﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿١٠٤﴾... سورةآل عمران

''اور تم میں ایسے منظم لوگ بھی ہونے چاہئیں جو (لوگوں کو) نیک کاموں کی طرف بلائیں اور اچھے کام (کرنے) کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں، اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔''

امت مسلمہ صرف ''کلمہ گو'' جماعت نہیں ہے بلکہ یہ داعی الی الخیر بھی ہے، یہ بات اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ نوع انسان کی دنیا کی سرفرازی اور آخرت کے لئے جو جو بھلے کام نظر آئیں، ابن آدم کو ان کے اپنانے کا درس دے اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے۔

اس فریضہ سے کوئی بھی فرد مستثنیٰ نہیں ہے، جو جتنا اور جیسا کچھ کر سکتا ہے، ہرحال میں ادا کرے۔ مگر اپنے اپنے حسب حال، یہاں بھی، وہاں بھی، اب بھی، تب بھی، یوں بھی، ووں بھی، یہ اس کو، وہ اس کو، پوری درد مندی، اخلاص اور ایک دوسرے کو تھامنے کے جذبہ کے ساتھ تھام تھام کر چلیں۔ یہ بات صرف ریضہ نہیں، مسلمانوں کی مسلمانی اور اسلام دوستی کی نشانی اور تاریخ بھی ہے۔

﴿وَالمُؤمِنونَ وَالمُؤمِنـٰتُ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ يَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَيُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَيُطيعونَ اللَّـهَ وَرَسولَهُ أُولـٰئِكَ سَيَرحَمُهُمُ اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٧١﴾... سورةالتوبة

''مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار ہیں کہ نیک کام کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور برے کام (کرنے) سے روکتے ہیں، اور نمازیں پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں، یہی (وہ) لوگ ہیں جن (کے حال) پر عنقریب اللہ رحم کرے گا۔''

نماز، زکوٰۃ اور اطاعت کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ: امر بالمعروف کرنے والا اور نہی عن المنکر کے اعتبار سے وہ خود ننگِ دین نہ ہو، بلکہ جو دوسروں سے کہتا ہو، اس پر اس کی اپنی زندگی بھی گواہ ہو، کیونکہ اس کے بغیر یہ احتساب دینی احتساب نہیں ہوتا اور نہ یہ تبلیغ دینی تبلیغ رہتی ہے بلکہ یہ استحصالی ہتھکنڈے ہوتے ہیں جو ایک دنیا دار بندے کی مکارانہ اور شاطرانہ چالیں ہوتی ہیں، جن سے ان کی غرض بندگانِ خدا کا سیاسی اور معاشی استحصال ہوتا ہے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے ایسے ''ننگ خلائق'' سے فرمایا:

﴿أَتَأمُرونَ النّاسَ بِالبِرِّ وَتَنسَونَ أَنفُسَكُم وَأَنتُم تَتلونَ الكِتـٰبَ أَفَلا تَعقِلونَ ﴿٤٤﴾... سورةالبقرة

''تم (دوسرے) لوگوں سے نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنی خبر نہیں لیتے، حالانکہ تم کتاب(الٰہی) بھی پڑھتے رہتے ہو، کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے؟''

﴿ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لِمَ تَقولونَ ما لا تَفعَلونَ ﴿٢﴾ كَبُرَ مَقتًا عِندَ اللَّـهِ أَن تَقولوا ما لا تَفعَلونَ ﴿٣﴾... سورةالصف

''مسلمانو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے (یہ بات) اللہ کو سخت ناپسند ہے کہ کہو (سب کچھ) اور کرو (کچھ بھی) نہیں۔''

اصل بات یہ ہے کہ: جب آپ کسی سے یہ کہتے ہیں کہ میاں! یہ بھلے کام ہیں۔ ان سے دنیا اور آخرت، دونوں جہانوں میں بھلا ہوتا ہے، اور فلاں برے کام ہیں، ان سے بچو! دونوں جہانوں میں نقصان ہوتا ہے تو سننے والا یہ بھی دیکھتا ہے کہ:

