ہوتا ہے اور وہ مراجع خلائق ہوتے ہیں یعنی نجت و اتفاق کی پیداوار نہیں ہوتے۔ بہرحال وہ دوچار بھی ہو سکتے ہیں اور دس بیس بھی، وہ چالیس پچاس بھی ہو سکتے ہیں اور سو دو سو بھی۔ ان کو یہ قبولِ عام، دھن دولت یا اقتدار کی بنیاد پر حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ ان کے فہم، طہارتِ نفس اور علم و ہوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ان خواص میں تینوں فوجوں کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی اپنے منصب اور عہدہ کی بنا پر شریک کیے جا سکتے ہیں۔

بہ حالات موجودہ: اس کے لئے مختلف مکاتیب فکر کے ان با اعتماد، صالح اور عظیم شخصیتوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے جن کو ان کے ہاں سب سے زیادہ قبول عام، نیک شہرت اور جاہ و مرتبہ حاصل ہے۔

فرداً فرداً اس کی بیعت اور رائے دہی ساری قوم کے لئے ضروری نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ بغیر کسی مہم جوئی اور ہنگامہ آرائی کے ہو جائے تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں۔

عوام کی رائے اور ووٹ ضروری نہیں، ان کا اطمینان ضروری ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ: سواد اعظم کو اس سے گلہ اور شکوہ نہ ہو۔

ان زعماء کو جمع کر کے ان سے تفصیلی صلاح و مشورہ کرنے کے لئے فوجی سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں۔ ان س صلاح مشورہ اگر فرداً فرداً کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ اس کے لئے کثرت رائے یا دلائل اور شخصیت کے وزنی ہونے کی بناد پر اپنے فیصلے کے اعلان کرنے کا چیف جسٹس کو حق ہو گا۔ گو اجتماعی مجلس میں مشورہ مفید ہوتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب مصلحت آمیز توافق یا باہمی مناقشات اور کشیدگی کا اندیشہ نہ ہو۔

انفرادی مشوروں میں ''استصواب'' کی شکل آزادانہ ہوتی ہے۔ کوئی کسی سے بدکتا ہے نہ جھکتا ہے۔ تاہم اس مسئلہ پر اگر چیف جسٹس کو کثرت رائے کے پلے میں باندھنے کے بجائے بالکل عدلیہ کے طرز پر ''دلائل اور شخصیت'' کے وزن کی بنا پر فیصلہ کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے تو کہیں بہتر رہے گا۔ جیسا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتخاب کے موقعہ پر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے کیا تھا۔

اس کے بعد اس سے ''حلف' لیا جائے۔ پھر تمام فوجی جرنیل، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کے چیف سیکرٹری اس کے ہاتھ پر بیعت کریں۔

بعدۂ امیر المؤمنین اپنی کابینہ اور شورائیہ کے لئے مناسب اور اچھی شہرت کے حامل افراد کا از خود انتخاب رکر کے کارِ حکومت کا آغاز کرے گا۔ اور اس وقت تک وہ اس منصب پر فائز رہے گا جب تک اس سے ''صریح کفر'' سر زد نہ ہو جائے یا ملکی مسائل اور عوامی شکایات کے حل کرنے میں وہ ناکام نہ رہے۔ ہاں شکایات کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کو صفائی کا پورا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ البتہ ایک سربراہ مملکت کے انتخاب کے لئے کچھ شرائط اور اوصاف کا تعین ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کے آئینہ میں انتخاب کیا جا سکے۔

علاقوں کے لئے نمائندگی کا فریضہ، اس علاقے کا گورنر اور اس سے نچلی سطح پر ڈی سی ادا کرے گا۔ اس کے لئے الگ کسی نمائندے کے انتخاب کا مسئلہ مفت کی سردردی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ: علاقہ کے نمائندے عموماً کارِ حکومت میں مداخلت کرتے ہیں۔ ہاں علاقے کے پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ رکھنے والے طبقہ کو یہ حق پہنچے گا کہ وہ اپنے مسائل حکومت کے نمائندے کے سامنے رکھیں۔ اگر وہ توجہ نہ دیں تو ان کے خلاف اوپر تک جانے کا اسے حق ہو گا۔ ہمارے ان مصنوعی اور کاروباری سیاسی نمائندوں کی بہ نسبت نامزد کردہ نمائندے زیادہ مفید رہیں گے کیونکہ اس طرح براہِ راست سربراہِ مملکت سے پاکستانی شہری کا رابطہ قائم رہ سکتا ہے۔