اس فقیہ شہر اور محتسب کی زندگی کے اپنے شب و روز کیسے ہیں؟ موافق ہیں اور ان کے ان نتائج سے وہ متمتع ہو رہے ہیں تو اس کو مناسب تبدیلی کے لئے اپنے اندر ایک قدرتی تحریک کروٹ لیتی محسوس ہونے لگ جاتی ہے ورنہ وہ یہی تصور کرنے لگ جاتا ہے کہ یہ ایک ذہنی عیاش ہے یا اس سے ان کی غرض بندوں کا استحصال ہے۔ اس لئے ''عطائے توبہ لقائے تو'' (بات کہنے والے کے منہ پر مار کر اور) کہہ کر چل دیتا ہے۔

یہ استحالی احتساب اور تبلیغ عموماً علماء سوء کا وطیرہ رہا ہے یا سیاسی بوالہوسوں اور کاروباری شاطروں کا۔ اس لئے ملک میں اس قدر چو مکھی تبلیغ اور احتساب کے باوجود، کہیں کوئی برکت اور حرارت دکھائی نہیں دیتی، آپ بھی زبانی کلامی چند بول، بول کر چل دیتے ہیں اور وہ بھی خالی خولی کانوں سے سن کر رفو چکر ہوت ہیںِ نہ آپ نے کچھ دیا اور نہ انہوں نے کچھ وصول کیا۔ پرنالہ جہاں تھا وہی ہی رہتا ہے۔ خسر الدنیا والاٰخرۃ۔

یہ تو وہ انفرادی دینی ذمہ داری کی بات ہے جو اپنے اپنے حسب حال سب پر یکساں عائد ہوتی ہے، گھر میں ماں باپ، دفتر میں شعبے کا انچارج، منڈی میں دلال، بازار میں دکاندار اور گاہک، عام حالات میں، جو جہاں اور جس حال میں کچھ کرنے کے قابل ہے۔ اسے یہ فریضہ بہرحال انجام دیتا ہے۔

اس کی دوسری صورت ''ہمہ وقتی'' کی ہے، اس کے لئے فرمایا کہ: اس کے لئے ایک ٹیم ایک عملہ اور ایک گروہ تشکیل دے کر اسے اس کے لئے فارغ کر دیا جائے اور اس کا کام صرف تبلیغ اور احتساب ہو۔ اس لئے فرمایا۔

﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ...١٠٤﴾... سورة آل عمران

اس کی دو صورتیں ہیں:

نجی حیثیت میں، اس صورت میں مسلمان رضا کارانہ طور پر نجی سطح پر اس کے مناسب انتظام کرتے ہیں، مثلاً تبلیغی جلسے کرنا، درسگاہیں قائم کرنا، انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے عوام کی رہنمائی کرنا وغیرہ۔

دوسری صورت سرکاری حیثیت کی ہے کہ: گورنمنٹ سرکاری حیثیت میں اس کے لئے کوئی معقول اور با اختیار بندوبست کرے۔ اسلام کی نگاہ میں یہ سب سے موثر ذریعہ بھی ہے اور معقول بھی۔ اس لئے قرآن حکیم نے اسے اسلامی مملکت کے فرائض میں شامل کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿ الَّذينَ إِن مَكَّنّـٰهُم فِى الأَرضِ أَقامُوا الصَّلوٰةَ وَءاتَوُا الزَّكوٰةَ وَأَمَروا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ ...﴿٤١﴾... سورةالحج

''(صحابہ ایسے مسلم ہیں کہ) اگر ہم انہیں زمین میں استحکام دیں تو یہ لوگ نماز برپا کریں اور زکوٰۃ دیں اور (دوسروں کو بھی) نیک کام کا حکم دیں اور برے کام سے منع کریں۔''