اگر انتخاب کا یہ بے ضرر طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے خاص فائدہ ہو گا۔

قوم مسرفانہ مصارف سے بچ جائے گی۔

وقت کا ضیاع نہ ہو گا۔

مہم چلانے کے مفاسد سے نجات مل جائے گی۔

قوم ''سرد خانہ جنگی'' کے عذاب سے چھٹکارا پا جائے گی۔

ملک و ملت کو اس دھڑا بندی کے مخمصہ سے بھی رہائی نصیب ہو جائے گی جس کو اپنی سیاسی چھتروں کی وجہ سے قانونی جواز اور تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ حالانکہ قرآن کے نزدیک یہ دھڑا بندی انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔

حکمران اس فکر سے آزاد ہو کر اطمینان سے ملک و ملت کی خدمت کرے گا کہ اب (مثلاً) اگلے سال خدا جانے کون ہو گا۔ کیونکہ اس بے اطمینانی کی وجہ سے عموماً کارِ حکومت میں دلچسپی لینے کے بجائے وہ اپنے مستقبل کی تعمیر، ترقی اور تحفظ کے لئے خفیہ سازشوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

جن زعماء کے ذریعے امیر المؤمنین منظر عام پر آئے گا، ان کے واسطے سے ان کا عوام سے رابطہ مؤثر طریقے سے قائم رہے گا اور حالات سے باخبر رہنا ان کے لئے بالکل فطری ہو گا۔

سازشوں کے چکر عموماً ان غیر محتاط سیاستدانوں کے دم قدم سے چلتے ہیں جن کو عوام کالانعا کے ذریعے قوم کے سیاسی افق پر نمودار ہونے کا بدقسمتی سے موقع مل جاتا ہے۔

جن ملی زعماء، عظیم قومی رہنماؤں اور ملک و ملت کے مزاج شناس پیشواؤں کے ذریعے ملت اسلامیہ کو جو قیادت ہاتھ آئے گی انشاء اللہ بابرکت بھی ثابت ہو گی اور شریفانہ بھی، اس کے ہاتھوں قوم کی بگڑی بنے گی، بنی بگڑے گی نہیں۔ کیونکہ جن کو وہ منتخب کریں گے، وہ ایک صالح، اہلِ علم، خدا ترس اور سیاسی بصیرت کا حامل ہی انسان ہو گا۔ ان سے جو بھی جائز توقع کی جا سکے گی، امید ہے وہ ضرور ہی پوری ہو گی۔ انشاء اللہ۔

سیاسی قیادت سے غرض، عوام کی مشکلات او مسائل کو سمجھ کر ان کی خدمت کرنا ہوتی ہے۔ عوام کو ان کی عامیانہ سوچ کا عوضانہ سمجھانا، عوام کشی کی بات ہے۔

دلہا اور دلہن کا نکاح
ایک محترمہ خاتون تحریر کرتی ہے کہ:

کراچی میں، میں نے ایک میمن خاندان میں یہ دیکھا ہے کہ: دولہا کو باہر مرد اور دلہن کو اندر عورت نکاح پڑھاتی ہے کیا یہ جائز ہے؟

الجواب

نکاح پڑھانے سے اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ: وہ ایجاب و قبول کراتی ہے تو بھی جائز ہے ایجاب و قبول کے سلسلے میں آپ یہ یاد رکھیں کہ:

ایجاب و قبول کے لئے صرف شہادت کی ضرورت ہے، کرانے کی نہیں۔ اگر ایک لڑکی اپنے طور پر لڑکے سے کہتی ہے کہ میں نے آج سے نکاح کیا اور لڑکا کہہ دیتا ہے کہ میں نے قبول کیا تو بھی نکاح ہو جائے گا، یہ بات ضروری نہیں کہ دوسرا ایجاب و قبول کرائے، ہاں اس پر دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔

لا نکاح إلا بولي وشاهدي عدل رواه أحمد وفیه ابن محرر في الباب أحادیث یقوى ببعضها بعضًا (السیل الجرار ص ۲۶۹/۲)

آج کل ہمارے ہاں شادی کا جو طریقہ اور دستور رائج ہے وہ شاہدوں کی متوارث شکل سے بھی تقریباً تقریباً بے نیاز ہو گیا ہے، کیونکہ شہادت سے غرض، اعلان ہے تاکہ ''خفیہ یارانوں'' پر پردہ ڈالنے کی گنجائش باقی نہ رہے اور یہاں لڑی اور لڑکے کی نکاح کی خبریں مہینوں پہلے بسا اوقات سالوں پہلے عام ہو جاتی ہیں، صرف سرپرستوں کی بات نہیں بلکہ دوسروں میں بھی یہ خبر خاصی مشہور ہو جاتی ہے۔ جہاں خبریں تواتر کی حد تک مشہور ہو جاتی ہیں وہاں روایتی شہادتوں کی ضرورت صرف سرکاری کاغذات کی خانہ پری کی حد تک باقی رہتی ہے یا صرف دستور کی آئینی خانہ پری کے لئے لیکن اس کے باوجود شہادت کی ضرورت رہتی ہے جیسے گورملؔ کا وہ محرک اب نہیں رہا تاہم ہمیں اسے جاری رکھنا ہے، اسی طرح شہادت کا یہ سلسلہ بھی ہمیں جاری رکھنا ہے گو روحِ شہادت کا اتمام ہو گیا ہے۔

اگر نکاح پڑھانے سے آپ کی یہ مراد ہے کہ: دولہا کو کلمے پڑھائے جائیں، توبہ کرائی جائے وغیرہ تو یہ باتیں ویسے ہی غیر ضروری اور غیر شرعی ہیں۔ نہ ہی ہوں تو بہتر ہے، چہ جائیکہ اس کے ہونے کے لئے کوئی محمل تجویز کیا جائے۔

ہاں نکاح پڑھانے سے اگر وہ خطبہ مسنونہ مراد ہے جو فریقین کے ازدواجی دور کی برکت یا ان کی فہمائش کے لئے دیا جاتا ہے تو یہ کوئی کر لے، کوئی خاتون کر لے یا مرد، دونوں جائز ہیں۔ کیونکہ یہ ایک دعا ہے یا نصیحت، سو وہ کوئی انجام دے ڈالے۔

حدیثِ نور

جناب سیف الرحمان صاحب ضلع ساہیوال سے لکھتے ہیں کہ:

حدیث یا أحمد کنت خلقت آدم بیدي فقد خلقته من طین وخلقتك من نور وجهي کا ذکر کیا جاتا ہے، یہ حدیث کہاں ہے اور کیسی ہے؟ (مختصراً)

الجواب

اس قسم کی روایات، حدیث کے چوتھے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، چوتھا طبقہ وہ ہے جس میں صحیح کے ساتھ ضعیف اور موضوع روایات کا انبار لگا ہوا ہے اور یہ زبان زد عام ہیں مگر ان کی اسانید عموماً لا پتہ ہیں لیکن بعض کا تو یہ حال ہے کہ کچھ پتہ نہیں کہ وہ کس کتاب میں ہیں اور ان کے راوی کون کون ہیں۔

نور کے سلسلے کی جتنی روایات ہیں، مقطوع الاسانید منقول ہو رہی ہیں، اس لئے جو صاحب پیش کریں ان سے مطالعہ کیا جائے کہ وہ ان کی سند بھی پیش کریں تاکہ راویوں کو دیکھ لیا جائے۔

علامہ عبد الحی لکھنوی نے نور والی روایت کی تردید کی ہے ملاحظہ ہو (الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ ص ۳۲)

سب سے زیادہ مشہور ان کی روایت أول ما خلق اللّٰه نوري ہے۔ اس کے متعلق علامہ سید سلیمان ندوی سیرۃ النبی میں لکھتے ہیں أول ما خلق اللّٰه نوري کی روایت عام طور سے زبانوں میں جاری ہے مگر اس روایت کا پتہ احادیث کے دفتر میں مجھے نہیں ملا (ص ۷۳۷/۳)

ہمارے نزدیک یہ سب روایات بے اصل ہیں اور عیسائیوں کے مقابلے میں تراشی گئی ہیں۔ مسلمان رسول کریم ﷺ کو ''ابن اللہ'' کہنے سے تور ہے، اس لئے انہوں نے اپنی خوش فہمی کی تسکین کے لئے نور من نور اللّٰہ کے نعرے ایجاد کر ڈالے ہیں اور پھر ان روایات کے سہارے جن کا کہیں بھی اتہ پتہ نہیں ملتا۔ اگر ان کے پاس ان روایات کی صحت کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو مع سند اور حوالہ کتاب پیش کریں تاکہ ان کا حاصل معلوم ہو۔