یہ ان مظلوم صحابہ کی سیرت طیبہ بیان کی گئی ہے جن کو منکرینِ حق نے ''جرمِ حق' کی پاداش میں گھر سے بے گھر کیا، ان پر ظلم ڈھائے، اذیتیں دیں اور دکھ پہنچائے کہ اگر ان کو اقتدار مل گیا تو وہ اپنی خدائی اور کرسی کے تحفظ کے خبط میں نہیں پڑیں گے بلکہ خدا کی غلامی اور وفاداری کو عام کریں گے اور اپنی سیاسی طاقت کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ کے استحکام کے لئے لمحات اقتدار ضائع نہیں کریں گے، بلکہ اسے احکم الحاکمین کی تشریعی حاکمیت اور نظام حق کو برپا کرنے کے لئے صرف کریں گے۔ خود اس پر چلیں گے اور دنیا کو اس پر کار بند رہنے کا درس دیں گے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ''سرکاری سطح'' کا بھی ہے۔ افراد کی نجی حیثیت میں جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے وہ گو ضروری ہے اور مطلوب ہے تاہم وہ اپنے فریضہ سے عہدہ بر آ ہونے والی بات ہے، اس سے عموماً نجی زندگی کے خاکہ میں رنگ تو بھرتا ہے لیکن اس سے ایک نظام کم برپا ہوتا ہے، ایک نظام کی حیثیت سے دین کو برپا کرنے کے لئے سیاسی طاقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی طاقت نے جب سے اپنے اس فریضہ سے ناطہ توڑا ہے اور غفلت برتی ہے، غیر سرکاری حیثیت میں طوفانی اور چومکھی تبلیغ اور احتساب کے باوجود ''اسلامی نظام'' برپا نہیں ہو سکا۔

رسول کریم ﷺ کا جو تعارف تورات اور انجیل نے پیش کیا ہے اس کا حوالہ قرآن میں یوں ہے:

﴿يَأمُرُهُم بِالمَعروفِ وَيَنهىٰهُم عَنِ المُنكَرِ ...١٥٧﴾... سورةالاعراف

''کہ وہ ان کو بھلے کام (کرنے) کو کہتے ہیں اور برے کام سے ان کو منع کرتے ہیں۔''

یہی صفت امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی بھی بیان کی گئی ہے۔

﴿الـٔامِرونَ بِالمَعروفِ وَالنّاهونَ عَنِ المُنكَرِ ...﴿١١٢﴾.... سورةالتوبة

''(لوگوں کو) نیک کام کی صلاح دینے والے اور برے کام سے منع کرنے والے۔''

تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو ملت اسلامیہ کے بنیادی خمیر کا حصہ ہے۔ ہمارے نبی پاک کا بھی یہی نشان اور یہی علامت آپ ﷺ کی امت کی ہے۔ اگر ہمارا دامن اس ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو پھر اور جو کچھ بنیں، بنتے رہیں لیکن ''اُمت محمدیہ'' نہیں کہلا سکیں گے کیونکہ وہ نشانی نہیں رہی۔

والدین کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس راہ پر ڈالیں کہ وہ ''امر بالمعروف اور نہی عن المنکر'' سے غفلت نہ برتیں۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اس کی تلقین کرتے ہوئے کہا۔

﴿يـٰبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلوٰةَ وَأمُر بِالمَعروفِ وَانهَ عَنِ المُنكَرِ...﴿١٧﴾... سورة لقمان

اے میرے بیٹے! نماز پڑھا کر اور (لوگوں کو) بھلے کام (کرنے) کو کہا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر۔

چونکہ اس راستہ پر چلنے والے کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا مذاق اُڑاتی ہے۔ طعن و تشنیع کے کچوکے دیتی ہے۔ ظلم ڈھاتی ہے اور جرمِ حق کی پاداش میں قتل تک کرنے سے دریغ نہیں کیا کرتی۔ اس لئے فرمایا کہ: ایسے مرحلہ پر صبر و ثبات سے کام لیں اور ہمت نہ ہاریں۔

﴿وَاصبِر عَلىٰ ما أَصابَكَ ﴾

''اور تجھ پر جیسی پڑے جھیل۔''

جو قومیں احتساب کا فریضۃ ترک کر دیتی ہیں، وہ عموماً گندگی کا ڈھیر بن کر ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ تطہیر کے بغیر کوڑا کرکٹ جمع ہوتا رہتا ہے جو بالآخر انسانوں کو لے ڈوبتا ہے۔

امر بالمعروف سے مراد وہ کام ہیں شریعت نے جن کے کرنے کی سفارش کی ہے اور نہی عن المنکر سے مراد وہ امور ہیں جن کو اسلام اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ دین اسلام کا اصرار ہے کہ:
بندہ مومن صرف اپنی گدڑی کی فکر نہ کرے، اسے دوسرے کی عاقبت اور کشتی کی بھی فکر کرنا چاہئے تاکہ گرداب بلا سے وہ بھی بہ سلامت پار ہو جائے۔