اس کے علاوہ اخبار احاد (غیر متواتر حدیثیں) اعتقادی امور میں مقلدین کے نزدیک حجت نہیں ہوتیں، خواہ وہ کس قدر صحیح ہوں۔ امام تفتازانی لکھتے ہیں:

إن خبر الواحد علی تقدیر اشتماله علی جمیع الشرائط المذکورة في أصول الفقه لا یزید إلا الظن ولا عبرة بالظن في باب الاعتقادات خصوصًا إذا اشتمل علی اختلاف الروایات وکان القول بموجبه مما یفص إلی مخافة ظاهر الکتاب (شرح عقائد)

یہ اس خبر واحد کی بات ہے جو صحیح ہو، لیکن ہمارے دوستوں کے ہاں جن روایات کا چرچا ہے ان کی سند تک نہیں ملتی۔ ایسی روایت سے ایسا اعتقادی مسئلہ ثابت کرنا جو کفر و ایمان کا مدار بنے، کہاں کا انصاف ہے۔ پھر علامہ تفتا زانی کا یہ بھی فیصلہ ہے کہ اگر وہ روایت قرآن کے مخالف ہو تو وہ بالکل ہی بیکار ہے۔

وکان القول بموجبه مما یفض إلی مخالفة ظاهر الکتاب (شرح عقائد نسفی)

قرآن میں ہے: ﴿أَنا۠ بَشَرٌ مِثلُكُم﴾

حیرت ہے کہ روایات وہ پیش کریں، تلاش ہم کر کے دیں یہ انصاف نہیں ہے۔ ان سے مطالبہ کریں کہ سند بھی دیں اور کتاب کا حوالہ بھی۔ خاص کر یہ روایات ان کتابوں سے تعلق رکھتی ہیں جو عموماً دستیاب نہیں ہوتیں۔ نہ قابلِ ذکر محدثین ان کی کوئی نشاندہی کرتے ہیں۔ بس مدارج النبوہ دہلوی، دیلمی، حکیم ترمذی، عبد الرزاق، مواب لدنیہ جیسی غیر ذمہ دار کتابوں کے یہ روحانی مشغلے ہیں، علمی سرمایہ نہیں ہیں۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ یہ سب روایات بیکار ہیں۔ ان روایات کا صحاح ستہ، مؤطا مالک، مؤطا امام محمد، مسند ابی حنیفہ، مسند شافعی، مسند احمد، مسند ابی داؤد، طیالسی، ابن الجارود، طحاوی، ابو عوانہ طبرانی، مجمع الزوائد، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ جیسی شہرہ آفاق کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں ان کا سراغ نہیں ملتا۔ اب کوئی کیسے بتائے کہ یہ کیسی روایت ہے۔

نور کا عقیدہ رکھنے والے دراصل محمد عربی فداہ ابی وامی صلعم کی بعثت اور نبوت کی تکذیب کے سامان کر رہے ہیں، کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے اس کو اپنی ہم جنس انسان کی طرف بھیجا ہے جب وہ ابنائے جنس نہ رہے تو وہ نشانی نہ رہی کہ ہم ان کی تصدیق یا ان کو تسلیم کریں۔

بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ: حضور اللہ کے نور سے اور باقی مخلوق نبی کے نور سے بنی ہے۔ اگر اللہ کے نور سے پیدا ہو کر نبی نور بنے ہیں تو جو نبی کے نور سے بنے ہیں وہ کیوں نہ نور ہوں۔ گویا کہ ہم سب نوری، کیا ہی کہنے؟ اس کے علاوہ اللہ کے نور سے بننے کے معنی ہوئے کہ وہ خدا کا ٹکڑا ہے اور خدا کے حصے بخرے ہو سکتے ہیں۔ رسول کی فضیلت ثابت کرتے کرتے اب خلقِ خدا کو اس نظامِ حیات کی طرف توجہ دلائیں جو دینِ حق چاہتا ہے۔ ان مسائل سے مدت ہوئی علماء فارغ ہو چکے ہیں۔ اب ان کا پیچھا چھوڑ دیں۔ کتاب و سنت کی تعلیم عام کریں۔ یہ خوش فہمیاں خود بخود کافور ہو جائیں گی۔